Showing posts with label خندہ جبین. Show all posts
Showing posts with label خندہ جبین. Show all posts

Tuesday, December 18, 2018

سنانے کو ایک سادہ نظم چاہتا ہوں

1 comments

سنانے کو ایک سادہ نظم چاہتا ہوں
تنہائی میں ایک رویدِ بزم چاہتا ہوں

مقرر مقرر کا نہیں میں نقشِ بیمار
سینوں پر لکھتا تراشا قلم چاہتا ہوں

زمینِ کاغذ پہ نہیں بچھاتا ردا کے پھول
بادِ معطر کو اطہرِ انعم چاہتا ہوں



خندہ جبین / محمودالحق

Friday, May 28, 2010

دغا انسان سے اٹھ میرا وفا ایماں گیا

0 comments
دغا انسان سے اٹھ میرا وفا ایماں گیا
ظاہر سیرت فرشتہ اندر دیکھا ہو حیراں گیا

نام خدا سے ہے جنکو ملتا مقام عزت جہاں
قلب سیاہ سے جلتا دیا خود اپنے پہ قرباں گیا


نام سے شہرت نہیں تو در سے گھر نہیں
جو خود کو نہیں بھولا دور اس سے لا مکاں گیا

ایک جسم و جاں میں رکھتے دو الگ فریب روپ ہیں
سوکھے پھول ہیں سب نام رکھا گلستاں گیا

خوش قسمت ہیں گل و گلزار عداوت خار رکھتے ہیں
ہم بشر عظیم کا ہاتھ اپنے ہی گریباں گیا

میرا فرش ملک ادنی تیرا عرش فلک عظیم
حاکمیت فرعون نہ رہی مگر چھوڑ نفرت نشاں گیا

اسلاف اسلام تو ہے مجھے سفینہ محبت مقام مصطفے
زمام رفعت مقام میں کھوتا بھٹکا انساں گیا


خندہ جبین / محمودالحق

Friday, March 19, 2010

بھر گیا میرا قلبِ قلب اَب تو

0 comments

Sunday, March 14, 2010

شرابور مہک ٹپکتا مینہ سینہ خاک پہ

0 comments
شرابور مہک ٹپکتا مینہ سینہ خاک پہ
کیسی آرزو کیسی تمنا رہتی دل چاک پہ

ذوق نہیں مجھے دلربا سے دلربائی کا
میرے آنگن میں وہ ہے ثمر شجر تابناک پہ

بند آنکھوں سے منزل رہتی دور نہ آتی پاس
دیکھنے میں نظر تو کرتی سفر براک پہ

انتظار میں ہے رہتی سب دنیا امتیاز
کوئی لا میں تو کوئی الااللہ کی تصویر پاک پہ

لوٹنا چاہتا ہوں چاہ جینے نہیں دیتی
جسم یہاں تو قلب جہان اشتراک پہ

انتظار میں ہے جوئے ارقم باد ابصار
بنیاد نہیں رہتی استوار ضمیم غمناک پہ

کوتاہی پرواز طائر نہیں سبب باد مخالف
روح جسم سے ہو جدا تو رہتی چپکی خاک پہ






خندہ جبین / محمودالحق

Tuesday, February 2, 2010

زندگی گناہ دلدل رقص زمانہ آ گیا

0 comments
زندگی گناہ دلدل رقص زمانہ آ گیا
در توبہ جو کھلا مقام آشیانہ آ گیا

خوف سزا سےگرنہ مائل بہ کرم ہو
لزت جزا ہی سے خواب سہانہ آ گیا


ایک اکیلا راستہ انجان تو آباد گنجان
روح فقیری میں مزاج شاہانہ آ گیا

ترغیب ثروت میں عشرت ہوتی بیتاب
بچ گیا جب اٹھا شور دیکھو دیوانہ آ گیا

نفس مجہول سے زخم خوردہ قوم
محکومی نہ رہی جب انقلاب ترانہ آ گیا

شریک وصل امتنان ہیں باہم رحجان
مفارقت عدم میں رہنے کو بیگانہ آ گیا

قلب اشتیاق جنوں میں جو نغمہ سرا ہوا
زبان پہ میرے کلام عارفانہ آ گیا

ہر روپ الگ روپ میں رنگ جدا
آفتاب و مہتاب میں بھی موازانہ آ گیا

سب کو تو غائب ہے خود میں حضور
علم الف سے ہی حال میں رندانہ آ گیا

شکوہ کو نہیں ملتی تحسین پزیرائی
آنکھوں کو درد میں بھی مُسَخرانَہ آ گیا

وصف عشق میں رنگ ایک تو روپ جدا
ایک ہے آستانہ تو ایک کا افسانہ آ گیا


خندہ جبین / محمودالحق

اے پاک وطن میری پاک زمین

2 comments
اے پاک وطن میری پاک زمین
تو ہی میرا درماں تو ہی یقین

تیری آغوش میری اسلاف امین
تو میرا مکاں میں ہوں تیرا مکین

تیرے چمن میں ہیں ہم گوشہ نشین
میں دلبر تیرا تو میری نازنین

بے کسوں کو بھی ہےتو مکاں ومکین
جہان چمن میں ہے تو گل حسین



خندہ جبین / محمودالحق

Wednesday, January 27, 2010

خود سے جو اپنے فدا ہوتے ہیں

0 comments
خود سے جو اپنے فدا ہوتے ہیں
راہ تیری سے خود جدا ہوتے ہیں

محبت میں رہتے جو در درباں
عشق میں کہاں جنوں انتہا ہوتے ہیں



خندہ جبین / محمودالحق

Sunday, December 20, 2009

جس کا جتنا زور

0 comments
جس کا جتنا زور دیکھاتے اپنا سوچ عمل
نظام کائنات میں نہیں ہو سکتا ردوبدل

نشان منزل کی نہیں فکر پیمائش راہ
آج تنقید تطہیرِ تفسیر، نہیں فکر کیا ہے کل

سب سے جدا راہِ راہ نہیں حقِ ادائیگی مسلمان
مغلوب و غالب میں اب کیا حق تو کیا باطل

اسرار تو ہے من و عن ظاہر میں ہو پیچ و خم
جمادات کو رکھتے مقدم نہیں تقوی و توکل

میرے ذوقِ علم میں دو نام دو شہر دو جہاں
تخمین و ظن میں رہے تو پیدا ہوتا اپنا ہمشکل

خندہ جبین / محمودالحق

خوشبو کی طرح

0 comments
خوشبو کی طرح ہواؤں میں بس جاؤں گا
بہار گزر گئی تو کانٹوں میں پھنس جاؤں گا

شجر اغیار میں ثمرِ انتظار کب تک رہے
گھٹائیں گزر گئیں تو قطرہ کو ترس جاؤں گا

گداگری میں ہے سمِ شاہی کا تریاق
درد عشق ہوں آنکھوں سے برس جاؤں گا

عمل مشک فورروح نفس میں مہک پائے گی
خاک نشینوں میں رہا خاک میں دھنس جاؤں‌گا


خندہ جبین / محمودالحق