Thursday, April 9, 2015

بند کلیاں کھلتے گلاب

0 comments
گلشن میں جب بہار آئے ۔آسمان سے چھم چھم  بادل برستا جائے ۔ہوائے گردو غبار تمازت آفتاب سے سمٹتی جائے۔آنکھوں میں بنتے موتی آنسو بن چھلکتے جائیں۔لفظ اپنی ہی زباں میں اجنبیت کا رنگ پائیں تو کہکشاں سے روشنیاں کھلی نگاہوں سے نہ نظریں چار کر پائیں۔
کون کس سے مخاطب ہے ؟لفظ  کس سے آشنا ہیں؟قلم تو ندی ہے جس کے راستوں پر تحریر کی روانی میں خیالات کا پانی بہتا ہے۔چند پلوں پر کھڑے تکتے رہتے ہیں۔چند کشتیوں میں یہاں سے وہاں اتر جاتے ہیں۔ بعض تو ایسے بھی ہیں کہ یہاں ڈوبے تو وہاں نکلے وہاں ڈوبے تو یہاں نکلے۔
آبشاریں ندی نالے دریا و سمندر ایک قطرہ سے ہی موج و طلاطم برپا کرتے ہیں اور قلم سیاہی ایک نقطہ سے ہی علم و دانش کے گراں قدر کتب انبار میں ڈھل جاتے ہیں۔حسن عشق کے انتظار میں ڈھلنے سے پہلے سہما رہتا ہے۔ جوانی طاقت کے نشہ میں بڑھاپے کے خوف کے انتظار میں ڈری رہتی ہے۔علم بڑائی کے نشہ میں ناموری کی خواہش پر اٹکا رہتا ہے۔غربت امارت پانے کی تگ و دو میں بہکتی رہتی ہے۔امارت تکبر کے مینار پر جھکنے سے لرزاں رہتی ہے۔انسان قول و فعل کے تضادات کی گھتیاں سلجھاتے راہ حق و باطل کی پگڈنڈیوں پر پھونک پھونک کر قدم رکھتا ہے۔ کسی کو نظریں اپنا بنا لیتی ہیں۔کوئی نظر میں گر جاتا ہے۔کوئی سیدھا دل میں اُتر جاتا ہے تو کوئی وہاں انگار بھر دیتا ہے۔کوئی بندھن کے دھاگوں میں جکڑا ہے تو کوئی بندش کے رشتوں میں۔دیکھنے والے محرم ہو جاتے ہیں چھپنے والے بیگانے۔چیختی سسکیوں پر رنجیدہ ہو جاتے ہیں تو چنگھاڑتی آوازوں سے خوفزدہ۔دولت کے دیوتا پجاریوں کی تسکین انا سے اکڑ کر رہتے ہیں۔جو غلافوں میں لپٹے  چڑھاوے پا کر من کے مندر کی گھنٹیاں بجاتے ہیں۔جہاں رعونت کے پہاڑوں کے نیچے سرفروشی کے کفن میں لپٹی اُمنگیں دفن ملتی ہیں۔
یہ پیاروں کی دنیا ہے جہاں صرف چاہت اقرار کافی نہیں۔لفظ کہنے سے نہیں مفہوم واضح ہونا شرط ہے۔سو صفحات پر دس ہزار س چ لکھنے سے کوئی سچ لکھنے والا نہیں کہلا سکتا۔

محمودالحق 

حسنِ تخلیق

0 comments

وقت کی سوئیاں ساکت ہو جائیں تو کیا زندگی رک جائے گی،سانسیں تھم جائیں گی، خواب بکھر جائیں گے،خواہشیں مٹ جائیں گی،آرزوئیں دم توڑ دیں گی یا رشتے ناطے ٹوٹ جائیں گے۔
نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ کچھ بھی تو نہیں بدلے گا۔آنکھیں اندھیرا چھا جانے پرکالی چادر اوڑھ لیتی ہیں مگر ہاتھ ٹٹول ٹٹول کر اپنے لئے راستہ تلاش کر لیتے ہیں۔ چاہے پاؤں کتنی ہی ٹھوکروں سے سنبھل پائیں۔
زندگی ہاتھ پاؤں کی مانند لگے بندھے اختیار تک محدود نہیں ہوتی۔یہ تو تخیل پرواز رکھتی ہے۔پرندوں کی طرح فضاؤں میں اُڑان بھر کر ایک منزل سے کہیں دور دوسری منزل تک سفر طے کر لیتی ہے۔آسمان پر چمکتے تارے جو صرف گنتی میں رہتے تھے وہ اپنی ساخت ہیت اور گردش مدار کا اتہ پتہ دینے لگے ہیں۔
عقلِ انسان نے آنکھ کو دو انتہاؤں کے وہ مناظر دکھا دئیے کہ عقل پر ماتم کرتے کرتے تخلیق یزداں تک جا پہنچے۔ خوردبین نے انہیں امیبا اور ہبل نے گلیکسیوں کی جگمگاتی دنیا کے در وا کر دیئے۔ قانون قدرت کے طلسماتی کرشماتی کائنات کے بھید کھول دیئے۔ جس کی وسعتوں میں عقل انسان دھنستی چلی جا رہی ہے۔خاص طور پر وہ نشانیاں جو عقل والوں کے لئے ہیں۔انسان عجائبات کی دنیا کا باسی ہے۔ جس میں عجوبے سجا سجا کر رکھے جاتے ہیں۔نباتات کی دنیا میں پیدا ہونے والا ہر بیج تناور درخت نہیں بنتا۔ وقت کی دھوپ چھاؤں انہیں بانجھ بنا دیتی ہے تو کبھی زمین کو بنجر۔آنکھوں سے پڑھے گئے الفاظ اور کانوں سے سنے گئے فقرےیاد داشت کے الگ الگ فولڈرز میں محفوظ کر لئے جاتے ہیں۔مگر بعض اوقات کچھ  کہی ان کہی کہانیاں  خود سے جنم لے لیتی ہیں۔
دعوؤں سے درماندگی دور ہوتی ہے۔خامیوں سے درستگی کی جانب سفر ہوتا ہے۔مگر درحقیقت حقیقت جاننے کی جستجو  میں بعض اوقات سچ دور ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ ملنا اور پانا تب بیکار ہوتا ہے جب اسے سنبھالا نہ جا سکے۔
بچپن معصومیت سے جانا جاتا ہے، جوانی حسن سے تو بڑھاپا لاغرپن سے۔قید و بند کو صعوبت جانا جاتا ہے،آزادی کو نعمت۔اگر زمین چاند سورج آزادی پالیں تو تصویر کا دوسرا رخ کیا ہو گا۔آنکھ ایک بار جس منظر کو ایک بار موہ لے لبھا لے۔ پھر بند آنکھ میں وہی منظر خواب سہانے بن کر واویلا مچاتے ہیں۔
حرکت کرنے والی ہر شے جاندار و بے جان آگے بڑھنے پر ہی رفتار بڑھا پاتی ہے۔پیچھے ہٹنا  ایک حد تک ہی ممکن ہے کہ جس سے صحیح سمت اختیار کی جا سکے۔بہت زیادہ تنہا رہنے والے اور بہت زیادہ بھیڑ میں پھنسے لوگ ہی خود فراموشی کے سوالات کی بوچھاڑ کا شکار رہتے ہیں۔ کبھی کبھار ٹھنڈے میٹھے چشموں سے چند قطرے سیرابی سے تسکین پا لیتے ہیں۔چشموں سے پھوٹتا میٹھا پانی کئی آبادیوں سے گزر کر مینڈکوں کی آفزائش گاہ اور مگر مچھوں کی کمین گاہ بن جاتا ہے۔پانی کے ریلے تو گزر جاتے ہیں مگر مٹھاس پانے والےچشموں تک رسائی کی کوشش کرتے رہتے ہیں کیونکہ بہتے پانی ہر بستی میں اپنا پتہ چھوڑ جاتے ہیں۔
منہ سے نکلے اور قلم سے لکھے الفاظ اس حقیقت کے آئینہ دار ہوتے ہیں جن سے ان کے میٹھے یا کڑوے پن کے آغاز سفر کی روئیداد بیان ہوتی ہے۔فلسفہ حیات میں طےشدہ ترجیحات پر ڈگری عطا ہوتی ہے جو کبھی نمبروں تو کبھی اے بی سی ڈی سے تولی جاتی ہے۔جو تعبیری لحاظ سے خاکی ہے ابدی اور دائمی نہیں۔
پہناوا ہیرے جواہرات سے مزین ہے تو حسن اداؤں سے۔ یہ سب ایسے ہی ہے جیسے کہ بھوک آنکھ بھر کر دیکھنے سے مٹتی ہو۔جلوے اور دکھاوے کا اختیار تو قدرت کا ہے جو اپنی بڑائی اور طاقت کی سند رکھتا ہے۔ہر تخلیق کا اپنا حسن ہے جو اسے اپنی ذات میں ممتاز رکھتا ہے۔ بھاؤ تاؤ تو دوکاندار اور خریدار کا پتہ دیتے ہیں، بڑائی اور طاقت کا نہیں۔مہنگا سودا بیچ کر دوکاندار ممتاز نہیں ہو سکتا اور نہ ہی مہنگی شے پہن کر خریدار۔

محمودالحق

Wednesday, December 24, 2014

بنجر زمین فصل نو بہار

0 comments

جو زندگی کے سفر میں تنہا رہتے ہیں ۔ہجوم غافل میں سسکتی آہوںکو آنکھوں سے کھوجتے تو کانوں سے ٹٹولتے ہیں۔بلند و بالا پہاڑوں کے بیچ اندھیری کھائیوں سے گونجنے والی آوازیں قوت سماعت سے ٹکرا کر قوت احساس کا امتحان بن جاتی ہیں۔
زندگی سفر میں آسان ہوتی ہے، آزمائش میں امتحان۔جس میں پورا اترنے کی کوشش میں راستے کی پگڈنڈیوں پر چلتے چلتے خوف کی گانٹھیں ایسی سختی سے لگاتے جاتے ہیں کہ جب کھولنے کا وقت آتا ہے تو دانتوں سے بھی کھل نہیں پاتیں۔یہ ایسی آندھی ہےجو رفتار بڑھنے پر ہر شے تہس نہس کر دیتی ہے۔جو مان کر بیٹھ جاتے ہیں ،جان کر جان سے چلے جاتے ہیں۔پاس آنے سے جو سکون پاتے ہیں، دور جانے سے کھونے کے خوف میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔زندگی انہیں راستہ دکھاتی ہے جو منزل کی تلاش میں بے خود ہو جاتے ہیں، بے خوفی انہیں مقام تلاش سے آگے دھکیل دیتے ہیں۔پھونک پھونک کر قدم اُٹھانے والے قدموں کی چاپ کے احساس سے واپس پلٹنے پر بضد رہتے ہیں۔
اندھیری گلیوں سے گزرتے ہوئے چاندنی راتوں کے انتظار کی سولی پر جو لٹکے رہتے ہیں، وقت گزرنے پر ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں۔یہ محبوب کی گلی نہیں کہ جس میں راستے پھولوں سے سجائے جاتے ہیں۔عاشقوں کے راستے کانٹوں سے لبریز برہنہ پا عشقِ لہو سے سرخ ہوتے ہیں۔یہ سردیوں کی رات نہیں کہ لحاف اوڑھ کر بسر کر لی جائے۔ یہ وہ پیراہن ہے جو کھلے آسمان تلے ٹھٹھرتی راتوں میں پیشانی پر پانی کے قطرہ سے نمودار ہو جائے۔
محبت کوئی پھول نہیں کہ آگے بڑھ جاؤ تو وہ مرجھا جائے۔ یہ تو وہ کانٹے ہیں جو دامن سے اُلجھ کر تار تار کر دیتے ہیں۔آگے بڑھنا جنہیں محال ہے، اظہار کی نہیں انہیں کوئی مجال ہے۔یہ بھیک نہیں جو خیرات پر ختم ہو۔یہ منزل نہیں جو جستجو پر ختم ہو۔یہ دل نہیں جو دھڑکن سے ختم ہو۔یہ اندھیرا نہیں جو روشنی سے ختم ہو۔یہ آس نہیں جو خیال سے ختم ہو۔یہ وجود نہیں جو چاہ سے ختم ہو۔
جو پا گیا وہ راز زندگی جان گیا۔جو کہنے سے رہ گیا وہ پھر ایک طویل سفر پر چلنے کے لئے تیار ہو گیا۔ایک پڑاؤ سے اُٹھ گئے تو سمجھو چل پڑےنئے پڑاؤ کی طرف نئی منزلوں کی طرف۔مسافر گزر جاتے ہیں منزلیں ٹھہری رہتی ہیں۔آگے بڑھ کر جو تھام لےوہی سفر کو روک لیتے ہیں۔ جو خود گزر جاتے ہیں وہ اُلجھ جاتے ہیں۔یہ ایسا امتحان ہے جو دوسرا چانس نہیں دیتا۔جو گزر گیا سو بھول گیا۔یاد صرف وہی رکھا جاتا ہے جسے مکمل تسخیر کر لیا جاتا ہے۔جو مسخر نہ ہو اسے ریاست تخیل سے نکال باہر کیا جاتا ہے۔خط و کتابت میں حال واحوال جانا جاتا ہے۔ کیفیت اظہار میں ہاں نا سے فیصلہ صادر کیا جاتا ہے۔جب کوئی خود کے بس میں نہیں تو کسی اور کے خیال سے حقیقت کیسے ہو گا۔
پرانے کپڑے رفو گری کے کمال ہنر مندی کے محتاج ہوتے ہیں ۔ نئے تعلق آداب تخیل سے بے پرواہ ہوتے ہیں۔دو راستے نقطہ آغاز سے سمت مخالف بڑھنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔آگے بڑھنے والے پلٹ سکتے ہیں مگر پلٹ کر بڑھنا جان جوکھوں کا کام ہے۔کیفیت اظہار کی مرہون منت ہے۔احساس محرومی اور تشکر ارمان میں چشم تر  سے نہ گزرے تو آرزوئے انجان سے نہ لپٹے۔
کھلی کتاب میں بند سوال صفحات در صفحات آگے نہیں بڑھتے۔بعض اوقات ایک لفظ سے ہی مفہوم کی وضاحت کر دیتے ہیں۔اظہار کیفیت کا حال بیان کرتا ہے۔خاموشی پردہ پوشی کرتی ہے۔بتانے والے سنا کر گزر جاتے ہیں۔سننے والے سمجھ کر ٹھہر جاتے ہیں۔حالانکہ مسافتیں ہمسفر چاہتی ہیں نہ کہ ہمراز۔ایک ساتھ چلنے والے ، ایک ٹھہرنے والے۔نا سمجھی میں چلنا ،سمجھ کر ٹھہرنے سے بدرجہا بہتر ہےکہ آگے بڑھنا ہی زندگی کا مقصد ہے۔پھولوں کی رنگت اور مہک سے بے خود ہو کررکنے والے ایک نئی بہار کے انتظار تک جامد و ساکت ہو جاتے ہیں۔زندگی ایک ایسا تسلسل ہے جو مسلسل ہے مگر متصل نہیں۔ہجر ہے فکر ہے مگر قدر کے بغیر صرف جبر ہے۔جنوں ہے تو سکون ہے۔زندگی چار دیواری کے اندر پروان چڑھتی ہےتو محبت سوچ وخیال کے بند کواڑ سے باہر جھانکتی ہے۔بند کواڑ کھل جائے تو پرواز کر جاتی ہے وگرنہ وہیں دم توڑ دیتی ہے۔
ان گنت بال جسم کو احساس دلائے بنا بڑھتے رہتے ہیں۔جب ان میں سے کسی ایک کو الگ کرنے کی کوشش کی جائے تو جسم ایک بال کی جدائی کو پورے وجود میں محسوس کرتا ہے۔محبت ایسے ہی جسم و جاں پر نچھاور ہو کر پروان چڑھتی ہےکسی احساس کے بغیر، مگر الگ ہونے کی کوشش پر جسم قلب کے زیر عتاب آ جاتا ہے۔

تحریر! محمودالحق



Friday, October 17, 2014

آنکھیں جو کھوجتی ہیں

1 comments
علم و عرفان میں یکتائی ہر کسی کا نصیب نہیں ۔علم وفضل کے قلمدان آبروئے ورق پر آفرینش ہوتے ہیں۔کیاریوں میں پودوں کی آبیاری سے ننھے بیج توانا درخت تک کا سفر باآسانی طے کر لیتے ہیں۔بلند وبالا پہاڑ ،وادیوں میں بہتے چشمے ،انواع واقسام کے میوے اور خوشبو بھرے پھل نظروں میں ساکت فلم کی طرح ٹھہر جاتے ہیں ۔ انہیں محسوس کرنے کے لئے ایک جھلک ہی کافی ہوتی ہے کسی اینیمیٹڈ فلم  کے ایک سیکنڈ میں پچیس فریمز جیسی نہیں۔
آنکھ سے صرف دیکھنے کا کام لیا جاتا ہے حالانکہ یہ نظر کی گرفت میں آنے والے ہر منظر کو فریمز کی صورت دماغ کے حساس سٹور روم میں ارسال کرتی رہتی ہے۔دور و نزدیک  کےمناظر ،ان کی رنگت ، ان کی خوبصورتی  حتی کہ ان فاصلوں کو بھی ماپ لیتی ہے۔ جہاں سے ان کو دیکھا گیا ہو،محسوس کیا گیا ہو حتی کہ ان کےقرب و لمس سے لطف اندوز ہو کر سرشاری میں قربت کا نشہ  روح میں اتار لیا گیا ہو۔
جو فارمولہ نظروں کی طرح ہماری ذات کی شناخت اور پہچان میں آسانی  سے فٹ بیٹھ جائے  سلوموشن کے فی سیکنڈ میں آنے والے فریمز کی بجائےمکمل سین یاد داشت کی سی ڈی پر ریکارڈ کر لیا جاتا ہے۔موضوع جتنا اہم ہے وہاں تک پہنچنے میں ایک سفر طے کرنا پڑے گا۔جیسا کہ ان الفاظ کو پڑھنے تک کا سفر طے کیا گیا۔نہیں اتنا کہہ دینا کافی نہیں ہو گا کہ اتنے سال اور اتنے ماہ زندگی کے نشسیب و فراز  سے گزر چکے ہیں یا یہ  کہ اتنی بہاریں دیکھ چکے ہیں۔
پیدائش سے لیکر موت تک مسلسل سفر میں رہتے ہیں۔ایک پل کے لئے بھی نہیں رکتے۔پچاس سال پورا ہونے پر انسان مسرور ہوتا ہے ۔ایک ہی گاؤں میں پچاس برس گزارنے والا اور دنیا بھر کا سفر کرنے والا ایک ہی طرح سے بڑھاپے کے آثار خدو خال میں تبدیل ہوتے ہوئے پاتا ہے۔کائنات میں زندگانی کا سفر دونوں اجسام نے اتنا طے کیا ہوتا ہے کہ چند ہزار یا  چند لاکھ میل ان کی ظاہری ہیئت پر زیادہ اثرانداز نہیں ہوتے۔کیونکہ سورج کے گرد دونوں کا سفر 47 ارب کلو میٹر بنتا ہے۔ زمین سورج کے گرد ایک سال میں 94 کروڑ کلومیٹر کا فاصلہ  طے کرتی ہے اور ہم اس کے ہمسفر ہوتے ہیں۔ذہنی معذورانسان چاہے عقل و شعور میں وقت کی قید سے نہ نکل پائیں مگر بڑھاپے کے اثرات ان پر زی شعور انسان کے برابر ہوتے ہیں۔کیونکہ وہ بہاروں کے ساتھ ساتھ گرمی سردی کے علاوہ خزاں سے بھی بارہا گزرتے ہیں۔  اس سفر میں چاروں اطراف کائنات  کےپل پل بدلتے مناظر کو آنکھ  صرف ایک فریم  کی صورت دماغ کو تصویر ارسال کرتی ہے۔اگر اسے فی سیکنڈ سینکڑوں فریمز کی صورت یادداشت کی ٹیپ پر ریکارڈ کے لئے بھجوایا جائے تو کچھ اور یاد رکھنے کے لئے شائد سپیس نہ بچے۔
انسانی دماغ بالحاظ ساخت و وزن تقریبا ایک جیسے ہوتے ہیں مگر ان کے سوچنے کا انداز یکسر مختلف ہوتا ہے۔عالم کے گھر جاہل اور کوتوال کے گھر چور پائے جا سکتے ہیں۔ انسانی آنکھ مختلف اشیاء کو فریمز کی صورت دماغ کے نہاں خانوں میں ارسال کرتی رہتی ہےاور ذہن انہیں جمع و منفی کے فارمولہ سے کانٹ چھانٹ کربرابر کرتا رہتا ہے ۔ اسی لئے تو روز مرہ معمولات زندگی میں ذہن کو تردد نہیں کرنا پڑتا۔جو ان کی تفریق سے رزلٹ  بتا دیتا ہے جو ہم کر گزرتے ہیں۔اسے ایک  عام فہم مثال سے  بہت آسانی سےسمجھا جا سکتا ہے۔

کسی گھر میں رشوت کے پیسے کی ریل پیل ہے وہاں چھوٹوں بڑوں کو انہیں 1- سے 100-کے درمیان  نمبر لگانے کا کہا جائے تو وہ  اس فعل کو 90- نمبر دے کر جسٹیفائی کریں گےاور ایمانداری  کو 20+ سے زیادہ نمبر نہیں دے سکیں گے کہ آج کل کہاں اتنی تنخواہ میں گزارا ہو سکتا ہےتو فیصلہ 70- کے ساتھ رشوت کے حق میں نکلے گا۔اسی طرح ایماندار انسان حق حلال کو 90+ اور بے ایمانی اور رشوت کو 10- سے زیادہ نمبر نہیں دے پائے گااور حلال 80+ کے ساتھ سر فہرست ہو گا۔اسی طرح معاشرے میں پائی جانے والی ہر اچھائی، برائی کو ازخود  جمع اور منفی نمبر لگاتے جائیں۔دماغ کیلکولیٹر کی طرح جواب سامنے رکھ دے گا۔میں جھوٹ کو 1- اور سچ کو 99+نمبر دیتا ہوں تو دماغ اسے 98+=1-99+کے ساتھ لوٹا دیتا ہے۔کوئی نیا اور سخت فیصلہ کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ہم ذہن کو جو جو نمبرز ارسال کرتے ہیں وہ انہیں تفریق سے  ہمارے ہی رویے کےمثبت یا منفی ہونے کی صورت واپس لوٹا دیتا ہے۔جیسے ہم کسی انسان کےدوسروں کے ساتھ برے رویے  کونظر انداز  کر کے  ایسی  کم سطح پر رکھتے ہیں کہ جب وہی رویہ ہمارے ساتھ روا رکھا جاتا ہے تو بڑی تکلیف ہوتی ہے۔دوسرے لوگوں کی باتوں اور مشوروں سے کبھی رزلٹ ہمارے خلاف نہیں آ سکتے جب تک کہ ہم خود اس بات کا فیصلہ نہ کر لیں کہ اچھے عوامل کو اچھے نمبروں کے ساتھ ذہن کو ارسال کیا جائے تو رزلٹ مثبت ہوں گے اورقلب سکون میں رہے گا۔

محموالحق

Thursday, October 16, 2014

زندگی کی عجب کہانی ہے

0 comments
زندگی تیرے انجام سے بے خبر  یونہی چلتے رہےجیسے ننگے پاؤں انگاروں پہ جلتے رہے۔ کبھی چاند کو اپنا سمجھتے رہے کبھی پھول سے محبت کرتے رہے۔رات کے پچھلے پہر ستاروں کی ٹمٹماہٹ سے سلگتے رہے۔چاندنی میں جسم و جاں سے اُلجھتے رہے۔حدت ِآفتاب سے تپتی ریت پر گھسٹتے رہے۔دُعا میں اُٹھے ہاتھوں کووصلِ بیتاب سمجھتے رہے۔اقرارِ زباں کو قرارِ جاں سمجھتے رہے۔ عشق ِامتحاں کو دلِ ناداں سمجھتے رہے۔ جوانی کی مستیاں حسن کی لن ترانیاں رہ گئی گھٹ کر ان میں اذیت کی سرگوشیاں۔زندگی کے میلوں میں کھو گئیں بچپنے کی معصومیت،چاہت کی پاکبازیاں،آنکھوں کا بھول پن ،کانوں کی سرخی اور رخساروں کی لالی۔ 
شجر تو کونپل سے کونپل بڑھتے رہےپھلوں پھولوں سے بھر کر پھیلتے رہے۔ جوانی بپھر کر بھی سمٹتی رہی۔اُنگلی چھونے پہ ہاتھ بھی کٹتے رہے۔ایک نظر پڑنے پر  جوجان ہتھیلی پر لئے پھرتے رہے۔ نظر بدلنے پر جان جہاں سے بھی جانے میں مسکراتے رہے۔
زندگی کی عجب کہانی ہےدل پہ گزرے تو دیوانی ہے، درد میں ڈوبے تو آفتِ نا گہانی ہے۔   

Friday, September 26, 2014

کرب واذیت کے کھونٹے

1 comments
اردو کی ٹیچر نے دوسری جماعت کے طالب علم کو دونوں ہاتھ سامنے پھیلانے کا حکم صادر فرمایا ۔  حکم کی بجاآوری کے ساتھ  ہی اس نے اپنے بیگ میں سے کالے رنگ کا ایک ڈیڈھ  فٹ لمبا ڈنڈانکالا۔پانچ پانچ دونوں ہاتھوں پر کھانے کے بعد سوجے ہاتھوں نےتختی کبھی  گھربھول نہ آنے کی قسم کھانے کے ساتھ ساتھ مولا بخش سے ملاقات کا یہ شرف کبھی  نہ  بھلایا۔زندگی میں پہلا سبق اسے بھولنے کی وجہ سے بھگتنا پڑا ۔اس کے بعد وہ ہر سبق کی طرح ساتھ رکھنے والی چیزوں کو گن گن کر روزانہ بیگ میں سنبھالتا۔بھولنے کی ایک معمولی غلطی کی سزا کو اس نے دو ہفتوں تک اپنی نرم ہتھیلیوں پر محسوس کیا تھا۔جیسے ہر رات اس کی ہتھیلیوں پر کوئی آنگارے رکھ رہا ہو۔جسم بڑے ہو جاتے ہیں مگر سزا کے اثرات وہیں رہ جاتے ہیں۔کرب واذیت کے یہ کھونٹے بچپن میں ہونے والی زیادتیوں ، نا انصافیوں  کےسنگل سے چھٹکارہ پانے کی اُمید جوانی سے بڑھاپے کی طرف پہنچا کر بھی پوری نہیں ہونے دیتے۔انسان قدموں سے میلوں کا سفر اور سوچ میں صدیوں کا سفر طے کر لینے  کے باوجود ان کھونٹوں سے چھٹکارہ نہیں پا تا۔
ہمدردی کرنے والے انہیں فریب دکھائی دیتے ہیں۔کھونٹے سے کھولنے والے انہیں ظالم نظر آتے ہیں۔سمجھتے ہیں کہ انہیں کسی دوسرے کھونٹے سے باندھنے کے لئے لے جایا جا رہا ہے۔جنہیں اعتماد سے ٹھیس پہنچتی ہے وہ اعتبار سے ڈرتے ہیں،جھوٹ سے ڈسنے والے سچ سے خوفزدہ رہتے ہیں۔بھولنے کی سزا پانے والے یاد کرنے سے ڈرتے ہیں۔خوف کا ایک عفریت روح میں سما کر اتنا طاقتور ہو جاتا ہے جس کے سامنے ایک توانا وجود بھی دوسری جماعت کے طالبعلم کی نازک ہتھیلیوں سے بڑھ کر نہیں ہوتا۔
گھر کی دہلیز اور سکول کی عمارت کے اندر سوچ کی آزادی کو باندھنے کے چھوٹے بڑے کھونٹے صدیوں سے معاشرے کے باڑوں میں سختی سے زمین میں گاڑے ہوتے ہیں۔خوش قسمتی سے اگر کوئی ان سے چھٹکارہ پا بھی لے تو بھول جانے کی سزا یاد نہ رکھنے کی عادت سے نکلنے نہیں دیتی۔اس کے بعد تلاش کے لا متناہی سلسلے پہاڑوں کی چوٹیوں کی طرح زمین پر اکڑ کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔کوئی علم کے قلم پر سوار لفظوں کے سمندر میں اُتر جاتا ہے تو کوئی عقل سے ستاروں کی روشنیوں میں کھو کر منزل پانے کی نوید سننے میں بیتاب ہو جاتا ہے۔سفر میں آگے بڑھ جانے والے اگر آنکھیں موندھ لیں تو  بعض اوقات منزل پیچھے رہ جاتی ہے۔تلاش  کے بعد منزل پاناہمیشہ خمار میں مبتلا رکھتی ہےلیکن جب مقصد نہ رہے تو سفر باقی رہ جاتا ہے منزل کہیں کھو جاتی ہے۔جسے مشکل سے ڈھونڈا جاتا ہے اسے آسانی سے کھودیاجاتا ہے۔جسے پا کر کھو دیا جائے وہ منزل اپنے نشان بھی مٹاتی جاتی ہے۔ یہ بھول بھلیوں کا ایسا پزل ہے جس میں آسانی سے داخل ہو کر مشکل سے نکلا جاتا ہے ۔ ہر بار نیا راستہ بنتا ہے تو نیا راستہ ہی نکلتا ہے۔جس میں سے ایک بار گزر کر پچھلے راستے خودبخود بند ہوتے چلے جاتے ہیں۔جیسے امتحانات میں ایک ہی کتاب سے سوالات ہر امتحان میں بدل جاتے ہیں۔جوابات چاہے کتنے ہی ازبر کیوں نہ ہوں ، ایک بار یادداشت کے پردے پر بے ہنگم ڈھول کی دھمک سنائی دیتی ہے۔ایک وقت کے بعد اگر کورس ہی تبدیل ہو جائے تو پھر پہلے جوابات ختم ہو جاتے ہیں اور نئے سوالات جنم لیتے ہیں۔جن کے حل کے لئے تلاش کا سلسلہ پھر سے شروع ہو جاتا ہے۔
سوچ و افکار کی لینڈ سلائیڈنگ سے راستے مسدود ہو جاتے ہیں۔پھر دو ہی صورتیں باقی بچتی ہیں پلٹ جاؤ یا کسی دوسرے طویل راستہ سے منزل مقصود تک پہنچنے کی کوشش شروع کر و۔کیونکہ  بعض اوقات ساری توانائی خرچ کر کے بھی بھاری پتھر اُٹھانے سے بھی راستے صاف نہیں ہوتے۔

محمودالحق

Friday, September 19, 2014

کیفیتِ اظہار

0 comments
کینوس پر رنگ بکھیرتا مصور دو آنکھوں کو وہ دکھانا چاہتا ہے جو ستاروں سے چھپ کر اسی کی روشنی سے چرایا ہو۔پھول کی نازک پتیوں سے جیسے خوشبو کو پایا ہو۔آسمان سے نچھاور ہوتے سفید روئی جیسے گالوں کو پیاسی دھرتی نے حدت کو چھپا کر ٹھہرایا ہو۔گرم ہواؤں کو سرد نم بادل  نےگڑگڑاتی بجلی سے دور بھگایا ہو۔کوئل نےکھلی چونچ سے سُر کا جادو جگایا ہو۔ 
پینٹنگ دیکھنے والا مبہوت ہو جائے ۔شاہکار کینوس سے نکل کر اُس کی روح میں جذب لہو بن دوڑنے لگے۔ایک کے بعد ایک مریض عشق بوجھل قدموں سے باہر جانے کے راستے سے اپنی سواری کا مقام ریگستان میں بھٹکے اونٹ کی طرح کبھی دائیں تو کبھی بائیں جانے کے لئے پریشانی کا شکار ہو جائے۔
تو پھر وہ مصور بھول جاتے ہیں تصویر کشش کھو دیتی ہے۔ ایک ہلکی مسکراہٹ مونا لیزا بن کر ذہن پر سوار ہو جاتی ہے۔جس کے چرچے صدیاں گزرنے پر مندمل نہیں ہو پاتے۔وہ احساس کسی شمار میں نہیں لایا جا سکتا۔کیونکہ وہ اعداد نہیں جو تعداد سے کیفیت اظہار کو بڑھا چڑھا کر کھونے اور پانے کے ترازو پر تل سکے۔
گھر کے دروازے آنگن میں ہی کھلتے ہیں اور کھڑکیاں گلیوں میں ،جہاں آنے جانے والے صرف تانک جھانک کر سکتے ہیں۔ لوہے کی ان سلاخوں میں سے گملوں میں کھلایا گیا ایک پھول اور چورن کی پڑیا پر لکھا ایک شعر باآسانی گزر سکتا ہے مگر کھانسنے والے  کے لئے دوائی اور بلکتے بچوں کے لئے چنگیر پر چند لقمے نہیں  جوانہیں ایک نظر نہیں بھاتے۔ 
حقیقت جتنی تلخ ہوتی ہے اس کے احساس کی تلخی کوبرا سانپ کے زہر سے بھی زیادہ شدت سے رگوں میں جوگی کی بین پر مستی میں محو رقص رہتی ہے۔دور رہ کر تماشا دیکھنے والے ایک ایک قدم پیچھے ہٹتے لطف اندوزی کی کیفیت سے سرشاری میں مبتلا رہتے ہیں۔ اعداد کی گنتی اور ستاروں کی چالوں کا کھیل نہیں کہ آگے بڑھنے پر سکو ربننے لگیں اور پیچھے ہٹنے پر وقت بڑھ جائے۔ 
قلب دھک دھک سے جو وجود کو دستک دیتا ہے پیٹنے پر آ جائے تو قیامت برپا کر دیتا ہےاورخاموش ہو جائےتو سکوت طاری کر دیتا ہے۔خود سے کھیلنے والوں کو گنتی بھلا دیتا ہے۔ جو آسمانوں کی سیر کرتے ہیں انہیں منٹوں میں زمین  چٹوا دیتا ہے۔ 
دھرتی کی پانی سے محبت کی کہانی آدم کی پیدائش سے بہت پہلے سے ہے مگر اس کا انجام آدم کے اختتام پر ہو گا جب پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح ہواؤں میں بکھر جائیں گے اورزمین سیدھی بچھا دی جائے گی۔ پھر نہ ہی دھرتی پیاسی رہے گی اور نہ ہی بادل اسے بجھانے آئے گا۔یہ کہانی تب تک چلے گی جب تک کینوس پر مصور کے رنگ بکھرتے رہیں گے۔ مسکراہٹوں کے جادو سر چڑھ کر بولتے رہیں گے۔
جن کی پختگیء خیال یقین کی ڈوریوں سے بندھی ہے وہ حقیقت شناسی کی گانٹھوں سے آگے بڑھنے کے لئے کوشاں رہتے ہیں۔
شاخوں پہ کھلتے پھول  ایک وقت کے بعد مرجھا کر حسنِ آرزو سے تعلق کھو دیتے ہیں۔ آسمان سے گرتی نرم روئی جیسی برف دھرتی کی حدت بڑھنے  پر پگھل جاتی ہے۔وہ اتنی ہی دیر ساتھ نبھاتی ہے جتنی دیر تک وہ اسے جذب کرنے کے قابل رہے ۔اور پانی اپنا راستہ بناتے ہوئے اپنے اصل کی طرف رواں دواں ہو جاتاہے۔ 
دو آنکھیں پھر ایک لمبے سفر پہ کسی نئے کینوس پر مصور کے پھیلائے رنگوں سے مسکراہٹ پانے کے انتظار میں ہر پڑاؤ پر رک جاتی ہیں۔جہاں ہزاروں آنکھیں ایک دوسرے میں جھانک کر پھر آگے بڑھ جاتی ہیں۔ناآشنائی کے نا ختم ہونے والے کھیل کی طرف جو ایک پزل کے حل ہونے پر اگلے قدرے مشکل پزل میں داخل کر دیتا ہے۔امتحان کے یہ کڑے وقت آزمائش کی مضبوط گرفت ڈھیلی نہیں ہونے دیتے۔  ساحل سمندر پر بنائے ریت کے گھروندے بار بار پانی میں بہہ جانے کے بعد بھی ویسے ہی بار بار بنائے جا سکتے ہیں۔ کیونکہ وہ نہ تو تخلیق ہیں اور نہ ہی شاہکار، جو دو آنکھوں سے جزب سے سرشار ہو کر مصور کا تصور مٹا سکیں۔ مگر گہرے پانیوں میں اُترنے والی کشتی ایک ہی بار تکمیل وپختگی کے بعد لہروں کے سپرد کی جاتی ہے۔کیونکہ ایک معمولی سوراخ اسے دوبارہ ابھرنے کی مہلت نہیں دیتا۔

محمودالحق
              

کیفیتِ اظہار

0 comments
کینوس پر رنگ بکھیرتا مصور دو آنکھوں کو وہ دکھانا چاہتا ہے جو ستاروں سے چھپ کر اسی کی روشنی سے چرایا ہو۔پھول کی نازک پتیوں سے جیسے خوشبو کو پایا ہو۔آسمان سے نچھاور ہوتے سفید روئی جیسے گالوں کو پیاسی دھرتی نے حدت کو چھپا کر ٹھہرایا ہو۔گرم ہواؤں کو سرد نم بادل  نےگڑگڑاتی بجلی سے دور بھگایا ہو۔کوئل نےکھلی چونچ سے سُر کا جادو جگایا ہو۔ 
پینٹنگ دیکھنے والا مبہوت ہو جائے ۔شاہکار کینوس سے نکل کر اُس کی روح میں جذب لہو بن دوڑنے لگے۔ایک کے بعد ایک مریض عشق بوجھل قدموں سے باہر جانے کے راستے سے اپنی سواری کا مقام ریگستان میں بھٹکے اونٹ کی طرح کبھی دائیں تو کبھی بائیں جانے کے لئے پریشانی کا شکار ہو جائے۔
تو پھر وہ مصور بھول جاتے ہیں تصویر کشش کھو دیتی ہے۔ ایک ہلکی مسکراہٹ مونا لیزا بن کر ذہن پر سوار ہو جاتی ہے۔جس کے چرچے صدیاں گزرنے پر مندمل نہیں ہو پاتے۔وہ احساس کسی شمار میں نہیں لایا جا سکتا۔کیونکہ وہ اعداد نہیں جو تعداد سے کیفیت اظہار کو بڑھا چڑھا کر کھونے اور پانے کے ترازو پر تل سکے۔
گھر کے دروازے آنگن میں ہی کھلتے ہیں اور کھڑکیاں گلیوں میں ،جہاں آنے جانے والے صرف تانک جھانک کر سکتے ہیں۔ لوہے کی ان سلاخوں میں سے گملوں میں کھلایا گیا ایک پھول اور چورن کی پڑیا پر لکھا ایک شعر باآسانی گزر سکتا ہے مگر کھانسنے والے  کے لئے دوائی اور بلکتے بچوں کے لئے چنگیر پر چند لقمے نہیں  جوانہیں ایک نظر نہیں بھاتے۔ 
حقیقت جتنی تلخ ہوتی ہے اس کے احساس کی تلخی کوبرا سانپ کے زہر سے بھی زیادہ شدت سے رگوں میں جوگی کی بین پر مستی میں محو رقص رہتی ہے۔دور رہ کر تماشا دیکھنے والے ایک ایک قدم پیچھے ہٹتے لطف اندوزی کی کیفیت سے سرشاری میں مبتلا رہتے ہیں۔ اعداد کی گنتی اور ستاروں کی چالوں کا کھیل نہیں کہ آگے بڑھنے پر سکو ربننے لگیں اور پیچھے ہٹنے پر وقت بڑھ جائے۔ 
قلب دھک دھک سے جو وجود کو دستک دیتا ہے پیٹنے پر آ جائے تو قیامت برپا کر دیتا ہےاورخاموش ہو جائےتو سکوت طاری کر دیتا ہے۔خود سے کھیلنے والوں کو گنتی بھلا دیتا ہے۔ جو آسمانوں کی سیر کرتے ہیں انہیں منٹوں میں زمین  چٹوا دیتا ہے۔ 
دھرتی کی پانی سے محبت کی کہانی آدم کی پیدائش سے بہت پہلے سے ہے مگر اس کا انجام آدم کے اختتام پر ہو گا جب پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح ہواؤں میں بکھر جائیں گے اورزمین سیدھی بچھا دی جائے گی۔ پھر نہ ہی دھرتی پیاسی رہے گی اور نہ ہی بادل اسے بجھانے آئے گا۔یہ کہانی تب تک چلے گی جب تک کینوس پر مصور کے رنگ بکھرتے رہیں گے۔ مسکراہٹوں کے جادو سر چڑھ کر بولتے رہیں گے۔
جن کی پختگیء خیال یقین کی ڈوریوں سے بندھی ہے وہ حقیقت شناسی کی گانٹھوں سے آگے بڑھنے کے لئے کوشاں رہتے ہیں۔
شاخوں پہ کھلتے پھول  ایک وقت کے بعد مرجھا کر حسنِ آرزو سے تعلق کھو دیتے ہیں۔ آسمان سے گرتی نرم روئی جیسی برف دھرتی کی حدت بڑھنے  پر پگھل جاتی ہے۔وہ اتنی ہی دیر ساتھ نبھاتی ہے جتنی دیر تک وہ اسے جذب کرنے کے قابل رہے ۔اور پانی اپنا راستہ بناتے ہوئے اپنے اصل کی طرف رواں دواں ہو جاتاہے۔ 
دو آنکھیں پھر ایک لمبے سفر پہ کسی نئے کینوس پر مصور کے پھیلائے رنگوں سے مسکراہٹ پانے کے انتظار میں ہر پڑاؤ پر رک جاتی ہیں۔جہاں ہزاروں آنکھیں ایک دوسرے میں جھانک کر پھر آگے بڑھ جاتی ہیں۔ناآشنائی کے نا ختم ہونے والے کھیل کی طرف جو ایک پزل کے حل ہونے پر اگلے قدرے مشکل پزل میں داخل کر دیتا ہے۔امتحان کے یہ کڑے وقت آزمائش کی مضبوط گرفت ڈھیلی نہیں ہونے دیتے۔  ساحل سمندر پر بنائے ریت کے گھروندے بار بار پانی میں بہہ جانے کے بعد بھی ویسے ہی بار بار بنائے جا سکتے ہیں۔ کیونکہ وہ نہ تو تخلیق ہیں اور نہ ہی شاہکار، جو دو آنکھوں سے جزب سے سرشار ہو کر مصور کا تصور مٹا سکیں۔ مگر گہرے پانیوں میں اُترنے والی کشتی ایک ہی بار تکمیل وپختگی کے بعد لہروں کے سپرد کی جاتی ہے۔کیونکہ ایک معمولی سوراخ اسے دوبارہ ابھرنے کی مہلت نہیں دیتا۔

محمودالحق
              

کیفیتِ اظہار

1 comments
کینوس پر رنگ بکھیرتا مصور دو آنکھوں کو وہ دکھانا چاہتا ہے جو ستاروں سے چھپ کر اسی کی روشنی سے چرایا ہو۔پھول کی نازک پتیوں سے جیسے خوشبو کو پایا ہو۔آسمان سے نچھاور ہوتے سفید روئی جیسے گالوں کو پیاسی دھرتی نے حدت کو چھپا کر ٹھہرایا ہو۔گرم ہواؤں کو سرد نم بادل  نےگڑگڑاتی بجلی سے دور بھگایا ہو۔کوئل نےکھلی چونچ سے سُر کا جادو جگایا ہو۔
پینٹنگ دیکھنے والا مبہوت ہو جائے ۔شاہکار کینوس سے نکل کر اُس کی روح میں جذب لہو بن دوڑنے لگے۔ایک کے بعد ایک مریض عشق بوجھل قدموں سے باہر جانے کے راستے سے اپنی سواری کا مقام ریگستان میں بھٹکے اونٹ کی طرح کبھی دائیں تو کبھی بائیں جانے کے لئے پریشانی کا شکار ہو جائے۔
تو پھر وہ مصور بھول جاتے ہیں تصویر کشش کھو دیتی ہے۔ ایک ہلکی مسکراہٹ مونا لیزا بن کر ذہن پر سوار ہو جاتی ہے۔جس کے چرچے صدیاں گزرنے پر مندمل نہیں ہو پاتے۔وہ احساس کسی شمار میں نہیں لایا جا سکتا۔کیونکہ وہ اعداد نہیں جو تعداد سے کیفیت اظہار کو بڑھا چڑھا کر کھونے اور پانے کے ترازو پر تل سکے۔
گھر کے دروازے آنگن میں ہی کھلتے ہیں اور کھڑکیاں گلیوں میں ،جہاں آنے جانے والے صرف تانک جھانک کر سکتے ہیں۔ لوہے کی ان سلاخوں میں سے گملوں میں کھلایا گیا ایک پھول اور چورن کی پڑیا پر لکھا ایک شعر باآسانی گزر سکتا ہے مگر کھانسنے والے  کے لئے دوائی اور بلکتے بچوں کے لئے چنگیر پر چند لقمے نہیں  جوانہیں ایک نظر نہیں بھاتے۔
حقیقت جتنی تلخ ہوتی ہے اس کے احساس کی تلخی کوبرا سانپ کے زہر سے بھی زیادہ شدت سے رگوں میں جوگی کی بین پر مستی میں محو رقص رہتی ہے۔دور رہ کر تماشا دیکھنے والے ایک ایک قدم پیچھے ہٹتے لطف اندوزی کی کیفیت سے سرشاری میں مبتلا رہتے ہیں۔ اعداد کی گنتی اور ستاروں کی چالوں کا کھیل نہیں کہ آگے بڑھنے پر سکو ربننے لگیں اور پیچھے ہٹنے پر وقت بڑھ جائے۔
قلب دھک دھک سے جو وجود کو دستک دیتا ہے پیٹنے پر آ جائے تو قیامت برپا کر دیتا ہےاورخاموش ہو جائےتو سکوت طاری کر دیتا ہے۔خود سے کھیلنے والوں کو گنتی بھلا دیتا ہے۔ جو آسمانوں کی سیر کرتے ہیں انہیں منٹوں میں زمین  چٹوا دیتا ہے۔
دھرتی کی پانی سے محبت کی کہانی آدم کی پیدائش سے بہت پہلے سے ہے مگر اس کا انجام آدم کے اختتام پر ہو گا جب پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح ہواؤں میں بکھر جائیں گے اورزمین سیدھی بچھا دی جائے گی۔ پھر نہ ہی دھرتی پیاسی رہے گی اور نہ ہی بادل اسے بجھانے آئے گا۔یہ کہانی تب تک چلے گی جب تک کینوس پر مصور کے رنگ بکھرتے رہیں گے۔ مسکراہٹوں کے جادو سر چڑھ کر بولتے رہیں گے۔
جن کی پختگیء خیال یقین کی ڈوریوں سے بندھی ہے وہ حقیقت شناسی کی گانٹھوں سے آگے بڑھنے کے لئے کوشاں رہتے ہیں۔
شاخوں پہ کھلتے پھول  ایک وقت کے بعد مرجھا کر حسنِ آرزو سے تعلق کھو دیتے ہیں۔ آسمان سے گرتی نرم روئی جیسی برف دھرتی کی حدت بڑھنے  پر پگھل جاتی ہے۔وہ اتنی ہی دیر ساتھ نبھاتی ہے جتنی دیر تک وہ اسے جذب کرنے کے قابل رہے ۔اور پانی اپنا راستہ بناتے ہوئے اپنے اصل کی طرف رواں دواں ہو جاتاہے۔
دو آنکھیں پھر ایک لمبے سفر پہ کسی نئے کینوس پر مصور کے پھیلائے رنگوں سے مسکراہٹ پانے کے انتظار میں ہر پڑاؤ پر رک جاتی ہیں۔جہاں ہزاروں آنکھیں ایک دوسرے میں جھانک کر پھر آگے بڑھ جاتی ہیں۔ناآشنائی کے نا ختم ہونے والے کھیل کی طرف جو ایک پزل کے حل ہونے پر اگلے قدرے مشکل پزل میں داخل کر دیتا ہے۔امتحان کے یہ کڑے وقت آزمائش کی مضبوط گرفت ڈھیلی نہیں ہونے دیتے۔  ساحل سمندر پر بنائے ریت کے گھروندے بار بار پانی میں بہہ جانے کے بعد بھی ویسے ہی بار بار بنائے جا سکتے ہیں۔ کیونکہ وہ نہ تو تخلیق ہیں اور نہ ہی شاہکار، جو دو آنکھوں سے جزب سے سرشار ہو کر مصور کا تصور مٹا سکیں۔ مگر گہرے پانیوں میں اُترنے والی کشتی ایک ہی بار تکمیل وپختگی کے بعد لہروں کے سپرد کی جاتی ہے۔کیونکہ ایک معمولی سوراخ اسے دوبارہ ابھرنے کی مہلت نہیں دیتا۔

محمودالحق
              

Thursday, September 4, 2014

قیدِ بے اختیاری

2 comments
چھوٹی چڑیا چھوٹے سے پنجرے میں قید بڑی بے چینی سے جھولے سے نیچے پھر جھولے پہ اُڑ اُڑ جاتی۔بس اتنا سمجھ کر چہچہاتی کہ ایک دن یہاں سے آزادی پا کر اس سے بڑی اُڑان بھروں گی۔اور ایک دن اچانک پنجرہ کی چھوٹی سی کھڑکی کھلا پا کر اُڑان بھر جاتی۔ مگر جسے وہ آزادی سمجھ کر اونچی پرواز سے لطف لینے لگی کچھ توقف کے بعد وہی کمرہ اس بے چاری چڑیا کے لئے بڑے پنجرے میں بدل گیا۔آزادی کے جس دیپ کو وہ جلا کر مدھم ہوتی قید ِ روشنی کو سہارا دیئے ہوئے تھی۔وہ ایک بار پھر اس کے لئے نا اُمیدی اور مایوسی کے اندھیروں سے خوف میں مبتلا ہونے لگتی ہے۔بچوں کی چھیڑ چھاڑ سے عاجز اب وہ خونخوار بلیوں کے پنجوں کی زد میں چلی گئی۔جہاں اسے خود کے بچاؤ کے لئے اپنے پروں کی طاقت سے زیادہ اندھیرے میں چمکتی آنکھوں سے اوجھل رہنے میں زندہ رہنے کی گارنٹی ملتی ہے۔
سفاری پارک میں ہاتھیوں کو جنگل جیسی مستی کی اجازت نہیں۔شیروں کو چنگھاڑنے کی اتنی اجازت ہوتی ہے وہ بدن کو انگڑائی سے تازہ دم رکھ سکیں۔اُچھل کود کرتے کنگرو ، کانوں سے چوکنا رہنے والےہرن تماشائیوں کے لئے تفریع طبع کا سامان بن کر رہ جاتے ہیں۔جس نے جہاں آنکھ کھولی وہیں وہ اس کا قیدی ہے۔ایک پنجرہ سے دوسرے  بڑےپنجرہ میں منتقلی ہی اسے آزادی کے نشہ میں مبتلا کر دیتی ہے۔پنجرے بدلتے چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ روئے زمین کی قید میں چلا جاتا ہے۔دنیا کا ہر بڑا ملک اس کی دسترس میں آ جاتا ہے۔فاصلے سوچوں سے نکل کر گھڑی کی سوئی سے منسلک ہو جاتے ہیں۔
آزادی پا کر مطمئن نہ ہونا اسے اگلی منزل کی قید میں پہنچا دیتا ہے۔انسان کا سفر کبھی ختم نہیں ہوتا اور نہ ہی قید ختم ہوتی ہے۔جہاں رہ کر وہ آزادی سے مسرور ہوتا ہے وہیں کسی اگلی منزل کے قیدی کو وہ قیدی ہی نظر آتا ہے۔قید کے یہ سلسلے پہاڑوں کے سلسلہ جیسے ہیں ایک پہاڑ کی چوٹی پر دوسرے پہاڑ کا نقطہ آغاز۔
زندگی کی حقیقتوں کو کہانیوں سے تشبیہ دینے والے تو بہت مل جائیں گے۔محبوب کو لفظوں کے ترازو میں تول کر بیش قیمت بنا دیں گے۔محبت کو جگر سے خون لے کر قلب کی روانی میں بہا دیں گے۔جس سراب کے وہ قیدی ہوتے ہیں زمانہ بھی اسی کا قیدی بنا دیتے ہیں۔آبشاروں چشموں سے اُبلتا صاف شفاف پانی پیاس بجھاتا ، سیراب کرتا ہوا،شور مچاتا ندی نالوں سے ہوتا ہوا دریاؤں سے گزر کر پھر سمند ر میں گر کر مٹھاس کھو کر پھر اپنی باری پہ بخارات بن کر پہاڑوں میدانوں میں بادل بن کر برسنے کے لئے بیتاب رہتا ہے۔
چھوٹی چڑیا پنجرہ کی رہائی سے کمرے کا قیدی ہونے پر فخر سے سینہ نہیں تان سکتی۔قید کے یہ سلسلے ایک پنجرہ سے دوسرے تک بڑھتے چلے جاتے ہیں۔حتی کہ روئے زمین کی قید تک بات چلی جاتی ہے۔ان میں سے بعض ایک قدم آگے بڑھ کر کائنات کی چکاچوند روشنیوں کے قیدی بن جاتے ہیں اور انہیں زمین ان کی تھکن سے بھی چھوٹی نظر آتی ہے۔
جنہیں سچی محبت کی تلاش ہوتی ہے وہ صرف محبوب کے طرز تکلم سے مطمئن ہو جاتے ہیں۔حالانکہ یہ قید کے سلسلے ایک سے بڑھ کر ایک کی تلاش کے بعد بھی منطقی انجام تک نہیں پہنچ پاتے۔یہ میٹھے رس بھرے آڑو کی مانند ایک وقت کے بعد اپنے ہی وجود سے پیدا ہونے والی سونڈی کا شکار ہو جاتے ہیں۔جن کا اس خوبصورت چیز سے کوئی تعلق بھی نہیں ہوتا۔جس طرح روزمرہ کے معمولات زندگی دھیرے دھیرے زہر گھولتے ہیں۔آہستہ آہستہ سارا وجود اس کے کرب سے تکلیف کا شکار ہو جاتا ہے۔
غم دکھ درد وجود کو ایسا قیدی بنا کر رکھتا ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ آنکھیں بند کرنے سے درد کا احساس کم ہو جائے گا۔جان چھوٹ جانے کو درد چھوٹ جانے کا مداوہ سمجھتے ہیں۔انسان جتنا دل پھینک محبت میں ہوتا ہے خواہشات میں نہیں ہوتا۔ماں باپ کی محبت ،بہن بھائیوں کی محبت، اولاد کی محبت اور محبوب کی محبت۔قید کے یہ سلسلے بھی دل کا چین اور راتوں کا سکون چھین لیتے ہیں۔مریض کبھی لاعلاج نہیں ہوتا مرض لا علاج ہو جاتا ہے۔درد کا علاج دکھ سے ممکن نہیں ہوتا۔مجبوری لاچاری میں ضرورت سے دور رہتی ہے۔دکھ کی بھٹی سے نکل کر انسانوں سے نیک اعمال خود بخود سرزد نہیں ہونے لگتے۔
جینے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگانی پڑتی ہے اور پانے کے لئےآگے بڑھنے کی ہمت پیدا کرنی پڑتی ہے۔جو چند لفظوں کے اظہار کی قربانی دے کرہزاروں لفظوں کے نیچے دب جاتے ہیں۔وہ سمجھ ہی نہیں پاتے کہ جس طرح خیرات میں ملی روٹی اور بخشش میں ملی زندگی سے صرف زندہ رہا جا سکتا ہے۔اُدھار کے الفاظ لاکھوں بھی ہوں تو ایک مسکراہٹ کے سامنے ہیچ ہو جاتے ہیں۔ 
پنجرے میں قیدیوں کے لئے یہ تخیل ہے ۔مگر جو ان سے آزادی پا لیتے ہیں ان کے لئے یہ ایک حقیقت ہے۔

تحریر:  محمودالحق

قیدِ بے اختیاری

2 comments
چھوٹی چڑیا چھوٹے سے پنجرے میں قید بڑی بے چینی سے جھولے سے نیچے پھر جھولے پہ اُڑ اُڑ جاتی۔بس اتنا سمجھ کر چہچہاتی کہ ایک دن یہاں سے آزادی پا کر اس سے بڑی اُڑان بھروں گی۔اور ایک دن اچانک پنجرہ کی چھوٹی سی کھڑکی کھلا پا کر اُڑان بھر جاتی۔ مگر جسے وہ آزادی سمجھ کر اونچی پرواز سے لطف لینے لگی کچھ توقف کے بعد وہی کمرہ اس بے چاری چڑیا کے لئے بڑے پنجرے میں بدل گیا۔آزادی کے جس دیپ کو وہ جلا کر مدھم ہوتی قید ِ روشنی کو سہارا دیئے ہوئے تھی۔وہ ایک بار پھر اس کے لئے نا اُمیدی اور مایوسی کے اندھیروں سے خوف میں مبتلا ہونے لگتی ہے۔بچوں کی چھیڑ چھاڑ سے عاجز اب وہ خونخوار بلیوں کے پنجوں کی زد میں چلی گئی۔جہاں اسے خود کے بچاؤ کے لئے اپنے پروں کی طاقت سے زیادہ اندھیرے میں چمکتی آنکھوں سے اوجھل رہنے میں زندہ رہنے کی گارنٹی ملتی ہے۔
سفاری پارک میں ہاتھیوں کو جنگل جیسی مستی کی اجازت نہیں۔شیروں کو چنگھاڑنے کی اتنی اجازت ہوتی ہے وہ بدن کو انگڑائی سے تازہ دم رکھ سکیں۔اُچھل کود کرتے کنگرو ، کانوں سے چوکنا رہنے والےہرن تماشائیوں کے لئے تفریع طبع کا سامان بن کر رہ جاتے ہیں۔جس نے جہاں آنکھ کھولی وہیں وہ اس کا قیدی ہے۔ایک پنجرہ سے دوسرے  بڑےپنجرہ میں منتقلی ہی اسے آزادی کے نشہ میں مبتلا کر دیتی ہے۔پنجرے بدلتے چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ روئے زمین کی قید میں چلا جاتا ہے۔دنیا کا ہر بڑا ملک اس کی دسترس میں آ جاتا ہے۔فاصلے سوچوں سے نکل کر گھڑی کی سوئی سے منسلک ہو جاتے ہیں۔
آزادی پا کر مطمئن نہ ہونا اسے اگلی منزل کی قید میں پہنچا دیتا ہے۔انسان کا سفر کبھی ختم نہیں ہوتا اور نہ ہی قید ختم ہوتی ہے۔جہاں رہ کر وہ آزادی سے مسرور ہوتا ہے وہیں کسی اگلی منزل کے قیدی کو وہ قیدی ہی نظر آتا ہے۔قید کے یہ سلسلے پہاڑوں کے سلسلہ جیسے ہیں ایک پہاڑ کی چوٹی پر دوسرے پہاڑ کا نقطہ آغاز۔
زندگی کی حقیقتوں کو کہانیوں سے تشبیہ دینے والے تو بہت مل جائیں گے۔محبوب کو لفظوں کے ترازو میں تول کر بیش قیمت بنا دیں گے۔محبت کو جگر سے خون لے کر قلب کی روانی میں بہا دیں گے۔جس سراب کے وہ قیدی ہوتے ہیں زمانہ بھی اسی کا قیدی بنا دیتے ہیں۔آبشاروں چشموں سے اُبلتا صاف شفاف پانی پیاس بجھاتا ، سیراب کرتا ہوا،شور مچاتا ندی نالوں سے ہوتا ہوا دریاؤں سے گزر کر پھر سمند ر میں گر کر مٹھاس کھو کر پھر اپنی باری پہ بخارات بن کر پہاڑوں میدانوں میں بادل بن کر برسنے کے لئے بیتاب رہتا ہے۔
چھوٹی چڑیا پنجرہ کی رہائی سے کمرے کا قیدی ہونے پر فخر سے سینہ نہیں تان سکتی۔قید کے یہ سلسلے ایک پنجرہ سے دوسرے تک بڑھتے چلے جاتے ہیں۔حتی کہ روئے زمین کی قید تک بات چلی جاتی ہے۔ان میں سے بعض ایک قدم آگے بڑھ کر کائنات کی چکاچوند روشنیوں کے قیدی بن جاتے ہیں اور انہیں زمین ان کی تھکن سے بھی چھوٹی نظر آتی ہے۔
جنہیں سچی محبت کی تلاش ہوتی ہے وہ صرف محبوب کے طرز تکلم سے مطمئن ہو جاتے ہیں۔حالانکہ یہ قید کے سلسلے ایک سے بڑھ کر ایک کی تلاش کے بعد بھی منطقی انجام تک نہیں پہنچ پاتے۔یہ میٹھے رس بھرے آڑو کی مانند ایک وقت کے بعد اپنے ہی وجود سے پیدا ہونے والی سونڈی کا شکار ہو جاتے ہیں۔جن کا اس خوبصورت چیز سے کوئی تعلق بھی نہیں ہوتا۔جس طرح روزمرہ کے معمولات زندگی دھیرے دھیرے زہر گھولتے ہیں۔آہستہ آہستہ سارا وجود اس کے کرب سے تکلیف کا شکار ہو جاتا ہے۔
غم دکھ درد وجود کو ایسا قیدی بنا کر رکھتا ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ آنکھیں بند کرنے سے درد کا احساس کم ہو جائے گا۔جان چھوٹ جانے کو درد چھوٹ جانے کا مداوہ سمجھتے ہیں۔انسان جتنا دل پھینک محبت میں ہوتا ہے خواہشات میں نہیں ہوتا۔ماں باپ کی محبت ،بہن بھائیوں کی محبت، اولاد کی محبت اور محبوب کی محبت۔قید کے یہ سلسلے بھی دل کا چین اور راتوں کا سکون چھین لیتے ہیں۔مریض کبھی لاعلاج نہیں ہوتا مرض لا علاج ہو جاتا ہے۔درد کا علاج دکھ سے ممکن نہیں ہوتا۔مجبوری لاچاری میں ضرورت سے دور رہتی ہے۔دکھ کی بھٹی سے نکل کر انسانوں سے نیک اعمال خود بخود سرزد نہیں ہونے لگتے۔
جینے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگانی پڑتی ہے اور پانے کے لئےآگے بڑھنے کی ہمت پیدا کرنی پڑتی ہے۔جو چند لفظوں کے اظہار کی قربانی دے کرہزاروں لفظوں کے نیچے دب جاتے ہیں۔وہ سمجھ ہی نہیں پاتے کہ جس طرح خیرات میں ملی روٹی اور بخشش میں ملی زندگی سے صرف زندہ رہا جا سکتا ہے۔اُدھار کے الفاظ لاکھوں بھی ہوں تو ایک مسکراہٹ کے سامنے ہیچ ہو جاتے ہیں۔ 
پنجرے میں قیدیوں کے لئے یہ تخیل ہے ۔مگر جو ان سے آزادی پا لیتے ہیں ان کے لئے یہ ایک حقیقت ہے۔

  محمودالحق

Monday, August 25, 2014

دیکھ ہمارا کیا رنگ کر دیا

1 comments

جیولری ، کھلونے ، بوتیک ہو یا کاروں کا شو روم صرف دیکھ کر یا ہاتھ سے محسوس کر کے تسلی نہیں ہوتی۔جب تک کہ وہ احساسِ لمس سے خوابیدہ نہ کر دے۔ نظر بھربھر دیکھنے سے اپنائیت کا احساس موجزن نہیں ہوتا۔عدم دستیابی خالی پن سے زیادہ اپنے پن سے عاجز ہو جاتی ہے۔آج لفظوں سے اظہار اجاگر نہیں ہو گا۔کیفیت بیان سے آشکار نہیں ہو گی۔احساسات اور محسوسات پر اعتراضات بھی نہیں ہوں گے۔
کون جانتا ہے کہ رات دن سے الگ کیسے ہوتی ہے اور دن رات میں کیسے چھپ جاتا ہے۔چاندنی راتوں میں سمندر پر لہریں کیوں رقص کرتی ہیں۔آسمانوں سے پانی برس کر پھلوں پھولوں میں رنگ و خوشبو کے رنگ کیسےبکھیر دیتا ہے۔ چاہنے اور پانے کے انداز جدا ، رنگوں کی ترتیب الگ رہتی ہے۔ رنگ ونور کی برسات صفحات پر اترے تو آنکھوں کو خیرہ کر دیتی ہیں۔مگر جب قلب پہ اُترے تو روح میں خوشگوار احساسِ حیرت کو جاگزیں کر دیتی ہے۔ 
آرٹس کے مضامین پڑھنے والا سائنسی توجیحات پر سر کھجانے سے آگے نہیں بڑھتا۔ کیونکہ وہاں سوچ داخلہ بند کے آویزاں بورڈ سے استقبال کرتی ہے۔ قربت کا مضمون پڑھنے والے محبت کے مفہوم سے ہمیشہ ناآشنا رہتے ہیں۔پانے کا جنون احساس کے لگن سے کبھی ہم رکاب نہیں ہوتا۔بہشتی زیور بحر طور زمینی زیور سے بدرجہا بہتر بھی ہے اور لازوال و لافانی بھی ۔
جن چیزوں کی اہمیت انہیں پانے کے بغیر مکمل نہ ہو تو ایک سے بڑھ کر ایک کی تلاش کے سلسلے ختم نہیں ہوتے۔ جیولری ، کپڑے ، جوتے کا نیا ڈیزائن اور کار  کانیا ماڈل ،گلے میں لٹکے ہیرے کے ہار اور گیراج میں کھڑی نئی گاڑی کو بھی بے وقعت کر دیتی ہے۔ بچے جن کھلونوں کے لئے زمین پرسر پٹختے ہیں۔ پھر نیا دیکھ کر انہی کھلونوں کو زمین پر پٹخ دیتے ہیں۔ 
مگر اس کے مقابلے میں قدرت اور فطرت سے محبت رکھنے والے آپس میں دست و گریباں نہیں ہوتے۔ پانے کے لئے حسد و رقابت کی بھٹی میں نہیں جلتے۔چاہت بہت  ہوتی ہے مگر طلب نہیں کہ جان پر بن آئے۔ان کا جینا آسان ہوتا ہے ۔حقیقی خوشی سے سرشار ہوتا ہے۔صرف محسوس کرنے سے ہی قربت کے احساس سے سرشار ہو جاتے ہیں۔ایک کے بعد ایک روح میں سماتا چلا جائے  توتشنگی بڑھ جاتی ہے مگرتڑپ نہیں ۔ 
میلوں پھیلے گلستان میں ہزاروں رنگ بکھیرتے خوشبو پھیلاتے پھول دیکھنے والوں کوسحر میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ ایک کے بعد دوسرا جاذبیت سے جذبیت بڑھا دیتا ہے مگر پہلے کی محبت کم نہیں کرتا۔ انہیں توڑ کر گھر وں میں سجایا  نہیں جاتا بلکہ قلب ِروح کے گلدان میں بسایا جاتا ہے۔خوشبو سے خود کومہکایا جاتا ہے۔ اظہار ِخیال قلبِ حال پر فوقیت نہیں رکھتا۔لفظ تو پھول کی مانند ہیں ۔کوئی انہیں گلستان میں مہکتا دیکھ کر محبت کا شکار ہوتا ہے تو کوئی انہیں توڑ کر کتابوں میں چھپا کر چپکے چپکے روتا ہے۔
سکول  میں پڑھنے والے طالبعلم چاہے پہلی پوزیشن سے کامیابی کے زینہ پر قدم رکھیں یا صرف پاس ہونے پر اکتفا کر پائیں۔ مگر بیس کمروں کے سکول کو بیس ہزار طالبعلم میرا سکول  کہہ کر پکارتے ہیں۔ اس کے برعکس ہوٹل یا ہوسٹل میں سالہا سال  رہنےکے بعد بھی اسےاپنا نہیں کہہ پاتے۔
زندگی میں صرف دیکھنے سے مفہوم جانے نہیں جا سکتے۔زندگی میں درپیش حالات و واقعات کی کھائیوں سے دوبارہ ابھر کر سمجھے جا تے ہیں۔ کتابوں سے مطالب ومعنی تلاش کئے جا سکتے ہیں مگر مفہوم نہیں۔

محمودالحق                           

Wednesday, August 6, 2014

زمین میری تھکن سے بھی چھوٹی ہے۔۔۔۔۔ سارا شگفتہ

2 comments

           ؛’‘؛’‘؛’‘؛’‘؛محمودالحق کے قلم سے؛’‘؛’‘؛’‘؛’‘؛

سفید چاندنی میں لپٹی آنکھیں موندھے وہ مسکرا رہی تھی۔بائیں کندھے کو بایاں کندھا دینےوالےآگے سے پیچھے دائیں تو کبھی بائیں کندھے سے آج ایک فعل کو ایسے ادا کرنے جارہے تھے جیسے کوئی زمین کا بوجھ اُتارنے جا رہے ہوں۔ آج تو وہ ایک لاش کو دفنانے جا رہے تھے۔ جس کے چہرے پہ مسکراہٹ روح اپنا صدقہ سمجھ کر چھوڑ گئی تھی۔جسے جسم نے خیرات سمجھ کر کبھی قبول ہی نہیں کیا تھا۔ مگر آج وہ بے بسی کی تصویرنہیں تھی۔
بادل آج بھی کالی گھٹا کی صورت اپنا سایہ چھوڑنا نہیں چاہتا تھا۔کہ کہیں سورج کی کرنیں اسے اپنی آغوش میں نہ نہلا دیں۔کرنیں بادلوں سے اُلجھ رہی تھیں سفید چاندنی پرایک نظر التفات ڈالنے کے لئے بے چینی سے بادلوں میں کندھا دینے والوں کی طرح  کبھی آگے سے کبھی پیچھے کبھی دائیں سے تو کبھی بائیں سے جھانک رہی تھیں۔  وہ آج بوند بوند برس کر روشنیوں سے انتقام لینے کے موڈ میں تھے۔ مٹی زرہ زرہ بکھر کر آج سارا وجود سمیٹ کر گوندھنے کے موڈ میں تھی۔بوند بوند پانی اسے بکھرنے سے روک رہا تھا۔ آج کندھوں پر جانے والی جوتیوں میں رہنے سے بھی بد تر حالت میں تھی۔جو پتھر دیواریں چنتے چنتے گلے تک آ گئے تھے آج وہ آنکھوں سے منظر چھین لینے کے لئے سر سے اوپر چننے کے لئے بیتاب تھے۔بیگانے سر سے بوجھ اُتارنے جا رہے تھے اور اپنے بانہیں پھیلائے سمیٹنے کے لئے بیتاب تھے۔ 
وہ سفید بے داغ کاغذ کے ایک ورق پر ایک نقطہ ڈال کر اُس میں اُتر جاتی۔وہاں اسے ویسا ہی پھر کاغذ ملتا ۔ نقطہ ڈال کر پھر  اس میں اُتر جاتی۔ نہ جانے  وہ سفید اور اُجلے اوراق کی کتنی ہی تہوں کے نیچے اُتر گئی۔ جہاں اسے سمندر ایک قطرہ بن کر آنکھ سے ٹپکتا نظر آیا۔زمین ایک زرہ کی مانند ہوا میں بھٹکتی نظر آئی۔سورج اس کے ہاتھ میں یوں اُتر آیا جیسے چیونٹی کے منہ میں آٹا۔
جو پہاڑ بن کر اُس پر گرے جہاں اُس کی چیخیں  دم گھٹ گھٹ کر مرتی رہیں ۔ وہ بے بسی سے تلاوت کے لئے انسانی صحیفہ چاہتی رہی۔مگر آسمانی صحیفوں کی تلاوت کرنے والے اسے پتھر کی مورتی بنا کر چٹانوں پر نصب کرتے رہے۔وہ کالی سیاہی کی مورتی بن کر علم کے قلم سے آڑھی ترچھی لکیروں میں ڈھال دی گئی۔
وہ بھول گئی یہ ہوائیں کب اُس کی سانسوں سے آشنا ہوئیں۔کب ان فضاؤں نے اُس کی پہلی آواز سنی تھی۔ ہاں یہ یاد تھا اسے پنچھیوں کی چہچہاہٹ سے وہ روئی تھی۔جب بھی پنچھی چہچہاتے وہ اپنا جنم دن منا لیتی۔
وہ ہواؤں کو شیشہ کہتی جو اسے چھو کر اپنے ہونے کا احساس دلاتے۔قوس وقزح کے رنگ اس کے رنگوں کو بے رنگ کر دیتے۔ سورج اپنی تمازت سے اُس کے پیرہن کے رنگ پھیکے کر دیتا۔پیڑوں پر ناچتے ہرے پتے ،سمندر پر بہتی سفید لہریں،آنکھوں سے بہتے آنسو  جس میں وہ خود ہی ڈوب جاتا ہے۔ان سب کو چوری ہونے کا خطرہ نہیں ۔جو انہیں چرا لے جائے وہ دن میں توڑے پھولوں کو رات میں کالا کر دیتے ہیں۔وہ اندھیروں کو چور سمجھتی۔جو روشنیوں کو چرا لیتے ہیں۔
پیڑ پر رات بسر کرنے والا پنچھی پتوں کے ہلنے پر پھڑ پھڑا جاتا ہے۔وہ صبح کے انتظار میں وہیں دبکا بیٹھا رہتا ہے۔کیونکہ اندھیرے خود سے جدا نہیں ہونے دیتے ۔سبھی اندھیرے مل کر روشنی سے محبت رکھنے والوں کو ڈرا کر پھڑ پھڑانے کی صرف اجازت دیتے ہیں۔پنچھی ایک شاخ سے دوسری شاخ پر، چاہے ایک پیڑ سے دوسرے پیڑ تک چلا جائے اندھیرے پیچھا کرتے رہتے ہیں تا وقتکہ روشنیاں اندھیرے بھگا نہ دیں۔
وہ ایک ایسا دکھ تھا  جو ماں کے کلیجے سے خون کا آخری قطرہ بھی نچوڑ کر لے گیا۔ کوکھ میں پال کر چند لمحے زندگی کا کفارہ ادا  کر گئے۔ اُس کے کانوں سے خاموشیوں نے ساری آوازیں چھین لیں۔اُس کی چیخوں کی لہروں کو خاموشی کے گہرے سمندر کے طوفان غرق کر دیتے۔آسمان زمین کی گود میں اُتر کر زرے زرے کو گوندھ کر مٹی کی مورتیں بناتا ۔پھر توڑ کر مٹی بنا دیتا۔وہ خاموشی سے زروں سے مورتی بنتی تو لمحوں میں پھر زروں میں ڈھل جاتی۔جہاں اُس کے آدھے کمرے میں ہوا روشنی سے اُلجھ جاتی۔   تو وہ سہم کر کھلے آنگن میں یوں اُترتی جیسے دکھ کے گرم بدن پہ ٹھنڈی ہوا اُترتی ہے۔مگر وہاں روشنی بن سائے کے آس پاس سے گزر جاتی۔وہ انتظار کے دیپ جلا کر دکھوں کی بستی میں درد دل کے مسیحاؤں کو آنکھوں کی روشنی پانے کے لئے تکتی رہی۔ مگر جنہیں آنا تھا وہ نہیں آئے۔صنم روٹھ جائے تو آنکھیں آنسوؤں سے بھر جاتی ہیں۔ جب دل ٹوٹ جائے تو  آنکھوں سے روشنی روٹھ جاتی ہے۔ 
نہ جانے کتنی ہی آنکھیں دل میں اُمید کے دیپ جلا کر  گھپ اندھیرے میں انتظار کر رہی ہوں۔ جو صبح کے انتظار میں پھڑ پھڑا رہی ہوں۔ آخر کب تک انسانی صحیفوں کے انتظار میں آنکھیں پتھرائی جاتی رہیں گی۔جب تک کنارے سامنے نظر آتے ہوں ہاتھ دینے والے نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔ جب کنارے اوجھل ہو جائیں تو تنکے بھی سہارے بن جاتے ہیں۔
بے سکونی اور تنہائی کے آسیب اتنے طاقتور ہو جاتے ہیں کہ انسانی بستیاں آسیبوں کی آماجگاہ معلوم ہوتی ہیں۔ جہاں بے اعتباری کے بھوت دن میں سوتے تو راتوں کو جگاتے ہیں۔مٹی کی جزبیت افکار وشعور کی تتلیوں کو بوند بوند نہلا کر بے رنگ کرنے کے درپے رہتی ہے۔پانی آگ سے تپش محسوس کرتی ہے تو آگ پانی سے ٹھنڈک کا احساس پانے سے ڈرتی ہے۔ آب آب میں رہ کر آب رہتا ہے مگر آگ آگ سے مل کر صرف خاک رہ جاتی ہے۔اُداسیوں کے محل برباد سے سیدھا نا اُمیدی کی قبر میں نہیں اُترا جا سکتا۔    بادل نے برس کر گزر جانا ہے اگر وہ ٹھہر جائے تو اسے نچوڑا نہیں جا سکتا۔جب تک قبر کھودی جاتی رہتی ہے خالی پیٹ ماتم ہوتے رہتے ہیں۔ جب مٹی بھر دی جاتی ہے ماتم روک کر پیٹ بھرے جاتے ہیں۔زندگی کی سچائیاں مٹی سے مل کر پائی جاتی ہیں ۔ مٹی میں گھل کر نہیں۔بادل زمین پر  بوند بونداُترتاہے۔آسمان رنگ بدلتا ہے۔ قوس و قزح کے رنگ۔ رم جھم  ستارےبوند بوند روشنی آنکھوں میں اُترتے ہیں۔ جو سونے کے بعد بھی کالے آسمان پر چمکتے ہیں۔ وہ ہمیشہ چاہ پانے والی نگاہوں کے انتظار میں روشنی کے دیپ جلا کر رکھتی ہیں۔ مگر نگاہیں اندر کے اندھیروں سے گھل مل جاتی ہیں کہ باہر کی روشنی انہیں کسی مزار پر جلتے تیل کے چراغ دکھائی دیتے ہیں۔جنہیں منت مانگنے والوں کی مدد سے روشن رہنے کی  عادت ہو جاتی ہے۔ ان کو زندگی تبھی ملتی ہے جب مایوسی اور محرومی کے شکار ان میں اُمید کے تیل ڈالتے ہیں۔
ایسے چراغِ شب بجھا دو جو نگاہوں کو ستاروں کی محبت سے محروم رکھیں۔


!نوٹ 
میں نے یہ تحریر شاعرہ سارا شگفتہ کو پڑھنے کے بعد لکھی ۔   اس کے الفاظ میری روح میں اُتر گئے ۔میں نے بہت کوشش کی کہ اُس مقام پر کھڑا ہو کر دیکھ پاؤں جہاں سارا شگفتہ نے نظمیں لکھیں۔لیکن میں ڈر کر پیچھے ہٹ گیا۔ کیونکہ اُس کے لفظ کوڑوں کی طرح میری روح پر برس رہے تھے۔میں واہ واہ کی بجائے ہائے ہائے کرتا رہ گیا۔ اُس کے الفاظ میری روح کو تشنگی کی انتہا پر پہنچا کر اکیلا چھوڑ گئے۔ میں نے سونا چاہا تو اُس کے الفاظ مجھے جھنجوڑ جھنجوڑ کر اُٹھا دیتے کہ  تلاوت کے لئے انسانی صحیفہ تلاش کرو۔ میں نے اپنے زمانہ کا سارا علم ٹٹول ڈالا ۔اُس کے الفاظ آنکھیں بن کر مجھ سے سوال کرتے ہیں۔ جن کے جواب میرے پاس نہیں۔اسے تیس سال پہلے کوئی ٹرین کے نیچے آنے سے روک نہ سکا۔امریتا پریتم نے اسے جان کر کتاب لکھ ڈالی اور اسے انسانی صحیفہ کی پہلی آیت قرار دیا۔   مجھے آج تیس سال بعد معلوم ہوا کہ وہ کون تھی۔اُس کے لفظوں کے سامنے میں پانی پانی ہو گیا۔

تنہائیوں کی نوکیں میرے اعضاء میں پیوست کر دی گئی ہیں
پھر بھی کہتے ہو، آؤ باغ کو چلیں
میں اپنی آنکھوں پہ زندہ ہوں
میرے لب پتھر ہو چکے ہیں
اور کسی سنگ تراش نے ان کا مجسمہ
کسی پہاڑ کی چوٹی پر نصب کر دیا ہے
میں لہُو سے بیگانی ہوں
میرے جذبے اپاہج کر دیئے گئے ہیں
میں مکمل گفتگو نہیں کر سکتی
میں مکمل اُدھار ہوں
میری قبر کے چراغوں سے ہاتھ تاپنے والو
ٹھٹھرے وقت پر ایک دن میں بھی کانپی تھی
کاش آنکھیں آواز ہوتیں
زنگ کی دھار میرے لہُو میں رچ رہی ہے
بتاؤ ! تھوڑے پھُول دو گے
تیور زنگ آلود ہو چکے ہیں
میں نے کسی سے شاید وعدہ کر لیا تھا
مُسکراہٹ ہنسے گی تو آنکھیں ہنسیں گی
یہ تو لفظ کھڑکی کا پردہ ہوئے
لیکن دیوار کا پردہ نہ ہو سکے
رفتہ رفتہ پتھر میری گردن تک آ پہنچے ہیں
ڈر ہے کہیں میری آواز پتھر نہ ہو جائے
یہاں تو روز مجھے میری قبر سے اُکھاڑا جاتا ہے
کہ لوگ میری زندگی کے گُناہ گِن سکیں
یہاں تو میرے لہُو کی بوند بوند کو رنگا جا رہا ہے
لوگوں کی پُوریں انگارہ ہو رہی ہیں
میں کس سے ہاتھ مِلاؤں
کہ میری یاد کے ساتھ ہر ہر دل میں
ایک پتھر نصب کر دیا گیا ہے
میں نے نہیں کہا تھا
سُورج ہمیشہ میرے کپڑوں کا رنگ چُرا لے جاتا ہے
میرے قدم مجھے واپس کر دو
یہ اُدھار مہنگا ہے
میری دوکان چھوٹی ہے
جانے کون سی سڑک پہ ہم دوڑے تھے
میں پُوری مٹی میں چھُپ گئی
اور تم مٹی میں پانی چھڑکا کے
سوندھی سوندھی خوشبو اپنے جذبے میں لئے
اپنی زندگی کے دن بڑھا رہے ہو ۔۔۔۔
دیکھ تیرا چاند پتھر پہ لڑھک آیا ہے
اب کون سے چاند کو دیکھ کر
لوگ دعائیں مانگیں گے
میرا کفن زہریلے دھاگوں سے سیا جا رہا ہے
اور تم کہتے ہو
سفید لباس میں تم کتنی اچھی لگتی ہو ۔۔۔۔

زمین میری تھکن سے بھی چھوٹی ہے۔۔۔۔۔ سارا شگفتہ

3 comments

           ؛’‘؛’‘؛’‘؛’‘؛محمودالحق کے قلم سے؛’‘؛’‘؛’‘؛’‘؛

سفید چاندنی میں لپٹی آنکھیں موندھے وہ مسکرا رہی تھی۔بائیں کندھے کو بائیاں کندھا دینےوالےآگے سے پیچھے دائیں تو کبھی بائیں کندھے سے آج ایک فعل کو ایسے ادا کرنے جارہے تھے جیسے کوئی زمین کا بوجھ اُتارنے جا رہے ہوں۔ آج تو وہ ایک لاش کو دفنانے جا رہے تھے۔ جس کے چہرے پہ مسکراہٹ روح اپنا صدقہ سمجھ کر چھوڑ گئی تھی۔جسے جسم نے خیرات سمجھ کر کبھی قبول ہی نہیں کیا تھا۔ مگر آج وہ بے بسی کی تصویرنہیں تھی۔
بادل آج بھی کالی گھٹا کی صورت اپنا سایہ چھوڑنا نہیں چاہتا تھا۔کہ کہیں سورج کی کرنیں اسے اپنی آغوش میں نہ نہلا دیں۔کرنیں بادلوں سے اُلجھ رہی تھیں سفید چاندنی پرایک نظر التفات ڈالنے کے لئے بے چینی سے بادلوں میں کندھا دینے والوں کی طرح  کبھی آگے سے کبھی پیچھے کبھی دائیں سے تو کبھی بائیں سے جھانک رہی تھیں۔  وہ آج بوند بوند برس کر روشنیوں سے انتقام لینے کے موڈ میں تھے۔ مٹی زرہ زرہ بکھر کر آج سارا وجود سمیٹ کر گوندھنے کے موڈ میں تھی۔بوند بوند پانی اسے بکھرنے سے روک رہا تھا۔ آج کندھوں پر جانے والی جوتیوں میں رہنے سے بھی بد تر حالت میں تھی۔جو پتھر دیواریں چنتے چنتے گلے تک آ گئے تھے آج وہ آنکھوں سے منظر چھین لینے کے لئے سر سے اوپر چننے کے لئے بیتاب تھے۔بیگانے سر سے بوجھ اُتارنے جا رہے تھے اور اپنے بانہیں پھیلائے سمیٹنے کے لئے بیتاب تھے۔ 
وہ سفید بے داغ کاغذ کے ایک ورق پر ایک نقطہ ڈال کر اُس میں اُتر جاتی۔وہاں اسے ویسا ہی پھر کاغذ ملتا ۔ نقطہ ڈال کر پھر  اس میں اُتر جاتی۔ نہ جانے  وہ سفید اور اُجلے اوراق کی کتنی ہی تہوں کے نیچے اُتر گئی۔ جہاں اسے سمندر ایک قطرہ بن کر آنکھ سے ٹپکتا نظر آیا۔زمین ایک زرہ کی مانند ہوا میں بھٹکتی نظر آئی۔سورج اس کے ہاتھ میں یوں اُتر آیا جیسے چیونٹی کے منہ میں آٹا۔
جو پہاڑ بن کر اُس پر گرے جہاں اُس کی چیخیں  دم گھٹ گھٹ کر مرتی رہیں ۔ وہ بے بسی سے تلاوت کے لئے انسانی صحیفہ چاہتی رہی۔مگر آسمانی صحیفوں کی تلاوت کرنے والے اسے پتھر کی مورتی بنا کر چٹانوں پر نصب کرتے رہے۔وہ کالی سیاہی کی مورتی بن کر علم کے قلم سے آڑھی ترچھی لکیروں میں ڈھال دی گئی۔
وہ بھول گئی یہ ہوائیں کب اُس کی سانسوں سے آشنا ہوئیں۔کب ان فضاؤں نے اُس کی پہلی آواز سنی تھی۔ ہاں یہ یاد تھا اسے پنچھیوں کی چہچہاہٹ سے وہ روئی تھی۔جب بھی پنچھی چہچہاتے وہ اپنا جنم دن منا لیتی۔
وہ ہواؤں کو شیشہ کہتی جو اسے چھو کر اپنے ہونے کا احساس دلاتے۔قوس وقزح کے رنگ اس کے رنگوں کو بے رنگ کر دیتے۔ سورج اپنی تمازت سے اُس کے پیرہن کے رنگ پھیکے کر دیتا۔پیڑوں پر ناچتے ہرے پتے ،سمندر پر بہتی سفید لہریں،آنکھوں سے بہتے آنسو  جس میں وہ خود ہی ڈوب جاتا ہے۔ان سب کو چوری ہونے کا خطرہ نہیں ۔جو انہیں چرا لے جائے وہ دن میں توڑے پھولوں کو رات میں کالا کر دیتے ہیں۔وہ اندھیروں کو چور سمجھتی۔جو روشنیوں کو چرا لیتے ہیں۔
پیڑ پر رات بسر کرنے والا پنچھی پتوں کے ہلنے پر پھڑ پھڑا جاتا ہے۔وہ صبح کے انتظار میں وہیں دبکا بیٹھا رہتا ہے۔کیونکہ اندھیرے خود سے جدا نہیں ہونے دیتے ۔سبھی اندھیرے مل کر روشنی سے محبت رکھنے والوں کو ڈرا کر پھڑ پھڑانے کی صرف اجازت دیتے ہیں۔پنچھی ایک شاخ سے دوسری شاخ پر، چاہے ایک پیڑ سے دوسرے پیڑ تک چلا جائے اندھیرے پیچھا کرتے رہتے ہیں تا وقتکہ روشنیاں اندھیرے بھگا نہ دیں۔
وہ ایک ایسا دکھ تھا  جو ماں کے کلیجے سے خون کا آخری قطرہ بھی نچوڑ کر لے گیا۔ کوکھ میں پال کر چند لمحے زندگی کا کفارہ ادا  کر گئے۔ اُس کے کانوں سے خاموشیوں نے ساری آوازیں چھین لیں۔اُس کی چیخوں کی لہروں کو خاموشی کے گہرے سمندر کے طوفان غرق کر دیتے۔آسمان زمین کی گود میں اُتر کر زرے زرے کو گوندھ کر مٹی کی مورتیں بناتا ۔پھر توڑ کر مٹی بنا دیتا۔وہ خاموشی سے زروں سے مورتی بنتی تو لمحوں میں پھر زروں میں ڈھل جاتی۔جہاں اُس کے آدھے کمرے میں ہوا روشنی سے اُلجھ جاتی۔   تو وہ سہم کر کھلے آنگن میں یوں اُترتی جیسے دکھ کے گرم بدن پہ ٹھنڈی ہوا اُترتی ہے۔مگر وہاں روشنی بن سائے کے آس پاس سے گزر جاتی۔وہ انتظار کے دیپ جلا کر دکھوں کی بستی میں درد دل کے مسیحاؤں کو آنکھوں کی روشنی پانے کے لئے تکتی رہی۔ مگر جنہیں آنا تھا وہ نہیں آئے۔صنم روٹھ جائے تو آنکھیں آنسوؤں سے بھر جاتی ہیں۔ جب دل ٹوٹ جائے تو  آنکھوں سے روشنی روٹھ جاتی ہے۔ 
نہ جانے کتنی ہی آنکھیں دل میں اُمید کے دیپ جلا کر  گھپ اندھیرے میں انتظار کر رہی ہوں۔ جو صبح کے انتظار میں پھڑ پھڑا رہی ہوں۔ آخر کب تک انسانی صحیفوں کے انتظار میں آنکھیں پتھرائی جاتی رہیں گی۔جب تک کنارے سامنے نظر آتے ہوں ہاتھ دینے والے نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔ جب کنارے اوجھل ہو جائیں تو تنکے بھی سہارے بن جاتے ہیں۔
بے سکونی اور تنہائی کے آسیب اتنے طاقتور ہو جاتے ہیں کہ انسانی بستیاں آسیبوں کی آماجگاہ معلوم ہوتی ہیں۔ جہاں بے اعتباری کے بھوت دن میں سوتے تو راتوں کو جگاتے ہیں۔مٹی کی جزبیت افکار وشعور کی تتلیوں کو بوند بوند نہلا کر بے رنگ کرنے کے درپے رہتی ہے۔پانی آگ سے تپش محسوس کرتی ہے تو آگ پانی سے ٹھنڈک کا احساس پانے سے ڈرتی ہے۔ آب آب میں رہ کر آب رہتا ہے مگر آگ آگ سے مل کر صرف خاک رہ جاتی ہے۔اُداسیوں کے محل برباد سے سیدھا نا اُمیدی کی قبر میں نہیں اُترا جا سکتا۔    بادل نے برس کر گزر جانا ہے اگر وہ ٹھہر جائے تو اسے نچوڑا نہیں جا سکتا۔جب تک قبر کھودی جاتی رہتی ہے خالی پیٹ ماتم ہوتے رہتے ہیں۔ جب مٹی بھر دی جاتی ہے ماتم روک کر پیٹ بھرے جاتے ہیں۔زندگی کی سچائیاں مٹی سے مل کر پائی جاتی ہیں ۔ مٹی میں گھل کر نہیں۔بادل زمین پر  بوند بونداُترتاہے۔آسمان رنگ بدلتا ہے۔ قوس و قزح کے رنگ۔ رم جھم  ستارےبوند بوند روشنی آنکھوں میں اُترتے ہیں۔ جو سونے کے بعد بھی کالے آسمان پر چمکتے ہیں۔ وہ ہمیشہ چاہ پانے والی نگاہوں کے انتظار میں روشنی کے دیپ جلا کر رکھتی ہیں۔ مگر نگاہیں اندر کے اندھیروں سے گھل مل جاتی ہیں کہ باہر کی روشنی انہیں کسی مزار پر جلتے تیل کے چراغ دکھائی دیتے ہیں۔جنہیں منت مانگنے والوں کی مدد سے روشن رہنے کی  عادت ہو جاتی ہے۔ ان کو زندگی تبھی ملتی ہے جب مایوسی اور محرومی کے شکار ان میں اُمید کے تیل ڈالتے ہیں۔
ایسے چراغِ شب بجھا دو جو نگاہوں کو ستاروں کی محبت سے محروم رکھیں۔


!نوٹ 
میں نے یہ تحریر شاعرہ سارا شگفتہ کو پڑھنے کے بعد لکھی ۔   اس کے الفاظ میری روح میں اُتر گئے ۔میں نے بہت کوشش کی کہ اُس مقام پر کھڑا ہو کر دیکھ پاؤں جہاں سارا شگفتہ نے نظمیں لکھیں۔لیکن میں ڈر کر پیچھے ہٹ گیا۔ کیونکہ اُس کے لفظ کوڑوں کی طرح میری روح پر برس رہے تھے۔میں واہ واہ کی بجائے ہائے ہائے کرتا رہ گیا۔ اُس کے الفاظ میری روح کو تشنگی کی انتہا پر پہنچا کر اکیلا چھوڑ گئے۔ میں نے سونا چاہا تو اُس کے الفاظ مجھے جھنجوڑ جھنجوڑ کر اُٹھا دیتے کہ  تلاوت کے لئے انسانی صحیفہ تلاش کرو۔ میں نے اپنے زمانہ کا سارا علم ٹٹول ڈالا ۔اُس کے الفاظ آنکھیں بن کر مجھ سے سوال کرتے ہیں۔ جن کے جواب میرے پاس نہیں۔اسے تیس سال پہلے کوئی ٹرین کے نیچے آنے سے روک نہ سکا۔امریتا پریتم نے اسے جان کر کتاب لکھ ڈالی اور اسے انسانی صحیفہ کی پہلی آیت قرار دیا۔   مجھے آج تیس سال بعد معلوم ہوا کہ وہ کون تھی۔اُس کے لفظوں کے سامنے میں پانی پانی ہو گیا۔

تنہائیوں کی نوکیں میرے اعضاء میں پیوست کر دی گئی ہیں
پھر بھی کہتے ہو، آؤ باغ کو چلیں
میں اپنی آنکھوں پہ زندہ ہوں
میرے لب پتھر ہو چکے ہیں
اور کسی سنگ تراش نے ان کا مجسمہ
کسی پہاڑ کی چوٹی پر نصب کر دیا ہے
میں لہُو سے بیگانی ہوں
میرے جذبے اپاہج کر دیئے گئے ہیں
میں مکمل گفتگو نہیں کر سکتی
میں مکمل اُدھار ہوں
میری قبر کے چراغوں سے ہاتھ تاپنے والو
ٹھٹھرے وقت پر ایک دن میں بھی کانپی تھی
کاش آنکھیں آواز ہوتیں
زنگ کی دھار میرے لہُو میں رچ رہی ہے
بتاؤ ! تھوڑے پھُول دو گے
تیور زنگ آلود ہو چکے ہیں
میں نے کسی سے شاید وعدہ کر لیا تھا
مُسکراہٹ ہنسے گی تو آنکھیں ہنسیں گی
یہ تو لفظ کھڑکی کا پردہ ہوئے
لیکن دیوار کا پردہ نہ ہو سکے
رفتہ رفتہ پتھر میری گردن تک آ پہنچے ہیں
ڈر ہے کہیں میری آواز پتھر نہ ہو جائے
یہاں تو روز مجھے میری قبر سے اُکھاڑا جاتا ہے
کہ لوگ میری زندگی کے گُناہ گِن سکیں
یہاں تو میرے لہُو کی بوند بوند کو رنگا جا رہا ہے
لوگوں کی پُوریں انگارہ ہو رہی ہیں
میں کس سے ہاتھ مِلاؤں
کہ میری یاد کے ساتھ ہر ہر دل میں
ایک پتھر نصب کر دیا گیا ہے
میں نے نہیں کہا تھا
سُورج ہمیشہ میرے کپڑوں کا رنگ چُرا لے جاتا ہے
میرے قدم مجھے واپس کر دو
یہ اُدھار مہنگا ہے
میری دوکان چھوٹی ہے
جانے کون سی سڑک پہ ہم دوڑے تھے
میں پُوری مٹی میں چھُپ گئی
اور تم مٹی میں پانی چھڑکا کے
سوندھی سوندھی خوشبو اپنے جذبے میں لئے
اپنی زندگی کے دن بڑھا رہے ہو ۔۔۔۔
دیکھ تیرا چاند پتھر پہ لڑھک آیا ہے
اب کون سے چاند کو دیکھ کر
لوگ دعائیں مانگیں گے
میرا کفن زہریلے دھاگوں سے سیا جا رہا ہے
اور تم کہتے ہو
سفید لباس میں تم کتنی اچھی لگتی ہو ۔۔۔۔

Tuesday, August 5, 2014

میں ہوں برگ و بار

0 comments

ساری دنیا میرے سامنے ہے۔  زرہ زمین سے لیکر ستارہ آسمان تک میں دیکھ سکتا ہوں مگر مجھے میرا اپنا وجود محسوس نہیں ہو پا رہا ۔ ہاتھوں کو مسلتا ہوں پاؤں  رگڑتا ہوں پھر بھی اپنا آپ محسوس نہیں کر پا رہا۔ 
 یہ سوچتے سوچتے میرے دل کی دھڑکن بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ سانس میری روح میں سرایت کرتا جارہا ہے۔
طوفان تو کب کا تھم چکا ہے۔
سانس آج اکھڑا سا کیوں محسوس ہو رہا ہے۔ یہ مجھے اپنے پن کا احساس نہیں دلا پا رہا۔
ایسے لگتا ہے کسی کی کونپل کسی دوسری شاخ میں پیوند کر دی گئی ہو۔ اجبنیوں کو بہت مشکل سے قبول کیا جاتاہے۔
 ہر شاخ اپنا وجود ہی چاہتی ہے۔ آزادی سے جینے کا ڈھنگ اپنے ہی وجود سے پھیل کر خود میں سماتی ہے۔ اسے کسی کا انتظار نہیں۔ بہار ہو تو زمین کو سینچ کر پھول کھلا دیتی ہے۔ خزاں میں انہی پتوں کو پھر لوٹا دیتی ہے۔ نہ احسان اٹھاتی ہے نہ احسان جتاتی ہے۔ جس سے لپٹ کر پروان چڑھتی ہے۔ جدا ہو جائے تو اسی میں فنا ہو جاتی ہے۔ 
عشق کی انتہا ہے۔
پلتی، بڑھتی، کھلتی، مہکتی مگر اپنے محسن سے بیوفائی کا تصور تک نہیں۔ اس کی بہار بہار نہیں خزاں خزاں نہیں۔
 زندگی جینے کا ایک ڈھنگ ہے۔
 جس میں سلیقہ ہے، قرینہ ہے، اپنائیت ہے، جزبیت ہے، وفا ہے، عاجزی ہے۔
 مگر!
 خودسری نہیں۔ جھکتے ہیں تو بوجھ سے نہیں۔ محبت کو ہاتھوں پہ رکھ لیتے ہیں۔
 خوشبو پھیلا دیتے ہیں تاکہ پیاس بجھانے والے بھوک مٹانے والے راستہ نہ بھٹک جائیں۔
چھپاتے نہیں ہیں کھلے دل سے بلاتے ہیں۔ 
مسافروں کا انتظار کرتے کرتے سوکھ جائیں تو پھر لوٹا دیتے ہیں۔
 سخت گرمی ہو تو آنچل بن جاتے ہیں۔ خود جلنے کا ملال نہیں۔
 پناہ دینے میں شاخ شاخ سے بڑھ جانے کی دوڑ میں ہے۔ ہر خوشی کا پل سنبھالنا ہی ان کی معراج ہے۔
 اس خدمت کا کیا صلہ پاتے ہیں؟ جن پہ احسان کرتے ہیں انہیں کے ہاتھوں مرتے ہیں۔ دفنائے نہیں جاتے سجائے جاتے ہیں۔
 خوشیوں میں تو شریک ہیں۔ جان کنی کے عالم میں دکھوں کے نالے ہیں۔
 بہار میں تو جیت گئے۔ 
مگر!
  خزاں میں ہار  گئے  وہ  برگ  و  بار

محمودالحق