Showing posts with label بادِ اُمنگ. Show all posts
Showing posts with label بادِ اُمنگ. Show all posts

Sunday, July 4, 2010

لہؤ مسلمان کی اس قدر ارزانی پہلے تو نہ تھی

1 comments

لہؤ مسلمان کی اس قدر ارزانی پہلے تو نہ تھی

دین میں دی جاتی تعلیم نادانی پہلے تو نہ تھی

خدا کے سامنے سر تو نہتے پہ تلوار نہ اٹھتی

اسلام سرگزشتہ میں ایسی مسلمانی پہلے تو نہ تھی

اپنے ہاتھوں کو اپنا سر ہی درکار رہ گیا

قلب قوم میں ایسی ہوس فراوانی پہلے تو نہ تھی

ہاتھوں کی بنے زنجیر اب اس قوم کی پکار ہے

غفلت صبح میں ڈوبی قوم سلطانی پہلے تو نہ تھی

قلب ترازو میں پلڑا عشق اللہ و رسولۖ کیا ہوا

چاہ طلب دنیا کا بھاری پلڑا انسانِی پہلے تو نہ تھی




بادِ اُمنگ / محمودالحق

Sunday, June 20, 2010

حیات مغرب میں رکھا کیسا یہ جنوں مفہوم ہے

2 comments
حیات مغرب میں رکھا کیسا یہ جنوں مفہوم ہے
مشرق اپنے ہی گھر لٹکی تصویر مغموم ہے

تعبیر تعمیر میں تھا سرگرداں ایمان مسلمان تب بھی
بیتابی تب نہ تھی ہیجان خیز داستان فارس و روم ہے

امید گھر جلاتے اپنے ہی آتش شوق زماں میں
ہاتھوں میں رکھتے انگار خود تو مجسم موم ہے


باد اُمنگ  /  محمودالحق

Wednesday, May 5, 2010

تنہا رہتا میں خلق جہان تو اچھا تھا

0 comments
تنہا رہتا میں خلق جہان تو اچھا تھا
رکھتا ان سے میں تعلق زبان تو اچھا تھا

میرا گھر مجھ کو پہلے ہی بیگانہ کر چکا
آباد رہو میرا آشیانہ ویران تو اچھا تھا


باد اُمنگ

رہتی دنیا تک ہیں آباد پیغام حی علی الصلواۃ

6 comments
رہتی دنیا تک ہیں آباد پیغام حی علی الصلواۃ
گونج کون و مَکاں بالِیدَگی حی علی الفلاح

قوم وطن سے تو ملت اسلامیہ سے علم بلند
وعدہ اس کا سچا إذا جاء نصر الله والفتح


انتشار ملت میں پوشیدہ زوال قوم کی تقدیر امنگ
دن پہ جن کے ہو طاری رات کی سپیدئ سحر صبح

گرہن آفتاب سے چھپتے ہلال پہ زور جبر ایام
ہوئے خود سے جدا چاہتے مقام مبلغ مصباح

انجم خود محتاج انتظار اطہر نور دل فگار
روح قرآن سینوں میں جنکے ڈھلا وہ قد افلح



باد اُمنگ / محمودالحق

Wednesday, January 27, 2010

پروانہ شمع سے جلے الزام تمازتِ آفتاب پہ ہو

0 comments
پروانہ شمع سے جلے الزام تمازتِ آفتاب پہ ہو
عشقِ وفا کہاںجوچاہتِ محبوب وصلِ بیتاب پہ ہو

زندگی کو تماشا نہ بناؤ تماشا خود زندگی ہو جائے
درد کا چیخِ مسکن خوشیِ القاب پہ ہو

تختِ عرش کو دوام رہتا جو ہوا میں ہے
فرشِ محل نہیں پائیدار قائم جو بنیادِ آب پہ ہو

گل گلزار سے تو مہک بہار سے ہے وابستہ
اگتا ہے صرف خار ہی بستا جو سراب پہ ہو

شاہِ زماں سے دل گرفتہ رہتے جو معظمِ ہمراز
دلگیرئ فقیر میں سدا رنگ تابانئ مہتاب پہ ہو


بادِ اُمنگ / محمودالحق

Sunday, December 20, 2009

اللہ کی نگہبانی

0 comments
اللہ کی نگہبانی میں دیتا جو سرِ نہاں لاالہ الا للہ
رہتی دنیا تک ہے آفاقی نام و نشاں لاالہ الا للہ

مُحَمَّدۖ کی محبت کا عہد و پیماں لاالہ الا للہ
سروشِ سلطانی میں ہے رازِ پنہاں لاالہ الا للہ

با زادِ تکمیل میں اُٹھتی نِگاہ لاالہ الا للہ
وردِ کلمہ جاری قلبِ ایماں لاالہ الا للہ

حکمِ ربی پہ جھکا سر تو گنگِ زباں لاالہ الا للہ
پیدا ہوتے ہوا عظیم مکاں لاالہ الا للہ

کائناتِ حسین میں رکھتا فخرِ جہاں لاالہ الا للہ
سرورق کو چومتا غلافِ قرآں لاالہ الا للہ

سجدہ شکر میں بھرا نورِ احساں لاالہ الا للہ
ردائے فقر میں چھپا شاہِ جہاں لاالہ الا للہ


بادِ اُمنگ / محمودالحق