Monday, June 15, 2020

اب اگر راستہ چھوٹ جائے تو شکوہ کیا

0 comments
اب اگر راستہ چھوٹ جائے تو شکوہ کیا
دنیا سے گر رشتہ ٹوٹ جائے تو شکوہ کیا

آستین میں چھپے ہاتھ کی آگہی بھی بیزاری ہے
دوچار قدم چل کے لوٹ جائے تو شکوہ کیا

جالے بنتی مکڑی کا ہے فریبِ مکاں
قلبِ نور سے نظر عقل مٹ جائے تو شکوہ کیا

شمع خود بھی ہے بجھتی پروانہ بھی جلاتی
مہک گل سے خود لپٹ جائے تو شکوہ کیا

دامنِ آرزو میں رہتی ہوا تو گرد و غبار ہے
حسرتوں سے غمِ بادل چھٹ جائے تو شکوہ کیا

بے بس دست و پا بے راہ مشکل التجا
احسان سے گر مقامِ اَنا مٹ جائے تو شکوہ کیا

تلاش میں ہے جن کی رزقِ اجرِ حنا
جسم روح سے الگ الگ بٹ جائے تو شکوہ کیا

ولی صوفی قلندر کیا نہیں ہیں انساں
متاعِ دنیا راستے سے خود ہٹ جائے تو شکوہ کیا

راستے جدا جدا پہنچے منزل ایک مقام
راستہ ہی میں سارا سفر کٹ جائے تو شکوہ کیا

آسان جن کو نظر آئیں منزلیں دشوار گزار
قدم پڑتے ہی گر نہ پلٹ جائے تو شکوہ کیا

بیتابیء قلب میں سماتی جسم و جان جائے
تہہء عملِ جہاں سے جو سلوٹ جائے تو شکوہ کیا

اب بھی ہے کوئی شکوہ ذاتِ منان سے
غفلت شب میں نیند سے کروٹ جائے تو شکوہ کیا

کلمہء تشکر میں گر ہو مقامِ اولیٰ محمود
پہاڑ کیا چاہے زمین پھٹ جائے تو شکوہ کیا

محمودالحق

Wednesday, June 3, 2020

راہِ ہدایت

0 comments
پہلے انسانیت سسک رہی تھی اب انسان بلک رہا ہے۔ ایک مذاق تھا جو  سر چڑھ کر بولتا رہا۔ معاشرہ محبت  سے عاری  تو معاشرت میں سیاسی داد گیری ۔ جھوٹ اتنا کہ  دم نکل جائے مگر سچ زبان پر نہ آ سکے۔شہرت کے متلاشی ، دولت کے بھوکے،عزت کے طلبگار صرف خواہشوں کے دم پر۔ نہ کردار کے غازی اور نہ ہی  عہد کے پکے۔پاؤں سر پر رکھ کر بھاگنے سے پاؤں زمین سے تکبر سے اٹھنے تک کے مراحل میں عاجزی اور نہ ہی صبر ، شائستگی سے  محروم  آئینے جو حقیقت کیا دکھاتے جن کا  عکس بھی دھندلا ۔
نظام کائنات میں زرہ برابر بھی فرق نہیں روشنی کا پیچھا کرتے اندھیرے کے غالب آنے تک۔ پیغمبروں کو جھٹلانے والی قومیں کبھی بجلی کی کڑک سے ہلاک ہوئیں تو کبھی آسمان سے برستی آگ سے۔کسی پر پانی چڑھ دوڑا تو کوئی پانی میں خود جا کودا۔راہ ہدایت کو اتنا مقدس جان لیا کہ کھوجنا تو دور کی بات کھولنے سے ہی ہاتھ کھینچ لیا۔ صرف اتنا جاننا چاہتے ہیں جسے سنایا جا سکے، جو عمل کا متقاضی ہے اسے ذاتی اختیار سمجھ کر فیصلہ صادر کر دیتے ہیں۔
کسی نے شملہ اونچا کر لیا تو کسی نے دستار کے پھیلاؤ بڑھا لئے۔اپنے راستے سیدھے نہ کئے ، دوسروں کے سامنے گڑھے ڈھونڈنے میں توانائیاں صرف کرنے میں دن رات ایک کر دئیے۔ دوسروں کے نقائص سے اپنی نجات کا راستہ تلاش کرنے والےطبیب مسیحا ئی  کے دعویدار زمانے کی ہمراہی میں خود ہی عالم روزگار بن گئے۔
اخلاق و اطوار ، کردار و گفتار  کے بغیر ایسی کشتی کی مانند ہے جو چپوؤں کے بغیر کھلے پانیوںمیں اپنی سمت کا تعین کرنے سے قاصر ہوتی ہے ، منزل تک پہنچنا تو بہت دور بات ہے۔یقین کرنے کے لئے ہمیشہ معجزات کے طلبگار، ہدایت یافتہ ہونے کے لئے آسمان سے فرشتے اترنے کے منتظر  ۔
بچے کے ہاتھ میں مغرب سے مشرق  تک پہنچنے والےمعمولی سے تحفہ کی دھوم اور دھاک کئی گھروں کے در ہلا کر رکھ دیتی ہے۔اپنا منہ لال کرنے کے لئے اپنے ہاتھوں سے اپنے منہ کا ماتم کیا جاتا ہے۔قلب پر اترنے والے تحفے  انمول ان کے لئے جنہیں خالص اور نایاب کی قدردانی کا فن جو ہر شناسی حاصل ہوا۔جسے دیکھنے والے زیادہ ہوں وہاں دکھانے والے اپنا اپنا مال بیش قیمت بنانے کے لئے بڑھ بڑھ کر قیمت لگاتے ہیں۔ ذرائع آمدن بڑھانے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگ جاتی ہےاورخرچ کے راستے روک لئے جاتے ہیں جو معاشرے میں مسابقت اور حکم سے مطابقت رکھتے ہوں۔
زخم بھر جاتا ہے ، تکلیف جاتی رہتی ہے، تکمیل کا عمل کبھی نہیں رکتا۔چھوٹ جانے کا خوف دنیا میں بے صبری اور ہیجان و بے چینی میں مبتلا رکھتا ہے۔اچھے دنوں کی آس کے سامنے برے دنوں کا خوف اتنا ہیبت ناک ہوتا ہے کہ  عارضی زندگی کے مقابلے میں دائمی زندگی  کے انجن کو پٹڑی سے اتار دیتا ہے۔  جس کے پیچھے اعمال کی بے شمار بوگیاں  منزل تک پہنچنے سے پہلے تباہ حالی کا شکار ہو جاتی ہیں۔اندھوں کے لئے روشنی کا ہونا یا نہ ہونا ایک برابر ہوتا ہے۔ قلب میں جن کے ہوس و حرص ، غرض و مفاد  کا زنگ بھرا ہو وہاں چھینٹوں سے داغ دھلنے زرا مشکل ہوتے ہیں۔فیصلے کی گھڑی ہو یا قیامت کے قرب کی نشانیاں  تیاری کے بغیر امتحان میں بیٹھنے کے لئے مچلنا  کچلنے کے مترادف ہے۔
اوراق مقدس تبھی ہوتے ہیں جب ان پر حروف مقدس لکھے ہوں۔ حروف وہی مقدس ہوتے ہیں جو اس کتاب کے ہوں جس میں کسی قسم  کاکوئی شک نہ ہو،  جس کے حرف حرف پہ سچائی لکھی ہو اور ایمان والوں کے  لئے راہ ہدایت  صرف وہی ہے۔

تحریر : محمودالحق



Monday, April 6, 2020

Sunday, April 5, 2020

عمرانیات پر کرونا اثرات

0 comments
تعمیرات کے شعبے کو کھولنے کا فیصلہ کرونا کے اثرات سے نپٹنے کے لئے کیا گیا ہے تاکہ غریب عوام کو روزگار کے حصول میں دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔ کوئی بھی حکومتی اقدام اس وقت تک اچھے نتائج کا حامل نہیں ہو سکتا جب تک کہ پالیسی بنانے والے ڈنگ ٹپاؤ پالیسی کی بجائے قومی معیشت  کو مستقل بنیادوں پر استوار نہیں کرتے۔ 2016 سے ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ کو برے طریقے سے سبوتاژ کیا گیا۔ بڑے چور تو عدالتوں سے ریلیف پا گئے۔ اور عام لوگ پیچھے بچ گئے جوگہیوں میں گھن کی طرح پس گئے۔ عجیب مارشلائی صورتحال ہے جب چاہا مال کا حساب مانگ لیا جب چاہا آنکھیں بند کر لی۔ دنیا کے کسی ملک میں 12/2 فیصد بینکوں میں شرح سود نہیں ہے ماسوائے پاکستان کے ۔ جو ملک مضبوط معیشت کے حامل ہیں وہاں سسٹم مضبوط ہوتا ہے جبکہ پاکستان میں صرف مافیا ہیں ۔ آٹا مافیا ،چینی مافیا ،پراپرٹی مافیا ،میڈیا مافیا ، ذخیرہ اندوز مافیا، ملاوٹ خور مافیا  اور سیاستدان مافیا کے ساتھ ساتھ ہر طاقتور ادارہ بھی مافیا ہے اور پیچھے بچی صرف عوام جو  اب کرونا کے زیر عتاب ہے۔ حکومت اس خوف سے حرام کو حلال ماننے پر آمادہ دیکھائی دیتی ہے کہ کہیں غریب عوام امیروں کی دوکانوں ، گھروں اور گوداموں پر حملہ آور نہ ہو جائیں۔ سننے میں آتا ہے کہ امریکہ جیسے ملک میں بعض ریاستوں کے شہریوں نے اپنی حفاظت کے پیش نظر اسلحہ خریدنا شروع کر دیا ہے کہ کہیں کرونا کی وجہ سے بھوک سے تنگ عوام چوریاں اور ڈکیتیاں نہ شروع کر دیں۔ حالانکہ حکومت نے بڑے کاروباری اداروں اور عوام کے ریلیف کے لئے دو ہزار ارب ڈالر کی ایک خطیر رقم مختص کی ہے اور پاکستان میں صرف آٹھ ارب ڈالر کی رقم مختص کی گئی جو شائد قرضوں کی قسطوں کی ادائیگی کے لئے آئی ایم ایف سے بطور قرض لی گئی ہے۔ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔
گنجی نہائے کیا نچوڑے کیا


Wednesday, February 26, 2020

Top 100 Math Blogs for Students and Teachers

0 comments
اکتوبر 2018 میں پہلی بار میں نمبرز کی دنیا سے روشناس ہوا۔  میرا علم سکول میں حساب کی کتاب تک تھا۔ آج میں ایک خوشگوار حیرت میں مبتلا ہوں کیونکہ Feedspotکی طرف سے مجھے موصول ہونے والی ای میل میں  میرے بلاگ  Math Magic Mystery کو اپنی ویب پر صرف شامل ہی نہیں کیا گیا بلکہ Top 100 Math Blogs  کی فہرست  میں 97 ویں نمبرپر رکھا۔ جو کہ میرے جیسے ریاضی سے نا بلد انسان کے لئے باعث فخر ہے۔ در دستک کی طرح    Math Magic Mystery بھی  صرف اور صرف عطائے رب العزت ہے ۔ 

Hi Rana,

My name is Anuj Agarwal, I'm the Founder of Feedspot.
Thanks for submitting your blog Math Magic Mystery on Feedspot.

I would like to personally congratulate you as your blog Math Magic Mystery has been selected by our panelist as one of the Top 100 Math Blogs on the web.


I personally give you a high-five and want to thank you for your contribution to this world. This is the most comprehensive list of Top 100 Math Blogs on the internet and I'm honored to have you as part of this!

Best,
Anuj





Wednesday, February 19, 2020

سچے کلام کی شدتِ چاہ

0 comments

بادلوں اور پرندوں کی دسترس سے باہر38 ہزار فٹ کی بلندی پر نیویارک سے لاہور جاتے ہوئے  مسافروں پر اُچٹکتی نگاہ ڈالی تو اپنوں سے ملنے کی خوشی اُن کے چہروں سے عیاں تھی۔ میں ہزاروں ڈالرز کا نقصان اُٹھانے کے بعد اپنی بچی کچھی جمع پونجی کو سمیٹے سرشاری سے بھرپور نشے کی حالت میں تھا۔
"وہ کون سی پاک کتاب ہے جسے خدائے زوالجلال نے جیسے اُتارا وہ آج بھی اسی حالت میں موجود ہے" سوال کرنے والے کے چہرے پر بے چینی و اضطراری کھلی کتاب کے اوراق کی مانند  بے ترتیبی اور الجھن کا اظہار کر رہی تھی۔پیشانی پہ پڑیں گہری سلوٹیں دنیا سے اُس کی بیزاری کی چغلی کر رہی تھیں۔ میرےچہرے پر ایک لمحے کے لئے حیرانگی نے ایک تاثر ابھارا  ۔ اس کی بیوی کے بقول (جو میرے گیس سٹیشن و سٹور پر ملازم تھی) وہ  توایک نفسیاتی مریض تھا جسے ڈاکٹر کی تجویز کردہ میڈیسن نے شانت رکھا ہوا ہے ۔
سوال پوچھنے والے گورے نوجوان کو میں نے بتایا کہ وہ قرآن پاک ہےجو نازل ہونے کے بعد سے اب تک خالق کائنات کی عظمت کی گواہی دیتا ہے اور وہ حرف بہ حرف اپنی اصل حالت میں ہے۔ اتنا سن کر وہ خاموشی سے  سٹور سےباہر نکل گیا۔ ایک ہفتہ بعد وہی گورا نوجوان پٹرول ڈلوانے کے بعد ایک بار پھر اندر آیا اور  پھروہی سوال دہرایا !
اسے ایسی کتاب کی تلاش کیوں جس کے ایک ایک لفظ سے سچائی چھلکتی ہو۔ وہ اپنے باپ سے سوال کرتا کہ میں کون ہوں، کیا ہوں۔تو وہ دوسری بیوی اور اس کے پہلے بچوں کے معاملات میں الجھنے کی وجہ سے اسے اپنی پہلی غلطی کی سزا نظر آتا۔نوجوان گورے کی پہلی بیوی دوسرے شوہر کے ساتھ رہنے لگی تو پہلی بچی بھی ساتھ لے گئی اور اس کی دوسری بیوی اپنی بچی پر صرف اپنا حق سمجھتی۔ہمسائے اس سے نالاں ، دوست اس سے کنارہ کرتے۔پادریوں سے سوال کرتا تو وہ اسے ذہنی مریض سمجھ کر بے اعتناعی برتتے۔مذہب میں اسے پناہ نہ ملتی۔ وہ الجھتا چلا گیا۔نشہ کی بجائے وہ دوا کے سہارے کا محتاج ہو گیا۔ جس سے خیالات کچھ دیر کے لئے سستا لیتے۔جیسے ہی دوا کا اثر ختم ہوتا بے رحم سوال اسے اپنی گرفت سے نکلنے نہ دیتے۔
انسان جواز کا طالب ہے اور وجود اس کا مطلوب۔منزل پر اس کی نظر ہے ، کوشش پر یقین نہیں۔سچ جانتا ہے لیکن حق کا طالب نہیں۔قرآن کو  الہامی مانتا ہے ، سچ کو جانتا ہے  لیکن جزب سے محروم رہتا ہے۔اللہ تبارک تعالی اپنی چاہ رکھنے والے  کو ناقابل یقین کرامت دکھاتا ہے۔ جس پر گزری ہو اور جس کی آنکھوں نے وہ منظر دیکھا ہو وہ کیونکر رحمتوں سے انکاری ہوں۔  اللہ تبارک تعالی ان کے لئے راستے بنا دیتا ہے جو اُس کی راہ تکتے ہیں۔
گورے عیسائی نوجوان کو میں نے فطرت کا حسن کائنات کے جلوے سے سمجھایا کہ  اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اُس کی تخلیق  اور نشانیوں پر غور کیوں نہیں کرتے۔ سمجھ والے ، علم والے اور ایمان والے کہہ کر انہیں درجہ بندی میں شمار کرتا ہے۔ دنیا کی چاہ جتنا بڑھے گی محبت جاہ اتنی ہی شدت سے مٹی کے انسان سے تکبر کا نشان بنا دیتی ہے۔پھل پھول اشجار کے ایک ہی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔ مٹی سے پنپ کر مہک خوشبو اور لذت سے لبریز حسن بے مثال ہوتے ہیں لیکن مٹی کا ذائقہ نہیں رکھتے۔
فطرت کا حسن الفاظ میں ڈھل کر اس  کی رگوں میں لہو بن کر دوڑنے لگا تھا۔ میں ایک لمحے کے لئے سہم گیا  جب  اُس نے کہا کہ رب زوالجلال کا ذکر سننے سے اُس کے اندر کچھ ایسا ہو رہا ہے جیسے خون کی گردش میں کچھ شامل ہو گیا ہو۔وہ مسرور تھا کیونکہ اسے اچھا محسوس ہو رہا تھا۔
اللہ اپنی طرف آنے والوں کی طرف ایسے رجوع کرتا ہے  ۔ میں خاموشی سے طالب چاہ کو دیکھ رہا تھا اور عالم جاہ وجلال تھا۔ اطمینان اور سکون کی ٹھنڈک اس کے جلتے وجود  پر قطرہ قطرہ خون میں شامل ہو کر پھولوں کی طرح نکھررہی تھی۔ وہ مہک رہا تھا۔آنکھوں کی چمک قلب کے حاوی ہونے کا سندیشہ دے رہی تھی۔دو  گھنٹے کی نشست میں عشق کی ایسی انتہا دیکھی جس کا میرا قلم احاطہ کرنے کے قابل نہیں۔ وہ میری زندگی کے ایسے لمحات تھے جب میرا وجود  مٹی کے ایک زرہ سے بھی کمتر حیثیت کا حامل تھا۔ شان زوالجلال عظمتوں کے میناروں پر کھڑی تھی اور میں لفظوں میں سجدہ ریز تھا۔ ایسا لمحہ جب پوسٹ مین عاشق کو محبوب کا خط سنا رہا تھا۔
آن لائن انگلش قرآن کے بارے میں اسے گائیڈ کرنے کے بعد میں کئی دن بھرپور نشے میں مبتلا رہا۔ مگر پندرہ روز بعد جو منظر میری آنکھوں نے دیکھا  اسے بیان کرنا میرے بس سے باہر ہے۔ شاعروں نے چودھویں کے چاند پر زمین و آسمان کے قلابے ملائے  لیکن دیکھنے میں جو نشہ ہے پڑھنے سے ممکن نہیں۔
میرا ہاتھ پکڑ کر تھینک یو کہہ کر اپنے چہرے کی طرف غور کرنے کا کہا۔ یہ تو وہ شخص ہی نہیں تھا جو پندرہ روز پہلے مجھے ملا تھا ۔ پریشان چہرہ، عجیب سی نظریں  اور پیشانی پر بے شمار سلوٹیں۔ چودھویں کے چاند کی مانند چمکتا دمکتا چہرہ  اور سلوٹوں سے پاک۔ میں کھلی آنکھوں سے بس اسے تک رہا تھا اور وہ بولے جا رہا تھا۔ قرآن کا مفہوم چند دنوں میں اس کی روح کو سیراب کر گیا۔اللہ تبارک تعالی سے قرب کی داستان تھی جو وہ سنا رہا تھا کہ بیس سال سے اس کی پیشانی پر سلوٹیں دو ہفتوں میں مکمل طور پر ختم ہو چکی تھیں جیسے کبھی تھی ہی نہیں۔ روشن چہرہ اطمینان قلب سے  بھرا ہشاش بشاش ایک عیسائی گورا نوجوان جو خدا کی سچی کتاب کی تلاش میں نکلا تو سچ حقیقت بن کر اس میں سما گیا۔ اس نئے انسان کے بدلے ہوئے رویئے اور کردار نے اس کی بیوی اور محلے داروں کو حیران و پریشان کر دیا۔اس کا ایک محلے دار جومیرے پاس کام کرتا تھا ، ایک دن کہنے لگا کہ اسے کوئی اچھا ڈاکٹر مل گیا ہے اور اس کی دوائی سے اسے بہت فرق پڑا ہے۔ بہت خوش اخلاقی اور خندہ پیشانی سے تمام لوگوں سے ملتا ہے۔ نسخہ تو اسے ایسا شاندار ملا تھا جس میں اس کے درد کی دوا تھی اور پریشانیوں کا مداوا۔
چند سال بعد میرے دوست کے بیٹے نے (جن کا گیس سٹیشن میرے قریب ہی تھا ) مجھے بتایا   کہ  آپ کے جانے کے بعد  وہ ہمارے پاس آیا اور  آپ کے بارے میں پوچھا تو میں نے اسے بتا یا کہ آپ پاکستان واپس چلے گئے ہیں اور اس کی خواہش پر قرآن پاک انگلش ٹرانسلیشن کے ساتھ منگوا کر اسے دے دیا تھا۔ اللہ تبارک تعالی کے سچے کلام کی شدت چاہ جتنی اس گورے نوجوان میں دیکھی، ابھی تک کسی اور میں نہیں دیکھی میں نے۔

محمودالحق


Saturday, January 25, 2020

پانی پر عکس چاند

0 comments

زمین ہموار ہو، نظریں راستے پر  اور قدم برابر تو سفر کٹ جاتا ہے۔بس اتنا ہی بس میں ہے۔ جہاں اختیار  نہ ہو وہاں چاہت انتہا کر دیتی ہے۔جو پاس ہو وہ اپنا اختیار بھی چھین لیتا ہے۔زندگی نے جو چاہا وہ لے لیا اورہم نے جو مانگا وہ پانی پر عکس چاند ہو گیا ۔لہروں کی مستی نے وہ منظر بھی دھندلا کر دیا۔ بادل برس کر ہوا ہو جاتا ہے۔ تو قوس  وقزح آسمانوں پر پھیل جاتی ہے۔
جو ہمیں زندگی دیتا ہے وہی جینے کا ہنر دیتا ہے۔جنہیں خواہشیں مقدم ہوتی ہیں، انہیں زندگی محترم ہوتی ہے۔ آبادیوں میں انسان بستے ہیں جنگلوں میں جانور رہتے ہیں۔ جنہیں انسان بس میں کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔کمزور پرندے اور جانور چڑیا گھروں میں جتنے بھی مزے میں اور محفوظ کیوں نہ  ہوں پھر بھی وہ قیدی ہیں۔آج ہر انسان آسائش و آرام کی ہر سہولت سے استفادہ حاصل کرتا ہے۔ ترقی ایک ایسا چڑیا گھر ہے جہاں ہر سہولت آسائش پانی پر چاند کے عکس کی مانند اسے حاصل ہے۔ پیکج ختم ہونے یا نیٹ بند ہونے پہ ہاتھوں پہ ہاتھ دھرے رہ جاتے ہیں۔ جو جب چاہتا ہے اور جتنا چاہتا ہے کھڑکی کھولتا ہے اور جب چاہے گا اسے بند کر سکے گا۔بس میں تو کچھ بھی نہیں بس خریدار ہیں۔جب تک نوٹ دکھاتے رہیں گے تماشا ہوتا رہے گا۔انسانی معاشرے میں جگہ جگہ کڑکیاں لگی ہوئی ہیں نیٹ فون ٹی وی کی۔اسی میں انسانوں کی ایک بڑی تعداد بستی ہے۔ایسے ہی جیسے جنگلوں میں چڑیا گھروں کا جال پھیلا دیا جائے۔پرندے اور جانور خود قید ہونے کے لئے بیتاب ہو جائیں اور اپنے اپنے پنجرے پر فخر کریں۔کوئی جھولے پر فخر کرے تو کوئی خوراک پہ۔
پانے کی جلدی میں کھونے کے ڈر سے محروم ہو گئے۔ڈر ہے تو صرف رک جانے کا۔تیل ڈلتا رہے ، بجلی چلتی رہے تو گزر بسر بھی ہوتی رہتی ہے۔ایک ماہ کے لئے نیٹ فون ٹی وی بند کر دیں تو معلوم ہو گا کہ نشئیوں کی تعداد میں کتنا اضافہ ہو چکا ہے۔نشہ صرف ڈرگ کے استعمال کا نام نہیں بلکہ ہر وہ شے جو اپنے ارد گرد کے ماحول سے بے اعتنائی ، لاپرواہی اور لاتعلقی پیدا کرنے کا سبب بن جائے ،وہ معاشرہ ایک مہذب ترقی نامی بیماری کا شکار ہو جاتا ہے۔ جہاں تعلق صرف غرض و مفاد کا رہ جاتا ہے۔متواز ن شخصیت رکھنے والے ہی ایک مثالی معاشرے کی بنیاد رکھتے ہیں۔جس معاشرے میں عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر، عوام کا ہجوم اورعوام کا جم غفیر جیسی ٹرم مقبول زبان زد عام ہوں۔ وہاں شائستگی ، تہذیب کی بجائے ہاسپٹل دوکانوں اور گاڑیوں کی توڑ پھوڑ کا لائسنس گاڑیوں موٹر سائیکلوں کی نمبر پلیٹس کے ساتھ لکھا ہوتا ہے۔جب نظام تعلیم شعور کی بجائے معاش کی فکر لاحق کرے تو عدم برداشت اور انتقام کا زہر شریانوں میں خون بن دوڑتا ہے۔ریوڑ پر امن ہوتے ہیں ہجوم بپھرے ہوئے۔

محمودالحق   

Most Perfect Math Magic with ZERO Sum (کائنات کے سربستہ راز)

0 comments

Monday, December 30, 2019

ہم کون ہیں کیوں ہیں اور کیا ہیں ؟

3 comments
سوال یہ ھے کہ ھم جب تنہا ھوتے ھیں ذات کو ٹٹولتے ھیں بہت اندھیرا ھے بہت زیادہ اندھیرا کچھ بھی تو سمجھ میں نہیں آتا کہ ھم کون ھیں کیوں ھیں اور کیا ھیں لیکن کبھی کبھی یہ لگتا ھے کہ ھم ھی ھم ھیں اور کوئی بھی نہیں جو ھم سا ھو یہ الجھن ھے یاسوال ؟

سوال (مسلم آفتاب)



ہر انسان دنیا میں دو آنکھوں ، دو ہاتھوں ، دو پاؤں ، حتی کہ دماغ کے دو حصوں کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ہمارا وجود ایک اور دو کی مناسبت سے سفر زیست طے کرتا ہے۔انسان اپنے رویے میں بھی ہاں ناں ، خیر و شر، سچ و جھوٹ، حتی کہ جنت و جہنم کےدرمیان رسہ کسی میں مصروف عمل رہتا ہے۔انسان سب سے طاقتور اور مضبوط ظاہر و باطن کی کشمکش سے بر سر پیکار رہتا ہے۔اور یہ ایک فطری عمل ہے اس میں الجھن پیدا ہونا سوچ کی نا ہمواری کی غماز ہے۔ ہر زی روح کے اندر بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت کا ہونا فطری ہے۔ وہ ہمارے وجود کے لئے لازم ہیں۔اس لئے ہم اس سے لاپرواہ رہتے ہیں ۔ لیکن جب ان کا بیلنس بگڑجائے تو جان کے لالے پڑ جاتے ہیں۔یہی حال ہماری ذات کے اندر ہونے یا نا ہونے کی فطری کشمکش میں جاری و ساری رہتاہے۔ہم اس کا حل جواز سے تلاش کرتے ہیں جو ہمیں سوال کے راستے پر ڈال دیتا ہے۔میں کون ہوں ، کیا ہوں، اور کیوں ہوںجیسے سوالات ایسی پنیری ہے جسے کھاد وجود سے حاصل ہوتی ہے ۔ اور وجود صبح و شام کے معمولات سے تھکن سے چور رہتا ہے۔بچا کھچا ذہنی دباؤ سے کھچاؤ میں چلا جاتا ہے۔ تناور درخت بننے سے پہلے نو خیز پودوں کی کیاریوں سے گھاس پھونس الگ کی جا تی ہے۔ جنگلی جڑی بوٹیوں کو تلف کیا جاتا ہے تب وہ نو خیز پودا پھل دار یا خوشبو دار درخت بنتا ہے۔ انسان صرف سوچ کے بل بوتے پر تناور درخت بننے کی راہ پر گامزن رہتا ہے۔ حالانکہ ابتدائی نو خیزی میں شفافیت اور اکثیر کی طاقت حاصل کرنے کے لئے باہرسے اثر انداز ہونے والے باغی خیالات کا سدباب ضروری ہوتا ہے۔ زندگی کو کتاب کی طرح پڑھیں گے تو ابواب اور صفحات کی ترتیب ایک سے دو ، دس یا سو تک چلتی ہے۔مگر احسا س ایٹم کے زروں کی طرح وجود میں تباہی پھیلاتے ہیں۔جنہیں باہمی ربط سے ہی شانت رکھا جا سکتا ہے۔جب ضرورت پیش آئے تو استعمال میں لاؤ ورنہ خوداعتمادی کی طاقت بنا کر ذات کے کسی گوشےمیں محفوظ رکھو۔ جو بوقت ضرورت بیرونی حملہ آور سے بچاؤ کی تدبیر کرے گی۔۔۔۔۔۔۔۔ باتیں تو بہت ہیں مگر بعض اوقات طوالت مفہوم کی وضاحت سے زیادہ الجھنیں پیدا کر دیتی ہے۔



جواب (محمودالحق)

ہم کون ہیں کیوں ہیں اور کیا ہیں ؟

0 comments
سوال یہ ھے کہ ھم جب تنہا ھوتے ھیں ذات کو ٹٹولتے ھیں بہت اندھیرا ھے بہت زیادہ اندھیرا کچھ بھی تو سمجھ میں نہیں آتا کہھم کون ھیں کیوں ھیں اور کیا ھیں لیکن کبھی کبھی یہ لگتا ھے کہ ھم ھی ھم ھیں اور کوئی بھی نہیں جو ھم سا ھو یہ الجھن ھے یاسوال ؟
سوال (مسلم آفتاب)

ہر انسان دنیا میں دو آنکھوں ، دو ہاتھوں ، دو پاؤں ، حتی کہ دماغ کے دو حصوں کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ہمارا وجود ایک اور دو کیمناسبت سے سفر زیست طے کرتا ہے۔انسان اپنے رویے میں بھی ہاں ناں ، خیر و شر، سچ و جھوٹ، حتی کہ جنت و جہنم کےدرمیان رسہ کسی میں مصروف عمل رہتا ہے۔انسان سب سے طاقتور اور مضبوط ظاہر و باطن کی کشمکش سے بر سر پیکار رہتا ہے۔اور یہ ایک فطری عمل ہے اس میں الجھن پیدا ہونا سوچ کی نا ہمواری کی غماز ہے۔ ہر زی روح کے اندر بیماریوں کے خلاف قوتمدافعت کا ہونا فطری ہے۔ وہ ہمارے وجود کے لئے لازم ہیں۔اس لئے ہم اس سے لاپرواہ رہتے ہیں ۔ لیکن جب ان کا بیلنس بگڑجائے تو جان کے لالے پڑ جاتے ہیں۔یہی حال ہماری ذات کے اندر ہونے یا نا ہونے کی فطری کشمکش میں جاری و ساری رہتاہے۔ہم اس کا حل جواز سے تلاش کرتے ہیں جو ہمیں سوال کے راستے پر ڈال دیتا ہے۔میں کون ہوں ، کیا ہوں، اور کیوں ہوںجیسے سوالات ایسی پنیری ہے جسے کھاد وجود سے حاصل ہوتی ہے ۔ اور وجود صبح و شام کے معمولات سے تھکن سے چور رہتا ہے۔بچا کھچا ذہنی دباؤ سے کھچاؤ میں چلا جاتا ہے۔ تناور درخت بننے سے پہلے نو خیز پودوں کی کیاریوں سے گھاس پھونس الگ کی جا تیہے۔ جنگلی جڑی بوٹیوں کو تلف کیا جاتا ہے تب وہ نو خیز پودا پھل دار یا خوشبو دار درخت بنتا ہے۔ انسان صرف سوچ کے بلبوتے پر تناور درخت بننے کی راہ پر گامزن رہتا ہے۔ حالانکہ ابتدائی نو خیزی میں شفافیت اور اکثیر کی طاقت حاصل کرنے کے لئے باہرسے اثر انداز ہونے والے باغی خیالات کا سدباب ضروری ہوتا ہے۔ زندگی کو کتاب کی طرح پڑھیں گے تو ابواب اور صفحات کیترتیب ایک سے دو ، دس یا سو تک چلتی ہے۔مگر احسا س ایٹم کے زروں کی طرح وجود میں تباہی پھیلاتے ہیں۔جنہیں باہمی ربطسے ہی شانت رکھا جا سکتا ہے۔جب ضرورت پیش آئے تو استعمال میں لاؤ ورنہ خوداعتمادی کی طاقت بنا کر ذات کے کسی گوشےمیں محفوظ رکھو۔ جو بوقت ضرورت بیرونی حملہ آور سے بچاؤ کی تدبیر کرے گی۔۔۔۔۔۔۔۔ باتیں تو بہت ہیں مگر بعض اوقاتطوالت مفہوم کی وضاحت سے زیادہ الجھنیں پیدا کر دیتی ہے۔

جواب (محمودالحق)

Friday, November 1, 2019

جوہر افشانی عطائے رب العزت (کائنات کے سربستہ راز)

0 comments
میرا عشق فطرت کا حسن ہے جو مجھے تلاش کی راہ پر گامزن کرتا ہے۔نظام قدرت آکائی سے اجتماعی تک مکمل اور جامع منصوبہ بندی کی ایک ایسی شاہکار تخلیق ہے کہ جس میں زرہ برابر بھی فرق نہیں ہے۔ 4300 سال قبل ایک کچھوے کے خول پر بنے ڈاٹس کی ترتیب نے دنیا پر اپنے سحر کا جادو آج تک برقرار رکھا ہے اور اس ترتیب و تشکیل نے مجھے کیا دیکھایا ۔ خالق نے تخلیق سے مجھے کیا سمجھایا ۔ آج اسے ایسی صورت میں سامنے لا رہا ہوں جو دنیا بھر  کے ریاضی دانوں کے لئے ایک کھلا چیلنج ہے ، ایک ایسے انسان کی طرف سے جو ریاضی، الجبرا اور جیومیٹری کے متعلق کچھ نہیں جانتا۔ صرف اتنا ہی جتنا اللہ تبارک تعالی نے اپنی رضا سے اسے عطا کیا ہے۔
1تا 256اعداد کا ایسا کھیل جو آکائی سےاجتماعی تک مکمل اور جامع منصوبہ بندی کا شاہکار ہے۔اسے سمجھنے کے لئے ریاضی میں ماہر ہونا ضروری نہیں۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ نمبرز کا ایسا جادو آج سے پہلے دنیا میں کسی نے پیش نہیں کیا ہو گا۔
ریاضی کا نام سنتے ہی بعض لوگ سر کھجانے لگتے ہیں اور بدن میں بے چینی دوڑنے لگتی ہے۔ کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ خشک ہونے کے ساتھ ساتھ بورنگ بھی ہوتا ہے۔ لیکن آج میں دعوی سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر میری اس تحریر کو عقل کے ترازو پہ تولنے کی بجائے دل سے پڑھیں گے تو کائنات کے سربستہ راز کے نام سے جس سلسلہ کا آغاز میں نے ایک خیال کے ذہن میں عود کر آنے سے کیا تھا   اس بات کو سمجھنا نہایت آسان ہو جاتا ہے کہ کیسےقانون فطرت اپنی کھوج میں جستجو کرنے والوں کے لئے راستہ بناتا چلا جاتا ہے۔
پہلی تصویر میں 16.16 خانوں پر مشتمل ایک باکس ہے۔ 16 اعداد کو جس رخ سے بھی جمع کریں ان کا حاصل ایک جیسا 2056 آتا ہے۔ انہیں 16Rows، 16 Columns اور 2Diagonals میں دیکھا جا سکتا ہے۔

انہی 256 نمبرز پر مشتمل باکس کو برابر 4 حصوں 8x8 کے خانوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ 4 باکس میں 8,8 اعداد کو جس رخ پر بھی جمع کریں ان کا ٹوٹل 1028 ہی آتا ہے۔ 8,8 کے ہر باکس میں Rows  ، Columns  اور  Diagonals میں ایک ہی حاصل 1028 آتا ہے۔
اب ہم مزید تقسیم کرتے ہوئے 4 Boxes کو 16 Boxes میں ڈھال دیں گے۔ اس بات کو ذہن نشین رکھیے گا کہ نمبرز کی ترتیب کسی بھی مرحلے میں تبدیل نہیں ہوتی۔ نمبرز اپنی جگہ پر رہتے ہوئے اپنے مکمل اور جامع ہونے کا ثبوت فراہم کریں گے۔
وہی 256 نمبرز 16 حصوں میں 4x4 کے خانوں میں تقسیم کر دیئے گئے ہیں۔ان 16 باکس میں 4,4 نمبرز Rows, Columns اور Diagonals میں 514 کا ٹوٹل رکھتے ہیں۔
اگر تھکاوٹ محسوس ہو تو  کچھ دیر آرام کر لیں کیونکہ ہندسوں کا جادو ابھی جاری ہے۔عقل دنگ کرنے والے حقائق ابھی باقی ہیں۔
4x4 کے 16 باکس کو مزید 2x2 کے 64 باکس میں ڈھال دیا گیا ہے۔ہر باکس میں 4 نمبرز کا ٹوٹل 514 آتا ہے اور 2,2 کراس نمبرز بالترتیب 249 اور 265 کا ٹوٹل رکھتے ہیں۔یوں 249اور 265 نمبرز ہر باکس میں دیکھے جا سکتے ہیں جو کہ 64، 64 کی تعداد میں اس میں موجود ہیں۔
بات ابھی یہاں ختم نہیں ہوتی۔ 1 تا 256 نمبرز ہر  Row میں ایک اور شکل میں بھی موجود ہیں۔ نیچے دی گئی تصویر میں نمبرز کے جمع اور تفریق سے ایک نئی شکل دیکھائی جائے گی۔
4,4 کے ہر باکس میں پہلے اور چوتھے نمبر کو جمع کرنے سے 257 کا ٹوٹل حاصل ہوتا ہے۔اسی طرح دوسرے اور تیسرے نمبر کو جمع کریں تو وہ بھی 257 کا ٹوٹل رکھتے ہیں۔اس طرح 16Rows میں  اوپر بتائی گئی ترتیب کے مطابق دو نمبرز مل کر 257 کا ٹوٹل رکھتے ہیں۔جن کی کل تعداد 128 بنتی ہے۔
ابھی تک تو اس میں جمع کا طریقہ ہی اختیار کیا گیا ہے۔ اب میں آپ کے سامنے نمبرز کو منفی کرنے سے حاصل ٹوٹل دکھاؤں گا۔ جو ایک توازن میں نظر آئیں گے۔
4x4 کے اس باکس میں پہلی Row میں پہلے اور دوسرے نمبرز کو ایک دوسرے سے منفی کرنے پر 136 کا ٹوٹل حاصل ہوتا ہے۔اسی طرح تیسرے اور چوتھے نمبرز کو ایک دوسرے سے منفی کرنے پر بھی 136 کا ٹوٹل حاصل ہوتا ہے۔
اگر اسی ترتیب سے ہر دو نمبرز کو ایک دوسرے سے منفی کرتے جائیں تو ایک Row میں منفی کے عمل سے 136 کا ٹوٹل حاصل ہوتا ہے ، تو دوسری Row میں 120 کا اور اس طرح 16 Rows میں سے 8 Rows میں منفی کا ٹوٹل 136 اور 8 Rows میں 120 آتا ہے۔
یہاں تک تو نمبرز ایک دوسرے کے قریب رہتے ہوئے ایک جیسا ٹوٹل دیتے ہیں۔اب انہی نمبرز کو گرافکس میں مختلف رنگوں کی مدد سے ایک مختلف شکل میں ایک جیسا ٹوٹل رکھتے ہوئے دیکھایا گیا ہے۔
نیچے دی گئی تصویر میں 8,8 نمبرز کے 32 گروپس تشکیل دیئے گئے ہیں جو چار رنگوں میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ تمام 32 گروپس کے 8 نمبرز کا ٹوٹل ایک جیسا 1028 ہے۔
نیچے دی گئی تصاویرمیں رنگوں کے امتزاج سے ایک مختلف صورت دیکھی جا سکتی ہے۔ جس میں 4,4 نمبرز 514 کا ٹوٹل رکھتے ہیں ۔ 8,8 نمبرز 1028 کا ٹوٹل اور 16 نمبرز 2056 کے ٹوٹل کے ساتھ ایک خوبصورت گرافکس میں ڈھلے ہوئے نظر آتے ہیں۔


محمودالحق

Saturday, September 7, 2019

اعدادِ گل دستہ

0 comments
 بعض لوگوں کی یہ رائے ہے کہ" انسانی ذہن اس پیٹرن کو تقریبا" ہر چیز میں ڈھونڈ لیتا ہے جو اس میں سما جائے –"
اور کچھ لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ " حساب اور ریاضی میں یہ ممکن نہیں ہے - علم اعداد اور ریاضی میں فرق یہ ہے کہ علمی اعداد میں آپ مرضی کے نتائج اخذ کرنے کی کوشش میں ہوتے ہیں جبکہ ریاضی میں سر تسلیم خم کرکے اس کے پیچھے چلنا پڑتا ہے - علم ریاضی اکثر آپ کو ایسے موڑ پر لا کر کھڑا کر دیتا ہے جہاں آپ خود کو بند گلی میں محسوس کرتے ہیں  اور پھر اگلی جنریشن کا کوئی ریاضی دان اس بند گلی سے نئے جہانوں کے در ڈھونڈ لیتا ہے - میتھ کو کوئین آف سائنسز کہا گیا ہے یعنی نیچرل سائنسز کی ملکہ جبکہ علم اعداد پراسرار اور سپر نیچرل سبجیکٹ ہے ۔"
میں نے کچھوے کے شیل پر بنے ڈاٹس میں ایک پیٹرن کو ڈھونڈا  اور پھر مختلف اعداد کی ترکیب و ترتیب میں انہیں ہر جگہ ڈھونڈ لیا۔  میرے لئے وہ پر اسرار تو نہیں ہے  مگر سپر نیچرل ضرور ہیں۔میں علم الاعداد کے بارے  میں بہت زیادہ تو نہیں جانتا  ۔لیکن جو حقیقت مجھ پر آشکار ہوتی رہی ، میں اسے  ساتھ ساتھ ضبط تحریر میں لاتا رہا۔اسرار و رموز اعداد کی  گزشتہ تحریر میں ایک نئی میتھ کیلکولیشن کو پیش کیا، جس میں مختلف گرافکس تشکیل پائے۔آج پھر ایک  نئی دریافت  کو ترتیب دینے جا رہا ہوں۔ یہ اعداد کی پر اسراریت سے ہٹ کر ان کے سپر نیچرل ہونے کی دلیل ہے۔ غیر مسلموں کی ایک بڑی تعداد اس میں پائی جانے والی حقیقتوں کی کھوج میں مصروف عمل ہے۔
ا سکا آغاز میں نے کائنات کے سربستہ راز کے نام سے تحاریر لکھ کر کیا تھا اور اس نسبت سے میری تمام تحاریر اسی ٹیگ میں ایک ساتھ موجود ہیں۔   اسرار و رموز اعداد کی ویڈیو میں   آج کے موضوع کی تفصیل کا ایک رخ بیان کر چکا ہوں۔آج اسی کے تسلسل میں ایک نیا انداز پیش کرنے جا رہا ہوں۔اس کی خاصیت یہ ہے کہ دو مثالوں میں Even  اور  Odd  نمبرز الگ الگ میجک سکوئر تشکیل دیتے ہیں اورایک مثال ایسی ہے کہ جس میں 16x16  میجک سکوئرسولہ 4x4 میجک سکوئر بناتا ہے تو 16مختلف ٹوٹل حاصل ہوتے ہیں۔ اعداد کا یہ کھیل آج تک کبھی کسی نے پیش نہیں کیا ہو گا۔ زیر نظر دو تصاویر خوبصورت رنگوں کے امتزاج سے گرافکس کا روپ دھارے ہوئے ہیں۔اعداد کا جو کھیل پیش کرنے جا رہا ہوں وہ تمام بالآخر  انہی دو تصاویر میں ڈھل جائیں گی اور ان کے نتائج الگ الگ ہونے کے باوجود ایک ہی رنگ میں ڈھلے نظر آتے ہیں۔  پچھلی تحریر میں شامل کی گئی ویڈیو میں رنگین گرافکس کی تفصیل بیان کر چکا ہوں کہ نمبرز کیسے ایک دوسرے کے ساتھ مطابقت و مسابقت رکھتے ہیں۔ ابھی صرف تین مثالیں پیش کر رہا ہوں جبکہ  اللہ تبارک تعالی کے فضل و کرم سےمیرے پاس ایسی مختلف مثالیں دینے کے لئے سینکڑوں میتھ میجک بنانے کی اہلیت موجود ہے۔

زیر نظرپہلی تصویر میں 16x16 کا Magic Square بنتا ہے جس کے Rows, Columns اور Diagonals ایک جیسا ٹوٹل 2056 رکھتے ہیں ۔


اس میں نمبرز 1 تا 256 ایسے ترتیب پاتے ہیں کہ 4x4 کے سولہ Magic squares اس طرح تشکیل پاتے ہیں کہ 4x4 کے آٹھMagic Squares میں 516 کے ٹوٹل میں نمبرز Even کی ترتیب میں ہیں اور آٹھ 4x4 کے Magic Squares میں 512 کے ٹوٹل میں نمبرز Odd کی ترتیب میں ہیں ۔جیسا کہ تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے۔



اوپر دئیے گئے خوبصورت گرافکس میں جب انہی نمبرز کو اسی ترتیب میں لکھا جائے تو وہ اسی پیٹرن میں ڈھل جاتے ہیں۔



16x16 کے اس دوسرے  Magic Square میں نمبرز کوئی خاص ترتیب میں نہیں بلکہ بعض نمبرز Repeat ہوئے ہیں۔ یہ ایسا Magic Square بنتا ہے جس کے Rows, Columns اور Diagonals ایک جیسا ٹوٹل 1462رکھتے ہیں ۔

اس میں نمبرز کی ترکیب مختلف ہے اور4x4 کے سولہ Magic squares اس طرح تشکیل پاتے ہیں کہ  یہ ایسے سولہ Magic squares بنتے ہیں جو ہر لحاظ سے پرفیکٹ ہیں۔ اور چاروں اطراف میں سولہ Magic Squares کے سولہ  مختلف ٹوٹل  آتے ہیں۔ نیچے ان سب کے ٹوٹل کو اسی ترتیب میں ایک میجک سکوئر کی تصویری شکل میں دکھایا گیا ہے ۔

جب انہی نمبرز کو اسی رنگدار پیٹرن میں ڈھالا گیا تو نمبرز مختلف ہونے کے باوجود اسی رنگ میں رنگے گئے۔


تیسری تصویرمیں 16x16کے اس Magic Square میں نمبرز کی ترتیب مختلف ہے اور اس میں نمبرز Repeat نہیں ہوتے۔ یہ ایسا Magic Square بنتا ہے جس کے Rows, Columns اور Diagonals ایک جیسا ٹوٹل 2096رکھتے ہیں۔
اس میں نمبرز کی ترکیب مختلف ہے اور4x4 کے سولہ Magic squares اس طرح تشکیل پاتے ہیں کہ 4x4 کے آٹھMagic Squares میں نمبرز Even کی ترتیب میں ہیں اور آٹھ 4x4 کے Magic Squares میں نمبرز Odd کی ترتیب میں ہیں ۔جیسا کہ تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ ایسے سولہ Magic squares بنتے ہیں جو ہر لحاظ سے پرفیکٹ ہیں اور تمام کا ٹوٹل ایک جیسا 524 آتا ہے۔

جب انہی نمبرز کو اسی رنگدار پیٹرن میں ڈھالا گیا تو نمبرز مختلف ہونے کے باوجود اسی رنگ میں رنگے گئے۔


Saturday, August 31, 2019

اسرار و رموز اعداد

0 comments

قلم سے شناسائی میں دس برس گزر گئے  اور اعداد کی حقیقت ِ کھوج میں دس ماہ۔
4300 سال قبل کچھوے کے خول پہ بنے اعداد کی تشکیل و ترتیب نے  اپنے سحر میں ایسے جکڑا کہ اعداد ہی بولنے لگے۔آج جو دیکھنے جا رہے ہیں وہ لفظوں کی نہیں اعداد کی کہانی ہےجو اُن کی اپنی زبانی ہے۔اعداد کی ترتیب و تشکیل کا ایک منفرد، انوکھا اور دلچسپ انداز جو  دنیا میں آج تک کبھی کسی نے نہیں دیکھا ہو گااورعقل و دانش کے ترازو پر جواز تلاش کرنے والوں کے لئے کھلا چیلنج رکھتا ہے ۔  1 تا 256 اعداد کے توازن کی ایسی حقیقت جو اجتماعیت سے انفرادیت تک اپنا تواز ن  بگڑنے  نہیں دیتی۔   کوئی Mathematical equation  ایسا شاندار اور جاندار رزلٹ نہیں دے سکتی۔یقین کی جس قوت کو  بروئے کار لا  کر اسے بنایا گیاسمجھنے کے لئے بھی اسی یقین کی  ضرورت پڑے گی۔

تفصیل اس ویڈیو میں 


Sunday, August 4, 2019

قلم ٹوٹتے رہے سیاہی بدلتی رہی

1 comments
لکھنے کے لئے کاغذقلم ہاتھ میں لئے دہائیاں گزر گئیں۔ قلم ٹوٹتے رہے سیاہی بدلتی رہی ، کاغذ ہاتھوں سے میلے ہوتے رہے۔ہم بڑے ہو گئے قلم کتابیں چھوٹ گئیں اور کاغذ پر چھپی ڈگریاں ہاتھ لگتی رہیں۔ہم خیال کی اونچائی سے حقیقت کی کھائی میں اترنے لگے۔ دوستوں نے تنہائی کے احساس پر ٹائم پاس کا مرہم رکھا۔جو چاہا وہ پاس نہ آیا ، جس سے  دور بھاگے وہ گلے پڑ گیا۔زندگی بعض اوقات انسان سے کھیلتی ہے۔ امتحان سے گزارتی ہے پھر نہ ہی وہ پاس ہوتا ہے اور نہ ہی فیل ، بس ورکشاپ میں ہتھوڑا  ،اوزار پکڑوانے والا چھوٹا یا ایک ہی جماعت میں جونئیر کو خوش آمدید اور اگلی جماعت میں ترقی کرنے والوں کو الوداع کہنے والا بن کر رہ جاتا ہے۔
ماضی انسان کا پیچھا کرتا ہے ،کبھی خوف بن کر، کبھی پچھتاوا کی صورت، کبھی ندامت تو کبھی سر کشی کا کوڑا بن کر جو بدکے ہوئے گھوڑے پر  چابک برسا کر غصہ کی حالت سے اسے تابعداری کی طرف مائل کرتا ہے۔
بچے اچھے برے کی بجائے قابل اور نالائق کی تقسیم سے جانے اور پہچانے جاتے تھے اور  جاتے ہیں اور جانے جاتے رہیں گے۔ ملازمت پیشہ تنخواہ  سے، کاروباری دولت سے ، طاقتور اختیا ر سے جانے جاتے ہیں اور مانے بھی۔پانچویں پاس امیر اور پڑھا لکھا کلرک لندن امریکہ میں بچوں کی  اعلی تعلیم کا خواب آنکھوں میں سجانے کی بجائے ذہن میں سما لیتا ہے۔نامکمل اور ادھورے خواب سے کچھ دیر کے لئے ماضی سے رشتہ ٹوٹ جاتا ہے ، مستقبل روشن ہو جاتا ہے اور حال مطمئن۔
اپنی قابلیت کے بل بوتے پر دنیا میں شہرت و دولت کا مقام پانے کے بعدانسانیت کی بھلائی میں  انہوں نےان لوگوں سے زیادہ عملی طور پر حصہ لیا جنہیں اپنے بزرگوں سے صرف دولت کے مینار تعمیر کرنے کی تربیت ملی۔انہوں نے اپنے زیر اثر افراد ، معاشرے اور قوم کو بیوقوف بنا کر ایک ایسی ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا جو دیگیں پکانے والے کسی پکوان خانے کی پک اپ وین میں ایک زندہ گدھا دیکھ کر زیر لب مسکرا کر اسے کھانے والوں کی قسمت پر ہنستے ہیں ۔  
کہیں دولت کا رونا ہے ، کہیں عزت کا، کہیں محبت کا، لیکن شرافت کا ذکر خیر سننے کو کان ترس گئے۔حرام کمائی سے محل کھڑے کرنے والے معتبر  و معزز کہلائے۔ ایک بریانی کی پلیٹ اور ایک ادھ بوٹی کے لئے کناتوں پراتوں پر ٹڈی دل کے حملہ جیسا نقشہ قوم کی غیرت و حمیت کی بجائے غربت کا مذاق بنایا جاتا ہے حالانکہ گھروں میں تین وقت کا بہترین کھانا سویٹ ڈش کے ساتھ نوش فرمانے والوں کی پلیٹ پر بڑا مینار کھانے والے کی نیت کی بجائے اس کی فنکاری پر داد وصول کرتا پایا جاتا ہے۔تعلیمی ادارے آخر کہاں جائیں ، جہاں گھر بار، تھڑے بازار سیاسی درسگاہیں نوکر شاہی کے طفیل پسند ، نا پسند اپنا اُلو سیدھا رکھنے سے غرض رکھتے ہوں۔جب معاشرہ لوٹ مار اور حرام کی دولت کو برا جاننا چھوڑ دے اورتھانہ کچہری میں وہی باعزت کہلائے جاتے ہوں۔تو معاشرہ کہاں جائے جہاں ہر فرد عزت کا بھوکا ہو۔
زخمیوں اور بیماروں کے لئے ایدھی اور چھیپا ایمبولینس کسی نعمت سے کم نہیں  ایسے معاشرہ میں جہاں جو دکھتا ہے وہ بکتا ہے کے مصداق ہو۔ جو جتنا متنازعہ ہو گا وہ اتنا ہی مشہور اور قدآور ہو گا۔ ٹی وی ٹاک شوز ہوں وشل میڈیا ہو یا اخبارات، ان کی جیبیں بہت بھاری ہوں گی اور تجزیے پھیکے۔
حالات سمجھنے کے لئے کوئی گیدڑ سنگھی نہیں چاہیئے ہوتی ، تاریخ ہمیشہ اپنے اُپ کو دہراتی
23 جنوری 2010 کو میری تحریر " سیاست کے میدانوں کے بڑے شکاری" کسی پارٹی یا سیاستدان کی بجائے نظام کے متعلق ہمارےعمومی روئیے کی غماز تھی۔ 26 مئی 2013 کو لکھی میری تحریر" فلم کا ٹریلر 11 مئی کو چلے گا"  میں فلم کچھ عرصہ بعد چلنے کا عندیہ تھا جس کی آج سارے ملک میں دھوم ہے۔اس میں کچھ حقائق کی نشاندہی کی تھی کہ ہر سال لاکھوں پڑھے لکھے نوجوانوں کو لالی پاپ کے لالچ میں نہ ملک چلتے ہیں اور نہ ہی حکومت۔  بالآخر وہ تعداد میں اتنے ہو جائیں گے کہ کسی بھی ایماندار شخص کو اپنا لیڈر مان لیں گے۔
ہمارے سیاستدان احمقوں کی جنت سمجھتے رہے پاکستان کو۔عوام چاہے کتنی ہی بے حس ہو جائے  مگر نظام قدرت کا اپنا دستور ہے۔ پڑھے لکھے بے روزگارنوجوانوں کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ بوڑھے طوطے شائد جوانی کے نشہ میں ابھی بھی سرشار ہیں ( دوسری تیسری شادی  سے ہٹ کر) ۔ یہ 80 اور نوے کی دہائی نہیں ہے جب  ایک کمانے والا دس افراد کے کنبے کا کفیل تھا۔ ہر کمرے میں اے سی  کے لئے بجلی اور موٹر سائیکل، کار کے لئے پٹرول کی ضرورت ہر فرد کو ہے۔ جس کے لئے رقم کی ضرورت ہوتی ہے۔ بجلی کی چوری سے لوڈ شیڈنگ نے ملک کا جو حال کیا تھا۔ بجلی کی زیادہ قیمت اور چوری رکنے پر لوڈ شیڈنگ پر تقریبا قابو پا لیا گیا ہے۔  بحریہ ٹاؤن لاہور کے قریب ایک گاؤں کا حال میں جانتا ہوں جنہوں نے ہمیشہ ڈائریکٹ بجلی چلائی گھر وں میں کئی ای سی دن رات بدن کو گرم ہونے سے بچائے رکھتے تھے۔ پرچوں کے اندراج پر جب تھانوں کا منہ دیکھنا پڑا تو ای سی بند اور میٹر کے زریعے بجلی کی آمدورفت شروع ہو گئی وہاں۔
آج کے  کالم نگار ،مفکریں ٹاک شو کے تجزیے  قوم کو حکمران اور اپوزیشن کے سیاستدانوں کے مستقبل کی پیش گوئیوں پر کمر بستہ ہے۔ نیا لیڈر کون بننے جا رہا ہے ، پارٹی کی کمان کس کے ہاتھ میں ہو گی۔اس نظام سیاست کو ماننے والے اور سہارا دینے والوں کی تعداد دن بدن کم ہو رہی ہے۔ نوشتہ دیوار پڑھ لینا چاہیئے آنے والے وقت میں قیادت کا فیصلہ پڑھی لکھی عوام کرے گی۔ آوے ای آوے اور جاوے ای جاوے والے جاہل سپوٹر اور ووٹر ہمیشہ سے ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔جو قیادت کی بجائے باپ کے بعد بیٹی اور ماں کے بعد بیٹے پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ جو انہیں دنیا میں ایک آزاد شہری کی بجائے اپنی رعایا بنا کر رکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ جو معاشرہ لچُا سب سے اُچا کی پالیسی پر گامزن ہو۔ وہاں فیصلے زمین پر نہیں ہوتے۔ لا الہ الااللہ کی بنیاد پر قائم ہونے والا ملک کسی خاندان کی غلامی کے لئے دنیاکے نقشے پر معرض وجود میں نہیں آیا۔ ووٹر جتنی وفاداری پارٹی رہنما سے رکھتا ہے اگر اُتنی  عزت واحترام ، قدرو منزلت اور قربانی و ایثار اپنے گھر ، عزیز رشتےدار اور ہمسائیوں محلہ داروں سے بھی رکھ لے تو معاشرہ بے حسی کی تصویر نہ بنا پھرے جہاں لا تعلقی اور خود غرضی کی اجارہ داری ہے۔ مفاد پرست چند ایک چوہدریوں نے اپنے محلہ گاؤں کے نوجوانوں میں مخالفت نفرت کا ایسا بیج اپنے مخالفوں کے بارے میں بویا ہے کہ نوجوان نسل اچھے برے کی تمیز بھول گئی ہے۔  چائے بوتل ایک پلیٹ بریانی پر اپنے مستقبل سے بیگانے ہو چکے ہیں۔
دنیا میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون نہیں چلتا بلکہ قانون کی حکمرانی میں تمام عوام اور ارباب اختیار قانون کے تابع ہوتے ہیں۔ لیکن جہاں فیصلے سنانے والے اور ان کی معاونت کرنے والے ایک دوسرے کے ساتھ دست و گریبان ہوتے ہوں تو کیا ہر ادارے کو اپنی ساکھ کی بحالی کے لئے بار بار کوٹ پہن کر تحریک چلانی پڑے گی۔
کیا ہم اُس مقام تک آ پہنچے ہیں کہ " اونٹ رے اونٹ تیری کون سی کل سیدھی"

تحریر : محمودالحق