Sunday, February 17, 2019

کائنات کے سر بستہ راز اور آیت الکرسی

0 comments
آج کا موضوع بہت اہم ہے  کیونکہ قرآن کی سورتوں اور آیات کا میری تحقیق سے بہت خاص تعلق مجھے نظر آیا۔خاص طور پر قرآن کی سب سے عظیم آیت الکرسی کی نسبت جنہیں مختلف ویب سائٹس پر لکھا گیا اور یو ٹیوب پر ویڈیو اپ لوڈ کی گئیں ۔ اسی پوسٹ میں آیت الکرسی کی وضاحتی تحریر کو شامل کیا  گیاہے اور یو ٹیوب ویڈیو  بھی موجود ہے۔ میری تحریر کا ایک ایک جملہ اس پُرحقیقت منزل تک پہنچنے کے لئے میرے سفر کی روئیداد کا احاطہ کرتا ہے۔
میں نے  Math  اور Algebra کو صرف میٹرک تک پڑھا۔ کائنات کے سربستہ راز کی تلاش نے سوچ کی بلندیوں کو عقل و شعور کی گہرائیوں میں اتار دیا۔ اللہ تبارک تعالی کے احکامات  میری ذات سے اس قدر منسلک ہوئے کہ ایک قانون کی مانند زندگی پر نافذ ہو گئے۔  الزائمر کے مریض اور فالج زدہ  بوڑھےباپ کی 14 سال تک ایسے دیکھ بھال کی جیسے ایک ماں اپنے بچے کو سنبھالتی ہے۔  دس سال ہاتھوں سے نجاست کوصاف اور جسم پر بننے والے زخموں پر مرہم رکھا۔  اللہ نے اتنی دولت عطا کی کہ باپ کی خدمت کے لئےدو ملازم رکھ کر دنیا کی رنگینی میں کھو چکا ہوتا اگر اللہ تبارک تعالی کی رحمت نہ ہوتی۔ ماں نے مجھے گود میں سلایا، محبت کے نوالے  منہ میں ڈالے۔ باپ نے  میری  پیدائش  پر منوں مٹھائی تقسیم کی۔  وہ یہ سوچ کر خوش تھا کہ باون سال کی عمر میں اللہ نے آٹھواں بیٹا عطا کیا مگر اللہ نے تو بوڑھے کے لئے ایک لاٹھی کا انتظام کیاتھا۔ وہی بوڑھے کی لاٹھی جو میری تحاریر اور بلاگ پر موجود ہے۔ جس  باپ نےقدم قدم چلنے پر سنبھالا۔ عزت و احترام اور قربانی و ایثار کا ایسا سبق میری ذات میں اتارا کہ  اپنے باپ کی دیکھ بھال اُٹھانے، بٹھانے،اورنہلانے  کے دوران کمر درد کی شدید شکایت آج بھی کبھی کبھی ہلکا سرور دیتی ہے۔
چھ ماہ قبل Magic square کے بارے میں جاننے کی جستجو میں ایک فارمولہ نے میرے ذہن پر دستک دی ۔ جسے کھوجنے کی کوشش میں کھولتا چلا گیا۔2300سال قبل مسیح چین میں دریا سے باہر نکلتے ایک کچھوے کی پشت پر بنے Dots کی ترتیب ایک ایسا ریاضی کا جادو ہے جو آج بھی موضوع بحث اور ارتباط حیرت و عقل ہے۔جلد ہی مجھ پر یہ انکشاف ہوگیاکہ جو Math magic square  میں بنا رہا ہوں وہ دراصل اسی کا عکس ہے۔
ہر روز سوچ کے نئے در وا ہوتے چلے گئے، جیسے ہی ایک گرہ کھلتی تو  صدیوں سے ہونے والی تحقیق ایک بار پھر کسی نئے راستہ پر ڈال دیتی جس سے ایک نیا راستہ پھر کھل جاتا۔ بالآخر Math magic square کی اُس انتہا تک جا پہنچا جہاں میں نے اپنے ہاتھ اُٹھا لئے، کیونکہ نتائج نے مجھے ورطہء حیرت میں ڈال دیا ۔ میں نے Magic square بنانے کے لئے جو  اپناطریقہ کار اختیار کیا تو نتائج Infinity کی طرف جا نکلے۔ 
25x25 کے Magic square کی تعداد کا تعین کرنا چاہا تو عقل دنگ رہ گئی۔  بنیادی طور پر یہ ایک  Math magic carpet کا Formula   ہے جس میں Root numbers اور Prime numbers مل کر Magic square  کی تشکیل کرتے ہیں۔جو نمبرز ہمیں سامنے دکھائی دیتے ہیں وہ ان دونوں کا مجموعہ ہوتے ہیں۔  یہ Associative Magic square کہلاتے ہیں کیونکہ ہر جوڑا مرکزی نمبر سے گزر کر ایک دوسرے کے ساتھ ملتا ہے۔


کسی بھی ایک Odd order کے Magic square  جس میں کہ Root numbers  ساکن رہتے ہیں اور Prime numbers   کے جوڑوں  میں موجود نمبرزکی  ردو بدل سے مزید  Magic square بننے کی استعداد موجود ہوتی ہے۔ جس کا فارمولہ P(n , r) =? ہے۔
  25x25 کے  Magic square    میں  12 عدد Number pairs میں Math magicبننےکی استعداد Permutation nPr calculator کی رُو سے  479,001,600 ہے اور 51x51 کے Magic square میں 24 عدد Number pairs میں  Magic square بننے کی استعداد 15,511,210,043,330,985,984,000,000ہے۔
یہ رزلٹ کسی مفروضے اور قیاس کی بنیاد پر  اخذ  نہیں کئے گئے۔ یہ ایک فارمولہ ہے جو منطقی ہے  اور یہ خوبی صرف اور صرف کچھوے کی پشت پر بنے ڈاٹس کے پیچھے چھپے فارمولہ کی بدولت ہے جو کہ ایک حقیقت ہے ۔
25x25
51x51

لیکن!
آج حقیقت میں  کچھ اور بتانا مقصود ہے۔ آیت الکرسی اورسورۃ النور کی ایک آیت  کا اس Magic square سے نسبت  دلچسپی سے خالی نہیں۔ آج ہی ایک ویڈیو میری نظر سے گزری جس میں ان دونوں آیات   کا الگ الگ توازن اور تناسب  بہت خوبصورتی اور مثالوں سےجس طرح  بیان کیا گیا۔وہ  Lo Shu magic square  ( کچھوے کی پشت پر موجود)  نمبرز سے ہو بہو مطابقت رکھتا ہے۔قرآن مجید میں بیان کئے گئے اکثر الفاظ  کاتوازن اور تناسب خالق کائنات کی عظمت اور قدرت کی دلیل ہے۔


"آیت الکرسی کا مطلب ہے بادشاہی کی آیت کیونکہ اس میں اللہ کی بادشاہت اور اس کی طاقت  بیان کی گئی ہے۔ آیت الکرسی ایک مکمل آیت ہے اور اپنے معنی کے اعتبار سے بہت طاقتور ہے۔ اس آیت میں اللہ کی تعریف اور اسکی بادشاہت کا ذکر کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ایک مکمل اور طاقتور ذات ہے۔ اپنی اسی خصوصیت کے باعث آیت الکرسی انسان کو خطرات اور دوسری بلاؤں سے محفوظ رکھنے کے لئےموثر ہے۔
آیت الکرسی کی وضاحت
آیت الکرسی کے نو حصے ہیں مگر ان نو حصوں کو اللہ نے بہت ہم آہنگی سے بنایا ہے
اللَّهُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ اور  وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ
یہ دونوں اس آیت کے پہلی اور آخری حصے ہیں جن کے آخر میں اللہ کی دو خصوصیات بیان کی گئی ہیں جو یہ ہیں  الْحَيُّ الْقَيُّومُ اور الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ
 لاَ تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلاَ نَوْمٌ  اور وَلاَ يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا 
یہ آیت الکرسی کا حصہ دوئم اور ہشتم ہے. ان حصوں کو اگر گہرائی سے دیکھا جائے تو دونوں میں اللہ کے بارے میں ایک ہی بات بیان کی گئی ہے کہ وہ کسی قسم کی تھکاوٹ سے پاک ہے. جب اللہ کسی چیز کی حفاظت کرتا ہے تو اسے نہ نیند آتی ہے نہ اونگھ اور زمین و آسمان کی نگرانی بھی اللہ کو تھکاتی نہیں ہے 
  لَهُ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الأَرْضِ  اور وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَواتِ وَالأَرْضَ 
یہ اس آیت کا تیسرا اور ہفتم حصہ ہے. ان دونوں کو دیکھنے سےمعلوم ہوتا ہے کہ یہ آپس میں ملتے جلتے ہیں. ان حصوں میں اللہ انسان کو  باور کرواتا ہے کہ وہ نا صرف زمیں و آسمان کا مالک ہے بلکہ تمام کائنات میں پھیلی ہوئی ہر شے کا بادشاہ بھی ہے.
مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلاَّ بِإِذْنِه   اور  وَلاَ يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِنْ عِلْمِهِ إِلاَّ بِمَا شَاءَ َ
اس چوتھے اور چھٹے حصے میں اللہ انسان کو اس کے کمزور اور اللہ کے محتاج ہونے کی یاددہانی کرواتا ہے اور پھر کہتا ہے کہ سوائے اس انسان کے جسے اللہ خود طاقت عطاکرے 
  يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ  
یہ اس آیت کا درمیانہ اور پانچواں حصہ ہے. اس میں اللہ انسان کو بتاتا ہے کہ وہ جانتا ہے کہ اس آیت میں اس نے پہلے کیا بیان کیا ہے اور بعد میں کیا بیان کیا ہے "
ویڈیو


قرآن مجید میں بیان کئے گئے اکثر الفاظ  کاتوازن اور تناسب خالق کائنات کی عظمت اور قدرت کی دلیل ہے۔ قرآن میں  متضاد الفاظ   جو ایک ہی تعداد میں آتے ہیں اُن  کی تعداد بہت زیادہ ہے ، ان میں سے چند یہاں بیان کرتا ہوں۔
(Allah loves - 17 times_Allah loves not - 17 times)
(Love-17 times_Hate-17 times)
(Angels – 88 times _ Devils – 88 times)
(This word – 115 times _ Next world – 115 times)
(Heat – 4 times_ Coolness – 4 times)
(Summer – 1 time _Winter – 1 time)
(Worry – 13 times _Reassurence – 13 times)
 (Close– 10 times_Away – 10 times)
(Belief – 25 times_Disbelief – 25 times)
(Benefit-9 times _ Harm – 9 times)
(East Sunrise – 16 times_ West Sunset – 16 times)
(Your day – 5 times_Their day – 5 times)
(Old man - 4 times _ Old woman - 4 times)
(Child (opposite to old people above) - 4 times)
(Obedience-3 times_Disobedience-3 times)
(Sleep/Dream - 7 times_ Vision - 7 times)
اس کے ساتھ ساتھ ایک جیسے الفاظ کی تعداد اتنی ہے کہ ان سب کا یہاں احاطہ کرنا مشکل ہے۔ چند ایک پیش خدمت ہیں۔
 (Sun – 33 times _ Light (singular)- 33 times)
(Preach – 25 times_ Tongue/Language – 25 times)
(That day (refering to Judgment day) – 70 times Judgment day – 70 times))
Phrase ”Seven heavens” – 7 times)( The creation of Heavens – 7 times)
(War – 4 times_Prisinors of War – 4 times _ Spoils of War - 4 times_Painful Penalty - 4 times)
(The Kingdom – 20 times_The Throne – 20 times)
(Bees - 1 time_Honey - 1 time)

خالق کائنات  نے اپنی تخلیق کردہ ہر  جاندار اور بے جان حتی کہ اپنے کلام کو بھی   الفاظ کے توازن اور تناسب کا حسن بخشا ہے۔  قرآن پاک کی تلاوت میں جو لہن و چاشنی ہے ، اس کے پیچھے الفاظ اور آیات میں توازن اور تناسب ہے۔ یہی وجہ تھی جب کفار جو قرآن کو انسان کا کلام کہتے تھے ان کو چیلنج دیا گیا کہ" اگر تم شک میں ہو میرے بندے پر نازل شدہ کتاب کے بارے میں تو اس جیسی کوئی ایک سورت ہی لےآؤاور اللہ کے سوا جو کوئی تمہارے مدد گار ہیں انہیں بھی بلا لو"۔ 
Magic squareکی حقیقت کو میں نے کائنات کے سر بستہ راز جان کر دن رات ایک کر دیا، جس نے مجھے تھکا دیا  ۔ صرف اعداد کا جادو میرے لئے کافی نہیں تھا ۔ نمبرز کےٹوٹل اور جوڑے صدیوں سے انسان بناتے اورسمجھاتے آ رہے ہیں  اور میں انہیں قرآن میں تلاش کر رہا تھا۔آج اچانک ہی ایک ویڈیو میری نظروں کے سامنے آئی تو میری خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی۔پچھلے 6 ماہ سے ستاروں میں جو تلاش کر رہا تھا۔ مجھے قرآن سے مل گیا۔آج میرا تجسس ، میری جستجو اور میری تحقیق ختم ہو گئی۔

    محمودالحق

Thursday, January 24, 2019

کائنات کے سربستہ راز - 5

2 comments
"AMAZING" Formula: not a magic trick | There can be only one:


25x25

25x25

 25x25

25 x 25

51x51

51 x 51

Thursday, January 17, 2019

کائنات کے سر بستہ راز- 4

0 comments
کیا وہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی سمیت اللہ  تعالی کی تمام مخلوقات میں غور و فکر نہیں کرتےـ سورۃ الاعراف آیت 185
چار ماہ قبل کائنات کے سربستہ راز کے نام سے میں نے جس موضوع کا آغاز کیا تھا۔ اس کے اندر چھپا راز  جس طرح مجھ پر آشکار ہوا  ،میرے لئے حیرانگی کا سبب نہیں تھا کیونکہ میرا اس بات پر مکمل اور کامل یقین ہے کہ اس کائنات میں پیدا ہوئی ہر شے اللہ تعالی کی قدرت کا مظہر ہے اور میرا یہی یقین جستجو اور تلاش کے سفر پر گامزن رہا، جو بالآخر اپنے منطقی نتیجہ کی طرف  مجھے لے گیا۔ اللہ تبارک تعالی کی رضا و رحمت سے جو مجھ پر منکشف ہوا، وہ ناقابل یقین، حیرت انگیز، عقل دنگ کردینے والے حقائق پر مبنی ہے،جو  قدرت پر ہمارے یقین اور ایمان کو مزید استحکام بخشتاہے۔ 4300 سال سے اب تک لو شو میجک سکوئر جو کہ ایک کچھوے کی پشت پر ظاہر ہوئے تھے کوہندسوں کے ٹوٹل کا جادو سمجھا جاتا رہا ہے۔ دراصل وہ صرف نمبرز نہیں ہیں بلکہ حقیقت میں ایک سسٹم کی عکاسی کرتے ہیں۔ 
  کائنات کے سربستہ راز پر میری گزشتہ تین تحاریر کو سنجیدگی اور غور سے پڑھنے پر یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ صرف چار ماہ کے قلیل عرصہ میں ایک ایک قدم آگے بڑھتامیں یہاں تک  کیسےپہنچا  کہ سینکڑوں ہزاروں میتھ میجک  بنانے کی اہلیت پا چکا ہوں۔
نیٹ پر اب تک میری سرچ کے مطابق کسی نے بھی اس کے حل کا کوئی ایسا طریقہ نہیں بتایا جو میرے موقف کی تائید کرتا ہو۔ ایک odd oder 7x7, 9x9,11x11 وغیرہ کو بنانے میں ایک وقت میں ایک طریقہ ہی اختیار کیا جاتا ہے  مگر میرے فارمولہ کے اپلائی کرنے پر وہ مختلف رزلٹ ظاہر کرتا ہے۔
میرا  یہ ماننا ہےکہ کوئی بھی ریاضی دان یا میتھ میجک ایکسپرٹ میرے میجک سکوئر میں نمبرز کے Tour, Move  کو نہیں سمجھ سکتا۔ کیونکہ ان میں صرف نمبرز  کی ترتیب ہی  کارفرما نہیں ہے بلکہ  اس کے پس پردہ ایک فارمولہ ہے ۔ 
  میرے تیار کردہ سینکڑوں  Math Magic Squaresایک دوسرے سے نمبرز کی مختلف ترتیب رکھتے ہیں ۔بہت زیادہ تعداد میں شئیر کرنے کی بجائے فی الحال 7x7, 9x9,11x11 , 25x25, 51x51 کے دو دو   یہاں شئیر کر رہا ہوں تاکہ جو اس میں دلچسپی رکھتے ہوں وہ  اسے اچھی طرح پرکھ سکیں۔۔ 
 اِن اللہ علی کل شي ءقدیر (  بیشک اللہ   ہر چیز پر قادر ہے)

محمودالحق

An associative magic square is a magic square for which the total of each row,  each column and each diagonal are all the same and every pair of numbers symmetrically opposite to the center sum up to the same value

7x7

7 x 7

9x9

9 x 9

11 x 11

 11x11

25x25

25x25

51x51

51x51

Friday, December 21, 2018

محنت کے ثمرات

1 comments
چار دن کی زندگی میں دو ٹوک رویے جانے والوں کے دل میں گرہ باندھ دیتے ہیں۔جنہیں کھولنے کی کوشش کریں تو اور سختی میں کس جاتے ہیں۔ مذہب و عبادت ، تعلیم و تربیت اور مشورہ و نصیحت جب اپنا اثر دکھانا بند کر دیں تو عقل کے بند دروازوں پر دستک بیجا مداخلت تصور کی جاتی ہے۔دیواروں سے سر ٹکرانے میں دروازے نہیں کھلا کرتے۔بولنے ،لکھنے اور سننے ، پڑھنے میں سُر جیسا تال میل ہوتا ہے۔ بولنے اور لکھنے والے دو طرح سے اپنے اظہار کو پیش کرتے ہیں ۔ اپنی کہہ کر خاموش رہنے والے اور دوسروں کو دیکھ کر کہنے والے۔آج کامیاب وہ کہلاتے ہیں جو کسی سے اسی کی بات کہہ دیتے ہیں۔
زندگی ایک ایسی عمارت ہے جس کی آخری منزل پر کھڑے ہو کر کہنے اور سننے کے ہدف بہت چھوٹے ہو جاتے ہیں۔ہمیشہ کی طرح آج بھی مجھے اپنی بات اپنے ہی انداز میں کرنی ہے۔فطرت کے نئے خیال کو جانچتے ہوئے ،کامل یقین کے ساتھ مانتے ہوئے۔
معاشی و کاروباری معاملات ہوں یاتعلیم و روزگار کےلئے پیش بندی، رشتے ناطے کا بندھن ہو یا کردار و تعلقات  کاپیمانہ۔ دو طرح سے ان پر عملدرآمد کیا جاتا ہےاگر انہیں شخصیات کی کسوٹی پر پرکھا جائے تو جتنے منہ اتنی باتوں کے مصداق احاطہ کرنا مشکل ہو جائے گا۔ خاک سے بنے انسان کے لئے مٹی سے اُگی شے کی مثال منظور خیال ضرور ہو گی۔زمین بنی نوح انسان کے لئے اجناس پیدا کرتی ہے۔ وہ پھل ہوں،سبزی ہو یا میوہ۔ ان سے کیک  تیار ہو، روٹی بنے یا بریڈ۔آگ کی حدت و تپش کی جلوہ افروزی کا کرشمہ و کمال ہے۔کپاس کے پھول سے لباس تک اور بیج سے پکوان تک مختلف مراحل مختلف ہاتھوں سے تشکیل پاتے ہیں۔کئی منزلہ عمارت کی ہر منزل سے گزرتی سیڑھیوں کی طرح، لیکن ہم ہمیشہ آخری منزل پر ہی رہتے ہیں۔
زندگی میں جینے کے لئے جو راستہ اختیار کیا جاتا ہے جتنی محنت کو بروئے کار لایا جاتا ہے، اسی طرح کے نتائج حاصل ہوتے ہیں۔ زمین ان مثالوں سے بھری پڑی ہے لیکن آج صرف دو مثالوں سے انہیں بیان کرنا مقصود ہے۔
بھینسوں کے لئے جو چارہ اُگایا جاتا ہے وہ بیج سے فصل بننے تک چند ہفتوں میں تکمیل کے مراحل طے کر لیتا ہے۔  گھاس اورچھٹالہ ایسا چارہ ہے جو  ایک بار اُگنے کے بعد کاٹنے پردنوں میں بار بار دوبارہ تیار ہوتا رہتا ہے۔بھینسیں چند گھنٹوں میں اسے کھا کر دودھ کی شکل میں ڈھال دیتی ہے۔مختصر وقت میں سب سے تیزی میں تیار ہونے والا  مقوی غذائیت سے بھرپور، جس کا خرچہ بھی کم ، محنت بھی کم اور قیمت بھی کم ۔ اُبال کر پئیں یا بنا اُبال کے۔ جتنی تیزی سے تیار ہوتا ہےاتنی ہی تیزی میں استعمال ہو جاتا ہے۔ 
اب آتے ہیں دوسری مثال کی طرف زمین سے ہی اُگنے والے چاول پانی میں بھگونے کے بعد بہت زیادہ مقدار میں پانی کے ملاپ سے ہی کھانے کے قابل ہوتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ بیج سے چاول بننے تک یہ مسلسل پانی میں ہی پروان چڑھتے ہیں۔ بیج سے پنیری تیار کی جاتی ہے اور اس پنیری کوایک ایک کی صورت میں الگ کر کے کھڑے پانی میں زمین میں بویا جاتا ہے۔مونجی کی یہ فصل  کئی ماہ میں اپنی تکمیل تک بے بہا پانی کے استعمال سے پروان چڑھتی ہے اور چولہے پر پکنے کے لئے بھی کھلے پانی کی طلبگار ہوتی ہے۔ کھانے کے بعد بھی پانی کی طلب برقرار رہتی ہے۔ جتنا چاول پرانا ہو گا اتنا ہی بیش قیمت اور غذائیت سے بھرپور ہوتا ہے۔
زندگی میں ہماری محنت کے نتائج دودھ اور چاول جیسے ہیں۔بعض لوگ کم وقت میں تھوڑی محنت سے کاروبار زندگی اختیار کرتے ہیں جن کے نتائج بھی  دودھ کی طرح فوری اور جلد اختتام پزیری کا شکار ہوتے ہیں اور دوسری طرف مونجی یعنی چاول کی فصل کی طرح  ابتداء سے  نتائج تک محنت کرنے والے طویل مدت تک انتظار کی گھڑی سے جڑے رہتے ہیں۔ جو بالآخر پر آسائش شاندار کامیاب زندگی کی ضمانت حاصل کر لیتے ہیں۔
اپنی زندگی میں پڑھائی اور کاروبار میں کئی گئی محنت پر ایک نظر ڈالیں تو یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہو گا کہ ہم نے اپنے لئے جو راستہ اختیار کیا ہمیں اسی کے مطابق نتیجہ حاصل ہوتا ہے۔دوسروں کی کامیابی سے اپنی ناکامی کا موازنہ نہیں کیا جا سکتا بلکہ اپنی کی گئی محنت کا موازنہ دوسروں کی محنت سے کیا جانا چاہیئے۔ کیونکہ محنت اور مسلسل جدوجہد کرنے والے آخری منزل تک ثابت قدم رہتے ہیں۔ مختصرالمدتی اور طویل المدتی پالیسی، طریقے اور ذرائع ہی ہمارے مستقبل کو محفوظ بناتے ہیں۔ مختصرالمدتی محنت کے نتائج دودھ کی طرح جلد پھٹ کر کھٹے ہو جاتے ہیں اور طویل المدتی محنت و لگن کے نتائج چاول کی طرح اول سے آخر تک پانی کی طرح محنت کے متقاضی ہوتے ہیں مگر جتنے پرانے ہوتے جاتے ہیں اُتنے ہی قدروقیمت میں چاہت طلب ہو جاتے ہیں۔

تحریر : محمودالحق    

Tuesday, December 18, 2018

سنانے کو ایک سادہ نظم چاہتا ہوں

1 comments

سنانے کو ایک سادہ نظم چاہتا ہوں
تنہائی میں ایک رویدِ بزم چاہتا ہوں

مقرر مقرر کا نہیں میں نقشِ بیمار
سینوں پر لکھتا تراشا قلم چاہتا ہوں

زمینِ کاغذ پہ نہیں بچھاتا ردا کے پھول
بادِ معطر کو اطہرِ انعم چاہتا ہوں



خندہ جبین / محمودالحق

Monday, December 10, 2018

فلاح و اصلاح کا دستور حیات

0 comments
فلاحی ریاست اپنے شہریوں کو ہاتھ پھیلانے سے باز رکھنے کے لئے بلا امتیاز مدد فراہم کرتی ہے۔ بچوں کی تعلیم اور صحت کا خصوصی بندوبست کرتی ہےتو بوڑھوں کے علاج معالجہ و خوراک کا خیال رکھتی ہے۔قابل اور ذہین نوجوان سفارش کی سیڑھی کے بغیر بلندیاں چھونے کے قابل بنائے جاتے ہیں۔رٹے لگانے سے رٹے رٹائے نتائج حاصل نہیں کئے جاتے بلکہ خودانحصاری کی تعلیم دی جاتی ہے۔ خودکفالت کے سبق میں عزت و احترام آدمیت کا مقام پیدا کیا جاتا ہے۔کھیل کے میدان آباد رکھے جاتے ہیں۔آگے بڑھنے کے لئے تنگ گلیوں سے گزرا جاتا ہے۔راستہ دینے پر شکریہ ادا کیا جاتا ہے۔پیدل چلنے والوں کو روندا نہیں جاتا۔پاؤں سے چلنے والے پاؤں سے تیز رفتاری سے چلانے والوں سے زیادہ اہم سمجھے جاتے ہیں۔سامنے سے آنے والوں کے لئے راستہ چھوڑا جاتا ہے تو پیچھے آنے والوں کے لئے دروازہ کھول کر رکھا جاتا ہے۔ معمولی کام پر شکریہ کہہ کر حوصلہ بڑھایا جاتا ہے۔مہنگے دام  ارزاں سے بہتر بھی ہوتے ہیں پائیدار بھی۔
دسمبر 1903  میں رائٹ برادرز نے سائیکل بنانے کے ساتھ ساتھ جہاز کی اُڑان بھر کر دنیا کو ایک نئی جہت سے روشناس کرایا۔ جس کی وجہ سے آج لاکھوں افراد چند گھنٹوں میں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ جاتے ہیں بلکہ روبوٹ مریخ تک جا پہنچے۔ کردار سازی، نفسیات، تجارت ، تعلیم،حقوق انسانیت، سائنس ، فکشن ،تاریخ، ڈرامہ اور فلسفہ پر کتابیں لائبریریوں میں بھری پڑی ہیں۔
چودہ سو  سال پہلے جہالت کے اندھیرے جس انداز میں ختم ہوئے۔مساوات، حقوق انسانی، فلاح آدمیت کا ایسا دستور پیش ہوا کہ دنیا نے پہلی بار فلاح اور اصلاح کا عملی نمونہ دیکھا۔ علم و فضل میں افضل سمجھنے والوں کے لئے چیلنج کیا گیا ۔
اور اگر تمہیں اس (کلام ) میں شک ہو جو ہم نے اپنے بندہ پر اُتاراتو اس جیسی ایک سورۃ لے آؤ :  سورۃ البقرۃ آیت ۲۳
دنیا کا پہلا دستور حیات جو ریاست، فرد اور اقتدار کے درمیان حقوق و فرائض کی حدیں مقرر کرتا ہے۔جس نے مسلمانوں میں ایسے لوگ پیدا کئے جو علم و فضل میں یکتا تھے۔ علم ریاضی ہو یا علم فلکیات، کیمسٹری ہو یا حکمت ، اقتدار ہو یا معاشرہ، سائنس ہو یا تاریخ بے شمار پردے اُٹھا ئے گئے۔ مگر اقتدار کے نشہ نے مسلمان حکمرانوں کو جہالت کے اندھیروں میں ڈبو دیا۔کربلا کی زمین پر پھیلائی گئی سرخی آج بھی آسمان پر نظر آتی ہے۔ ظالم جابر کے سامنے صبر سیسہ پلائی دیوار بن کر ہمیشہ کے لئے کھڑا ہو گیا۔ انسانی تاریخ میں محسن انسانیت کے چشم و چراغ ایسے نہیں بجھائے گئے کبھی جیسے میدان کربلا میں ظلم ڈھائے گئے۔
صدیوں کی حکمرانی میں روز افزوں ترقی کی بجائے دن بدن انتشار و زوال نے معاشرے میں اتنے طبقات پیدا کر دیئے کہ ڈیڈھ اینٹ کی مسجد جیسی ضرب المثل روزمرہ جملوں میں استعمال ہونے لگی۔
وہ دستور حیات جوانسانیت کی میراث ہے اسے چند گروہوں نے اپنا ورثہ بنا لیا۔ قوم لوک ورثہ بن کر دھمال ڈال کر خوش ہے۔امتحان استاد اور سلیبس کا محتاج ہوتا ہے۔ ادارے قاعدے و قانون کی پاسداری کے۔
زندگی جو یقین کامل ، ایمان،دعا اور صبر و جزا سے لپٹی فرش و عرش سے جڑی انتظار کی کوفت سے پاک منزل کی جانب نہایت خاموشی سے رواں دواں رہتی ہے۔
مسلمان نے خود کو حلقہ ارباب ذوق اور حلقہ ارباب اختیار  تک محدود کر لیا۔ برصغیر پاک و ہند کے مسلمان حکمرانوں کی بیش بہا خدمات میں باغات، قلعے،شیش محل ،بارہ دریاں اور آخری مغل حکمران بہادر شاہ ظفر کے دربار میں منعقد محافل مشاعرہ کی داستانیں زبان زد عام ہیں۔اقبالیات اور غالبیات کے علاوہ کچھ بھی نہیں دنیا کو دکھانے کے لئے کیونکہ یہی ہماری لائبریری ہیں اور  لیبارٹری بھی۔
محبت کے ایک شعر پر فدا ہونے والے ہزاروں کی تعداد میں شعر و سخن کے دلدادہ واہ واہ کے ترانے آلاپتے ہیں تو دوسری طرف سیاسی دانشور جھوٹ کو سچ باور کروانے والے عقل کن قبریں کھودے بیٹھے ہیں گورکن کی طرح۔
پھلوں کو سکرین کے ٹیکے سے میٹھا کرنے اور کیمیکل سے دودھ بنانے والے سائنسدان بھی کسی سے الگ نہیں۔بیماری سے مرنے والی مرغیوں کی کھالیں اُتار کر مرغ کڑاہی بنانے والوں کے ساتھ ساتھ گدھے اور کتے کا گوشت بیچنے والے بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے میں دو ہاتھ آگے ہیں۔
لوٹ مار ، اقربا پروری، رشوت  ستانی اور بےایمانی نے نظام ڈھیلا اور معاشرہ کس رکھا ہے۔ اتنا علم نہیں بچا جتنے عالم ہیں۔نسوانی پوسٹ پر حاضری لگوانے والوں کی عمر کی کوئی قید نہیں۔ تصویر شئیر ہونے پر تو صدقے واری تک چلے جاتے ہیں۔
تعجب بالکل نہیں ہوتا کیونکہ سینکڑوں سالوں میں جو بیج بویا جاتا رہا۔ تنآور درخت بننے پر اُسے کاٹنے میں تردد کیسا۔
ایمان والے ہدایت پانے والوں میں سے ہیں اور نافرمان گمراہ کئے جانے والوں میں سے۔

تحریر: محمودالحق

Wednesday, November 28, 2018

کائنات کے سربستہ راز _3

0 comments
 پچھلی تحریر  میں  Math Magic Square  کے بارے میں اعداد کی ترتیب اور ان سے بنائے گئے Graphs کو میں نے تصویری شکل میں پیش کیا ، اب ہم اس  Math magic  کی بنیادی جزئیات سے حاصل کئے گئے نتائج پر روشنی ڈالیں گے۔
آئیے سب سے پہلے ہم  Math magic   کی ترتیب اور اس کی تشکیل میں اختیار کئے گئے فارمولہ پر روشنی ڈالتے ہیں۔



زیر نظر تصویر کو بغور دیکھنے پر معلوم ہوتا ہے کہ 1  تا 9 عددایسے تشکیل پائے ہیں کہ چاروں اطراف میں ان کا حاصل 15 ہے۔  جب کہ تمام اعداد کا ٹوٹل 45 ہے۔ پہلا نکتہ جو غور طلب ہے کہ اس میں 5  کا ہندسہ ایسا ہے جو ہر ٹوٹل میں شامل ہے اور  چار اعداد  6,7,8,9 اس سے بڑے ہیں اور چار ہی اعداد  4,3,2,1 اس سے چھوٹے۔  دوسرے لفظوں میں  5  کا ہندسہ بنیادی طور پر ان تمام اعداد کا Center  ہے۔اس کے اطراف میں جو ہندسے موجود ہیں ان میں مرکز سے بڑے نمبر مرکز سے چھوٹے نمبر سےمل کر   بنتے ہیں۔ اور  5  کے اطراف میں ہر دو اعداد کا اوسط  5  نکلتا ہے۔
9+1=10 _  8+2=10 _7+3=10_ 6+4=10
اس پورے Magic Square  میں ہر  عدد کی  اوسط ویلیو 5  بنتی ہےجوکہ Center کے برابر ہے۔
چونکہ میں نے سب 7x 7 Graphs  کے  Math magic square  میں بنائے ہیں، اس لئے انہی Numbers  کو لے کر ہم آگے بڑھتے ہیں۔اس Magic square میں  1 تا 49  نمبرز ہیں ، جن کا Central نمبر 25 ہے۔اس میں تین Squares  موجود ہیں۔ پہلے Square  میں 8 اعداد ہیں ،دوسرے Square  میں 16  اور تیسرے میں 24۔ 


Central Box  کا پہلا بیرونی سرکل 8 Boxes پر مشتمل ہے، جن میں اعداد کا ٹوٹل 200 ہے۔ 200 کو 8 Boxes  میں تقسیم کیا جائے تو ہر ایک Box  کی ویلیو 25  آتی ہے۔
اسی طرح دوسرے بیرونی Circle کے 16 Boxes کے اعداد  کا ٹوٹل 400 اور تیسرے بیرونی Circle کے 24 Boxes  کے اعداد  کا ٹوٹل 600 ہے۔اگرہر Circle کے ٹوٹل نمبرز کو ان کے Boxes  میں تقسیم کیا جائے توہر Box  کی ویلیو 25  ہو گی۔
ہم اوپر بیان کئے گئے اعداد کو مزید مختصر کریں گے۔  اگر 25  کو ایک 1 تسلیم کر لیا جائے تو تمام Squares  میں ہر Box  کی Average Ratio  بھی 1 ہی ہے۔اس کے لئے ہم مرکزی نمبر 25 کے ساتھ ہر  Box   میں موجود نمبر کو تقسیم کر کے اس کی Ratio  حاصل کریں گے، جو نیچے دی گئی تصویر میں دکھائے گئے نمبرز جیسی ہو گی۔ 
اس کا مطلب یہ ہوا کہ مرکز سمیت ہر Box کی اوسطا ویلیو 1  ہے۔
اب اس Math magic square  پر غور کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ Center  کیvalue  1  ہے اور اس کے اطراف میں دو اعداد کی Value  بھی  1 , 1  ہی ہے جو مختلف Ratio  سے 2  بنتے ہیں۔ بظاہر دیکھنے میں چاروں اطراف سے ایک ہی ٹوٹل حاصل ہوتا ہے مگر غور کرنے پر دکھائی دیتا ہے کہ Center  کے گرد  گردش  کا ایک بیلنس موجود ہے۔مرکز سے ایک طرف بڑی value  موجود ہے تو دوسری طرف ایک کم value   مرکز سے منسلک موجود ہے جو کہ دو یکجا ہو کر مرکز سے دوگنی ہے ۔ تمام اعداد مرکز کے گرد Balance force  کا نمونہ پیش کرتے ہیں۔
زیر نظر تصویر  میں جو بلیک دائرے دکھائے گئے ہیں انہیں ان کی Actual value  کے مطابق بنایا گیا ہے تاکہ Motion , Rotation  اور Balance  کے فارمولہ کو سمجھنے میں آسانی ہو۔ مرکز سے منسلک ہر دو دائرے مل کر دو گنا سائز میں ہیں لیکن انفرادی طور پر  Different Ratio میں مرکز کے سائز کے برابر ہوں گے۔


بنیادی طور پر یہ ایک  Motion, Rotation and Balance کا فارمولہ ہے۔ جس میں توازن برقرار ہے اور مرکز سے جڑے ہیں۔ جہاں مرکز بہت مضبوط دکھائی دیتا ہے۔ کیونکہ کوئی بھی عدد مرکز کو چھوئے بغیر دوسری طرف کے عدد سے مل کر مرکز کے برابر ویلیو  اختیار نہیں کر سکتا۔ اگر اسی طرح ہم بڑے Magic square  میں زیادہ تعداد میں Circles  بنائیں تو ہر Circle  میں اوسط 1:2 ہی رہے گی۔  اس میں کہیں بھی کسی Circle  میں دو اعداد کی value  انفرادی طور پر مرکز کے برابر ہوتی ہے، لیکن ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے۔ ہر عدد مرکز کو چھوتے ہوئے صرف اپنے ہی پارٹنر سے مل کر  2  کی اوسط پوری کر سکتا ہے۔ اعداد کا ایک Pair کسی دوسرے سےMatch   نہیں کر سکتا۔  
عام طور پر حساب کتاب کے لئے اعداد کی جمع تفریق کے لئے خانے استعمال کئے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان میجک سکوئر میں بھی خانوں کا ہی استعمال کیا گیا۔ لیکن درحقیقت کچھوے کی پشت پر جو Math magic Dots  موجود تھے انہیں square  میں ڈھال کرVertically , Horizantally, Diagonally ایک جیسے ٹوٹل کے نتائج حاصل کئے گئے مگر میری تحقیق کے مطابق دراصل وہ Math magic square  نہیں بلکہ Circle  ہے۔ کیونکہ اس  Math magic  سے حاصل نتائج صرف اعداد کی جمع تفریق نہیں بتاتے بلکہ اس کے اندر Rotation, Motion , Balance کی ایک قوت کارفرما ہے جو اسے اپنے  Orbit میں کنٹرول کرتی دکھائی دیتی ہےاور یہ  صرف نمبرز کے جمع کا فارمولہ نہیں ہے بلکہ اس کے اندر مختلف ایکشن ہیں۔ وہ کیا ہیں اور کیسے Act  کرتے ہیں۔ اس کے بارے میں تفصیل کسی اگلی تحریر میں قلمبند کریں گے۔

تحریر و تحقیق : محمودالحق

Sunday, November 25, 2018

کائنات کے سربستہ راز - 2

3 comments
چین کے بادشاہ نے   2300  قبل مسیح دریا سے باہر نکلتے کچھوے کی پشت پر مختلف ڈاٹ کی ایسی ترکیب   دیکھی جو اپنی نوعیت میں بہت خاص تھی۔ چاروں اطراف سے ان ڈاٹس کی تعداد 15 تھی۔ جسے لو شو میتھ میجک کا نام دیا گیا۔

پچھلی کئی صدیوں سے ریاضی دان اس پر بہت کچھ لکھتے آ رہے ہیں۔ لیکن  آج میرا موضوع بہت خاص ہے کیونکہ میری سوچ نے 4300 سال قبل کچھوے کی پشت پر لکھے اعداد کے فارمولہ کو ان فولڈ کیا ہے۔ اس کی حقیقت میری نظروں کے سامنے ایسے کھل کر آئی ہے کہ آج میں حیرانگی میں مبتلا ہوں۔ 
آج سے دس سال پہلے جب میں نے لفظوں کے ملاپ سے در دستک لکھی تو شاعری کے ترازو میں میری شاعری بے وزن ہو گئی۔ جسے میں نے سنبھال کر سٹور میں رکھ دیا۔ کیونکہ میں انسانوں کے بنائے باٹ سے اپنے لفظوں کو برابر نہ کر  سکا۔ نیچے لنک میں ایک ایسی ہی مثال  ہے۔ 
آج میں اپنے مالک کائنات رب العالمین  کی رحمت و فضل پر سجدہ شکر بجا لاتا ہوں کہ اس نے مجھے وزن اور بیلنس کے اس مقام تک رسائی عطا فرمائی جو کسی انسان کے خودساختہ ہم وزن ردیف قافیے کے ترازو میں تولنے کے لئے نہیں رکھی جا سکتی۔
میں اپنے خیال میں آئےایک فارمولہ کو میتھ میجک جانتے ہوئے اعداد کو ٹٹولنے میں سر کھجانے کی نعمت سے بھی محروم ہو گیا تو رفتہ رفتہ مجھ پر یہ آشکار ہونا شروع ہوا کہ اس کے اندر تو الگ دنیا آباد ہے۔ جہاں اعداد آپس میں گتھم گتھا نہیں ہوتے بلکہ انتہائی رازداری سے اپنے اپنے راستوں پر  نکل جاتے ہیں ۔ 
دیکھنے میں ایسے ،جیسے دو چھوٹی بچیاں ایکدوسرے کے دائیں ہاتھ میں دایاں ہاتھ اور بائیں ہاتھ میں بایاں ہاتھ پکڑے  ہاتھوں کے گرد گھومتی ہیں۔میں نے  انہیں مختلف زاویوں سے بنایا۔ فی الوقت چند ایک تصاویر دکھانے پر اکتفا کروں گا ۔ 
کیونکہ یہ بہت زیادہ تفصیل کی طلبگار ہے۔ جسے میں نے ترتیب دینا شروع کر دیا ہے۔

 7 x 7 Math magic circle


7 x 7 Math magic circle




9 x 9 Math magic circle



9 x 9 Math magic circle




یہاں سوال یہ پیدا نہیں ہوتا کہ میں نے کیا ریسرچ کیا  اور میتھ میجک سکوئر سے کیا نتیجہ برآمد ہوا بلکہ اہم یہ ہے کہ کہاں جا پہنچا۔ میں انجانےمیں اپنی تحقیق میں  سوچ کے کسی رخ پر چلتا چلتا جب بہت آگے چلا گیا تو فارمولہ کے خیال کے میرے ذہن میں آنے جیسے ایک نئے خیال نے مجھے صدیوں پیچھے دھکیل دیا۔  جب میں نے اپنے حاصل کئے گئے نتائج کو سامنے رکھتے ہوئے لو شو، کچھوے کی پشت پر بنے میتھ میجک کو اس پر اپلائی کیا تو آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ میں نے دریافت کی  جوایک بلند عمارت کھڑی کی ، کچھوے کی پشت پر بنے ڈاٹس کے سامنے ڈھیر ہو گئی۔ 
جو کچھ میں نے بنایا وہ تو کچھوے کی پشت پر بنے ڈاٹس کا عکس نکلا۔ جو کچھ میں نے دریافت کیا جو گرافکس بنائے وہ سب لوشو ،کچھوے کے فارمولہ کا عکس نکلے۔ نہ ایک ہندسہ اُدھر اور نہ ہی ایک ہندسہ اِدھر۔ بلکہ جسے میں اپنا کارنامہ سمجھ کر  شئیر کرتا رہا تو مجھ پر انکشاف ہوا کہ میں دراصل اپنے کسی فارمولہ پر تحقیق نہیں کر رہا تھا بلکہ 4300 سال قبل کچھوے کی پشت پر بنے  میتھ میجک  ڈاٹس اللہ تبارک تعالی کی رضا سے میرے ذہن میں کھل رہے تھے۔
 میں کوئی ریاضی دان تو ہوں نہیں ، بس ایک معمولی سا انسان ہوں جو اپنے  مرحوم بوڑھے والدین کی دعاؤں کی چھاؤں تلے رحمتوں کی آغوش میں ہوں۔
انشاءاللہ میں اپنی اگلی تحریر جو کہ طویل ہونے کی وجہ سے زیادہ وقت کی متقاضی ہے ، میں خوبصورت گرافک ڈیزائین کی اپنی تحقیق کو قلمبند کروں گا جو کہ صرف کچھوے کی پشت پر بنے خوبصورت ڈاٹس  کے فارمولہ  کا عکس ہے۔
میرا اس میں کوئی کمال نہیں ، یہ صرف اسی کی رضا ہے جو ہم سب کا مالک و مختار ہے، ایک دن اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
آج  ایک بار پھر اپنی ایک حمد دہرانے کو جی چاہتا ہے۔۔۔۔


تیری عنایات ہیں اتنی کہ سجدہء شکر ختم نہ ہو
تیرے راستے میں کانٹے ہوں میرا سفر ختم نہ ہو
پھیلا دوں روشنی کی طرح علم خضر ختم نہ ہو
توبہ کرتا رہوں اتنی میرا عذر ختم نہ ہو
سجدے میں سامنے تیرا گھر ہو یہ منظر ختم نہ ہو
تیری رحمتوں کی ہو بارش میرا فقر ختم نہ ہو
مجھ ادنیٰ کو تیرے انعام کا فخر ختم نہ ہو
جہاں جہاں تیرا کلام ہو میرا گزر ختم نہ ہو
تیری منزل تک ہر راستے کی ٹھوکر ختم نہ ہو
آزمائشوں کے پہاڑ ہوں میرا صبر ختم نہ ہو
زندگی بھلے رک جائے میرا جذر ختم نہ ہو
وجود چاہے مٹ جائے میری نظر ختم نہ ہو
تیری اطاعت میں کہیں کمی نہ ہو میرا ڈر ختم نہ ہو
بادباں کو چاہے کھینچ لے مگر لہر ختم نہ ہو
خواہشیں بھلا مجھے چھوڑ دیں تیرا ثمر ختم نہ ہو
تیری عبادت میں اتنا جیئوں میری عمر ختم نہ ہو
بھول جاؤں کہ میں کون ہوں مگر تیرا ذکر ختم نہ ہو
جاگوں جب غفلتِ شب سے میرا فجر ختم نہ ہو
تیری محبت کا جرم وار ہوں میرا حشر ختم نہ ہو
تیری حکمت سے شفایاب ہوں مگر اثر ختم نہ ہو
میرے عمل مجھ سے شرمندہ ہوں مگر فکر ختم نہ ہو
منزلیں چاہے سب گزر جائیں مگر امر ختم نہ ہو
سپیدی و سیاہی رہے نہ رہے مگر نشر ختم نہ ہو
دن چاہے رات میں چھپ جائے مگر ازہر ختم نہ ہو

طلبگار دعا: محمودالحق

تلاشِ سخن

2 comments

جس آگ سے بچنے میں بڑے بزرگ بچوں کو  محفوظ رکھتے ہیں ۔ وہی بچہ بڑا ہو کر فکر و ایمان کی بھٹی سے کندن بن جاتا ہے یا پھر گناہوں کی لت کا شکار ہو کر انگاروں سے کھیلنے لگتا ہے۔ بلندیاں چھونے پر نیچے دیکھ کر چلنا  اس کے لئےمحال ہو جاتا ہے۔ 
پتھر کنکر اور شیشے کی کرچیوں سے پاؤں بچائے جاتے ہیں۔ لیکن کبھی  چیونٹیوں کے سر کچلنے کے احساس کا پاس سے گزر بھی نہیں ہوتا۔ چند دہائیوں کی ایک زندگی کو فلمایا جائے تو تین گھنٹے میں ختم ہو جاتی ہے۔ہر انسان اپنی نیت کا پھل پا لیتا ہے چاہے اچھا یا برا۔ سولہویں صدی نے انسان کو مشین سے روشناس کرایا۔ جو بڑھتے بڑھتے زندگی کے لئے لازم ہو گیا۔ ہاتھ کا استعمال کم ہوتے ہوتے  مشینوں پر ٹھہر گیا۔ جہاں کمانے والے  سےزیادہ کھانے والے ہوں تو  صرف دو ہاتھ کافی نہیں ہوتے۔ محنت کش ہاتھ جھولی بھر کر دانے گھروں کو لاتے تھے۔ آج کل جھولی پھیلانے والے فقیر کہلاتے ہیں۔  لباس میں جتنی جیبیں زیادہ ہوں ، اتنی بھر جاتی ہیں۔ بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے کندھے یا ہاتھ میں بیگ یا بریف کیس بھی رہتا ہے۔ زندگی تو ایک چیک کی مانند ہے پیسے والوں کے کیش ہو جاتے ہیں اور غریبوں کے باؤنس ہو نے جیسے۔
جب دعوی عمل سے بڑا ہو تو دراز قد والا بھی چھوٹا دکھائی دیتا ہے۔زندگی کو جاننے والے راز زندگی پا جاتے ہیں۔پھر جینا انہیں اتنا مشکل ہو جاتا ہے کہ انسانوں پر عدم اعتماد کی وجہ سے فطرت سے دل لگا لیتے ہیں۔ کیونکہ انسان کا  چلن کسی فارمولہ کا محتاج نہیں۔ وہ اپنے لئے دودھ شہد کی نہر خود کھودتا ہے۔ دینا نہ بھی چاہے  تو اس کے بس میں ہےمگر دکھانے کا مکمل اختیار رکھتا ہے کیونکہ چھپانا اس کے بس میں نہیں۔ زندگی گزارنے والے سینکڑوں ملتے ہیں مگر جینے والے بہت کم اور وہ بھی عدم اعتماد رکھنے والے۔
ایک مزدور کو جب دیہاڑی نہیں ملتی تو اس کے بچے بھوکے سوتے ہیں۔ لیکن جب معاشرے کا کاروباری طبقہ منافع خوری کے دیہاڑی دار ہو جائیں اور ہاتھ لگے پیسے کو اچھے دن یا دیہاڑی کے نام سے کامیابی کا جشن منائیں تو ایک مزدور کے خون پسینے کے کمائے ہوئے چند سو روپے  ہاتھوں کے پسینے میں شرابور ہو کر سسک کر رہ جاتے ہیں۔
درسگاہوں میں استاد تعلیم وہی دیتے ہیں جنہیں سلیبس میں رکھا جاتا ہے۔ امتحان وہی ہوتا ہے جو پڑھایا جاتا ہے۔محنت کے صلے پاس یا فیل کی صورت میں نکلتے ہیں۔ علم درسگاہوں اور استادوں کا محتاج نہیں ہوتا۔ وہ تو پہاڑوں پر برسنے والی اس بارش کی مانند ہے جو اپنے راستے خود بناتی ہوئی  آبشاروں، ندیوں ،دریاؤں سے گزرتی سمندر تک جا پہنچتی ہے۔

محمودالحق