Showing posts with label برگِ بار. Show all posts
Showing posts with label برگِ بار. Show all posts

Thursday, January 5, 2012

ذرا سا خمیر اُٹھے

0 comments
متزلزل ایمان ،بچھڑا معبود تو کبھی تحریف کتاب
پالنا گروہی تو اب دکھائی دیتے ہیں استعجاب

کرنوں کی برسات ہے یہ مہتاب و آفتاب
رحمتوں کی سوغات ہے یہ جہانِ آب و تاب

نہیں رکھتا شہباز شوقِ ہما سرخاب
جینے کی جان نکال لیتی ہے اذیتِ خواب

دیتا ہے وہ چھپر پھاڑ کر بے حساب
شعور زمان سے اونچا ہے علم الکتاب

یقین محکم ہو تو ریگستان بھی ہو آب الباب
عقلِ خرد کو تو بہتی برستی دنیا بھی ہے سراب

عشقِ جنوں میں ہے دل بیقرار و بیتاب
ذرا سا خمیر اُٹھے تو ہے مے بھی آب

محمودالحق

Tuesday, February 15, 2011

آپ ﷺجزاب ہو راہِ صواب ہو

0 comments
آپ ﷺجزاب ہو راہِ صواب ہو
زرِ ناب ہو خندہ آفتاب ہو

اللہ اللہ یا رسول اللہ
اللہ اللہ یا محبوب اللہ

آپ ﷺرشاد محبوبِ رب العباد ہو
پرِ سرخاب ہو تَسخیرِ ماہتاب ہو

اللہ اللہ یا رسول اللہ
اللہ اللہ یا محبوب اللہ

آپ ﷺ اِتساہ باصفا اذعان ہو
باغِ رضوان ہو توقیر الوہاب ہو

اللہ اللہ یا رسول اللہ
اللہ اللہ یا محبوب اللہ

آپ ﷺ روشن سواد دل نہاد ہو
رشادی روشن جہان ِ تاب ہو

اللہ اللہ یا رسول اللہ
اللہ اللہ یا محبوب اللہ

آپ ﷺ چمن دلبہار اشہر نجم اطہر ہو
ہم صادق الاعتقاد کو امید ِ حسن الماب ہو

اللہ اللہ یا رسول اللہ
اللہ اللہ یا محبوب اللہ

میرے دلِ چاک کو آپ ﷺ فرحت ناک ہو
میں گوہر بے آب ہوں آپ ﷺگوہر خوش آب ہو

اللہ اللہ یا رسول اللہ
اللہ اللہ یا محبوب اللہ

میں مشت خاک ہوں آپ ﷺمصحف پاک ہو
میں نقش بر آب ہوں آپ ﷺنگہت مآب ہو

اللہ اللہ یا رسول اللہ
اللہ اللہ یا محبوب اللہ


برگِ بار / در دستک
محمودالحق

Friday, July 9, 2010

آپۖ جذاب ہو راہ صواب ہو

0 comments


آپۖ جذاب ہو راہ صواب ہو
زر ناب ہو خندہ آفتاب ہو
اللہ اللہ یا رسول اللہ
اللہ اللہ یا محبوب اللہ

آپۖ رشاد محبوب رب العباد ہو
پرسرخاب ہو تَسخِیرِماہتاب ہو
اللہ اللہ یا رسول اللہ
اللہ اللہ یا محبوب اللہ

آپۖ اتساہ با صفا اذعان ہو
باغ رضوان ہو توقیر الوہاب ہو
اللہ اللہ یا رسول اللہ
اللہ اللہ یا محبوب اللہ

آپۖ روشن سواد دل نہاد ہو
رشادی روشن جہان تاب ہو
اللہ اللہ یا رسول اللہ
اللہ اللہ یا محبوب اللہ

آپۖ چمن دلبہار اشہر نجم اطہرہو
ہم صادق الاعتقاد کو امید حسن المآب ہو
اللہ اللہ یا رسول اللہ
اللہ اللہ یا محبوب اللہ

میرے دل چاک کو آپۖ فرحت ناک ہو
میں گوہر بے آب ہوں آپۖ گوہر خوش آب ہو
اللہ اللہ یا رسول اللہ
اللہ اللہ یا محبوب اللہ

میں مشت خاک ہوں آپۖ مصحف پاک ہو
میں نقش بر آب ہوں آپۖ نگہت مآب ہو
اللہ اللہ یا رسول اللہ
اللہ اللہ یا محبوب اللہ


برگِ بار / محمودالحق

آپۖ جذاب ہو راہ صواب ہو

0 comments
آپۖ جذاب ہو راہ صواب ہو
زر ناب ہو خندہ آفتاب ہو
اللہ اللہ یا رسول اللہ
اللہ اللہ یا محبوب اللہ

آپۖ رشاد محبوب رب العباد ہو
پرسرخاب ہو تَسخِیرِماہتاب ہو
اللہ اللہ یا رسول اللہ
اللہ اللہ یا محبوب اللہ

آپۖ اتساہ با صفا اذعان ہو
باغ رضوان ہو توقیر الوہاب ہو
اللہ اللہ یا رسول اللہ
اللہ اللہ یا محبوب اللہ

آپۖ روشن سواد دل نہاد ہو
رشادی روشن جہان تاب ہو
اللہ اللہ یا رسول اللہ
اللہ اللہ یا محبوب اللہ

آپۖ چمن دلبہار اشہر نجم اطہرہو
ہم صادق الاعتقاد کو امید حسن المآب ہو
اللہ اللہ یا رسول اللہ
اللہ اللہ یا محبوب اللہ

میرے دل چاک کو آپۖ فرحت ناک ہو
میں گوہر بے آب ہوں آپۖ گوہر خوش آب ہو
اللہ اللہ یا رسول اللہ
اللہ اللہ یا محبوب اللہ

میں مشت خاک ہوں آپۖ مصحف پاک ہو
میں نقش بر آب ہوں آپۖ نگہت مآب ہو
اللہ اللہ یا رسول اللہ
اللہ اللہ یا محبوب اللہ


برگِ بار / محمودالحق

Wednesday, February 24, 2010

محبوب خدا سفارش کرنا

0 comments
آپۖ کے نور کی ہے جلا محبوب خدا سفارش کرنا
میری آتش عشق کو بڑھکاۓ ردا کی ہوا
محبوب خدا سفارش کرنا
ہرعاشق کا سلام میرے وجود سے ہو کر گزرے
آپۖ کے در آتی ہر گلی کا ہو جاؤں خاک پا
محبوب خدا سفارش کرنا
عقیدت و محبت میں ہر جالی سے گزر جاؤں
قدموں میں مسل مسل کر ہو جاؤں ہوا
محبوب خدا سفارش کرنا
آپۖ کی رحمتوں کو بن کے ہوا سمیٹ لوں
گھر گھر دستک دوں ہو جاؤں صدا
محبوب خدا سفارش کرنا
مجھ بےعلم کے آنسوؤں کو گر مل جاۓ زباں
صحرا میں عقیدت کے پھول دوں کھلا
محبوب خدا سفارش کرنا
مدینہ شہر مجھے نظر آتا ہے گنبد
ہر ذرہ کو دیکھتا ہوں پڑھتے ہوے ثنا
محبوب خدا سفارش کرنا
آپۖ ہی کی طریقت ہو میری اِتِّباع پَیراہَن
میرا قلب پڑھے لا الہ الااَللہ نظر آوں گدا
محبوب خدا سفارش کرنا
روح ایمان کرے بیان آپۖ ہی کی شان
برق شِتاب ابصار کی ہے ابتغا
محبوب خدا سفارش کرنا


برگ بار / محمودالحق

Saturday, January 23, 2010

تیری عنایات ہیں اتنی کہ سجدہء شکر ختم نہ ہو

1 comments
تیری عنایات ہیں اتنی کہ سجدہء شکر ختم نہ ہو
تیرے راستے میں کانٹے ہوں میرا سفر ختم نہ ہو
پھیلا دوں روشنی کی طرح علم خضر ختم نہ ہو
توبہ کرتا رہوں اتنی میرا عذر ختم نہ ہو
سجدے میں سامنے تیرا گھر ہو یہ منظر ختم نہ ہو
تیری رحمتوں کی ہو بارش میرا فقر ختم نہ ہو
مجھ ادنیٰ کو تیرے انعام کا فخر ختم نہ ہو
جہاں جہاں تیرا کلام ہو میرا گزر ختم نہ ہو
تیری منزل تک ہر راستے کی ٹھوکر ختم نہ ہو
آزمائشوں کے پہاڑ ہوں میرا صبر ختم نہ ہو
زندگی بھلے رک جائے میرا جذر ختم نہ ہو
وجود چاہے مٹ جائے میری نظر ختم نہ ہو
تیری اطاعت میں کہیں کمی نہ ہو میرا ڈر ختم نہ ہو
بادباں کو چاہے کھینچ لے مگر لہر ختم نہ ہو
خواہشیں بھلا مجھے چھوڑ دیں تیرا ثمر ختم نہ ہو
تیری عبادت میں اتنا جیئوں میری عمر ختم نہ ہو
بھول جاؤں کہ میں کون ہوں مگر تیرا ذکر ختم نہ ہو
جاگوں جب غفلتِ شب سے میرا فجر ختم نہ ہو
تیری محبت کا جرم وار ہوں میرا حشر ختم نہ ہو
تیری حکمت سے شفایاب ہوں مگر اثر ختم نہ ہو
میرے عمل مجھ سے شرمندہ ہوں مگر فکر ختم نہ ہو
منزلیں چاہے سب گزر جائیں مگر امر ختم نہ ہو
سپیدی و سیاہی رہے نہ رہے مگر نشر ختم نہ ہو
دن چاہے رات میں چھپ جائے مگر ازہر ختم نہ ہو



برگِ بار / محمودالحق

جس کو ملے حکمِ اذاں

0 comments
جس کو ملے حکمِ اذاں غلام سے سردار ہو جائے
اگر عبادت میں ہو دکھاوا تو انکار ہو جائے
بات گر حد سے بڑھے تو تکرار ہو جائے
تقاضا بار بار ہو تو اصرار ہو جائے
منظر جو دکھا دیا تو علمبردار ہو جائے
نظر سے جو چھپا لیا تو اسرار ہو جائے
عشق کی ہے انتہا ہر پتے میں دیدار ہو جائے
گل جو سونگھ لوں دل بیقرار ہو جائے
نیکی زبان زدِ عام ہو تو بیکار ہو جائے
لفظوں کو جب ملے زبان تو شاہکار ہو جائے
عقل خرد تو شعورِ علم سے بیزار ہو جائے
شاہانہ مزاج ہی اس کا سرکار ہو جائے
مومن کا عملِ صالح تو سالار ہو جائے
ضعیف الایمان تو صرف رضاکار ہو جائے



برگِ بار / محمودالحق

میوہ و مہک سے گر تو اکتائے

0 comments
میوہ و مہک سے گر تو اکتائے تو لوٹا دینا
نعمتیں حسرتوں سے بڑھتی پائے تو لوٹا دینا
آنسو غم سے خوشی میں ڈھل جائے تو لوٹا دینا
تکبرِ پا سے خاک سر کو آئے تو لوٹا دینا
آب کو گر آگ گرمائے تو لوٹا دینا
گل مہکنے کے بعد مرجھائے تو لوٹا دینا



برگِ بار / محمودالحق

بلبل تو جگنو کی روشنی کی ہے طلبگار

0 comments
بلبل تو جگنو کی روشنی کی ہے طلبگار
ظلمتِ شب تو درویش کو ہیں نورِ مینار
خیالِ مراتب ہو جہاں وہ ہے شاہی دربار
شاہ و گدا صرف وہیں کھڑے ہیں ایک قطار
جسے جس کی تمنا وہی ہے اس کا دلدار
جھکنا اس کو اچھا احسان کا نہیں جو روادار
دامن بھر بھر لیتے ہیں وہ زرِ انگار
تہی دَست کو ملتا ہے گلستان و گلزار
تجھ پہ موقوف چاہے تو دربار یا انوار
مہکنے کو تو گل ہی ہو گا خار دار
گر تو قید یہاں وہاں سے نہیں راہِ فرار
سمجھ اس بات کو وہ تو ہے بڑا مددگار
اس بازی میں تو جیت ہے یا ہار
ایک میں بیقراری ایک ہے گلزار
کیا مشکل ہے گر ہو جائے تھوڑا ابرار
ورنہ تو ہر طرف ہی ہے فگار و ضرار
کوئی کہے کہ اب نہیں ہوتا انتظار
میرے لیے تو کافی ہے یہی اشکبار
مانگیں پناہ خُدا سے سب دل آزار
خود سے تو کبھی اوروں سے بیزار
تَکبر سے جب اپنے ہوتے ہیں لاچار
ڈھونڈتے ہیں اپنے لیے پھر راز دار
تیرے عشق جنوں کا ہے مجھے خَشِیت بخار
نہیں ضرورت باقی اب کسی مسیحاء تیماردار



برگِ بار / محمودالحق

عشق کا رنگ ہو غالب

0 comments
اک رُت آنے سے اک رَنگ جاتا ہے
عشق کا رنگ ہو غالب تو اُٹھایا سنگ جاتا ہے
دیوار میں چنوائی تو تاریخ کہلاتی ہے
عاشق کا جنازہ تو موت کے سنگ جاتا ہے



برگِ بار / محمودالحق

سیاست کے میدانوں کے بڑے شکاری

1 comments
سیاست کے میدانوں کے وہ بڑے شکاری
ملک و قوم ہے انہیں صرف پارک سفاری

آئین و انصاف تو ہے مارچ کبھی دھرنا
ووٹ ہے انہیں جاہ و حشمت کی سواری

قائد کے وطن اسلام کو صیغہ آباد لگا دیا
ہاتھ باندھے کھڑے ہیں جہاں سب درباری

چھن گئی ان سے متاع محبوبِ الہٰی
شکر ہے مفتی اعظم نہیں کوئی سرکاری

نہیں خدا کو چاہ جو خود سے نہیں آگاہ
قرآن سے متصادم جن کی رسم کار و کاری

آبِ قطرہ ہی سے ہے لہر ابر و آبشار
صرف خون کو خون سے نہیں کوئی آبیاری

نفسِ شیطان کے ہیں یہ عروجِ کمالات
چھن گئی جن سے عزتِ نفس و خودداری

قوم کی تقدیر بن گئی قسمت کا کھیل
آج اس کی باری تو کل اس کی باری

نہیں بدلتا وہ ایسی قوموں کی تقدیر
جہاں سفید کو ہو سیاہ کی ریا کاری

اب تو سمجھو ابن خلق جوڑ لو تعلق
عشقِ رسول و خوفِ خدا ہو تم پہ طاری

تمہاری روحیں کیوں جسموں سے جدا جدا
تم سب تو ہو ایک خدا کے پجاری

اے خدا چھین لے میرا علم مجھ سے
جو حائل ہو میری شَبِ عبادت گزاری

تیرا گھر ایک ہر گھر میں تیرا کلام ایک
ایک کو دوسرے سے پھر کیوں ہے بیزاری

ابلیس نے ایک بار جو بہکا دیا
بنی آدم نے اختیار کرلی وہی روش ساری


برگِ بار / محمودالحق

راستے کا پتھر ہو جاؤں

0 comments

Sunday, December 20, 2009

حاسد حسد سے خاک

0 comments
حاسد حسد سے جل کر خاک ہوتا ہے
صابر صبر کے پھل سے پاک ہوتا ہے

کیَنہ و بغض تو کرتے ہیں رزق کا شکار
راضی بالرضا سے توکل بَیباک ہوتا ہے

باطل تو ہے با سبب بد اعمال
بردباری تو حق کا ادراک ہوتا ہے

قلب کو یاد آنچ میں گرماؤ تو اچھا ہے
آتش کا حد سے بڑھنا تشویشناک ہوتا ہے

چاہ طلبوں کو تو چاہیۓ منزل الماس
فقہاء کا تو فقر ہی پوشاک ہوتا ہے

کھولے جو بند گرہ تلاش راز کو
بہتان طرازی کا جرم بڑا انجام المناک ہوتا ہے


برگِ بار / محمودالحق

سہل انگاروں کا پیچھا

0 comments
سَہل اَنْگاروں کا پیچھا پچھتاوے کرتے ہیں

گر ہوں عاجِز تو خوف کےمارے ڈرتے ہیں

وَحدہُ لاشریک لہ کی اَمان میں جونہیں رہتے
نفس کے کئی خداؤں سے وہ مرتے ہیں

قربتیں کم ہوں یا تَفاوُت بَڑھ جائیں
ساعَت کی قید فرنگ سے نہیں نکل پاتے ہیں

بڑھتے درد کا صبر جب فریاد بن جائے
انصاف کے باب کھلنے سے نہیں رکتے ہیں

بَلَند پَرواز میں نہیں رکھتے جو ماویٰ
بَدَلتِی رتوں سے بھی گزرتے چلے جاتے ہیں

برگِ بار / محمودالحق