Showing posts with label محبت. Show all posts
Showing posts with label محبت. Show all posts

Thursday, May 2, 2019

محبوب جاں ہوتا

1 comments

کاغذ پہ لکھ دیتے تو حال بیاں ہوتا ۔ یوں نہ قلب ،سفر امتحاں ہوتا
زندگی تو یوں بھی گزر گئی ۔ دل ناتواں ہوتا یا ناداں ہوتا
کس سے کہیں شکوہ جان جاناں ۔ موج تنہائی میں الفت بیاباں ہوتا
سینے میں دہکتا انگاروں پہ لوٹتا ۔ دھڑکا نہ ہوتا تو ٹھہرا آسماں ہوتا
آنے میں بیتابی جانے میں شادابی ۔ خیال پرواز ہوتی ،نہ قدم نشاں ہوتا
دولت ترازو میں رہاعشق بے مول ۔ جبر تسلسل نہ ہوتا، کانٹا گلستاں ہوتا
 آنکھ سے نہ چھلکا ہوتا جو قطرہ ۔ رگوں میں لہو بن دوڑتا ارماں ہوتا
 روح احساس کو ستانےوالے ۔ نہ ہوتا تو تو یہ میرا جہاں ہوتا
خلوت میں نہ ہوتی گر دستک ۔ جلوت میں محمود محبوب جاں ہوتا

محمودالحق

Wednesday, December 24, 2014

بنجر زمین فصل نو بہار

0 comments

جو زندگی کے سفر میں تنہا رہتے ہیں ۔ہجوم غافل میں سسکتی آہوںکو آنکھوں سے کھوجتے تو کانوں سے ٹٹولتے ہیں۔بلند و بالا پہاڑوں کے بیچ اندھیری کھائیوں سے گونجنے والی آوازیں قوت سماعت سے ٹکرا کر قوت احساس کا امتحان بن جاتی ہیں۔
زندگی سفر میں آسان ہوتی ہے، آزمائش میں امتحان۔جس میں پورا اترنے کی کوشش میں راستے کی پگڈنڈیوں پر چلتے چلتے خوف کی گانٹھیں ایسی سختی سے لگاتے جاتے ہیں کہ جب کھولنے کا وقت آتا ہے تو دانتوں سے بھی کھل نہیں پاتیں۔یہ ایسی آندھی ہےجو رفتار بڑھنے پر ہر شے تہس نہس کر دیتی ہے۔جو مان کر بیٹھ جاتے ہیں ،جان کر جان سے چلے جاتے ہیں۔پاس آنے سے جو سکون پاتے ہیں، دور جانے سے کھونے کے خوف میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔زندگی انہیں راستہ دکھاتی ہے جو منزل کی تلاش میں بے خود ہو جاتے ہیں، بے خوفی انہیں مقام تلاش سے آگے دھکیل دیتے ہیں۔پھونک پھونک کر قدم اُٹھانے والے قدموں کی چاپ کے احساس سے واپس پلٹنے پر بضد رہتے ہیں۔
اندھیری گلیوں سے گزرتے ہوئے چاندنی راتوں کے انتظار کی سولی پر جو لٹکے رہتے ہیں، وقت گزرنے پر ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں۔یہ محبوب کی گلی نہیں کہ جس میں راستے پھولوں سے سجائے جاتے ہیں۔عاشقوں کے راستے کانٹوں سے لبریز برہنہ پا عشقِ لہو سے سرخ ہوتے ہیں۔یہ سردیوں کی رات نہیں کہ لحاف اوڑھ کر بسر کر لی جائے۔ یہ وہ پیراہن ہے جو کھلے آسمان تلے ٹھٹھرتی راتوں میں پیشانی پر پانی کے قطرہ سے نمودار ہو جائے۔
محبت کوئی پھول نہیں کہ آگے بڑھ جاؤ تو وہ مرجھا جائے۔ یہ تو وہ کانٹے ہیں جو دامن سے اُلجھ کر تار تار کر دیتے ہیں۔آگے بڑھنا جنہیں محال ہے، اظہار کی نہیں انہیں کوئی مجال ہے۔یہ بھیک نہیں جو خیرات پر ختم ہو۔یہ منزل نہیں جو جستجو پر ختم ہو۔یہ دل نہیں جو دھڑکن سے ختم ہو۔یہ اندھیرا نہیں جو روشنی سے ختم ہو۔یہ آس نہیں جو خیال سے ختم ہو۔یہ وجود نہیں جو چاہ سے ختم ہو۔
جو پا گیا وہ راز زندگی جان گیا۔جو کہنے سے رہ گیا وہ پھر ایک طویل سفر پر چلنے کے لئے تیار ہو گیا۔ایک پڑاؤ سے اُٹھ گئے تو سمجھو چل پڑےنئے پڑاؤ کی طرف نئی منزلوں کی طرف۔مسافر گزر جاتے ہیں منزلیں ٹھہری رہتی ہیں۔آگے بڑھ کر جو تھام لےوہی سفر کو روک لیتے ہیں۔ جو خود گزر جاتے ہیں وہ اُلجھ جاتے ہیں۔یہ ایسا امتحان ہے جو دوسرا چانس نہیں دیتا۔جو گزر گیا سو بھول گیا۔یاد صرف وہی رکھا جاتا ہے جسے مکمل تسخیر کر لیا جاتا ہے۔جو مسخر نہ ہو اسے ریاست تخیل سے نکال باہر کیا جاتا ہے۔خط و کتابت میں حال واحوال جانا جاتا ہے۔ کیفیت اظہار میں ہاں نا سے فیصلہ صادر کیا جاتا ہے۔جب کوئی خود کے بس میں نہیں تو کسی اور کے خیال سے حقیقت کیسے ہو گا۔
پرانے کپڑے رفو گری کے کمال ہنر مندی کے محتاج ہوتے ہیں ۔ نئے تعلق آداب تخیل سے بے پرواہ ہوتے ہیں۔دو راستے نقطہ آغاز سے سمت مخالف بڑھنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔آگے بڑھنے والے پلٹ سکتے ہیں مگر پلٹ کر بڑھنا جان جوکھوں کا کام ہے۔کیفیت اظہار کی مرہون منت ہے۔احساس محرومی اور تشکر ارمان میں چشم تر  سے نہ گزرے تو آرزوئے انجان سے نہ لپٹے۔
کھلی کتاب میں بند سوال صفحات در صفحات آگے نہیں بڑھتے۔بعض اوقات ایک لفظ سے ہی مفہوم کی وضاحت کر دیتے ہیں۔اظہار کیفیت کا حال بیان کرتا ہے۔خاموشی پردہ پوشی کرتی ہے۔بتانے والے سنا کر گزر جاتے ہیں۔سننے والے سمجھ کر ٹھہر جاتے ہیں۔حالانکہ مسافتیں ہمسفر چاہتی ہیں نہ کہ ہمراز۔ایک ساتھ چلنے والے ، ایک ٹھہرنے والے۔نا سمجھی میں چلنا ،سمجھ کر ٹھہرنے سے بدرجہا بہتر ہےکہ آگے بڑھنا ہی زندگی کا مقصد ہے۔پھولوں کی رنگت اور مہک سے بے خود ہو کررکنے والے ایک نئی بہار کے انتظار تک جامد و ساکت ہو جاتے ہیں۔زندگی ایک ایسا تسلسل ہے جو مسلسل ہے مگر متصل نہیں۔ہجر ہے فکر ہے مگر قدر کے بغیر صرف جبر ہے۔جنوں ہے تو سکون ہے۔زندگی چار دیواری کے اندر پروان چڑھتی ہےتو محبت سوچ وخیال کے بند کواڑ سے باہر جھانکتی ہے۔بند کواڑ کھل جائے تو پرواز کر جاتی ہے وگرنہ وہیں دم توڑ دیتی ہے۔
ان گنت بال جسم کو احساس دلائے بنا بڑھتے رہتے ہیں۔جب ان میں سے کسی ایک کو الگ کرنے کی کوشش کی جائے تو جسم ایک بال کی جدائی کو پورے وجود میں محسوس کرتا ہے۔محبت ایسے ہی جسم و جاں پر نچھاور ہو کر پروان چڑھتی ہےکسی احساس کے بغیر، مگر الگ ہونے کی کوشش پر جسم قلب کے زیر عتاب آ جاتا ہے۔

تحریر! محمودالحق



Thursday, September 4, 2014

قیدِ بے اختیاری

2 comments
چھوٹی چڑیا چھوٹے سے پنجرے میں قید بڑی بے چینی سے جھولے سے نیچے پھر جھولے پہ اُڑ اُڑ جاتی۔بس اتنا سمجھ کر چہچہاتی کہ ایک دن یہاں سے آزادی پا کر اس سے بڑی اُڑان بھروں گی۔اور ایک دن اچانک پنجرہ کی چھوٹی سی کھڑکی کھلا پا کر اُڑان بھر جاتی۔ مگر جسے وہ آزادی سمجھ کر اونچی پرواز سے لطف لینے لگی کچھ توقف کے بعد وہی کمرہ اس بے چاری چڑیا کے لئے بڑے پنجرے میں بدل گیا۔آزادی کے جس دیپ کو وہ جلا کر مدھم ہوتی قید ِ روشنی کو سہارا دیئے ہوئے تھی۔وہ ایک بار پھر اس کے لئے نا اُمیدی اور مایوسی کے اندھیروں سے خوف میں مبتلا ہونے لگتی ہے۔بچوں کی چھیڑ چھاڑ سے عاجز اب وہ خونخوار بلیوں کے پنجوں کی زد میں چلی گئی۔جہاں اسے خود کے بچاؤ کے لئے اپنے پروں کی طاقت سے زیادہ اندھیرے میں چمکتی آنکھوں سے اوجھل رہنے میں زندہ رہنے کی گارنٹی ملتی ہے۔
سفاری پارک میں ہاتھیوں کو جنگل جیسی مستی کی اجازت نہیں۔شیروں کو چنگھاڑنے کی اتنی اجازت ہوتی ہے وہ بدن کو انگڑائی سے تازہ دم رکھ سکیں۔اُچھل کود کرتے کنگرو ، کانوں سے چوکنا رہنے والےہرن تماشائیوں کے لئے تفریع طبع کا سامان بن کر رہ جاتے ہیں۔جس نے جہاں آنکھ کھولی وہیں وہ اس کا قیدی ہے۔ایک پنجرہ سے دوسرے  بڑےپنجرہ میں منتقلی ہی اسے آزادی کے نشہ میں مبتلا کر دیتی ہے۔پنجرے بدلتے چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ روئے زمین کی قید میں چلا جاتا ہے۔دنیا کا ہر بڑا ملک اس کی دسترس میں آ جاتا ہے۔فاصلے سوچوں سے نکل کر گھڑی کی سوئی سے منسلک ہو جاتے ہیں۔
آزادی پا کر مطمئن نہ ہونا اسے اگلی منزل کی قید میں پہنچا دیتا ہے۔انسان کا سفر کبھی ختم نہیں ہوتا اور نہ ہی قید ختم ہوتی ہے۔جہاں رہ کر وہ آزادی سے مسرور ہوتا ہے وہیں کسی اگلی منزل کے قیدی کو وہ قیدی ہی نظر آتا ہے۔قید کے یہ سلسلے پہاڑوں کے سلسلہ جیسے ہیں ایک پہاڑ کی چوٹی پر دوسرے پہاڑ کا نقطہ آغاز۔
زندگی کی حقیقتوں کو کہانیوں سے تشبیہ دینے والے تو بہت مل جائیں گے۔محبوب کو لفظوں کے ترازو میں تول کر بیش قیمت بنا دیں گے۔محبت کو جگر سے خون لے کر قلب کی روانی میں بہا دیں گے۔جس سراب کے وہ قیدی ہوتے ہیں زمانہ بھی اسی کا قیدی بنا دیتے ہیں۔آبشاروں چشموں سے اُبلتا صاف شفاف پانی پیاس بجھاتا ، سیراب کرتا ہوا،شور مچاتا ندی نالوں سے ہوتا ہوا دریاؤں سے گزر کر پھر سمند ر میں گر کر مٹھاس کھو کر پھر اپنی باری پہ بخارات بن کر پہاڑوں میدانوں میں بادل بن کر برسنے کے لئے بیتاب رہتا ہے۔
چھوٹی چڑیا پنجرہ کی رہائی سے کمرے کا قیدی ہونے پر فخر سے سینہ نہیں تان سکتی۔قید کے یہ سلسلے ایک پنجرہ سے دوسرے تک بڑھتے چلے جاتے ہیں۔حتی کہ روئے زمین کی قید تک بات چلی جاتی ہے۔ان میں سے بعض ایک قدم آگے بڑھ کر کائنات کی چکاچوند روشنیوں کے قیدی بن جاتے ہیں اور انہیں زمین ان کی تھکن سے بھی چھوٹی نظر آتی ہے۔
جنہیں سچی محبت کی تلاش ہوتی ہے وہ صرف محبوب کے طرز تکلم سے مطمئن ہو جاتے ہیں۔حالانکہ یہ قید کے سلسلے ایک سے بڑھ کر ایک کی تلاش کے بعد بھی منطقی انجام تک نہیں پہنچ پاتے۔یہ میٹھے رس بھرے آڑو کی مانند ایک وقت کے بعد اپنے ہی وجود سے پیدا ہونے والی سونڈی کا شکار ہو جاتے ہیں۔جن کا اس خوبصورت چیز سے کوئی تعلق بھی نہیں ہوتا۔جس طرح روزمرہ کے معمولات زندگی دھیرے دھیرے زہر گھولتے ہیں۔آہستہ آہستہ سارا وجود اس کے کرب سے تکلیف کا شکار ہو جاتا ہے۔
غم دکھ درد وجود کو ایسا قیدی بنا کر رکھتا ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ آنکھیں بند کرنے سے درد کا احساس کم ہو جائے گا۔جان چھوٹ جانے کو درد چھوٹ جانے کا مداوہ سمجھتے ہیں۔انسان جتنا دل پھینک محبت میں ہوتا ہے خواہشات میں نہیں ہوتا۔ماں باپ کی محبت ،بہن بھائیوں کی محبت، اولاد کی محبت اور محبوب کی محبت۔قید کے یہ سلسلے بھی دل کا چین اور راتوں کا سکون چھین لیتے ہیں۔مریض کبھی لاعلاج نہیں ہوتا مرض لا علاج ہو جاتا ہے۔درد کا علاج دکھ سے ممکن نہیں ہوتا۔مجبوری لاچاری میں ضرورت سے دور رہتی ہے۔دکھ کی بھٹی سے نکل کر انسانوں سے نیک اعمال خود بخود سرزد نہیں ہونے لگتے۔
جینے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگانی پڑتی ہے اور پانے کے لئےآگے بڑھنے کی ہمت پیدا کرنی پڑتی ہے۔جو چند لفظوں کے اظہار کی قربانی دے کرہزاروں لفظوں کے نیچے دب جاتے ہیں۔وہ سمجھ ہی نہیں پاتے کہ جس طرح خیرات میں ملی روٹی اور بخشش میں ملی زندگی سے صرف زندہ رہا جا سکتا ہے۔اُدھار کے الفاظ لاکھوں بھی ہوں تو ایک مسکراہٹ کے سامنے ہیچ ہو جاتے ہیں۔ 
پنجرے میں قیدیوں کے لئے یہ تخیل ہے ۔مگر جو ان سے آزادی پا لیتے ہیں ان کے لئے یہ ایک حقیقت ہے۔

تحریر:  محمودالحق

قیدِ بے اختیاری

2 comments
چھوٹی چڑیا چھوٹے سے پنجرے میں قید بڑی بے چینی سے جھولے سے نیچے پھر جھولے پہ اُڑ اُڑ جاتی۔بس اتنا سمجھ کر چہچہاتی کہ ایک دن یہاں سے آزادی پا کر اس سے بڑی اُڑان بھروں گی۔اور ایک دن اچانک پنجرہ کی چھوٹی سی کھڑکی کھلا پا کر اُڑان بھر جاتی۔ مگر جسے وہ آزادی سمجھ کر اونچی پرواز سے لطف لینے لگی کچھ توقف کے بعد وہی کمرہ اس بے چاری چڑیا کے لئے بڑے پنجرے میں بدل گیا۔آزادی کے جس دیپ کو وہ جلا کر مدھم ہوتی قید ِ روشنی کو سہارا دیئے ہوئے تھی۔وہ ایک بار پھر اس کے لئے نا اُمیدی اور مایوسی کے اندھیروں سے خوف میں مبتلا ہونے لگتی ہے۔بچوں کی چھیڑ چھاڑ سے عاجز اب وہ خونخوار بلیوں کے پنجوں کی زد میں چلی گئی۔جہاں اسے خود کے بچاؤ کے لئے اپنے پروں کی طاقت سے زیادہ اندھیرے میں چمکتی آنکھوں سے اوجھل رہنے میں زندہ رہنے کی گارنٹی ملتی ہے۔
سفاری پارک میں ہاتھیوں کو جنگل جیسی مستی کی اجازت نہیں۔شیروں کو چنگھاڑنے کی اتنی اجازت ہوتی ہے وہ بدن کو انگڑائی سے تازہ دم رکھ سکیں۔اُچھل کود کرتے کنگرو ، کانوں سے چوکنا رہنے والےہرن تماشائیوں کے لئے تفریع طبع کا سامان بن کر رہ جاتے ہیں۔جس نے جہاں آنکھ کھولی وہیں وہ اس کا قیدی ہے۔ایک پنجرہ سے دوسرے  بڑےپنجرہ میں منتقلی ہی اسے آزادی کے نشہ میں مبتلا کر دیتی ہے۔پنجرے بدلتے چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ روئے زمین کی قید میں چلا جاتا ہے۔دنیا کا ہر بڑا ملک اس کی دسترس میں آ جاتا ہے۔فاصلے سوچوں سے نکل کر گھڑی کی سوئی سے منسلک ہو جاتے ہیں۔
آزادی پا کر مطمئن نہ ہونا اسے اگلی منزل کی قید میں پہنچا دیتا ہے۔انسان کا سفر کبھی ختم نہیں ہوتا اور نہ ہی قید ختم ہوتی ہے۔جہاں رہ کر وہ آزادی سے مسرور ہوتا ہے وہیں کسی اگلی منزل کے قیدی کو وہ قیدی ہی نظر آتا ہے۔قید کے یہ سلسلے پہاڑوں کے سلسلہ جیسے ہیں ایک پہاڑ کی چوٹی پر دوسرے پہاڑ کا نقطہ آغاز۔
زندگی کی حقیقتوں کو کہانیوں سے تشبیہ دینے والے تو بہت مل جائیں گے۔محبوب کو لفظوں کے ترازو میں تول کر بیش قیمت بنا دیں گے۔محبت کو جگر سے خون لے کر قلب کی روانی میں بہا دیں گے۔جس سراب کے وہ قیدی ہوتے ہیں زمانہ بھی اسی کا قیدی بنا دیتے ہیں۔آبشاروں چشموں سے اُبلتا صاف شفاف پانی پیاس بجھاتا ، سیراب کرتا ہوا،شور مچاتا ندی نالوں سے ہوتا ہوا دریاؤں سے گزر کر پھر سمند ر میں گر کر مٹھاس کھو کر پھر اپنی باری پہ بخارات بن کر پہاڑوں میدانوں میں بادل بن کر برسنے کے لئے بیتاب رہتا ہے۔
چھوٹی چڑیا پنجرہ کی رہائی سے کمرے کا قیدی ہونے پر فخر سے سینہ نہیں تان سکتی۔قید کے یہ سلسلے ایک پنجرہ سے دوسرے تک بڑھتے چلے جاتے ہیں۔حتی کہ روئے زمین کی قید تک بات چلی جاتی ہے۔ان میں سے بعض ایک قدم آگے بڑھ کر کائنات کی چکاچوند روشنیوں کے قیدی بن جاتے ہیں اور انہیں زمین ان کی تھکن سے بھی چھوٹی نظر آتی ہے۔
جنہیں سچی محبت کی تلاش ہوتی ہے وہ صرف محبوب کے طرز تکلم سے مطمئن ہو جاتے ہیں۔حالانکہ یہ قید کے سلسلے ایک سے بڑھ کر ایک کی تلاش کے بعد بھی منطقی انجام تک نہیں پہنچ پاتے۔یہ میٹھے رس بھرے آڑو کی مانند ایک وقت کے بعد اپنے ہی وجود سے پیدا ہونے والی سونڈی کا شکار ہو جاتے ہیں۔جن کا اس خوبصورت چیز سے کوئی تعلق بھی نہیں ہوتا۔جس طرح روزمرہ کے معمولات زندگی دھیرے دھیرے زہر گھولتے ہیں۔آہستہ آہستہ سارا وجود اس کے کرب سے تکلیف کا شکار ہو جاتا ہے۔
غم دکھ درد وجود کو ایسا قیدی بنا کر رکھتا ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ آنکھیں بند کرنے سے درد کا احساس کم ہو جائے گا۔جان چھوٹ جانے کو درد چھوٹ جانے کا مداوہ سمجھتے ہیں۔انسان جتنا دل پھینک محبت میں ہوتا ہے خواہشات میں نہیں ہوتا۔ماں باپ کی محبت ،بہن بھائیوں کی محبت، اولاد کی محبت اور محبوب کی محبت۔قید کے یہ سلسلے بھی دل کا چین اور راتوں کا سکون چھین لیتے ہیں۔مریض کبھی لاعلاج نہیں ہوتا مرض لا علاج ہو جاتا ہے۔درد کا علاج دکھ سے ممکن نہیں ہوتا۔مجبوری لاچاری میں ضرورت سے دور رہتی ہے۔دکھ کی بھٹی سے نکل کر انسانوں سے نیک اعمال خود بخود سرزد نہیں ہونے لگتے۔
جینے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگانی پڑتی ہے اور پانے کے لئےآگے بڑھنے کی ہمت پیدا کرنی پڑتی ہے۔جو چند لفظوں کے اظہار کی قربانی دے کرہزاروں لفظوں کے نیچے دب جاتے ہیں۔وہ سمجھ ہی نہیں پاتے کہ جس طرح خیرات میں ملی روٹی اور بخشش میں ملی زندگی سے صرف زندہ رہا جا سکتا ہے۔اُدھار کے الفاظ لاکھوں بھی ہوں تو ایک مسکراہٹ کے سامنے ہیچ ہو جاتے ہیں۔ 
پنجرے میں قیدیوں کے لئے یہ تخیل ہے ۔مگر جو ان سے آزادی پا لیتے ہیں ان کے لئے یہ ایک حقیقت ہے۔

  محمودالحق

Monday, August 25, 2014

دیکھ ہمارا کیا رنگ کر دیا

1 comments

جیولری ، کھلونے ، بوتیک ہو یا کاروں کا شو روم صرف دیکھ کر یا ہاتھ سے محسوس کر کے تسلی نہیں ہوتی۔جب تک کہ وہ احساسِ لمس سے خوابیدہ نہ کر دے۔ نظر بھربھر دیکھنے سے اپنائیت کا احساس موجزن نہیں ہوتا۔عدم دستیابی خالی پن سے زیادہ اپنے پن سے عاجز ہو جاتی ہے۔آج لفظوں سے اظہار اجاگر نہیں ہو گا۔کیفیت بیان سے آشکار نہیں ہو گی۔احساسات اور محسوسات پر اعتراضات بھی نہیں ہوں گے۔
کون جانتا ہے کہ رات دن سے الگ کیسے ہوتی ہے اور دن رات میں کیسے چھپ جاتا ہے۔چاندنی راتوں میں سمندر پر لہریں کیوں رقص کرتی ہیں۔آسمانوں سے پانی برس کر پھلوں پھولوں میں رنگ و خوشبو کے رنگ کیسےبکھیر دیتا ہے۔ چاہنے اور پانے کے انداز جدا ، رنگوں کی ترتیب الگ رہتی ہے۔ رنگ ونور کی برسات صفحات پر اترے تو آنکھوں کو خیرہ کر دیتی ہیں۔مگر جب قلب پہ اُترے تو روح میں خوشگوار احساسِ حیرت کو جاگزیں کر دیتی ہے۔ 
آرٹس کے مضامین پڑھنے والا سائنسی توجیحات پر سر کھجانے سے آگے نہیں بڑھتا۔ کیونکہ وہاں سوچ داخلہ بند کے آویزاں بورڈ سے استقبال کرتی ہے۔ قربت کا مضمون پڑھنے والے محبت کے مفہوم سے ہمیشہ ناآشنا رہتے ہیں۔پانے کا جنون احساس کے لگن سے کبھی ہم رکاب نہیں ہوتا۔بہشتی زیور بحر طور زمینی زیور سے بدرجہا بہتر بھی ہے اور لازوال و لافانی بھی ۔
جن چیزوں کی اہمیت انہیں پانے کے بغیر مکمل نہ ہو تو ایک سے بڑھ کر ایک کی تلاش کے سلسلے ختم نہیں ہوتے۔ جیولری ، کپڑے ، جوتے کا نیا ڈیزائن اور کار  کانیا ماڈل ،گلے میں لٹکے ہیرے کے ہار اور گیراج میں کھڑی نئی گاڑی کو بھی بے وقعت کر دیتی ہے۔ بچے جن کھلونوں کے لئے زمین پرسر پٹختے ہیں۔ پھر نیا دیکھ کر انہی کھلونوں کو زمین پر پٹخ دیتے ہیں۔ 
مگر اس کے مقابلے میں قدرت اور فطرت سے محبت رکھنے والے آپس میں دست و گریباں نہیں ہوتے۔ پانے کے لئے حسد و رقابت کی بھٹی میں نہیں جلتے۔چاہت بہت  ہوتی ہے مگر طلب نہیں کہ جان پر بن آئے۔ان کا جینا آسان ہوتا ہے ۔حقیقی خوشی سے سرشار ہوتا ہے۔صرف محسوس کرنے سے ہی قربت کے احساس سے سرشار ہو جاتے ہیں۔ایک کے بعد ایک روح میں سماتا چلا جائے  توتشنگی بڑھ جاتی ہے مگرتڑپ نہیں ۔ 
میلوں پھیلے گلستان میں ہزاروں رنگ بکھیرتے خوشبو پھیلاتے پھول دیکھنے والوں کوسحر میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ ایک کے بعد دوسرا جاذبیت سے جذبیت بڑھا دیتا ہے مگر پہلے کی محبت کم نہیں کرتا۔ انہیں توڑ کر گھر وں میں سجایا  نہیں جاتا بلکہ قلب ِروح کے گلدان میں بسایا جاتا ہے۔خوشبو سے خود کومہکایا جاتا ہے۔ اظہار ِخیال قلبِ حال پر فوقیت نہیں رکھتا۔لفظ تو پھول کی مانند ہیں ۔کوئی انہیں گلستان میں مہکتا دیکھ کر محبت کا شکار ہوتا ہے تو کوئی انہیں توڑ کر کتابوں میں چھپا کر چپکے چپکے روتا ہے۔
سکول  میں پڑھنے والے طالبعلم چاہے پہلی پوزیشن سے کامیابی کے زینہ پر قدم رکھیں یا صرف پاس ہونے پر اکتفا کر پائیں۔ مگر بیس کمروں کے سکول کو بیس ہزار طالبعلم میرا سکول  کہہ کر پکارتے ہیں۔ اس کے برعکس ہوٹل یا ہوسٹل میں سالہا سال  رہنےکے بعد بھی اسےاپنا نہیں کہہ پاتے۔
زندگی میں صرف دیکھنے سے مفہوم جانے نہیں جا سکتے۔زندگی میں درپیش حالات و واقعات کی کھائیوں سے دوبارہ ابھر کر سمجھے جا تے ہیں۔ کتابوں سے مطالب ومعنی تلاش کئے جا سکتے ہیں مگر مفہوم نہیں۔

محمودالحق                           

Wednesday, July 23, 2014

محبت بے نام ہے

1 comments


آج صرف دل کی سنتا ہوں۔کل کی بات ہے یہ صرف میری سنتا تھا۔یہ مجھے سمجھاتا کہ میں تو عکس آئینہ ہوں ۔ میں نے سمجھا کہ یہ پسِ آئنیہ ہے۔میں تصویر پہ تصویر بناتا  چلا گیا اور یہ انہیں مٹاتا چلا گیا۔
غصہ تو بہت کیا ۔میرے رنگوں کو بے رنگ کر دیتا۔جیسے سکول میں استاد تختہ سیاہ  کے ہر نشان کو ڈسٹر سے  صاف کر دیتا۔
استاد تو میں تھا اس کا ۔حرف مٹانے کا اختیار تو میرا تھا پھر یہ اپنی من مانی کیوں کرتا رہا میرے ساتھ ۔ ہر جذبہ ، ہر احسا س کو کرایہ دار کی طرح مکان سے بے دخل کر دیتا۔
مطالبہ بھی عجب تھا  چاہت ِکرایہ چاہے نہ دو مگر سکونت مکین کی طرح رکھو مسافر کی طرح پڑاؤ نہیں۔
 اندھیروں سے ڈر کر پناہ کی تلاش میں آنے والے تیل بھر بھر چراغ لے جاتے مگر یہ بھول جاتے کہ چراغ ِ روشن کے لئے چنگاری چاہیئے ہوتی ہے۔پھر چاہے چراغ سے گھر روشن کر لو یا اسے جلا لو۔یہ جل کر روشنی بھی دیتا  ہے اور جلا کر بھی۔
لیکن خواہش میں ہمیشہ بنا تیل کے بجھا جادوئی چراغ رہتا ہے۔جو ہاتھ کی رگڑ سے ہی محل جگمگا دے۔
شاعر کی نطر محبت کے شعر رگڑنے سے  دل کے بیاباں روشن نہیں ہوتے۔جب تک  کہ دل خود نہ جلے ۔
محبت محبوب  کودیکھنے کا نہیں ، اس کی گلی سے گزرنے کا نام ہے۔اسے پانے کا نہیں اسے سوچنے کا نام ہے۔مٹنے کا نہیں ہمیشہ رہنے کا نام ہے۔دیکھنے کا نہیں جاننے کا نام ہے۔خواہش کا نہیں احساس کا نام ہے۔تعلق کا نہیں بے پرواہی کا نام ہے۔پھول چننے کا نہیں  کانٹو ں سے بچنے کا نام ہے۔خاک پر رہنے کا نہیں خاک میں رہنے کا نام ہے۔

Thursday, July 3, 2014

تلاشِ ذات

2 comments


پوری کائنات اللہ کی محبت کا سمندر ہے ۔ جہان کسی کونے کھدرے میں ایک عاشق ذات کی سیپ کے خول میں  چھپا محبت کا موتی ، نظروں سے اوجھل قدر دانوں کے غوطہ زنی کے انتظار میں صدیاں ساحلوں کو تکتا رہتا ہے۔جو ساحل پر کھڑے پاؤں کے نیچے سے سرکتی ریت سے یہی سوچ کر خوفزدہ  رہتے ہیں کہ اگر اندر اُتر گئے تو واپس کیسے آئیں گے۔
تلاش ِ ذات کے سفر میں کھوج و جستجو کے خاک آلود راستوں پر مسافتوں کی دھول میں سفر کرنے والے صدیوں کے بعد بھی اپنےہی دائرے سے باہر نکل نہیں پاتے۔ اندھیرے میں پھونک پھونک کر راستوں پر قدم جمانے والے چاندنی راتوں میں قدم اپنے ہی عکس سے راہ پا لیتے ہیں۔
زندگی کو جینا اور زندگی کو جاننا ایک وقت میں ایک ہی سوچ سے ممکن نہیں ہوتا۔پڑھ کر پا لینے سے پا کر پڑھنے کا نشہ خمار میں مبتلا کر دیتا ہے۔شخصیت کے رنگ و روپ قوس و قزح کی طرح اچانک ہی بے رنگ آسمانوں میں خوبصورت رنگ بکھیر دیتے ہیں۔دیکھنے والے سبحان اللہ کہہ کر نظروں سے من میں سمو لیتے ہیں۔شوقِ انتہا کو پہنچنے والے من سے نکال کر پھر نظروں کے سامنے پھیلا دیتے ہیں۔
فاصلے زمین کی قید میں رہتے ہیں۔ آسمان رنگ نہیں بدلتا۔  ہزاروں میل اور صدیوں کی مسافتیں بھی ایک ہی چاہ رکھنے والوں کو اتنا قریب کر دیتی ہیں کہ اپنے دل کی دھڑکن کہیں دور سنائی دیتی ہے۔
انسان فیصلوں کے انتظار میں رہتا ہے مگر نشانیاں تو عقل والوں کے لئے ہیں۔کچھ کھونے کا ڈر پانے کی لذت سے اتنا بڑھ جاتا ہے کہ چاہتے ہوئے بھی  نہ چاہنے کی ضد پر قائم رہتا ہے۔
جو کتابوں سے آگہی کا ادراک پانے کی خواہش رکھتے ہیں ۔ وہ سیاق و سباق کی نظرِ اختلاف کا شکار رہتے ہیں۔عمل کا اختیار  تو علم کی طاقت پر  ہمیشہ حاوی رہتا ہے۔
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے

Saturday, June 21, 2014

محبت کی متوالی مکھیاں

6 comments
تکمیل ذات و خیال کا ایسا بھنور ہے جس سے نکلنے کے لئے جسم و جاں تنکے کے سہارے کی اُمید بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ پانا اور دینا حرف غلط کی مثل رہ جاتے ہیں۔ دراصل جینا اور مٹنا جسم و جاں کے باہمی تعلق کو سانس کی زندگی تک زندہ رکھتے ہیں۔ مٹے بنا جینا کھل کر سامنے نہیں آتا۔ ذات ایک ایسا بلیک ہول ہے جو قریب آنے والی تحسین و پزیرائی کو جزب کرتا ہے۔خیال مخالف کو آلارم بجا بجا دور بھگاتا ہے۔مکمل حیات جاودانی کے منظر احساس کو چھو جاتے ہیں۔جسے مکمل جانا نہ جا سکے اسے مکمل پایا نہیں جا سکتا۔
بچپن لڑکپن جوانی کے حالات کہانیوں کے کرداروں سے مطابقت پیدا کر لیتے ہیں۔ پھر وہی کردار زندگی میں رنگ بھرنے کے لئے تلاش کے سفر کا آغاز کرتے ہیں۔یہ سفر صرف خوشبو کا سفر ہی رہتا ہے۔جسے محسوس کیا جا سکے لیکن جب پانے کی خواہش میں قریب ہونا چاہیں تو کانٹے دامن سے اُلجھنے تک آ جاتے ہیں۔حسن و خوبصورتی پائیں یا دامن بچائیں۔پھر کانٹوں سے بچنا ہی تلاش سفر کا انجام رہ جاتا ہے۔زندگی اپنے ارد گرد حفاظتی حصار بنائے رکھتی ہے۔جو نہ ہی فاصلے کم ہونے دیتی ہے۔ نہ ہی دور بھٹکنے دیتی ہے۔ لیکن جو کشش سے آزادی چاہتے ہیں وہ بندش خلا میں کھو جاتے ہیں۔ پھر وہ روشن رہیں یا تاریک نظر میں نہیں رہتے۔
انسان تاروں کی طرح چمکنا اور روشن رہنا چاہتا ہے۔ تاکہ دیکھنے والے نظر اُٹھا کر ہی دیکھ پائیں۔جن کا حاصل ، لا حاصل ہےکیونکہ جو کوشش سے بھی نہ پائے جا سکیں ۔ ان کے لئے دعائیں بھی کارآمد نہیں ہوتی۔
ہیرے سونے کو پانے سے آرزؤں کی تشنگی کم ہوتی ہےمگر ان کی تلاش میں تہہ زمین پتھروں کوئلوں تک پہنچنے کی جستجو نہیں کی جاتی۔زندگی بھر کی کوشش میں بھی شائد گلے کا ہار بھی ہاتھ نہ لگ سکے۔صرف وہی پانے کی کوشش کی جاتی ہے جس کا حاصل آسان ہو۔ مشکل ہدف اکثر نشانے سے چوک جاتے ہیں ۔
زندگی کو جاننے کے لئے کہانیوں داستانوں کتابوں سے رہنمائی لی جاتی ہے۔مگر نشانیاں عقل والوں کے لئے ہیں۔کائنات میں پھیلی ہر شے اپنی اپنی جگہ ایک الگ داستان کی غماز ہے۔صرف دیکھنے والی نظر چاہیئے۔کون کس سے کیا پا رہا ہے۔انسان خیر و شر کے امتزاج سے ہی اشرف المخلوقات کے درجہ تک پہنچا ۔چاہے وہ خیر میں بندگی کرے یا شر میں زندگی بسر کرے۔ 
انسان تکمیل کی منازل لینے اور دینے سے طے کرتا ہے۔یہ جاننا ضروری نہیں کہ کوئی کیا دینا چاہتا ہے ۔ یہ ضروری ہے کہ لیا کیا جا رہا ہے۔کیونکہ دو مخالف اجزا ایک ساتھ سامنے آتے ہیں جنہیں کبھی ہاں سے قبول کرتے ہیں تو کبھی نا ں سے دور کرتے ہیں۔ باتیں جب سمجھنے میں مشکل ہو جائیں تو فطرت میں چلے جانا چاہیئے کیونکہ فطرت سے  زیادہ خوبصورت جواب کہیں اور  سےشائد نہ مل پائے۔ 
گلستانوں میں کھلتے پھول  کیڑے مکوڑوں بھنوروں اور شہد کی مکھیوں کے لئے یکساں دعوت قربت کا اہتمام رکھتے ہیں۔چشمہ کے بہتے پانی پینے میں خوش ذائقہ اور میٹھے ہوتے ہیں مگر ان پر سفر نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح سمندر کے پانی سفر کی تھکان نہیں ہونے دیتے پر سکون رکھتے ہیں مگر پیاس بجھانے کی قدرت نہیں رکھتے۔جنہیں جو چاہیئے انہیں اسی کا قصد کرنا ہوتا ہے۔ 
جو مکھی پھول سے رس لیتی ہے وہ اسے چھتوں میں بھر دیتی ہے۔وہ شہد کی مکھی کہلائے یا ہنی بی اپنی افادیت کی وجہ سے پہچان میں رہتی ہے۔ انہی پھولوں سے پانی لینے والے حشرات ایک نظر نہیں بھاتے۔کیونکہ وہ صرف اپنی ذات کے لئے پھولوں میں سے پانی چوسنے آتے ہیں۔پانی پیا اور اپنی راہ لی۔اگر رس لینے والے نہ پہنچ پائیں تو پھول رس کے خشک ہونے پر اپنا وجود تحیل کر دیتے ہیں۔ 
دیکھنا تو یہ ہے کہ پانی لینے والے اور رس حاصل کرنے والے ایک ہی طریقہ کار پر عمل پیرا ہیں۔لیکن ان کی شناخت الگ الگ ہے جسے صرف نظر کی پہچان سے شناخت کیا جا سکتا ہے۔ ایک اپنی تشنگی مٹانے کے لئے پھول کا پانی پانے آتے ہیں۔ اگر ان کی تعداد بڑھتی جائے تو بہت جلد پھول کا رس خشک ہونے لگتا ہے ۔شہد کی مکھی کے پہنچنے سے پہلے وہ پھول رس کو اپنے وجود میں سمیٹ کر دفن ہو جاتا ہے۔
ہماری زندگی پھول کی مانند ہے اللہ کی محبت رس کی صورت میں اور دنیا کی آرزؤئیں پانی کی صورت میں لینے والوں کو دی جاتی ہیں۔اللہ کی محبت رکھنے والے اللہ کی محبت پانے کے لئے پھولوں سے محبت کا وہ رس لے کر چھتوں میں بھر بھر غلاف عشق بنا دیتے ہیں۔ جہاں عشق کے متوالے سینکڑوں ہزاروں کی تعداد میں اکٹھے رہ کر محبت کے رس نچوڑ لیتے ہیں جس میں شفا بھی ہے اور حکمت بھی۔دوسری طرف ایک ایک رہنے والے لاکھوں کروڑوں دنیاوی محبت کے حصول کے لئے پانی پی پی کر پھول کی ذات فنا کر دیتے ہیں۔
جن پھولوں کی قسمت میں غلاف عشق میں محبت کے رس بھرنا لکھا ہو۔محبت کی متوالی مکھیاں ان پھولوں تک رسائی پا لیتی ہیں۔   
     
تحریر:  محمودالحق

Thursday, June 12, 2014

خوشی راس نہیں آتی

1 comments

تکلیف دہ کانٹوں بھرے راستوں سے ننگے پاؤں چلتے چلتے منزل کے قریب پہنچ کر سستانے کی خواہش درد کی شدت میں اضافہ کا سبب بن جاتی ہے۔ پھر قدم چلنے کی بجائے گھسٹنے پر آ جاتے ہیں۔ قریب ہو کر بھی منزل کوسوں دور نظر آتی ہے۔سانس سانسوں میں الجھتی چلی جاتی ہے۔ اجنبی پن میں جتنی تیزی سے اندر اُترتی ہے اُتنی تیزی سے باہر نکلتی ہے۔ 
زندگی راستہ پر ڈال دیتی ہے ۔ عقل سے مقام منزل تک مسافت کی راہداریاں بنائی جاتی ہیں۔ دیکھنے میں جو سیدھی اور قریب ترین پگڈنڈیوں کو نظر سے استوار کرتی ہیں۔ فاصلے ماپ لئے جاتے ہیں۔ قدم گن لئے جاتے ہیں۔وقت طے کر لیا جاتا ہے۔ خوشیوں سے جھولی بھر لی جاتی ہے۔ مگر تصور خیال حقیقت کا روپ دھارنے میں پس و پیش اور لیت و لعل سے کام لیتا ہے۔ منزل پانے کی خوشی جتنی زیادہ بانہیں کھولتی ہے۔ منظر اوجھل ہونے کا خوف اتنا زیادہ اسے جکڑ لیتا ہے۔ 
حرف آخر سمجھ کر فیصلے صادر کر دئیے جاتے ہیں۔ عقل حالات سے سمجھوتہ کر لیتی ہے۔خیال حقیقت میں ڈھلنے پر دھمال ڈالتا ہے۔ سکون کی داسیاں  عقل کی مورتیوں پر چڑھاوے چڑھاتی ہیں۔ اس یقین کے ساتھ کہ دودھ کی نہریں بہنے کے لئے فرہاد کی ایک ضرب کی منتظر ہیں۔
غم ہجر محبوب میں کیفیت دل سے ہو کر گزرے تو چشم تر سے گزرے۔ یقین سے کہنا ہو گا کہ جسے دیکھنے ہوں جلوے وہ شہر محبت کے در سے گزرے۔ 
پردے گرانے سے جو نظارے ہوں وہ چلمن اُٹھانے سے نہیں ۔ پوجا کرے گا تو پجاری بنے گا۔عشق میں عقیدت مند رہے گا۔ محبت درگزر و معافی کی اونچی سر تان سے نغمہ سرا ہو گا۔ دور رہنے والا عشق پاس رہنے والی محبت سے  رتبہ میں عظیم ہے۔ آگ کے آلاؤ کتنے ہی روشن کیوں نہ ہو۔ قریب آنے پر جلانے میں دیر نہیں لگاتے۔ روشنیوں کے دہکتے آلاؤ فاصلوں کی دوری سے  جلانے کی فطرت پر نہیں ہوتے۔ 

Monday, April 16, 2012

محبت

2 comments
زندگی انسان کو ہمیشہ سے ہی پیاری رہی ہے۔موت کے سائے گر پھیل جائیں تو ویرانی ڈیرے ڈال لیتی ہیں۔ہونٹوں پہ مسکراہٹ ،آنکھوں میں تیرتے قطرہ نم سے خشک زمین پر بارش کی پہلی پھوار کی طرح بھینی بھینی خوشبو کے اُٹھنے تک محدود ہوتی ہے۔
جان جتنی پیاری ہوتی ہے غم جان اس سے بڑھ جاتی ہے۔دعاؤں کے لئے ہاتھ پھیلائے جاتے ہیں تو بد دعاؤں کے لئے جھولیاں۔توبہ کا دروازہ گناہوں کی آمدورفت کے لئے کھلا رکھا جاتا ہے۔گھر کے مکین مالک ہوتے ہے ،گلیاںمسافروں کی راہگزر بنی رہتی ہیں۔ مکین شک و شبہ میں  رہتے ہیں۔مسافر پلکوں پہ بٹھائے جاتے ہیں۔مکینوں سے محبت کا دعوی ،مسافروں سے پینگیں بڑھائی جاتی ہیں۔
جو قسمت میں آنی جانی ہو اسے انتظار کے مہمان خانے میں ٹھہرایا نہیں جاتا۔ایک در کا سوالی ضرورت مند ہوتا ہے۔در در کا سوالی در بدر رہتا ہے۔چلمن کے پیچھے سے دست سوال کا جواب دیا جاتا ہے۔ آنگن سے جھانکا نہیں جاتا۔
کھلے عام جو محبت کا دم بھرتے ہیں۔کہانی وہ ہی زبان زد عام رہتی ہے۔مرنے جینے کے وعدوں سے ہاتھوں پہ رنگ حنا پھیلاتے ہیں۔اللہ رسولۖ  کے ناموں کے سائبان تلے خواہشوں کے پھولوں سے سجی ردا بچھاتے ہیں۔ایک کے بعد ایک عاشق نامراد بھنوروں کی طرح گلستانوں میں منڈلاتے ہیں۔جہاں بنے سنورے پھول کانٹوں کے حفاظتی حصار سے آنکھ بچا کر مہمانداری کے انتظام و انصرام میں دل و جان سے ارمان ہتھیلی پر رکھے پھرتے ہیں۔ مجازی محبت کا نشہ شراب کی طرح سر چڑھ کر چکرا دیتا ہے۔ کھولتے ہوئے پانی کی مانند صرف بھاپ بن بن اُڑتا ہے، جو آخری قطرہ تک بھی پانی ہی رہتا ہے۔
جو محبت اختیار کی جائے وہ اس محبت سے بازی نہیں جیت سکتی جو تلاش کی جائے۔ جو محبت حق جتانے سے جیت سے ہمکنار ہو وہ دیرپا نہیں ہوتی اور جو حق پانے سے مالک کی ملکیت میں سونپ دے، موت کی پناہ میں وہ زندگی زندہ رہتی ہے۔
جو محبت بھوک مٹا دے وہ بدن سے توانائی تو ذہن سے سچائی مٹا دیتی ہے۔آنکھیں چمک تو زبان الفاظ کی کمی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ قلب دھڑک دھڑک مہمانوں کی آمد کا نقارہ ذہن  پر ہتھوڑے کی طرح برس کر بجاتا ہے۔
جو آنی جانی شے کی محبت میں بلا خوف و خطر قلم تحریر سے قلب حال بیان کرتے ہیں۔ انہیں حقیقی حق محبت کے جلوؤں کی تاب کہاں رہے گی۔چوری کھانے والے طوطے باغوں میں چوری کھانے والوں سے باعزت نہیں کہلا سکتے کیونکہ یہ طوطا کہانی نہیں کہ یہ فیصلہ صادر کر دیا جائے کہ کون کیا ہے۔
سچی محبت ایک نظر میں فریفتہ کر دیتی ہے۔آدم کو فرشتوں کے سجدے سے معتبر کر دیتے ہیں۔حکم عدولی فرشتے سے شیطان کے مقام پر لا کھڑا کر دیتی ہے۔فضیلت محبت میں جھکنے سے ہے۔ بھلا آدم کو سجدے سے کیا۔ سجدہ کا حکم ماننے کے مقام اور نہ ماننے کے انجام سے خبردار کرنا بھی مقصود تھا۔ جسے بنی نوع آدم نے صرف فضیلت کے درجہ سے مقام محبت کو مقام اعلی ٹھہرا دیا۔
پھل ہوں یا پھول ، ذائقہ ہو یا خوشبو ، رنگ ہوں یا خوبصورتی انتخاب ہمیشہ خوب سے خوب تر ہی کیا جاتا ہے۔ گھر کی سجاوٹ ہو یا کپڑوں کی بناوٹ ہر کمی اور ہر خامی پر نظر رکھی جاتی ہے۔پھر دور کرنے میں بہتر سے بہتر صلاحیت بروئے کار لائی جاتی ہے۔زندگی اچھے برے ، نئے پرانے کی تقسیم در تقسیم سے بہترین کے انتخاب نظر پر رکتی ہے۔پسند قربانی کے جذبہ سے سرشار ہوتی ہے۔نا پسندیدگی معیار میں پستی سے اوپر نہیں اُٹھتی۔
محبت کے جذبات سچائی کے علمبردار ہوتے ہیں۔سچائی حقیقت سے ہے، حقیقت حق سے ہے،حق محبوب سے ہے،محبوب محبت سے ہے،محبت سچائی سے ہے،سچائی سچ سے ہے ، سچ کلام سے ہے،کلام امین سے ہے،امین صادق سے ہے،صادق طلوع سے ہے،طلوع آفتاب سے ہے،آفتاب روشنی سے ہے،روشنی کرن سے ہے، کر ن نور سے ہے،نور جلوہ سے ہے، جلوہ طور سے ہے،طور ظہور سے ہے،ظہور قرآن سے ہے، قرآن محمدۖ سے ہے اور محمدۖ  اللہ سے ہے۔ 

تحریر : محمودالحق

Saturday, July 30, 2011

لکھنا مجبوری میری، پڑھنا کیوں تیری

0 comments
لکھنا چاہتا ہوں مگر لکھ نہیں‌پا رہا ۔ سمجھنا چاہتا ہوں سمجھ نہیں پا رہا ۔ نیٹ کے دھاگے کمزور ہوتے جارہے ہیں ۔ یا میری نظر کی کمزوری یہاں بھی حائل ہو چکی ہے ۔ چند روز تک نئے چشمے سے الفاظ صاف دیکھائی دینے لگیں گے ۔ مگر قلب کی صفائی دیکھنے میں ابھی مذید انتظار کرنا ہو گا ۔ سالہا سال کے انتظار کے بعد نہ تو محلے کی گلیاں صاف ہوئیں ۔ ندیاں بھل صفائی کی محتاج ہیں تو نالے کوڑا کرکٹ کی صفائی کے ۔
سیاستدان نرما کی وجہ سے اجلے دیکھائی دیتے ہیں ۔ مگر کردار ابھی صاف نہیں ۔ سیاست کے شیر ہیں یا ترکش میں بھرے تیر ۔ بچے کھچے عوام قطعا بھوکے بٹیر نہیں جو لڑ بھڑ کر بھڑاس نکالیں ۔ البتہ ترم کے پتے استعمال کرنے کی پابندی ہر گز نہیں ہے ۔ اب اسے مڈ ۔ ٹرم پڑھنے والے ایک نئی بحث کا آغاز خود سے کر دیں ۔ تو ہنوز دلی دور است نہ سمجھا جائے ۔ کیونکہ جج جہاں پایا جائے ۔ عدالتی کاروائی کا وہیں اختیار رکھتی ہے ۔ کم از کم ہمیں فیصلے کا اختیار نہیں ۔ کسی بھی دھاگے پر موم چپکا کر آگ جلانے کا اختیار ماچس ہاتھ میں لینے سے شروع ہو گا ۔ ہماری تو آواز بھی اچھی نہیں کہ اپنا راگ ہی آلاپ سکیں ۔ آگ تاپنے کا مزہ موسم سرما میں اچھا ہے ۔ ایسے شدید گرم موسم میں گرمی سردی صحت کے لئے سود مند نہیں ۔ سردا اگر بازار سے میسر نہ ہو تو گرما ابھی چند مزید ماہ دستیابی کا ترانہ گنگاتا رہے گا ۔
ماہ رمضان کی آمد آمد ہے پھل گھر گھر جانے کے لئے بیتاب ہیں ۔ تاکہ روزہ داروں کی افطاری میں غریب سے غریب تر کو بھی بھوک کے نڈھال پن سے نجات دلانے میں اپنا حصہ ڈال سکیں ۔ حصہ تو بقدر جثہ ہر صاحب حیثیت کو بھی بیواؤں یتیموں ، مسکینوں ، بیماروں اور لاچاروں کی مدد کرنے میں ڈالنا چاہیئے ۔ تاکہ وہ بھی شدید گرمی میں غربت کا پسینہ بہہ جانے سے نقاہت کا شکار ہونے سے اپنے آپ کو بچا سکیں ۔ اور ان کے بچے امیر کی عیال سے نفرت پال کر جوانی کی دہلیز تک انتقام کے گھوڑے پر سوار سفر طے نہ کریں ۔ بلکہ ہم سفر ہونے کے اعزاز سے نوازے جائیں ۔ ستارہ امتیاز سے نوازے جانے کی آرزو کہیں کہیں مچلتی دکھائی بھی دے تو گھر میں فوٹو فریم میں لٹکانے سے لٹکے منہ اُٹھائے نہیں جا سکتے ۔ سر اُٹھانے میں ایڑی چوٹی کا زور لگانے میں کوتاہی کی سرکوبی خیال کرنی ضروری ہے ۔
تیس دن جسم کی ضرورتوں کو کھجور اور دودھ سے توانا ئی سے بھرپور غزائیت پہنچانے کے ساتھ ساتھ روحانیت بکثرت عمل صالح سے ندامت ناصح پر ہو تو قلب تر و تازہ پھلوں سے بنایا خون سر پھرے شریانوں میں برابر پہنچ کر مقرب تکبر خاص کو اکڑاؤ کی بجائے نرم خوئی پر رواں دواں کر دے ۔ نا کہ جیو اور جینے دو کے جھنڈے تلے سانس لینے میں بھی محتاجی کا علم تھما دے ۔
کج فہمی میں کی گئی بات رات ڈھلنے کے انتظار میں اتفاق کی بجائے نفاق کے سبب اسباب پیدا کرنے کی صلاحیت سحر ہو جاتی ہے ۔ جو بات بے بات اپنا عمل دوا کی بجائے طبیب کی تشخیص کا اعلان ایجاد بن جاتا ہے ۔ علماء کے اجتہاد سے اسے الگ پڑھا جائے ۔ فتاوی ملنے سے کچھ خوش رہتے ہیں تو کچھ صرف پڑھنے سے ۔ اکثریت نہ پڑھنے میں ہی خوش ہے کیونکہ وہ ان پڑھ ہیں ۔ ملک کی تقریبا ستر فیصد شائد اسی کیٹیگری میں آتے ہیں ۔ بوڑھے طوطے تو اب پڑھنے سے رہے ۔ لیکن فال نکالنے کے لئے ان کے تجربات سے فائدہ نہ اُٹھانا کوئی دانشمندی نہیں ۔
اگر زندگی نے وفا کی تو ہر وفاء بے اختیار کو آقا سراپا کی غلامی میں تیغ زن تیار ہوتا پھر سے پائیں گے ۔
لیکن اگر آج سے بے نیام شمشیریں عقائد کے سر قلمی اعتراضات سے اختلافات کی بجائے پیار اور امن کی عبادات سے بھائی چارے کی ترغیبات کو فروغ دینا شروع کریں تو ایک ماہ ہی شائد سال بھر کی شرکتی بزلہ سنجی کا اثر زائل کرنے کا سبب ہو ۔
آؤ ایک سجدہ کریں عالم مدہوشی میں
لوگ کہتے ہیں کہ ساغر کو خدا یاد نہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محمودالحق

Tuesday, December 21, 2010

ایک بے وفا کے نام

6 comments
تجھے اپنا بنانے کی قسم تو نہیں کھائی تھی ۔ مگر تجھے چھوڑنے کے ارادے کا گناہگار بھی نہیں ۔ تیری یادیں نسیم صبح کے جھونکے تھے ۔ ہواؤں پہ رقص کرتی تیرے قہقہوں کی کھنک کانوں میں سرگوشی میں مستی کرتی ۔میں بھولا کہ زمین سے دور اُٹھتے تمازت آفتاب میں کیسے سہم جائے گی نسیم سحر ۔
جنہیں یاد تھا اپنا درد، قصہ سنا کر اپنی راہ پر چل دئے ۔ دھول میں اُڑتے جیسے بادل۔یادیں آنکھوں سے بہہ بہہ کر گر پڑے ۔کفن پہنی رہ گئی حسرتیں ۔ آرزوؤں نے غسل دیا ۔خواہشوں نے پھولوں کی چادر چڑھائی ۔
جنازہ صرف پڑھایا گیا ۔ دفنایا خود سے گیا ۔
لوٹ پھر سے گئی حسرتیں ، آرزؤئیں ،خواہشیں ۔
پھر کندھوں پہ سجائے کسی اور کو دفنانے ۔
صدیوں سے لحد میں اتار اتار کر پھر لوٹ جاتیں کسی بے وفا کی طرح ۔نئے محبوب کی تلاش میں جو ہاتھ بڑھائے خود مرنے کی آرزو میں مچل مچل جاتے ۔
ایک کے بعد ایک اپنا کھو تے چلے گئے مگر بے وفائی سے دامن اپنا نہ بچا سکے ۔ بچایا بھی تو صرف دو گز زمین ۔ اپنے ہاتھوں سے جس کی آرائش نہیں ۔ فرمائش کی تو گنجائش نہیں ۔ کھلے آسمان سے جو ڈرتے بند زمین میں رکھتے پناہگاہیں ۔
فیصلہ ہوتا جو ایمانی ۔ رکھتا نہیں وہ پریشانی ۔
شمع بزم میں ہے جلتی ۔ بزم شمع سے نہیں چلتی ۔
حجاب میں رہتا محبوب ۔ بے پردہ ہوتی محبت ۔
حال دل تو ہے پاک ۔آنکھ میں نفس مقید حیات ۔
چھونا جان سے چھوٹ جانے میں ۔ لفظ محبت پانے میں ۔مایوسی چھوٹ جانے میں ۔
لفظوں کی دستک دھڑکنوں تک جا پہنچیں ۔ قربتوں میں جو دوریاں کم پڑیں ۔ فاصلے سمٹتے سایہ بن کر وجود میں سما گئے ۔
کس سے کہوں حال دل ، جزبات میں جو بہہ نکلے ۔وہ خواہشیں ، وہ آرزؤئیں ، وہ چاہتیں ، وصل کی بندشیں ، ٹوٹ جانے کی صدائیں ،
تیریاں مجبوریاں، تیرے رشتے ،تیری بندشیں ،تیرا سر خم تسلیم شہنائیوں کے بجنے پر جھکتا گیا ۔
میرے ٹوٹے دل کے تار بجتےبجتے ٹوٹتے رہے ۔
تیری سچائیاں ، تیری قسمیں ، تیرے وعدے تیری طرح بے وفا نکلے ۔
میرا بھولپن، میرا بچپن، میری سادگی، میری سچائیاں ، میری پہلی محبت کی داستانیں ،میری وفا نکلے ۔
ٹوٹا ایک رشتہ، تو نے دلاسے سے جوڑنا چاہا ، ٹوٹا جس کا میں وجود تھا ۔تو نے محبت سے جوڑنا چاہا ۔
ٹوٹا جس کا میں فخر تھا ۔تو نے وفاؤں کے گھیرے میں سلا دیا ۔
یہ کیسی عجب شام ہے ۔نیلگوں آسمان بھی آج کالی چادر اوڑھنے کے لئے بیتاب نہیں ۔
ستارے اوٹ سے چھپ چھپ کر چمکتے بجھتے مجھ پر ہنستے یا منہ چھپاتے ،سامنے نہیں آتے ۔
دلوں پہ دستک دینے والوں کندھوں پر جانے کا وقت تم پر بھی آئے گا ۔آرزؤئیں ، خواہشیں تمہیں بھی بے وفائی کے کفن میں دفنائیں گی ۔
کھلونوں سے کھیلتی ، محبتوں میں پلی ، رشتوں میں جڑی جوانی خود پرائی آگ میں جو کود پڑی ۔
محبت جلتی پر تیل کا کام کر گئی ۔پہلے تپش سے گرمائی، اب آگ سے جل گئی ۔
جو تریاق تھے وہ زہر بن ڈستے رہے ۔جو کنارے تھے وہ بے رحم لہریں بن ڈبوتی رہیں ۔
جن کے آنے سے زندگی کی امید ہوئی وہ لوٹے تو موت کا سکوت چھوڑ گئے ۔ بے وفائی کے ظالم ہاتھ نے سچائی کا گلا گھونٹ دیا ۔ سانس لینے سے جو دل کی دھڑکن تھے ۔ سانس لینے کے دشمن ہو گئے ۔
پلٹ کر مت دیکھ میں تاریک جنگل کا مسافر نہیں ۔راستے میرے ہمسفر ہیں ۔ درخت میرے ہمراز ہیں ۔کلیاں میرے مسکرانے کے انتظار میں ، ہوائیں آہ کی چاہتوں کی بے قراری میں ۔
یہ ایک کہانی ہے جو میری زبانی ہے ۔
آنکھوں میں جن کے پیاس ہے ۔ قلب ایسے پر رکھتا قلب آس ہے ۔

نوٹ !
آن لائن کسی کی محبت کے انجام کو پڑھ کر اپنے الفاظ میں بیان کرنے کی ایک ادنی سی کوشش ہے ۔ امید ہے آپ کو پسند آئے گی ۔

Thursday, July 29, 2010

مست مستی مستان

4 comments
راز پانے سے تو زندگی ضیا ہو گئی
آنکھیں رہیں کھلی تو موت فناہوگئی
سوچتاہوں کہ آج وہ لکھ ہی دوں جو کبھی کہہ نہیں پایا ۔میں اندھیروں سے محبت کرتا رہا اور روشنیاں مجھےجلاتی رہیں ۔صبر سے تھی جن کی گزر بسر محال۔میرے ہاتھوں ہی کو چوم کر زہر لگا دیا ۔ نوالہ میرے ہاتھ سے چھوٹ گیا۔
کراہنا مجھے درد سے تھا ۔ مسکرانا مجھے ان کو آہ ہو گیا ۔دل سے جو پڑھ لے زندگی کی کتاب کو۔ٹپکتا آنسو ایک بھی موتیوں کا خزانہ ہو گیا ۔جگر گر نہ تھاما ہوتا قلب آب پہ بھی دھڑکتا ہوتا۔ کسی ایک انسان کی یہ نہیں کہانی ۔ ہابیل قابیل سے ہے چلی یہ نفرت زمانی ۔پرندے سے ہے تعبیر داستان اُڑانِ پری ۔خواہشوں کے پنکھ پہ ہے یہ معلق ہواؤں میں ۔ داستان مجاہد میں ہے ٹوٹتی تلواریں روز۔ نظر کے سامنے ہوتا کنارہ۔ ڈوبتی کشتی سے پاؤں پھر بھی اترتا نہیں ۔جھاڑیوں سے پانی کے ریلے گزرنے سے رکتے نہیں ۔سخت زمین سے ہے جو سینچتے ۔ پانی کے کٹاؤ سے وہی ہیں بچتے ۔
اگر مشکل ہو تو اگے لطیفہ میں ہی کچھ بیان کروں ۔
خواب میں جو دیکھیں خوبرو حسینہ شانوں پہ اپنے زلفیں پھیلائےگنگنائے ۔ پیار کی باتیں ہوں عشق کی پینگیں بڑھائے ۔صبح اُٹھنا ہو محال۔ بیگم ہو وہی مگر ہاتھ میں نہ آج اس کے وہ مزا آئے ۔بات بات پہ جو بگڑے ۔
بار بار آئینہ سے وہ پوچھے ۔ پھر زیر لب مسکرائی ۔ سمجھ تو گئی وہ کہ اصل ماجرا ہے کیا ۔ سالوں کی خدمت کا صلہ ایک رات کی مستی میں چکا دیا ۔
خوبرو حسینہ ایک رات آئی اس کے خواب میں بھی ۔نہ زلف دراز، نہ چہرہ کھلتا گلاب ۔بولی تیرا آئینہ دیکھاتا تجھے تیرا عکس ۔ شوہر ہو تجھے کسی دیوتا کی پرستش ۔ یہ دیوتا تو رکھتا ہے ہر پجارن پہ نظر ۔مالا پہنانے سے تو ہے اسے یہ فتور چڑھا ۔چاہتا ہے یہ ہر دم پوجا کرتی داسی تو ناچتی ہوئی پجارن ۔
آنکھ کھلی تو بیگم نے پالیا وہ راز۔ آئے روز رکھتا ہے یہ کیوں چہرے پہ ملال ۔ ایک سال سے جو رکھا سنبھال۔ دن ایک میں کر دیا اس نے رخسار لال۔
پھر نہ آئی خواب میں اس کے وہی خوبرو دوشیزہ ۔جب جب بڑھتی گئی لالی تب تب جیب ہوتی گئی خالی ۔ بیگم کا تو ہے اب خوش حال ۔لیکن خواب میں ہی ہوتا ہے شوہر اب خوش بہت ۔ جب کہتے ہیں اسے اپنے ہاتھ سے ہی کمیٹی اپنی کی تو پرچی نکال ۔

Thursday, June 24, 2010

قدر ِ تخلیق میں محبتِ خالق

6 comments
بچپن میں محلے کے لڑکے مل کر کینچے کھیلتے ،کٹی پتنگوں کےپیچھے بھاگتے، تو کبھی کبوتر اُڑاتے ۔ تو  بزرگ ایسے کھیلوں سے منع کرتے اور نصیحت بھی ۔ اپنا وقت فضول کاموں میں ضائع کرنے کی بجائے پڑھائی کی طرف توجہ دینے پر زور دیتے ۔ اور جو زبان سے کچھ نہ کہتے مگر ان کا رویہ اپنائیت کا احساس دلاتا ۔ دادا نانا کہلاتے بزرگ پاس سے گزرتے ہوئے آداب یا اسلام و علیکم کہتے ۔ جواب میں وعلیکم اسلام تو کہہ دیتے مگر شرمندگی سے ۔ان کا سمجھانا یا ڈانٹنا کبھی برا نہیں لگتا تھا ۔ مگر ان کے سامنے آنے سے کتراتے ضرور تھے ۔تاکہ کسی نصیحت کا سامنا نہ کرنا پڑ جائے ۔جس پر عمل کرنے کی ان میں تاب نہ تھی ۔ باتیں ان کی غلط نہیں تھیں ۔سمجھانا بھلائی کے لئے ہوتا ۔ پھر بھی ان سے دور رہتے اور عمل بھی نہ کرتے ۔مگر ان کی عزت و احترام میں کبھی فرق نہیں آتا ۔ احترام ہمیشہ دل میں رہتا ۔ نہ سمجھنا کسی خاص وجہ سے نہیں تھا ۔ بلکہ تفریح کی لطف اندوزی کچھ سوچنے کا موقع ہی نہیں دیتی تھی ۔کھیل کود اور ایسی تفریح کے علاوہ ان کے پاس کوئی اور آپشن نہیں تھا ۔

جنہوں نے نصیحتوں پر عمل نہیں کیا ۔ استاد زمانہ نے حالات کی رسی میں اچھی طرح کس کر وہ باتیں سمجھائیں ۔ زندگی کو وہ جو معنی پہناتے رہے ہیں ۔دراصل وہ ایسی نہیں ہے ۔
آج نئی نسل کے ہمارے بچے کینچے کھیلنے اور کبوتر پالنے کے شوق تو نہیں رکھتے ۔ مگر آج ہماری نصیحتیں اپنے بزرگوں جیسی ہی ہیں ۔مگر سمجھنے کا انداز بدل چکا ہے ۔ٹی وی گیمز کھیلنا اور ٹی وی دیکھنے کو ان فرسودہ تفریح سے بہتر جانا جاتا ہے ۔ماضی کے تجربے سے ہم کبھی خود سے ہی پریشان ہو جاتے ہیں ۔کہ کہیں دوسروں کو ہماری باتیں ناگوار نہ گزرتی ہوں ۔ کچھ ایسا ہی حال ہماری تحریروں اور آزاد شاعری کا بھی ہے ۔ شائد یہی وجہ ہے کہ اکثر ان کے پاس سے ایسے گزر جاتے ہیں جیسے بچپن میں ہم بزرگوں کو سامنے سے آتا دیکھ کر راستہ بدل لیتے یا چھپ جاتے ۔ تاکہ ہماری تفریح طبع کا تسلسل نہ ٹوٹ پائے ۔ مجھے اس بات کی کوئی پریشانی نہیں کیونکہ میں نہ تو شاعر ہوں اور نہ ہی ادیب ۔ بچپن سے ہی کتابوں کے علاوہ کھیل کود میں خاص دلچسپی رہی ۔لیکن اب لکھنا ایسی مجبوری میں ڈھل چکا ہے کہ خیالات میں جو ہنگامہ برپا ہوتا ہے لکھنے سے ختم ہوتا ہے ۔
حالات نے جو ہمیں سمجھایا بچپن سے جوانی تک ایسا کبھی کسی نے نہیں بتایا ۔کئی بار یہ خیال دل میں طوفان بن کر کھڑا ہو جاتا ہے کہ لکھنا کیا ضروری ہے ۔پڑھنے والے کہیں مجھے مولانا فصیحت ہی نہ سمجھنا شروع کر دیں ۔ مولوی بننے کے چانسسز بہت کم ہیں ۔بچپن میں قرآن پاک مسجد میں قاری صاحب سے پڑھا ۔ تب عربی متن پڑھایا اور یاد کرایا گیا ۔ ترجمہ گھر میں خود سے پڑھا ۔
ضروری نہیں کہ لکھنے کا سلسلہ بھی ہمیشہ چلتا رہے ۔زندگی میں ترجیحات بدلتی رہتی ہیں ۔ اور جو کام بچپن کے کسی شوق کا نتیجہ نہ ہو کسی وقت بھی اپنے اختتام کو پہنچ سکتا ہے ۔مختلف مصنفین کی تصانیف پڑھنے کے اثرات لکھنے پر ضرور اثر انداز ہوتے ہوں گے ۔ مجھے بادی النظر میں تو کوئی ناول نگار ہونا چاہئے کیونکہ نسیم حجازی کا کوئی ناول شائد ہی کبھی چھوڑا ہو ۔
شائدانسان تخلیق سے متاثر ہو کر اس کے زیر اثر لکھنے پر مجبور ہوتا ہے ۔ کائنات کی تخلیق نے مجھے اپنے سحر میں گرفتار کر لیا ۔سمجھنے کی کوشش میں خالق ابھر کر عقل تصور میں سرایت کر گیا ۔ ہر تحریر کا مرکز خالق کائنات کی تخلیق سے متاثر صورت دکھائی دیتی ہے ۔ تحریر یں اتنا گہرا اثر نہیں چھوڑتی جتنا تخلیق گہرے نقوش چھوڑ جاتی ہے ۔کائنات ِ پھیلاؤ میں انسانی سوچ دھنس جاتی ہے ۔جہاں خالق کی تخلیق مخلوق کی ایجاد پر بہت بھاری ہو جاتی ہے ۔جیسے چاند پر ڈسکوری کا پہنچنا کمال نہیں ہے ۔ کمال تو یہ ہے کی ایک ننھا کمزور پودا سنگلاخ چٹانوں کو چیر کر اپنا راستہ بناتا ہے ۔نظام حیات میں نظام کائنات جیسا تسلسل نہیں ۔ہنگامہ خیزی اور تجسس سے بھرا ایک عارضی پن پایا جاتا ہے ۔ اگر تخلیق کی قدر ہو گی تو خالق سے محبت ہو ہی جاتی ہے ۔


سب سے جدا رنگ نو اللہ ہو اللہ ہو
مراتب جہان میں خداۓ تو اللہ ہو اللہ ہو
مائل ہے پردہ خیال پَر تَو اللہ ہو اللہ ہو
پکار اٹھے خاک طور ہو اللہ ہو اللہ ہو


تیری رحمتوں کا یہ اظفر اللہ اکبر اللہ اکبر
تیری حکمت سےبھرےاحمر اللہ اکبر اللہ اکبر
نورہلال سےپھیلے پیکر ازہر اللہ اکبر اللہ اکبر
عرش پہ پیوست مجسم امبر اللہ اکبر اللہ اکبر

روشن عطار / محمودالحق

Wednesday, June 2, 2010

کھونے کا خوف یا پانے کی لذت

0 comments
تحریر : محمودالحق

جب تک خواہشیں جنون نہ بن جائیں زندگی ادھورے پن کا شکار رہتی ہے ۔ارادے تبھی قابل عمل ہوتے ہیں جب شکار کے لئے حالات ساز گار ہوتے ہیں ۔نظر کا نشانہ شکار پہ ہو اور عمل کا تیر عقل دانش کی کمان سے نکلے تو پگڈنڈیوں کی چھپن چھپائی سے منزل گھائل ہونے سے نہیں بچ پاتیں ۔محبتِ مقصد سوچ کے ترازو کی بجائے قلب کے وزنِ باٹ پہ ہو تو انتظار میں ایک عمر بھی شائد بیت جائے مگر حصول کی ضمانت ہمیشہ رہتی ہے ۔
دولت کی خواہش میں محبت کی قربانی دینے سے آسائشیں آسانی سے حاصل کی جا سکتی ہیں ۔ مگر پھر محبت کی صرف خواہش باقی رہ جاتی ہے ۔ جسے سہولت و آسائش سے بدلا جاتا ہے ۔لیکن وہ نعم البدل نہیں ہوتا ۔احساس ندامت پشیمان رکھتا ہے تا وقتکہ اس کا مداوا نہ کیا جائے ۔تخیل ارمان سے جو حاصل کیا جائے وہ مداوا کا محتاج ہوتا ہے مگر جو احساس کے جزبہ سے بےوفائی کا مرتکب ہو وہ لا علاج مرض کی طرح ناقابل علاج رہتا ہے ۔ایسی صورت میں مداوا کی حیثیت ثانوی رہ جاتی ہے ۔

احساس محبت کو پا کر خواہش آسائش سے عارضی طور پر محروم رہا جا سکتا ہے مگر زندگی کے کسی بھی موڑ پہ اگر ایک سے نہ سہی کسی دوسرے کے توسط سے جلد یا بدیر خواہشیں عملی جامہ پہن لیتی ہیں ۔محبت کے رشتے عقل وشعور کی بجائے احساس قلب سے بندھتے ہیں ۔جو کسی بھی بیرونی اثرات کے دباؤ سے لا تعلق ہوتے ہیں ۔اپنی ذات میں وہ مکمل ہوتے ہیں ۔کسی کے پیچھے رہنے سے اپنے راستوں کا تعین نہیں کرتے ۔بلکہ وہ خود منزل تک پہنچنے کے راستوں کو روشن رکھتے ہیں ۔
محبت تو صرف ایک جزبہ ہے جسے حاصل نہیں کیا جا سکتا ۔اور اس میں کمی نہیں ہوتی ۔لیکن مال ودولت ، زیبائش و آرائش حاصل ہونے کے بعد بھی تشنگی بڑھتی رہتی ہے ۔جو شے کبھی بھی کسی وقت کسی سے بھی حاصل کی جا سکے وہ سوچ پہ اتنی بھاری ہو جائے کہ قلب کے محسوسات کو زیر کر لے تو ایسی کامیابی نا مکمل رہتی ہے ۔
ایک وقت کے بعد قلب کی دھڑکنیں یاد کے ساز سے ترنم دیتی ہیں ۔جو احساس ندامت میں گھلنے کا عمل تیز کر دیتی ہیں ۔تنہائیاں اچھی لگتی ہے اور ہنگامہ خیز خوشیاں ہنگامہ بن جاتی ہیں ۔سکون کے لئے کمرے کا کونہ ہی تسکین کا مرکز رہ جاتا ہے ۔جہاں پل دو پل کے لئے ماضی کی یادیں قلب میں احساس کے لمس کو محسوس کرتی ہیں ۔چند پل ہی زندگی پہ بھاری ہو جاتے ہیں ۔زندگی کی ترجیحات تو بدلتی رہتی ہیں مگر قلب کی محبتیں جہاں رک جائیں آگے بڑھنے میں زور کی بجائے صبر و شکر کی محتاج ہو جاتی ہیں ۔جنہیں جب چاہا روک لیا جب چاہا چھوڑ دیا کی آساس پر مرضی و منشاء کے تابع نہیں کیا جا سکتا ۔
مال و دولت کی ہوس میں محبت کی قربانی دینے کا رواج زور پکڑ چکا ہے ۔قلب کے رشتے نفع و نقصان کے ترازو پہ نہیں رکھے جا سکتے ۔قلب جسے چاہتا ہے اور جس سے چاہا جاتا ہے ۔اس تعلق کو بھی عقل کی کسوٹی پہ رکھا جاتا ہے کہ فائدہ کہاں اور کتنا ہے ۔بظاہر ایسے معاملات فائدہ یا نقصان کے تناظر میں دیکھے جاتے ہیں ۔انہیں چھوڑ کر کمزوری چھپائی نہیں جا سکتی ۔طاقت بڑھائی نہیں جا سکتی ۔خود میں خوشیوں کی شہنائیاں محو رقص رہتی ہیں ۔مگر شادیانے زیادہ دیر اپنا جادو نہیں دکھا پاتے ۔سال ہا سال کی پیش بندیاں پل بھر میں ریت کے گھروندے کی مثل اپنا گھر بناتی اور گرا دیتی ہیں ۔ایسی کامیابیاں خشک ریت کی مانند مٹھی میں تو چلی آتی ہیں مگر گرفت بڑھانے سے پھسلتی چلی جاتی ہیں ۔ اور ہاتھ خالی کا خالی رہتا ہے ۔
نفع و نقصان یا جزا و سزا کی بنیاد پر جو راستہ اختیار کیا جاتا ہے ۔وہ ہر وقت خوف میں مبتلا رکھتا ہے ۔ جو محبت کی بنیاد پہ اختیار کیا جائے وہ تسکین و چاہت کا مرکب ہوتا ہے ۔جو سکون کی تلاش میں سرگرداں نہیں بلکہ اس کا مرکز ہوتا ہے ۔قلب ِمحبت تکلیف کےاحساس کو کم کرتا ہے ۔ دنیاوی محبت کمی آنے پہ اس احساس کو بڑھاتی ہے ۔
ایک حقیقت سو افسانے تو کئی بار لکھے جا چکے ہیں ۔جو کردار میں افسانوی حیثیت اختیار کئے رکھتے ہیں ۔کبھی وہ جیت جاتے ہیں تو کبھی بازی ہار جاتے ہیں ۔
ایک محبت میں سو بہانے بھی ہوں مگر کردار حقیقت کا رنگ بھرے ہوتے ہیں ۔محبت کرنا جب کھونے کی آساس پہ ہو تو پانا ملزوم ہو جاتا ہے ۔محبت کو سمجھنے میں کمی اس لئے ہے کہ عشق حقیقی ہو یا محبت مجازی پڑھنے کا انداز افسانوی رہتا ہے ۔عقل کی کسوٹی پہ سوچ کے ترازو سے اسےگھٹایا بڑھایا جا تا ہے ۔ پا لیا یا کھو دیا پہ انجام رکھ دیا جاتا ہے ۔جس کا اختتام لازم ہے ۔
جس محبت کا نقطہ آغاز یہ جہاں ہو اور اختتام وہ جہاں ۔ وہ کھونے کے خوف پہ نہیں پانے کی لذت سے ہمکنار رہتا ہے ۔