Showing posts with label بر عنبرین. Show all posts
Showing posts with label بر عنبرین. Show all posts

Monday, July 22, 2013

جس پر زمانہ فخر کرے وہ قلم تمہارا ہی تو ہے

0 comments


جس پر زمانہ فخر کرے وہ قلم تمہارا ہی تو ہے
جس پر زمانہ تجسس کرے وہ علم تمہارا ہی تو ہے

لفظوں سے جو کھلے وہ کتابِ گل تمہارا ہی تو ہے
مجھے صرف یہ خاک سب جہانِ کل تمہارا ہی تو ہے

ہوا کے دوش پہ ہے جو چلتا ابرِ کرم تمہارا ہی تو ہے
نظر ٹھہری جو ایک رخ وہ کعبہ حرم تمہارا ہی تو ہے

کوشش میں رہتے جو تلاش ِرزق تمہارا ہی تو ہے
دھارِ ایمان پہ ہے جو چلتا خلق تمہارا ہی تو ہے

آفتاب کرن سے ہے آبِ لشکارہ تمہارا ہی تو ہے
مہتاب کی چاندنی تو چمکتا تارا تمہارا ہی تو ہے 

۔۔۔٭۔۔۔
برعنبرین /  محمودالحق


اپنی ہی کماہاں میں یہ جہاں چلتا ہے

0 comments

اپنی ہی کماہاں میں یہ جہاں چلتا ہے
اپنی ہی تاباں میں یہ کہاں جلتا ہے

اپنی ہی نیاباں میں یہ زیاں پگھلتا ہے
اپنی ہی طریقاں میں یہ بیاں رکھتا ہے

اپنی ہی شتاباں میں یہ مہکاں رہتا ہے
اپنی ہی اونچاں میں یہ زیراں بھٹکتا ہے

اپنی ہی خاراں میں یہ گلستاں سلگتا ہے
اپنی ہی بہاراں میں یہ آبشاراں ملتا ہے

اپنی ہی ناداں میں یہ نازاں سلتا ہے
اپنی ہی بصیراں میں یہ تعبیراں کٹتا ہے

 ۔۔۔٭۔۔۔

برعنبرین /  محمودالحق


Sunday, April 22, 2012

پھول کھلتے ہیں گلستان میں جلتا ہے بیاباں

0 comments

پھول کھلتے ہیں گلستان میں جلتا ہے بیاباں
رحمتوں کی ہر دم نوازش شکرِ کلمہ پر ہے زباں

گلِ نام میں کیا رکھا ہے خوشبو تو خود نامہ بریں
آندھی کے آم چنتے جاؤ بے پرواہ ہے باغباں

آنکھ سے گر لہو ٹپکے گوہر فشاں بن بھڑکے
نظر کرم ہو اس کی آگ بھی ہو جائے روحِ پاسباں

گھر یہ گر میرا ہے مکیں نظر میں کیوں جچتے نہیں
تن پوشاکِ مالابار قلب کیفیت غریباں

جواب پڑھ کر بھی جو سوال سے ہٹتے نہیں
اندھیروں میں بھٹکتے ڈھونڈتے پھر کیوں نیاباں

آفتاب کو دھکایا کس نے مہتاب کو چمکایا کس نے
زروں سے جو پہاڑ گرا دے وہی تو ہے نگہباں

کچھ پڑھا ہوتا کچھ تم نے بھی سمجھا ہوتا
یہ نہ بھولا ہوتا ہجومِ بھیڑ ہیں حصار غلہ باں

علم کا کال ورقِ علم کالا تحریر ہے کہاں
نقطوں پہ تحریریں لفظوں میں زمانہ علم و ادباں

۔۔۔٭۔۔۔

 بر عنبرین / محمودالحق

بہت مشکل میں ڈال دیا میرے کلامِ انتخاب کو

0 comments

بہت مشکل میں ڈال دیا میرے کلامِ انتخاب کو
زمین کو ہے پردہ کھلا ہے سب آفتاب کو

چلو آج ایسے ہی میزان میں بات کرتے ہیں
روکو شاخِ شجر کو پھیلے جو گلِ بیتاب کو

جذباتِ قلب کو میری عقلِ گرہ سے نہ باندھو
قید میں رکھو ارمان جانے دو وصلِ سحاب کو

میرا گھر مجھے اچھا رہو اپنے محلِ پوشیدہ میں
چراغ تو جلتا نہیں روکو ہوا یا حباب کو

کھلی آنکھ سے جو دیکھتے وہ منظر میرا نہیں
قلب کو چیر دے قلم میرا انجمن احباب کو

ساز ردھم رنگ دھنک نہیں موم اشک بار میں
کاغذی پھولوں سے بھرتے کس خوشنما کتاب کو

۔۔۔٭۔۔۔

بر عنبرین / محمودالحق

Thursday, April 12, 2012

راستے میں جو کٹا وہ زادِ سفر میرا نہ تھا

0 comments
راستے میں جو کٹا وہ زادِ سفر میرا نہ تھا
ہوش میں نہ تھا جو کھویا وہ صبر میرا نہ تھا

پروازمیں کوتاہِ نگاہی نے یوں شرمسار کیا
نشانہ پر جو نہ لگا وہ دعائے اثر میرا نہ تھا

یہ ہاتھ خود چھوٹ کر ہاتھ سے جدا ہو گیا
گلستان جلا جس سے وہ شرر میرا نہ تھا

آس نے یاس سے ہٹ کر خود کو پاس کر لیا
بارانِ رحمت میں پھیلتا ہر ابر میرا نہ تھا

مجھے میری تلاش ہے تو اپنے انتظار میں
نسیمِ جاں میں جو رہ گیا وہ ثمر میرا نہ تھا

اتنا بھی کیا کم ملا پھر انتظار میں بیٹھ گیا
یہ فلکِ جہاں اس کا کوئی امبر میرا نہ تھا

جب لوٹنا ہی لکھا تقدیر میں منزل تا حدِ نگاہ
محمود بس تو لکھتا جا وہ نشر میرا نہ تھا

بر عنبرین / محمودالحق

جب آسمان نے خود ہی چن لیا

1 comments

جب آسمان نے خود ہی چن لیا تو کوئی کیا کہے
دل نے جب خود ہی سن لیا تو کوئی کیا کہے

لہر بے کس کو طلاطمِ طوفاں میں ساحل ہی سہارا
شاہ زور جوانی نے ڈھل کر بچپن لیا تو کوئی کیا کہے

قطا در قطار یہ پرزے بیکار اُٹھاتے بدن و بار ہیں
روحِ کلام سے طریقت نے جو لہن لیا تو کوئی کیا کہے

انصافِ ترازو کے حدِ تجاوز سے جو جھول گیا
جلتے گلستان میں اپنا چمن لیا تو کوئی کیا کہے

سمجھاتے مجھ کو کہ ہوسِ نصرت کا انساں ہو جاؤں
گل نے مِٹ کر خار سے َامن لیا تو کوئی کیا کہے

تاریک راستوں میں جلتی روشن یہ کیسی بہزاد ہے
آب ہی آب میں سراب نے من لیا تو کوئی کیا کہے

زمین پر کھینچی لکیروں نے دلوں پر نقش و نگار بنا دئے
جیت کر وطن تو ہار کر اَمن لیا تو کوئی کیا کہے

پتھر ہی کیا انسان بھی کاٹ دے فولادِ اوزار سے
لوٹ مار کا بازار ہے بچا صحن لیا تو کوئی کیا کہے

محمود تو خود سے پریشان ہے کیسا یہ جہان ہے
عمل نے ڈھانپ خود چلمن لیا تو کوئی کیا کہے

بر عنبرین / محمودالحق

Saturday, January 8, 2011

غمِ آنسو بہہ جائیں تو گلزار بھی صحرا ہوا

0 comments
غمِ آنسو بہہ جائیں تو گلزار بھی صحرا ہوا
تمہیں شائد اچھا ہوا مگر برا تو میرا ہوا

کہاں رہ گئیں ساون رُت کیا ابرِ برسات ہوئی
زندگی کو عزیز جانا مگر اس کو میں برا ہوا

دامن کو میں نے پھیلایا سینہ بہ سینہ چھپایا
رازِ زباں رہتا کاغذ پہ قلمِ بیاں ٹھہرا ہوا

بلبل نغمہ سرا ہوا تو کوئل نے چپ سادھ لی
خوفِ صیاد سے شاہیں کا گنبدِ سلطانی پہ بسیرا ہوا


ٹھوکر پہ تھا جن کے زمانہ خود سے ستائے ہوئے
آغوشِ محبت میں بھی تحفظ ارمان ڈرا ہوا

آرامِ جہاں میں بے چین زماںِ گنجان میں انجان
ماہی بے آب کا ہے رقص تماشائیوں نے گھیرا ہوا

مدحت سرائی میں جھولاتے جھولا زہر بھرے ہیں خنجر آستین
جگاتے کیا غفلت شب سے ضمیر تو ہے مرا ہوا

محمود راہ تو اچھی تھی سفر تیرا کچھ مشکل ہوا
منزل شب تو اچھی تھی دن کا اب سویرا ہوا


بر عنبرین / محمودالحق

بام رادِ تنہائی میں اُٹھتی ہوک صدا الکبیر

0 comments
بام رادِ تنہائی میں اُٹھتی ہوک صدا الکبیر
بے نام و نشان میں سوتی قسمت تو کھوتی تقدیر

روحِ روشن سے ہے جلتے چراغ میں روشنیٔ قلب
وہمِ طوفاں سے بْجھتی ایمان کفِ دستگیر

چاہتا ہوں ہر چراغ سے ایک ہی امیدِ کرنِ صبح
الفاظِ اوراق میں الگ رنگِ تفسیر بشیر و نذیر


محمودالحق

Thursday, December 30, 2010

تمہاری یاد کے آنسو

4 comments

Monday, May 24, 2010

پھولوں سے ہی تم نے اتنے درد سہہ لئے

4 comments
عرقِ عبادات سے گناہوں کو اپنے تم دھویا کرو
نازاں جو مقامِ دھن اپنے حال اُن کے تم رویا کرو


جل جل کر خاک پھونکوں سے بجھتے چراغ
مخمل شان میں عاجزی فقیری کو تم پرویا کرو



بھر بھر کے رحمتوں کو اَبر کیوں نہ بن جاؤں
جامِ تحسین کو مے خوش آب میں تم ڈبویا کرو


پھولوں سے ہی تم نے اتنے درد سہہ لئے
کانٹوں پہ اب محمود جی بھر تم سویا کرو




بر عنبرین / محمودالحق

Friday, May 14, 2010

زنجیرِ عدل کی گونج سوزِ گدا میں ہوں

0 comments
زنجیرِ عدل کی گونج سوزِ گدا میں ہوں
رک جا تو سمے دردِ پکار کی صدا میں ہوں


مایوسی میں رہتی فنا صبر کی ادا میں ہوں
پھولوں کی فطرت کہتی مہک ردا میں ہوں

امید و بیم کا ٹوٹا ستارہء جدا میں ہوں
آئی عرش سے آواز ٹھہر تیرا خدا میں ہوں




بر عنبرین / محمودالحق

رات کی تنہائی سے بھٹکتا رہے

0 comments
دن کے اجالوں میں رات کی تنہائی سے بھٹکتا رہے
ابرِ رحمت بنے برسات قطرہ قطرہ ٹپکتا رہے


جامِ حیات بھر بھر کے ساقی تجھ سے اچھلتا رہے
تعشق سے بینا در بدر کی ٹھوکر سے بھٹکتا رہے

آتاقلب میں قرار یاد میں جب بھی دھڑکتا رہے
پھول بھی مہکار گلستان غنچہ بھی مہکتا رہے

محبوب عشق بھی چاہ بھی سوختہ جان کھٹکتا رہے
نبیؐ کے نام سے ہے اجالا دہر بھی چمکتا رہے



بر عنبرین / محمودالحق

Tuesday, May 11, 2010

میرے گھر کے بادل گرج کر گزر گئے

0 comments
میرے گھر کے بادل گرج کر گزر گئے
تیرے گھر کے بادل برس کر بکھر گئے

میری شاخِ شجر کے پتے اتر گئے
تیرے پھول بھی کھل کر نکھر گئے


میری مٹی میں فراقِ ہجر گئے
مہک بنی ہوا تیری جدھر گئے

بھولِ آنکھ میں میری اشکِ تر گئے
آنسو بھی تیرے بن اَبر گئے

میری کھلتی کلی سے بھی ثمر گئے
تیرے گرتے بیج بھی بن شجر گئے

پیالہ میرے میں بھر وہ زہر گئے
کشکول تیرے میں ڈال اثر گئے

خاکِ سکوت میں خوف ٹھہر گئے
روحِ رواں میں تیرے مد و جزر گئے

میرے عشق میں بینا بھی تو نظر گئے
تیرے حسن کے تارے بن اطہر گئے

شکوہ نہیں رہ اب عزر گئے
رحمت سے بھی اب ہو احمر گئے

دبیز تہہ بھی اب بن راہ گزر گئے
رکتے شب میں دن میں سفر گئے

دل لگی رکھی تو چلے دلبر گئے
نظر سے جو چوکے تو قلب میں نشتر گئے

ڈھونڈھتے ہم انہیں نہ جانے کدھر گئے
کچھ اِدھر تو کچھ رہ اُدھر گئے

نفرت نشاں رہ اب بشر گئے
شاھین کے دوست بن کبوتر گئے

بچاتے نہیں جو جل شرر گئے
قلم سے جب نکلے تو بن نشر گئے

کبود انعام سے بھی وہ مکر گئے
سانس لینے میں ہی وہ سجدہ شکر گئے

نام لینے سے جن کے جھک سر گئے
سجدہ میں ہی ان کے ہو بلند فخر گئے



بر عنبرین / محمودالحق

Tuesday, May 4, 2010

آسمان اس کا انوار اس کا نظارہ کس لئے

0 comments
آسمان اس کا انوار اس کا نظارہ کس لئے
لہر اس کی طوفان اس کا کنارہ کس لئے

محبت میں ہو کینہ سنگ ہو سینہ تو زمانہ کس کا
کم ہو جینا سنگدار ہو مینہ الفتِ انگارہ کس لئے


درد ہو مستی، سکھ میں تنگدسی پھر بہکاوہ کس کا
لپٹتی بھی خاک مٹتی بھی رہتا چاند ستارہ کس لئے

کلی مہکار تو گلاب فناء انتظار میں بستا راہ کس کا
جستجوء جہاں میں تو شوقِ انساں ہے پھر سہارہ کس لئے

مفہومِ کلام ایک عبادت پیغام بھی ایک پھر قلمِ نقطہ کس کا
کس محبوب کے شیدائی چاہتے جو پزیرائی پھر گہوارہ کس لئے


بر عنبرین / محمودالحق

Sunday, March 7, 2010

محبت نہ اتنی پاس ہوتی تو دل کو آس ہوتی

0 comments
محبت نہ اتنی پاس ہوتی تو دل کو آس ہوتی
طولانی جب مسافت ہوتی تبھی تو پیاس ہوتی

زندگی کا سنا کر قصہء عشق مجھ کو بیمار کر دیا
ایسی بھی کیا مجبوری کیاری میں اب گھاس ہوتی


چلو چھوڑو پرانی کہانی کو دیتے ہیں نیا عنوان
پہننے کو جو رہ گئی لنگی کہنے کو کبھی لباس ہوتی

اپنی قسمت ہی کو روتا زمانہ تو قصور وار ہوا
ایسی غلطی کا ہوتا خمیازہ عسرتِ افلاس ہوتی

رہتا ہمیشہ زیر بار ہی اب تو کرایہ دار بھی تو
محبت بھی کاش کھیل کی طرح جیت کی ٹاس ہوتی




بر عنبرین / محمودالحق

Wednesday, March 3, 2010

کیوں نہ عید سہ ماہی ہوتے

2 comments
اُمیدِ جگنو چمک کر اپنی ہی راہ کے راہی ہوتے
فیل کوکنکریاں وار تو پرندے بھی سپاہی ہوتے

لفظ کاغذ پہ رہتے دیکھنے میں قلمِ سیاہی ہوتے
دشتِ تنہائی میں اکیلے ہم سفر ہم راہی ہوتے

موتیوں کے بیوپار میں کیوں نہ اب ماہی ہوتے
خوشیاں جینےکوکم پڑیں کیوں نہ عید سہ ماہی ہوتے




بر عنبرین / محمودالحق