Showing posts with label سیاست. Show all posts
Showing posts with label سیاست. Show all posts

Sunday, August 4, 2019

قلم ٹوٹتے رہے سیاہی بدلتی رہی

1 comments
لکھنے کے لئے کاغذقلم ہاتھ میں لئے دہائیاں گزر گئیں۔ قلم ٹوٹتے رہے سیاہی بدلتی رہی ، کاغذ ہاتھوں سے میلے ہوتے رہے۔ہم بڑے ہو گئے قلم کتابیں چھوٹ گئیں اور کاغذ پر چھپی ڈگریاں ہاتھ لگتی رہیں۔ہم خیال کی اونچائی سے حقیقت کی کھائی میں اترنے لگے۔ دوستوں نے تنہائی کے احساس پر ٹائم پاس کا مرہم رکھا۔جو چاہا وہ پاس نہ آیا ، جس سے  دور بھاگے وہ گلے پڑ گیا۔زندگی بعض اوقات انسان سے کھیلتی ہے۔ امتحان سے گزارتی ہے پھر نہ ہی وہ پاس ہوتا ہے اور نہ ہی فیل ، بس ورکشاپ میں ہتھوڑا  ،اوزار پکڑوانے والا چھوٹا یا ایک ہی جماعت میں جونئیر کو خوش آمدید اور اگلی جماعت میں ترقی کرنے والوں کو الوداع کہنے والا بن کر رہ جاتا ہے۔
ماضی انسان کا پیچھا کرتا ہے ،کبھی خوف بن کر، کبھی پچھتاوا کی صورت، کبھی ندامت تو کبھی سر کشی کا کوڑا بن کر جو بدکے ہوئے گھوڑے پر  چابک برسا کر غصہ کی حالت سے اسے تابعداری کی طرف مائل کرتا ہے۔
بچے اچھے برے کی بجائے قابل اور نالائق کی تقسیم سے جانے اور پہچانے جاتے تھے اور  جاتے ہیں اور جانے جاتے رہیں گے۔ ملازمت پیشہ تنخواہ  سے، کاروباری دولت سے ، طاقتور اختیا ر سے جانے جاتے ہیں اور مانے بھی۔پانچویں پاس امیر اور پڑھا لکھا کلرک لندن امریکہ میں بچوں کی  اعلی تعلیم کا خواب آنکھوں میں سجانے کی بجائے ذہن میں سما لیتا ہے۔نامکمل اور ادھورے خواب سے کچھ دیر کے لئے ماضی سے رشتہ ٹوٹ جاتا ہے ، مستقبل روشن ہو جاتا ہے اور حال مطمئن۔
اپنی قابلیت کے بل بوتے پر دنیا میں شہرت و دولت کا مقام پانے کے بعدانسانیت کی بھلائی میں  انہوں نےان لوگوں سے زیادہ عملی طور پر حصہ لیا جنہیں اپنے بزرگوں سے صرف دولت کے مینار تعمیر کرنے کی تربیت ملی۔انہوں نے اپنے زیر اثر افراد ، معاشرے اور قوم کو بیوقوف بنا کر ایک ایسی ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا جو دیگیں پکانے والے کسی پکوان خانے کی پک اپ وین میں ایک زندہ گدھا دیکھ کر زیر لب مسکرا کر اسے کھانے والوں کی قسمت پر ہنستے ہیں ۔  
کہیں دولت کا رونا ہے ، کہیں عزت کا، کہیں محبت کا، لیکن شرافت کا ذکر خیر سننے کو کان ترس گئے۔حرام کمائی سے محل کھڑے کرنے والے معتبر  و معزز کہلائے۔ ایک بریانی کی پلیٹ اور ایک ادھ بوٹی کے لئے کناتوں پراتوں پر ٹڈی دل کے حملہ جیسا نقشہ قوم کی غیرت و حمیت کی بجائے غربت کا مذاق بنایا جاتا ہے حالانکہ گھروں میں تین وقت کا بہترین کھانا سویٹ ڈش کے ساتھ نوش فرمانے والوں کی پلیٹ پر بڑا مینار کھانے والے کی نیت کی بجائے اس کی فنکاری پر داد وصول کرتا پایا جاتا ہے۔تعلیمی ادارے آخر کہاں جائیں ، جہاں گھر بار، تھڑے بازار سیاسی درسگاہیں نوکر شاہی کے طفیل پسند ، نا پسند اپنا اُلو سیدھا رکھنے سے غرض رکھتے ہوں۔جب معاشرہ لوٹ مار اور حرام کی دولت کو برا جاننا چھوڑ دے اورتھانہ کچہری میں وہی باعزت کہلائے جاتے ہوں۔تو معاشرہ کہاں جائے جہاں ہر فرد عزت کا بھوکا ہو۔
زخمیوں اور بیماروں کے لئے ایدھی اور چھیپا ایمبولینس کسی نعمت سے کم نہیں  ایسے معاشرہ میں جہاں جو دکھتا ہے وہ بکتا ہے کے مصداق ہو۔ جو جتنا متنازعہ ہو گا وہ اتنا ہی مشہور اور قدآور ہو گا۔ ٹی وی ٹاک شوز ہوں وشل میڈیا ہو یا اخبارات، ان کی جیبیں بہت بھاری ہوں گی اور تجزیے پھیکے۔
حالات سمجھنے کے لئے کوئی گیدڑ سنگھی نہیں چاہیئے ہوتی ، تاریخ ہمیشہ اپنے اُپ کو دہراتی
23 جنوری 2010 کو میری تحریر " سیاست کے میدانوں کے بڑے شکاری" کسی پارٹی یا سیاستدان کی بجائے نظام کے متعلق ہمارےعمومی روئیے کی غماز تھی۔ 26 مئی 2013 کو لکھی میری تحریر" فلم کا ٹریلر 11 مئی کو چلے گا"  میں فلم کچھ عرصہ بعد چلنے کا عندیہ تھا جس کی آج سارے ملک میں دھوم ہے۔اس میں کچھ حقائق کی نشاندہی کی تھی کہ ہر سال لاکھوں پڑھے لکھے نوجوانوں کو لالی پاپ کے لالچ میں نہ ملک چلتے ہیں اور نہ ہی حکومت۔  بالآخر وہ تعداد میں اتنے ہو جائیں گے کہ کسی بھی ایماندار شخص کو اپنا لیڈر مان لیں گے۔
ہمارے سیاستدان احمقوں کی جنت سمجھتے رہے پاکستان کو۔عوام چاہے کتنی ہی بے حس ہو جائے  مگر نظام قدرت کا اپنا دستور ہے۔ پڑھے لکھے بے روزگارنوجوانوں کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ بوڑھے طوطے شائد جوانی کے نشہ میں ابھی بھی سرشار ہیں ( دوسری تیسری شادی  سے ہٹ کر) ۔ یہ 80 اور نوے کی دہائی نہیں ہے جب  ایک کمانے والا دس افراد کے کنبے کا کفیل تھا۔ ہر کمرے میں اے سی  کے لئے بجلی اور موٹر سائیکل، کار کے لئے پٹرول کی ضرورت ہر فرد کو ہے۔ جس کے لئے رقم کی ضرورت ہوتی ہے۔ بجلی کی چوری سے لوڈ شیڈنگ نے ملک کا جو حال کیا تھا۔ بجلی کی زیادہ قیمت اور چوری رکنے پر لوڈ شیڈنگ پر تقریبا قابو پا لیا گیا ہے۔  بحریہ ٹاؤن لاہور کے قریب ایک گاؤں کا حال میں جانتا ہوں جنہوں نے ہمیشہ ڈائریکٹ بجلی چلائی گھر وں میں کئی ای سی دن رات بدن کو گرم ہونے سے بچائے رکھتے تھے۔ پرچوں کے اندراج پر جب تھانوں کا منہ دیکھنا پڑا تو ای سی بند اور میٹر کے زریعے بجلی کی آمدورفت شروع ہو گئی وہاں۔
آج کے  کالم نگار ،مفکریں ٹاک شو کے تجزیے  قوم کو حکمران اور اپوزیشن کے سیاستدانوں کے مستقبل کی پیش گوئیوں پر کمر بستہ ہے۔ نیا لیڈر کون بننے جا رہا ہے ، پارٹی کی کمان کس کے ہاتھ میں ہو گی۔اس نظام سیاست کو ماننے والے اور سہارا دینے والوں کی تعداد دن بدن کم ہو رہی ہے۔ نوشتہ دیوار پڑھ لینا چاہیئے آنے والے وقت میں قیادت کا فیصلہ پڑھی لکھی عوام کرے گی۔ آوے ای آوے اور جاوے ای جاوے والے جاہل سپوٹر اور ووٹر ہمیشہ سے ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔جو قیادت کی بجائے باپ کے بعد بیٹی اور ماں کے بعد بیٹے پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ جو انہیں دنیا میں ایک آزاد شہری کی بجائے اپنی رعایا بنا کر رکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ جو معاشرہ لچُا سب سے اُچا کی پالیسی پر گامزن ہو۔ وہاں فیصلے زمین پر نہیں ہوتے۔ لا الہ الااللہ کی بنیاد پر قائم ہونے والا ملک کسی خاندان کی غلامی کے لئے دنیاکے نقشے پر معرض وجود میں نہیں آیا۔ ووٹر جتنی وفاداری پارٹی رہنما سے رکھتا ہے اگر اُتنی  عزت واحترام ، قدرو منزلت اور قربانی و ایثار اپنے گھر ، عزیز رشتےدار اور ہمسائیوں محلہ داروں سے بھی رکھ لے تو معاشرہ بے حسی کی تصویر نہ بنا پھرے جہاں لا تعلقی اور خود غرضی کی اجارہ داری ہے۔ مفاد پرست چند ایک چوہدریوں نے اپنے محلہ گاؤں کے نوجوانوں میں مخالفت نفرت کا ایسا بیج اپنے مخالفوں کے بارے میں بویا ہے کہ نوجوان نسل اچھے برے کی تمیز بھول گئی ہے۔  چائے بوتل ایک پلیٹ بریانی پر اپنے مستقبل سے بیگانے ہو چکے ہیں۔
دنیا میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون نہیں چلتا بلکہ قانون کی حکمرانی میں تمام عوام اور ارباب اختیار قانون کے تابع ہوتے ہیں۔ لیکن جہاں فیصلے سنانے والے اور ان کی معاونت کرنے والے ایک دوسرے کے ساتھ دست و گریبان ہوتے ہوں تو کیا ہر ادارے کو اپنی ساکھ کی بحالی کے لئے بار بار کوٹ پہن کر تحریک چلانی پڑے گی۔
کیا ہم اُس مقام تک آ پہنچے ہیں کہ " اونٹ رے اونٹ تیری کون سی کل سیدھی"

تحریر : محمودالحق


  

Tuesday, February 28, 2017

تعلیم جمہوریت کا جھومر

0 comments
ادب سے میرا رشتہ سیاستدانوں کے جمہوریت سے تعلق جیسانہیں ،  لیکن لکھنا اتنا ہی عزیز ہے جتنی انہیں سیاست ۔ اردو زبان کی ترقی و ترویج کا داعی تو نہیں مگر خیر خواہی میں کسی طور کم نہیں۔ فرق صرف اتنا سا ہے کہ  ادب دورِ حاضر میں نفع  بخش نہیں بلکہ بےقیمت ہوتا ہے ۔نئے دور میں صرف نئی سوچ  ہی انہیں قبولیت کی سند عطا کرتی ہے۔ادب ،سیاست میں نظریہ کی طرح نہیں بلکہ فکر کی صورت پروان چڑھتا ہے جو تالیوں کا محتاج نہیں ہوتا۔اخبارات و رسائل چھپنے کے ایک روز بعد ہی پرانے ہو کر پکوڑے کچوریوں سے لپٹ کر تیل آلود ہو جاتے ہیں۔ادب  تحسین و پزیرائی کا محتاج نہیں ہوتا بلکہ وقت گزرنے کے انتطار میں ہوتا ہے اولڈ از گولڈ کی مانند چمکتا ہے۔اقبالیات و غالبیات  اشرافیہ سے مراعات کے سند یافتہ نہیں بلکہ ایک سوچ و نظریہ کے غماز ہیں۔
بچوں کو سکول حصول تعلیم سے زیادہ حسن تعلیم سے آراستہ کرنے کے لئے بھیجا جاتا ہےتاکہ وہ حسن پرستوں کے منظور نظر بن جائیں۔ معاشرے میں فردِ خاص کا مقام حاصل کر کے افرادِ عام پر قابلیت اور برتری کا سکہ جما سکیں۔نظام تعلیم ذہنی آزادی کی بجائے محرومی کے غلام پیدا کر رہا ہے۔ اردو بازار لاہور ایک ایسی "درسگاہ "ہے جہاں رٹے کے لئے پکے پکائے پکوان تیار ملتے ہیں اور گلی محلے کی بک شاپ  پر خلاصہ جات کے ساتھ گیس پیپرز کی تعداد  بھی مضامین  کی کتب سے کسی صورت کم نہیں ۔جن درسگاہوں میں  پانچ سو روپے سے پچاس ہزار تک ماہانہ فیس میں تعلیم بیچی جا رہی ہو ،ان میں قابلیت کے معیار کو جانچنے کے لئے  انگلش لب و لہجہ درجہ بندی میں اول مانا جاتا ہو۔ان حالات میں ردی کے کاغذوں پر اسائنمنٹس مکمل کرنے، مانگ کر کتابیں پڑھنے ، بسوں پر لٹک کر سفر کرنے ، سال سال بھر دوسرے جوتے کے لئے ترسنے  ، ڈرائنگ روم کے ایک کونے میں چٹائی پر پڑھنے اور  وہیں رات بھرسونے والا نوجوان چاہے جتنا بھی قابل اور اہل کیوں نہ ہو  ۔سفارش کی سیڑھی سے رشوت کی بیل تک بمشکل رسائی پا بھی لےمگر گوگل کا دو ارب سے زیادہ   سالانہ تنخواہ پانے والا چیف ایگزیکٹو نہیں بن سکے گا لیکن ایسا ہندی لہجے میں انگریزی بولنے والے سندر راجن پچائی  نے گوگل کا   سی ای او بن کرثابت کر دکھایا۔ 
ہم وہیں کھڑے ہیں جہاں سے نکلنے میں قائد نے ہماری رہنمائی کی اقبال نے راہ دکھائی۔  سکول میں ایک لطیفہ سنا کرتے تھے کہ ایک دن جب استاد نے طالبعلم سے سکول دیر سے آنے کی وجہ پوچھی تو طالبعلم نے کہا کہ بارش کی وجہ سے کیچڑ بہت تھا دو قدم سکول کی طرف چلتا تو چار قدم پیچھے پھسل جاتا ۔ استاد نے حیران ہو کر پوچھا پھر سکول کیسے پہنچے تو طالبعلم نے جواب میں کہا کہ میں نے اپنا منہ گھر کی طرف کر لیا تھا۔ آج ہمارے نظام تعلیم کا حال بارش میں کیچڑ بھرے راستے جیسا ہے ، ہم آگے نہیں بڑھ پا رہے ہمیں اپنا منہ اقبال و قائد کی طرف کرنا ہو گا۔ سوچ کے نئے در کھولنے ہوں گے جہاں سچ اور حق کہنے اور ایمانداری کا علم اُٹھانے والوں کو بڑی حیرانی سے نہ دیکھا جا سکے۔پوش علاقوں میں رہنا کسی کے لئے مقامِ فخر نہ ہو۔ بیوروکریٹ اتنا گریٹ نہ ہو کہ عوام کی حیثیت کنکریٹ جیسی ہو۔ جہاں گھریلو خدمتگار کو تنخواہ کے عوض  باندی و غلام  نہ بنا کر رکھا جائے۔
 ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی شدید خواہش مقابلے کی بجائے حدود کو پھلانگنے تک چلی جاتی ہے جس کا سب سے پہلا شکار  رشتے اور تعلق ہوتے ہیں جنہیں غرض و مفاد کے ہاتھیوں کے پاؤں تلے روندا جاتا ہے۔جو دکھتا ہے وہی بکتا ہے کے جنون میں کامیابی کے زینے چڑھے جاتے ہیں۔کھونے کا خوف اتنا شدید ہو جاتا ہے کہ پانے کی لذت سے بھی محروم ہو جاتے ہیں۔ برتری کے نشہ میں سرشاری کا لطف اُٹھانے کے لئے مجبوری و لاچاری پر جملہ کسنا یا ہنسنا فیشن بن جاتا ہے۔
مسٹر بننے والے منسٹر کے خواب آنکھوں میں بسا لیتے ہیں جو چیف کی کرسی پر نظریں جما کر رکھتے ہیں اور چیف ،پرائم  کی حیثیت پانے میں سخت تگ و دو سے دوچار رہتے ہیں۔تاریخ شاہد ہےسکندر یونانی عالم شباب میں دنیا کی فتح کا خواب آنکھوں میں لے کر دنیا  سے  ہی چلا گیا۔قطب الدین ایبک سے ابراہیم لودھی اور بابر  سے بہادر شاہ ظفر تک عروج و زوال کی بیشمار داستانیں ہیں۔سکھوں مرہٹوں سے افغانیوں ،پرتگالیوں ،فرانسیسیوں اور انگریزوں تک اس خطے کی قسمت میں گھوڑوں کے ٹاپوں کی چاپ تھیں پھر ریل گاڑیوں کی چھک چھک ۔ علی گڑھ یونیورسٹی سے پہلے  مغل شاہی ادوار میں تعلیم کےسواصرف باغات،محلات،مقبرے،قلعے ہی مسلمانوں کی نشاۃ ثانیہ کی عظیم نشانیاں ہیں۔آج تک وہی مغلائی اندازِ حکمرانی اختیار کیا گیا ہے ۔ اس قوم کے مزاج میں رتی بھر تبدیلی نہیں آئی ، اسی لئے وہ آج صدیوں بعد بھی سڑکوں پلوں کی تعمیر شاہی پر حکمران چنتے ہیں بلکہ ان کی نا اہل اولادوں کے راستوں میں بھی پلکیں بچھاتے ہیں۔
تعلیم جمہوریت کا جھومر ہے بادشاہت کے لئے زہر ہے۔کون  ایسا عاقبت نا اندیش سیاستدان ہو گا جو اپنے وارثان کے لئے سیاسی غلامان کی بجائے آزاد   سوچ کے حامل بااختیارانسان سیاسی ورثے میں چھوڑےگا۔

تحریر : محمودالحق 
       

Sunday, April 28, 2013

خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا

0 comments
قانون ساز ادارے عوام کی بہتری اور بھلائی کے لئے قانون سازی کے بل پیش کرتے ہیں۔جنہیں باری باری دونوں ایوانوں میں پیش کیا جاتا ہے ۔ جہاں بحث و تمحیص کے بعد دو تہائی اکثریت سے منظوری کی آزمائش سے گزرنا ہوتاہے۔ اخبارات الگ سے ان  کے قابل عمل ہونے یا نہ ہونے پر مناظرے کراتے ہیں۔جہاں علم و دانش رکھنے والے اپنی اپنی عقل کے مطابق اس کے حق یا مخالفت میں رائے زنی کرتے ہیں۔۱۹۷۳ کے آئین پاکستان میں کی گئی  ترامیم کا عوام کو کیا فائدہ پہنچا ۔ یہ عوام کی بگڑتی معاشی و اقتصادی اور معاشرتی و سماجی  صورتحال سے عیاں ہے۔قانون ساز ادارے حکومتی اختیارات میں کبھی اضافہ تو کبھی کمی  سے بغلیں بجاتے رہے۔مگر عوام بچوں کی طرح منہ میں خالی چوسنی لئے دودھ بھرے فیڈر کے انتظار میں کبھی ایک کا منہ دیکھتے تو کبھی دوسرے کا۔آخر میں لالی پوپ ہی سے گزارا کرنے کی عادت نے انہیں صبر و شکر کی بجائے برداشت کرنے کا خوگر بنا دیا۔جس کی زندہ جاوید اور تازہ مثال ماضی قریب کی پارلیمنٹ کے اجلت میں پاس کئے گئے قوانین کی مثال ہیں۔جس میں سرفہرست  سپیکر صاحبہ کا اپنے لئے حاصل کی گئی تاحیات مراعات ہیں جو عوام کے خون پسینہ سے کمائی گئی کمائی سے ہمیشہ ادا کی جاتی رہیں گی۔۷۷ کروڑ کے قرضہ  کی معافی تو کسی کھاتے میں ہی نہیں۔اپنے ہاتھوں سے اپنی دولت لٹانے والی ایسی زندہ دل قوم شائد کسی اور ملک کے نصیب میں نہیں۔ جس نے لوٹنے والوں کو بار بار دعوت یلغار دی ہو۔
کابل کے حکمران ظہیرالدین بابر نے ۱۵۲۶ میں جب ابراہیم لودھی کو شکست دی تو ہندوستان کے خزانے سے کابل کے ہر فرد کو ایک ایک اشرفی  بانٹی گئی تھی۔ مگر آج کا حکمران کتنا خودغرض ہے کہ وہ لوٹے گئے مال سے ایک روپیہ بانٹنا بھی گناہ سمجھتا ہےیا وہ پاکستان کے عوام کو کابل کے عوام سے زیادہ خوددار جانتا ہے کہ وہ ورلڈ بینک سے خیرات تو لے لیں گے مگرلوٹے ہوئے مال کو اپنے لئے حرام سمجھتے ہیں۔اسی لئے وہ لوٹا ہوا ایک ایک روپیہ بحفاظت اپنے کاروبار اور وارثوں میں بانٹ دیتے ہیں۔جن پر قوم بری نظر اُٹھا کر نہیں دیکھتی۔
سیاسی ہمدردوں کی دل آزاری میرا مقصود نہیں بلکہ الیکشن کی آمد آمد ہے تو ایک مضمون جو میری نظر سے گزرا  اس کے چند اقتباس سب کے ساتھ شئیر کرنا چاہتا ہوں۔ 
یہ  ۸ نومبر ۱۸۶۴ کے امریکی انتخابات میں ابرہام لنکن کی کامیابی کا  احوال ہے ۔ جب سیاسی پنڈتوں نے لنکن کی شکست پر مہر ثبت کر دی تھی۔ انتخابات میں حیران کن کامیابی کے بعد صدر لنکن نے ایوان نمائندگان سے 13ویں ترمیم منظور کرانا اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا۔امریکہ کی تاریخ کا سنگین ترین بحران مسئلہ غلامی کے باعث پیدا ہوا تھا۔ اب وہ اپنے تمام تر سیاسی تدبر اور تجربے سے یہ مسئلہ ہمیشہ کے لیے ختم کرنا چاہتے تھے۔ تاہم ایوان نمائندگان میں ترمیم منظور کرانا بڑا مشکل تھا کیونکہ حکومت کو دو تہائی اکثریت حاصل نہ تھی۔ صدر لنکن نے بڑی عرق ریزی سے اپنی حکمت عملی تیار کی کیونکہ وہ غلامی کے بل کو پالیمنٹ سے منظور کروا کر ملک کو  ریاستوں کی باہمی جنگ اور سول وار کا خاتمہ کر کے ملک ٹوٹنے سے بچا سکتے تھے۔ انہیں قدرت نے موقع فراہم کیا اور اس نے جیت کر امریکہ کی تاریخ کا  تیرویں ترمیم کا بل پاس کروا لیا جس میں غلامی کو ہمیشہ کے لئے دفن کر دیا گیا۔
ملک بچانے کے لئے اور خانہ جنگی کے خاتمہ کے لئے لنکن کے لئے تیرویں ترمیم کا بل پاس کرانا نہایت ضروری تھاجس کے لئے پہلے اسے مطلوبہ تعداد میں ریاستیں چاہیئے تھیں۔ ریاست نیودا کی یونین میں شمولیت سے آئینی طور پر ریاستوں کی وہ تعداد پوری ہوجاتی جو ترمیم کی منظوری کے لیے درکار تھی۔ جس کے تین ارکان سے اس نے رابطہ کیا ۔دو نے انٹرول ریونیو کلکٹر بننے کی خواہش ظاہر کی۔ تیسرا نیویارک کسٹم ہاؤس میں تقرری چاہتا تھا۔ لنکن نے تینوں کی مانگیں پوری کرکے ان کی حمایت حاصل کرلی۔ جنوری ۱۸۶۵ میں انہیں مزید چودہ ووٹوں کی ضرورت تھی۔چنانچہ لنکن نے غلامی ختم کرنے کی خاطر اپنے ایک مخالف ریاست میسوری کے رکن کے سامنے جھکنے کا فیصلہ کرلیا جو سو غلاموں کا مالک تھا۔ اور غلامی کا مخالف تھا۔ لنکن اس سے ملے اور  بتایا کہ اگر تیرہویں ترمیم منظور نہ ہوئی، تو امریکہ ٹوٹ جائے گا۔ اس نے جذبہ حب الوطنی کے باعث ترمیم کی حمایت کر دی۔ انھیں ترغیب دینے کی خاطر میسوری سے وفاقی جج کی نشست خالی رکھی گئی جو ترمیم کو ووٹ دیتے،انہی کی پسند کا (موزوں) جج تعینات کیا جاتا۔ 13ویں ترمیم منظور کرانے کے لیے صدر لنکن نے سیاسی عنایات و نوازشات کا سلسلہ جاری رکھا ۔ مخالف جماعت ڈیمو کریٹک رکن، موسز اوڈیل نے ترمیم کے حق میں ووٹ ڈالنے کا اعلان کیا،تو لنکن نے اسے ریاست الینائے میں نیول ایجنٹ (سرکاری افسر) بنا دیا۔ ریاست کنکٹکی کا رکن، جارج یمین غلامی کا زبردست حامی تھا۔  لیکن وہ جب 13ویں ترمیم کا حمایتی بنا، اسے ڈنمارک میں امریکی سفیر بنا دیا گیا۔ یوں لنکن نے اپنی بہترین صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر تیرویں ترمیم کا بل دو تہائی اکثریت سے دو ووٹ زیادہ  حاصل کر کے منظور کروا لیا جو امریکہ کی تاریخ کا ایک بڑا کارنامہ تھا ۔ جس نے ابرہام لنکن  کو  ہیرو بنا دیا۔  اگلے دو ماہ میں امریکی خانہ جنگی  کا خاتمہ ہوا۔
 تفصیل دینے کا مقصد یہ تھا کہ لنکن نے بھی مطلوبہ ووٹ حاصل کرنے کے لئے نوازشات کا راستہ اختیار کیا۔ مگر ان نواشات کا براہ راست تعلق مفاد عامہ اور ملکی دفاع تھا۔ ذاتی عناد ، مخالفت ، خودغرضی ، اقربا پروری کا شائبہ نہیں پایا جاتا وہاں۔ خلوص نیت سے کئے گئے تمام اقدامات عوامی تحسین و پزیرائی سے ہمکنار ہوتے ہیں۔
تقریبا ڈیڑھ سو سال پہلے انہوں نے ملک بچانے کا ایک بہترین راستہ چنا۔ جس کی بدولت وہ آج بھی یونائیٹڈ ہیں۔ہمارا ملک روزانہ ایسی دھمکیوں سے گزرتا ہے کہ اب گئے کہ گئے۔مگر آزمائے ہوئے تمام  لیڈر ،حکمران تو کئی بار بنے مگر رہنما نہ بن سکے۔ جو ملک و قوم کو اس دلدل سے نکال سکتے۔ ملک ٹوٹنے کی تلوار آئے روز اخبارات کی شہ سرخیوں پر لٹکی رہتی ہے۔
اتنا لکھنے کا صرف ایک ہی مقصد ہے کہ  تمام پارٹیاں اسمبلی میں بیٹھ کر ہر ایرے غیرے قانون کو بلا چوں چراں جو پاس کرتی ہیں جن کا براہ راست تعلق عوام کی بھلائی سے نہیں ہوتا انہیں ایک نہ ایک دن تو سوجھ بوجھ رکھنے والے محب وطن اکثریتی عوام کے ووٹوں سے  واسطہ پڑے گا جو انہیں  چھٹی کا دودھ یاد دلا دیں گے اور انہیں یہ سبق کبھی نہیں بھولنے دیں گے کہ پارلیمنٹ کا کام عوام اور ملک کی بھلائی کے لئے قانون سازی کرنا ہے نہ کہ سپیکریا ارکان کی گھریلو ملازمین کی تنخواہوں اور گھریلو عیاشیوں کے لئے ہزاروں لٹر پٹرول کی فراہمی  کا بندوبست کرنا۔جہاں کبھی صدر بے اختیار کیا جاتا ہے تو کبھی وزیراعظم۔ اختیارات کبھی ایک محل میں ہوتے ہیں تو کبھی دوسرے محل میں۔جہاں بلدیاتی نظام کبھی ہوتا ہے تو کبھی نہیں ہوتا۔۶۲، ۶۳ پہلے آئین میں تھی اب اخباروں میں ہے۔پہلے کام چھ دن تھا بجلی سارا دن ، اب کام پانچ دن ہے تو بجلی آدھا دن سے بھی کم۔حالانکہ  دو اڈھائی دن سے زیادہ کام کی گنجائش نکلتی نہیں۔ ڈاکٹر اصلی ہیں تو دوائیاں جعلی۔اسمبلی اصلی تھی تو ممبر جعلی ڈگری والے۔کوئلوں میں دلالی ہے تو جہازوں آبدوزوں میں کمیشن۔ بھوکےغریب کے لئے لفظ رشوت  سےذلت ، امیر کے لئے تحفہ تحائف سے عزت۔
پاکستان کی سیاست میں جھوٹ چلتا ہے مگر ملک میں رہنما جھوٹا نہیں چل سکتا۔ کیونکہ ملک جھوٹے  وعدوں کی بیساکھی پر  زیادہ دیرنہیں کھڑا ہو سکتا۔
قیام پاکستان سے قبل قائداعظم کی تقریر پر ایک بوڑھا تالیاں بجا رہا تھا ، قریب کھڑے شخص نے اس سے پوچھا بابا جی آپ کو قائداعظم کی انگریزی تقریر کی سمجھ آتی ہے؟بوڑھے نے کہا نہیں! مجھے انگریزی نہیں آتی مگرمجھےیقین ہےکہ یہ شخص سچ بول رہا ہے۔ایسے ہوتے ہیں سچے لیڈر۔
سب سے پہلے ملک کے رہنماؤں کو یہ ثابت کرنا ہو گا کہ وہ سچ بولتے ہیں۔ اگر نہیں تو پھر ان کے وعدے  پر صرف اتنا ہی کہوں گا۔
خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا

Friday, March 16, 2012

سیاست میں ریاست ، الیکشن میں سلیکشن

0 comments
ابھی حال ہی میں الیکشن کمیشن نے ایک خاتون پریزائیڈنگ آفیسر کے تھپڑ کی قیمت چکائی ہے ۔ اب ایک نیا ٹیسٹ پھر عدالت کے دروازے پر دستک دینے پہنچ چکا ہے ۔ سرگودھا کے ستر سالہ ٹیچر پر بد ترین تشدد کر کے دونوں ٹانگوں سے معزور کر دیا گیا ہے ۔ جسے اگر میڈیا ہائی لائٹ نہ کرتا تو شائد ایک دو احتجاجی جلسہ کے بعد سیای مفاہمت کی نظر ہو جاتا ۔ مگر آج صورتحال یکسر بدل چکی ہے ۔ طاقت کا استعمال لاٹھی ، گولی کا وہی پرانا رنگ رکھتا ہے ۔ مگر دیکھنے والی آنکھ بدل چکی ہے ۔ کیمرے کی آنکھ سے وہ ان پڑھ لوگ بھی اسے دیکھ لیتے ہیں جو اس سے پہلے اپنی ناخواندگی کی وجہ سے اخبار میں خبر پڑھنے سے محروم رہ جاتے تھے۔

پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کا  انتہائی چالاک سیاست سے واسطہ پڑا ہے ۔ انہیں عام لوگوں کے مسائل سے دور رکھنے کے لئے کبھی پریس کلب پر حملہ کیا جاتا ہے ۔ تو کبھی بیس بائس سال پرانا کھاتہ کھول لیا جاتا ہے ۔ کرپٹ کرپشن کے کھیل میں  دوسروں کو اپنے حمام میں لایا جاتا ہے ۔ مہران بینک سکینڈل ایک تیر سے کئی شکار کرنے کا شاہکار ہے ۔ لینے کے دینے والا معاملہ ہوتا نظر آ رہا ہے ۔ اس کا سب سے زیادہ فائدہ پیپلز پارٹی کو ہو گا ۔ اور دوسرا تحریک انصاف کو ۔ جو اس سکینڈل کے برے اثرات سے محفوظ ہیں ۔ فیصلہ چاہے کچھ بھی ہو ۔ جس کی امید کچھ نہ ہونے کی ہے ۔ کیونکہ عدالتیں ایک کے بعد ایک ریاستی بد اعمالیوں کی دھلائی پر کمر بستہ ہیں ۔ مگر پوری قوم جانتی ہے کہ داغ تو اچھے ہوتے ہیں ۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ایک ہی خاندان کے افراد سیاسی گدی نشینی کے وارث نہ سمجھے جاتے ۔ وحیدہ شاہ مرحوم شوہر کی خالی نشست کے لئے پورے علاقہ کی واحد امید وار قرار پائی تھی ۔ جو وہ اپنی سیاسی  شعور کے فقدان کے سبب ہاتھ دھو بیٹھی۔
اخبارات عوامی مسائل پر جب قلم کشائی کرتے ہیں ۔ حکمران اس کی قبر کشائی پر ہمہ تن مصروف ہو جاتے ہیں ۔ عوام لب کشائی سے بھی محروم رہ جاتے ہیں ۔

سیاسی عزت سے بڑھ کر کچھ نہیں اس لئےمسلم لیگی قیادت نے جوابی حملہ کی پیش بندی کر لی ہے ۔ یونس حبیب کو اپنے کہے کی سزا ہرجانہ کی صورت میں ادا کرنا ہو گی ۔ ایسا مسلم لیگ نون سمجھتی ہے ۔عوام بیچارے سمجھنے سمجھانے سے کوسوں دور ہیں  کیونکہ بجلی کا خسارہ ۵ ہزار میگا واٹ تک برقرار ہے ۔ چھ سے آٹھ گھنٹے لوڈ شیڈنگ سے شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔ مرکز اور صوبے عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے انہیں ان کے اپنے مسائل ہی سے جکڑ دیتے ہیں ۔

اللہ رحم کرے الیکشن کے بخیر و عافیت گزرنے تک قوم نہ جانے کن کن مسائل سے دوچار کی جائی گی ۔ آج کی ساری اقبالی روحیں نا امید نہیں ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ زرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی ۔       

Saturday, January 29, 2011

حقائق کی حقیقت کیا ہے

3 comments
بہت سال پہلے جب میڈیا الیکٹرانک کی بجائے صرف پرنٹ پر انحصار رکھتا تھا ۔خبریں زیادہ تو جگہ کی کمی رہتی تھی ۔صفحہ اول پر صرف اہم خبریں جگہ بنا پاتیں ۔ انٹرٹینمنٹ انڈسٹری یعنی فلم ٹی وی کی جگہ اندرونی صفحات تک محدود تھی ۔
جس رہنما کو عوامی پزیرائی کا طوق پہنانا مقصود ہوتا تو ایک آدھ بیان کسی غیر اہم موضوع پر چھاپ دیا جاتا ۔
دنیا گلوبل ویلج بننے سے خبریں اخبارات کی زینت بننے سے زیادہ میڈیا پر اشتہاری حیثیت میں پہنچ رکھتی ہیں ۔میڈیا کی بدولت بعض انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کی غیر معروف ثخصیات اتنی قد آور بنا دی جاتی ہیں اور ٹی وی و اخبارات میں دکھا دکھا کر عوامی سروں پر بٹھا دیا جاتا ہے ۔انہیں یہ پزیرائی کسی فلاحی کام میں کارہائے نمایاں سرانجام دینے کی خوشی میں نہیں ہوتی ۔بلکہ فیشن ، حسن اور سکینڈل سے ناموری پانے کے اعزاز کی بدولت ہوتی ہے ۔
کئی سال پہلے اسلام آباد کے ایک ہوٹل میں ایک صوبائی وزیر کی بیگم نے کامیاب چھاپہ کے بعد اچھی درگت بنائی تھی ۔اسی طرح دوسری بڑی پارٹی کے اعلی و ارفع رہنما عدالت میں نکاح نامہ پیش کر کے جان بخشی کروا چکے ہیں ۔
ثقافتی سفیر کے خطابات سے نوازنے میں میڈیا ایک اہم کردار ادا کرتا ہے ۔اور جب ان کا وہی بےباک پن اپنی حدو ں کے ساتھ ملکی سرحدوں سے باہر بھی نکل جائے تو وہی کردار میڈیا پر عزت کا جنازہ جا رہا ہے گاتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ ان پر لگائے جانے والے عوامی اعتراضات کو ایک بار پھر الیکٹرانک میڈیا سے بھرپور نمائندگی کے حق کی طرح پیش کیا جاتا ہے ۔اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ انہیں وطن اسلام پاکستان کی نمائندگی کے حق سے دستبرادری پرمجبور نہیں کیا جاسکتا ۔
طوائف الملوکی کے شکار ملک میں سیاست وظائف سے ایسے ہی خوش ہوتی ہے جیسے طوائف تحائف سے راضی رہتی ہے ۔لاکھوں کی گاڑیاں ، کروڑوں کے بنگلے اور یورپ کے دورے کنگلوں کی حق حلال کی روزی سے بہت اوپر ہوتے ہیں ۔ان کے لئے الٹا سوال یہ رہ جاتا ہے کہ بچت نہ کر کے حج و عمرہ کی سعادت سے کیوں محروم ہیں ۔
حیرت ہوتی ہے کہ کیسی سوچ پنپ رہی ہے ۔دولت کا ہونا ہی عزت رہ گیا ہے ۔ زرائع چاہے کوئی بھی استعمال میں لائے گئے ہوں ۔اور نہ ہونا کسی گناہ سے کم درجہ نہیں رکھتا ۔
آبدوزوں کے کمیشن ہوں ، سٹیل مل کی نجکاری کا معاملہ یا بنکوں کی نجکاری میں بندر بانٹ ۔ ٹیکس نا دہندگان کے شمار کا کوئی تصور ہی نہیں ۔اربوں کھربوں کے مالک سالانہ ٹیکس دینے میں یورپ امریکہ کے ایک پرچون فروش سے بھی غریب دکھائی دیتے ہیں ۔
انتہا تو یہ ہے بیرون ملک اعلی تعلیم کے سکالرشپ کی بندر بانٹ میں معمولی ایم پی اے یا ایس پی اور ڈپٹی سیکرٹری کے درجہ تک درجہ چہارم میں آتے ہیں ۔ بڑے مگر مچھ شکار ہڑپ کرنے میں کوئی سستی کا مظاہرہ نہیں کرتے ۔ ثبوت کے طور پر نام لے بھی دوں تو کوئی فرق نہیں پڑنے والا ۔کیونکہ ہر کوشش کے بعد ہماری رائے یہ ہوتی ہے کہ انگور کھٹے ہیں ۔اگر ایک لسٹ اخبارات کے زینت بن بھی جائے تو ہم قہقہہ لگا کر دو گالیوں سے مطمعن ہو جاتے ہیں کہ سب چور ہیں ۔حالت تو ایسی ہے کہ
زہر مجھ کو ملتا نہیں وگرنہ کیا قسم ہےتیرے ملنے کی کہ کھا بھی نہ سکوں
زمانہ کی چال بدلی ہے چلن نہیں ۔پہلے سیاسی مذہبی رہنما انسانی دماغ کی رفتار بڑھانے والے مشروب کی نسبت خطاب سے نوازے گئے اب گاڑیوں کی رفتار بڑھانے والی گیس سے عزت افزائی پاتے ہیں ۔
حکمرانی حج و عمرہ کی ادائیگی بھی اب ایسے ہی مال مفت دل بے رحم کے مصداق دعوت طعام کی طرح اڑائی جاتی ہے ۔اس کے گھر میں اپنی ترقی و منزلت کی مزید دعا پڑھواتے ہیں ۔
اقتدار کا حصول ایسے ہے جیسے جوتیوں میں دال بٹ رہی ہو ۔ کوئی ایسا لیڈر ہے جو کسی فتوی کی زد میں آئے بنا اس قوم کی کشتی کو کنارے لگا سکے ۔قومیں دہائیوں میں ظلمت کی جس گہرا ئی میں اترتی ہیں ۔ صدیوں میں اس بھنور سے نکلتی ہیں ۔مذہبی اور سیاسی تحریکیں طاقت ور پروں کی پرواز رکھتی ہیں ۔این جی اوز بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جاتی ۔ مگر معاشرتی اصلاح کے لئے صرف انقلاب کا دروازہ کھلنے کا انتظار رہتا ہے ۔
سن تو یہ رکھا کہ جیسا دیس ویسا بھیس ۔ اب یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ جیسی ریاست ویسی سیاست ۔ اردو زبان کی خدمت کے دعوی دار تمام فورمز پر یہ ذمہ داری عائد کی جا سکتی ہے ۔ کہ آگے بڑھیں اور نوجوان نسل کو محبت کے اشعار ، گپ شپ موضوعات اور مذہبی اختلافات کو بھلا کر اس طرف بھی توجہ دلائیں کہ ہم ایک ہیں ۔کسی بھی فورم میں جھانکیں سب سے غیر اہم موضوع پاکستان نکلتا ہے ۔ جہاں لکھنا اندھے سے تختی لکھوانے کے مترادف ہے ۔ہمارے دعوے بڑے اور برداشت میں کمی ہے ۔ موقع ملنے پر اگر سننا اچھا نہ ملے تو تنقید چاہے مثبت کیوں نہ ہو برداشت کرنا زرا مشکل ہے ۔

دلوں کا حال اللہ سبحان تعالی بہتر جانتا ہے ۔

Sunday, August 15, 2010

سیلابی ریلے ۔بہہ گئے ۔زندگی کے میلے

4 comments
بات جتنی مختصر اور جامع ہو گی ۔ اختلاف کی اتنی ہی کم گنجائش رہے گی ۔زیادہ بولنے سے کبھی زبان پھسل جاتی ہے تو مضمون کی طوالت سے بھی ایسا ہونا ممکن ہے کہ جزبات کی رو میں بہتے بہتے اعتراض کی زد میں جا پہنچیں ۔خود کو اجڑ و گنوار کہوں تو بات سمجھ میں نہیں آئے گی ۔ کیونکہ انداز بیان سے تو کوئی اندازہ نہیں لگا پائے گا ۔ کہ تعلیم کا میدان کہاں تک سر چکے ۔جو اس سر درد کے مرض میں مبتلا رہے ہوں تو چوٹی سر کرنا محاورے میں استعمال اچھا لگتا ہے ۔
پہاڑوں سے بہتے بہتے میدانوں تک پھیلتے پانی جب آنکھوں سے آنسو بن برس جائیں ۔ تو خوشیاں دیکھنا تو درکنار سوچنا بھی بیکار ہو جاتا ہے ۔ قافلے بے سروسامانی کے نشان، سر پہ گھٹڑیاں بندھی زندگی بھر کی پونجی کے ساتھ ،سوال کرتی آنکھیں خاموش زبان سے شاعری کے مجموعہ کلام پر بھاری پتھر سے کاری ضرب لگاتی ہیں ۔
دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی امن کی فاختائیں ۔ رحم کی صدائیں ۔درگزر کی ادائیں ۔محبت کے گیت ۔ کھیت کھلیان باغ دلکشا۔نہ دیکھوں پھر کبھی اجڑے دیار ۔ بچھڑے یار ۔ مدد کے طلبگار۔ نہیں ہوش کون ہے کس کا دلدار ۔ بس امید کی ایک آس ہے ۔ چہرے تصویر یاس ہے ۔لٹے پٹے قافلے ہیں ۔ آٹا دال چاول کے مہنگے لوٹتے گھاؤ ہیں ۔پچیس ہزار میں پچاس میل کی مسافت کا بار ہے ۔
ہزار ہزار دیگوں میں بٹتی مرغ بریانی ہے ۔ پھر بھی بھوکے اکثر بےیارومددگار ہیں ۔بے چارے تعلیم میں بھی بہت پیچھے ہیں ۔ علم سے نابلد اجڑ و گنوار ہیں ۔کلاس روم کےنام سے بھی تھےجو نہ آشنا آج سکولوں میں حاضری رجسٹر پر پسماندہ حال ہیں ۔ خواندگی کی شرح شرمندگی کی سطح پر۔ پہلے ہی سکولوں میں پناہ لی ہوتی ۔ توان پڑھ گنوار نہ رہتے۔ ہر الیکشن میں انگوٹھا لگانے سے انگوٹھا چھاپ نہ کہلائے ہوتے ۔
گھروں سے بے گھر مہاجر ہیں توسکولوں میں رہتے پناہی ۔ صفحہ ہستی سے مٹنے والے اپنے گھروں کو جو نہ واپس لوٹ سکیں ۔اسی زمین پر رہیں گے بے گھر ہاری کسان بن کے مہاجر یا پناہی ۔
ہر طرف لاشیں ہیں ۔ نہیں رہتی اب نئی خواہشیں ۔زندگی امن سے جی لیں یہی اب ہیں فرمائشیں ۔کون جینے دے گا ۔ پانی اترنے کی دیر ہے ۔ زندگی صرف انہی کی اندھیر ہے ۔ جنہیں پہلے جینا بیزار تھا اب وہی زندگی کے طلبگار ہیں ۔
ایک معافی پہ پھر وہی بنائیں گے نئی سرکار ۔ جو آج نظر آتے ہیں لاچار ۔ مدد کے لئے آقاؤں کا ہے انہیں انتظار ۔آج سیاست پر بات نہیں کرنا تھی پھر بھی ایک آدھ فقرے کے لئے معذرت ۔ کیونکہ وہی مسیحا ہیں ۔ بااختیار ہیں زور آور ہیں ۔ ان کی مدد کے بغیر تسلی و تسفی نہیں ۔ شکوہ انہی سے سب کرتے ہیں ۔ قوم کو ایک کرنے کا تہیہ اب وہ آپس میں مل بیٹھ کر کرتے ہیں ۔ ووٹوں پر جو تقسیم کرتے تھے ۔
ہر لیڈر کی اپنی قوم ہے پنجابی پختون سندھی بلوچی۔ جو ان میں نہیں وہ متحد ہے ۔14 اگست ان سب کی آزادی کا دن ۔ جب سب اکٹھے جشن مناتے ہیں ۔ صرف عید کے چاند پر اتفاق نہیں کرتے ۔ تین دن تک اپنی ڈیڈھ اینٹ کی مسجد الگ بناتے ہیں ۔
جب الگ الگ ہو چکے تو اب یکجہتی کی ضرورت آن پڑی ۔ اب قطرہ قطرہ دریا بننے میں دیر کر رہا ہے ۔دوسروں پر انحصار کی بجائے خود کے بازو کو ہی طاقت بنایا ہوتا ۔ استعمال کے بعد نہ انہیں بھلایا ہوتا ۔ تو متاثرین کوخالی پلاٹوں سے بھی بے سروسامانی کے کیمپ اٹھائے جانے کو نہ کہا جاتا ۔5 ہزار روپے من تک آٹا نہ بکتا ۔
اگر انہیں سیاست کے میدانوں کے بڑے شکاری نہ لکھوں تو پھر کیا لکھوں ۔ جانتا ہوں کہ سیاسی حالات پر لکھنا بوریت پیدا کرنے کا سبب ہے ۔ اختلافی موضوعات کو جو پزیرائی حاصل ہے وہ کسی دوسرے موضوع کو نہیں ۔ خاص کر لسانی اور مذہبی ۔ یہ کسی مفروضہ کی بنیاد پر نہیں کہہ رہا ۔بہت سی باتیں کچھ کھلی تو کچھ ڈھکی چھپی بیان کر چکا ۔ اب اگر بات یہیں ختم نہ کروں تو پھر اعتراضات کی ایک لمبی لسٹ ہے ۔ تجربات اتنے سنجیدہ ہیں کہ غیر سنجیدگی طاری نہیں ہوتی ۔

Friday, August 13, 2010

بدترین جمہوریت بہترین آمریت سے بہتر

2 comments
بد ترین جمہوریت بہترین آمریت سے بحرحال بہتر ہوتی ہے ۔ روزانہ ہی ٹی وی پر ہمارے سیاستدان یہ راگ آلاپتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں ۔لیکن جمہوریت کی نہ تو صحیح ترجمانی کی جاتی ہے اور نہ ہی اصل شکل دکھائی جاتی ہے ۔
جمہوریت سے مراد گلی محلوں اور گاؤں سے الیکشن جیت کر پارلیمنٹ میں کھلی چھٹی پا کر سیاہ و سفید کے مالک ہو جانا مراد نہیں ۔سیاسی باپ کے بوڑھے ہونے سے پہلے نوجوان بیٹے کو سیاسی گدی نشینی کے لئے تیار کیا جانا بھی نہیں ۔ بد ترین جمہوریت بہترین آمریت سے بہتر اسے کہا گیا ہے کہ جس میں معاشرے کے عام افراد بلا خوف وخطر اپنی آزادی اظہار رائے کا حق رکھتے ہوں اور نمائندگی کے لئے وراثت کی بجائے قابلیت کا معیار اپنایا گیا ہو ۔
جمہوریت سے مراد ہے عوام کو اپنے میں سے نمائندگی کا حق ، آزادی رائے کا حق،کاروبار و جائیداد کے تحفظ کا حق،مذہبی آزادی کا حق،تحریر و تقریر کا حق،معاشی تحفظات کا حق،بنیادی تعلیم اور حفظان صحت کا حق،امارت و غربت سے قطع نظر مساوی بنیادوں پر قانون و انصاف کے حصول کا حق،معاشرتی نا انصافی اور سماجی غنڈہ گردی سے استحصال سے محفوظ رکھنے کا حق، ایک عام آدمی کے وہ تمام حقوق جو حکمرانوں سے لیکر قانون نافذ کرنے والے اداروں تک اور انصاف فراہم کرنے والے اداروں سے لیکر آزادی صحافت میں لپٹی بعض کالی بھیڑوں سے عزت نفس کو محفوظ رکھنے کا حق بھی شامل ہیں ۔
جس جمہوریت کی آساس آئین پر ہو ۔وہی آئین معاشرے کے تمام مکاتب فکر اور افراد کو حقوق فراہم کرتا ہے ۔مگر بد قسمتی تو دیکھئے آئین کی پاسداری سے صرف پارلیمان ہی اپنے لئے حقوق کا مطالبہ رکھتے ہیں ۔
جن حکمرانوں پر عوام کا اعتبار اٹھ چکا ہو اس سے بڑی بد قسمتی کیا ہو گی ۔وزیراعظم سیلاب فنڈ میں شرمناک حد تک عطیات کا اکٹھا ہونا اس بات کی دلالت ہے کہ عوام جمہوری بھائی بندوں کی ایمانداری پر شکوک کا شکار ہے ۔آخر کار جمہوری وزیراعظم کا میڈیا پر عوام سے مخاطب ہو کر یہ یقین دلانا کہ ایک ایک پائی ایمانداری سے سیلاب زدگان تک پہنچائی جائے گی ۔ اور اس کا حساب بھی دیا جائے گا ۔ ویب سائیٹ پہ جا کر چیک کیا جا سکے گا ۔
پاکستانی عوام نے مصیبت کی ہر گھڑی میں جمہوری حکومت ہو یا آمریت دل کھول کر امداد کی ہے ۔مگر آج وہ مایوس ہیں ان کے کردار و گفتار سے ۔جمہوریت کے یہ چمپئن پارٹی ٹکٹوں پر کروڑوں روپے خرچ کر کے یہاں تک پہنچے ہیں ۔ اور جو اسمبلیوں میں نہیں پہنچے وہ بھی اتنے ہی داؤ پر لگا چکے ہیں ۔ اگر وہی لوگ اپنے الیکشن پر پولنگ کے روز دیگوں پر خرچ آنے والی رقم کا آدھا بھی سیلاب فنڈ میں دے دیتے تو حکمرانوں کو سبکی نہ ہوتی ۔
ہمارے ہاں ایک عام رویہ یہ پایا جاتا ہے کہ قومی سطح پر امداد کی بجائے عید قربان پر کھالیں اکٹھا کرنے والوں کی طرح تمام سیاسی جماعتوں کے الگ الگ شامیانے ہر شہر میں عوام سے کھلے دل سے امداد کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔مگر ان تمام سیاسی جماعتوں کے اربوں روپے خرچ کر کے الیکشن لڑنے والوں سے قوم کو کیا توقع رکھنی چاہئے ۔ جو صرف قوم سے لوٹا پیسہ قوم پر لگانے کو جائز سمجھتے ہیں ۔اگر صدر صاحب ہی مانچسٹر میں پچاس لاکھ کا اعلان کرنے کی بجائے اس دورہ پر سرکاری فنڈ سے کروڑوں روپے خرچ کرنے کی بجائے دورہ منسوخ کر دیتے اور یہی رقم سیلاب زدگان کے فنڈ میں دے دیتے تو آج وزیراعظم صاحب کو یہ نہ کہنا پڑتا کہ ایک ایک پائی کا حساب دیا جائے گا ۔
عوام سے صرف قربانی مانگی جاتی ہے ۔سیلاب نے جو تباہی پھیلائی ہے ۔ بچ جانے والوں کے پاس اب صرف کھالوں کے علاوہ کچھ نہیں بچا ۔جو ان کے کسی کام کی نہیں ۔ہماری حکومتوں کو جانوروں کی شکل میں صرف کھالیں چاہئے اور انسانوں کی شکل میں بکرے ۔جو صرف چھری دیکھانے سے میں میں کرنے لگیں ۔
جن معاشروں میں تعلیم کا فقدان ہوتا ہے ۔وہاں چند پڑھے لکھے اندھوں میں کانا راجہ کے مصداق کامیابی کے زینہ پر جلد چڑھ جاتے ہیں ۔مجمع اکٹھا کرنے کے لئے تماشا سے بڑا مداری ہوتا ہے ۔کیونکہ تماشا دیکھا نہیں جاتا دیکھایا جاتا ہے ۔تماشا چاہے ماچس کی ڈبیا کا ہو ۔ مگر زبان سے منظر باندھنے والا اسے بڑھکا دیتا ہے ۔
برکتوں کا مہینہ ماہ رمضان کا آغاز ہو چکا ہے ۔مکمل سادگی اختیار کریں ۔عید کے اہتما م میں ہزاروں روپیہ خرچ کرکے امیروں کی تجوریاں بھرنے کی بجائے مصیبت اور مشکل کی اس گھڑی میں اپنے بھائیوں کی مدد کریں ۔سیاسی اور سیاست کرنے والی مذہبی جماعتوں کو جانچنے کا سب کا اپنا پیمانہ ہے ۔ جن اداروں کا ماضی بے داغ ہے اور خدمت خلق میں جن کا نام کی بجائے کام بڑا ہے ۔ انہی کے سپرد اپنی امدادی امانت کریں ۔ جو پچھلی کارکردگی کے فوٹو سیشن سے بیوقوف بنانے کی کوشش بھی نہیں کرتے ۔
وزیراعظم کا سیلاب میں پھنسے لوگوں کے درمیان جانا اچھا فعل ہے مگر ایک ایک فرد کو کیمرے کی آنکھ کے سامنے تھیلا تھمانا شرمناک فعل ہے ۔ آخر میں تو صرف یہی بات رہ جاتی ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اجڑے باغاں دے گالڑ پٹواری

Friday, July 23, 2010

ہم سب آزاد ہیں

2 comments
آزادی سے کیا مراد لی جاتی ہے ۔کسی بیرونی طاقت کے تسلط سے چھٹکارا پانا۔ یا اپنے فیصلے خود سے کرنا ۔آزادی کی تحریکوں کی تاریخ بہت پرانی ہے ۔ جب بھی کبھی کسی بیرونی آقا نے عوام پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے تو اس کے رد عمل میں تحریک قائدین نے اپنا کردار ادا کیا ۔
سرسید احمد خان کوئی حریت پسند نہیں تھے ۔مگر حمیت پسندی نےانہیں سوچنے پر مجبور کیا ۔جس نے زوال پزیر مسلمان قوم کو دوبارہ علم کی روشنی سے اپنے پاؤں پر خود کھڑا ہونے میں مدد دی ۔ حالانکہ کم تعلیم یافتہ دور میں بھی ان قائدین نے اپنے مضامین کے زریعے اخبارات میں چھپنے سے لے کر ایوان اقتدار کے ایوانوں تک اپنی آواز پہنچائی۔رسالہ جات اور اخبارات قوم کی نمائندگی کرتے ۔گو کہ پڑھنے والوں کی تعداد انتہائی قلیل تھی مگر مواد پھر بھی میعاری ہوتا تھا ۔

انگریز بہادر کی چھتری تلے کام کرنے والے بھی بہت ہوں گے مگر تاریخ انہیں آج فراموش کر چکی ہے ۔اور ان کا ذکر کرنا بھی مناسب خیال نہیں کیا جاتا ۔تحریک آزادی کی روح رواں ایسی قیادت آزادی حاصل کرنے کے بعد گمنامی میں کیوں چلی جاتی ہے ۔
پاکستان میں آزادی کی تحریک کے روح رواں جو لوگ تھے ۔ پاکستان کی تاریخ مکمل نہیں ہوتی جب تک کہ ان کے نام نہ لئے جائیں ۔جنہوں نے اپنے اپنے تئیں قوم کی آزادی میں اہم کردار ادا کیا تھا ۔ سر سید احمد خان سے لے کر قائد اعظم محمد علی جناح تک بے شمار قائدین اس تحریک سے وابستہ ہوئے۔اور اپنے اپنے انداز میں قوم کی رہنمائی کی اور انہیں ان کی منزل مقصود تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا ۔جس میں پرنٹ میڈیا سے بھی قائدین شامل تھے ۔
آزادی پانے کے بعد فرینڈز ناٹ ماسٹرجیسی سوانح عمری لکھنے والے،قائدین بن کر ملک و قوم کی باگ ڈور ا پنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں ۔مرض کی تشخیص کرتے کرتے جب طبیب خود مسیحائی پر اتر آتے ہیں ۔ پھر وہیں سے کوئی نیا خواب جگا دیتا ہے ۔اور آزادی کی امنگ تقریروں سے بڑھکا دیتا ہے ۔آقا بننے کے بعد وہی طرز عمل اختیار کر لیتا ہے جو اس کے پیش روؤں کا شیوہ رہا ۔
قوم کو نئی راہ دیکھائی جاتی ہے ۔ قرآن و حدیث کا علم بلند کر کے پھر ایک نئی تحریک میں ڈھالا جاتا ہے ۔اور چند سال تک اسلام کا نام لے کر اپنا الو سیدھا تو قوم کو الٹا لٹکا دیا جاتا ہے ۔اپنے کئے کا اپنے ہی ہاتھوں انجام پانے کے بعدقوم کو پھر ایک نیا آزادی کا متوالا ہاتھوں میں اٹھا لیتا ہے ۔چاہے وہ شریف ہو یا بدمعاش اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ اس کے بعد آزادی پانے کا ڈھنگ بالکل ہی نرالا ہے ۔ کیونکہ نہ ہی چند ماہ سے زیادہ تحریک چلتی ہے اور نہ ہی حکومت ۔
ہوا کے گھوڑے پر بیٹھ کو امیرالمومنین جب مشرف بہ اسلام نہیں ہو پاتے ۔ تو پھر ایک نیا ڈرامہ شروع ہوتا ہے ۔جو چند سال ادل بدل سے پرانی فائلوں کو ہی کنگھالتا رہتا ہے ۔
ریشمی رومال کی تحریک کا چاہے جتنا بھی نام ہو ۔ کالے کوٹ سے بڑھی تحریک نہیں کہلا پائے گی۔ کالے کوٹ کی تحریک میں آزادی کا نعرہ بہت اہمیت حاصل کر گیا تھا ۔پھر وہی کالا کوٹ آزادی پانے کے بعد پہلے زینہ پر ہی دست وگریبان ہو کر پھٹتا ہوا نظر آتا ہے ۔تنازعات سے بات بڑھتے بڑھتے یہاں تک پہنچی کہ بعض تو خود ہی متنازعہ ہو گئے ۔
پھر رنگین ٹی وی اور کالے صفحات بھی آزادی کی جنگ میں شرکت کرتے کرتے بے حال ہو گئے ۔ آزادی کے تحفظ کا دعویدار میڈیا بھی سراسیمگی پھیلانے میں آگے بڑھتا چلا گیا ۔ تاکہ پہلی خبر یا افواہ کا سہرا انہی کے سر رہے ۔ ہر گلی محلے کی نکڑ پر ویڈیو شاپ کی طرح قصبوں اور شہروں میں جگہ جگہ ایک عدد کیمرے کے ساتھ نمائندہ ہر اچھی بری خبر کی کوریج میں سرگرم عمل نظر آتا ہے ۔آج عدلیہ آزاد ہے ، میڈیا آزاد ہے ، حاکم بھی آزاد ہے ، حکومت بھی آزاد ہے ۔تو پھر یہ قوم ہی بیچاری قیدی کیوں ہے ۔
چودہ اگست1947 کو ملک و قوم نے جو آزادی حاصل کی تھی۔اس کے بعد سے 2010 تک ایک کے بعد ایک ادارہ اور شعبہ آزادی مانگتا چلا گیا اور اس کے لئے تحریکیں بھی چلائی گئیں ۔جس قوم کی آزادی اس کی بنیادی ضرورتوں میں پنہاں ہے۔ اب انہیں دلانے والا کوئی سرسید احمد خان، مولانا محمد علی جوہر ، علامہ اقبال یا محمد علی جناح جیسا بے لوث رہنما موجود نہیں ہے ۔جو انہیں شعوری فکری روحانی آزادی کے بعد معاشی معاشرتی اور تمدنی آزادی دلا سکے ۔
جس معاشرہ میں کرایہ داری نظام اتنا مضبوط ہو کہ مالک مکان کو سامان سمیت کرایہ دار سڑک پر پھینکنا پڑے ۔تو پھر کرایہ دار کو یہ سوچ لینا چاہئے کہ مالک مکان آخر کب تک اپنی ملکیت سے ہاتھ دھونے کی فکر میں مبتلا رہے گا ۔ کہیں مالک مکان اپنی ملکیتی جائداد کو بچانے کے لئے اُٹھ کھڑے نہ ہوں۔اور سامان سمیت کرایہ دار کو نکال کر گھر سے باہر پھینک دیں ۔
زبان کی آزادی تو کب کی مل گئی ۔مگر پیٹ کی آزادی میں مبتلا یہ قوم پھر کسی مسیحا ءکے انتظار میں ہے ۔روح کی آزادی قائداعظم نے دلا دی۔ اب انہیں فکر معاش سے آزادی کے لئے کسی طبیب کی مسیحائی کی ضرورت ہے ۔

.٭.
دین کی دنیا میں فقط مسلمانی رہ گئی
نفرت کو بسائے صرف رشتہ داری رہ گئی

غلامی طوقِ گردن سے زنجیرِ پا ہو گئی
ملک آزاد ہو گیا قوم قیدی رہ گئی

جن سے تھا چھٹکارا پانا مقصود
اندازِ حکمرانی گورا تو چمڑی کالی رہ گئی

امانت دیانت صداقت کا پڑھا سبق
روحِ قائد نہ رہی باقی بے قاعدگی رہ گئی

تحریر و اشعار : محمودالحق

Sunday, June 20, 2010

گر ہوتا کچھ یہاں بھی ایسا

9 comments
سڑکوں پر دوڑتی گاڑیاں دھوئیں کے بغیر ، تیز چلتی ہوائیں دھول کی آمیزش کے بغیر ، عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر کسی آواز کے بغیر ، جگہہ جگہہ کھڑے لوگ نہیں کسی قطار کے بغیر حیران کئے جاتے ہیں ۔ آگے بڑھنے کی تگ و دو میں دھکم پیل کے بغیر انسان کم مشین زیادہ دیکھائی دیتے ہیں ۔ جلد بازی کہیں چھوڑ چکے ہیں ۔ وقت کا استعمال سورج کے طلوع و غروب کی بجائے گھڑی کی سوئیوں سے کرتے ہیں ۔ وقت کی قدر اس لئے نہیں کرتے کہ ٹائم از منی ہے بلکہ اپنی حدود کا تعین رکھتے ہیں ۔ اور دوسروں کے حق کا ۔ وقت پر پہنچنے کی عادت وقت سے پہلےنکلنے پر مجبور رکھتی ہے ۔ پہلے آئیے پہلے پائیے اور پہلے نکلیں پہلے جائیں کے فارمولہ پر عمل پیرا ہوتے ہیں ۔ انسانی سوچ کی رفتار جتنی تیز ہے کام کی رفتار اس سے بھی زیادہ۔

تنخواہ کا تعلق کام سے ہے ۔ بغیر کام کے گزارا بھی مشکل کر دیتا ہے ۔آنکھیں جو دیکھتی ہیں سوچتی وہ نہیں ۔ مہنگی گاڑی عمارت کی نشانی نہیں ہو سکتی ۔ وقت پر واجبات لوٹانے کی قیمت میں اُدھار کی نعمت سے استفادہ حاصل کیا جا سکتا ہے ۔سیلوں کے مواقع ہاتھ دھو کر پیچھے پڑنے سے بچی کچھی جمع پونجی بھی ہاتھ سے نکل جاتی ہے ۔ اچھے کریڈٹ کا ہونا گھر میں بیری کے درخت کی مانند پتھروں کو آنے سے نہیں روک سکتا ۔ترغیبات فائدہ کی کم، خرچ کہاں کریں، کے مشورے زیادہ ہوتے ہیں ۔ راڈو گھڑی ہو یا بی ایم ڈبلیو گاڑی اپنے ہاتھ میں ہی ہوتی ہے ۔ دوسروں کی نظر میں کم ۔
دل میں چاہے کتنی ہی کدورتیں کیوں نہ ہوں ہونٹ دانتوں کو دیکھائے بنا ہی مسکرا دیتے ہیں ۔اپنا گھر شاہی دستر خوان ہو یا درویشی پکوان ذائقہ خود ہی چکھا جاتا ہے ۔ چولہے کی تو ہوا بھی باہر پھیکی نکلتی ہے ۔ذائقہ بنانے کے لئے خوشبو جلا جلا کر باہر نہیں نکلنے دی جاتی ۔کہ گھر کی بات گھر میں ہی رہے ۔ دوسروں تک پہنچنے سے باتیں گھر گھر پہنچیں گی۔ گرمیوں میں کھڑکیاں کھلی رکھیں یا بند ۔ کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ تاک جھانک کا خطرہ بالکل نہیں ۔ جھانکنے والا تو صرف چور ہی کہلا سکتا ہے ۔جو بند گھروں میں کھلی کھڑکیوں سے چھیڑ چھاڑ کرتے ہیں ۔جو صرف شیشے کے آر پار سے روشنی کی طلبگار ہوتی ہیں ۔سریوں کی شکل میں باڈی گارڈ سے محروم رہتی ہیں ۔
گلی بازاروں سے گزرتے ہوئے لڑکیاں کھلی چلتی ہیں اور لڑکے ہاتھ بندھے ہوئے ۔ جہاں ہاتھ کھلے نہیں تو بندھے نہیں ۔آنکھیں اپنے راستے پر مرکوز رہیں تو ٹھیک ادھر اُدھر ٹکانے سے عقل بھی جلد ٹھکانے آ جاتی ہے ۔دن کا اُجالا ہو یا رات کا اندھیرا سفر غیر محفوظ نہیں ہوتا ۔محافظ کوؤں کی طرح شور مچاتے مدد کو پہنچ جاتے ہیں ۔کمیٹیاں ڈال کر بچے پڑھائے یا ڈولیاں اُٹھائی نہیں جاتی ۔دولت کی ریل پیل سے سونے کا چمچ تو منہ میں رکھا جا سکتا ہے مگر قابلیت اور ہونہاری کے مقام ارجمند پر فائز نہیں ۔ کاروبار کی وراثت تو ہے مگر وراثت میں سیاست نہیں ۔باپ کی فیکٹری میں بیٹا ملازم کے ساتھ ہو سکتا ہے مگر باپ کی کرسی پہ نہیں ۔
جانور پالنے کا شوق پورا کرنے کا پورا حق ہے ۔ مگر اسے سیر کرانے کی سزا بھی خود ہی پوری کرنی ہوتی ہے ۔ ایک ہاتھ میں کتا تو تو دوسرے ہاتھ میں ایک اخبار کا ٹکڑا اور پلاسٹک بیگ ۔صفائی نہ کرنے کی پاداش میں بھاری جرمانہ جیب پر بھاری ہو جاتا ہے ۔
پیدل چلنا صحت کے لئے اچھا خیال تو ہوتا ہے ۔ وہ بھی صرف مشینوں پر چاہے دوڑتے جائیں یا چلتے پھریں ۔سڑک پر چلنا ٹریفک کے لئے مشکل کا باعث بھی ہو جاتا ہے ۔ جب انسان تو انسان بڑی بطخ اپنے بچوں کوایک لائن میں اچھی گھاس کی تلاش میں سڑک پار کرا رہی ہو ۔ تو پہلا حق اس کا جو جتنا سست ہو ۔تیز چلنے والی پھر اپنی رفتار حاصل کر لے گی مگر پیدل وقت سے پیچھے رہ جائے گا ۔وقت کی قدر رفتار سے ہے کار سے نہیں ۔بے کار زیادہ تر گھروں کے اندر رہتے ہیں ۔ باہر نکلنے سے انہیں رفتار بڑھانی پڑے گی جو سست روی میں بڑی رکاوٹ ہوتی ہے ۔
ایمر جنسی نمبرز گھمانے کا انداز بیشتر جگہوں پر ایک جیسا ہی ہوتا ہے ۔ بھاگ دوڑ بھی ایک جیسی دیکھنے کو مل ہی جاتی ہے ۔مگر کہیں قانون کی عملداری ہے تو کہیں حاکم کی حکمداری ۔ تماشا دیکھنے والے اپنی راہ لیتے ہیں ۔ کیونکہ تماشا لگانے والے شام کے بعد تماشبین نہیں ہوتے ۔
شناختی کارڈ پر شناختی علامت کا خانہ گاڑی چلانے کی دلالت نہیں ہوتا ۔ پانچ سو کا جرمانہ سو میں نہیں ٹل سکتا ۔ جج کا نوجوان وکیل بیٹا کیس جیتنے میں دوسروں کو پیچھے نہیں چھوڑ سکتا ۔ معیار قابلیت ہے رشتہ کی اہلیت نہیں ۔ تھانیدار محلے کا پنچائتی نہیں ہوتا ۔ اعلی افسران کی طاقت بیرون دنیا میں بھی برابر نہیں ہوتی ۔ بلکہ گھر کی مرغی دال برابر تک ہے ۔
ووٹ قوم کی امانت سمجھا جاتا ہے ۔خاندانوں کی جاگیر نہیں ۔ جہاں نہ تو جانشنین ہیں اور نہ ہی گدی نشین ۔

Saturday, June 5, 2010

ضیافت سے سیاست تک

0 comments
ہاتھ اُٹھا اُٹھا کر دعائیں دینے والے اب جھولی پھیلا کر کہیں بد دعائیں ہی نہ دینا شروع کر دیں ۔کراچی کے مکین تو دعائیں صرف دل سے مانگ رہے ہیں ۔ اللہ کرے ان کے سروں سے یہ بلا ٹل جائے ۔ تاکہ جن ہاتھوں سے دعائیں مانگنی تھی وہ زندگی کے جینے کےاسباب اکٹھے کرنے میں مصروف عمل ہیں ۔ ملک کا قومی بجٹ بھی پیش کر دیا گیا جس کے لئے وزارت خزانہ کئی مہینوں سے سر گرم عمل تھی ۔ مگر اہم مسئلہ بجٹ پیش کرنے والے سے متعلق زیادہ اہم تھا ۔ جسے چند گھنٹے پہلے ہی اس کام کے لئے چنا گیا ۔ چلیں یہ تو کوئی بڑی بات نہیں تھی ۔ اگر ایک سال پہلے چنا جاتا تب بھی یہی کام کرنا تھا ۔یعنی پہلے سے لکھا عینک لگا کر پڑھنا ۔ ملازمین کی تنخواہوں میں پچاس فیصد اضافہ تک تو بجٹ سمجھ میں آگیا ۔ اب تو اکنامکس والے ہی اسے قوم کے لئے اچھا یا برا کا سرٹیفیکٹ جاری کر سکتے ہیں ۔جب سے ہوش سنبھالی ہے بجٹ در بجٹ پیش در پیش آ چکے ہیں ۔ بجٹ کا معاملہ بھی اچانک لگنے والی چوٹ کی مثل ہے ۔
گرم گرم تکلیف
نہیں دیتا ، جوں جوں ٹھنڈا ہوتا جاتا ہے تکلیف بڑھتی جاتی ہیں ۔

کم از کم میرا تو یہی تجربہ ہے ۔دن بدن بڑھتی مہنگائی عوام کی دگرگوں حالت زار کو مزید زخم سہلائی کرتی ہے ۔بے چارے عوام نعروں سے شروع ہوتے ہیں فاقوں تک پہنچ جاتے ہیں ۔لیکن مستقل مزاجی میں فرق نہیں آتا ۔تم نشتر آزماؤ ہم جگر آزماتے ہیں کے عزم سے پیچھے ہٹنے والے نہیں ۔
حکومتی ارکان بہت خوش ہیں کہ متوازن بجٹ سے غریب عوام کے دل جیت لئے ۔ مگر اتنی جلدی نتیجہ کیسے نکال لیا گیا ۔ شائد کاغذ وں میں جمع تفریق سے دل جیتا گیا ہے ۔
جیت تو اصل میں وزیراعظم صاحب کی ہوئی ہے کہ ان کے بھائی بھی اب برسر روزگار ہو گئے ہیں ۔جی ہاں آج وہ بھی پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ہیں ۔کیا ہی اچھا ہو اگر شریف برادران کی طرح چھوٹے بھائی پنجاب کے وزیر اعلی منتخب ہو جائیں ۔نہ بھی ہوں مگر امید تو پیدا ہو گئی ہے ۔اگر پنجاب نے چوں چرا کی تو دو بھائی دو بھائیوں کا ریکارڑ بھی توڑ سکتے ہیں ۔
عوام کے دل جیت لئے گئے ۔ ضیافتوں کا اہتمام ہو گا ۔ جی جو کھانا پہلے عوام نے کھایا وہ دیگوں میں پکایا تو ہاتھوں سے کھایا گیا ۔اب اتنی خوشیاں ایک ساتھ ملنے پر بڑے بھائی بھی مبارکباد دینے میں پیچھے نہیں رہیں گے ۔ملک کے بہترین شیف کھانا بنائیں گے تو بہترین ویٹر خوب انداز شان سے پیش کریں گے ۔قوم کو جو دے دیا گیا اسی پہ اکتفا کریں ۔ اگر نہ بھی کریں تو کیا کر لیں گے ۔ اسی تنخواہ ہی میں کام کرنے کی مجبوری تو رہے گی ۔ یہ ضیافت اور سیاست کا کھیل ہے ۔جہاں کھلانے والےہی کو ملتا ہے ۔ پارٹیاں بدلنے سے کچھ نہیں ملتا پارٹیاں دینے سے سب بدل جاتا ہے ۔چائے کے کپ پہ تو صرف بزنس ہی کیا جا سکتا ہے ۔ سیاست نہیں ۔

Friday, June 4, 2010

پیوستہ رہ شجر سے اُمید بہار رکھ

5 comments
درختوں کا زیادہ سے زیادہ لگانا انسانی زندگی کے لئے مفید سمجھا جاتا ہے ۔کیونکہ آکسیجن پیدا کرنے کا سب سے بڑا قدرتی ذریعہ درخت ہی ہیں ۔زندہ رہنے کے لئے صاف آب و ہوا کا ہونا ضروری ہے ۔ سائنس بہت پہلے ہی بتا چکی ہے ۔مگر اب حکومت پنجاب کی طرف سے محکمہ جنگلات نے بھی ثابت کرنے کی کوشش کی ہے ۔

ہمارےملک میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد نو جوان نسل کے لئے اہم مسئلہ زندہ رہنے کے لئے برسرروزگار ہونا ہے ۔آفت زدہ انتظام حکومت سے لے کر آلودہ آب وہوا تک انسان معاشی و معاشرتی ناہمواریوں کا شکار رہتا ہے ۔آفت زدگی ٹھیک کرنے کی طرف ابھی تک توجہ نہیں ہے ۔ البتہ آلودگی کے خاتمہ کے لئے ایک اچھا پروگرام تشکیل دیا گیا ہے ۔
پنجاب کے بے روزگارزرعی، ویٹرنری اور فارسٹری گریجوایٹس کو پچیس ایکڑ اراضی جنگلات لگانے کے لئےآلاٹ کی جائے گی ۔ تاکہ وہ وہاں پودوں کی شجرکاری کریں ۔ تناور درخت بننے تک آلودگی سے پاک آب و ہوا میں زندہ رہیں ۔پھر انہیں کاٹ کر بھوک مٹانے کے لئے ایندھن کے طور پر استعمال میں لا سکیں ۔صرف ایندھن سے بھوک تو نہیں مٹائی جا سکتی تو ظاہر ہے ان میں سے بیشتر فروخت کئے جائیں گے۔ تاکہ سبزی ترکاری کا بھی انتظام کیا جا سکے ۔ آئیڈیا تو برا نہیں ہے ۔ ضرورت ایجاد کی ماں ہے کے فارمولہ کو ذہن میں رکھ کر پروگرام تشکیل دیا گیا ہے ۔
اب اگر کسی کو ہماری مدد کی ضرورت ہو تو بلا معاوضہ حاضر ہیں ۔ کیونکہ اٹھارہ سال پہلے بے روزگاری کے خاتمے کے لئے بھی کچھ ایسا ہی پروگرام اپنی مدد آپ کے تحت شروع کیا تھا ۔ بیس ہزار کے قریب سفیدہ ، پاپولر اور سمبل لگانے کا شرف حاصل ہوا مگر چند سو سے زیادہ تنا ور درخت نہ بن پائے ۔ دس سال پال پوس کر جوان کیا ۔ بیچنے پر جو رقم ہاتھ لگی اتنی نا کافی تھی کہ بےروزگاری تو ختم نہیں ہوئی البتہ ہاتھ کھلا ہو گیا ۔
جیسا کہ اس سے پہلے بھی سرکاری سطح پربے روزگاری ختم کرنے کے لئے پیلی ٹیکسی کے پروگرام کو حتمی شکل دی گئی تھی ۔ ملک کا کروڑوں کا زر مبادلہ خرچ کرنے کے بعد بھی وہ ٹیکسی کہیں دیکھائی نہیں دیتی ہیں ۔ میری طرح بہت سے لوگ ایسے بےروزگاروں کو جانتے ہوں گے ۔ جنہوں نے مرسڈیز ٹیکسیاں گھروں میں چولہا جلانے کے لئے ایندھن بھر کر سڑکوں پر دن رات چلائی ہوں گی ۔ اور آج بھی وہ ٹیکسیاں پیلے رنگ میں ہی ایک جگہ سے دوسری جگہ مسافروں کو لا نے لےجانے میں بھاگ رہیں ہوں گی ۔مگر ایسا دیکھنے میں نہیں آتا ۔ صرف ایل پی ٹی کی نمبر پلیٹ چغلی کرتی ہے کہ بے روزگاری کا مسئلہ حل ہو چکا ہے ۔انہیں مزید محنت کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہی ۔
بے روزگاری ختم کرنے کا پروگرام آغاز کرنے کے بعد حکومت اپنے فرض منصبی سے فارغ ہو چکی ۔حکومتی کارکردگی سے صرف کبوتر کی طرح آنکھ بند کر کے مسائل کی بلی سے اوجھل رکھنے کی ہر دور میں کوشش کی جاتی ہے ۔مسائل کی بلی سبز باغ دیکھ دیکھ کر موٹا ہونے والے عوامی اُمنگوں کے کبوتر ہڑپ کر کے موٹی ہو چکی ہے ۔جسے تھیلے میں ڈال کر بار بار باہر پھینکا جاتا ہے۔ مگر ہر بار وہ لوٹ کر واپس آ جاتی ہے ۔جسے دیکھتے ہی اُمنگ و آرزو کے کبوتر آنکھیں موندھ لیتے تھے ۔ اب اس کی ضرورت باقی نہیں رہی ۔کیونکہ اُمنگیں آ بیل مجھے مار کی بجائے آ بلی مجھے کھا کے فارمولہ پر عمل پیرا ہو چکی ہیں ۔
سیاسی داؤ پیچ اس انداز میں استعمال کئے جاتے ہیں کہ مسائل کی جڑیں تو وہیں رہتی ہیں ۔ مگر توجہ اصل موضوع سے ہٹا دی جاتی ہے ۔ جیسے بجلی کی آنکھ مچولی کو پانی کی بندش اور دریاؤں میں پانی کے کم بہاؤ کا نتیجہ قرار دے دیا جاتا ہے ۔مگر چالیس سال سے کالا باغ ڈیم سرد خانے میں پڑا ہے ۔ جو صرف بحث کی فائلوں سے مکمل کیا گیا ہے ۔ وہ کیا وجوہات ہیں کہ چند ہزار افراد کے حق کی آواز بلند کر کےاٹھارہ کروڑ عوام پر لوڈ شیڈنگ اور بھاری بلوں کی بجلی گرا دی جاتی ہے ۔ لیکن ابھی تک کسی بھی خفیہ ہاتھ یا بیرونی مداخلت کا ا لزام کسی کے سر نہیں لگایا گیا ۔
انتظام مملکت چلانے کے لئے سیاسی شکاریوں پر تکیہ کیا جاتا ہے ۔ حالانکہ اٹھارہ کروڑ عوام کی بھلائی و بہتر مستقبل کے لئے کسی بھی طرح کا کوئی ایسا ادارہ جو تھنک ٹینک کے نام سے بھی جانا جاتا ہے ۔ سرے سے اس کا وجود ہی نہیں ہے ۔جو حکومتیں اپنے پانچ سال کی مقررہ مدت معیاد کو پورا کرنے کے لئے پر اُمید نہیں ہوتیں ۔ وہ کیا پچاس سالہ پروگرام تشکیل دے پائیں گی ۔یہاں تو پانچ نکاتی پروگرام ، پیپلز پروگرام اور تعمیر وطن جیسے ہی پروگرام فائلوں کی زینت بنتے ہیں ۔ جن کے نام سے ملک کی ترقی چاہے نہ نظر آئے مگر سڑک پر لگے کتبہ پر لکھے پروگرام سے سیاسی پارٹی کا نام معلوم ہو جاتا ہے ۔نالے کا پل ہو، محلے میں بچوں کے کھیلنے کاپارک ہو یا محلے کا ٹیوب ویل تعمیر کرنے پر ایم این اے کا نام کتبہ کی زینت بنتا ہے ۔
بچے جب ضد کریں یا انہیں منانا ہو تو ایک عدد لالی پاپ وہ کام کر جاتی ہے ۔ جو ماں باپ بہن بھائی لاکھ محبت سے نہ کر پائیں ۔ جب الیکشن کے دن قریب آتے ہیں تو دھڑا دھڑ سڑکوں پر پیچ ورک شروع ہو جاتا ہے ۔ جنگلے پینٹ قبرستانوں کی چار دیواری کی تعمیر ریت سے شروع ہو جاتی ہے ۔ جو کچھ عرصہ بعد پھر وہی ریت رہ جاتی ہے اور اینٹیں ، جنگلے غائب ۔
ہمیں صرف ایک ہی سبق بار بار دیا جاتا ہے کہ
پیوستہ رہ شجر سے اُمید بہار رکھ


محمودالحق

Thursday, May 20, 2010

بلیک اینڈ وائٹ

3 comments
بچپن کی یادیں ذہن کےسینما پربلیک اینڈ وائٹ فلم کی طرح چلتی ہیں ۔جو کبھی بہ حالت مجبوری تو کبھی تفریح طبع کے لئے دیکھنے کا سبب ہوتی ہیں ۔ ایک زمانہ تھا ریڈیو پاکستان مقبول عام حصول معلومات کا زریعہ ہوتا تھا ۔ جب بوڑھے ریڈیو پر حکمرانوں کے عوام سے کئے گئے وعدوں پر عملدرآمد کا مژدہ سنتے ۔ اور ان کی طرف سے دئے گئے بیانات کو عوامی بھلائی کے منصوبوں کا نقطہ آغاز سمجھا جاتا ۔
نوجوان گلی محلے میں منڈلی جماتے اور منچلے اونچی آواز
میں ریڈیو پر گانے بجاتے ۔ جہاں نام اور شہر و گاؤں کے اتہ پتہ کے ساتھ گانے کی فرمائش کرنے والوں کا نام نشر کیا جاتا ۔
بچے زیادہ تر گلی محلوں اور پارکوں میں مختلف اقسام کے کھیلوں میں مصروف رہتے ۔مغرب کی آذان کے ساتھ ہی گھروں کو پرندوں کی طرح لوٹ جاتے ۔کبھی کسی خاص موقع پر محلے کے کسی گھر میں ٹی وی پر بلیک اینڈ وائٹ فلم کا شو چلتا ۔ کسی ایک گھر میں ٹی وی کے ہونے کی وجہ سے محلے کے لڑکے قطار میں نہایت ادب سے بیٹھ کر فلم بینی کا شوق پورا کرتے ۔ جب ہمارے گاؤں کی عورتیں اکھٹی بیٹھ کر بیٹی فلم میں معصوم جان پر مظالم کے سین دیکھ کر آبدیدہ ہو گئیں تھیں ۔ اس وقت تک شہر میں ہمارے محلے کی خواتین کے آنسو خشک ہو چکے تھے ۔
غرض سادہ بلیک اینڈ وائٹ زمانہ تھا ۔ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں گہری کالی عینکوں سے اسے رنگین بناتے ۔سوتی کپڑے زیادہ استعمال میں رہتے ۔گھروں میں پٹھان خواتین گٹھڑیوں سے خوبصورت رنگوں کی جاپانی فلیٹ کھول کھول کر رکھتیں تو عورتیں کیا مرد بھی ہلکے رنگ اپنے لئے رکھ لیتے ۔ جو گرمیوں کے موسم میں پہننے سے پسینے کو پاؤں تک بہانے میں مددگار ہوتے ۔
کیا خوب زمانہ تھا نہ لباس میں بناوٹ و تصنع اور نہ ہی مزاج میں ۔پورا گھرانہ عزت و آبرو کی شال میں لپٹا ہوتا ۔ گھروں میں اچانک مہمان آ جانے پر چینی آٹا ہمسائیوں سے بھی مانگ لیا جاتا ۔اور زیادہ مہمانوں کی آمد پر بستر چارپائیوں کو بھی زیر استعمال لایا جاتا تھا ۔اس سے کسی کی خودداری پر کوئی فرق نہیں پڑتا تھا ۔ اور نہ گھر گھر اپنی دریا دلی کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا تھا ۔بلکہ محبت و اخلاص کی لڑی میں سب ہی پروئے ہوئے ہوتے تھے ۔
حالات اتنی تیزی سے کروٹ بدل رہا ہے کہ ابھی پہلی سلوٹ دور نہیں ہوتی کہ نئی سلوٹیں پڑ جاتی ہیں ۔
بلیک اینڈوائٹ ہر شے کو اتنی تیزی میں رنگین بنایا گیا کہ آنکھیں خود میں ہی رنگین ہو گئیں ۔کسی چشمہ کو پہننے کی ضرورت باقی نہیں رہی ۔ایک ہی طرح دکھنے والے چکا چوند روشنیوں میں رنگ برنگ کے نظر آنے لگے ۔جہاں مجبوریوں اور ضرورتوں کو سفید پوشی میں لپیٹ دیا گیا ۔ دریا دلی کے قصے ختم ہو گئے ۔تکبر و غرور کے میناروں پر احسان چڑھا دیئے گئے ۔ زکواۃ و خیرات کی ادائیگی بھی احسان عظیم ہو گیا ۔
کتابوں کے سرورق سے لے کر ٹی وی ڈراموں تک رنگینی کوبڑھایا گیا ۔آنکھیں فطرتی حسن سے نا مانوس ہو گئیں ۔رنگوں کے نت نئے امتزاج سے ہر نیا رنگ پہلے رنگوں کو دھندلاتا چلا گیا ۔قدرتی مناظر کو تصویر کشی سے ایسی جاذبیت سے سجایا جا تا ہے کہ آنکھ سے دیکھنے میں وہ دلکشی نہیں رکھتا ۔ کتاب میں چاہے ادب کی بے ادبی کی گئی ہو ۔ مگر ٹائیٹل کی خوبصورتی سے اسے شاہکار بنا دیا جاتا ہے ۔ جیسے شخصیت کا چھوٹا پن واسکٹ یا کوٹ سے چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔
اچھے اچھے خاندانی لوگ رنگین دور کی بدولت گانا بجانے کی وجہ سے شہرت کی بلندیوں پر براجمان ہیں ۔کہیں گلوکار تو کہیں فنکار کہلائے جاتے ہیں ۔بلیک اینڈ وائٹ دور میں یہی کام کرنے والے قومیت کی پہچان کے درجے پر تھے ۔ صرف اپنی برادری میں یا چند ایک قدردانوں میں ہی عزت و تکریم پاتے ۔
بلیک اینڈ وائٹ معاشرے میں برے کردار انگلیوں پر گنے جاتے تھے ۔ اب ہر گھر میں رنگین ٹی وی ریموٹ کنٹرول سے جتنے چینل بدل سکیں جمع کر کے پورے معاشرے میں موجود ٹی وی سے ضرب دینے سے تعداد حاصل کی جا سکتی ہے ۔ جو پہلے صرف اپنے جیسوں میں ہی بسیرا کرتے تھے اب ہر گھر میں نفس ِشیطان کی طرح جھوٹ کا پلندہ پھیلائے پھرتے ہیں ۔
بھلا ہو وزارت بجلی کا 12 سے 18 گھنٹے لوڈ شیڈنگ سے قوم اس عذاب سے چھٹکارہ حاصل کر پائی ۔ وگرنہ توبہ توبہ کرتے اکثر لوگ کسی اور نام سے پکارے جاتے ۔ جیسے پڑھے لکھے اہل افراد بے روزگاری کی سولی پر لٹکے ہوئے ہیں اور جعلی ڈگریوں والے ان کی قسمت کے فیصلے کا اختیار لئے اسمبلیوں سے جعلی ڈگری کی وجہ سے نا اہل ہو کر پھر بغیر ڈگری کے اسمبلی میں جہالت کی ڈگڈگی بجانے پہنچ چکے ہیں اور مزید پہنچنے کی آس میں مرے جا رہے ہیں ۔جیتنے والے 55 ، 55 ہزار ووٹوں سے عوامی نمائندگی کا حق پانے پر بغلیں بجا رہے ہیں ۔
قوم ملال میں نہیں غلطیاں سدھارنے کا موقعے پہ موقع دینے پر تلی ہوئی ہے ۔ جب تک کہ لیڈر نہ سدھر جائیں یا خود نہ بگڑ جائیں ۔

Thursday, May 6, 2010

گر تو برا نہ مانے

3 comments

محبت اور جنگ میں سب جائز ہے کا فارمولا دیکھتی آنکھوں اور سنتے کانوں سے ہمیشہ ہی سچائی کا منہ بولتا ثبوت رہا ہے ۔ لیکن جدید دنیا نے ان دو میں ایک تیسرا عنصر بھی شامل کر دیا ہے ۔جسے سیاست کے نام سے جانا جاتا ہے ۔جہاں یونین کونسل کی سیاست سے لیکر بین الاقوامی تعلقات میں سب جائز ہے کی طرز پر کہیں جمہوریت تو کہیں ڈکٹیٹر شپ کی شکل میں عوام الناس پر رقابت اور دشمنی کا لیبل چسپاں کر دیا گیا ہے ۔
محبت اور جنگ میں سب جائز تبھی ہوتا ہے جب وہ کسی
اصول و ضابطے کی بجائے داؤ پیچ پر اختیار کی جاتی ہے ۔اور مد مقابل کے ساتھ کھلی محبت یا نفرت ۔ جنگ یا امن کےوعدے یا سمجھوتے رقم ہوتے ہیں ۔
لیکن سیاست میں بھی سب جائز ہوتا ہے ۔ مگر مد مقابل کوئی رقیب یا فریق نہیں ہوتے ۔ بلکہ غریب ہوتے ہیں ۔وہ ان کا حصہ بقدر جُثَّہ ہوتے ہیں ۔جیسے محبت میں چاہت کا جنون ،جنگ میں جیتنے کا ۔سیاست میں جنون تو ہوتا ہے مگر نشہ و سرور کا ۔محبت آہ گری ،جنگ سپاہ گری کی محتاج ہوتی ہے۔اور سیاست کو رسہ گیری کہہ لیں یا شیشہ گری دونوں ہی چلیں گے۔کیونکہ ایک دھونس دھاندلی سے نشہ لیتے ہیں تو دوسرے شیشہ گری کے کمالات سے شیشے میں اتارتے ہیں ۔رہ جاتے ہیں پیچھے بیچارے غریب جو شکر سے ہی شکار ہو جاتے ہیں ۔غریب جن کے پیچھے ہوتا ہے وہ وقت سے بہت آگے چلتے ہیں ۔کسی کو روٹی روزی کے لالے ہیں ۔ گھر ان کے اندھیرے ، محنت سے پاؤں میں چھالے ہیں ۔کہنے کو وہ بھی جیالے یا متوالے ہیں ۔پروانے اس لئے نہیں کہا جاتا کہ مرنا ان کی تقدیر میں لکھا ہوتا ہے ۔ سیاست کے کھیل میں لاشیں تو چاہئے مگر زندہ ۔جو دیکھتی اور سنتی تو ہوں مگر بولنے سے معزور ہوں ۔
جنگ میں ڈو اورڈائی ، محبت میں یُو اور آئی ،سیاست میں لو اور ہائی ہوتا ہے ۔ان سب میں ایک فارمولا اپنے لئے تو دوسرا مد مقابل کے لئے ہوتا ہے ۔ مگر اصول کہیں نہیں ہوتا ۔
منیاری کی دوکان اصولوں پر رہ کر چلائی جائے تو بیٹے غلہ سےچوری چکاری سے باز نہیں رہتے ۔سیاست بھی اب کھیل نہیں منیاری کی نہ سہی دوکانداری ضرور ہے ۔جہاں اصول اپنائیں تو بیٹے باپ سے کنارہ کشی اختیار کر لیتے ہیں ۔وراثت اب منقولہ یا غیر منقولہ جائیداد میں نہیں سیاسی قول و قرار کی بھی ہے ۔اٹھارویں آئینی ترمیم میں سیاسی پارٹیوں میں الیکشن نہ کروانا اس کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ دوکان کے غلہ کی طرح سیاسی قیادت پر صرف اولاد کا حق ہی سمجھا جاتا ہے ۔غریب تو سبز باغ سے پیٹ بھر لیتا ہے مگر سیاستدان کی اولاد پارٹی قیادت ہاتھ آئے مرغ کی طرح ٹانگ چھوڑنے پر آمادہ نہیں ۔
جو مرغ کی بانگ سے صبح کا آغاز کرتے تھے ۔انھیں گانوں کی لوری پہ لگا دیا گیا ۔ گہری نیند سے اُٹھنا اتنا ہی مشکل جتنا مرغ کا اپنی ٹانگ چھڑوانا ۔ نہ ٹانگ چھوٹے نہ میاں بانگ دے اور نہ ہی نئی صبح کا آغاز ہو ۔اب تو کان وہی سنتے ہیں جو سنایا جاتا ہے ۔آنکھیں وہی دیکھتی ہیں جو دیکھایا جاتا ہے ۔سمجھ اتنی رہ گئی ہے جتنا سمجھایا جاتا ہے ۔
باپ کی جوتی بیٹے کے پاؤں میں پوری آجائے تو ڈانٹنے سمجھانے میں احتیاط کی جاتی تھی۔ مگر اب جوتیوں میں دال بٹتی ہے ۔ بنتی بات بگڑ جائے تو افسوس سے ہاتھ ملا جاتا تھا ۔اب بگڑی بات جب تک نشر نہ ہو ۔ہاتھ میں کھجلی رہتی ہے ۔
محبت سے لے کر سیاست تک، جنگ سے لے کر امن تک ٹانگ پکڑنے سے بڑھ کر کھینچنے تک جا پہنچے ہیں ۔اپنے ہاتھ شائد کچھ نہ آئے لیکن دوسرے کے ہاتھ میں بیساکھی تو ضرور جائے گی ۔پھر اگر میاں کی بانگ سے جاگ بھی جائیں تو
 بیساکھی سے سنبھلنے سنبھالنے میں اگلی صبح پھر نئی بانگ کا وقت آ پہنچے گا ۔

تحریر : محمودالحق

Sunday, February 14, 2010

علم سے عالم یا عمل سے مسلمان

6 comments
علم حاصل کرو چاہے تمہیں چین جانا پڑے ۔ حدیث تو ہم نے بھی سن رکھی تھی مگر کبھی بچپن میں اس کے اصل مفہوم سے آگاہی نہیں ہو پائی ۔ پانچویں جماعت میں تھے تو اچانک ایک خیال روشن دماغ کی زینت بنا ۔ پائلٹ بننا اچھا رہے گا ۔تو بس پھر کیا تھا ۔ ہر ٹیچر سے کہتے کہ ہم تو پائلٹ ہی بنیں گے ۔ والد صاحب نے حسن ابدال جانے کی اجازت نہیں دی کہ ابھی چھوٹے ہیں سنبھال نہیں پائیں گے خود کو ۔ جماعت ہشتم تک انتظار کی گھڑیاں گنتے رہے کہ کب پائلٹ بنیں اور جہاز اڑائیں ۔ انگلش میڈیم سکولوں کے فارغ التحصیل شہریوں کے لئے بتانا ضروری ہے کہ جماعت ہشتم سے مراد آٹھویں جماعت ہے ۔ کے جی ون ٹو تھری بنچ کے سامنے کرسی پر بیٹھ کر پڑھنے کے بعد ہائی سکول میں جماعت ششم یعنی چھٹی میں داخلہ لیا۔ تو ٹاٹ کی دھول سے پہلی بار بڑے بھائیوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے شناسائی کا موقع ملا ۔ مخلوط تعلیم لیڈی ٹیچرز کے بعد اچانک ہڈبونگ مچاتی کلاس اور قہر برساتا مولا بخش
کبھی کبھار خاموش بھی ہو جاتا۔ مگر دھول ہوا میں ہی محو رقص پرواز رہتی ۔ اور ہمارے گھر پہنچنے پر ہی آرام گاہ میں اترتی ۔ لیکن ہمیں تو صرف انتظار تھا کہ ششم سے ہفتم اورپھر ہشتم ۔ مگر بعض اوقات تقدیر ہمارے لئے کچھ اور ہی ترتیب رکھتی ہے ۔ میرے ہاتھوں میں جماعت دہم میں پڑھتا میرا بڑا بھائی ٹی وی سے کرنٹ پڑنے سے جانبر نہ ہو سکا ۔ والد صاحب ٹوٹ کر رہ گئے ۔ والدہ ماجدہ کی آنکھیں بیٹے کی جدائی میں آنسوؤں کی ہی سہیلی بن کر رہ گئی ۔ بھائی جو دوست بھی تھا ہاتھ سے چھوٹ گیا ۔ وہ کبوتر پالنے کا بہت شوقین تھا ۔ بچپن میں بیماری سے بڑی مشکل سے صحتیاب ہواتھا ۔ اس لئے تمام کاموں کی اسے چھوٹ تھی اور مجھے نہیں ۔ کیونکہ اب یہ خیال کیا جا رہا تھا ۔ کہ بڑے بھائی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ڈاکٹر بننے کی اہلیت ثابت کرے گا ۔ اور جو بھائی انجئینر بن چکا تھا ۔ میرے چال چلن ان سے ملتے جلتے تھے ۔ میرے ڈاکٹر بننے کی شائد انہیں خواہش اس لئے تھی کہ وہ بڑھاپے میں داخل ہورہے تھے ۔ جب میں پیدا ہوا تو والد صاحب باونویں سال میں تھے ۔ اور والدہ انتالیسویں سال میں ۔ بڑے تمام بھائی روزگار کے سلسلہ میں گھر سے دور اندرون و بیرون ملک جا چکے تھے ۔ اب تو میری زندگی میں جو بھی تعلیم کا میدان تھا وہ شہر لاہور ہی تھا ۔ گھر میں نماز تسبیع میں مشغول میری ماں اور عدالتوں میں پیشی پر آنے والوں کی فائلوں سے رات گئے دیر تک اگلے روز عدالت میں مخالف فریق سے بحث کے لئے تیاری میں مصروف رہتے میرے والد ماجد ۔
دبلا پتلا تو میں بچپن ہی سے تھا ۔ مگر کھلے ڈیل ڈول کے بڑے بھائی کی وجہ سے میں بھی چوڑا رہتا ۔ اس کے غم میں پہلے سے بھی کمزور ہو گیا ۔ اور دشمنوں کی تعداد میں اضافہ ۔ حیران ہونے والی بات نہیں ۔ جہاں ہم رہتے ہیں یہ کسی جنگل سے کم نہیں ہے ۔ طاقتور سے خوف اور کمزور پہ زور کے فارمولے پر عمل پیرا رہتی ہے ۔ پانی کا بہاؤ نیچے کی طرف ہی ہوتا ہے ۔ قوت کا اندازہ ضرب سے نہیں لوہا کے ٹھنڈا گرم ہونے پر ہوتا ہے ۔ زمانہ انسان کا ایسا استاد ہے جس سے پڑھنے کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ وہ خود سبق یاد کرواتا ہے ۔ اور اتنی بار دھراتا ہے کہ گرم فولاد ٹھنڈا ہونے پر جب ڈھلتا ہے تو خود کبھی ڈھال تو کبھی تلوار کا وار بن جاتا ہے ۔ سکول میں پہلی جماعت کے دوستوں سے لیکر کلاس کے دادا گیروں تک سے آنکھ بچا کر گزرنا پڑتا ۔ جینے کی دستگیری تبھی ملتی اگر چمچہ گیری کرو یا آب گیری ۔ ایک بات تو طے تھی کہ اپنا تشخص برقرار رکھنے کے لئے حد سے گزرنا ہوتا ہے ۔ سوچ کے انداز کو بدلنا ہوتا ہے ۔ بچپن میں پیدا ہونے والی سوچ جب پروان چڑھتی ہے تو بڑھتی چلی جاتی ہے ۔ پڑھنے لکھنے والے چین سے بھی آگے جا چکے ۔ اور علم کے سمندر میں موتی ڈھونڈتے ڈھونڈتے عالم جہاں بن جاتے ہیں ۔ دھکم پیل کی معاشرتی اجارہ داری کسی کو وہ بنا دیتی ہے جو وہ خود سے بننا نہ چاہتا ہو ۔ حق پر ہو کر حق چھوڑ دینا کبھی اچھا تو کبھی برا تجربہ رہتا ہے ۔ ایک بار جھکنے سے دوبارہ سنبھل جائے تو الگ بات ہے مگر جھکا کر توڑ دینے میں بہادری نہیں ۔ بلکہ قوت کے استعمال کا انداز جارحانہ ہو جاتا ہے ۔ پے در پے ضربوں سے ٹوٹ نہ سکے تو دھار بن جاتی ہے جو کٹتی نہیں کاٹ دیتی ہے ۔
ایسے ہی ایک موقع پر یہ واقعہ یاد آ جاتا ہے ۔ ایک دوست کے ساتھ فلم دیکھنے سینما گئے ۔ اسے لائن میں کھڑا کیا اور خود پوسٹر سے فلم کی کہانی بننے لگا ۔ اسے اپنی طرف آتا دیکھ کر میں گیلری کی سیڑھیوں کی طرف بڑھنے لگا ۔
ٹکٹ نہیں ملا !
اس کے اس جملے نے فلم دیکھنے کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ۔ بہت عرصہ کے بعد فلم دیکھنے کے لئے سینماکا رخ کیا تھا ۔ اب ایسے ہی واپس لوٹ جائیں کیسے ممکن تھا ۔ حالات جاننے کے بعد جب ٹکٹ لینے والی کھڑکی کے پاس پہنچے تو کمال منظر تھا ۔ لائن کا وجود ہی نہیں تھا ۔ قمیضوں سے بے نیاز ۔ کوئی نیچے سے تو کوئی اوپر سے ایک تنگ سوراخ میں ہاتھ ڈال کر ٹکٹ کا متمنی تھا ۔ ہم نے آؤ دیکھا نہ تاؤ حملہ کر دیا کھڑکی پر لپکنے والوں پر ۔ چار پانچ لڑکوں پر جو سخت ہاتھ جڑے تو ضرب سے طاقت کا اندازہ ہو گیا انہیں کہ اب تو یہ ہاتھ بھی دھار بن چکے ہیں ۔ ایک لمحے میں کھڑکی کلئیر ہو گئی ۔ ایکشن کامیاب رہا ۔ مجھے اندیشہ تھا کہ جوابی حملہ ہوگا مگر نہ ہوا ۔ تگڑے تگڑے بھی پیچھے ہٹ گئے ۔ کیونکہ دبلے پتلے کے ہاتھوں کی ضرب جو جوڈو کراٹے کی تربیت اور اینٹوں پر ضربیں لگانے سے فولادی بن چکے تھے ۔ کسی نے ہمت نہ باندھی ۔ لائن ٹوٹنے سے اصول و قوائد پر عمل کرنے والے یا کمزور جو منتشر ہوئے دوبارہ لائن میں یکجا ہوگئے ۔ دوست کو پھر اسی لائن میں اپنی جگہ بحال کروایا ۔ ابھی ٹکٹ لیکر کر واپس پلٹے ہی تھے ۔ کہ ایک بار پھر وہی کھڑکی پر چاروں اطراف سے حملہ ہو گیا ۔ ایک آواز نے مجھے اپنی طرف متوجہ کیا ۔
جناب لائن ٹوٹ گئی ہے !
میں نے پلٹ کر جواب دیا ۔ مجھے اپنا حق لینا تھا سو لے لیا ۔ اب تم جانو کیسے اپنا حق دفاع کرتے ہو ۔ چند لوگ تم بیسیوں پر بھاری ہیں ۔ مگر میں اکیلا ان پر بھاری تھا ۔
وہ کہنے لگا ! ہم شریف ہیں ۔
تو میں کونسا بدمعاش ہوں۔ میں نے غصے سے جواب دیا ۔ انہی لائین توڑنے اور دوسروں کے سروں پر چڑھنے والوں نے مجھے فولاد بنانے میں اہم کردار ادا کیا ۔
مرحومہ والدہ ماجدہ اکثر کہا کرتی تھیں ۔ کہ کیا بن گئے تم ڈاکٹر تو نہ بنے مگر ان ہاتھوں سے اینٹوں کا اپریشن کرتے رہتے ہو ۔
مگر وہ یہ نہیں جانتی تھیں کہ بروس لی کی فلم انٹر دی ڈریگن سے متاثر ہو کر طاقت ور بننے کا جو کام میں نے شروع کیا ۔ وہ مجھے اعصابی طور پر بھی فولاد بنانے جارہا ہے ۔ ہر چیلنج کو قبول کرنے کی عادت پیدا ہوتی چلی گئی ۔ بڑھاپے میں ماں کو جگر کا سرطان اور والد صاحب کو الزائمر کا موذی مرض جو چودہ سال تک انہیں جسمانی اور مجھ پر اعصابی دباؤ بڑھاتا چلا گیا کو بھی لائن ٹوٹنے کی طرح برداشت نہیں کیا ۔ بلکہ بھر پور جینے کے حق سے دستبرداری کی نوبت نہیں آنے دی۔ الزائمر کی بیماری ایک کے بعد ایک اعصاب کی لائن توڑتی رہی ۔ والد صاحب کو تو توڑ کر سات سال گوشت کا لوتھڑا بنا کر رکھا ۔ مگر میں چودہ سال اس پر حملہ آور ہو کر اپنے اعصاب کی لائن سیدھی رکھتا رہا ۔
علم کے حصول میں عالم تو نہ بن سکے مگر مذہب نے عملی مسلمان بنا دیا ۔ بی اے اور ایم اے بھی اچھے نمبروں سے پاس کیا ۔ لائن توڑنے اور کھڑکی پر حملہ کرنے والے ہر جگہ ملتے رہے ۔ وہ اپنے راستہ پر چلتے رہے اور ہم اپنے پر ۔ کسی نے ہماری لائن نہیں توڑی اور ہم نے اپنی جگہ نہیں کھوئی۔ نہ جانے ہمارے معاشرے کی یہ سوچ کیونکر بن گئی تھی یا ہے ۔ کہ جو تم سے ٹکر لے سکتا ہے اس سے تعاون و تعلق بڑھایا جائے ۔ سکولوں سے لیکر کالج یونیورسٹیوں تک ، کونسلر سے لیکر ایوان صدارت تک ، کمزور و بے ضرر پر طاقت بڑھائی جاتی ہے ۔ جو پارٹیاں بگاڑ پیدا کر سکتی ہیں ۔ وہ اسمبلی سی باہر بھی تعاون رکھتی ہیں ۔ مگر جو اپنی لائن کے ٹوٹنے کو نہیں بچا پاتیں ۔ وہ اسمبلی کے اندر بھی سونے میں ہی وقت گزارتی ہیں ۔ اور ان کے ممبران بیگمات کے مجازی خدا کے درجے پر ہی فائز رہنا پسند کرتے ہیں ۔ لائن توڑنے والے کبھی ایک تو کبھی دوسری پارٹی کی ضرورت بنے رہتے ہیں ۔ جب نہ لوٹیں تو پھر وہ لوٹے ہو جاتے ہیں ۔ کیونکہ کٹی پتنگوں کی طرح انہیں لوٹ لیا جاتا ہے ۔
یہ صرف اتنی دیر ہی لائن سیدھی رکھتے ہیں جب انہیں سخت ہاتھوں سے کوئی دو دو جڑ دیتا ہے ۔ اور اس کے لوٹ جانے کےبعد پھرلائن توڑ دیتے اور کھڑکی پر چاروں اطراف سے حملہ کر دیتے ہیں ۔
ان میں سے ہی چند پھر بول اٹھتے ہیں کہ جناب لائن ٹوٹ گئی ہے ۔ آخر کب تک کوئی بار بار ان کو اپنی جگہ پر بحال کروائے گا ۔ اپنی پوزیشن برقرار رکھنے اور حق لینے کے لئے لائن سیدھی کروائی جاتی ہے ۔ جب تک اس کھڑکی کی لائن میں سب اکھٹے کھڑے رہیں گے ٹکٹ کی آس میں ۔ لائنیں ٹوٹتی رہیں گی ۔ لائن میں کھڑے رہ کر انتظار کرنے والے کیوں نہیں جدا ہو جاتے کھڑکی پر حملہ کرنے والوں سے ۔ کیونکہ فلم دیکھنے کا شوق بھی سبھی رکھتے ہیں ۔ سبھی ہال میں بیٹھنا چاہتے ہیں تبھی تو رش ہوتا ہے ۔ پھر لائن ٹوٹنے کا رونا روتے ہیں ۔

Sunday, February 7, 2010

شعلہ بیان یا سلگتا بیان

1 comments
ایک زمانہ تھا جب بھی کسی قوم کے اندر کسی تحریک کا آغاز ہوتا تو قائدین اپنی تحریروں اور تقریروں سے انقلاب برپا کر دیتے ۔ قوم میں ایک نیا جوش و ولولہ انگڑائیاں لیتا ۔منزل کی نشاندہی اس انداز میں کی جاتی کہ آغاز میں ہی کوشش سےکامیابی قدم چومنے لگتی۔ لیڈر صرف تقریریں نہیں کرتے تھے حقیقت میں اس پر عمل پیرا ہوتے ۔ قوم انہیں اپنا نجات دہندہ سمجھتی ۔ان کی ایک آواز پر لبیک کہتی ۔ڈنڈا گولی سے ڈرنے کی بجائے سینہ تان کر سینہ سپر ہو جاتی۔ چاہے مسجد شہید گنج کا معاملہ ہو یا سانحہ جلیانوالہ باغ ہو ۔ آزادی کے بنیادی حقوق کے لئے آواز بلند کی جاتی ۔انفرادی کوشش سے نہ تو تحریکیں چلیں اور نہ ہی حقوق کا حصول ممکن ہوا ہے ۔ قوموں کے اندر ہی سے ان کے رہنما پیدا ہوتے ۔ جو صحیح معنوں میں صرف حقوق کی آزادی کے لئے نہیں لڑتے بلکہ رہنمائی بھی کرتے ۔
صحیح خطوط پر سیاسی وابستگی کا استعمال کیا جاتا ۔ ذاتی مفادات و کاروبار کا قریب سے بھی گزر نہیں ہوتا ۔عوام سے کئے گئے وعدے وفا ہوتے ۔ جن کے بل بوتے پر اسمبلی میں جاتے ۔ انہی کے لئے بے چین رہتے ۔جلسہ میں ہوتے یا اسمبلی میں اپنی شعلہ بیانی سے مجلس گرما دیتے ۔ ایسے شعلہ بیان مقرر جلسوں میں تقریر سے ، اخبارات میں اپنے کالموں سے نئی روح پھونک دیتے ۔تاریخ شاہد ہے کہ نئی نسل کو شعلہ بیان رہنماؤں نے ایک اچھے مستقبل کی نوید دلائی ۔ مگر اب حالات بدل چکے ہیں ۔لیڈر بہک چکے ہیں ۔قوم سہم چکی ہے ۔کیونکہ جب سے دنیا گلوبل ولیج بنی ہے ۔ انٹر نیٹ پر کاروبار ، اشتہارات ، اخبارات ، غرض میرے جیسے مضمون نگار بھی انٹر نیٹ پر پائے جاتے ہیں ۔ جنہیں کوئی بھی اپنے دو کالمی خبر کے قابل نہ سمجھے۔مگر کیا کریں ہمیں تو کام لینا نہیں آتا ۔کسی بڑے تعلق کا بھی مان نہیں ۔ صرف نماز میں ہی ہاتھ باندھنے سے خوشی ملتی ہے ۔جھکنا صرف سجدہ میں جانے کے لئے ہی اچھا لگتا ہے ۔ہمیں کوئی خواہش نہیں کہ بڑے لیڈر سے ربط بڑھے ۔ ٹی وی پر انٹرویو ان کا ہو اور گردن اُٹھا اُُٹھاکر کیمرے کو منہ چڑاتے پھریں ۔ان کی فائلیں ، موبائل فون ، ڈائری کسی اور کے ہاتھ میں ہو اور وہ دونوں ہاتھ صرف سمیٹنے کےلئے خالی رکھیں ۔بھلا ہو لنڈے میں سستے داموں ملنے والے ٹو پیس سوٹ کا امیر غریب کا فرق مٹا دیا ۔صرف خالی ہاتھ دیکھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ لیڈر یہی ہے ڈائری و فائلیں ٖفون ہاتھ میں رکھنے والا اسسٹنٹ ہے ۔ حکومتیں جب بھی کوئی نیا نظام متعارف کرواتی ہیں تو مقصد عوامی بھلائی نہیں ہوتا بلکہ اسسٹنٹ بنانے میں چھانٹی کا عمل ہے ۔ تاکہ زیادہ سے زیادہ فائلیں اُٹھانے والے میسر ہوں ۔ قوم سمجھتی ہے کہ فائلوں میں وہ پراجیکٹ ہیں جو ان کی بھلائی واسطے شروع کئے جانے والے ہیں ۔ مگر وہ تو مہنگے پلاٹوں کی اوپن فائلیں ہوتیں جن کو بیچ کر پیسے کھرے کئے جاتے ہیں ۔مگر میں یہ کیا کر رہا ہوں کوئی نئی بات ہو تو یہاں ذکر کروں بھلا ان باتوں کا یہاں کیا تعلق ۔ سب ہی تو جانتے ہیں بلکہ کچھ زیادہ ہی جانتے ہیں ۔ ایک آدھ واقعہ بیان کرنا وقت کا ضیا ع ہے قاری کا ۔پہلے کیا کم مسائل سے دوچار ہیں کہ اب پڑھنے کا بھی بوجھ ڈال دوں ان پر ۔ روزانہ ہی نت نئے تازہ حالات پر لب کشائی کی جاتی ہے اور میں ہوں کہ وہی پرانی باتوں کو لیکر بیٹھ جاتا ہوں ۔اب کیا کیا جائے نیا مصالحہ ملتا نہیں ورنہ ہم بھی سیاسی بریانی کی نئی دیگ تیار کر ہی دیں ۔پہلے خبریں گھروں تک پہنچانے والے سینہ گزٹ سے پیراستہ تھے ۔ اب خبریں گھروں سے باہر لائی جاتی ہیں ۔ میڈیا بہت آگے جاچکاہے ۔ ہم پیچھے پیچھے چل تو پڑے ہیں ۔ اب کہیں گر نہ پڑیں تیزی میں چلنے کی دوڑ میں ۔
بہت عرصہ ہوا کسی جلسہ میں جانے کا اتفاق نہیں ہوا ۔ٹی وی پر تقاریر سننے کو مل جاتی ہیں ۔تقریریں بھی ایسی کہ آگ لگانے کی ضرورت ہی نہیں بھڑکی بھڑکائی ۔ ایک دن تقریر دوسرے دن تابڑ توڑ جوابی حملے ۔ کبھی صفائیاں تو کبھی تاویلیں ۔
ایک زمانہ تھا رہنما شعلہ بیان تھا ۔ آج کیا زمانہ ہے سلگتا بیان ہے ۔ چھپتے ہی آگ بھڑکا دیتا ہے ۔

تحریر : محمودالحق

Saturday, January 23, 2010

سیاست کے میدانوں کے بڑے شکاری

1 comments
سیاست کے میدانوں کے وہ بڑے شکاری
ملک و قوم ہے انہیں صرف پارک سفاری

آئین و انصاف تو ہے مارچ کبھی دھرنا
ووٹ ہے انہیں جاہ و حشمت کی سواری

قائد کے وطن اسلام کو صیغہ آباد لگا دیا
ہاتھ باندھے کھڑے ہیں جہاں سب درباری

چھن گئی ان سے متاع محبوبِ الہٰی
شکر ہے مفتی اعظم نہیں کوئی سرکاری

نہیں خدا کو چاہ جو خود سے نہیں آگاہ
قرآن سے متصادم جن کی رسم کار و کاری

آبِ قطرہ ہی سے ہے لہر ابر و آبشار
صرف خون کو خون سے نہیں کوئی آبیاری

نفسِ شیطان کے ہیں یہ عروجِ کمالات
چھن گئی جن سے عزتِ نفس و خودداری

قوم کی تقدیر بن گئی قسمت کا کھیل
آج اس کی باری تو کل اس کی باری

نہیں بدلتا وہ ایسی قوموں کی تقدیر
جہاں سفید کو ہو سیاہ کی ریا کاری

اب تو سمجھو ابن خلق جوڑ لو تعلق
عشقِ رسول و خوفِ خدا ہو تم پہ طاری

تمہاری روحیں کیوں جسموں سے جدا جدا
تم سب تو ہو ایک خدا کے پجاری

اے خدا چھین لے میرا علم مجھ سے
جو حائل ہو میری شَبِ عبادت گزاری

تیرا گھر ایک ہر گھر میں تیرا کلام ایک
ایک کو دوسرے سے پھر کیوں ہے بیزاری

ابلیس نے ایک بار جو بہکا دیا
بنی آدم نے اختیار کرلی وہی روش ساری


برگِ بار / محمودالحق