Showing posts with label عشق حقیقی. Show all posts
Showing posts with label عشق حقیقی. Show all posts

Sunday, October 31, 2021

ادھوری عشق کہانی

0 comments
دل تو ہمیشہ چاہا کہ وہ بات کروں جو دل پہ اثر رکھے ، دل سے نکلے لفظ روح تک پہنچیں۔ آج صرف اپنے لئے لکھ رہا ہوں  کیونکہ جو سفر اکیلے طے کیا ہو اس کی داستان سناتے سناتے ایک دہائی سے اوپر ہو گیا   اور مسافر کی عمر پانچ دہائیوں سے اوپر۔سولہ سائز کے کالر میں تیرہ سائز پہن کر بدن و گردن پر ایک مضبوط گرفت کے احساس سے نکلنے میں ایک لمحہ درکار ہوتا ہے۔ کہنے سننے کا وقت گزر جائے تو  تلاش رک جاتی ہے ۔ جاننے کی جستجو نہ رہے تو منزل رک جاتی ہے۔
جنہیں زندگی سے عشق  ہوتا ہے وہ آسائش و آرام کی گنتی کرتے ہیں ۔ آزمائشوں کے ذکر  صبر و تحمل سے بیگانہ ہوتے ہیں۔  چھوٹی گاڑیوں میں اپناسر چھت سے لگےتو پچھلی سواری کے گھٹنے کے لئے جگہ تنگ ہو جاتی ہے۔ کیونکہ  آگے پھیلتے ہیں اور پیچھے سکڑتے ہیں۔ زندگی اپنے چاہنے والوں کو مایوس نہیں کرتی، گنجائش پیدا کر دیتی ہے۔ انسان جب پھیلتا ہے تو دوسروں کو سکڑنے اور پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ چاہ کر بھی سیکھنے والے نہیں ملتے، صرف وہ ملتے ہیں جو صرف پانے کی چاہت رکھتے ہیں اور وہ  بھی اتنا کہ چند لمحات میں وہ اپنا اثر زائل کر دے ۔ زندگی جتنی مختصر ہے خواہشات کی زندگی بھی اتنی ہی محدود۔
گردش خون کی نالیاں جلد پر ابھر جاتی ہیں ،سخت زمین پر سونے سے بھی دل تک خون پہنچنے کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتیں کیونکہ قلب صرف اپنا خیال نہیں  رکھتا بلکہ پورے وجود کو فعال رکھنے کے لئے  متحرک رہتا ہے۔ جس کا کہا مانا جاتا ہے وہ دو تہائی مشقت سے چور ہو جاتا ہے اور  ایک تہائی وقت زندگی بھر استعمال کرتا ہے۔ پھر بھی تکبر کا مادہ پیدا کرنے سے باز نہیں رہتا۔  انسان اس کے زیر اثر اپنے زندگی بھر کے تجربات کی روشنی میں اندھیروں کی گہرائیوں میں جا اترتا ہے۔
فن پارہ ہو یا بت عاشق نامراد اپنے تخیل سے کینوس پر رنگ بکھیر دیتا ہے  لیکن اس میں احساس کی خوشبو سے محروم رکھتا ہے۔ خالق اپنی مخلوق کو تخلیق کے حسن سے احساس کی دعوت دیتا ہے۔لیکن انسان چولہے پر جلے  اور مشین پر ڈھلے لباس سے اپنی بقائے حیات کی جنگ لڑتا ہے۔ وہیں رہ کر دستارِ وفا کی منزلت و کبریائی چاہتا ہے۔
بوڑھے کی لاٹھی مضبوط ہو تو بڑھاپے سنبھل جاتے ہیں۔ کمر پر بوجھ بڑھ بھی جائے تو کمزور رگوں سے قلب خون کھینچ لیتا ہے ۔ بڑھاپے سپردِ لحد ہونے پر لاٹھی ٹوٹ نہیں جاتی بلکہ زمین پر ڈال دینے سے ہر مشکل اور کڑی آزمائش میں رکنے، ٹوٹنے، جھکنے اور گرنے سے بچائے رکھتی ہے۔ اپنے اپنے سفر کی کہانی ہے ، اپنی اپنی منزل کی راہ ہے، اپنے اپنے عمل کی جزاہے، جسے جو جاننا ہے وہ خود کو کریدے ، جسے جو پانا ہے وہ خود سے چاہے۔ جب سفر ایک نہیں تو نتیجہ ایک کیسے ہو گا۔ اپنی اپنی راہ ہے اپنا اپنا سفر۔ سوچ کے دھارے میں نفع و نقصان تولے جاتے ہیں۔ قلب کے استعارے خالق و مخلوق کے درمیان جزا  و رضا سے جڑے ہیں۔ راہوں سے راہیں جدا ہیں، سوچ سے سوچ بیگانہ ہے، خواہش  کے انتخاب سے آزمائش کی برداشت  حاصل اور لا حاصل کی  جنگ ِافکار ہے۔
پانے کے لئے بھاگ دوڑ ہے جینے کے لئے عیش و آرام ہے۔ کمپیوٹر کی یاد داشت کروڑوں اربوں انسانوں سے بڑھ کر ہے لیکن ایک مچھر کے پر کے برابر اس میں احساس  نہیں ہے۔ ایک سبق ہے زندگی کی دوڑ میں آگے بڑھنے کا جب دوسرے پیچھے رہ جاتے ہیں۔ کامیابی و کامرانی کے لئے ایک نسل دوسری نسل سے بہتر پلاننگ کر کے آگے بڑھ جاتی ہے۔ کامیابی و ترقی کا یہ سفر زمین کے لپیٹ دئیے جانے تک جاری رہے گا۔ اور انسان کفن میں لپٹے خالی ہاتھوں کو سپردِ لحد کرتے رہیں گے کیونکہ زندگی کی اصل حقیقت یہی ہے۔
تخلیق اپنے راستے خود اختیار کرتی ہے مخلوق سے اجازت کی طالب نہیں ہوتی۔ خشکی، تری اور ہوا میں رہنے والے اپنی جنس کا توازن برقرار رکھتے ہیں۔ رہتے ہیں ملتے ہیں پالتے ہیں پھر رخت سفر باندھ کر آنے والوں کو یہی موقع فراہم کرتے ہیں۔  انسان اپنے ہاں اولاد پیدا کرنے ، لڑکا یا لڑکی کی صورت بنانے کی اہلیت و اختیار سے محروم ہے۔ پھر دعوی ترقی و عروج کا کیا رہ جاتا ہے۔  پیچھے بچ جانے والے کس نئے نظام کی اصلاح و فلاح کے لئے کمربستہ رہتے ہیں؟
نیا نظام کچھ نہیں ، صرف ایک نظام ہے خالق کا تخلیق کردہ ، جس کی حقانیت قرآن سے ثابت ہے، جو سچ ہے، حقیقتِ عالم ہےجو وجود کائنات کے دائرہ اختیار پر مکمل کنٹرول رکھتا ہے۔ یقین کے ساتھ جینے میں  صبر و تحمل اور سیر و شکر کی جو رضا ہے  وہ  مٹی سے پیدا ہوئی ہر شے کو خون میں ڈھالنے جیسی ہے۔ کیونکہ زمین میں خون نہیں بنتا اور بدن میں خوشبو نہیں پیدا ہوتی۔ جس ہستی کے بدن کے بہتے پسینے میں خوشبو و مہک کا جلوہ تھا وہ خالقِ کائنات ربِ زوالجلال مالکِ دو جہان نے اپنے محبوب رسول مقبول محمد مصطفی ؑ رحمتہ للعالین کی صورت میں اس زمین پر پھیلایا۔ جن کی بدولت آج ہم اللہ سبحان و تعالی کے فرمان کی  حکم عدولی اور نافرمانی کے باوجود  اس امید کے ساتھ زندہ رہتے ہیں کہ ہم امت محمد صلی اللہ علیہ والیہ وسلم ہیں جو ہماری بخشش کے لیے ایک زریعہ ہے۔
ارشاد باری تعالی ہے
ترجمہ:
"آسمانوں اور زمین  اور ان کے درمیان سلطنت اللہ کی ہے"۔ سورۃ المائدہ ۔آیت 18
"اور اس سے بہتر کس کا قول جو بلائے اللہ کی طرف اور اچھے عمل کرے اور وہ کہے بیشک میں مسلمانوں میں سے ہوں"۔ سورۃ فصلت ۔آیت 33
 
تحریر: محمودالحق

Monday, September 28, 2020

Tuesday, September 15, 2015

عشقِ بیکراں

0 comments
اللہ کی محبت کا دم بھریں تو دو گھونٹ پانی حلق سے نیچے نہ اترے۔ قلب سنبھالے نہ سنبھلے۔سجدہ میں سر اترے تو عرش سے رحمتوں کی سوغات برسے۔ دروازے  وکھڑکی پہ متوالے دستک سے  محبت پانے کو محفل میں جھکتے عشقِ ہوا بن کر بے خود ہو جائیں۔دستکِ ہاتھ کا وہ جنون کبھی دستکِ ہوا  کی ہمسری نہیں کر سکا۔نظروں کے سامنے رہنے والوں میں وہ احساس اتنا کمزور تھا کہ دروازے سے نکلنے والی  ایک دھمک طوفانِ انتظار کی عکاس تھی۔ انہونی باتوں کے لئے انجانی کہانیاں نادانی کی تصویر دکھائی دیتی ہیں۔جس کو ہاتھ چھو سکیں اسی کا دم بھرتے ہیں۔
زندگی کے راستے جنوں کے طلبگار نہیں ہوتے۔بہتے پانی اور ہوا کے رخ چلنا آسان بھی ہوتا ہے اور فائدہ مند بھی۔ تقلید اور پیروی سب سے آسان راستہ ہوتا ہے جہاں راستوں کی نشاندہی پچھلی رو سے آگے والے کر چکے ہوتے ہیں۔صرف قدموں کی جگہ پر قدم رکھنے ہوتے ہیں جو ان کی حفاظت کے ضامن ہوتے ہیں۔ نئے راستوں کی تلاش و جستجو ان کے بس کی بات نہیں ہوتی۔وہ آسان راستہ اختیار کرتے ہیں جس کی نشاندہی پہلے ان راستوں پر جانے والے کر چکے ہوتے ہیں۔پہاڑوں کے ایک طرف رہنے والے دوسری طرف بسنے والوں سے بے خبر رہتے ہیں مگر بلندیوں پر بسنے والے نیچے وادیوں میں ہر حرکت کرتی شے سے با خبر رہتے ہیں۔زمین پر رینگنے اور چلنے سے زندہ رہنے والوں سے عقل و شعور سے بسنے والے محترم اور معزز  ہو کر اشرف المخلوقات کے درجے پر فائز ہیں۔ 
جنگلوں میں شکار ہونے والے لاکھوں چند شکار کرنے والوں کی دھاک سے کبھی شمال کی طرف بھاگتے ہیں تو کبھی جنوب کی طرف۔جو بچھڑ جاتے ہیں وہ خوف سے بے حال ہو جاتے ہیں۔ریوڑ میں واپس پہنچنے سے ان کی سانس میں   سانس واپس آتی ہے۔ چند ایک ٹولیوں میں رہنے والوں کے لئے ایسے بھولے بھٹکے مالِ غنیمت سے کم نہیں ہوتے۔ نہ ہی وہ خشکی پر محفوظ ہوتے ہیں اور نہ ہی پانی میں۔ خطرہ چاروں طرف سے انہیں گھیرے رکھتا ہے۔ زمین سے پیدا ہونے والی  ہریالی جب خون بن کر رگوں میں دوڑنے لگتی ہے تو خون پینے والے پنجوں سے انگڑائیاں لے کر  دانتوں سے حملہ آور ہونے سے پہلے آنکھوں سے گردوپیش کے حالات سے موافقت پیدا کر لیتے ہیں۔ ریوڑ میں رہنے والے چاہے کروڑوں کی تعداد میں ہوں وہ تنکے تنکے سے بوند بوند خون بناتے ہیں۔اور ٹولیوں میں رہنے والے چند ایک ان کا خون چوس کر ہڈیوں تک پہنچ جاتے ہیں جہاں ان سے کم طاقتور اپنا اپنا حصہ پانے کے لئے قریب ہی جھاڑیوں پہاڑیوں پر بچے کھچے پر نظریں گاڑیں براجمان ہوتے ہیں۔
حقیقت اور فریب میں وہی امتیاز ہے جو سیراب اور سراب میں ہے۔ بیرونی دنیا سے ملک میں ، شہر سے محلے میں،وہاں سے گھر میں داخل ہوں تو یہ جاننا اتنا مشکل نہیں ہوتا کہ وجود کی حدود کیا ہیں۔چلنے سے لے کر اونگھنے تک کھانے سے لے کر ہضم کرنے تک بچے سے بوڑھے تک اپنی حدود پہچانتے ہیں۔ اجسام انسانی میں سٹوریج کی گنجائش نہیں ہوتی۔ایک ہاتھ دو ایک ہاتھ لو کے فارمولہ پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔ وجود کا ایک حصہ دوسرے کو قرض حسنہ عطا کرتا ہے۔ قانون کی لاٹھی سے ہانکے جانے والے رنگ و نسل، زبان و بیان  سے قدر مشترک نہ  رکھ کر بھی  وحدت میں پروئے رہتے ہیں۔ مگر قانون فطرت پر عمل پیرا رہنے والے ہم نسل و نسب ہونے کے باوجود کروڑوں کی بھیڑ میں چکاچوند روشنیوں میں رہنے والوں سے الگ اپنے جلتے دیئے سے حاصل روشنی کو زندگی کے منور ہونے کے لئے کافی سمجھتے ہیں۔ 
ایک ہی سائز رکھنے والے کروڑوں افراد رنگ و ڈیزائین میں الگ الگ پسند رکھتے ہیں مگر ماپ یعنی سائز انہیں اپنے گروپ سے الگ ہونے کی تحریک پیدا نہیں ہونے دیتے۔ ایک ملک کے باسی لکڑی کے گھروں میں رہنے سے قاصر ہیں تو کسی دوسرے ملک  کے لوگ اینٹوں سے بنے گھر میں رہائش اختیار کرنے سے۔ جو جہاں جس نظام اور قانون کی پاسداری کا پابند ہے وہ وہیں ویسی ہی زندگی گزارنے کا اختیار رکھتا ہے۔ جس میں تبدیلی اس کے اختیار سے باہر ہوتی ہے۔ جس سفر کے طے کرنے میں گھنٹے درکار ہوں وہ منٹوں میں نہیں ہو سکتا، جو کام منٹوں میں ہو سکتا ہو وہ سیکنڈز میں ممکن نہیں اور جو سوچ سیکنڈ تک محدود ہو وہ ملی سیکنڈز میں خیالات کو گرفت نہیں کر سکتی۔ چولہے پر ہانڈی چڑھانا  اورتندور پر روٹی لگانا،پانی میں اترنا اور پہاڑ پر چڑھنا ہر دو صورت فن کی محتاجی رکھتا ہے۔ لیکن زندگی کی چکی میں گہیوں پیسنے سے جو آٹا حاصل ہوتا ہے وہ بہت خالص اور مقوی ہوتا ہے۔اربوں روپوں کی لاگت سے بنائی گئی شوگر ملز میں تیار کی گئی چینی ،ایک شہد کی مکھی کی پنتالیس دن کی زندگی میں  چائے کے چمچ کےبارہویں حصہ کے برابر بنائے گئے شہد جیسا ذائقہ ،لذت اور شفاء نہیں رکھتی۔ شہد کی مکھیوں کی ایک کالونی کا بیس لاکھ پھولوں سے کشید کیے گئے رس سےبنایا گیاصرف ایک پاؤنڈ شہد دنیا کی تمام شوگر ملز سے زیادہ افادیت اور تاثیر رکھتا ہے۔
خیالات کی کشید کاری سے لفظوں کا شہد بنانے والے انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں اور الفاظ کے سمندر میں ناؤ  بہانے والے شوگر ملز میں تیار کی جانی والی چینی کی مانند ہزاروں لاکھوں اپنے اپنے لیبل سے پہچان رکھتے ہیں ۔
مولانا جلال الدین بلخی رومی،اسداللہ خاں غالب اور علامہ  ڈاکٹرمحمد اقبال  جیسے لوگوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
تحریر : محمودالحق          

Sunday, August 2, 2015

عمل کی رسی

0 comments
سنبھل سنبھل کر پاؤں رکھنے سے لے کر ذہنی یکسوئی تک توازن کا رکھنا بہت ضروری ہوتا ہے۔کشتی بنانے والا اس بات کا خیال رکھتا ہے کہ پانی میں کشتی کا توازن قائم رہ سکے اور سفر کرنےوالے محفوظ بھی رہیں اور پار بھی لگ جائیں۔یہی سوچ اسے سفر کرنے والوں سے ممتاز رکھتی ہے۔کیونکہ وہ اپنے فن میں یکتا ہوتا ہے۔ تند وتیز لہروں  سے نبردآزما ہونے کے لئے انتہائی باریک سوراخ بھی در خوراعتنا نہیں سمجھے جاتے۔کیونکہ ناخدا  کشتی سے باہر کی لہروں کے تھپیڑوں سے باآسانی نپٹ لیتے ہیں مگر فرش  کے سوراخ سے اُبلتے پانی انہیں جلد ساحل پر اُترنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔کیونکہ لنگرانداز ہونا  ڈوبنے سے بحر صورت بہتر ہوتا ہے۔کہنے والے کہہ چکے جان ہے تو جہان ہے۔ایسی جان جو ہمیشہ فن شناس کی قدردان رہتی ہے۔بے بہا دولت کا حصول بہترین کشتیوں اور تجربہ کار نا خداؤں کی خدمات کے حصول کا مقصد ٹھہر جاتا ہے۔جھیلوں دریاؤں آبشاروں پر سخت رسے پر چل کر پار کرنے کا زمانہ گزر چکا جب ایک وقت میں ایک انسان جان جوکھوں میں ڈال کر منزل مقصود تک رسائی پانے کی جدوجہد کرتا تھا ۔ یہ وہ وقت تھا جب کاغذی نوٹ اور علامتی سکے بننے اور ڈھلنے کے عمل سے شناسا نہیں تھے۔ 
وقت کے دھارے کے بدلنے کے ساتھ ساتھ تن آسانی کی عادت پروان چڑھتی گئی اور انفرادی محنت و مشقت  سے توازن قائم رکھنے کی روایت کمزور پڑتی گئی۔فاصلوں کو قریب کرنے کے لئے  اوروقت کو بچانے کے لئے ضرورتوں کو پھیلا دیا تو طرز طرز کی ایجادات نے جنم لینا شروع کر دیا۔جو یکبارگی کے فن کی محتاج تھی۔یہی وہ دور ہے جب انسان نے بے جان چیزوں کی کلوننگ کا آغاز کیا  اور ایک ہی خدو خال ،اوصاف و صفات جیسی ان گنت ہمشکل اشیاء کو انسانی زندگانی کی بنیادی ضروریات کا حصہ بنایا گیا۔قدرتی حسن و جمال میں اضافہ کرتے اشجار خود روئی کی بدولت جنگلات کی شان و شوکت تھے۔ جو وقت گزرنے کے ساتھ شجرکاری کی مہم کی بدولت انقلابات زمانے کے رحم و کرم پر ہیں۔
رات کی تاریکیوں میں جگمگاتے ستاروں کی روشنی سونے والوں کو بیدا رہنے پر مجبور رکھتی تھی۔جنہیں اندھیروں میں بھی  راستے صاف دکھائی دیتے تھے۔راہزن پہاڑوں غاروں کو اپنا مسکن بناتے تھے۔جہاں روشنیوں کا گزر نہ ہوتا ہو۔قافلے رات کھلے میدانوں میں پڑاؤ ڈالا کرتے تھے  شمعیں روشن رکھتے تھےاور دن میں سفر  کرتے تھے۔ ستاروں کی روشنیوں نے آبادیوں کو روشنی سے وابستہ کر دیا۔یہاں تک کہ آدھی رات کا پورا چاند بھی اپنی دلکشی و حسن کی رعنائیوں سے چاہنے والوں  کی نظر التفات سے محروم ہونے لگا۔ رنگ و نور کی برسات جو آنکھوں کو خیرہ کئے دیتی تھی وہ انہیں دائرے میں روشنی کے ہالے بن کر رہ گئے۔توانائی کے استعمال سے حرارت نے دھوئیں کے بادل کے روپ اختیار کر لئےجو نظر اور نور کے درمیان چلمنِ رقیب ہو گئے۔حسن کے جلوے نظروں سے اوجھل کیا ہوئے عشق نے محبوب کے خدو خال ہی بھلا دیئے۔ 
محبت بدن کی حرارت نہیں جو قریب آنے پر تشنگی مٹا دے یہ تو روح کی بلاغت ہے جو قربت کے خیال سے رنگ و نور  اور وجدانِ عشق کے درمیان  حائل حرارت کو مٹا دے۔ عشق میں جلنے والے محبوب سے لاتعلق ہو جاتے ہیں ۔ محبوب تک رسائی چاہنے والے کشتیوں میں بیٹھ کر نہیں رسیوں پر چل کر  آگ کے دریا پار کرتے ہیں کیونکہ یہ در نہیں جو دستک سےکھل جائیں۔ فطرت کا حسن جن کے اندر پہلی نظر کی محبت ،کونپل کی طرح کھلنے اور سخت تپتی جلتی ریت پر پانی کی گرتی بوندوں کی طرح ٹھنڈک کے احساس جیسا جاگزیں ہو، تو ہر رشتہ جو جسم و جاں سے نام و نسب کی منسوبیت رکھتا ہو بے معنی ہو جاتا ہے۔یہ میان سے نکلی دو دھاری تلوار کی مانند ہے جس کے سامنے مضبوط ڈھال کے ساتھ ساتھ مضبوط گرفت کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ سر پیش کرنے والے عاجزی کی مثال نہیں ہو سکتے ۔عشق زور کا طالب رہتا ہے۔جو کشش نہیں چاہت سے پروان چڑھتا ہے۔
مجازی محبت ایسی روشنی ہے جو آگ سلگانے سے پیدا ہوتی ہے جس کا اختتام جلنے پر ہوتا ہے۔عشق حقیقی قلب میں محبوب کے قرب و وصال کی باہم کشمکش سے پیدا ہوتا ہے جو روح کو منورکرتا ہے۔عمل کی مضبوط رسی ارتکاز کی کھائیوں سے باآسانی گزار دیتی ہے۔علم  سےعالم اور جاہل کا فرق نہیں جانا جا سکتا۔لفظ سوچ  کی شناخت ہوتے ہیں اور مفہوم علم و فکر کے۔ علم سوچ کی کشتی کی بجائے عمل کی رسی پر توازن قائم رکھنے کا عادی ہو تو سہارے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ 
اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھنے والے پار لگ جاتے ہیں۔جو توازن برقرار رکھنے کی متقاضی ہوتی ہے۔ جو قدموں کو لڑکھڑاہٹ سے باز رکھتی تو ذہن و سوچ کو قرآن و سنت پر یکسوئی پر آمادہ رکھتی ہے۔ بات علم کی ہو یا عمل کی عدم توازن سے گمراہی کی کھائیاں خوف میں مبتلا رکھتی ہیں۔ایجادات کی کلوننگ نے وجدان کو عقل کی کسوٹی پر پرکھنا  سکھا دیا ہے ۔ جہاں حرارت کی غیر موجودگی ٹھنڈک اور روشنی کی عدم دستیابی اندھیرے کی تعریف ہے۔وہیں اچھائی نہ ہونے کو برائی ہی مانا جائے گا۔زندگی کے مفہوم اندورنی و بیرونی فلسفہ حیات سے اخذ نہیں کئے جا سکتے۔زمین اور چاند کا کیا تعلق ہے ۔سورج کا زمین سے کیا رشتہ ہے ۔ اندھیرے روشنی سے روشن ہیں یا روشنی اندھیرے سے بندھی ہے ۔نئے پتے کھلنے کا موسم پت جھڑ کے موسم سے الگ ۔سورج کے ایک حصہ کے قریب پہنچ کر  ہمیشہ سردی دوسرے حصہ کے قریب  ہمیشہ گرمی کی شدت۔
سورۃ الانعام 
اور اسی نے آسمان سے پانی اتارا پھر ہم نے اس سے ہر چیز اگنے والی نکالی پھر ہم نے اس سے سبز کھیتی نکالی جس سے ہم ایک دوسرے پرچڑھے ہوئے دانے نکالتے ہیں اور کھجور کے شگوفوں میں سے پھل کے جھکے ہوئے گچھے اور انگور اور زیتون اور انار کے باغ آپس میں ملتے جلتے اور جدا جدا بھی ہر ایک درخت کے پھل کو دیکھو جب وہ پھل لاتا ہے اور اس کے پکنے کو دیکھو ان چیزوں میں ایمان والوں کے لیے نشانیاں ہیں ۔۔۹۹       

محمودالحق   

Thursday, July 3, 2014

تلاشِ ذات

2 comments


پوری کائنات اللہ کی محبت کا سمندر ہے ۔ جہان کسی کونے کھدرے میں ایک عاشق ذات کی سیپ کے خول میں  چھپا محبت کا موتی ، نظروں سے اوجھل قدر دانوں کے غوطہ زنی کے انتظار میں صدیاں ساحلوں کو تکتا رہتا ہے۔جو ساحل پر کھڑے پاؤں کے نیچے سے سرکتی ریت سے یہی سوچ کر خوفزدہ  رہتے ہیں کہ اگر اندر اُتر گئے تو واپس کیسے آئیں گے۔
تلاش ِ ذات کے سفر میں کھوج و جستجو کے خاک آلود راستوں پر مسافتوں کی دھول میں سفر کرنے والے صدیوں کے بعد بھی اپنےہی دائرے سے باہر نکل نہیں پاتے۔ اندھیرے میں پھونک پھونک کر راستوں پر قدم جمانے والے چاندنی راتوں میں قدم اپنے ہی عکس سے راہ پا لیتے ہیں۔
زندگی کو جینا اور زندگی کو جاننا ایک وقت میں ایک ہی سوچ سے ممکن نہیں ہوتا۔پڑھ کر پا لینے سے پا کر پڑھنے کا نشہ خمار میں مبتلا کر دیتا ہے۔شخصیت کے رنگ و روپ قوس و قزح کی طرح اچانک ہی بے رنگ آسمانوں میں خوبصورت رنگ بکھیر دیتے ہیں۔دیکھنے والے سبحان اللہ کہہ کر نظروں سے من میں سمو لیتے ہیں۔شوقِ انتہا کو پہنچنے والے من سے نکال کر پھر نظروں کے سامنے پھیلا دیتے ہیں۔
فاصلے زمین کی قید میں رہتے ہیں۔ آسمان رنگ نہیں بدلتا۔  ہزاروں میل اور صدیوں کی مسافتیں بھی ایک ہی چاہ رکھنے والوں کو اتنا قریب کر دیتی ہیں کہ اپنے دل کی دھڑکن کہیں دور سنائی دیتی ہے۔
انسان فیصلوں کے انتظار میں رہتا ہے مگر نشانیاں تو عقل والوں کے لئے ہیں۔کچھ کھونے کا ڈر پانے کی لذت سے اتنا بڑھ جاتا ہے کہ چاہتے ہوئے بھی  نہ چاہنے کی ضد پر قائم رہتا ہے۔
جو کتابوں سے آگہی کا ادراک پانے کی خواہش رکھتے ہیں ۔ وہ سیاق و سباق کی نظرِ اختلاف کا شکار رہتے ہیں۔عمل کا اختیار  تو علم کی طاقت پر  ہمیشہ حاوی رہتا ہے۔
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے

Saturday, May 24, 2014

تشنگی کی انتہا

5 comments
کائنات کی وسعتیں لا محدود ، تا حدِ نگاہ فاصلے ہی فاصلے،نگاہ اُلفت سے کھوج کی متلاشی مگرتھکن سے چُور بدن کا بستر پر ڈھیر ہو نا اپنی ذات پر احسانِ عظیم   سے کم نہیں ہوتا۔بظاہر  یک نظر تخلیق و حسن کے جلوے  آنکھوں پر لا علمی کی پٹی باندھ دیتے ہیں اور عقل پر دلیل کی۔حقیقت جانے بغیر سچائی تک رسائی ممکن نہیں ہوتی۔حقیقت جاننے کے لئے مخبر خیال مثبت و منفی رویوں کی چغلی کرتے پائے جاتے ہیں۔وسوسہ خیال کی جڑوں میں نا اُمیدی کی کھاد ڈالتا ہے۔جو اسے حقیقت بن کر سچ تک پہنچنے کے راستے کی دیوار بنتا ہے۔
حقیقت شناسی کا علم ایک سمندر ہے جس کی چاہ پانے والوں کی جزبیت  چڑیا کی چونچ میں سمانے والے قطروں سے زیاد نہیں۔ اللہ کی محبت جس دل میں سما جائے وہ  عشق کا ایسا سمندر ہے جس کی تشنگی ایک چڑیا کی چونچ میں سمانے والے چند قطروں سے ممکن نہیں۔آگ پانی سے دور اپنے آلاؤ روشن رکھتی ہے۔سمندر کے سینے پر جلنا آتش کے بس کی بات نہیں۔جب پانی اپنے بہاؤ سے ان راستوں پر گامزن ہو جاتا ہے تو  آگ کی چنگاریاں چیخ چیخ کر دم توڑ دیتی ہیں۔۔۔۔بچتا ہے تو صرف پانی ۔۔۔۔۔پیاس بجھانے سے لے کر سیراب کرنے تک  ۔۔۔۔دھرتی حدت سے نمو پانے کے نشے میں اُتر جاتی ہے۔
قلب عشق کا وہ سمندر ہے۔۔۔ جو اس کے وجود پر اُترتا ہے تو۔۔۔۔۔چند قطروں سے بیتابی ۔۔۔۔شادابی میں بدل جاتی ہے۔سمند ر کی تشنگی پیاس مٹانے میں ہے ۔۔۔۔۔خود مٹنے میں نہیں۔۔۔۔۔۔جو اعتماد اور چاہت کی کشتیوں کے بادباں کھول کر  عشق کے سمندر میں اُترتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ تو  عقیدت و احترام کی لہریں انہیں غرق کرنے کی بجائےبحفاظت کناروں تک پہنچا دیتی ہیں۔
محبت کے موتی چونچوں میں بھر کر وہ چڑیاں  ۔۔۔۔نفرت و حقارت کےجلتے آلاؤ میں ۔۔۔۔۔ڈالے جانے والے عاشقوں کو بچانے کے لئے  ۔۔۔۔چونچ میں بھرے محبت کے سمندر سے لائے ۔۔۔۔ چند قطروں سے آگ بجھانے میں مصروف ہو جاتی ہیں۔  وہ جانتی ہیں کہ یہ  پانی عاشق ِحقیقی کو  آگ سے بچانے کے لئے نا کافی ہے ۔۔۔۔۔۔ مگر عشق و محبت کی داستان میں وہ اپنا کردار نبھانا چاہتی ہیں۔تاکہ سچے عشق اور سچے عاشق کی نظر میں سرخرو ہو جائیں۔
تشنگی کی انتہا کیا ہے؟
 سمندر کا پانی ۔۔۔۔۔۔۔ جنگل کی آگ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ۔۔۔ایک  چڑیا کی چونچ   ۔۔۔۔۔۔۔۔ محبت کے سمندر سے چند قطرے پانی چڑیا کی چونچ میں عشق کی آگ بجھانے میں جب  ناکافی ہو جاتے ہیں ۔ ۔۔۔۔۔۔تو تشنگی کی انتہا ہے یہ ۔۔۔۔۔۔۔ پا کر بھی مکمل پایا نہ جا سکے۔۔۔۔۔۔ بجھا کر بھی مکمل بجھایا نہ جا سکے۔
برسہا برس سے  خوش نصیبی کو ترستی بنجر زمین ۔۔۔۔۔ جس کے اوپر سےبادل بن برسے گڑ گڑا کر  گزر جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔اسے چند قطرے سیرابی  کیفیت سے دوچار کر دیتے ہیں۔ یہ زمین کی تشنگی کی انتہا ہے ۔۔۔۔۔۔مگر بادل مکمل برس کرتحلیل ہونے سے سیراب ہونے کی کیفیت سے سرشار ہوتا ہے۔یہی اس کی تشنگی کی انتہا ہے۔
اشرف المخلوقات میں تشنگی کی انتہا جاننے کے لئے ۔۔۔۔۔  کیفیت سے زیادہ عقل کے ترازو پر رکھی سمجھ  بوجھ  ۔۔۔۔۔کانٹ چھانٹ کے بعد محتاط طرز عمل سے زیادہ تر پڑھی جاتی ہے سمجھی نہیں۔
کسی جزبہ ۔۔۔۔شدت احسا س۔۔۔۔۔۔افکار تخیل۔۔۔۔۔۔لمس لفظ ۔۔۔۔۔۔۔یا ۔۔۔۔۔قربتِ محبوب کی کسوٹی پر پرکھا نہیں جا سکتا۔
صرف اتنا جان لینے سے حقیقت حق کے ساتھ  ۔۔۔۔ ضمیر روشن کو آمادگی کی راہ پہ   ۔۔۔۔خوش آمدیدی نظریں بچھائے  ۔۔۔۔لینے آ جائے تو جواب مل جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔لینے کی جگہ اگر اللہ تبارک تعالی کی محبت کا سمندر ہو  ۔۔۔۔۔۔۔ پانے والی چڑیا ہو۔۔۔۔۔۔  دینے کی جگہ آگ میں ڈالا گیا عشق حضرت ابراہیم علیہ اسلام کا ہو ۔۔۔۔۔۔۔ تو پانے میں کمی اور دینے میں جان تک چلی جانے سے تسلی نہ ہو  تو
تشنگی کی انتہا کسے کہتے ہیں  ۔۔۔۔۔جان جاتےہیں۔


 تحریر ! محمودالحق

Saturday, May 17, 2014

عشقِ وفا کہاں

6 comments
تحریر و اشعار  !    محمودالحق

 گیس  کے غبارے کو صرف دھاگے سے  باندھ کر بچے بھاگ بھاگ اُڑاتےہیں۔ ہاتھ سے چھوٹنے کی غلطی اسے آسمانوں کی طرف اُڑانیں بھرنےمیں آزادی کے سفر پر گامزن کر دیتی ہے۔ کھونے کا درد اور تکلیف چہرے کے فق رنگ کے ساتھ ساتھ کبھی کبھار چیخنے تک لے جاتی ہے۔بڑے بچوں کو غباروں کی آزادی پر  پہرے بٹھانے کے لئے تراکیب سمجھاتے ۔ کھڑکی ،کلائی  سے باندھ رکھو۔ اگر ایسا کرنا ممکن نہ ہو تو کھلے میدان میں پڑے کسی چھوٹے پتھر سے باندھ لو ہوا کے جھولے میں جھولتا رہے گا۔جوں جوں گیس بھرے غبارے سائز میں بڑے اور تعداد میں بڑھتے جائیں۔ایسے پتھر کا استعمال شروع ہو جاتا ہے جو زمین  سے اُٹھنے کی بجائے اپنی طرف کھینچنے کی طاقت زیادہ رکھتا ہے۔ دھاگہ بھی ایسا استعمال میں لایا جاتا ہے جو انہیں ایک دوسرے سے اس کھینچا تانی میں الگ ہونے سے بچاتا رہے۔
زندگی بھی اسی اصول پر سدا کاربند رہتی ہے۔خیر اور شر کی قوتیں اسی فارمولہ پر کھینچا تانی میں مصروف عمل رہتی ہیں۔جسم ایک دھاگہ کی مانند ان کے درمیان رسہ کشی میں الگ ہونے سے بچانے کے لئے کوشاں رہتا ہے۔ روح جب آزادی کی طلب میں آسمانوں کی طرف پرواز کا قصد کرتی ہےتو دنیاوی خواہشات  ،محرومیوں،مجبوریوں اور ضرورتوں کے پتھروں سے جسم کو مضبوطی سے جکڑ لیتی ہیں۔ روح آزادی کی تڑپ میں بے بسی کی رسی سے لٹکی جھولتی رہتی ہے۔تاوقتکہ کوئی ان پتھروں سے انہیں آزادی نہ دلا دے ۔
پتھروں کی پہچان  کے لئے سنگتراش ہونا ضروری نہیں۔ سائز دیکھ کر ہی وزن اور طاقت کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ خواہشات اور ضرورتیں جتنی زیادہ ہوں گی زمین کی گرفت بھی اتنی زیادہ ہو گی۔ روح بیچاری اپنے زور پر آسمانوں کی طرف محو پرواز ہوتی ہے۔جس کی قوت بندشوں سے زیادہ آزادی کی تڑپ ہوتی ہے۔جس کے لئے شدت کی ضرورت ہوتی ہے ۔ جو اسے دنیاوی خواہشات کی فنا سے حاصل ہوتی ہے۔اگر اس فنا کو زندگی کا حاصل سمجھ لیا جائےتو روح کی بقا کے سفر کو روکا نہیں جا سکتا۔
جسم بھوک اور ہوس کے دائرے میں رقصاں رہتا ہے۔یہ مکڑی کی طرح ایسا جال بنتا ہے کہ اس کی خوبصورتی کے فریب میں زندگی کا مقصد فنا ہو جاتا ہے۔ روح کے لمس کے سفر پر فاصلوں کا اندازہ وقت اور رفتار سے جانچ کر رکھنا ضروری ہے۔جنہیں علم کی تشنگی ہے وہ عالم سے رجوع کریں۔ بھوک رکھنے والے آگ سے ،ہوس و حرص کے پجاری حسن و جمال سے۔
مگر جنہیں درِ کائنات تک پہنچنا ہوتا ہے وہ دستک سے آنے کی اطلاع دیتے ہیں۔وہاں تک پہنچنے میں خیر و شر کی عظیم کشمکش سے گزرنا پڑتا ہے۔جسم حیلے بہانےسے ضرورتوں مجبوریوں ان کہی کہانیوںمحرومیوں نا انصافیوں کےرونے دھونے سے لمس خیال کو عشق  حقیقی میں پرونے سے روکتا ہے۔جن کی آنکھیں کھلی ہیں ان کا صرف یہ جہاں کھلا ہے۔ جن کی بند آنکھ کھلی ہے ان کے لئے ایک الگ جہاں بھی کھلا ہے۔جن کا لفظ احاطہ نہیں کر سکتے۔
جنہیں اس سفر پر چلنا ہوتا ہے وہ لفظ کی حرمت کو لمس سے محسوس کرتے ہیں۔جو آنکھوں سے آنسو بہا دے۔جسم چیخنے اور چنگھاڑنے کی تسکین طلب رکھتا ہو۔تو سمجھ لو کہ وقت کا پہیہ رک نہیں سکتا۔جسم خواہشات کے وزن سے زمین سے چپک جائے مگر روح کو آزادی کے لمس سے زیادہ دیر تک دور نہیں رکھا جا سکتا۔ تقریریں اور تحریریں کتابوں کا لمس رکھتی ہیں۔جن سےسوالات کا دھواں اُٹھتا ہے۔جوابات کا پانی کہیں  اور سے بادل بن اُڑتا ہے۔ خشک دھرتی کی بے چینی کو بس بادل سمجھتا ہے۔
درِ دنیا کے سوالی تو بہت  مگر درِ کائنات کےنہیں جو درِ اثر سے گزریں۔ جس کے نشے کی لت کا شکار جو ایک بار ہو گیا تو احساسِ لمس کی پریاں بادِ صبا کے جھونکوں کی طرح سحر میں مبتلا کر دیں گی۔ مگریہاں تک کا سفر اتنا آسان نہیں۔کیونکہ یہ داستانِ عشق ہے۔اور یہ عشق ہر ایک کسی کے نصیب کا مقدر نہیں۔

پروانہ شمع سے جلے الزام تمازتِ آفتاب پہ ہو
عشقِ وفا کہاںجوچاہتِ محبوب وصلِ بیتاب پہ ہو

زندگی کو تماشا نہ بناؤ تماشا خود زندگی ہو جائے
درد کا چیخِ مسکن خوشیِ القاب پہ ہو


تختِ عرش کو دوام رہتا جو ہوا میں ہے
فرشِ محل نہیں پائیدار قائم جو بنیادِ آب پہ ہو


گل گلزار سے تو مہک بہار سے ہے وابستہ
اُگتا ہے صرف خار ہی بستا جو سراب پہ ہو


شاہِ زماں سے دل گرفتہ رہتے جو معظمِ ہمراز
دلگیرئ فقیر میں سدا رنگ تابانئ مہتاب پہ ہو



Sunday, May 11, 2014

غلافِ عشق

5 comments

 عشق و محبت کا موضوع  توبہت پرانا ہے۔معاشرہ ہمیشہ اسے خلافِ عشق گردانتا رہا۔حالانکہ عاشق و محبوب اس سے خ خوشی محسوس کرتے تھے۔ مگر حالات  نے انہیں  غ غم میں مبتلا کیا۔ اسی لئے تو خ لاف کو غ لاف سے مربوط کر دیا۔
یہاں خ غ کا قائدہ قانون بتانا مقصود نہیں ہے۔ جن کی حفاظت کی جانی ہوتی ہے انہیں محفوظ کیا جاتا ہے۔  جو خوشبو پھیلاتے ہیں وہ کچھ چھپاتے نہیں ہیں۔ قوس و قزح کے رنگوں کی طرح کھلے نظر آتے ہیں۔ اپنی ذات کو وقت آنے پر فنا کر دیتے ہیں۔ نئے آنے والوں کو سپیس دیتے ہیں۔
 مگر جو ان کی محبت کو نچوڑ لیتے ہیں۔وہ انہیں غلافوں میں بھر بھر رکھتے ہیں۔ ایسی چاشنی ، لذت اور مٹھاس روئے زمین پر اپنا ثانی نہیں رکھتی۔ صحت بخش ، توانائی  بھی ہوتی ہے بیماریوں سے نجات کا  ذریعہ بھی۔ انگریز انہیں ہنی اور ہم شہد کہتے ہیں۔ ہنی کا لفظ اس لئے استعمال کیا  کیونکہ اس کی افادیت شہد بتانے سے قدرے زیادہ ہے۔حکیم ان سے علاج بھی تجویز کرتے ہیں۔جب اس کا استعمال بڑھا تو یار لوگ ملاوٹ کرنے وہاں بھی پہنچ گئے ۔ شکر کے شربت اور لکڑی کے گھروندوں میں غلافِ عشق بنا ڈالے۔جن کی نہ ہی تاثیر ہے نہ ذائقہ۔فائدہ تو کیا ہونا تھا چاہنے  والوں کا اعتماد ہی اُٹھ گیا۔شکر سے کچھ زیادہ مٹھاس کے علاوہ افادیت ہی کھو بیٹھا۔جب عشق و محبت میں سچائی کی خوشبو ڈھونڈنے والے مصنوعی تاک دان میں عشق کو غلاف میں لپٹا پائیں گےتو ان میں جستجو چاہت قربانی کے  جزبات اہمیت و قدر کے ساتھ ساتھ پاکیزگی اور شفافیت بھی  کھو دیں گے۔
 عشق قربانی مانگتا ہے یہاں تک کہ جان بھی عزیز نہ رہے۔اگر عاشق محبوب کی قربت کے خیال سے نفاست نصف ایمان سے بھی بڑے درجہ پر لے جائے تو اسے عشق کو غلاف میں لپیٹ کر رکھنا ہو گا۔موسمی اثرات ہوائے گرد آلود سے بچانے کے لئے نہیں بلکہ عشق حقیقی کو  مجازی بننے سے ۔ جن کی منزل ایک ہوتی ہے وہ مسافر قربت کی پگڈنڈیوں سے دوسروں کو آگے بڑھنے میں مددگار ہوتے ہیں۔ تحریر ابھی تک واضح خدو خال کے ساتھ دل اور دلدار کے بغیر  غلافِ عشق کے زمرے   میں نہیں  آ ئی۔
عاشق ذہن پر دباؤ کا شکار ہوں گے اور محبوب قلب کی تیز دھڑکن کا۔  
مقدس کتاب کی طرح یہ غلاف بھی مقدس عشق کا ہے۔  ایک سچےواقعہ سے غلافِ عشق کو ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔
3 فروری 2012 بروز جمعۃالمبارک اوکلوہاما کے شہر تلسہ میں ایک بڑی جامع مسجد کی دوسری صف میں کھڑا ایک نمازی جس کے بائیں جانب 60 اور دائیں جانب 45 نمازی نیت باندھے کھڑے تھے۔  مسجد داخل ہونے سے پہلے وہ سگریٹ کے پیکٹ میں  آخری سگریٹ کو  دھوئیں میں ڈھال کر وضو کرتےہوئے  نئے سگریٹ کے پیکٹ کے نہ ہونے کےافسوس میں مبتلا تھا۔ کیونکہ  بینسن اینڈ ہیجز  برانڈ ہر جگہ سے نہیں ملتا   تھا۔ اسی چاہت شوق میں جو وہ پچیس سال سے پالے ہوئے تھا مسجد میں نمازیوں کے ساتھ نیت باندھے کھڑا تھا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب وہ ہمیشہ کی طرح عشق کو غلاف سے نکال لیتا اور امام کے پیچھے اپنی ناقص عقل سے الحمداللہ رب العالمین کو جزب کرنے کی کوشش کرتا۔  لیکن اس دن عشق نے نماز تک پہنچنے والے خیال کو آڑے ہاتھوں لیا۔  ہاسپٹل دفتر تو ایک طرف بسوں اور پارکوں میں جس کے سلگانے کی اجازت نہیں ہے  ۔ چند کلیوں کے بعد رب العالمین کا نام لینے  سے کوئی ملال نہیں جس کی بد بو ابھی تک سانس میں رواں تھی۔ اس خیال کے آتے ہی قلب کے نہاں خانوں میں ایک ہلچل مچ گئی۔ جسم کے روئیں روئیں سے  لہو غلافِ عشق اُتار کر پچیس سال سے دماغ میں بسی چاہت  دھواں کو ایک ایک خلیے سے نکال باہر لائے ۔ اور پورے وجود کو ایسے نہلا دیا جیسے بارش کے بعد چاندنی رات میں زمین کو روشنی سے نہلا دیتی ہے۔جسے نماز سے پہلے وہ فراموش نہیں کر پا رہا تھا۔ اب وہ اسے یاد نہیں کر پا رہا تھا۔ جسے ہاتھ سے  چھونا اور ہونٹوں سے لگانا ایک نشہ میں مبتلا کر دیتا تھا ۔ آج وہ چاہت بے ثباتی اسے ایسے چھوڑ گئی جیسے کسی زندہ وجود سے روح نکل کر واپسی اختیار نہیں کرتی۔عشق میں سچائی ہو دیانت ہو ایمانداری ہو محبوب کی عزت و تکریم  کا خیال ہو۔تو عشق لہو بن کر رگوں میں دوڑتا ہے۔
رگوں میں دوڑنے پھرنے کے ہم نہیں قائل
جو آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو وہ لہو کیا ہے

تحریر : محمودالحق