Showing posts with label ،اللہ. Show all posts
Showing posts with label ،اللہ. Show all posts

Sunday, December 5, 2021

Sunday, October 31, 2021

ادھوری عشق کہانی

0 comments
دل تو ہمیشہ چاہا کہ وہ بات کروں جو دل پہ اثر رکھے ، دل سے نکلے لفظ روح تک پہنچیں۔ آج صرف اپنے لئے لکھ رہا ہوں  کیونکہ جو سفر اکیلے طے کیا ہو اس کی داستان سناتے سناتے ایک دہائی سے اوپر ہو گیا   اور مسافر کی عمر پانچ دہائیوں سے اوپر۔سولہ سائز کے کالر میں تیرہ سائز پہن کر بدن و گردن پر ایک مضبوط گرفت کے احساس سے نکلنے میں ایک لمحہ درکار ہوتا ہے۔ کہنے سننے کا وقت گزر جائے تو  تلاش رک جاتی ہے ۔ جاننے کی جستجو نہ رہے تو منزل رک جاتی ہے۔
جنہیں زندگی سے عشق  ہوتا ہے وہ آسائش و آرام کی گنتی کرتے ہیں ۔ آزمائشوں کے ذکر  صبر و تحمل سے بیگانہ ہوتے ہیں۔  چھوٹی گاڑیوں میں اپناسر چھت سے لگےتو پچھلی سواری کے گھٹنے کے لئے جگہ تنگ ہو جاتی ہے۔ کیونکہ  آگے پھیلتے ہیں اور پیچھے سکڑتے ہیں۔ زندگی اپنے چاہنے والوں کو مایوس نہیں کرتی، گنجائش پیدا کر دیتی ہے۔ انسان جب پھیلتا ہے تو دوسروں کو سکڑنے اور پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ چاہ کر بھی سیکھنے والے نہیں ملتے، صرف وہ ملتے ہیں جو صرف پانے کی چاہت رکھتے ہیں اور وہ  بھی اتنا کہ چند لمحات میں وہ اپنا اثر زائل کر دے ۔ زندگی جتنی مختصر ہے خواہشات کی زندگی بھی اتنی ہی محدود۔
گردش خون کی نالیاں جلد پر ابھر جاتی ہیں ،سخت زمین پر سونے سے بھی دل تک خون پہنچنے کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتیں کیونکہ قلب صرف اپنا خیال نہیں  رکھتا بلکہ پورے وجود کو فعال رکھنے کے لئے  متحرک رہتا ہے۔ جس کا کہا مانا جاتا ہے وہ دو تہائی مشقت سے چور ہو جاتا ہے اور  ایک تہائی وقت زندگی بھر استعمال کرتا ہے۔ پھر بھی تکبر کا مادہ پیدا کرنے سے باز نہیں رہتا۔  انسان اس کے زیر اثر اپنے زندگی بھر کے تجربات کی روشنی میں اندھیروں کی گہرائیوں میں جا اترتا ہے۔
فن پارہ ہو یا بت عاشق نامراد اپنے تخیل سے کینوس پر رنگ بکھیر دیتا ہے  لیکن اس میں احساس کی خوشبو سے محروم رکھتا ہے۔ خالق اپنی مخلوق کو تخلیق کے حسن سے احساس کی دعوت دیتا ہے۔لیکن انسان چولہے پر جلے  اور مشین پر ڈھلے لباس سے اپنی بقائے حیات کی جنگ لڑتا ہے۔ وہیں رہ کر دستارِ وفا کی منزلت و کبریائی چاہتا ہے۔
بوڑھے کی لاٹھی مضبوط ہو تو بڑھاپے سنبھل جاتے ہیں۔ کمر پر بوجھ بڑھ بھی جائے تو کمزور رگوں سے قلب خون کھینچ لیتا ہے ۔ بڑھاپے سپردِ لحد ہونے پر لاٹھی ٹوٹ نہیں جاتی بلکہ زمین پر ڈال دینے سے ہر مشکل اور کڑی آزمائش میں رکنے، ٹوٹنے، جھکنے اور گرنے سے بچائے رکھتی ہے۔ اپنے اپنے سفر کی کہانی ہے ، اپنی اپنی منزل کی راہ ہے، اپنے اپنے عمل کی جزاہے، جسے جو جاننا ہے وہ خود کو کریدے ، جسے جو پانا ہے وہ خود سے چاہے۔ جب سفر ایک نہیں تو نتیجہ ایک کیسے ہو گا۔ اپنی اپنی راہ ہے اپنا اپنا سفر۔ سوچ کے دھارے میں نفع و نقصان تولے جاتے ہیں۔ قلب کے استعارے خالق و مخلوق کے درمیان جزا  و رضا سے جڑے ہیں۔ راہوں سے راہیں جدا ہیں، سوچ سے سوچ بیگانہ ہے، خواہش  کے انتخاب سے آزمائش کی برداشت  حاصل اور لا حاصل کی  جنگ ِافکار ہے۔
پانے کے لئے بھاگ دوڑ ہے جینے کے لئے عیش و آرام ہے۔ کمپیوٹر کی یاد داشت کروڑوں اربوں انسانوں سے بڑھ کر ہے لیکن ایک مچھر کے پر کے برابر اس میں احساس  نہیں ہے۔ ایک سبق ہے زندگی کی دوڑ میں آگے بڑھنے کا جب دوسرے پیچھے رہ جاتے ہیں۔ کامیابی و کامرانی کے لئے ایک نسل دوسری نسل سے بہتر پلاننگ کر کے آگے بڑھ جاتی ہے۔ کامیابی و ترقی کا یہ سفر زمین کے لپیٹ دئیے جانے تک جاری رہے گا۔ اور انسان کفن میں لپٹے خالی ہاتھوں کو سپردِ لحد کرتے رہیں گے کیونکہ زندگی کی اصل حقیقت یہی ہے۔
تخلیق اپنے راستے خود اختیار کرتی ہے مخلوق سے اجازت کی طالب نہیں ہوتی۔ خشکی، تری اور ہوا میں رہنے والے اپنی جنس کا توازن برقرار رکھتے ہیں۔ رہتے ہیں ملتے ہیں پالتے ہیں پھر رخت سفر باندھ کر آنے والوں کو یہی موقع فراہم کرتے ہیں۔  انسان اپنے ہاں اولاد پیدا کرنے ، لڑکا یا لڑکی کی صورت بنانے کی اہلیت و اختیار سے محروم ہے۔ پھر دعوی ترقی و عروج کا کیا رہ جاتا ہے۔  پیچھے بچ جانے والے کس نئے نظام کی اصلاح و فلاح کے لئے کمربستہ رہتے ہیں؟
نیا نظام کچھ نہیں ، صرف ایک نظام ہے خالق کا تخلیق کردہ ، جس کی حقانیت قرآن سے ثابت ہے، جو سچ ہے، حقیقتِ عالم ہےجو وجود کائنات کے دائرہ اختیار پر مکمل کنٹرول رکھتا ہے۔ یقین کے ساتھ جینے میں  صبر و تحمل اور سیر و شکر کی جو رضا ہے  وہ  مٹی سے پیدا ہوئی ہر شے کو خون میں ڈھالنے جیسی ہے۔ کیونکہ زمین میں خون نہیں بنتا اور بدن میں خوشبو نہیں پیدا ہوتی۔ جس ہستی کے بدن کے بہتے پسینے میں خوشبو و مہک کا جلوہ تھا وہ خالقِ کائنات ربِ زوالجلال مالکِ دو جہان نے اپنے محبوب رسول مقبول محمد مصطفی ؑ رحمتہ للعالین کی صورت میں اس زمین پر پھیلایا۔ جن کی بدولت آج ہم اللہ سبحان و تعالی کے فرمان کی  حکم عدولی اور نافرمانی کے باوجود  اس امید کے ساتھ زندہ رہتے ہیں کہ ہم امت محمد صلی اللہ علیہ والیہ وسلم ہیں جو ہماری بخشش کے لیے ایک زریعہ ہے۔
ارشاد باری تعالی ہے
ترجمہ:
"آسمانوں اور زمین  اور ان کے درمیان سلطنت اللہ کی ہے"۔ سورۃ المائدہ ۔آیت 18
"اور اس سے بہتر کس کا قول جو بلائے اللہ کی طرف اور اچھے عمل کرے اور وہ کہے بیشک میں مسلمانوں میں سے ہوں"۔ سورۃ فصلت ۔آیت 33
 
تحریر: محمودالحق

Thursday, February 22, 2018

سرِ آئینہ میرا عکس ہے

0 comments
رات کے سناٹے میں ہو کا عالم ہے،کہیں دور سے کسی گاڑی کے گزرنے کی آواز عالم سکوت میں ارتعاش کا سبب ہو جاتی ہے۔روز ہی ایسی صورتحال سے دوچار ہوتے ہیں ۔ کوئی سکون محسوس کرتا ہے اور کسی کو تنہائی اور خوف کی سراسیمگی طاری ہو جاتی ہے۔یہ 
وقت تو نعمت ہے جو روشنی سے دور جانے پر انسانوں کی بستی کو سلا دیتا ہے۔ جب وہ ہر مشکل، ہر پریشانی،ہر غم اور دنیاوی ہر خواہش سے بے نیاز ہو جاتے ہیں۔انسان کو انسان سے کوئی شکوہ کوئی شکایت نہیں رہتی۔درد سہلانے کی ضرورت نہیں رہتی۔غمگسار کی طلب نہیں رہتی۔ان لمحوں میں زندگی قہقہوں سے بھی دور چلی جاتی ہے۔
دن کے اُجالے انسانی رویوں کے چابک سے قہر برپا کرتے ہیں۔جنگل کے جانوروں کی شب بسری شہروں سے مختلف نہیں ہوتی کیونکہ وہ ایک ایسا وقت ہوتا ہے جب انسانوں کے ساتھ ان کا نفس بھی سویا ہوتا ہے۔دن کی روشنی میں پرندے خوراک کی تلاش میں پر پھڑپھڑاتے ہیں اور جانور خوراک و شکار کی تلاش میں کمر بستہ اور انسان دنیاوی خواہشات کے ڈبے نفس کے انجن کے ساتھ جوڑ لیتا ہے جو دن بھر ساز وسامان سے بھرنے کی کوشش میں جتا رہتا ہے اور ادھر ادھر سے کچھ نئے ڈبے نفس کے ساتھ جوڑ لیتا ہے۔ رات بستر تک پہنچنے تک نفس اتنا بے حال ہو چکا ہوتا ہے کہ وہ انسان کو دنیا و مافیا سے بے نیاز کر دیتا ہے۔
کبھی نہ سونے والی چیونٹیاں اور دن بھر سونے والے جانور ایک ہی فطرت پر زندہ رہتے ہیں مگر انسان اپنے عمل سے کردار سے سوچ سے خواہش سےخوبیوں سے خامیوں سے نیکی سے بدی سے اچھائی سے برائی سے خوشی سے غم سے صبر سے جلد بازی سے پانے سے کھونے سے الگ الگ حصوں میں  زندہ رہتے ہیں۔ جو بھیڑ میں تو ایک جیسے دکھائی دیتے ہیں مگر کردار و افکار میں جدا جدا۔دولت شہرت  عزت کے متلاشی نفس کے انجن کے پیچھے ان خالی ڈبوں کو جوڑ کر منزل کی طرف رواں دواں رہتے ہیں۔جہاں ساز وسامان سے لدی بوگیاں ان کے پاس سے گزرتی ہیں تو وہ مزید بوگیوں کے  اضافے کےساتھ رفتار بھی بڑھا لیتے ہیں۔
اچھائی اور نیکیوں کے راستے پر چلنے والے دراصل اللہ  کی رسی کو مضبوطی سے تھام کر چلنے والے ہیں اور دنیاوی خواہشات کے حصول سے شہرت دولت عزت کی سیڑھی چاہنے والے اس شیطان کے پیروکار ہیں جن میں نفس اتنا   بھوکاہوتا ہےکہ کئی نسلوں کے زاد راہ کے انتظام کے بعد بھی لاغر وکمزور  رہتا ہے۔ 
جو خود کو اللہ کی رضا کے سپرد کر دیتے ہیں ، انتظار کی کوفت سے چھٹکارا پا لیتے ہیں۔صبر کی چادر اوڑھ کر قلب سکون کی گہری آغوش میں سستالیتے ہیں۔انسانی معاشرہ صرف اپنی قدر نہیں کھو رہا بلکہ انسانیت تن آسانی کی مقابلہ بازی میں مقصد حیات کو بھول چکی ہے۔اللہ تعالی کی صفات  واحکامات کو اپنانے کے عمل سے اتنے دور ہو چکے ہیں کہ سچ کڑوہ معلوم ہوتا ہے۔ جس نے اپنے نفس میں جو پال رکھا ہے وہی اس کا ہمزاد ہے، وہی اسے عزیز ہے، وہی اس کا محبوب ہے، وہی اس کا دلدار ہے، وہی اس کا آغازہے، وہی اس کا انجام ہے۔
انسانی بستیوں میں ہم اپنے اپنے آئینوں کے سامنے رہتے ہیں جہاں دوسرا بھدا  بد شکل دکھائی دیتا ہے۔جسے ہم نے اپنے اندر پال رکھا ہے اسی کے ہم ماننے والے ہیں۔اسی کے پیروکار ہیں، جس کی حمایت کرتےہیں اسی سے وفا چاہتے ہیں۔ کسی کو تنہائی نے مار دیا ، کسی کو دکھ درد نے، کسی کو خواہشیں جینے نہیں دیتیں، کسی کو جینا یاد نہیں رہا۔جس نے زمین کی محبت سے کنارہ کر لیا، عمل اس کا گواہ ، کردار اس کی ضمانت ہو گئی۔
جس نے حقیقت کو پہچان لیا اُس نے خود کو جان لیا۔ جس نے اِس نظام فطرت کو جان لیا اس نے اپنے رب کو پہچان لیا۔جتنی انسان پر مشکل پڑتی ہے اُتنی ہی اللہ کی اُس پر توجہ بڑھتی ہے۔ لیکن انسان تو خسارے میں رہنے والا ہے جو صرف اُن پر توجہ مرکوز رکھتا ہے جنہوں نے دولت شہرت عزت کو سمیٹا ہو۔اُن کو نہیں جنہیں اللہ نے اپنی رحمت کے سائے میں رکھا ہو۔
دنیا ایسا گلستان ہے  جہاں خوشبو  بھرے رنگ برنگے پھول دیکھنے والی آنکھ سے دل میں اُتر جاتے ہیں اور کسی کے دل میں صرف کانٹے پیوست ہو جاتے ہیں۔آنکھیں کھولنا اُس وقت مشکل ہوتا ہے جب نیند کا پورا غلبہ ہو۔نیند پوری ہونے پر تو آنکھیں خود بخود کھل جاتی ہیں۔ جو شے جتنی آسانی سے دستیاب ہو اُتنی  عام  بھی ہوتی ہے اور سستی بھی۔ گاڑیوں ، سیل فون ٹی وی کی جدت اور ٹیکنالوجی کی مثال سے سمجھنا چاہیں تو بات جلد سمجھ میں آ جائےگی مگر فطرت سے بڑی مثال کوئی نہیں جو خوبصورتی دلکشی رعنائی کے ساتھ ساتھ حکمت و دانائی میں بیمثال و لاجواب ہے۔دوسروں کی تعمیر و ترقی سے اِستفادہ حاصل کرنے کی خواہش ہر انسان میں شدت سے موجود ہے مگر عمل و کردار سے عاری معاشرے رہنماؤں پر ایک نظر ضرور ڈال لیں وہی ان کے آئینے ہیں جو اُن کی اصل صورت کے عکاس ہیں۔ جو رشتوں کے تقدس و احترام کا مفہوم نہ سمجھتے ہوں وہ ویلنٹائن ڈے کے حق میں ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتے ہیں۔
صبح سچ کے پھول  چن کربیچنے نکلیں تو رک رک کر دیکھنے والے سینکڑوں ملیں گے مگر لینے والے کوئی نہیں کیونکہ اس کے لئے اپنےعمل و کردار میں  پاک ذات کی صفات و احکامات کا عکس دکھائی دینا ضروری ہوتا ہے۔ جو اپنے خیال و راہ اس کے حکم کے تابع کر دیتے ہیں وہ ایک بھی جی لیتے ہیں اور جو نفس کی خواہشات میں دنیاوی شہرت دولت عزت کے طلبگار ہوتے ہیں وہ تسکین جاہ ہوتے ہیں۔ سکون جاں روح کی آزادی سے میسر آتی ہے جو دنیاوی خواہشات کی قید میں نہیں ہوتی۔ علم و عرفان کی یکتائی جنہیں حاصل ہو وہ سجدے میں محبوبیت سے سرشار ہوتے ہیں۔بدن کی ضرورت جب نشہ و سرور کی کیفیت کاشکار ہو جائے تو سمجھو منزل سے دور ہو گئے۔ ہمدردی کی ناؤ میں سفر طے نہیں ہوتے بلکہ یقین اور بھروسے کے چپوؤں سے آگے بڑھا جاتا ہے۔تعریف و تحسین چاہنے والے اور حق و سچ کی چاہ پانے والے دو مخالف سمتوں کے مسافر ہیں جہاں اول الذکر نفس کی قید میں اونچی پرواز کے طالب ہوتے ہیں حالانکہ یہ  زمین دنیا  سمیت تو ایک وقت پاک ذات کے حکم سے لپیٹ دی جائے گی اور انسان یہاں پچاس سو سال میں کفن میں لپیٹ دیئے جاتے ہیں۔جنہیں یاد رکھنے والے  بھی نہیں رہتے۔ کامیابی اور ناکامی کا تعلق پانے اور محروم رہ جانے سے ہر گز نہیں ہے بلکہ ختم ہو جانے اور رہ جانے والے سے ہے۔ جو ختم ہو گئے ان کا ذکر بیکار ہے جو رہ گیا وہ افادیت سے جانا جاتا ہے، اپنے برے یا اچھا ہونے کی گواہی کے ساتھ۔پہاڑ کی چوٹی پر کھڑے ہو کر دوسرے پہاڑ کی چوٹی نظر آتی ہے۔کھائی میں اترنے والے صرف اپنی کھائی تک محدود ہوتے ہیں۔

تحریر : محمودالحق        

Friday, March 3, 2017

دل دریا سمندروں ڈونگھے

0 comments

سبز پسند کرنے والے کالے کے قریب نہیں جاتے، نیلا کسی کو بھلا لگے توپیلا کسی کی آنکھیں چندھیا دے۔کوئی سر پر وزن اُٹھاتا ہے تو کسی کی نظریں بارآوری سے جھک جاتی ہیں۔کوئی پاؤں کی حرکت سے چولہا جلاتا ہے تو کوئی قلم کی جنبش سے۔گردشِ خون برقرار رکھنے کے لئے دانتوں سے چبا کر حلق سے اُتارا جاتا ہےاور فاسد بدبو سے جسم چھٹکارا پا لیتا ہے۔کانوں سے دماغ کے نہاں خانوں میں  جو ہوا بن اُترے، زبان سے لفظ کبھی کڑوا تو کبھی میٹھا بن نکلے۔جو اصل  اندررہ جائے غبارِ خیال بن تہہ در تہہ وجودِ ناتواں پر سنگ بار جڑتا رہے۔ جہاں سے جو سیکھا ،اسی دور میں اسے لوٹانا ہوتا ہے۔
پیدا ہوتے ہی احساس کا رشتہ پروان چڑھتا ہے پھر پہچان کا ،پھر تعلق گہرا ہوتا ہے زبان کا۔سماج سے تعلق بندھتا ہے تعلیم و تربیت سے۔ افراد سے قرب ملتا ہے اخلاق و اطوار سے۔سوچ پہاڑوں سے اُبلتے پانی کی مثل  گنگناتی شور مچاتی اپنے راستے خود بنا لیتی ہے۔ کسی کو علم ورثے میں ملتا ہے کسی کو طاقت۔کوئی سچ سے بہادری پا لیتا ہے کوئی جھوٹ سے بزدلی۔کوئی حق کے حصول کے لئے کوشش سے آگے بڑھتا ہے تو کوئی چھین کر حق جتاتا ہے۔دو صدیاں پہلے اپنی منزل پا کر سب جا چکے، پچھلی صدی میں جنہیں منزل مل گئی وہ جانے کے انتظار میں۔ بندوبست ایسا کہ شاید لوٹ کر پھر باری آئے ،جو نہ آئی اور نہ ہی آئے گی۔ایک بار آئے ہیں تو ایک بار ہی جانا ہے۔
فیلنگ کی دنیا ڈیلنگ سے اتنی ہی دور ہے جتنی جلد کے نیچے شریانوں میں بہتا لہو ہوا سے ،جو جلد کو مَس کرتی گزر جاتی ہے۔نفرت تکبر کو جنم دیتی ہے تو غصہ انتقام کو۔محبت میں احساس غالب رہتا ہے تو رقابت میں حسد پروان چڑھتا ہے۔دل کو کھیل بنانے والادماغ دھیرے دھیرے سوچ کی سنگ باری سے عاجز آنے لگتا ہےاورنفرت حقارت شکوہ شکایت حسد جلن کی بھاری سلوں کے بوجھ تلے دب جاتا ہے۔ جہاں سے نکلتے نکلتے پاؤں میں لغزش اور ہاتھوں میں رعشہ طاری ہو جاتا ہےاور سر نہ نہ کی تکرار جیسا ہلنے لگتا ہے۔ کوئی نہیں پوچھتا کیا پا یا اور کیا چھوڑا۔ 
عجب تماشا ہے جو کھلاڑی میدان میں اپنے لئے اُترے اس کی ناقص کارکردگی اجتماعی عزت کا مسئلہ بن جاتی ہے۔حالانکہ  فائدہ بھی خالص اسی کا نقصان بھی اسی کا مگر قیمتی وقت کے ضیاع کی ذمہ داری سے بری الزمہ نہیں۔وہ نفرت حقارت کے ساتھ ساتھ بدزبانی سے بھی محفوظ نہیں رہتے۔ ملاوٹ شدہ خوراک ،جعلی ادویات ،بے ہنگم ٹریفک ،بات بات پر جھوٹ، کسی وعدہ کا وفا نہ ہونا،غریب چاہے پسینے میں نہائے یا خون بہائے،نا انصافی کے ستون سے بندھ کر مظلوم رشوت کے کوڑے کھائے، تو ایسا معاشرہ بغل میں چھری اور منہ میں رام رام کی عملی تصویر نظر آتاہے۔
کس سچ کو ماننے والے ہیں ،کس حق کے پیروکار ہیں ،کس کوراضی رکھنا چاہتے ہیں، کیاہے اس خواب کی تعبیر،کسے مطمئن کرنا چاہتے ہیں،کس سے تعریف و تحسین چاہتے ہیں، کون ہے جو  چند جملوں کے عوض خزانوں کے منہ کھول دے۔آخری ڈگری حصولِ رزق میں مددگار ہوتی ہے  باقی صندوقوں میں پڑی رہتی ہیں۔
اللہ تبارک تعالی اپنی راہ میں خرچ کرنے والوں کو انعام و اکرام کی خوشخبری دیتا ہے۔جو رزق عطا فرماتا ہے وہ بھی اسی کے فضل سے ہے۔ایسی جنت جس کے نیچے نہریں بہتی ہیں جہاں کھجور اور انگور کے باغات ہیں ۔اس زمانہ میں رائج دستور ِحیات کے مطابق رہنے سے تو پانا مشکل نظر آتا ہے۔ دنیاوی امارت ،شہرت ،امامت کے لئے فلسفہ ءجہالت پر اتنا زور کہ دم ہی نکلنے سے رہ جائے۔ جو آسائش پالیں وہ خوش نصیب جو رہ جائیں وہ ناکام و نامراد۔ مراد  بر آنے کی ایک ہی صورت ہے کہ مدد مانگو صبر اور نمازسے بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔انسان زندگی کے پہلے دس  سال میں صرف سیکھتا ہے آخری دس سال میں صرف بھولتا ہے۔ درمیانی پچاس ساٹھ سال صرف  دوڑنے میں گزر جاتے ہیں۔چاہے حصے میں جیت آئے یا ہار۔
جنہوں نے آنکھوں سے لفظوں کی پہچان کو بھولتے دیکھا ہو،زبان سے لفظوں کی ادائیگی کو رکتے دیکھا ہو،ہاتھوں اور انگلیوں سے نوالہ بنانے اور پکڑنے کو بھولتے دیکھا ہو،ٹانگوں پر جسم کو بوجھ محسوس کرتے دیکھا ہو، ایک ایک اعضاء کی موت کا منظر سالہا سال دیکھا ہو،ڈگریوں کو صندوق میں اور دولت کو بینک میں کسی کام نہ آتے دیکھا ہو، وہ لاکھوں  میں چند ایک ہوں گے اور ان کے لئے زندگی کا روائتی فلسفہء حیات   درسگاہی  کتب جیسا نہیں ہو سکتا۔علم و عرفان کی آگہی جنہیں نصیب ہو وہ اپنی دنیا آباد کر لیتے ہیں جس میں مدد صرف اللہ سے صبر اور نماز سے مانگی جاتی ہے۔
دل دریا سمندروں ڈونگھے کون دلاں دیاں جانے ہُو
وچے بیڑے وچے جھیرے وچے ونجھ مہانے ہُو
چوداں طبق دلے دے اندر تنبو وانگوں تانے ہُو
دل دا محرم ہووے باہُو سوئی رب پچھانے ہُو

تحریر : محمودالحق       

Tuesday, January 10, 2017

اطاعت و بندگی

0 comments
زندگی کی چکاچوند روشنیوں سے اندھیرے مٹانے کے لئے مستعار تیل لے کر چراغ بھرتے رہتے ہیں، زندگی کی شام ڈھلتی رہتی ہے ، اندھیرے پھیلتے رہتے ہیں ، نہ سفر تمام ہوتا ہے اور نہ ہی دل کے دئیے روشن ہوتے ہیں۔ بس ایک تماشا ہے جو آنکھوں کی پتلیوں نے دیکھا۔ کبھی کبھار سوچ ایسی جادوئی قوت سے بھرپور وار کرتی ہے کہ عمل تیز دھار تلوار کے سامنے ایک کمزور شاخ کی طرح کٹ کٹ کر گرتے جاتے ہیں۔ وجود شکست خوردہ فوج کی طرح ہتھیار پھینک کر قیدی ہو جاتا ہے۔ بعض اوقات فتح غافل کر دیتی ہے اور کبھی شکست مضبوط حصار کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ ماضی کی کمزور اور کچی دیواریں آج قدآور بلند ستونوں پر محرابوں سے مزین بلند و بالا عبادت گاہیں عازم مسافران کو خالق حقیقی کے جاہ و جلال، اختیار قدرت اور انجام بے خبری کے لئے نوشتہ دیوار ہیں۔ نئے آنے والے جانے والوں کے قدموں کے نشانات کی کھوج میں رہتے ہیں۔ مگر قدموں کےنشان تو ان کے پھتر بھی محفوظ کرنے کے پابند ہوتے ہیں جو ویرانوں میں بیوی اور بچہ چھوڑ جاتے ہیں۔ اللہ تبارک تعالی انہیں مقام ابراھیم بنا کر اپنے گھر کے سامنے محفوظ کر دیتا ہے۔ اللہ جنہیں محبوب بنا لیتا ہے انہیں مشعل راہ بنا دیتا ہے۔ زمین کی تاریکیوں میں اتر کر بھی نشان راہ بن جاتے ہیں۔ تیرے عشق کی انتہا چاہتا ہوں میری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں پر خطر راہ عشق کے امتحاں اتنے آساں بھی نہیں کہ ایک جھلک دیکھنے کے لئے رو برو ہو جائیں۔ زندگی ایک ایسا امتحان ہے جس کے جواب رٹے رٹائے ہیں مگر جو سوال لوح و قلم سے لکھے گئے ہیں ان کے جواب عمل کی سیاہی سے دستور حیات کے کاغذ پہ لکھے جاتے ہیں۔ سائل کتابیں کھول کھول دعاوں میں ہاتھ اٹھاتے ہیں۔ جہاں ایک نقطہ سے مفہوم بدل جانے کا ڈر لگا رہتا ہے۔ خوبصورت منظر کشی کرنے والے رائیٹر ہو سکتے ہیں یا پینٹر۔ آرٹ کے قدیم گراں قدر نمونے ناقابل یقین قیمتوں پر فروخت ہوتے ہیں۔ مگر وہ گلاب کے پھول کی ایک پنکھڑی سے بھی بیش قیمت نہیں ہو سکتے۔ باغوں بہاروں، پہاڑوں اور نخلستانوں میں بارش کی ہر بوند کا ایک ہی رنگ و ذائقہ ہے مگر جب زمین سے نکالا جائے تو تاثیر بدل جاتی ہے۔ اللہ تبارک تعالی کا فرمان قرآن ایک ہی ہے مگر ہر جگہ کی تاثیر الگ الگ۔ سونا بنانے کا فارمولہ ڈھونڈتے ڈھونڈتے لوگ زندگی بھول جاتے ہیں مگر سونا تو ڈھونڈ کر نکالا جاتا ہے ، پھر بھٹی میں پکا کر ڈھالا جاتا ہے۔ ہیرے جڑے نگینے کی قیمت اور بھی زیادہ ہو جاتی ہے۔ عشق مجازی میں ہر شے قابل خرید و فروخت ہوتی ہے۔ مگر عشق حقیقی میں دام نہیں ہوتے الفت ہوتی ہے۔ دنیاوی غرض و غایت ایک طرف اور آخروی خواہش خیر دوسری طرف کھڑی ہو تو ایک نظر میں صرف ایک ہی دیکھا جا سکتا ہے۔ تفریق کرنے والے ہی راہ پانے والے ہیں۔ جو آنکھ اے بی سی کی شناخت سے کھلی ہو وہ الف ب پ کو سمجھنے سے قاصر ہو گی۔ لفظ کتابوں سے نکل کر خوشبو کی طرح ہواوں کو معطر کر دیں تو ان کی قیمت کا تعین کرنا بس میں نہیں ہو سکتا۔ لفظ حق کے داعی ہوتے ہیں۔ جو سچ جاننے والوں کو مانتے ہیں۔ مسجد نبوی کے خوشبو بھرے صحن میں بیٹھا جب میں یہ سطریں لکھ رہا ہوں تو میرا ذہن زیارات مدینہ کی خوشبو بھری یادوں میں سلتا جا رہا ہے۔ کتنے عظیم لوگ تھے جنہوں نے اللہ کی بندگی اور رسول صلی اللہ علیہ والیہ وسلم کی اطاعت میں زندگیاں وقف کر دیں۔ جو قرآن کی ابتدائی آیات پر ایمان لے آئے۔ ہمارے پاس تو مکمل قرآن پاک ہے۔ اللہ تبارک تعالی ہمیں ایمان کی سلامتی دے اور حق پر رہنے اور سچ کہنے کی قوت ایمانی سے سرفراز کرے آمین محمودالحق

Thursday, November 24, 2016

ذکرِالأنفال

0 comments
ہم بہت آسانی سے حاصل کی گئی کامیابیوں کو دونوں ہاتھوں سے سمیٹ لیتے ہیں پھر اپنی عقل و دانش پر فخر سے سینہ تان لیتے ہیں مگر حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔حاصل وہی ہوتا ہے جو اللہ تبارک تعالی کی رضا ہو ۔ جس سے وہ راضی ہو اسے نوازنے میں دیر نہیں کرتا مگر دنیا کا وقت دن رات اور سونے جاگنے میں ایسے تقسیم رہتا ہے کہ دن ہفتے ، ہفتے مہینے اور مہینے سال بھر تک چلتے ہیں جو ہیجان و بے چینی کا سبب ہوتے ہیں۔ہمیں تواریخ تو یاد رہتی ہیں مگر موضوع و مناسب حالات کا ادراک نہیں ہو پاتا۔ انسان بنیادی طور پر جلد باز جو ٹھہرا  نتیجہ جاننے میں سال مہینے چٹکیوں میں چاہتا ہے۔ کیونکہ ماضی اس کے لئے ایک کہانی ، حال خواہش اور مستقبل سہانا خواب نظر آتا ہے۔ ماضی کو بھلانا تو چٹکیوں میں ممکن کر دکھاتا ہے مگر خوابوں کی تعبیر بھی پلک جھپکنے میں تکمیل کے مراحل طے کرتی ہوئی چاہتا ہے۔
مگر وہ یہ نہیں جان پاتا کہ جس طرح ۱۴۳۸ سال کے بعد بھی قرآن مجید کے الفاظ ایک ایسی مستقل حقیقت ہیں جو وقت مقررہ پر منازل کی  مسافت کا تعین رکھتے ہیں۔چاند ستاروں سے لے کر سردی گرمی خزاں بہار کے لئے ایک مخصوص وقت کی پابندی لازم قرار پا چکی ہے۔ پھولوں کا کھلنا پھلوں کا پکنا پرندوں کا انڈے سینا اور چرند میں بچوں کی پیدائش کا عمل وقت مقررہ کا مرہون منت ہے۔ مگر خواہش میں  انسان نےانہیں منزل مقصود بنا رکھا ہے جو دس بیس پچاس سال کے بعد نہ تو خود ہی اپنا وجود برقرار رکھ پاتے ہیں اور نہ ہی نئے انداز و تخلیق کی پائیداری کی کوئی گارنٹی دے پاتے ہیں۔گھر تبدیل کر کر کے پھر تبدیلی کے لئے کچھ نیا کرنے  کی طرف توجہ مرکوز ہو جاتی ہے۔
جن سے جو کام لینا مقصود ہوتا ہے پہلے انہیں منطقی انجام سے دوچار کیا جاتا ہے جسے کبھی آزمائش تو کبھی تقدیر میں نہ ہونے سے تعبیر کر لیا جاتا ہے۔بچہ امتحان دینے تک پرجوش اور پر اُمید ہوتا ہے مگر غیر متوقع رزلٹ کے آنے پر مایوسیوں کے اندھیرے میں ڈوب جاتا ہے ۔ آگے بڑھنے پر مشکل کا شکار اور ارادے کی کمزوری کا شکار ہونے لگتا ہے۔ جواز ایسا تلاش کرتا ہے جو مصلحت کے بغیر ہوتا ہے۔اللہ تبارک تعالی کسی جان پر اس کی ہمت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ آسانی سے پانے والے مشکلات کی چکی میں پس کر خواہش کی تکمیل تک دو مختلف زاویہ سے زندگی کا مفہوم سمجھنے کی منطق کا شکار ہوتے ہیں۔ مگر نشانیاں عقل والوں کے لئے ہیں جو قرآن مجید میں طے شدہ ہیں۔  سونے کے سکے لین دین میں  کسی نہ کسی صورت آج بھی ہیں مگر بدلے میں کاغذ کے چند ٹکڑوں پر راضی ہو جاتے ہیں۔مٹی گارے کی چنائی سے بنے گھر اینٹ سیمنٹ کی طاقت حاصل کر چکے مگر دوسری نسل تک پہنچتے پہنچتے بڑھاپے کے لاغر پن کی وجہ سے ناقابل اعتبار ہو جاتے ہیں۔
جس  مبارک گھر کی جالیاں عشق و محبت کے متوالوں کو نشہ و سرور کی کیفیت میں مبتلا کر دیں اور عظمت و بزرگی خداوند تعالی کے گھر کا غلاف دیکھنے اور چومنے والوں کو سحرزدہ کر دے ،وہ اسے پاک پروردگار کا احسان عظیم جانے اور اس گھر کی حاضری ایک طویل دعا اور قبولیت کے فرمان کا شاخسانہ قرار دے تو عظمت کے مینار آنے والوں کو اصل حقیقت سے روشناس کرواتے ہیں۔سبز گنبد اور سیاہ غلاف عاشقوں کے لئے عید سعید کے خوشیوں کے لباس ہیں جنہیں نظروں میں سمو کر آنکھوں کے نور میں جذب کر لیتے ہیں۔ نہ جانے کتنے ہی آنسوؤں کی قربانی کے بعد قبولیت کے شرف سے فیضیاب ہونے جا رہے ہوں۔
وجود اپنے احساس کو لمس سے محسوس کرتا ہے مگر روح عشق میں خوشبو کی طرح۔۔۔ کائنات میں آخری ستارے تک رسائی پانے کے فاصلے کی خواہش سے پہلے ۔۔۔عشقِ امتحان  وجود میں احساس کی آخری منزل تک پہنچ جاتے ہیں۔شہد کی مکھی سفر در سفر کے بعد پھول در پھول سے جو رس پاتی ہے وہ مٹھاس میں یکساں ہوتا ہے۔ اللہ تبارک تعالی اپنے گھر تک پہنچنے کے لئے آخری دنیاوی خواہش کی آزمائش کو بھی بندے پر آزماتا ہے کہ فرمان کی تکمیل تک نافرمانی کی کڑواہٹ سے پاک جذبِ احساس وجود کے نہاں خانوں میں گردش خون سے بھی اتنا خالص ہو جائے کہ دعائیں بے اثری سے محفوظ ہو جائیں اور رحمتیں ونعمتیں ظاہر و باطن کو وحدتِ ایمان میں یک جان دو قالب کی طرح پرو کر اظہار و افکار کےسمندر سے نکال کر عمل و کردار کے بہتے میٹھے چشموں کے پانی سے پیاسوں کو سیراب کرتا آگے بڑھتا چلا جائے۔
اللہ تبارک تعالی جب اپنے بندوں کو نمونہءعمل بناتا ہے تو راستوں کو ان کی مرضی کے تابع نہیں کرتا بلکہ ان کے دلوں کو اپنے خیال بندگی سے منور کر دیتا ہے۔ پھر تو نہ ہی امتحان ہوتا ہے نہ ہی نتیجہ اور نہ ہی منزل۔بس ایک راستہ ہے جو عین شباب آفتاب کی طرح روشن  جو پہلے قدم سے ہی اپنا رُخ متعین کر دیتا ہے۔ کسی کے دل میں عقیدتِ خیال کا طوفان برپا کر دیتا ہے تاکہ  عاشق محبوب رو برو  ہو جائیں۔ جہاں سوچ کے در بند ہو جاتے ہیں  اورچاہ کی زمین ،چاہت کے آسمان  ایک ہو جاتے ہیں۔ آنکھ صرف وہی دیکھتی ہے جو وجود سے باہر ہو ، اندر کہاں تک وہ اُتر پاتی ہے کسی خیال کسی احساس کی دسترس سے انتہائی باہر ہے۔اللہ تبارک تعالی کی محبت جن کا عشق ہو انہیں علم سے بے بہرہ سوکھے پتوں سے اُمید کی فصل اُگنے کی آس نہیں ہونی چاہیئے۔ آندھیاں صرف انہیں کو پھل بننے تک پہنچاتی ہیں جنہیں خوشبو اور ذائقہ دینا مقصود ہو باقی زرد پتوں کی طرح اُتر جاتے ہیں۔ زمین  سے اُٹھا کردرختوں پر لٹکانے سے اُمید بہار نہیں آ سکتی۔ کیونکہ لوٹنے کا وقت گزر چکا ، بڑھنے کا وقت ہے، پکنے کا وقت ہے، خوشبو پھیلانے کا آغازِ موسم ہے۔  مایوسیوں محرومیوں کی خزاں ،بہار کی آمد کا انتظار نہیں کرتی مگر اُمید ِنو اپنا سفر ادھورا نہیں چھوڑتی۔ظاہر کی قیاس میں باطن کی حقیقت پوشیدہ رہتی ہے۔
 اگر لفظ سچے ہوں تو پھر خیال بھی ہمیشہ سچا ہوتا ہے۔ گو مگو میں وہی رہتے ہیں جودنیا کی  عارضی شہرت کے  داعی ہوتے ہیں۔ مگر زندگی کی حقیقت عمل سے ثابت ہوتی ہے جب نفی خیال سے نکل کر وجود کو ریزہ ریزہ کر دے اورکھڑا ہو نے میں  بھی درد کی ہائے میں نا شکری نہ ہو۔رحمتوں کی اُمید بر آنے کا یقین ہو۔ جو حق کے ساتھ رہتے ہیں مایوسیاں ان کے قریب نہیں رہتیں۔کمزور پر نفس بھاری رہتا ہے ،مضبوط ایمان کی رسی کو تھامنے سے قوی ہو جاتا ہے۔ جہاں الفاظ اعمال پر بھاری ہو جائیں ،سفارش یقین کی سیڑھی بن جائے  وہاں چلتی ٹرین کے پیچھے بھاگنے سے منزل مقصود تک نہیں پہنچا جا سکتا۔ جہاں ایک ہی پٹڑی پر مخالف سمت جانے والی ٹرینیں پہنچیں تو مسافر اپنی سمت کی طرف سفر کریں گے۔ یہاں تعداد کوئی معنی نہیں رکھتی ۔ سیاست و تجارت میں تو ایسا ہو سکتا ہے مگر قیامت کا سفر اس سے مختلف ہے۔ جہاں اکیلا بھی جیت کر رحمتوں کی آغوش میں لپٹے گا۔
نئے سال 2017 کا سورج دنیا میں اسی طرح طلوع ہو گا  نئی قیاس آرائیوں کے ساتھ مگر شائد کسی کے لئے واضح اور حقیقت پسندی کی چکا چوند روشنیوں سے بھرپور تنہائیوں کا ابتدائے سفر، طالب کی تلاش و جستجو کے لئے ذکرِالأنفال۔

 تحریر : محمودالحق         

Saturday, August 22, 2015

برقی پیغامات

1 comments
رات کے پچھلے پہر جب انسان دنیا و مافیا سے بے نیاز خواب خرگوش کے مزے لے رہا ہوتا ہےتو بعض اوقات شدید پیاس کا احساس بند آنکھ کھول کر پانی تک رسائی کا راستہ دکھاتا ہے۔ ہاتھ لمبا کر کے گلاس اُٹھایا جاتا ہے  اور ہونٹوں سے لگا کر غٹا غت حلق سے نیچے اُتار لیا جاتا ہے۔ مشن مکمل ہونے پر آنکھیں پھر سے بند ہونے کے لئے تیار ہو جاتی ہیں۔اسی طرح کے کئی مواقع سے ہمیں روز انہ صبح سے شام تک گزرنا ہوتا ہے۔ ہمارے لئے یہ معمولات زندگی ہوتے ہیں سائنس اس کی کئی توجیحات پیش کرتی ہے۔ ہمارے ایکشن اور رویوں میں برین کا موٹر فنکشن شامل ہوتا ہے۔

پانی کا سادہ گلاس اُٹھانے کے لئے کن پٹھوں کو  استعمال میں لایا جائے کافی نہیں ہوتا، بلکہ گلاس کو کہاں سے پکڑا جائے،  اُٹھانے کے لئےکتنی قوت بروئے کار لائی جائے، گلاس میں کتنا پانی ہے ،گلاس کس میٹیریل کا بنا ہوا ہے بلکہ اس کی جزئیات کے بارے میں بھی برین مکمل چھان پھٹک کرتا ہے۔ برین کاوہ حصہ  موٹر کورٹکس کہلاتا ہے۔جہاں سے سگنل اعضاء تک پہنچائے جاتے ہیں اور ان کی نقل و حرکت کو کنٹرول کیا جاتا ہے۔


سائنس میرا موضوع نہیں اور نہ ہی آج کی تحریر برین کے کام کرنے کے طریقہ کار کو وضع کرنے کے لئے ہے۔ صرف اتنا بتانا مقصود ہے کہ ہم اپنے ظاہر کے ہر عمل سے واقف اور با خبر ہوتے ہیں مگر پس پردہ ہونے والےایکشن اور مشن سے مکمل طور پر بے خبر اور لا علم رہتے ہیں۔یا یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ سکن کے نیچے کی دنیا ہمیں اپنے ہونے کے احساس سے  لا علم رکھتی ہے۔چمڑی سے باہر کی دنیا کا ہر فعل مکمل  دکھائی دیتا ہے ۔ بھاگتے ہوئے توازن کیسے قائم رکھا جاتا ہے ، ایک ایک اعضاء دوسرے اعضاء کو سہارا دے کر یکجہتی کا کمال مظاہرہ کرتے ہیں۔ اجسام دو برابر حصوں میں تقسیم ہوتے ہیں جہاں دماغ کا بایاں حصہ جسم کے دائیں حصہ کو اور دماغ کا دائیاں حصہ جسم کے بائیں حصہ کو کنٹرول کرتا ہے۔ لیکن انسان پیدائش سے لے کر موت تک ان بھول بھلیوں سے لا تعلقی اختیار کئے رکھتا ہے کیونکہ مشن میں ایکشن بھی ہوتا ہے ری ایکشن بھی۔تلاش و جستجو کی ضرورت نہیں کیونکہ ہر کام اپنے وقت مقررہ پر پایہ تکمیل تک پہنچ جاتا ہے۔ 
اگر کہیں بہت تھوڑی  گڑ بڑ مشن کی تکمیل کے راستے میں حائل ہو تو جسم ہاسپٹل کے بستر پر پہنچ جاتا ہے۔ جہاں ڈاکٹر دوائی سے علاج معالجہ کرتے ہیں اور مزاج پرسی کے لئے آنے والے دعاؤں سےجو کہ مریض کی قوت مدافعت بڑھانے میں مددگار ہوتی ہے۔ مساجد میں با جماعت نماز کے بعد امام مساجد  سے بیماری سے شفا کے لئے خصوصی دعاؤں کے  لئےکہا جاتا ہے۔ مزاروں پر چادریں چڑھائی جاتی ہیں ،غرباء میں کھانا تقسیم کیا جاتا ہے۔ صدقہ و خیرات کیا جاتا ہے۔ ہمت و حوصلہ سے  لڑنے والے  بیماریوں سےجلد چھٹکارہ پا لیتے ہیں۔ دعاؤں کو جو طاقت بنا لیتے ہیں وہ دواؤں سے فوری نتائج حاصل کر لیتے ہیں۔جو صرف دواؤں ہی سے مسیحائی چاہتے ہیں ایک سے چھوٹ نہیں پاتے کہ دوسرے کا شکار ہو جاتے ہیں۔ 
دین و دنیا ہماری زندگیوں میں برین اور اجسام کی طرح ایکٹ کرتی ہے اور نتائج فراہم کرتی ہے۔مرئی اور غیر مرئی قوتیں بر سر پیکار ہوتی ہیں۔ظاہر یقین سے ربط رکھتا ہے باطن ایمان سے ، دنیا سبب سے منسلک ہے دین اعتبار سے۔پانچ وقت کی نمازیں رمضان کے روزے نماز عیدین اور قربانی کے فرائض کی ادائیگی کے تہوار و عادات اجسام کو چمڑی سے نیچے کے سفر پر گامزن کرتے ہیں۔ دنیا ایک جسم کی مانند دکھائی دیتی ہے جس کا برین دین اسلام ہے جو تا قیامت زندگیوں کی چھان پھٹک کرتا ہے۔تواز ن کو بگڑنے نہیں دیتا۔بدی کو پھیلنے سے روکتا ہے نیکی کو طاقت عطا کرتا ہے۔ ہزار جھوٹ کے مقابلے میں ایک سچ کو قوت دیتا ہے۔مغرور ، گھمنڈی اور متکبر امارت کے زعم میں عقل سے اندھے ہو جاتے ہیں۔جن کا وجود کے خاتمے کے ساتھ نام لیوا کوئی نہیں رہ جاتا۔ 
کلام مجید کا ایک ایک حرف اس کائنات کے چھپے رازوں کےبند قفل کی چابی ہے۔ جو دوا اور دعا دونوں کا کام کرتی ہے۔جو بیمار اجسام دواؤں کی تھوڑی مقدار سے ٹھیک ہو جائیں وہ دعاؤں کے طالب نہیں رہتے۔جنہوں نے دعاؤں سے شفاء پائی ہو وہ باآسانی جان جاتے ہیں کہ جس دنیا کے وہ باسی ہیں اس کا برین صرف قرآن ہے۔جو ہر فعل و عمل کی جزئیات تک رہنمائی فراہم کرتا ہےاور قوت مدافعت بڑھانے کے لئے  مددومددگار فراہم کرتا ہے۔ جو علم خوبصورتی میں لپٹا دانش یزداں کی آمیزش سے لمحاتِ پھیلاؤ  میں وقت کو سمیٹ لے وہ حسنِ زوالجلال کی نعمتوں کا شکر بجا لاتا ہے۔      

محمودالحق

Sunday, August 2, 2015

عمل کی رسی

0 comments
سنبھل سنبھل کر پاؤں رکھنے سے لے کر ذہنی یکسوئی تک توازن کا رکھنا بہت ضروری ہوتا ہے۔کشتی بنانے والا اس بات کا خیال رکھتا ہے کہ پانی میں کشتی کا توازن قائم رہ سکے اور سفر کرنےوالے محفوظ بھی رہیں اور پار بھی لگ جائیں۔یہی سوچ اسے سفر کرنے والوں سے ممتاز رکھتی ہے۔کیونکہ وہ اپنے فن میں یکتا ہوتا ہے۔ تند وتیز لہروں  سے نبردآزما ہونے کے لئے انتہائی باریک سوراخ بھی در خوراعتنا نہیں سمجھے جاتے۔کیونکہ ناخدا  کشتی سے باہر کی لہروں کے تھپیڑوں سے باآسانی نپٹ لیتے ہیں مگر فرش  کے سوراخ سے اُبلتے پانی انہیں جلد ساحل پر اُترنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔کیونکہ لنگرانداز ہونا  ڈوبنے سے بحر صورت بہتر ہوتا ہے۔کہنے والے کہہ چکے جان ہے تو جہان ہے۔ایسی جان جو ہمیشہ فن شناس کی قدردان رہتی ہے۔بے بہا دولت کا حصول بہترین کشتیوں اور تجربہ کار نا خداؤں کی خدمات کے حصول کا مقصد ٹھہر جاتا ہے۔جھیلوں دریاؤں آبشاروں پر سخت رسے پر چل کر پار کرنے کا زمانہ گزر چکا جب ایک وقت میں ایک انسان جان جوکھوں میں ڈال کر منزل مقصود تک رسائی پانے کی جدوجہد کرتا تھا ۔ یہ وہ وقت تھا جب کاغذی نوٹ اور علامتی سکے بننے اور ڈھلنے کے عمل سے شناسا نہیں تھے۔ 
وقت کے دھارے کے بدلنے کے ساتھ ساتھ تن آسانی کی عادت پروان چڑھتی گئی اور انفرادی محنت و مشقت  سے توازن قائم رکھنے کی روایت کمزور پڑتی گئی۔فاصلوں کو قریب کرنے کے لئے  اوروقت کو بچانے کے لئے ضرورتوں کو پھیلا دیا تو طرز طرز کی ایجادات نے جنم لینا شروع کر دیا۔جو یکبارگی کے فن کی محتاج تھی۔یہی وہ دور ہے جب انسان نے بے جان چیزوں کی کلوننگ کا آغاز کیا  اور ایک ہی خدو خال ،اوصاف و صفات جیسی ان گنت ہمشکل اشیاء کو انسانی زندگانی کی بنیادی ضروریات کا حصہ بنایا گیا۔قدرتی حسن و جمال میں اضافہ کرتے اشجار خود روئی کی بدولت جنگلات کی شان و شوکت تھے۔ جو وقت گزرنے کے ساتھ شجرکاری کی مہم کی بدولت انقلابات زمانے کے رحم و کرم پر ہیں۔
رات کی تاریکیوں میں جگمگاتے ستاروں کی روشنی سونے والوں کو بیدا رہنے پر مجبور رکھتی تھی۔جنہیں اندھیروں میں بھی  راستے صاف دکھائی دیتے تھے۔راہزن پہاڑوں غاروں کو اپنا مسکن بناتے تھے۔جہاں روشنیوں کا گزر نہ ہوتا ہو۔قافلے رات کھلے میدانوں میں پڑاؤ ڈالا کرتے تھے  شمعیں روشن رکھتے تھےاور دن میں سفر  کرتے تھے۔ ستاروں کی روشنیوں نے آبادیوں کو روشنی سے وابستہ کر دیا۔یہاں تک کہ آدھی رات کا پورا چاند بھی اپنی دلکشی و حسن کی رعنائیوں سے چاہنے والوں  کی نظر التفات سے محروم ہونے لگا۔ رنگ و نور کی برسات جو آنکھوں کو خیرہ کئے دیتی تھی وہ انہیں دائرے میں روشنی کے ہالے بن کر رہ گئے۔توانائی کے استعمال سے حرارت نے دھوئیں کے بادل کے روپ اختیار کر لئےجو نظر اور نور کے درمیان چلمنِ رقیب ہو گئے۔حسن کے جلوے نظروں سے اوجھل کیا ہوئے عشق نے محبوب کے خدو خال ہی بھلا دیئے۔ 
محبت بدن کی حرارت نہیں جو قریب آنے پر تشنگی مٹا دے یہ تو روح کی بلاغت ہے جو قربت کے خیال سے رنگ و نور  اور وجدانِ عشق کے درمیان  حائل حرارت کو مٹا دے۔ عشق میں جلنے والے محبوب سے لاتعلق ہو جاتے ہیں ۔ محبوب تک رسائی چاہنے والے کشتیوں میں بیٹھ کر نہیں رسیوں پر چل کر  آگ کے دریا پار کرتے ہیں کیونکہ یہ در نہیں جو دستک سےکھل جائیں۔ فطرت کا حسن جن کے اندر پہلی نظر کی محبت ،کونپل کی طرح کھلنے اور سخت تپتی جلتی ریت پر پانی کی گرتی بوندوں کی طرح ٹھنڈک کے احساس جیسا جاگزیں ہو، تو ہر رشتہ جو جسم و جاں سے نام و نسب کی منسوبیت رکھتا ہو بے معنی ہو جاتا ہے۔یہ میان سے نکلی دو دھاری تلوار کی مانند ہے جس کے سامنے مضبوط ڈھال کے ساتھ ساتھ مضبوط گرفت کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ سر پیش کرنے والے عاجزی کی مثال نہیں ہو سکتے ۔عشق زور کا طالب رہتا ہے۔جو کشش نہیں چاہت سے پروان چڑھتا ہے۔
مجازی محبت ایسی روشنی ہے جو آگ سلگانے سے پیدا ہوتی ہے جس کا اختتام جلنے پر ہوتا ہے۔عشق حقیقی قلب میں محبوب کے قرب و وصال کی باہم کشمکش سے پیدا ہوتا ہے جو روح کو منورکرتا ہے۔عمل کی مضبوط رسی ارتکاز کی کھائیوں سے باآسانی گزار دیتی ہے۔علم  سےعالم اور جاہل کا فرق نہیں جانا جا سکتا۔لفظ سوچ  کی شناخت ہوتے ہیں اور مفہوم علم و فکر کے۔ علم سوچ کی کشتی کی بجائے عمل کی رسی پر توازن قائم رکھنے کا عادی ہو تو سہارے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ 
اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھنے والے پار لگ جاتے ہیں۔جو توازن برقرار رکھنے کی متقاضی ہوتی ہے۔ جو قدموں کو لڑکھڑاہٹ سے باز رکھتی تو ذہن و سوچ کو قرآن و سنت پر یکسوئی پر آمادہ رکھتی ہے۔ بات علم کی ہو یا عمل کی عدم توازن سے گمراہی کی کھائیاں خوف میں مبتلا رکھتی ہیں۔ایجادات کی کلوننگ نے وجدان کو عقل کی کسوٹی پر پرکھنا  سکھا دیا ہے ۔ جہاں حرارت کی غیر موجودگی ٹھنڈک اور روشنی کی عدم دستیابی اندھیرے کی تعریف ہے۔وہیں اچھائی نہ ہونے کو برائی ہی مانا جائے گا۔زندگی کے مفہوم اندورنی و بیرونی فلسفہ حیات سے اخذ نہیں کئے جا سکتے۔زمین اور چاند کا کیا تعلق ہے ۔سورج کا زمین سے کیا رشتہ ہے ۔ اندھیرے روشنی سے روشن ہیں یا روشنی اندھیرے سے بندھی ہے ۔نئے پتے کھلنے کا موسم پت جھڑ کے موسم سے الگ ۔سورج کے ایک حصہ کے قریب پہنچ کر  ہمیشہ سردی دوسرے حصہ کے قریب  ہمیشہ گرمی کی شدت۔
سورۃ الانعام 
اور اسی نے آسمان سے پانی اتارا پھر ہم نے اس سے ہر چیز اگنے والی نکالی پھر ہم نے اس سے سبز کھیتی نکالی جس سے ہم ایک دوسرے پرچڑھے ہوئے دانے نکالتے ہیں اور کھجور کے شگوفوں میں سے پھل کے جھکے ہوئے گچھے اور انگور اور زیتون اور انار کے باغ آپس میں ملتے جلتے اور جدا جدا بھی ہر ایک درخت کے پھل کو دیکھو جب وہ پھل لاتا ہے اور اس کے پکنے کو دیکھو ان چیزوں میں ایمان والوں کے لیے نشانیاں ہیں ۔۔۹۹       

محمودالحق   

Sunday, July 6, 2014

خالی مٹکے بھرے مشکیزے

0 comments
میں بستر پہ آنکھیں کھول کر زمین پر کھڑا ہوتا ہوں تو آسمان زمین پر چادر پھیلا کر میرے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے۔مجھے اس احساس سے نکلنے نہیں دیتا کہ میں اس کی پناہ میں ہوں۔کسی ڈر یا خوف کے بغیر سینہ تان کر فخر سے پاؤں زمین پر جماتا ہوں۔انسانوں کی بھیڑ میں احساسِ تحفظ کسی سپر پاور کے حلیف ہونے جیسا ہوتا ہے۔تب اقتدار کے ایوانوں سے لے کر ہیرے جواہرات سے سجی دوکانوں تک بے وقعت اور بے مول دکھائی دیتی ہیں۔
جیت کے ایک لمحے کے انتظار میں ہار کے ماہ و سال شکوہ و شکایت کی بھٹی میں جلائے جاتے ہیں۔صبر و شکر کے مٹکے بھرے مشکیزوں کے انتظار میں سوکھ جاتے ہیں۔آنے کے انتظار میں بیٹھ رہتے ہیں۔ جا کر لانے کی تکلیف گوارا نہیں کرتے۔ سونے اور جاگنے میں صرف دیکھنے اور سننے کا فرق رکھا جاتا ہے۔حالانکہ یہ کھلی آنکھوں سے زماں و مکاں کی تلاش اور بند آنکھوں سے غفلت اور لا پرواہی کی کہانی بیان کرتی ہے۔
زندگی چولہے پر چڑھائی ہنڈیا کی طرح مرچ مصالحوں کی کمی بیشی سے پسند کے خوشبو و ذائقہ کو برقرار رکھنے تک محدود رکھی جاتی ہے۔پہلی نظر جس انتخاب پر ٹکتی ہے وہی منزل مراد ٹھہرتی ہے۔ اس سے آگے ہاں ناں میں ا’لفتِ جواز باقی رہ جاتا ہے۔ زندگی پیاز کی طرح ایک کے بعد دوسری پرت اُتارنے کا نام نہیں۔ کھیتی کی مانند پانی سے نم ہونے کے بعد اپنے ہی سخت وجود کو بار بار ہل چلا کر نرم کرنے کے بعد بیج کو پنپنے کے لئے ہموار و سازگار بناتی ہے۔فصلیں بوئی اور کاٹی جاتی ہیں مگر زمین اپنی جگہ تبدیل نہیں کرتی۔پھر وہی عمل دھراتی ہے۔بیج چاہے کوئی بھی ہو اپنی حیثیت و ہیئت میں فرق نہیں آنے دیتی۔زمین کی بےقراری کو جب انسان نہیں سمجھتا تو ان کے لئے پانی سے بھرے مشکیزے بادلوں کی صورت خشک مٹکے بھرنے خود آ پہنچتے ہیں۔
انسانی معاشرے میں جب سوچ بنجر ہونا شروع ہو جاتی ہے تو اللہ تعالی انسانوں میں خیالات کی پنیری اُگا دیتا ہے۔منجمد اور خشک سوچ دھیرے دھیرے رفتہ رفتہ آس و اُمید کی نمی پا کر فصل  کو پروان چڑھانے میں منطقی کردار ادا کرنے پر راضی ہو جاتی ہے۔ 
سہل انگاروں کا پیچھا پچھتاوے کرتے ہیں
گر ہوں عاجز تو خوف کے مارے ڈرتے ہیں
وحدہ لا شریک لہ کی امان میں جو نہیں رہتے
نفس کے کئی خداؤں سے وہ مرتے ہیں

محمودالحق

Wednesday, June 4, 2014

در کائنات

2 comments
آٹھ سال بعد آٹھ ماہ سے لاہور میں بیتے دن آٹھ دہائیوں کی کہانی میں اوراق کتاب کی مانند کبھی کھلتے تو کبھی بند ہورہے ہیں۔ شہر مجھے نیا نہیں مگر باسی اجنبیت میں مدرس میں داخل ہوتے پہلے قدموں کی ہچکچاہٹ کا عملی نمونہ بنے پھرتے ہیں۔
جب الف سے آدم کی الف سے اولاد نے الف سے اللہ کے نام کی پہچان میں در کائنات پر پہلی دستک دی۔ جہاں سے ہر دستک پر ایک ہی آواز آتی ہے کہ " تمام تعریفیں اللہ کے لئے جو تمام جہانوں کا رب ہے " ۔
جس نے جان کو جہان میں آدم کو فضیلت سے اپنا نائب بنایا۔ فرشتوں نے اس پر کہا کہ " جو اس میں فساد کرے گا اور خون بہائے گا۔ اور ہم تیری تعریف کے ساتھ تجھ کو بے عیب کہتے ہیں۔ اور تیری پاکیزگی بیان کرتے ہیں " ۔
تمام جہانوں کے رب نے کہا کہ " وہ بہت مہربان اور رحم کرنے والا ہے " ۔جیسا اس نے رحم کیا آدم پر " پھر اس نے آدم کی توبہ قبول کی بیشک وہ توبہ قبوم کرنے والا رحم کرنے والا ہے" ۔
اور توبہ قبول کی قوم موسی علیہ السلام کی " اس نے توبہ قبول کی تمہاری بیشک وہ توبہ قبول کرنے والا رحم کرنے والا ہے " ۔
جو عین شان رب العالمین ہے" بدلہ کے دن کا مالک ہے " چاہتا ہے کہ کائنات کا ہر زرہ اس کی حمدو ثنا  میں مصروف عمل رہے۔آدم یاد رکھے کہ وہ نائب ہونے کے ناطے صرف یہی پکارے کہ " ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں" ۔
جو اپنے راستہ سے بھٹک گیا ہدایت کے راستہ سے۔ انعام و اکرام کی خواہش کی بجائے جنہوں نے گمراہی اختیار کی اور بالآخر غضب کا شکار ہوئے۔
تمام جہانوں کا رب رحمن الرحیم آدم کو محبت و فضیلت کے سائے تلے دعا سے راست روی اور بخشش کا طلبگار بناتا ہے تاکہ فساد سے دور رہے۔

Saturday, May 24, 2014

تشنگی کی انتہا

5 comments
کائنات کی وسعتیں لا محدود ، تا حدِ نگاہ فاصلے ہی فاصلے،نگاہ اُلفت سے کھوج کی متلاشی مگرتھکن سے چُور بدن کا بستر پر ڈھیر ہو نا اپنی ذات پر احسانِ عظیم   سے کم نہیں ہوتا۔بظاہر  یک نظر تخلیق و حسن کے جلوے  آنکھوں پر لا علمی کی پٹی باندھ دیتے ہیں اور عقل پر دلیل کی۔حقیقت جانے بغیر سچائی تک رسائی ممکن نہیں ہوتی۔حقیقت جاننے کے لئے مخبر خیال مثبت و منفی رویوں کی چغلی کرتے پائے جاتے ہیں۔وسوسہ خیال کی جڑوں میں نا اُمیدی کی کھاد ڈالتا ہے۔جو اسے حقیقت بن کر سچ تک پہنچنے کے راستے کی دیوار بنتا ہے۔
حقیقت شناسی کا علم ایک سمندر ہے جس کی چاہ پانے والوں کی جزبیت  چڑیا کی چونچ میں سمانے والے قطروں سے زیاد نہیں۔ اللہ کی محبت جس دل میں سما جائے وہ  عشق کا ایسا سمندر ہے جس کی تشنگی ایک چڑیا کی چونچ میں سمانے والے چند قطروں سے ممکن نہیں۔آگ پانی سے دور اپنے آلاؤ روشن رکھتی ہے۔سمندر کے سینے پر جلنا آتش کے بس کی بات نہیں۔جب پانی اپنے بہاؤ سے ان راستوں پر گامزن ہو جاتا ہے تو  آگ کی چنگاریاں چیخ چیخ کر دم توڑ دیتی ہیں۔۔۔۔بچتا ہے تو صرف پانی ۔۔۔۔۔پیاس بجھانے سے لے کر سیراب کرنے تک  ۔۔۔۔دھرتی حدت سے نمو پانے کے نشے میں اُتر جاتی ہے۔
قلب عشق کا وہ سمندر ہے۔۔۔ جو اس کے وجود پر اُترتا ہے تو۔۔۔۔۔چند قطروں سے بیتابی ۔۔۔۔شادابی میں بدل جاتی ہے۔سمند ر کی تشنگی پیاس مٹانے میں ہے ۔۔۔۔۔خود مٹنے میں نہیں۔۔۔۔۔۔جو اعتماد اور چاہت کی کشتیوں کے بادباں کھول کر  عشق کے سمندر میں اُترتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ تو  عقیدت و احترام کی لہریں انہیں غرق کرنے کی بجائےبحفاظت کناروں تک پہنچا دیتی ہیں۔
محبت کے موتی چونچوں میں بھر کر وہ چڑیاں  ۔۔۔۔نفرت و حقارت کےجلتے آلاؤ میں ۔۔۔۔۔ڈالے جانے والے عاشقوں کو بچانے کے لئے  ۔۔۔۔چونچ میں بھرے محبت کے سمندر سے لائے ۔۔۔۔ چند قطروں سے آگ بجھانے میں مصروف ہو جاتی ہیں۔  وہ جانتی ہیں کہ یہ  پانی عاشق ِحقیقی کو  آگ سے بچانے کے لئے نا کافی ہے ۔۔۔۔۔۔ مگر عشق و محبت کی داستان میں وہ اپنا کردار نبھانا چاہتی ہیں۔تاکہ سچے عشق اور سچے عاشق کی نظر میں سرخرو ہو جائیں۔
تشنگی کی انتہا کیا ہے؟
 سمندر کا پانی ۔۔۔۔۔۔۔ جنگل کی آگ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ۔۔۔ایک  چڑیا کی چونچ   ۔۔۔۔۔۔۔۔ محبت کے سمندر سے چند قطرے پانی چڑیا کی چونچ میں عشق کی آگ بجھانے میں جب  ناکافی ہو جاتے ہیں ۔ ۔۔۔۔۔۔تو تشنگی کی انتہا ہے یہ ۔۔۔۔۔۔۔ پا کر بھی مکمل پایا نہ جا سکے۔۔۔۔۔۔ بجھا کر بھی مکمل بجھایا نہ جا سکے۔
برسہا برس سے  خوش نصیبی کو ترستی بنجر زمین ۔۔۔۔۔ جس کے اوپر سےبادل بن برسے گڑ گڑا کر  گزر جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔اسے چند قطرے سیرابی  کیفیت سے دوچار کر دیتے ہیں۔ یہ زمین کی تشنگی کی انتہا ہے ۔۔۔۔۔۔مگر بادل مکمل برس کرتحلیل ہونے سے سیراب ہونے کی کیفیت سے سرشار ہوتا ہے۔یہی اس کی تشنگی کی انتہا ہے۔
اشرف المخلوقات میں تشنگی کی انتہا جاننے کے لئے ۔۔۔۔۔  کیفیت سے زیادہ عقل کے ترازو پر رکھی سمجھ  بوجھ  ۔۔۔۔۔کانٹ چھانٹ کے بعد محتاط طرز عمل سے زیادہ تر پڑھی جاتی ہے سمجھی نہیں۔
کسی جزبہ ۔۔۔۔شدت احسا س۔۔۔۔۔۔افکار تخیل۔۔۔۔۔۔لمس لفظ ۔۔۔۔۔۔۔یا ۔۔۔۔۔قربتِ محبوب کی کسوٹی پر پرکھا نہیں جا سکتا۔
صرف اتنا جان لینے سے حقیقت حق کے ساتھ  ۔۔۔۔ ضمیر روشن کو آمادگی کی راہ پہ   ۔۔۔۔خوش آمدیدی نظریں بچھائے  ۔۔۔۔لینے آ جائے تو جواب مل جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔لینے کی جگہ اگر اللہ تبارک تعالی کی محبت کا سمندر ہو  ۔۔۔۔۔۔۔ پانے والی چڑیا ہو۔۔۔۔۔۔  دینے کی جگہ آگ میں ڈالا گیا عشق حضرت ابراہیم علیہ اسلام کا ہو ۔۔۔۔۔۔۔ تو پانے میں کمی اور دینے میں جان تک چلی جانے سے تسلی نہ ہو  تو
تشنگی کی انتہا کسے کہتے ہیں  ۔۔۔۔۔جان جاتےہیں۔


 تحریر ! محمودالحق

Sunday, April 20, 2014

سپرد رضا

4 comments

انتہائی بھوکے پرندے جب کسی دالان ، کھیت کھلیان میں بھوک مٹانے اترتے ہیں تو اپنی جانوں کو ہتھیلی پر نہیں رکھتے بلکہ اپنے کان اور آنکھیں خطرہ بھانپنے کے لئے کھلے رکھتے ہیں۔ہڑبونگ ادھم مچاتے بچے بھی انہیں موت کے فرشتے نظر آتے ہیں۔ جہاں انہیں کھانا کھانے سے زیادہ جان بچانے کی فکر لاحق ہو جاتی ہے۔دوسری طرف بعض جاندار بھوک مٹانے کے لئے آخری کھانا سمجھ کر مرنے مٹنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ حالانکہ پیدا کرنے والا ہی زندہ رہنے کی گارنٹی دیتا ہے۔پھر بھی جب کھلا نہیں سکتے تو پیدا کیوں کرتے ہو جیسا فلمی ڈائیلاگ کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی صورت سننے میں آ جاتا ہے۔ شادی بیاہ پر طوفان بد تمیزی برپا کرتے مہمان اتنے اہم نہیں ہو سکتے کہ زور قلم کو حرف نظر کر دیا جائے۔ اس لئے واپس موضوع کی طرف چلتے ہیں۔
پانی کے آٹھ گلاس پینا صحت بخش ہے۔ چائے مضر صحت ہے۔ چاکلیٹ ،سوڈا بچوں سے دور رکھنا اچھا ہے۔انڈے دودھ چاول روٹی کے ساتھ تازہ پھل کا استعمال صحت کی تر و تازگی کا سبب ہیں۔ شوگر کے مریض چینی کا استعمال کم کریں۔ ہائی بلڈ پریشر والے نمک سے پرہیز برتیں۔صبح یوگا تو شام کو سیر کریں۔رات بستر میں جلد گھسیں صبح جلد نکلیں۔بھاگم بھاگ دکان دفتر پہنچیں تھک ہار واپس پلٹیں۔ایک مکمل اور پابند زندگی جہاں شب و روز کوئی نیا تماشا نہیں جہاں بیماری میں پرہیز تو تندرستی میں گریز برتا جاتا ہے۔
اس اُمید پر سوتے ہیں کہ جاگنا ہمارا مقدر ہے۔ اس اُمید پر گھر سے نکلتے ہیں کہ واپس  لوٹنا  ہمارا مقدر ہے۔کوشش نامکمل ہی کیوں نہ ہو نتیجہ سو فیصد چاہتے ہیں۔
اگر سورج  نظام کائنات سے نکلنا چاہے تو نکلنے کی اجازت نہیں۔ بادل بے آب و گیاہ ریگزاروں تک پہنچنے کے پابند ہیں۔ کہیں ہوا کا کم دباؤ ارد گرد ہواؤں کو آندھی کی صورت وہاں پہنچنے پر مجبور کرتا ہے۔اللہ تبارک تعالی کی رحمتیں مایوسی کی بنجر زمین پر موسلا دھار برستی ہیں۔ جو نم رہتے ہیں وہ پروان چڑھتے ہیں۔جو روٹھے رہتے ہیں وہ سوکھے رہتے ہیں۔
کسی نے کچھ نہ کیا اسے بہت کچھ مل گیا  اور کسی نے بہت کچھ کیا مگر اسے بہت کم ملا۔ موت کفن قبر  بر حق مانتے ہیں۔ رزق عزت مقام پر حق جتاتے ہیں۔ حق کو جانتے ہیں مگر مانتے نہیں۔خالق سے محبت کے دعویدار ہیں مگر صرف جھکنے کی حد تک۔سچ تو یہ کہ حق ادا نہ ہوا۔ رحمان رحمت کے زینے سے سینے میں دسترس رکھتا ہے۔ غرور و تکبر زمین سے پاؤں کی دھول مثل اُڑتا ہے۔ کیسے کہیں ہم تجھ سے  راضی ہیں تو ہم سے راضی ہو جا۔ راضی بالرضا سے ہو گا۔
خالق سے محبت کا تقاضا ہے کہ سپرد رضا کر دیا جائے اس سے پہلے کہ سپرد خاک کر دیا جائے۔
 
 
تحریر ! محمودالحق

Monday, April 14, 2014

یا خدا یا خدا سن لے تو میری صدا

0 comments
 

یا خدا یا خدا سن لے تو میری صدا

خوشی گر کم نہیں غم رہتا نہیں سدا
 

موت پہ جن کے منڈلاتے سایہ رزقِ کفن کے

نفس ِ آدمیت سے کٹتے روحِ ایمان سے جدا
 

زمین سے چھپاتے عرش آسماں سے ٹکراتے

جھکتے نہیں جو اُٹھائے جاتے وہ نورالہدیٰ
 

خط تو آ چکا اطلاع کی رات ہے باقی

راستہ خود ہوتا روشن شب نہیں جن کی خوابیدہ
 

تامل ہے بے نام  اوسان پھر کیوں ہیں خطا

بھروسہ پہ جو رکھ دیتے اپنا سر سجدہ، خدا
 

کاغذی پیراہن سود و زیاں ہاتھوں ہاتھ میں

آب ریشم ہیں اوڑھ لیتے جو اپنی باطن ردا
 

کالی رات ہے قلم سیاہی ورق سیاہ پر

شہہ رگ سے جدا خود پہ پھر کیوں فدا
 

محمودالحق
 

۔۔۔٭۔۔۔
 


Tuesday, January 21, 2014

محبت میں جو رنگ آئے تیرا ہی خزینہ ہو

2 comments

محبت میں جو رنگ آئے تیرا ہی خزینہ ہو
زندگی کا ڈھنگ سکھایا تیرا ہی قرینہ ہو

آنسو تو چھپتے نہیں چلمن پلک سے رواں
قلبِ کثرت سے جو بہتا قلب پسینہ ہو

زندگی باطل تو موت حق سے نہیں رہتی جدا
طلسماتی دنیا ہے اُڑتا بادل تو برستہ مینہ ہو

خوف سے دبکتا کھلی آنکھ کا راز پنہاں
ہاتھ میں آبِ کوثر کا جام خواب دیرینہ ہو

زندگی کا عشق ہی عاشق بناتا دیوانہ ہے
مال و زر کھوجتا سوچتا ایسی ہی حسینہ ہو

آبی گزرگاہوں میں خشکی مسافر بردار ہوں
چمکتا چہرہ امبر تو روتی کیوں سکینہ ہو

ساحل سخت پتھریلا نیلا گہرا سمندر ہے
خوشیوں کو نظر لگتی دل میں جب کینہ ہو

اُڑتا پنچھی ہوا کا دانہ پانی زمیں میں
کوئلہ کان میں رہتا محمود وہی نگینہ ہو

خیال رست   /محمودالحق

۔۔۔٭۔۔۔


Friday, January 10, 2014

فیصلے یہی خدا کے مہر ثبتِ تقدیر ہیں

0 comments

فیصلے یہی خدا کے مہر ثبتِ تقدیر ہیں
وعدہ ہے اس کا کیوں پریشاں فکرِ تصویر ہیں

روشنیوں کا ہجوم ہے تاریکیوں کی تنہائی میں
خود سے ہیں جو جلتے ستارہء آسماں بے نظیر ہیں

تفریح طبع میں جنہیں قیام جیتے زندگیء ایام
پھول میں نہیں ارمان مہک بنتے اکثیر ہیں

چاہے دیواریں ہی اُٹھا دو یا پردے ہی گرا دو
چھپ نہیں پاتے باندھے نفسِ زنجیر ہیں

لٹتے اپنے ہی ہاتھوں بندگی زیست بیگانی ہے
مقام ان کے محمود ہیں نبھاتے جو حکمِ نذیر ہیں

بھروسہء جزا کے رکھتے جو توکل میں ایمان
مشرق ہو یا مغرب عمل ہی ان کے دستگیر ہیں

لگتے کہیں تو پکتے کہیں توشہء مخبون ہیں
قلب پہ ہیں جو رکھتے کلام لہنِ دلگیر ہیں

خدا سے جو جدا ہے زندگی ہی وہ خطا ہے
لکھا نہیں جاتا بےکار ترجمہ بھی تحریر ہیں

خدا نے جو آنکھیں دیں نظارہ پلکِ تصویر ہیں
قلبِ مکان میں یہ سب جہاں تو راہ گیر ہیں

جہاں وہ جاتے ہیں وہاں سے آتے نہیں
پھر کیوں ہیں رکھتے الگ الگ تدبیر ہیں

مغرب میں ہیں جو جاتے مشرق سے ہیں وہ آتے
پھر کیوں ہی یہ پلٹتے جمِ غفیر ہیں

خیال رست   /محمودالحق


۔۔۔٭۔۔۔

Monday, July 22, 2013

جس پر زمانہ فخر کرے وہ قلم تمہارا ہی تو ہے

0 comments


جس پر زمانہ فخر کرے وہ قلم تمہارا ہی تو ہے
جس پر زمانہ تجسس کرے وہ علم تمہارا ہی تو ہے

لفظوں سے جو کھلے وہ کتابِ گل تمہارا ہی تو ہے
مجھے صرف یہ خاک سب جہانِ کل تمہارا ہی تو ہے

ہوا کے دوش پہ ہے جو چلتا ابرِ کرم تمہارا ہی تو ہے
نظر ٹھہری جو ایک رخ وہ کعبہ حرم تمہارا ہی تو ہے

کوشش میں رہتے جو تلاش ِرزق تمہارا ہی تو ہے
دھارِ ایمان پہ ہے جو چلتا خلق تمہارا ہی تو ہے

آفتاب کرن سے ہے آبِ لشکارہ تمہارا ہی تو ہے
مہتاب کی چاندنی تو چمکتا تارا تمہارا ہی تو ہے 

۔۔۔٭۔۔۔
برعنبرین /  محمودالحق


Wednesday, April 25, 2012

روشنیوں کا شہر

0 comments


قمقموں سے بھرا ،چاروں اطراف روشنی پھیلاتا،قربتوں میں جگمگاتایہ شہر میرے پاک پروردگار کا بنایا ایک شاہکار ہے۔ روشنی کے سامنے رہوں تو میرا عکس مجھے روشن کر دے۔پلٹ جاؤں تو ایک جہاں روشن ہو جائے۔وہ ٹمٹماتے تاروں کے نظارے روشن کر دیتی ہے۔گھنٹوں انہیں دیکھنے سے جی نہ بھرے۔آنکھیں چکاچوند روشنیوں کے جلوے سے منور ہو جائیں۔بینائی کا سفر روشنی کی رفتار سے تیز ہے۔جو پلک جھپکنے میں کروڑوں میل کی مسافت طے کر لیتی ہے۔اگر جنت کا منظر آنکھوں میں بسا لے تو تسکین ایسی کہ نشہ ہونے لگتا ہے۔
ایک یہ بدن پل پل اکتاہٹ و بیزاری کی لت کا شکار رہتا ہے۔قدم اُٹھانے کی غلطی کریں تو گنتی پر اتر آتا ہے۔ہزار قدم کے سفر میں پڑاؤ کی تمنا رکھتا ہے۔دوزخ کے تصور سے ہی بدن آگ میں جلنے لگتا ہے۔ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں۔ اس کی جنت تو یہی دنیا ہے، مخملی بستر ، آرام دہ سفر، خوش رنگ لباس اور خوشبو بھری خوش ذائقہ خوراک ۔مٹی میں مل بھی جائے تو ایک آواز سے پھر بننے میں کوئی مشکل نہیں۔
انسان چکا چوند روشنیوں میں جینا چاہتا ہے۔مرکز کے قریب جہاں اسے عکس ویسا ہی نظر آئے جیسا وہ دیکھنا چاہتا ہے۔آئینے میں نفس کی آنکھ سے خوبصورتی کی منظر کشی کرتا ہے۔زمین پر بڑھتے گھٹتے سائے تو اسے نظر میں نہیں جچتے۔ جسے مبہم قرار دے کر کسی توجہ کے قابل نہیں سمجھا جاتا۔مٹی اسی کا نشان بناتی ہے جس پر اسے گرفت کرنی ہوتی ہے۔
جب انسان کے بس میں کچھ نہیں پھر وہ اپنے بس میں کرنا ہی کیوں چاہتا ہے۔ آقا غلام کا دور جا چکا۔اب حاکم محکوم کا دور ہے۔ حاکم مراعات یافتہ ، با اختیار طبقہ بھی کہلاتا ہے اور محکوم ،محروم وبے اختیار بھی سمجھا جا سکتاہے۔ جو بڑا نسان بھلے نہ بن سکے مگر خواب آنکھوں میں سجا کر بیوقوف ضرور بنتا ہے۔ دھوکہ انہیں دیا جاتا ہے جنہوں نے اعتبار کی خلعت پہنی ہو۔جھوٹ تب بولا جاتا ہے جب بے اعتباری کی کسوٹی پر پرکھا جاتا ہے۔
سورج کے مشرق سے طلوع ہونے اور مغرب میں غروب ہونے میں کسی شک کی گنجائش نہیں۔پھر روشنی اور ہوا کوگھروں میں داخل ہونے کے لئے دستک کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ جس پر شک نہیں اس کے راستے مسدود کر دئیے گئے۔ جس پر اعتبار نہیں انہیں گھروں میں بٹھا کر قفل لگا دیئے گئے۔ نقب لگانے کا موقع خود سے فراہم کر دیا اور بدن کی چیخیں سن کر بلبلا اُٹھے۔کیونکہ وعدے ہمیشہ عوامی ہوتے ہیں قومی نہیں۔ جب قفل بندعوام آزاد قوم نہ رہے تو وعدہ کرنے والے قومی نہیں ہوتے۔جو عوام آئینے میں عکس دیکھ کر پھولے نہ سمائے وہ انسانیت کے اس درجے تک جا پہنچتا ہے جہاں جھوٹ بالکل سفید ہو جاتا ہے دن کے اجالے کی طرح۔
کتابیں کھول کر معنی و مفہوم تلاش کرنے سے مخلوق مخلوق سے بیگانی ہوتی ہے۔خالق سے پہچان ایمان کی بدولت ہوتی ہے۔کروڑوں میل کی مسافت طے کرنے والی آنکھیں چند میٹر سے آگے زندگی کا مفہوم جاننا نہیں چاہتیں۔گھر بار ، دولت کے انبار اور کار ہی نعمتوں میں شمار رہ جاتی ہیں۔ستاروں پر کمند ڈالنے کے دعویدار اپنا عکس دیکھنے سے فارغ نہیں ہو پاتے۔آسمان پر جگمگ جگمگ کرتے تارے انسانی آنکھ کی محبت سے محروم رہ گئے۔جن کے لئے یہ منظر سجایا گیا انہوں نے مہمان گھروں میں بٹھا کر قفل چڑھا رکھے ہیں۔ یہ شہر انوار ہے جہاں روشنی کا مکمل اعتبار ہے۔ بندشیں صرف نیند سے ہیں۔ مگر رہنا وہاں پسند کرتے ہیں جہاں بندشیں غفلت سے ہیں۔قفل کھول کر گھر سے باہر کھلے آسمان تلے بیسیوں تارے ٹمٹما کر اپنائیت کا اظہار کرتے ہیں۔ مگر قفل کھولنے والے بیس ملنے بہت مشکل ہیں۔ اگر انسان نقصان اُٹھانے والا نہ ہوتا تو ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر بھی نہ ہوتے۔جنہیں دین مکمل مل گیا دنیا ان کی آج بھی نا مکمل ہے۔جہاں وعدوں کا پاس نہیں سچ کا ساتھ نہیں، وہاں جھوٹے ،وعدہ خلاف بے ایمان بھی ہوں گے اور کرپٹ بھی۔
روشنیوں کے شہر میں واپس لوٹنا ہو گا جہاں دیدہ ور کو پیدا ہونے میں ہزاروں سال کے انتظار کی سولی پر نہ لٹکنا پڑے۔ نظر کے وہ جلوے قفل عقل کو توڑتے ہوئے قلب رب کے ذکر کے ورد میں روشن ہوتے جائیں۔


تحریر : محمودالحق

Sunday, April 22, 2012

پھول کھلتے ہیں گلستان میں جلتا ہے بیاباں

0 comments

پھول کھلتے ہیں گلستان میں جلتا ہے بیاباں
رحمتوں کی ہر دم نوازش شکرِ کلمہ پر ہے زباں

گلِ نام میں کیا رکھا ہے خوشبو تو خود نامہ بریں
آندھی کے آم چنتے جاؤ بے پرواہ ہے باغباں

آنکھ سے گر لہو ٹپکے گوہر فشاں بن بھڑکے
نظر کرم ہو اس کی آگ بھی ہو جائے روحِ پاسباں

گھر یہ گر میرا ہے مکیں نظر میں کیوں جچتے نہیں
تن پوشاکِ مالابار قلب کیفیت غریباں

جواب پڑھ کر بھی جو سوال سے ہٹتے نہیں
اندھیروں میں بھٹکتے ڈھونڈتے پھر کیوں نیاباں

آفتاب کو دھکایا کس نے مہتاب کو چمکایا کس نے
زروں سے جو پہاڑ گرا دے وہی تو ہے نگہباں

کچھ پڑھا ہوتا کچھ تم نے بھی سمجھا ہوتا
یہ نہ بھولا ہوتا ہجومِ بھیڑ ہیں حصار غلہ باں

علم کا کال ورقِ علم کالا تحریر ہے کہاں
نقطوں پہ تحریریں لفظوں میں زمانہ علم و ادباں

۔۔۔٭۔۔۔

 بر عنبرین / محمودالحق

بہت مشکل میں ڈال دیا میرے کلامِ انتخاب کو

0 comments

بہت مشکل میں ڈال دیا میرے کلامِ انتخاب کو
زمین کو ہے پردہ کھلا ہے سب آفتاب کو

چلو آج ایسے ہی میزان میں بات کرتے ہیں
روکو شاخِ شجر کو پھیلے جو گلِ بیتاب کو

جذباتِ قلب کو میری عقلِ گرہ سے نہ باندھو
قید میں رکھو ارمان جانے دو وصلِ سحاب کو

میرا گھر مجھے اچھا رہو اپنے محلِ پوشیدہ میں
چراغ تو جلتا نہیں روکو ہوا یا حباب کو

کھلی آنکھ سے جو دیکھتے وہ منظر میرا نہیں
قلب کو چیر دے قلم میرا انجمن احباب کو

ساز ردھم رنگ دھنک نہیں موم اشک بار میں
کاغذی پھولوں سے بھرتے کس خوشنما کتاب کو

۔۔۔٭۔۔۔

بر عنبرین / محمودالحق

ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں

0 comments



گندم کی کھڑی پکی فصل کے قریب چنگاریوں کو ہوا نہیں دی جاتی۔محنت کی محبت کا جنازہ سیاہ خاک سے اُٹھایا نہیں جاتا۔بچپن کا بھولپن جوانی کی دلنشینی سے تھپتھپایا نہیں جاتا۔بڑھاپا جوانی کے در پہ دستک سے رکوایا نہیں جاتا۔کہیں تو کچھ ایسا ہے جو مزے سے نیند نہیں دیتا۔چین سے جاگنے نہیں دیتا۔ادھوری خواہشوں سے جینا لولی لنگڑی زندگی جینے سے پھر بھی بڑھ کر رہتا ہے۔مگر شخصیت کا ادھورا پن کبھی پہلی سے چودھویں کے چاند تو کبھی پندرھویں سے تیسویں کے چاند جیسا ہوتا رہتا ہے۔جس کا مقصد صرف دن گننے رہ جاتے ہیں۔
خیالوں میں پھول کھلانا نہایت آسان ہے مگر خوشبو صرف سونگھنے سے موجودگی کا احساس دلاتی ہے۔جو کلی سے مرجھانے تک وجودِ ناتواں سے عشق بہاراں کا جشن مناتی ہے اوربدنصیب کانٹے شاخوں میں رہیں تو رقابت سے ہاتھوں کو تختہ مشق بناتے ہیں۔ ٹوٹے پڑے زمین پر دھول سے اَٹے پاؤں پر بھی حملہ آور رہتے ہیں۔ریزہ ریزہ ہونے تک تکبر کے نشہ سے مستی میں رہتے ہیں۔رقابت میں جل جاتے ہیں مگر محبت میں جینا نہیں سیکھ پاتے۔
عورت زندگی میں چھت کی طلبگار رہتی ہے۔مرد گھروندوں میں اپنے گھرانہ کے لئے تین مرلہ سے تین کنال کے گھر کی جستجو میں پیٹ پر پتھر باندھنے پر بھی آمادہ دکھائی دیتا ہے۔کھلی زمین میں ایک جگہ کو مقامِ محمود کا نام دئیے ایک عرصہ بیت گیا۔ان دیواروں کو ترستے ترستے ایک عمر بیت گئی۔جن پر لکیریں کھینچ کر چڑیا ، طوطا جیسے نقش و نگار بنا پاتے بچے۔جن کا بچپن دیواروں کی محبت کے بغیر جوانی کی دہلیز تک جا پہنچا۔جہاں دروازوںسے گزرنے تو کھڑکیوں سے جھانکنے کی عادت تک زندگی محدود ہو جاتی ہے۔
پانے کا نشہ شیر کے اپنے شکار کی گردن میں دانت گاڈ کر خون بہانے جیسا ہے اور کھونے کا کھسیانی بلی کے کھمبا نوچنے جیسا۔کاش اور اگر جیسے الفاظ اپنی اہمیت کا احساس نقصان و ناکامی میں زیادہ دلاتے ہیں۔بنا چھت کے گھر بادوبارں کے طوفان سے بچائے نہیں جا تے اور دخول و خروج کے راستے اگر کھلے بھی ہوں تو تحفظ کا احساس مٹنے نہیں دیتے۔
آسمان سے کبھی کچھ گرتا نہیں ، زمین سے کچھ اُٹھتا نہیں۔ٹانگوں پہ کھڑی پاؤں پر چلتی وجود ہستی ء انسان زمین پر نخلستانی زرے سے زیادہ نہیںاور زمین اس کائنات میں ایک زرے سے زیادہ نہیں۔سائنس نے کائنات کے دوسرے حصے تک فاصلے کا وقت اندازے سے متعین کر دیا۔صرف پانچ بلین سال اور وہ بھی نوری۔ اب دیر کس بات کی چاند و مریخ کے پروگرام ہی موخر کر دئیے۔ جب اونچی دیوار کے ساتھ انگور کے گچھے لٹکے ہوں تو وہ ہمیشہ کھٹے ہوتے ہیں۔
راز جاننے کی جستجو اندھیرے میں کالے دھاگے کی نسبت سفید تک پہنچنے جیسی آسان ہوتی ہے۔جیسے کبھی کبھار نقصان اُٹھا کر بھی سکون کی نعمت سے انسان مالامال رہتا ہے۔ویسے اکثر توقع سے کم نفع ملنے پر پریشانی کی صلیب پر لٹکنا پسند کرتا ہے۔یہاں تک پہنچنے کے لئے ''کہ سکون کے لمحات پہاڑوں کی طرح کوفت وبے چینی کی زمین میں کیل کی طرح گڑ جائیں''فاصلے ایسے طے کئے جاتے ہیں جیسے آنکھوں کی روشنی لاکھوں نوری سالوں کے فاصلے پر تیرتے جہانوں کو ایک نظر سے شکار کر لیتی ہے۔
قرآن کے الفاظ کئی بلین سال کا فاصلہ ایک پل میں محبوب خدا تک پہنچنے میں طے کر لیتے ہیں۔اس کلام کا ایک ایک لفظ عبادت ہے۔کائنات کے کروڑوں سالوں پر پھیلے فا صلے وجودِانسانی کو آرائش و زیبائش سے بدگمان کر دیتے ہیں۔نماز فرض عبادت ہے،اگر یہ سوچ کر پڑھی جائے اللہ سبحان تعالی کو بندے کی زبان سے اپنا ذکر محبوب ہے تو یہ عشق کے نشہ میں ڈھل جاتی ہے۔اس کا ذکر ہر پریشانی سے مستقبل کے ان دیکھے خوف سے، عدم تحفظ کے احساس سے، زندگی کی محرومیوں کی ندامت سے، رشتوں کی جھوٹی انا کی رقابت سے، خودنمائی کے احساس کی حرص سے نجات دلا کر سچائی کی روشنیوں سے راہ دکھاتا ہے۔صبر کا دامن اتنا پھیل جاتا ہے کہ دعاؤں کی جھولیاں کم پڑ جاتی ہیں۔
ایک غیر مسلم اس حقیقت سے آشنائی پاگیا۔سچائی کی تلاش میں صراط مستقیم پر چلنے کی رضامندی سے ہی سکون کے گہرے سمندر سے خوشیوں کی موتی بھری سیپیاں سمیٹنے لگا۔مگر پیدائش کے فوری بعد جس کے کان میں اللہ اکبر اللہ اکبر کا پیغام پہنچا وہ کان آج بھی حقیقت پسندانہ سچائی کی تلاش میں بھٹک رہا ہے۔علم کے قلم سے سچائی کی کتاب پر سنہری حروف میں لکھنا مقدر سمجھتا ہے۔سچ کو عقل کے پیمانہ سے ماپنا چاہتا ہے۔تصدیق کے لئے تحقیق کا سہارا چاہتا ہے۔ہبل سے اُتاری گئی تصویریںخوش رنگ امتزاج سے آگے بحث کے قابل نہیں رہتیں۔وہ اپنی تعریف کے لئے لفظوں کے سہارے کی پابند نہیں۔مگر قرآن نے کسے مخاطب کیا اسے جاننا ضروری سمجھا جاتا ہے۔
اس پیراگراف تک پڑھ کر جو پہنچے ہیں،ان میں ایک الفاظ کے بہاؤ میں بہتے چلے آئے ہیں۔جن کے لئے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ اس تحریر سے حاصل کیا مقصود ہے۔زندگی پہلے ہی مکمل اور خوبصورت ہے۔اب مزید سوچ کے بار سے ضرب افکار کی کیا ضرورت ہے۔
دوسرے وہ ہیں جنہیں مسائل اور پریشانیوں نے ستا رکھا ہے۔ہر طرف اُڑانیں بھرتے بھاری بھر کم مقابل حریف چتکرنے کے درپے ہیں۔بار بار میدان میںاُترنے کا چیلنج دیتے ہیں ۔ ایسے بہت سے چیلنجز گزر چکے۔کئی ایک اب بھی سامنے کھڑے ہیں۔مگر چیلنج کرنے والے سکونِ قلب کی نعمت کے نخلستان میں بکھرے ایک زرے سے زیادہ نہیں۔ وجود میںسکون کے احساس کا ایک سمندر صبر کی لہروں سے بے یقینی اور بد دلی کے ساحلوں سے ٹکراتا رہتا ہے۔
ضرورت سے زیادہ دنیا کی آرائش و زیبائش لالچ و حسد کی حدیں پھلانگ لے تو ایک وقت کے بعد ندامت ملامت نہ بھی بنے تو کم از کم صداقت نہیں رہتی۔جو سچائی سے منہ چھپاتے ہیںوہ کلامِ پاک تک پہنچنے کا راستہ قلب سے نہیں طے کر پاتے بلکہ رگوں میں دوڑتے لہو سے لیفٹ رائٹ حصوں پر مشتمل دماغ کے خلیات سے جانچنے پرکھنے کے کیمیکل اثرات کے زیراثر اپنا فیصلہ سناتے ہیں۔شاگرد جب خود استاد کے منصب تک پہنچ جاتے ہیں۔تو وہ اپنے پسندیدہ اساتذہ کے خود پر آزمائے فارمولوں کے ساتھ ساتھ تربیت میں کمی رہ جانے کیوجہ بننے والے نئے فارمولے بھی آزماتے ہیں۔پھر یہ سلسلہ نئی نئی جہتیں متعارف کرواتا ہے۔سیکھنے اور سکھانے کا عمل ایک کے بعد ایک چھ سات دہائیوں میں ختم ہوتا رہتا ہے۔مگر کسی بڑی نئی تبدیلی کا مظہر پانچ دہائیوں میں ایک بار ہی ہو پاتا ہے۔زیادہ تر پیروی ہوتی ہے۔رہنمائی کا علم صدی میں ایک دو کے ہاتھ ہی لگتا ہے۔جو شاگردی میں جنونی ہوتے ہیں وہ استادی میں انوکھے ہوتے ہیں۔بقول غالب!
مشکلیں اتنی مجھ پر پڑیں کہ آساں ہو گئیں
مگر اقبال  کا کہنا ہے کہ
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

تحریر : محمودالحق