Thursday, March 28, 2019

قطرہ قطرہ برس

2 comments
آرزوں کی خاک جب لالچ کی دھول میں اڑتی ہے تو غرض و مفاد کی کنکریاں سہانے خوابوں کی نیل گیں روشنی کو دھندلا دیتی ہے۔ ہر چہرے پہ ایک ہی عینک سے منظر صاف دکھائی نہیں دیتے جو نظر سے دھندلائے گئے ہوں۔ ایک ہی عینک سے ایک اخبار کو بہت سے لوگ پڑھ لیتے ہیں۔ عقل انسان پہاڑوں سے لڑھکتے پتھروں کی مثل پستیوں میں گر گر ٹوٹ پھوٹ جاتے ہیں۔ بلندیوں کو چھونے والے پہاڑ اور پرندے مجبوری سے پستیوں میں گرتے ہیں یا اترتے ہیں۔ خواہشیں اور آرزوئیں منزل تک پہنچنے کے مقصد نہیں ہوتے۔ بادل بننے کی خواہش دل کے ارمان ہوتے ہیں جو بادل بن کر برسنے سے محروم رہ جائے تو گڑگڑاتے چلاتے ہیں۔ زندگی صرف پانے کا نام نہیں ہے دینا بھی اسی کا جزو ہے۔

محمودالحق

Sunday, March 24, 2019

اعداد کا کھیل Double math magic

0 comments
ایک نئے خیال نے بہت دنوں سے ذہن میں کھلبلی مچا رکھی تھی کہ کچھ ایسا نیا ہونا چاہیئے جو اچھوتا ہو ، منفرد ہو اور مکمل بھی ہو۔ پھر وہی ہوا اچانک ایک نیا آئیڈیا دماغ میں عود کر آیا۔ سفید کاغذ پر چند آڑھی ترچھی لکیریں بنانے کے بعد مائیکروسوفٹ ایکسل پر رکھا تو وہ بنتا ہی چلا گیا۔چھ سات ماہ سے جسے پڑھا سیکھا سمجھا اور بنایا یہ اسی کا تسلسل ہےیعنی Math magic ۔ لیکن اس بار معاملہ زرا ہٹ کے ہے کیونکہ یہ ایک انوکھے، منفرد اور اچھوتے خیال کا شاخسانہ ہے۔
یہ   Double math magic  کا آئیڈیا ہے جو بنتا تو ایک ہی  Pattern  سے ہے  لیکن دونوں   Math magic  الگ الگ بھی کئے جا سکتے ہیں۔ اگرچہ  Double math magic  میں اعداد کی ترتیب مختلف ہے اور مختلف اعداد کی وہی ترتیب دونوں  Math magic  کو الگ الگ کرنے پر بھی رزلٹ میں فرق نہیں آنے دیتی۔فارمولہ کے مطابق   Vertically, Horizantally  اور  Diaginally  ان سب کا ٹوٹل ایک ہی آتا ہے یعنی   516۔اس میں  نمبرز    کی ٹوٹل تعداد  128  ہے اور  64 جوڑے ایسے بنتے ہیں کہ ان کا ٹوٹل  129  آتا ہے۔ جنہیں دو مخالف سمت میں ایک جیسے دو رنگوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔
اس کی مختلف  Formations  ہیں جو کہ میں نے پانچ طرح سے تصاویر کے ذریعے دکھائی ہیں۔عام طور پر یہ  Square  میں ہوتے ہیں ، میں نے اسے  Diamond shape  میں تشکیل دیا ہے۔   Even / Even  اور  Even / Odd  میں بنائے جا سکتے ہیں۔زیر نظر تصاویر 8x8 & 8x8  کے  Math magic کی ہیں جس میں مختلف رنگوں سے مزین انہیں دیکھا جا سکتا ہے۔   ان میں  1  تا  128  نمبرز ایسے استعمال ہوئے ہیں کہ نمبرز دو واضح حصوں کی بجائے ملے جلے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ 

اس تصویر میں  16 گروپ دیکھے جا سکتے ہیں جن میں ہر گروپ میں  8اعداد کا ٹوٹل 516 بنتا ہے۔ جو کہ دونوں  Math magic  کے چار چار نمبرز سے تشکیل پاتے ہیں ۔ ایک ہی رنگ میں 516 کے دو گروپس میں 8 جوڑے ایسے بنتے ہیں کہ ہر جوڑے کا ٹوٹل 129 بنتا ہے۔


اگر ان دونوں کو الگ الگ کر کے دیکھا جائے تو  258کےچار  اعدادایک ہی رنگ میں مخالف سمت میں موجود258 کے  چاراعداد سے مل کر 516 بنتے ہیں۔







ایک اس کی یہ صورت بھی بنتی ہے کہ  Math magic کے چار عدد مل کر 130 بنتے ہیں اور اسی جگہ پر دوسرے  Math magic  کے چار عدد  386 بنتے ہیں جن کا ٹوٹل 516 ہے۔


 اگر ان دونوں کو الگ الگ کر کے دیکھا جائے تو نمبرز کی ترتیب کچھ یوں بنتی ہے کہ جس سے درج بالا  Math magic  تشکیل پاتا ہے۔


ایک اس کی صورت یہ بھی بنتی ہے کہ ہر رنگ میں اعداد کا ٹوٹل 516 بنتا ہے اور مخالف سمت کے اسی رنگ میں ان کا جوڑا بنتا ہے جن کا ٹوٹل 129 ہے۔


 اس Math magic  کا ایک انداز یہ بھی ہو سکتا ہے ۔






تحقیق و ترتیب : محمودالحق

Sunday, February 17, 2019

کائنات کے سر بستہ راز اور آیت الکرسی

0 comments
آج کا موضوع بہت اہم ہے  کیونکہ قرآن کی سورتوں اور آیات کا میری تحقیق سے بہت خاص تعلق مجھے نظر آیا۔خاص طور پر قرآن کی سب سے عظیم آیت الکرسی کی نسبت جنہیں مختلف ویب سائٹس پر لکھا گیا اور یو ٹیوب پر ویڈیو اپ لوڈ کی گئیں ۔ اسی پوسٹ میں آیت الکرسی کی وضاحتی تحریر کو شامل کیا  گیاہے اور یو ٹیوب ویڈیو  بھی موجود ہے۔ میری تحریر کا ایک ایک جملہ اس پُرحقیقت منزل تک پہنچنے کے لئے میرے سفر کی روئیداد کا احاطہ کرتا ہے۔
میں نے  Math  اور Algebra کو صرف میٹرک تک پڑھا۔ کائنات کے سربستہ راز کی تلاش نے سوچ کی بلندیوں کو عقل و شعور کی گہرائیوں میں اتار دیا۔ اللہ تبارک تعالی کے احکامات  میری ذات سے اس قدر منسلک ہوئے کہ ایک قانون کی مانند زندگی پر نافذ ہو گئے۔  الزائمر کے مریض اور فالج زدہ  بوڑھےباپ کی 14 سال تک ایسے دیکھ بھال کی جیسے ایک ماں اپنے بچے کو سنبھالتی ہے۔  دس سال ہاتھوں سے نجاست کوصاف اور جسم پر بننے والے زخموں پر مرہم رکھا۔  اللہ نے اتنی دولت عطا کی کہ باپ کی خدمت کے لئےدو ملازم رکھ کر دنیا کی رنگینی میں کھو چکا ہوتا اگر اللہ تبارک تعالی کی رحمت نہ ہوتی۔ ماں نے مجھے گود میں سلایا، محبت کے نوالے  منہ میں ڈالے۔ باپ نے  میری  پیدائش  پر منوں مٹھائی تقسیم کی۔  وہ یہ سوچ کر خوش تھا کہ باون سال کی عمر میں اللہ نے آٹھواں بیٹا عطا کیا مگر اللہ نے تو بوڑھے کے لئے ایک لاٹھی کا انتظام کیاتھا۔ وہی بوڑھے کی لاٹھی جو میری تحاریر اور بلاگ پر موجود ہے۔ جس  باپ نےقدم قدم چلنے پر سنبھالا۔ عزت و احترام اور قربانی و ایثار کا ایسا سبق میری ذات میں اتارا کہ  اپنے باپ کی دیکھ بھال اُٹھانے، بٹھانے،اورنہلانے  کے دوران کمر درد کی شدید شکایت آج بھی کبھی کبھی ہلکا سرور دیتی ہے۔
چھ ماہ قبل Magic square کے بارے میں جاننے کی جستجو میں ایک فارمولہ نے میرے ذہن پر دستک دی ۔ جسے کھوجنے کی کوشش میں کھولتا چلا گیا۔2300سال قبل مسیح چین میں دریا سے باہر نکلتے ایک کچھوے کی پشت پر بنے Dots کی ترتیب ایک ایسا ریاضی کا جادو ہے جو آج بھی موضوع بحث اور ارتباط حیرت و عقل ہے۔جلد ہی مجھ پر یہ انکشاف ہوگیاکہ جو Math magic square  میں بنا رہا ہوں وہ دراصل اسی کا عکس ہے۔
ہر روز سوچ کے نئے در وا ہوتے چلے گئے، جیسے ہی ایک گرہ کھلتی تو  صدیوں سے ہونے والی تحقیق ایک بار پھر کسی نئے راستہ پر ڈال دیتی جس سے ایک نیا راستہ پھر کھل جاتا۔ بالآخر Math magic square کی اُس انتہا تک جا پہنچا جہاں میں نے اپنے ہاتھ اُٹھا لئے، کیونکہ نتائج نے مجھے ورطہء حیرت میں ڈال دیا ۔ میں نے Magic square بنانے کے لئے جو  اپناطریقہ کار اختیار کیا تو نتائج Infinity کی طرف جا نکلے۔ 
25x25 کے Magic square کی تعداد کا تعین کرنا چاہا تو عقل دنگ رہ گئی۔  بنیادی طور پر یہ ایک  Math magic carpet کا Formula   ہے جس میں Root numbers اور Prime numbers مل کر Magic square  کی تشکیل کرتے ہیں۔جو نمبرز ہمیں سامنے دکھائی دیتے ہیں وہ ان دونوں کا مجموعہ ہوتے ہیں۔  یہ Associative Magic square کہلاتے ہیں کیونکہ ہر جوڑا مرکزی نمبر سے گزر کر ایک دوسرے کے ساتھ ملتا ہے۔


کسی بھی ایک Odd order کے Magic square  جس میں کہ Root numbers  ساکن رہتے ہیں اور Prime numbers   کے جوڑوں  میں موجود نمبرزکی  ردو بدل سے مزید  Magic square بننے کی استعداد موجود ہوتی ہے۔ جس کا فارمولہ P(n , r) =? ہے۔
  25x25 کے  Magic square    میں  12 عدد Number pairs میں Math magicبننےکی استعداد Permutation nPr calculator کی رُو سے  479,001,600 ہے اور 51x51 کے Magic square میں 24 عدد Number pairs میں  Magic square بننے کی استعداد 15,511,210,043,330,985,984,000,000ہے۔
یہ رزلٹ کسی مفروضے اور قیاس کی بنیاد پر  اخذ  نہیں کئے گئے۔ یہ ایک فارمولہ ہے جو منطقی ہے  اور یہ خوبی صرف اور صرف کچھوے کی پشت پر بنے ڈاٹس کے پیچھے چھپے فارمولہ کی بدولت ہے جو کہ ایک حقیقت ہے ۔
25x25
51x51

لیکن!
آج حقیقت میں  کچھ اور بتانا مقصود ہے۔ آیت الکرسی اورسورۃ النور کی ایک آیت  کا اس Magic square سے نسبت  دلچسپی سے خالی نہیں۔ آج ہی ایک ویڈیو میری نظر سے گزری جس میں ان دونوں آیات   کا الگ الگ توازن اور تناسب  بہت خوبصورتی اور مثالوں سےجس طرح  بیان کیا گیا۔وہ  Lo Shu magic square  ( کچھوے کی پشت پر موجود)  نمبرز سے ہو بہو مطابقت رکھتا ہے۔قرآن مجید میں بیان کئے گئے اکثر الفاظ  کاتوازن اور تناسب خالق کائنات کی عظمت اور قدرت کی دلیل ہے۔


"آیت الکرسی کا مطلب ہے بادشاہی کی آیت کیونکہ اس میں اللہ کی بادشاہت اور اس کی طاقت  بیان کی گئی ہے۔ آیت الکرسی ایک مکمل آیت ہے اور اپنے معنی کے اعتبار سے بہت طاقتور ہے۔ اس آیت میں اللہ کی تعریف اور اسکی بادشاہت کا ذکر کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ایک مکمل اور طاقتور ذات ہے۔ اپنی اسی خصوصیت کے باعث آیت الکرسی انسان کو خطرات اور دوسری بلاؤں سے محفوظ رکھنے کے لئےموثر ہے۔
آیت الکرسی کی وضاحت
آیت الکرسی کے نو حصے ہیں مگر ان نو حصوں کو اللہ نے بہت ہم آہنگی سے بنایا ہے
اللَّهُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ اور  وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ
یہ دونوں اس آیت کے پہلی اور آخری حصے ہیں جن کے آخر میں اللہ کی دو خصوصیات بیان کی گئی ہیں جو یہ ہیں  الْحَيُّ الْقَيُّومُ اور الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ
 لاَ تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلاَ نَوْمٌ  اور وَلاَ يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا 
یہ آیت الکرسی کا حصہ دوئم اور ہشتم ہے. ان حصوں کو اگر گہرائی سے دیکھا جائے تو دونوں میں اللہ کے بارے میں ایک ہی بات بیان کی گئی ہے کہ وہ کسی قسم کی تھکاوٹ سے پاک ہے. جب اللہ کسی چیز کی حفاظت کرتا ہے تو اسے نہ نیند آتی ہے نہ اونگھ اور زمین و آسمان کی نگرانی بھی اللہ کو تھکاتی نہیں ہے 
  لَهُ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الأَرْضِ  اور وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَواتِ وَالأَرْضَ 
یہ اس آیت کا تیسرا اور ہفتم حصہ ہے. ان دونوں کو دیکھنے سےمعلوم ہوتا ہے کہ یہ آپس میں ملتے جلتے ہیں. ان حصوں میں اللہ انسان کو  باور کرواتا ہے کہ وہ نا صرف زمیں و آسمان کا مالک ہے بلکہ تمام کائنات میں پھیلی ہوئی ہر شے کا بادشاہ بھی ہے.
مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلاَّ بِإِذْنِه   اور  وَلاَ يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِنْ عِلْمِهِ إِلاَّ بِمَا شَاءَ َ
اس چوتھے اور چھٹے حصے میں اللہ انسان کو اس کے کمزور اور اللہ کے محتاج ہونے کی یاددہانی کرواتا ہے اور پھر کہتا ہے کہ سوائے اس انسان کے جسے اللہ خود طاقت عطاکرے 
  يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ  
یہ اس آیت کا درمیانہ اور پانچواں حصہ ہے. اس میں اللہ انسان کو بتاتا ہے کہ وہ جانتا ہے کہ اس آیت میں اس نے پہلے کیا بیان کیا ہے اور بعد میں کیا بیان کیا ہے "
ویڈیو


قرآن مجید میں بیان کئے گئے اکثر الفاظ  کاتوازن اور تناسب خالق کائنات کی عظمت اور قدرت کی دلیل ہے۔ قرآن میں  متضاد الفاظ   جو ایک ہی تعداد میں آتے ہیں اُن  کی تعداد بہت زیادہ ہے ، ان میں سے چند یہاں بیان کرتا ہوں۔
(Allah loves - 17 times_Allah loves not - 17 times)
(Love-17 times_Hate-17 times)
(Angels – 88 times _ Devils – 88 times)
(This word – 115 times _ Next world – 115 times)
(Heat – 4 times_ Coolness – 4 times)
(Summer – 1 time _Winter – 1 time)
(Worry – 13 times _Reassurence – 13 times)
 (Close– 10 times_Away – 10 times)
(Belief – 25 times_Disbelief – 25 times)
(Benefit-9 times _ Harm – 9 times)
(East Sunrise – 16 times_ West Sunset – 16 times)
(Your day – 5 times_Their day – 5 times)
(Old man - 4 times _ Old woman - 4 times)
(Child (opposite to old people above) - 4 times)
(Obedience-3 times_Disobedience-3 times)
(Sleep/Dream - 7 times_ Vision - 7 times)
اس کے ساتھ ساتھ ایک جیسے الفاظ کی تعداد اتنی ہے کہ ان سب کا یہاں احاطہ کرنا مشکل ہے۔ چند ایک پیش خدمت ہیں۔
 (Sun – 33 times _ Light (singular)- 33 times)
(Preach – 25 times_ Tongue/Language – 25 times)
(That day (refering to Judgment day) – 70 times Judgment day – 70 times))
Phrase ”Seven heavens” – 7 times)( The creation of Heavens – 7 times)
(War – 4 times_Prisinors of War – 4 times _ Spoils of War - 4 times_Painful Penalty - 4 times)
(The Kingdom – 20 times_The Throne – 20 times)
(Bees - 1 time_Honey - 1 time)

خالق کائنات  نے اپنی تخلیق کردہ ہر  جاندار اور بے جان حتی کہ اپنے کلام کو بھی   الفاظ کے توازن اور تناسب کا حسن بخشا ہے۔  قرآن پاک کی تلاوت میں جو لہن و چاشنی ہے ، اس کے پیچھے الفاظ اور آیات میں توازن اور تناسب ہے۔ یہی وجہ تھی جب کفار جو قرآن کو انسان کا کلام کہتے تھے ان کو چیلنج دیا گیا کہ" اگر تم شک میں ہو میرے بندے پر نازل شدہ کتاب کے بارے میں تو اس جیسی کوئی ایک سورت ہی لےآؤاور اللہ کے سوا جو کوئی تمہارے مدد گار ہیں انہیں بھی بلا لو"۔ 
Magic squareکی حقیقت کو میں نے کائنات کے سر بستہ راز جان کر دن رات ایک کر دیا، جس نے مجھے تھکا دیا  ۔ صرف اعداد کا جادو میرے لئے کافی نہیں تھا ۔ نمبرز کےٹوٹل اور جوڑے صدیوں سے انسان بناتے اورسمجھاتے آ رہے ہیں  اور میں انہیں قرآن میں تلاش کر رہا تھا۔آج اچانک ہی ایک ویڈیو میری نظروں کے سامنے آئی تو میری خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی۔پچھلے 6 ماہ سے ستاروں میں جو تلاش کر رہا تھا۔ مجھے قرآن سے مل گیا۔آج میرا تجسس ، میری جستجو اور میری تحقیق ختم ہو گئی۔

    محمودالحق

Thursday, January 24, 2019

کائنات کے سربستہ راز - 5

2 comments
"AMAZING" Formula: not a magic trick | There can be only one:


25x25

25x25

 25x25

25 x 25

51x51

51 x 51

Thursday, January 17, 2019

کائنات کے سر بستہ راز- 4

0 comments
کیا وہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی سمیت اللہ  تعالی کی تمام مخلوقات میں غور و فکر نہیں کرتےـ سورۃ الاعراف آیت 185
چار ماہ قبل کائنات کے سربستہ راز کے نام سے میں نے جس موضوع کا آغاز کیا تھا۔ اس کے اندر چھپا راز  جس طرح مجھ پر آشکار ہوا  ،میرے لئے حیرانگی کا سبب نہیں تھا کیونکہ میرا اس بات پر مکمل اور کامل یقین ہے کہ اس کائنات میں پیدا ہوئی ہر شے اللہ تعالی کی قدرت کا مظہر ہے اور میرا یہی یقین جستجو اور تلاش کے سفر پر گامزن رہا، جو بالآخر اپنے منطقی نتیجہ کی طرف  مجھے لے گیا۔ اللہ تبارک تعالی کی رضا و رحمت سے جو مجھ پر منکشف ہوا، وہ ناقابل یقین، حیرت انگیز، عقل دنگ کردینے والے حقائق پر مبنی ہے،جو  قدرت پر ہمارے یقین اور ایمان کو مزید استحکام بخشتاہے۔ 4300 سال سے اب تک لو شو میجک سکوئر جو کہ ایک کچھوے کی پشت پر ظاہر ہوئے تھے کوہندسوں کے ٹوٹل کا جادو سمجھا جاتا رہا ہے۔ دراصل وہ صرف نمبرز نہیں ہیں بلکہ حقیقت میں ایک سسٹم کی عکاسی کرتے ہیں۔ 
  کائنات کے سربستہ راز پر میری گزشتہ تین تحاریر کو سنجیدگی اور غور سے پڑھنے پر یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ صرف چار ماہ کے قلیل عرصہ میں ایک ایک قدم آگے بڑھتامیں یہاں تک  کیسےپہنچا  کہ سینکڑوں ہزاروں میتھ میجک  بنانے کی اہلیت پا چکا ہوں۔
نیٹ پر اب تک میری سرچ کے مطابق کسی نے بھی اس کے حل کا کوئی ایسا طریقہ نہیں بتایا جو میرے موقف کی تائید کرتا ہو۔ ایک odd oder 7x7, 9x9,11x11 وغیرہ کو بنانے میں ایک وقت میں ایک طریقہ ہی اختیار کیا جاتا ہے  مگر میرے فارمولہ کے اپلائی کرنے پر وہ مختلف رزلٹ ظاہر کرتا ہے۔
میرا  یہ ماننا ہےکہ کوئی بھی ریاضی دان یا میتھ میجک ایکسپرٹ میرے میجک سکوئر میں نمبرز کے Tour, Move  کو نہیں سمجھ سکتا۔ کیونکہ ان میں صرف نمبرز  کی ترتیب ہی  کارفرما نہیں ہے بلکہ  اس کے پس پردہ ایک فارمولہ ہے ۔ 
  میرے تیار کردہ سینکڑوں  Math Magic Squaresایک دوسرے سے نمبرز کی مختلف ترتیب رکھتے ہیں ۔بہت زیادہ تعداد میں شئیر کرنے کی بجائے فی الحال 7x7, 9x9,11x11 , 25x25, 51x51 کے دو دو   یہاں شئیر کر رہا ہوں تاکہ جو اس میں دلچسپی رکھتے ہوں وہ  اسے اچھی طرح پرکھ سکیں۔۔ 
 اِن اللہ علی کل شي ءقدیر (  بیشک اللہ   ہر چیز پر قادر ہے)

محمودالحق

An associative magic square is a magic square for which the total of each row,  each column and each diagonal are all the same and every pair of numbers symmetrically opposite to the center sum up to the same value

7x7

7 x 7

9x9

9 x 9

11 x 11

 11x11

25x25

25x25

51x51

51x51

Friday, December 21, 2018

محنت کے ثمرات

1 comments
چار دن کی زندگی میں دو ٹوک رویے جانے والوں کے دل میں گرہ باندھ دیتے ہیں۔جنہیں کھولنے کی کوشش کریں تو اور سختی میں کس جاتے ہیں۔ مذہب و عبادت ، تعلیم و تربیت اور مشورہ و نصیحت جب اپنا اثر دکھانا بند کر دیں تو عقل کے بند دروازوں پر دستک بیجا مداخلت تصور کی جاتی ہے۔دیواروں سے سر ٹکرانے میں دروازے نہیں کھلا کرتے۔بولنے ،لکھنے اور سننے ، پڑھنے میں سُر جیسا تال میل ہوتا ہے۔ بولنے اور لکھنے والے دو طرح سے اپنے اظہار کو پیش کرتے ہیں ۔ اپنی کہہ کر خاموش رہنے والے اور دوسروں کو دیکھ کر کہنے والے۔آج کامیاب وہ کہلاتے ہیں جو کسی سے اسی کی بات کہہ دیتے ہیں۔
زندگی ایک ایسی عمارت ہے جس کی آخری منزل پر کھڑے ہو کر کہنے اور سننے کے ہدف بہت چھوٹے ہو جاتے ہیں۔ہمیشہ کی طرح آج بھی مجھے اپنی بات اپنے ہی انداز میں کرنی ہے۔فطرت کے نئے خیال کو جانچتے ہوئے ،کامل یقین کے ساتھ مانتے ہوئے۔
معاشی و کاروباری معاملات ہوں یاتعلیم و روزگار کےلئے پیش بندی، رشتے ناطے کا بندھن ہو یا کردار و تعلقات  کاپیمانہ۔ دو طرح سے ان پر عملدرآمد کیا جاتا ہےاگر انہیں شخصیات کی کسوٹی پر پرکھا جائے تو جتنے منہ اتنی باتوں کے مصداق احاطہ کرنا مشکل ہو جائے گا۔ خاک سے بنے انسان کے لئے مٹی سے اُگی شے کی مثال منظور خیال ضرور ہو گی۔زمین بنی نوح انسان کے لئے اجناس پیدا کرتی ہے۔ وہ پھل ہوں،سبزی ہو یا میوہ۔ ان سے کیک  تیار ہو، روٹی بنے یا بریڈ۔آگ کی حدت و تپش کی جلوہ افروزی کا کرشمہ و کمال ہے۔کپاس کے پھول سے لباس تک اور بیج سے پکوان تک مختلف مراحل مختلف ہاتھوں سے تشکیل پاتے ہیں۔کئی منزلہ عمارت کی ہر منزل سے گزرتی سیڑھیوں کی طرح، لیکن ہم ہمیشہ آخری منزل پر ہی رہتے ہیں۔
زندگی میں جینے کے لئے جو راستہ اختیار کیا جاتا ہے جتنی محنت کو بروئے کار لایا جاتا ہے، اسی طرح کے نتائج حاصل ہوتے ہیں۔ زمین ان مثالوں سے بھری پڑی ہے لیکن آج صرف دو مثالوں سے انہیں بیان کرنا مقصود ہے۔
بھینسوں کے لئے جو چارہ اُگایا جاتا ہے وہ بیج سے فصل بننے تک چند ہفتوں میں تکمیل کے مراحل طے کر لیتا ہے۔  گھاس اورچھٹالہ ایسا چارہ ہے جو  ایک بار اُگنے کے بعد کاٹنے پردنوں میں بار بار دوبارہ تیار ہوتا رہتا ہے۔بھینسیں چند گھنٹوں میں اسے کھا کر دودھ کی شکل میں ڈھال دیتی ہے۔مختصر وقت میں سب سے تیزی میں تیار ہونے والا  مقوی غذائیت سے بھرپور، جس کا خرچہ بھی کم ، محنت بھی کم اور قیمت بھی کم ۔ اُبال کر پئیں یا بنا اُبال کے۔ جتنی تیزی سے تیار ہوتا ہےاتنی ہی تیزی میں استعمال ہو جاتا ہے۔ 
اب آتے ہیں دوسری مثال کی طرف زمین سے ہی اُگنے والے چاول پانی میں بھگونے کے بعد بہت زیادہ مقدار میں پانی کے ملاپ سے ہی کھانے کے قابل ہوتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ بیج سے چاول بننے تک یہ مسلسل پانی میں ہی پروان چڑھتے ہیں۔ بیج سے پنیری تیار کی جاتی ہے اور اس پنیری کوایک ایک کی صورت میں الگ کر کے کھڑے پانی میں زمین میں بویا جاتا ہے۔مونجی کی یہ فصل  کئی ماہ میں اپنی تکمیل تک بے بہا پانی کے استعمال سے پروان چڑھتی ہے اور چولہے پر پکنے کے لئے بھی کھلے پانی کی طلبگار ہوتی ہے۔ کھانے کے بعد بھی پانی کی طلب برقرار رہتی ہے۔ جتنا چاول پرانا ہو گا اتنا ہی بیش قیمت اور غذائیت سے بھرپور ہوتا ہے۔
زندگی میں ہماری محنت کے نتائج دودھ اور چاول جیسے ہیں۔بعض لوگ کم وقت میں تھوڑی محنت سے کاروبار زندگی اختیار کرتے ہیں جن کے نتائج بھی  دودھ کی طرح فوری اور جلد اختتام پزیری کا شکار ہوتے ہیں اور دوسری طرف مونجی یعنی چاول کی فصل کی طرح  ابتداء سے  نتائج تک محنت کرنے والے طویل مدت تک انتظار کی گھڑی سے جڑے رہتے ہیں۔ جو بالآخر پر آسائش شاندار کامیاب زندگی کی ضمانت حاصل کر لیتے ہیں۔
اپنی زندگی میں پڑھائی اور کاروبار میں کئی گئی محنت پر ایک نظر ڈالیں تو یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہو گا کہ ہم نے اپنے لئے جو راستہ اختیار کیا ہمیں اسی کے مطابق نتیجہ حاصل ہوتا ہے۔دوسروں کی کامیابی سے اپنی ناکامی کا موازنہ نہیں کیا جا سکتا بلکہ اپنی کی گئی محنت کا موازنہ دوسروں کی محنت سے کیا جانا چاہیئے۔ کیونکہ محنت اور مسلسل جدوجہد کرنے والے آخری منزل تک ثابت قدم رہتے ہیں۔ مختصرالمدتی اور طویل المدتی پالیسی، طریقے اور ذرائع ہی ہمارے مستقبل کو محفوظ بناتے ہیں۔ مختصرالمدتی محنت کے نتائج دودھ کی طرح جلد پھٹ کر کھٹے ہو جاتے ہیں اور طویل المدتی محنت و لگن کے نتائج چاول کی طرح اول سے آخر تک پانی کی طرح محنت کے متقاضی ہوتے ہیں مگر جتنے پرانے ہوتے جاتے ہیں اُتنے ہی قدروقیمت میں چاہت طلب ہو جاتے ہیں۔

تحریر : محمودالحق