Showing posts with label موسلِ بار. Show all posts
Showing posts with label موسلِ بار. Show all posts

Thursday, September 2, 2010

دے اس قوم کو ایسی جِلا

0 comments

دے اس قوم کو ایسی جِلا
یہ پکار اٹھیں یا خدا یا خدا

سمجھ کر یہ تیرا فرمانِ ضیا
اپنی روح کو جسم سے کریں جدا

تائب ہوں جو اپنی خطا
ملیں انہیں فرمانِ اجلِ جزا

تحریص و ترغیب تو ہے ابلیسِ ادا
چھن جائے مسلم کی ایمانِ رضا

جو خود ہے وہاں سے نکالا گیا
تیرے لیے بھی چاہے گا ویسی سزا

گر نہ ہو لغزشِ تحریز پا
آئے ایک ہی صدا یا خدا کرم فرما

نہیں ہے وہ تم سے جدا
قلب تو ہے اسکی نورِ ربا

خارِ وفا تو ہے ہمیشہ کی فنا
رضاء خدا ہی کو ہمیشہ بقا

پہلا پڑاؤ ہے تجھے پھر ہے جانا
اتنی بھی کیا جلدی سانس لے ذرا

بن گیا ایندھن جو کٹ گیا
بچ گیا جو جَڑ سے جُڑ گیا



موسل بار / محمودالحق

Friday, July 9, 2010

وہ ثناء جمال عشق بیاں

4 comments
وہ ثناء جمال عشق بیاں
عجب رنگ مُحَمَّدﷺ کا سفر آسماں

لب سوز و جان با ادب بیاں
اَللہ مُحَمَّدﷺ و قرآن کا عہد و پیماں

معارض مدارج میں ھے دَہَن محبوب بیاں
کچھ تو ھے جش رباع عیاں

آرا تیہی قوس میں نو جرس متاں
عازم شکن ماذ فر آں



موسل بار / محمودالحق

آقا نبی آخرالزماںﷺ کی ایک جھلک چاہئیے

1 comments




آقا نبیۖ آخرالزماں کی ایک جھلک چاہئیے

2 comments
آقا نبیۖ آخرالزماں کی ایک جھلک چاہئیے
سفر حجاز سے آزاد ایک عرش فلک چاہئیے

حاصل ھوا جو آپۖ کو مقام معراج پر
مجھ ادنی کو ایک زرا سی مشک چاہئیے


ملی جو آپۖ کو راہ میں پیاروں کی رسد
مجھ غریب ناتواں کو بھی اک زرا سی کمک چاہئیے

سموئی جو آپۖ میں ہر منزل کی تابناکی
میری آنکھوں کے نور کو ایک زرا سی چمک چاہئیے

حاصل ھوا جو آپۖ کو نظارہء عرش جہاں
میری زندگی کے گزرنے کو اک زرا سی دمک چاہئیے

پائی جو آپۖ نے نور خدا کی شفق
مجھ مریض عشق خدا کو اک زرا سی اشک چاہئیے



موسل بار / محمودالحق

Wednesday, June 23, 2010

الصَلواۃ خیر من النوم کا ہے پیغام بیدار ہو جا

5 comments
الصَلواۃ خیر من النوم کا ہے پیغام بیدار ہو جا
نفس کو کاٹ شکمِ فقر سے صوم کی تلوار ہو جا

کھول دے بند در اونگھ تو ذرا آنے دے
کھلی آنکھوں سے دیدار نہ ہو تو اشکبار ہو جا

میرا درد تو ہے میرے جینے کی دعا
نہ پہنچے تجھ تک منزل کے نشان انتظار ہو جا

یونہی تو نہیں اک قطرہ کو سمو کر بنایا موتی
دے اپنے قلب کو حدتِ ایمان ہیرے کی دھار ہو جا

مت پلٹ کر دیکھ جب منزل ہو قریب
ہر رغبتِ کون و مکاں سے تْو انکار ہو جا

رات کی چاندنی اور سحرِ صبا ہیں صیادِ گردش ایام
بھڑکا اپنی آتشِ ایماں کو اور اْس پار ہو جا

موسل بار / محمودالحق

Saturday, June 19, 2010

عشق نہیں محتاج کسی عہد و پیماں

0 comments
عشق نہیں محتاج کسی عہد و پیماں
مشک کے پھیلنے کو نہیں پابندیء گلستاں

جب آفتاب و مہتاب ہی نہیں کرتے تفریق ِزیاں
نہیں ہے کوئی خدا اور بندے کے درمیاں

کبھی تو ہے باغباں اور کبھی بیاباں
آدمی کو میسر نہیں کہ وہ ہے کیا انساں

تیر تو چلتے ہیں اپنی ہی کماں
بے جا اسراف لے لیتے ہیں جاں

تکلف برطرف جنبشِ نیناں
نہیں یہ طوطا کی مینا جانِ جاناں

خونِ آنسو اور خوابِ حقیقت کا بیاں
کیسے بدل جاتا ہے کمیں کا عزتِ جہاں

اسی کے ہیں یہ سب ارض و سماں
وہی ہے یہاں اور وہی ہے وہاں

تڑپ دکھا چاہت کو پانے کی جاوداں
اتر آئے گا تیرے لیے فرشِ آسماں

نہیں ہے یہ کسی لیلی مجنوں کی داستاں
یہ تو ہے سچے عاشق کی تعظیمِ محبوبِ بیاں

پانے اور لوٹ جانے کا ہے تجھے گماں
یہ کچھ بھی نہیں بہت آگے ہیں وہ جہاں

الف اقرا ہی سے میرا علم وجود مہرباں
تیری رضا ہی سے رنگیں صحرا و ریگستاں


موسل بار / محمودالحق

تفکرِ ایمان تنہائی شب میں بیتاب ہوا

3 comments
تفکرِ ایمان تنہائی شب میں بیتاب ہوا
ہزاروں سال جل جل کر تو آفتاب ہوا

کہیں آگ کے دریا کہیں روشنی کے مینار
آنکھ مچولی کھیل کھیل کر ہی تو مہتاب ہوا

وارفتگی نم سے ہی ایک دانہ کو بہار آئی
حدتِ قطرہ سے ابر اور قطرہ ہی دمِ آب ہوا



در دستک / موسل بار

Friday, February 19, 2010

کنارے پہ لہروں سے اٹھکھیلیاں تو ہیں بہت آساں

0 comments
کنارے پہ لہروں سے اٹھکھیلیاں تو ہیں بہت آساں
طوفانوں میں گھری کَشتئ نُوح جیسی کم ہیں داستاں

برس جائے تو سوغات تڑپ جائے تو ہے طوفاں
یہ تو سب اس کی جلوہ گری کے ہیں نشاں

سمجھنے والوں کے لیےہے کن فیکوں عیاں
بند در خرد واسطے بہتا برستا ھوا جہاں

ارض و سماں کے ہر رنگ میں ہے وہ پنہاں
بے رنگ نور مجسم پھر بھی متکبر ہے حضرت انساں

نہ غم نہ دنگ نہ ملال ہے نہ پشیماں
ایک قطرہ ہی سے تو ہے مکمل سب جہاں

بدعت عمل سے جن کی مستی جاوداں
ایسی قوموں کا کبھی کوئی پاتا نہیں نشاں

مٹ گئے محلات جبروت کے دربار شاہاں
آباد ہیں آج بھی کاشانہء فقیہاں

چاہنے سے چاہے جانے کی منزل نہیں آساں
خوشہ تقدیر کے مراد دانہ میں چھپا اک جہاں




موسل بار / محمودالحق

صدف نایاب سے مزین جہان رنگ و نو

0 comments
صدف نایاب سے مزین جہان رنگ و نو

اک دل مسلم پکارے الله ھو الله ھو

پَرِند میں ہے خوشہء جزبہ جنوں

کوئی کہے سبحان الله کوئی الله ھو

منزل سے نا آشنا رزق تلاش گرداں

میسر ہے انہیں ہر شب ماہ نو

یقین محکم جن کا آغوش رو سیاہی میں

شب کی چاندنی پہ غالب ہے آفتاب صبو



موسل بار / محمودالحق

Friday, December 18, 2009

اہل اِیمان کی گریہ

0 comments
اہل اِیمان کی گریہ میں سکوتِ کائنات
بائیں عملِ غافل میں شور و غوغہء حاجات

لوحِ تقدیر میں لکھے با سبب اسباب
انسان اپنے ہی تئیں میں عملِ مکافات

ارضِ شوی میں ہے عاجزیء شبیری
منزلِ نوید میں ہے خوشہء انجیرِ التفات


را مقابل ہر زہ محاصل مشاہیر
اک قطرہ بقاء میں تاثیرِ طبیبِ کائنات

پردہ سیمیں مزّین رنگِ بالاج
خیرہ نہ کر دے کہیں آبِ انگور مشکات

نارْکِ تحریم تکبیرِ قیام مقامِ رکوع
سجود ہی پہنچائے تجھ کو تا منزلِ نجات

مانع طور و نور غائب و حضور
حرف بہ حرف لفظ بہ لفظ یہ صادق آیات

کھلے جو بامِ در میرا غنچہء نصیب میں
سخنِ سوز و جاں میں نہ رہے دل کی بات

موسل بار : محمودالحق

عملِ زندگی میں پنہاں

0 comments
عملِ زندگی میں پنہاں رازِ گل و نار
عقلِ خرد ہے انتہائے کوتاہ سے برسرِ پیکار

عارضِ نوحہ کربِ یزداں کی ہے پکار
بستی آلام و آلائش با روئے زرفگار

میری راہ میں تیری چاہ کی ہے اشک بار
مسجود ہیں سب جہاں تیرا ہے دربار

قضائے نماز ہے جائز ہر کسِ سفر و بیمار
حاجاتِ انسان میں ہے سو بیمار ایک انار

عملِ جہاں تو ہیں دو دھاری تلوار
یا تو اِس پار ہے یا اْس پار

نہیں منزل جن کی کوئی بے سلیقہ بے شعار
قافلے اور پنچھی پناہ گاہوں کو جاتے قطار در قطار


موسل بار : محمودالحق

ایمان کی لڑی میں

0 comments
ایمان کی لڑی میں پرو کر پھیل گئے ہر سو
اپنوں کے مقابل صف آراء ہوئے باوضو

دینا مجھ کو طاقت یا رب قوت گویائی کی
تیرا ذِکر ہی کرے مجھے لحد میں روبرو

مہکتا گل اچھا سوکھے خار کی عمرِ بار سے
میرا دل ہی ہو میرے نفس کا بادِ نو

سینچا مجھ کو میرے باغباں نے
جھاڑی نہیں ہوں میں کوئی خود رو

فراق محبوب و عشق محبوب میں کیا جدا ہے
ایک میں مَیں ہے اور ایک میں صرف تُو

ایک جل کے فنا ہے ایک کی فنا میں جِلا
حیراں کر گئی مجھے ایک درویش کی گفتگو

موسل بار : محمودالحق

گل میں خار

0 comments
گل میں خار کی طرح پیوست ہو جا
فقیری میں من و سلوی سے تنگدست ہو جا

وحدت الوجود سے قصص القرآن ہوا
ظہورِ عقل میں شعورِ ایمان سے دست بدست ہو جا


موسل بار : محمودالحق

Monday, May 25, 2009

بامِ زبانِ طور

0 comments
بامِ زبانِ طور و دُرُودِ معراج
عقلِ دنگ خلقِ جہاں کل بھی اور آج

قوتِ ارادی مومن ھما کی نہیں محتاج
ابابیل بھی کر دیتے ہیں لشکر تاراج

کَلِمَہ حق کا ساتھ نبھایا جب تھا مکمل کفرِ راج
پرواز میں شہباز مقام ان کا بالاج

باغی ہیں جو آباؤ اجداد کے رسم و رواج
عشق محمدؑ کا انہیں مرض لاحق ہوا لا علاج

موسل بار : محمودالحق

گلاب جازبِ حسن

0 comments
گلاب جازبِ حسن تابناک صراحی
مستیء میلہ میں مگن عدن زن و راہی
دلفریب ہیں بہت محفل رقص و سرور
بے حجاب بدن مثل بے آب ماہی
میراث فقیری میں نہیں غسل ابن درویش
جشنِ نوروز میں نہلاتی عرقِ گلاب سے پادشاہی
حمد کی ادراک ہی میں تو ہے ربائی
لاالہ الا اللہ ہی تو ہے اصل گواہی
نورِ اسم پاک کی ایک کرن کا طالب ہوں
جلوہ ہے تیرا گر خاک پا ہو جائوں ہمراہی
اس راز پوشیدگی میں کیا نکتہ کمال ہے
تیری امانت کو سنبھالا کئے ایک ماہی
میرا نفسِ آئینہ دکھائے میرا ہی عکس مجھے
دے میرے قلب کو ہیرے سی جراحی
نہ دیکھ رعونت بھرے فلک پوش پہاڑ
پھٹ جائیں تو اگل دیں تباہی
نہیں رکھتا اشتیاق پوشاکِ اجماعی
درویشوں کی تو ردا ہی میں ہے شاہی


موسل بار : محمودالحق

بادِیَہ نگاہ سخن

0 comments
بادِیَہ نگاہ سخن رُو آبرو آزمائے جا
چرخِ زنداں میں ہستی آرزو مٹائے جا

میر کارواں جو ہو کاہن و دہن
مریض نسیم صبح پہ زادِ راہ لٹائے جا

لذتِ درویشی میں ہے سحرِ مسیحائی
جوش ذوقِ وصل میں آبلا پا جائے جا

برزخِ محلِ قوس و قزح بر بنائے خشِ پاک
نوازشات الہٰی پر شکر آنسو بہائے جا

موسل بار : محمودالحق