Friday, October 17, 2014

آنکھیں جو کھوجتی ہیں

1 comments
علم و عرفان میں یکتائی ہر کسی کا نصیب نہیں ۔علم وفضل کے قلمدان آبروئے ورق پر آفرینش ہوتے ہیں۔کیاریوں میں پودوں کی آبیاری سے ننھے بیج توانا درخت تک کا سفر باآسانی طے کر لیتے ہیں۔بلند وبالا پہاڑ ،وادیوں میں بہتے چشمے ،انواع واقسام کے میوے اور خوشبو بھرے پھل نظروں میں ساکت فلم کی طرح ٹھہر جاتے ہیں ۔ انہیں محسوس کرنے کے لئے ایک جھلک ہی کافی ہوتی ہے کسی اینیمیٹڈ فلم  کے ایک سیکنڈ میں پچیس فریمز جیسی نہیں۔
آنکھ سے صرف دیکھنے کا کام لیا جاتا ہے حالانکہ یہ نظر کی گرفت میں آنے والے ہر منظر کو فریمز کی صورت دماغ کے حساس سٹور روم میں ارسال کرتی رہتی ہے۔دور و نزدیک  کےمناظر ،ان کی رنگت ، ان کی خوبصورتی  حتی کہ ان فاصلوں کو بھی ماپ لیتی ہے۔ جہاں سے ان کو دیکھا گیا ہو،محسوس کیا گیا ہو حتی کہ ان کےقرب و لمس سے لطف اندوز ہو کر سرشاری میں قربت کا نشہ  روح میں اتار لیا گیا ہو۔
جو فارمولہ نظروں کی طرح ہماری ذات کی شناخت اور پہچان میں آسانی  سے فٹ بیٹھ جائے  سلوموشن کے فی سیکنڈ میں آنے والے فریمز کی بجائےمکمل سین یاد داشت کی سی ڈی پر ریکارڈ کر لیا جاتا ہے۔موضوع جتنا اہم ہے وہاں تک پہنچنے میں ایک سفر طے کرنا پڑے گا۔جیسا کہ ان الفاظ کو پڑھنے تک کا سفر طے کیا گیا۔نہیں اتنا کہہ دینا کافی نہیں ہو گا کہ اتنے سال اور اتنے ماہ زندگی کے نشسیب و فراز  سے گزر چکے ہیں یا یہ  کہ اتنی بہاریں دیکھ چکے ہیں۔
پیدائش سے لیکر موت تک مسلسل سفر میں رہتے ہیں۔ایک پل کے لئے بھی نہیں رکتے۔پچاس سال پورا ہونے پر انسان مسرور ہوتا ہے ۔ایک ہی گاؤں میں پچاس برس گزارنے والا اور دنیا بھر کا سفر کرنے والا ایک ہی طرح سے بڑھاپے کے آثار خدو خال میں تبدیل ہوتے ہوئے پاتا ہے۔کائنات میں زندگانی کا سفر دونوں اجسام نے اتنا طے کیا ہوتا ہے کہ چند ہزار یا  چند لاکھ میل ان کی ظاہری ہیئت پر زیادہ اثرانداز نہیں ہوتے۔کیونکہ سورج کے گرد دونوں کا سفر 47 ارب کلو میٹر بنتا ہے۔ زمین سورج کے گرد ایک سال میں 94 کروڑ کلومیٹر کا فاصلہ  طے کرتی ہے اور ہم اس کے ہمسفر ہوتے ہیں۔ذہنی معذورانسان چاہے عقل و شعور میں وقت کی قید سے نہ نکل پائیں مگر بڑھاپے کے اثرات ان پر زی شعور انسان کے برابر ہوتے ہیں۔کیونکہ وہ بہاروں کے ساتھ ساتھ گرمی سردی کے علاوہ خزاں سے بھی بارہا گزرتے ہیں۔  اس سفر میں چاروں اطراف کائنات  کےپل پل بدلتے مناظر کو آنکھ  صرف ایک فریم  کی صورت دماغ کو تصویر ارسال کرتی ہے۔اگر اسے فی سیکنڈ سینکڑوں فریمز کی صورت یادداشت کی ٹیپ پر ریکارڈ کے لئے بھجوایا جائے تو کچھ اور یاد رکھنے کے لئے شائد سپیس نہ بچے۔
انسانی دماغ بالحاظ ساخت و وزن تقریبا ایک جیسے ہوتے ہیں مگر ان کے سوچنے کا انداز یکسر مختلف ہوتا ہے۔عالم کے گھر جاہل اور کوتوال کے گھر چور پائے جا سکتے ہیں۔ انسانی آنکھ مختلف اشیاء کو فریمز کی صورت دماغ کے نہاں خانوں میں ارسال کرتی رہتی ہےاور ذہن انہیں جمع و منفی کے فارمولہ سے کانٹ چھانٹ کربرابر کرتا رہتا ہے ۔ اسی لئے تو روز مرہ معمولات زندگی میں ذہن کو تردد نہیں کرنا پڑتا۔جو ان کی تفریق سے رزلٹ  بتا دیتا ہے جو ہم کر گزرتے ہیں۔اسے ایک  عام فہم مثال سے  بہت آسانی سےسمجھا جا سکتا ہے۔

کسی گھر میں رشوت کے پیسے کی ریل پیل ہے وہاں چھوٹوں بڑوں کو انہیں 1- سے 100-کے درمیان  نمبر لگانے کا کہا جائے تو وہ  اس فعل کو 90- نمبر دے کر جسٹیفائی کریں گےاور ایمانداری  کو 20+ سے زیادہ نمبر نہیں دے سکیں گے کہ آج کل کہاں اتنی تنخواہ میں گزارا ہو سکتا ہےتو فیصلہ 70- کے ساتھ رشوت کے حق میں نکلے گا۔اسی طرح ایماندار انسان حق حلال کو 90+ اور بے ایمانی اور رشوت کو 10- سے زیادہ نمبر نہیں دے پائے گااور حلال 80+ کے ساتھ سر فہرست ہو گا۔اسی طرح معاشرے میں پائی جانے والی ہر اچھائی، برائی کو ازخود  جمع اور منفی نمبر لگاتے جائیں۔دماغ کیلکولیٹر کی طرح جواب سامنے رکھ دے گا۔میں جھوٹ کو 1- اور سچ کو 99+نمبر دیتا ہوں تو دماغ اسے 98+=1-99+کے ساتھ لوٹا دیتا ہے۔کوئی نیا اور سخت فیصلہ کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ہم ذہن کو جو جو نمبرز ارسال کرتے ہیں وہ انہیں تفریق سے  ہمارے ہی رویے کےمثبت یا منفی ہونے کی صورت واپس لوٹا دیتا ہے۔جیسے ہم کسی انسان کےدوسروں کے ساتھ برے رویے  کونظر انداز  کر کے  ایسی  کم سطح پر رکھتے ہیں کہ جب وہی رویہ ہمارے ساتھ روا رکھا جاتا ہے تو بڑی تکلیف ہوتی ہے۔دوسرے لوگوں کی باتوں اور مشوروں سے کبھی رزلٹ ہمارے خلاف نہیں آ سکتے جب تک کہ ہم خود اس بات کا فیصلہ نہ کر لیں کہ اچھے عوامل کو اچھے نمبروں کے ساتھ ذہن کو ارسال کیا جائے تو رزلٹ مثبت ہوں گے اورقلب سکون میں رہے گا۔

محموالحق

Thursday, October 16, 2014

زندگی کی عجب کہانی ہے

0 comments
زندگی تیرے انجام سے بے خبر  یونہی چلتے رہےجیسے ننگے پاؤں انگاروں پہ جلتے رہے۔ کبھی چاند کو اپنا سمجھتے رہے کبھی پھول سے محبت کرتے رہے۔رات کے پچھلے پہر ستاروں کی ٹمٹماہٹ سے سلگتے رہے۔چاندنی میں جسم و جاں سے اُلجھتے رہے۔حدت ِآفتاب سے تپتی ریت پر گھسٹتے رہے۔دُعا میں اُٹھے ہاتھوں کووصلِ بیتاب سمجھتے رہے۔اقرارِ زباں کو قرارِ جاں سمجھتے رہے۔ عشق ِامتحاں کو دلِ ناداں سمجھتے رہے۔ جوانی کی مستیاں حسن کی لن ترانیاں رہ گئی گھٹ کر ان میں اذیت کی سرگوشیاں۔زندگی کے میلوں میں کھو گئیں بچپنے کی معصومیت،چاہت کی پاکبازیاں،آنکھوں کا بھول پن ،کانوں کی سرخی اور رخساروں کی لالی۔ 
شجر تو کونپل سے کونپل بڑھتے رہےپھلوں پھولوں سے بھر کر پھیلتے رہے۔ جوانی بپھر کر بھی سمٹتی رہی۔اُنگلی چھونے پہ ہاتھ بھی کٹتے رہے۔ایک نظر پڑنے پر  جوجان ہتھیلی پر لئے پھرتے رہے۔ نظر بدلنے پر جان جہاں سے بھی جانے میں مسکراتے رہے۔
زندگی کی عجب کہانی ہےدل پہ گزرے تو دیوانی ہے، درد میں ڈوبے تو آفتِ نا گہانی ہے۔   

Friday, September 26, 2014

کرب واذیت کے کھونٹے

1 comments
اردو کی ٹیچر نے دوسری جماعت کے طالب علم کو دونوں ہاتھ سامنے پھیلانے کا حکم صادر فرمایا ۔  حکم کی بجاآوری کے ساتھ  ہی اس نے اپنے بیگ میں سے کالے رنگ کا ایک ڈیڈھ  فٹ لمبا ڈنڈانکالا۔پانچ پانچ دونوں ہاتھوں پر کھانے کے بعد سوجے ہاتھوں نےتختی کبھی  گھربھول نہ آنے کی قسم کھانے کے ساتھ ساتھ مولا بخش سے ملاقات کا یہ شرف کبھی  نہ  بھلایا۔زندگی میں پہلا سبق اسے بھولنے کی وجہ سے بھگتنا پڑا ۔اس کے بعد وہ ہر سبق کی طرح ساتھ رکھنے والی چیزوں کو گن گن کر روزانہ بیگ میں سنبھالتا۔بھولنے کی ایک معمولی غلطی کی سزا کو اس نے دو ہفتوں تک اپنی نرم ہتھیلیوں پر محسوس کیا تھا۔جیسے ہر رات اس کی ہتھیلیوں پر کوئی آنگارے رکھ رہا ہو۔جسم بڑے ہو جاتے ہیں مگر سزا کے اثرات وہیں رہ جاتے ہیں۔کرب واذیت کے یہ کھونٹے بچپن میں ہونے والی زیادتیوں ، نا انصافیوں  کےسنگل سے چھٹکارہ پانے کی اُمید جوانی سے بڑھاپے کی طرف پہنچا کر بھی پوری نہیں ہونے دیتے۔انسان قدموں سے میلوں کا سفر اور سوچ میں صدیوں کا سفر طے کر لینے  کے باوجود ان کھونٹوں سے چھٹکارہ نہیں پا تا۔
ہمدردی کرنے والے انہیں فریب دکھائی دیتے ہیں۔کھونٹے سے کھولنے والے انہیں ظالم نظر آتے ہیں۔سمجھتے ہیں کہ انہیں کسی دوسرے کھونٹے سے باندھنے کے لئے لے جایا جا رہا ہے۔جنہیں اعتماد سے ٹھیس پہنچتی ہے وہ اعتبار سے ڈرتے ہیں،جھوٹ سے ڈسنے والے سچ سے خوفزدہ رہتے ہیں۔بھولنے کی سزا پانے والے یاد کرنے سے ڈرتے ہیں۔خوف کا ایک عفریت روح میں سما کر اتنا طاقتور ہو جاتا ہے جس کے سامنے ایک توانا وجود بھی دوسری جماعت کے طالبعلم کی نازک ہتھیلیوں سے بڑھ کر نہیں ہوتا۔
گھر کی دہلیز اور سکول کی عمارت کے اندر سوچ کی آزادی کو باندھنے کے چھوٹے بڑے کھونٹے صدیوں سے معاشرے کے باڑوں میں سختی سے زمین میں گاڑے ہوتے ہیں۔خوش قسمتی سے اگر کوئی ان سے چھٹکارہ پا بھی لے تو بھول جانے کی سزا یاد نہ رکھنے کی عادت سے نکلنے نہیں دیتی۔اس کے بعد تلاش کے لا متناہی سلسلے پہاڑوں کی چوٹیوں کی طرح زمین پر اکڑ کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔کوئی علم کے قلم پر سوار لفظوں کے سمندر میں اُتر جاتا ہے تو کوئی عقل سے ستاروں کی روشنیوں میں کھو کر منزل پانے کی نوید سننے میں بیتاب ہو جاتا ہے۔سفر میں آگے بڑھ جانے والے اگر آنکھیں موندھ لیں تو  بعض اوقات منزل پیچھے رہ جاتی ہے۔تلاش  کے بعد منزل پاناہمیشہ خمار میں مبتلا رکھتی ہےلیکن جب مقصد نہ رہے تو سفر باقی رہ جاتا ہے منزل کہیں کھو جاتی ہے۔جسے مشکل سے ڈھونڈا جاتا ہے اسے آسانی سے کھودیاجاتا ہے۔جسے پا کر کھو دیا جائے وہ منزل اپنے نشان بھی مٹاتی جاتی ہے۔ یہ بھول بھلیوں کا ایسا پزل ہے جس میں آسانی سے داخل ہو کر مشکل سے نکلا جاتا ہے ۔ ہر بار نیا راستہ بنتا ہے تو نیا راستہ ہی نکلتا ہے۔جس میں سے ایک بار گزر کر پچھلے راستے خودبخود بند ہوتے چلے جاتے ہیں۔جیسے امتحانات میں ایک ہی کتاب سے سوالات ہر امتحان میں بدل جاتے ہیں۔جوابات چاہے کتنے ہی ازبر کیوں نہ ہوں ، ایک بار یادداشت کے پردے پر بے ہنگم ڈھول کی دھمک سنائی دیتی ہے۔ایک وقت کے بعد اگر کورس ہی تبدیل ہو جائے تو پھر پہلے جوابات ختم ہو جاتے ہیں اور نئے سوالات جنم لیتے ہیں۔جن کے حل کے لئے تلاش کا سلسلہ پھر سے شروع ہو جاتا ہے۔
سوچ و افکار کی لینڈ سلائیڈنگ سے راستے مسدود ہو جاتے ہیں۔پھر دو ہی صورتیں باقی بچتی ہیں پلٹ جاؤ یا کسی دوسرے طویل راستہ سے منزل مقصود تک پہنچنے کی کوشش شروع کر و۔کیونکہ  بعض اوقات ساری توانائی خرچ کر کے بھی بھاری پتھر اُٹھانے سے بھی راستے صاف نہیں ہوتے۔

محمودالحق

Friday, September 19, 2014

کیفیتِ اظہار

0 comments
کینوس پر رنگ بکھیرتا مصور دو آنکھوں کو وہ دکھانا چاہتا ہے جو ستاروں سے چھپ کر اسی کی روشنی سے چرایا ہو۔پھول کی نازک پتیوں سے جیسے خوشبو کو پایا ہو۔آسمان سے نچھاور ہوتے سفید روئی جیسے گالوں کو پیاسی دھرتی نے حدت کو چھپا کر ٹھہرایا ہو۔گرم ہواؤں کو سرد نم بادل  نےگڑگڑاتی بجلی سے دور بھگایا ہو۔کوئل نےکھلی چونچ سے سُر کا جادو جگایا ہو۔ 
پینٹنگ دیکھنے والا مبہوت ہو جائے ۔شاہکار کینوس سے نکل کر اُس کی روح میں جذب لہو بن دوڑنے لگے۔ایک کے بعد ایک مریض عشق بوجھل قدموں سے باہر جانے کے راستے سے اپنی سواری کا مقام ریگستان میں بھٹکے اونٹ کی طرح کبھی دائیں تو کبھی بائیں جانے کے لئے پریشانی کا شکار ہو جائے۔
تو پھر وہ مصور بھول جاتے ہیں تصویر کشش کھو دیتی ہے۔ ایک ہلکی مسکراہٹ مونا لیزا بن کر ذہن پر سوار ہو جاتی ہے۔جس کے چرچے صدیاں گزرنے پر مندمل نہیں ہو پاتے۔وہ احساس کسی شمار میں نہیں لایا جا سکتا۔کیونکہ وہ اعداد نہیں جو تعداد سے کیفیت اظہار کو بڑھا چڑھا کر کھونے اور پانے کے ترازو پر تل سکے۔
گھر کے دروازے آنگن میں ہی کھلتے ہیں اور کھڑکیاں گلیوں میں ،جہاں آنے جانے والے صرف تانک جھانک کر سکتے ہیں۔ لوہے کی ان سلاخوں میں سے گملوں میں کھلایا گیا ایک پھول اور چورن کی پڑیا پر لکھا ایک شعر باآسانی گزر سکتا ہے مگر کھانسنے والے  کے لئے دوائی اور بلکتے بچوں کے لئے چنگیر پر چند لقمے نہیں  جوانہیں ایک نظر نہیں بھاتے۔ 
حقیقت جتنی تلخ ہوتی ہے اس کے احساس کی تلخی کوبرا سانپ کے زہر سے بھی زیادہ شدت سے رگوں میں جوگی کی بین پر مستی میں محو رقص رہتی ہے۔دور رہ کر تماشا دیکھنے والے ایک ایک قدم پیچھے ہٹتے لطف اندوزی کی کیفیت سے سرشاری میں مبتلا رہتے ہیں۔ اعداد کی گنتی اور ستاروں کی چالوں کا کھیل نہیں کہ آگے بڑھنے پر سکو ربننے لگیں اور پیچھے ہٹنے پر وقت بڑھ جائے۔ 
قلب دھک دھک سے جو وجود کو دستک دیتا ہے پیٹنے پر آ جائے تو قیامت برپا کر دیتا ہےاورخاموش ہو جائےتو سکوت طاری کر دیتا ہے۔خود سے کھیلنے والوں کو گنتی بھلا دیتا ہے۔ جو آسمانوں کی سیر کرتے ہیں انہیں منٹوں میں زمین  چٹوا دیتا ہے۔ 
دھرتی کی پانی سے محبت کی کہانی آدم کی پیدائش سے بہت پہلے سے ہے مگر اس کا انجام آدم کے اختتام پر ہو گا جب پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح ہواؤں میں بکھر جائیں گے اورزمین سیدھی بچھا دی جائے گی۔ پھر نہ ہی دھرتی پیاسی رہے گی اور نہ ہی بادل اسے بجھانے آئے گا۔یہ کہانی تب تک چلے گی جب تک کینوس پر مصور کے رنگ بکھرتے رہیں گے۔ مسکراہٹوں کے جادو سر چڑھ کر بولتے رہیں گے۔
جن کی پختگیء خیال یقین کی ڈوریوں سے بندھی ہے وہ حقیقت شناسی کی گانٹھوں سے آگے بڑھنے کے لئے کوشاں رہتے ہیں۔
شاخوں پہ کھلتے پھول  ایک وقت کے بعد مرجھا کر حسنِ آرزو سے تعلق کھو دیتے ہیں۔ آسمان سے گرتی نرم روئی جیسی برف دھرتی کی حدت بڑھنے  پر پگھل جاتی ہے۔وہ اتنی ہی دیر ساتھ نبھاتی ہے جتنی دیر تک وہ اسے جذب کرنے کے قابل رہے ۔اور پانی اپنا راستہ بناتے ہوئے اپنے اصل کی طرف رواں دواں ہو جاتاہے۔ 
دو آنکھیں پھر ایک لمبے سفر پہ کسی نئے کینوس پر مصور کے پھیلائے رنگوں سے مسکراہٹ پانے کے انتظار میں ہر پڑاؤ پر رک جاتی ہیں۔جہاں ہزاروں آنکھیں ایک دوسرے میں جھانک کر پھر آگے بڑھ جاتی ہیں۔ناآشنائی کے نا ختم ہونے والے کھیل کی طرف جو ایک پزل کے حل ہونے پر اگلے قدرے مشکل پزل میں داخل کر دیتا ہے۔امتحان کے یہ کڑے وقت آزمائش کی مضبوط گرفت ڈھیلی نہیں ہونے دیتے۔  ساحل سمندر پر بنائے ریت کے گھروندے بار بار پانی میں بہہ جانے کے بعد بھی ویسے ہی بار بار بنائے جا سکتے ہیں۔ کیونکہ وہ نہ تو تخلیق ہیں اور نہ ہی شاہکار، جو دو آنکھوں سے جزب سے سرشار ہو کر مصور کا تصور مٹا سکیں۔ مگر گہرے پانیوں میں اُترنے والی کشتی ایک ہی بار تکمیل وپختگی کے بعد لہروں کے سپرد کی جاتی ہے۔کیونکہ ایک معمولی سوراخ اسے دوبارہ ابھرنے کی مہلت نہیں دیتا۔

محمودالحق
              

کیفیتِ اظہار

0 comments
کینوس پر رنگ بکھیرتا مصور دو آنکھوں کو وہ دکھانا چاہتا ہے جو ستاروں سے چھپ کر اسی کی روشنی سے چرایا ہو۔پھول کی نازک پتیوں سے جیسے خوشبو کو پایا ہو۔آسمان سے نچھاور ہوتے سفید روئی جیسے گالوں کو پیاسی دھرتی نے حدت کو چھپا کر ٹھہرایا ہو۔گرم ہواؤں کو سرد نم بادل  نےگڑگڑاتی بجلی سے دور بھگایا ہو۔کوئل نےکھلی چونچ سے سُر کا جادو جگایا ہو۔ 
پینٹنگ دیکھنے والا مبہوت ہو جائے ۔شاہکار کینوس سے نکل کر اُس کی روح میں جذب لہو بن دوڑنے لگے۔ایک کے بعد ایک مریض عشق بوجھل قدموں سے باہر جانے کے راستے سے اپنی سواری کا مقام ریگستان میں بھٹکے اونٹ کی طرح کبھی دائیں تو کبھی بائیں جانے کے لئے پریشانی کا شکار ہو جائے۔
تو پھر وہ مصور بھول جاتے ہیں تصویر کشش کھو دیتی ہے۔ ایک ہلکی مسکراہٹ مونا لیزا بن کر ذہن پر سوار ہو جاتی ہے۔جس کے چرچے صدیاں گزرنے پر مندمل نہیں ہو پاتے۔وہ احساس کسی شمار میں نہیں لایا جا سکتا۔کیونکہ وہ اعداد نہیں جو تعداد سے کیفیت اظہار کو بڑھا چڑھا کر کھونے اور پانے کے ترازو پر تل سکے۔
گھر کے دروازے آنگن میں ہی کھلتے ہیں اور کھڑکیاں گلیوں میں ،جہاں آنے جانے والے صرف تانک جھانک کر سکتے ہیں۔ لوہے کی ان سلاخوں میں سے گملوں میں کھلایا گیا ایک پھول اور چورن کی پڑیا پر لکھا ایک شعر باآسانی گزر سکتا ہے مگر کھانسنے والے  کے لئے دوائی اور بلکتے بچوں کے لئے چنگیر پر چند لقمے نہیں  جوانہیں ایک نظر نہیں بھاتے۔ 
حقیقت جتنی تلخ ہوتی ہے اس کے احساس کی تلخی کوبرا سانپ کے زہر سے بھی زیادہ شدت سے رگوں میں جوگی کی بین پر مستی میں محو رقص رہتی ہے۔دور رہ کر تماشا دیکھنے والے ایک ایک قدم پیچھے ہٹتے لطف اندوزی کی کیفیت سے سرشاری میں مبتلا رہتے ہیں۔ اعداد کی گنتی اور ستاروں کی چالوں کا کھیل نہیں کہ آگے بڑھنے پر سکو ربننے لگیں اور پیچھے ہٹنے پر وقت بڑھ جائے۔ 
قلب دھک دھک سے جو وجود کو دستک دیتا ہے پیٹنے پر آ جائے تو قیامت برپا کر دیتا ہےاورخاموش ہو جائےتو سکوت طاری کر دیتا ہے۔خود سے کھیلنے والوں کو گنتی بھلا دیتا ہے۔ جو آسمانوں کی سیر کرتے ہیں انہیں منٹوں میں زمین  چٹوا دیتا ہے۔ 
دھرتی کی پانی سے محبت کی کہانی آدم کی پیدائش سے بہت پہلے سے ہے مگر اس کا انجام آدم کے اختتام پر ہو گا جب پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح ہواؤں میں بکھر جائیں گے اورزمین سیدھی بچھا دی جائے گی۔ پھر نہ ہی دھرتی پیاسی رہے گی اور نہ ہی بادل اسے بجھانے آئے گا۔یہ کہانی تب تک چلے گی جب تک کینوس پر مصور کے رنگ بکھرتے رہیں گے۔ مسکراہٹوں کے جادو سر چڑھ کر بولتے رہیں گے۔
جن کی پختگیء خیال یقین کی ڈوریوں سے بندھی ہے وہ حقیقت شناسی کی گانٹھوں سے آگے بڑھنے کے لئے کوشاں رہتے ہیں۔
شاخوں پہ کھلتے پھول  ایک وقت کے بعد مرجھا کر حسنِ آرزو سے تعلق کھو دیتے ہیں۔ آسمان سے گرتی نرم روئی جیسی برف دھرتی کی حدت بڑھنے  پر پگھل جاتی ہے۔وہ اتنی ہی دیر ساتھ نبھاتی ہے جتنی دیر تک وہ اسے جذب کرنے کے قابل رہے ۔اور پانی اپنا راستہ بناتے ہوئے اپنے اصل کی طرف رواں دواں ہو جاتاہے۔ 
دو آنکھیں پھر ایک لمبے سفر پہ کسی نئے کینوس پر مصور کے پھیلائے رنگوں سے مسکراہٹ پانے کے انتظار میں ہر پڑاؤ پر رک جاتی ہیں۔جہاں ہزاروں آنکھیں ایک دوسرے میں جھانک کر پھر آگے بڑھ جاتی ہیں۔ناآشنائی کے نا ختم ہونے والے کھیل کی طرف جو ایک پزل کے حل ہونے پر اگلے قدرے مشکل پزل میں داخل کر دیتا ہے۔امتحان کے یہ کڑے وقت آزمائش کی مضبوط گرفت ڈھیلی نہیں ہونے دیتے۔  ساحل سمندر پر بنائے ریت کے گھروندے بار بار پانی میں بہہ جانے کے بعد بھی ویسے ہی بار بار بنائے جا سکتے ہیں۔ کیونکہ وہ نہ تو تخلیق ہیں اور نہ ہی شاہکار، جو دو آنکھوں سے جزب سے سرشار ہو کر مصور کا تصور مٹا سکیں۔ مگر گہرے پانیوں میں اُترنے والی کشتی ایک ہی بار تکمیل وپختگی کے بعد لہروں کے سپرد کی جاتی ہے۔کیونکہ ایک معمولی سوراخ اسے دوبارہ ابھرنے کی مہلت نہیں دیتا۔

محمودالحق
              

کیفیتِ اظہار

1 comments
کینوس پر رنگ بکھیرتا مصور دو آنکھوں کو وہ دکھانا چاہتا ہے جو ستاروں سے چھپ کر اسی کی روشنی سے چرایا ہو۔پھول کی نازک پتیوں سے جیسے خوشبو کو پایا ہو۔آسمان سے نچھاور ہوتے سفید روئی جیسے گالوں کو پیاسی دھرتی نے حدت کو چھپا کر ٹھہرایا ہو۔گرم ہواؤں کو سرد نم بادل  نےگڑگڑاتی بجلی سے دور بھگایا ہو۔کوئل نےکھلی چونچ سے سُر کا جادو جگایا ہو۔
پینٹنگ دیکھنے والا مبہوت ہو جائے ۔شاہکار کینوس سے نکل کر اُس کی روح میں جذب لہو بن دوڑنے لگے۔ایک کے بعد ایک مریض عشق بوجھل قدموں سے باہر جانے کے راستے سے اپنی سواری کا مقام ریگستان میں بھٹکے اونٹ کی طرح کبھی دائیں تو کبھی بائیں جانے کے لئے پریشانی کا شکار ہو جائے۔
تو پھر وہ مصور بھول جاتے ہیں تصویر کشش کھو دیتی ہے۔ ایک ہلکی مسکراہٹ مونا لیزا بن کر ذہن پر سوار ہو جاتی ہے۔جس کے چرچے صدیاں گزرنے پر مندمل نہیں ہو پاتے۔وہ احساس کسی شمار میں نہیں لایا جا سکتا۔کیونکہ وہ اعداد نہیں جو تعداد سے کیفیت اظہار کو بڑھا چڑھا کر کھونے اور پانے کے ترازو پر تل سکے۔
گھر کے دروازے آنگن میں ہی کھلتے ہیں اور کھڑکیاں گلیوں میں ،جہاں آنے جانے والے صرف تانک جھانک کر سکتے ہیں۔ لوہے کی ان سلاخوں میں سے گملوں میں کھلایا گیا ایک پھول اور چورن کی پڑیا پر لکھا ایک شعر باآسانی گزر سکتا ہے مگر کھانسنے والے  کے لئے دوائی اور بلکتے بچوں کے لئے چنگیر پر چند لقمے نہیں  جوانہیں ایک نظر نہیں بھاتے۔
حقیقت جتنی تلخ ہوتی ہے اس کے احساس کی تلخی کوبرا سانپ کے زہر سے بھی زیادہ شدت سے رگوں میں جوگی کی بین پر مستی میں محو رقص رہتی ہے۔دور رہ کر تماشا دیکھنے والے ایک ایک قدم پیچھے ہٹتے لطف اندوزی کی کیفیت سے سرشاری میں مبتلا رہتے ہیں۔ اعداد کی گنتی اور ستاروں کی چالوں کا کھیل نہیں کہ آگے بڑھنے پر سکو ربننے لگیں اور پیچھے ہٹنے پر وقت بڑھ جائے۔
قلب دھک دھک سے جو وجود کو دستک دیتا ہے پیٹنے پر آ جائے تو قیامت برپا کر دیتا ہےاورخاموش ہو جائےتو سکوت طاری کر دیتا ہے۔خود سے کھیلنے والوں کو گنتی بھلا دیتا ہے۔ جو آسمانوں کی سیر کرتے ہیں انہیں منٹوں میں زمین  چٹوا دیتا ہے۔
دھرتی کی پانی سے محبت کی کہانی آدم کی پیدائش سے بہت پہلے سے ہے مگر اس کا انجام آدم کے اختتام پر ہو گا جب پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح ہواؤں میں بکھر جائیں گے اورزمین سیدھی بچھا دی جائے گی۔ پھر نہ ہی دھرتی پیاسی رہے گی اور نہ ہی بادل اسے بجھانے آئے گا۔یہ کہانی تب تک چلے گی جب تک کینوس پر مصور کے رنگ بکھرتے رہیں گے۔ مسکراہٹوں کے جادو سر چڑھ کر بولتے رہیں گے۔
جن کی پختگیء خیال یقین کی ڈوریوں سے بندھی ہے وہ حقیقت شناسی کی گانٹھوں سے آگے بڑھنے کے لئے کوشاں رہتے ہیں۔
شاخوں پہ کھلتے پھول  ایک وقت کے بعد مرجھا کر حسنِ آرزو سے تعلق کھو دیتے ہیں۔ آسمان سے گرتی نرم روئی جیسی برف دھرتی کی حدت بڑھنے  پر پگھل جاتی ہے۔وہ اتنی ہی دیر ساتھ نبھاتی ہے جتنی دیر تک وہ اسے جذب کرنے کے قابل رہے ۔اور پانی اپنا راستہ بناتے ہوئے اپنے اصل کی طرف رواں دواں ہو جاتاہے۔
دو آنکھیں پھر ایک لمبے سفر پہ کسی نئے کینوس پر مصور کے پھیلائے رنگوں سے مسکراہٹ پانے کے انتظار میں ہر پڑاؤ پر رک جاتی ہیں۔جہاں ہزاروں آنکھیں ایک دوسرے میں جھانک کر پھر آگے بڑھ جاتی ہیں۔ناآشنائی کے نا ختم ہونے والے کھیل کی طرف جو ایک پزل کے حل ہونے پر اگلے قدرے مشکل پزل میں داخل کر دیتا ہے۔امتحان کے یہ کڑے وقت آزمائش کی مضبوط گرفت ڈھیلی نہیں ہونے دیتے۔  ساحل سمندر پر بنائے ریت کے گھروندے بار بار پانی میں بہہ جانے کے بعد بھی ویسے ہی بار بار بنائے جا سکتے ہیں۔ کیونکہ وہ نہ تو تخلیق ہیں اور نہ ہی شاہکار، جو دو آنکھوں سے جزب سے سرشار ہو کر مصور کا تصور مٹا سکیں۔ مگر گہرے پانیوں میں اُترنے والی کشتی ایک ہی بار تکمیل وپختگی کے بعد لہروں کے سپرد کی جاتی ہے۔کیونکہ ایک معمولی سوراخ اسے دوبارہ ابھرنے کی مہلت نہیں دیتا۔

محمودالحق
              

Thursday, September 4, 2014

قیدِ بے اختیاری

2 comments
چھوٹی چڑیا چھوٹے سے پنجرے میں قید بڑی بے چینی سے جھولے سے نیچے پھر جھولے پہ اُڑ اُڑ جاتی۔بس اتنا سمجھ کر چہچہاتی کہ ایک دن یہاں سے آزادی پا کر اس سے بڑی اُڑان بھروں گی۔اور ایک دن اچانک پنجرہ کی چھوٹی سی کھڑکی کھلا پا کر اُڑان بھر جاتی۔ مگر جسے وہ آزادی سمجھ کر اونچی پرواز سے لطف لینے لگی کچھ توقف کے بعد وہی کمرہ اس بے چاری چڑیا کے لئے بڑے پنجرے میں بدل گیا۔آزادی کے جس دیپ کو وہ جلا کر مدھم ہوتی قید ِ روشنی کو سہارا دیئے ہوئے تھی۔وہ ایک بار پھر اس کے لئے نا اُمیدی اور مایوسی کے اندھیروں سے خوف میں مبتلا ہونے لگتی ہے۔بچوں کی چھیڑ چھاڑ سے عاجز اب وہ خونخوار بلیوں کے پنجوں کی زد میں چلی گئی۔جہاں اسے خود کے بچاؤ کے لئے اپنے پروں کی طاقت سے زیادہ اندھیرے میں چمکتی آنکھوں سے اوجھل رہنے میں زندہ رہنے کی گارنٹی ملتی ہے۔
سفاری پارک میں ہاتھیوں کو جنگل جیسی مستی کی اجازت نہیں۔شیروں کو چنگھاڑنے کی اتنی اجازت ہوتی ہے وہ بدن کو انگڑائی سے تازہ دم رکھ سکیں۔اُچھل کود کرتے کنگرو ، کانوں سے چوکنا رہنے والےہرن تماشائیوں کے لئے تفریع طبع کا سامان بن کر رہ جاتے ہیں۔جس نے جہاں آنکھ کھولی وہیں وہ اس کا قیدی ہے۔ایک پنجرہ سے دوسرے  بڑےپنجرہ میں منتقلی ہی اسے آزادی کے نشہ میں مبتلا کر دیتی ہے۔پنجرے بدلتے چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ روئے زمین کی قید میں چلا جاتا ہے۔دنیا کا ہر بڑا ملک اس کی دسترس میں آ جاتا ہے۔فاصلے سوچوں سے نکل کر گھڑی کی سوئی سے منسلک ہو جاتے ہیں۔
آزادی پا کر مطمئن نہ ہونا اسے اگلی منزل کی قید میں پہنچا دیتا ہے۔انسان کا سفر کبھی ختم نہیں ہوتا اور نہ ہی قید ختم ہوتی ہے۔جہاں رہ کر وہ آزادی سے مسرور ہوتا ہے وہیں کسی اگلی منزل کے قیدی کو وہ قیدی ہی نظر آتا ہے۔قید کے یہ سلسلے پہاڑوں کے سلسلہ جیسے ہیں ایک پہاڑ کی چوٹی پر دوسرے پہاڑ کا نقطہ آغاز۔
زندگی کی حقیقتوں کو کہانیوں سے تشبیہ دینے والے تو بہت مل جائیں گے۔محبوب کو لفظوں کے ترازو میں تول کر بیش قیمت بنا دیں گے۔محبت کو جگر سے خون لے کر قلب کی روانی میں بہا دیں گے۔جس سراب کے وہ قیدی ہوتے ہیں زمانہ بھی اسی کا قیدی بنا دیتے ہیں۔آبشاروں چشموں سے اُبلتا صاف شفاف پانی پیاس بجھاتا ، سیراب کرتا ہوا،شور مچاتا ندی نالوں سے ہوتا ہوا دریاؤں سے گزر کر پھر سمند ر میں گر کر مٹھاس کھو کر پھر اپنی باری پہ بخارات بن کر پہاڑوں میدانوں میں بادل بن کر برسنے کے لئے بیتاب رہتا ہے۔
چھوٹی چڑیا پنجرہ کی رہائی سے کمرے کا قیدی ہونے پر فخر سے سینہ نہیں تان سکتی۔قید کے یہ سلسلے ایک پنجرہ سے دوسرے تک بڑھتے چلے جاتے ہیں۔حتی کہ روئے زمین کی قید تک بات چلی جاتی ہے۔ان میں سے بعض ایک قدم آگے بڑھ کر کائنات کی چکاچوند روشنیوں کے قیدی بن جاتے ہیں اور انہیں زمین ان کی تھکن سے بھی چھوٹی نظر آتی ہے۔
جنہیں سچی محبت کی تلاش ہوتی ہے وہ صرف محبوب کے طرز تکلم سے مطمئن ہو جاتے ہیں۔حالانکہ یہ قید کے سلسلے ایک سے بڑھ کر ایک کی تلاش کے بعد بھی منطقی انجام تک نہیں پہنچ پاتے۔یہ میٹھے رس بھرے آڑو کی مانند ایک وقت کے بعد اپنے ہی وجود سے پیدا ہونے والی سونڈی کا شکار ہو جاتے ہیں۔جن کا اس خوبصورت چیز سے کوئی تعلق بھی نہیں ہوتا۔جس طرح روزمرہ کے معمولات زندگی دھیرے دھیرے زہر گھولتے ہیں۔آہستہ آہستہ سارا وجود اس کے کرب سے تکلیف کا شکار ہو جاتا ہے۔
غم دکھ درد وجود کو ایسا قیدی بنا کر رکھتا ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ آنکھیں بند کرنے سے درد کا احساس کم ہو جائے گا۔جان چھوٹ جانے کو درد چھوٹ جانے کا مداوہ سمجھتے ہیں۔انسان جتنا دل پھینک محبت میں ہوتا ہے خواہشات میں نہیں ہوتا۔ماں باپ کی محبت ،بہن بھائیوں کی محبت، اولاد کی محبت اور محبوب کی محبت۔قید کے یہ سلسلے بھی دل کا چین اور راتوں کا سکون چھین لیتے ہیں۔مریض کبھی لاعلاج نہیں ہوتا مرض لا علاج ہو جاتا ہے۔درد کا علاج دکھ سے ممکن نہیں ہوتا۔مجبوری لاچاری میں ضرورت سے دور رہتی ہے۔دکھ کی بھٹی سے نکل کر انسانوں سے نیک اعمال خود بخود سرزد نہیں ہونے لگتے۔
جینے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگانی پڑتی ہے اور پانے کے لئےآگے بڑھنے کی ہمت پیدا کرنی پڑتی ہے۔جو چند لفظوں کے اظہار کی قربانی دے کرہزاروں لفظوں کے نیچے دب جاتے ہیں۔وہ سمجھ ہی نہیں پاتے کہ جس طرح خیرات میں ملی روٹی اور بخشش میں ملی زندگی سے صرف زندہ رہا جا سکتا ہے۔اُدھار کے الفاظ لاکھوں بھی ہوں تو ایک مسکراہٹ کے سامنے ہیچ ہو جاتے ہیں۔ 
پنجرے میں قیدیوں کے لئے یہ تخیل ہے ۔مگر جو ان سے آزادی پا لیتے ہیں ان کے لئے یہ ایک حقیقت ہے۔

تحریر:  محمودالحق

قیدِ بے اختیاری

2 comments
چھوٹی چڑیا چھوٹے سے پنجرے میں قید بڑی بے چینی سے جھولے سے نیچے پھر جھولے پہ اُڑ اُڑ جاتی۔بس اتنا سمجھ کر چہچہاتی کہ ایک دن یہاں سے آزادی پا کر اس سے بڑی اُڑان بھروں گی۔اور ایک دن اچانک پنجرہ کی چھوٹی سی کھڑکی کھلا پا کر اُڑان بھر جاتی۔ مگر جسے وہ آزادی سمجھ کر اونچی پرواز سے لطف لینے لگی کچھ توقف کے بعد وہی کمرہ اس بے چاری چڑیا کے لئے بڑے پنجرے میں بدل گیا۔آزادی کے جس دیپ کو وہ جلا کر مدھم ہوتی قید ِ روشنی کو سہارا دیئے ہوئے تھی۔وہ ایک بار پھر اس کے لئے نا اُمیدی اور مایوسی کے اندھیروں سے خوف میں مبتلا ہونے لگتی ہے۔بچوں کی چھیڑ چھاڑ سے عاجز اب وہ خونخوار بلیوں کے پنجوں کی زد میں چلی گئی۔جہاں اسے خود کے بچاؤ کے لئے اپنے پروں کی طاقت سے زیادہ اندھیرے میں چمکتی آنکھوں سے اوجھل رہنے میں زندہ رہنے کی گارنٹی ملتی ہے۔
سفاری پارک میں ہاتھیوں کو جنگل جیسی مستی کی اجازت نہیں۔شیروں کو چنگھاڑنے کی اتنی اجازت ہوتی ہے وہ بدن کو انگڑائی سے تازہ دم رکھ سکیں۔اُچھل کود کرتے کنگرو ، کانوں سے چوکنا رہنے والےہرن تماشائیوں کے لئے تفریع طبع کا سامان بن کر رہ جاتے ہیں۔جس نے جہاں آنکھ کھولی وہیں وہ اس کا قیدی ہے۔ایک پنجرہ سے دوسرے  بڑےپنجرہ میں منتقلی ہی اسے آزادی کے نشہ میں مبتلا کر دیتی ہے۔پنجرے بدلتے چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ روئے زمین کی قید میں چلا جاتا ہے۔دنیا کا ہر بڑا ملک اس کی دسترس میں آ جاتا ہے۔فاصلے سوچوں سے نکل کر گھڑی کی سوئی سے منسلک ہو جاتے ہیں۔
آزادی پا کر مطمئن نہ ہونا اسے اگلی منزل کی قید میں پہنچا دیتا ہے۔انسان کا سفر کبھی ختم نہیں ہوتا اور نہ ہی قید ختم ہوتی ہے۔جہاں رہ کر وہ آزادی سے مسرور ہوتا ہے وہیں کسی اگلی منزل کے قیدی کو وہ قیدی ہی نظر آتا ہے۔قید کے یہ سلسلے پہاڑوں کے سلسلہ جیسے ہیں ایک پہاڑ کی چوٹی پر دوسرے پہاڑ کا نقطہ آغاز۔
زندگی کی حقیقتوں کو کہانیوں سے تشبیہ دینے والے تو بہت مل جائیں گے۔محبوب کو لفظوں کے ترازو میں تول کر بیش قیمت بنا دیں گے۔محبت کو جگر سے خون لے کر قلب کی روانی میں بہا دیں گے۔جس سراب کے وہ قیدی ہوتے ہیں زمانہ بھی اسی کا قیدی بنا دیتے ہیں۔آبشاروں چشموں سے اُبلتا صاف شفاف پانی پیاس بجھاتا ، سیراب کرتا ہوا،شور مچاتا ندی نالوں سے ہوتا ہوا دریاؤں سے گزر کر پھر سمند ر میں گر کر مٹھاس کھو کر پھر اپنی باری پہ بخارات بن کر پہاڑوں میدانوں میں بادل بن کر برسنے کے لئے بیتاب رہتا ہے۔
چھوٹی چڑیا پنجرہ کی رہائی سے کمرے کا قیدی ہونے پر فخر سے سینہ نہیں تان سکتی۔قید کے یہ سلسلے ایک پنجرہ سے دوسرے تک بڑھتے چلے جاتے ہیں۔حتی کہ روئے زمین کی قید تک بات چلی جاتی ہے۔ان میں سے بعض ایک قدم آگے بڑھ کر کائنات کی چکاچوند روشنیوں کے قیدی بن جاتے ہیں اور انہیں زمین ان کی تھکن سے بھی چھوٹی نظر آتی ہے۔
جنہیں سچی محبت کی تلاش ہوتی ہے وہ صرف محبوب کے طرز تکلم سے مطمئن ہو جاتے ہیں۔حالانکہ یہ قید کے سلسلے ایک سے بڑھ کر ایک کی تلاش کے بعد بھی منطقی انجام تک نہیں پہنچ پاتے۔یہ میٹھے رس بھرے آڑو کی مانند ایک وقت کے بعد اپنے ہی وجود سے پیدا ہونے والی سونڈی کا شکار ہو جاتے ہیں۔جن کا اس خوبصورت چیز سے کوئی تعلق بھی نہیں ہوتا۔جس طرح روزمرہ کے معمولات زندگی دھیرے دھیرے زہر گھولتے ہیں۔آہستہ آہستہ سارا وجود اس کے کرب سے تکلیف کا شکار ہو جاتا ہے۔
غم دکھ درد وجود کو ایسا قیدی بنا کر رکھتا ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ آنکھیں بند کرنے سے درد کا احساس کم ہو جائے گا۔جان چھوٹ جانے کو درد چھوٹ جانے کا مداوہ سمجھتے ہیں۔انسان جتنا دل پھینک محبت میں ہوتا ہے خواہشات میں نہیں ہوتا۔ماں باپ کی محبت ،بہن بھائیوں کی محبت، اولاد کی محبت اور محبوب کی محبت۔قید کے یہ سلسلے بھی دل کا چین اور راتوں کا سکون چھین لیتے ہیں۔مریض کبھی لاعلاج نہیں ہوتا مرض لا علاج ہو جاتا ہے۔درد کا علاج دکھ سے ممکن نہیں ہوتا۔مجبوری لاچاری میں ضرورت سے دور رہتی ہے۔دکھ کی بھٹی سے نکل کر انسانوں سے نیک اعمال خود بخود سرزد نہیں ہونے لگتے۔
جینے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگانی پڑتی ہے اور پانے کے لئےآگے بڑھنے کی ہمت پیدا کرنی پڑتی ہے۔جو چند لفظوں کے اظہار کی قربانی دے کرہزاروں لفظوں کے نیچے دب جاتے ہیں۔وہ سمجھ ہی نہیں پاتے کہ جس طرح خیرات میں ملی روٹی اور بخشش میں ملی زندگی سے صرف زندہ رہا جا سکتا ہے۔اُدھار کے الفاظ لاکھوں بھی ہوں تو ایک مسکراہٹ کے سامنے ہیچ ہو جاتے ہیں۔ 
پنجرے میں قیدیوں کے لئے یہ تخیل ہے ۔مگر جو ان سے آزادی پا لیتے ہیں ان کے لئے یہ ایک حقیقت ہے۔

  محمودالحق

Monday, August 25, 2014

دیکھ ہمارا کیا رنگ کر دیا

1 comments

جیولری ، کھلونے ، بوتیک ہو یا کاروں کا شو روم صرف دیکھ کر یا ہاتھ سے محسوس کر کے تسلی نہیں ہوتی۔جب تک کہ وہ احساسِ لمس سے خوابیدہ نہ کر دے۔ نظر بھربھر دیکھنے سے اپنائیت کا احساس موجزن نہیں ہوتا۔عدم دستیابی خالی پن سے زیادہ اپنے پن سے عاجز ہو جاتی ہے۔آج لفظوں سے اظہار اجاگر نہیں ہو گا۔کیفیت بیان سے آشکار نہیں ہو گی۔احساسات اور محسوسات پر اعتراضات بھی نہیں ہوں گے۔
کون جانتا ہے کہ رات دن سے الگ کیسے ہوتی ہے اور دن رات میں کیسے چھپ جاتا ہے۔چاندنی راتوں میں سمندر پر لہریں کیوں رقص کرتی ہیں۔آسمانوں سے پانی برس کر پھلوں پھولوں میں رنگ و خوشبو کے رنگ کیسےبکھیر دیتا ہے۔ چاہنے اور پانے کے انداز جدا ، رنگوں کی ترتیب الگ رہتی ہے۔ رنگ ونور کی برسات صفحات پر اترے تو آنکھوں کو خیرہ کر دیتی ہیں۔مگر جب قلب پہ اُترے تو روح میں خوشگوار احساسِ حیرت کو جاگزیں کر دیتی ہے۔ 
آرٹس کے مضامین پڑھنے والا سائنسی توجیحات پر سر کھجانے سے آگے نہیں بڑھتا۔ کیونکہ وہاں سوچ داخلہ بند کے آویزاں بورڈ سے استقبال کرتی ہے۔ قربت کا مضمون پڑھنے والے محبت کے مفہوم سے ہمیشہ ناآشنا رہتے ہیں۔پانے کا جنون احساس کے لگن سے کبھی ہم رکاب نہیں ہوتا۔بہشتی زیور بحر طور زمینی زیور سے بدرجہا بہتر بھی ہے اور لازوال و لافانی بھی ۔
جن چیزوں کی اہمیت انہیں پانے کے بغیر مکمل نہ ہو تو ایک سے بڑھ کر ایک کی تلاش کے سلسلے ختم نہیں ہوتے۔ جیولری ، کپڑے ، جوتے کا نیا ڈیزائن اور کار  کانیا ماڈل ،گلے میں لٹکے ہیرے کے ہار اور گیراج میں کھڑی نئی گاڑی کو بھی بے وقعت کر دیتی ہے۔ بچے جن کھلونوں کے لئے زمین پرسر پٹختے ہیں۔ پھر نیا دیکھ کر انہی کھلونوں کو زمین پر پٹخ دیتے ہیں۔ 
مگر اس کے مقابلے میں قدرت اور فطرت سے محبت رکھنے والے آپس میں دست و گریباں نہیں ہوتے۔ پانے کے لئے حسد و رقابت کی بھٹی میں نہیں جلتے۔چاہت بہت  ہوتی ہے مگر طلب نہیں کہ جان پر بن آئے۔ان کا جینا آسان ہوتا ہے ۔حقیقی خوشی سے سرشار ہوتا ہے۔صرف محسوس کرنے سے ہی قربت کے احساس سے سرشار ہو جاتے ہیں۔ایک کے بعد ایک روح میں سماتا چلا جائے  توتشنگی بڑھ جاتی ہے مگرتڑپ نہیں ۔ 
میلوں پھیلے گلستان میں ہزاروں رنگ بکھیرتے خوشبو پھیلاتے پھول دیکھنے والوں کوسحر میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ ایک کے بعد دوسرا جاذبیت سے جذبیت بڑھا دیتا ہے مگر پہلے کی محبت کم نہیں کرتا۔ انہیں توڑ کر گھر وں میں سجایا  نہیں جاتا بلکہ قلب ِروح کے گلدان میں بسایا جاتا ہے۔خوشبو سے خود کومہکایا جاتا ہے۔ اظہار ِخیال قلبِ حال پر فوقیت نہیں رکھتا۔لفظ تو پھول کی مانند ہیں ۔کوئی انہیں گلستان میں مہکتا دیکھ کر محبت کا شکار ہوتا ہے تو کوئی انہیں توڑ کر کتابوں میں چھپا کر چپکے چپکے روتا ہے۔
سکول  میں پڑھنے والے طالبعلم چاہے پہلی پوزیشن سے کامیابی کے زینہ پر قدم رکھیں یا صرف پاس ہونے پر اکتفا کر پائیں۔ مگر بیس کمروں کے سکول کو بیس ہزار طالبعلم میرا سکول  کہہ کر پکارتے ہیں۔ اس کے برعکس ہوٹل یا ہوسٹل میں سالہا سال  رہنےکے بعد بھی اسےاپنا نہیں کہہ پاتے۔
زندگی میں صرف دیکھنے سے مفہوم جانے نہیں جا سکتے۔زندگی میں درپیش حالات و واقعات کی کھائیوں سے دوبارہ ابھر کر سمجھے جا تے ہیں۔ کتابوں سے مطالب ومعنی تلاش کئے جا سکتے ہیں مگر مفہوم نہیں۔

محمودالحق                           

Wednesday, August 6, 2014

زمین میری تھکن سے بھی چھوٹی ہے۔۔۔۔۔ سارا شگفتہ

2 comments

           ؛’‘؛’‘؛’‘؛’‘؛محمودالحق کے قلم سے؛’‘؛’‘؛’‘؛’‘؛

سفید چاندنی میں لپٹی آنکھیں موندھے وہ مسکرا رہی تھی۔بائیں کندھے کو بایاں کندھا دینےوالےآگے سے پیچھے دائیں تو کبھی بائیں کندھے سے آج ایک فعل کو ایسے ادا کرنے جارہے تھے جیسے کوئی زمین کا بوجھ اُتارنے جا رہے ہوں۔ آج تو وہ ایک لاش کو دفنانے جا رہے تھے۔ جس کے چہرے پہ مسکراہٹ روح اپنا صدقہ سمجھ کر چھوڑ گئی تھی۔جسے جسم نے خیرات سمجھ کر کبھی قبول ہی نہیں کیا تھا۔ مگر آج وہ بے بسی کی تصویرنہیں تھی۔
بادل آج بھی کالی گھٹا کی صورت اپنا سایہ چھوڑنا نہیں چاہتا تھا۔کہ کہیں سورج کی کرنیں اسے اپنی آغوش میں نہ نہلا دیں۔کرنیں بادلوں سے اُلجھ رہی تھیں سفید چاندنی پرایک نظر التفات ڈالنے کے لئے بے چینی سے بادلوں میں کندھا دینے والوں کی طرح  کبھی آگے سے کبھی پیچھے کبھی دائیں سے تو کبھی بائیں سے جھانک رہی تھیں۔  وہ آج بوند بوند برس کر روشنیوں سے انتقام لینے کے موڈ میں تھے۔ مٹی زرہ زرہ بکھر کر آج سارا وجود سمیٹ کر گوندھنے کے موڈ میں تھی۔بوند بوند پانی اسے بکھرنے سے روک رہا تھا۔ آج کندھوں پر جانے والی جوتیوں میں رہنے سے بھی بد تر حالت میں تھی۔جو پتھر دیواریں چنتے چنتے گلے تک آ گئے تھے آج وہ آنکھوں سے منظر چھین لینے کے لئے سر سے اوپر چننے کے لئے بیتاب تھے۔بیگانے سر سے بوجھ اُتارنے جا رہے تھے اور اپنے بانہیں پھیلائے سمیٹنے کے لئے بیتاب تھے۔ 
وہ سفید بے داغ کاغذ کے ایک ورق پر ایک نقطہ ڈال کر اُس میں اُتر جاتی۔وہاں اسے ویسا ہی پھر کاغذ ملتا ۔ نقطہ ڈال کر پھر  اس میں اُتر جاتی۔ نہ جانے  وہ سفید اور اُجلے اوراق کی کتنی ہی تہوں کے نیچے اُتر گئی۔ جہاں اسے سمندر ایک قطرہ بن کر آنکھ سے ٹپکتا نظر آیا۔زمین ایک زرہ کی مانند ہوا میں بھٹکتی نظر آئی۔سورج اس کے ہاتھ میں یوں اُتر آیا جیسے چیونٹی کے منہ میں آٹا۔
جو پہاڑ بن کر اُس پر گرے جہاں اُس کی چیخیں  دم گھٹ گھٹ کر مرتی رہیں ۔ وہ بے بسی سے تلاوت کے لئے انسانی صحیفہ چاہتی رہی۔مگر آسمانی صحیفوں کی تلاوت کرنے والے اسے پتھر کی مورتی بنا کر چٹانوں پر نصب کرتے رہے۔وہ کالی سیاہی کی مورتی بن کر علم کے قلم سے آڑھی ترچھی لکیروں میں ڈھال دی گئی۔
وہ بھول گئی یہ ہوائیں کب اُس کی سانسوں سے آشنا ہوئیں۔کب ان فضاؤں نے اُس کی پہلی آواز سنی تھی۔ ہاں یہ یاد تھا اسے پنچھیوں کی چہچہاہٹ سے وہ روئی تھی۔جب بھی پنچھی چہچہاتے وہ اپنا جنم دن منا لیتی۔
وہ ہواؤں کو شیشہ کہتی جو اسے چھو کر اپنے ہونے کا احساس دلاتے۔قوس وقزح کے رنگ اس کے رنگوں کو بے رنگ کر دیتے۔ سورج اپنی تمازت سے اُس کے پیرہن کے رنگ پھیکے کر دیتا۔پیڑوں پر ناچتے ہرے پتے ،سمندر پر بہتی سفید لہریں،آنکھوں سے بہتے آنسو  جس میں وہ خود ہی ڈوب جاتا ہے۔ان سب کو چوری ہونے کا خطرہ نہیں ۔جو انہیں چرا لے جائے وہ دن میں توڑے پھولوں کو رات میں کالا کر دیتے ہیں۔وہ اندھیروں کو چور سمجھتی۔جو روشنیوں کو چرا لیتے ہیں۔
پیڑ پر رات بسر کرنے والا پنچھی پتوں کے ہلنے پر پھڑ پھڑا جاتا ہے۔وہ صبح کے انتظار میں وہیں دبکا بیٹھا رہتا ہے۔کیونکہ اندھیرے خود سے جدا نہیں ہونے دیتے ۔سبھی اندھیرے مل کر روشنی سے محبت رکھنے والوں کو ڈرا کر پھڑ پھڑانے کی صرف اجازت دیتے ہیں۔پنچھی ایک شاخ سے دوسری شاخ پر، چاہے ایک پیڑ سے دوسرے پیڑ تک چلا جائے اندھیرے پیچھا کرتے رہتے ہیں تا وقتکہ روشنیاں اندھیرے بھگا نہ دیں۔
وہ ایک ایسا دکھ تھا  جو ماں کے کلیجے سے خون کا آخری قطرہ بھی نچوڑ کر لے گیا۔ کوکھ میں پال کر چند لمحے زندگی کا کفارہ ادا  کر گئے۔ اُس کے کانوں سے خاموشیوں نے ساری آوازیں چھین لیں۔اُس کی چیخوں کی لہروں کو خاموشی کے گہرے سمندر کے طوفان غرق کر دیتے۔آسمان زمین کی گود میں اُتر کر زرے زرے کو گوندھ کر مٹی کی مورتیں بناتا ۔پھر توڑ کر مٹی بنا دیتا۔وہ خاموشی سے زروں سے مورتی بنتی تو لمحوں میں پھر زروں میں ڈھل جاتی۔جہاں اُس کے آدھے کمرے میں ہوا روشنی سے اُلجھ جاتی۔   تو وہ سہم کر کھلے آنگن میں یوں اُترتی جیسے دکھ کے گرم بدن پہ ٹھنڈی ہوا اُترتی ہے۔مگر وہاں روشنی بن سائے کے آس پاس سے گزر جاتی۔وہ انتظار کے دیپ جلا کر دکھوں کی بستی میں درد دل کے مسیحاؤں کو آنکھوں کی روشنی پانے کے لئے تکتی رہی۔ مگر جنہیں آنا تھا وہ نہیں آئے۔صنم روٹھ جائے تو آنکھیں آنسوؤں سے بھر جاتی ہیں۔ جب دل ٹوٹ جائے تو  آنکھوں سے روشنی روٹھ جاتی ہے۔ 
نہ جانے کتنی ہی آنکھیں دل میں اُمید کے دیپ جلا کر  گھپ اندھیرے میں انتظار کر رہی ہوں۔ جو صبح کے انتظار میں پھڑ پھڑا رہی ہوں۔ آخر کب تک انسانی صحیفوں کے انتظار میں آنکھیں پتھرائی جاتی رہیں گی۔جب تک کنارے سامنے نظر آتے ہوں ہاتھ دینے والے نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔ جب کنارے اوجھل ہو جائیں تو تنکے بھی سہارے بن جاتے ہیں۔
بے سکونی اور تنہائی کے آسیب اتنے طاقتور ہو جاتے ہیں کہ انسانی بستیاں آسیبوں کی آماجگاہ معلوم ہوتی ہیں۔ جہاں بے اعتباری کے بھوت دن میں سوتے تو راتوں کو جگاتے ہیں۔مٹی کی جزبیت افکار وشعور کی تتلیوں کو بوند بوند نہلا کر بے رنگ کرنے کے درپے رہتی ہے۔پانی آگ سے تپش محسوس کرتی ہے تو آگ پانی سے ٹھنڈک کا احساس پانے سے ڈرتی ہے۔ آب آب میں رہ کر آب رہتا ہے مگر آگ آگ سے مل کر صرف خاک رہ جاتی ہے۔اُداسیوں کے محل برباد سے سیدھا نا اُمیدی کی قبر میں نہیں اُترا جا سکتا۔    بادل نے برس کر گزر جانا ہے اگر وہ ٹھہر جائے تو اسے نچوڑا نہیں جا سکتا۔جب تک قبر کھودی جاتی رہتی ہے خالی پیٹ ماتم ہوتے رہتے ہیں۔ جب مٹی بھر دی جاتی ہے ماتم روک کر پیٹ بھرے جاتے ہیں۔زندگی کی سچائیاں مٹی سے مل کر پائی جاتی ہیں ۔ مٹی میں گھل کر نہیں۔بادل زمین پر  بوند بونداُترتاہے۔آسمان رنگ بدلتا ہے۔ قوس و قزح کے رنگ۔ رم جھم  ستارےبوند بوند روشنی آنکھوں میں اُترتے ہیں۔ جو سونے کے بعد بھی کالے آسمان پر چمکتے ہیں۔ وہ ہمیشہ چاہ پانے والی نگاہوں کے انتظار میں روشنی کے دیپ جلا کر رکھتی ہیں۔ مگر نگاہیں اندر کے اندھیروں سے گھل مل جاتی ہیں کہ باہر کی روشنی انہیں کسی مزار پر جلتے تیل کے چراغ دکھائی دیتے ہیں۔جنہیں منت مانگنے والوں کی مدد سے روشن رہنے کی  عادت ہو جاتی ہے۔ ان کو زندگی تبھی ملتی ہے جب مایوسی اور محرومی کے شکار ان میں اُمید کے تیل ڈالتے ہیں۔
ایسے چراغِ شب بجھا دو جو نگاہوں کو ستاروں کی محبت سے محروم رکھیں۔


!نوٹ 
میں نے یہ تحریر شاعرہ سارا شگفتہ کو پڑھنے کے بعد لکھی ۔   اس کے الفاظ میری روح میں اُتر گئے ۔میں نے بہت کوشش کی کہ اُس مقام پر کھڑا ہو کر دیکھ پاؤں جہاں سارا شگفتہ نے نظمیں لکھیں۔لیکن میں ڈر کر پیچھے ہٹ گیا۔ کیونکہ اُس کے لفظ کوڑوں کی طرح میری روح پر برس رہے تھے۔میں واہ واہ کی بجائے ہائے ہائے کرتا رہ گیا۔ اُس کے الفاظ میری روح کو تشنگی کی انتہا پر پہنچا کر اکیلا چھوڑ گئے۔ میں نے سونا چاہا تو اُس کے الفاظ مجھے جھنجوڑ جھنجوڑ کر اُٹھا دیتے کہ  تلاوت کے لئے انسانی صحیفہ تلاش کرو۔ میں نے اپنے زمانہ کا سارا علم ٹٹول ڈالا ۔اُس کے الفاظ آنکھیں بن کر مجھ سے سوال کرتے ہیں۔ جن کے جواب میرے پاس نہیں۔اسے تیس سال پہلے کوئی ٹرین کے نیچے آنے سے روک نہ سکا۔امریتا پریتم نے اسے جان کر کتاب لکھ ڈالی اور اسے انسانی صحیفہ کی پہلی آیت قرار دیا۔   مجھے آج تیس سال بعد معلوم ہوا کہ وہ کون تھی۔اُس کے لفظوں کے سامنے میں پانی پانی ہو گیا۔

تنہائیوں کی نوکیں میرے اعضاء میں پیوست کر دی گئی ہیں
پھر بھی کہتے ہو، آؤ باغ کو چلیں
میں اپنی آنکھوں پہ زندہ ہوں
میرے لب پتھر ہو چکے ہیں
اور کسی سنگ تراش نے ان کا مجسمہ
کسی پہاڑ کی چوٹی پر نصب کر دیا ہے
میں لہُو سے بیگانی ہوں
میرے جذبے اپاہج کر دیئے گئے ہیں
میں مکمل گفتگو نہیں کر سکتی
میں مکمل اُدھار ہوں
میری قبر کے چراغوں سے ہاتھ تاپنے والو
ٹھٹھرے وقت پر ایک دن میں بھی کانپی تھی
کاش آنکھیں آواز ہوتیں
زنگ کی دھار میرے لہُو میں رچ رہی ہے
بتاؤ ! تھوڑے پھُول دو گے
تیور زنگ آلود ہو چکے ہیں
میں نے کسی سے شاید وعدہ کر لیا تھا
مُسکراہٹ ہنسے گی تو آنکھیں ہنسیں گی
یہ تو لفظ کھڑکی کا پردہ ہوئے
لیکن دیوار کا پردہ نہ ہو سکے
رفتہ رفتہ پتھر میری گردن تک آ پہنچے ہیں
ڈر ہے کہیں میری آواز پتھر نہ ہو جائے
یہاں تو روز مجھے میری قبر سے اُکھاڑا جاتا ہے
کہ لوگ میری زندگی کے گُناہ گِن سکیں
یہاں تو میرے لہُو کی بوند بوند کو رنگا جا رہا ہے
لوگوں کی پُوریں انگارہ ہو رہی ہیں
میں کس سے ہاتھ مِلاؤں
کہ میری یاد کے ساتھ ہر ہر دل میں
ایک پتھر نصب کر دیا گیا ہے
میں نے نہیں کہا تھا
سُورج ہمیشہ میرے کپڑوں کا رنگ چُرا لے جاتا ہے
میرے قدم مجھے واپس کر دو
یہ اُدھار مہنگا ہے
میری دوکان چھوٹی ہے
جانے کون سی سڑک پہ ہم دوڑے تھے
میں پُوری مٹی میں چھُپ گئی
اور تم مٹی میں پانی چھڑکا کے
سوندھی سوندھی خوشبو اپنے جذبے میں لئے
اپنی زندگی کے دن بڑھا رہے ہو ۔۔۔۔
دیکھ تیرا چاند پتھر پہ لڑھک آیا ہے
اب کون سے چاند کو دیکھ کر
لوگ دعائیں مانگیں گے
میرا کفن زہریلے دھاگوں سے سیا جا رہا ہے
اور تم کہتے ہو
سفید لباس میں تم کتنی اچھی لگتی ہو ۔۔۔۔

زمین میری تھکن سے بھی چھوٹی ہے۔۔۔۔۔ سارا شگفتہ

3 comments

           ؛’‘؛’‘؛’‘؛’‘؛محمودالحق کے قلم سے؛’‘؛’‘؛’‘؛’‘؛

سفید چاندنی میں لپٹی آنکھیں موندھے وہ مسکرا رہی تھی۔بائیں کندھے کو بائیاں کندھا دینےوالےآگے سے پیچھے دائیں تو کبھی بائیں کندھے سے آج ایک فعل کو ایسے ادا کرنے جارہے تھے جیسے کوئی زمین کا بوجھ اُتارنے جا رہے ہوں۔ آج تو وہ ایک لاش کو دفنانے جا رہے تھے۔ جس کے چہرے پہ مسکراہٹ روح اپنا صدقہ سمجھ کر چھوڑ گئی تھی۔جسے جسم نے خیرات سمجھ کر کبھی قبول ہی نہیں کیا تھا۔ مگر آج وہ بے بسی کی تصویرنہیں تھی۔
بادل آج بھی کالی گھٹا کی صورت اپنا سایہ چھوڑنا نہیں چاہتا تھا۔کہ کہیں سورج کی کرنیں اسے اپنی آغوش میں نہ نہلا دیں۔کرنیں بادلوں سے اُلجھ رہی تھیں سفید چاندنی پرایک نظر التفات ڈالنے کے لئے بے چینی سے بادلوں میں کندھا دینے والوں کی طرح  کبھی آگے سے کبھی پیچھے کبھی دائیں سے تو کبھی بائیں سے جھانک رہی تھیں۔  وہ آج بوند بوند برس کر روشنیوں سے انتقام لینے کے موڈ میں تھے۔ مٹی زرہ زرہ بکھر کر آج سارا وجود سمیٹ کر گوندھنے کے موڈ میں تھی۔بوند بوند پانی اسے بکھرنے سے روک رہا تھا۔ آج کندھوں پر جانے والی جوتیوں میں رہنے سے بھی بد تر حالت میں تھی۔جو پتھر دیواریں چنتے چنتے گلے تک آ گئے تھے آج وہ آنکھوں سے منظر چھین لینے کے لئے سر سے اوپر چننے کے لئے بیتاب تھے۔بیگانے سر سے بوجھ اُتارنے جا رہے تھے اور اپنے بانہیں پھیلائے سمیٹنے کے لئے بیتاب تھے۔ 
وہ سفید بے داغ کاغذ کے ایک ورق پر ایک نقطہ ڈال کر اُس میں اُتر جاتی۔وہاں اسے ویسا ہی پھر کاغذ ملتا ۔ نقطہ ڈال کر پھر  اس میں اُتر جاتی۔ نہ جانے  وہ سفید اور اُجلے اوراق کی کتنی ہی تہوں کے نیچے اُتر گئی۔ جہاں اسے سمندر ایک قطرہ بن کر آنکھ سے ٹپکتا نظر آیا۔زمین ایک زرہ کی مانند ہوا میں بھٹکتی نظر آئی۔سورج اس کے ہاتھ میں یوں اُتر آیا جیسے چیونٹی کے منہ میں آٹا۔
جو پہاڑ بن کر اُس پر گرے جہاں اُس کی چیخیں  دم گھٹ گھٹ کر مرتی رہیں ۔ وہ بے بسی سے تلاوت کے لئے انسانی صحیفہ چاہتی رہی۔مگر آسمانی صحیفوں کی تلاوت کرنے والے اسے پتھر کی مورتی بنا کر چٹانوں پر نصب کرتے رہے۔وہ کالی سیاہی کی مورتی بن کر علم کے قلم سے آڑھی ترچھی لکیروں میں ڈھال دی گئی۔
وہ بھول گئی یہ ہوائیں کب اُس کی سانسوں سے آشنا ہوئیں۔کب ان فضاؤں نے اُس کی پہلی آواز سنی تھی۔ ہاں یہ یاد تھا اسے پنچھیوں کی چہچہاہٹ سے وہ روئی تھی۔جب بھی پنچھی چہچہاتے وہ اپنا جنم دن منا لیتی۔
وہ ہواؤں کو شیشہ کہتی جو اسے چھو کر اپنے ہونے کا احساس دلاتے۔قوس وقزح کے رنگ اس کے رنگوں کو بے رنگ کر دیتے۔ سورج اپنی تمازت سے اُس کے پیرہن کے رنگ پھیکے کر دیتا۔پیڑوں پر ناچتے ہرے پتے ،سمندر پر بہتی سفید لہریں،آنکھوں سے بہتے آنسو  جس میں وہ خود ہی ڈوب جاتا ہے۔ان سب کو چوری ہونے کا خطرہ نہیں ۔جو انہیں چرا لے جائے وہ دن میں توڑے پھولوں کو رات میں کالا کر دیتے ہیں۔وہ اندھیروں کو چور سمجھتی۔جو روشنیوں کو چرا لیتے ہیں۔
پیڑ پر رات بسر کرنے والا پنچھی پتوں کے ہلنے پر پھڑ پھڑا جاتا ہے۔وہ صبح کے انتظار میں وہیں دبکا بیٹھا رہتا ہے۔کیونکہ اندھیرے خود سے جدا نہیں ہونے دیتے ۔سبھی اندھیرے مل کر روشنی سے محبت رکھنے والوں کو ڈرا کر پھڑ پھڑانے کی صرف اجازت دیتے ہیں۔پنچھی ایک شاخ سے دوسری شاخ پر، چاہے ایک پیڑ سے دوسرے پیڑ تک چلا جائے اندھیرے پیچھا کرتے رہتے ہیں تا وقتکہ روشنیاں اندھیرے بھگا نہ دیں۔
وہ ایک ایسا دکھ تھا  جو ماں کے کلیجے سے خون کا آخری قطرہ بھی نچوڑ کر لے گیا۔ کوکھ میں پال کر چند لمحے زندگی کا کفارہ ادا  کر گئے۔ اُس کے کانوں سے خاموشیوں نے ساری آوازیں چھین لیں۔اُس کی چیخوں کی لہروں کو خاموشی کے گہرے سمندر کے طوفان غرق کر دیتے۔آسمان زمین کی گود میں اُتر کر زرے زرے کو گوندھ کر مٹی کی مورتیں بناتا ۔پھر توڑ کر مٹی بنا دیتا۔وہ خاموشی سے زروں سے مورتی بنتی تو لمحوں میں پھر زروں میں ڈھل جاتی۔جہاں اُس کے آدھے کمرے میں ہوا روشنی سے اُلجھ جاتی۔   تو وہ سہم کر کھلے آنگن میں یوں اُترتی جیسے دکھ کے گرم بدن پہ ٹھنڈی ہوا اُترتی ہے۔مگر وہاں روشنی بن سائے کے آس پاس سے گزر جاتی۔وہ انتظار کے دیپ جلا کر دکھوں کی بستی میں درد دل کے مسیحاؤں کو آنکھوں کی روشنی پانے کے لئے تکتی رہی۔ مگر جنہیں آنا تھا وہ نہیں آئے۔صنم روٹھ جائے تو آنکھیں آنسوؤں سے بھر جاتی ہیں۔ جب دل ٹوٹ جائے تو  آنکھوں سے روشنی روٹھ جاتی ہے۔ 
نہ جانے کتنی ہی آنکھیں دل میں اُمید کے دیپ جلا کر  گھپ اندھیرے میں انتظار کر رہی ہوں۔ جو صبح کے انتظار میں پھڑ پھڑا رہی ہوں۔ آخر کب تک انسانی صحیفوں کے انتظار میں آنکھیں پتھرائی جاتی رہیں گی۔جب تک کنارے سامنے نظر آتے ہوں ہاتھ دینے والے نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔ جب کنارے اوجھل ہو جائیں تو تنکے بھی سہارے بن جاتے ہیں۔
بے سکونی اور تنہائی کے آسیب اتنے طاقتور ہو جاتے ہیں کہ انسانی بستیاں آسیبوں کی آماجگاہ معلوم ہوتی ہیں۔ جہاں بے اعتباری کے بھوت دن میں سوتے تو راتوں کو جگاتے ہیں۔مٹی کی جزبیت افکار وشعور کی تتلیوں کو بوند بوند نہلا کر بے رنگ کرنے کے درپے رہتی ہے۔پانی آگ سے تپش محسوس کرتی ہے تو آگ پانی سے ٹھنڈک کا احساس پانے سے ڈرتی ہے۔ آب آب میں رہ کر آب رہتا ہے مگر آگ آگ سے مل کر صرف خاک رہ جاتی ہے۔اُداسیوں کے محل برباد سے سیدھا نا اُمیدی کی قبر میں نہیں اُترا جا سکتا۔    بادل نے برس کر گزر جانا ہے اگر وہ ٹھہر جائے تو اسے نچوڑا نہیں جا سکتا۔جب تک قبر کھودی جاتی رہتی ہے خالی پیٹ ماتم ہوتے رہتے ہیں۔ جب مٹی بھر دی جاتی ہے ماتم روک کر پیٹ بھرے جاتے ہیں۔زندگی کی سچائیاں مٹی سے مل کر پائی جاتی ہیں ۔ مٹی میں گھل کر نہیں۔بادل زمین پر  بوند بونداُترتاہے۔آسمان رنگ بدلتا ہے۔ قوس و قزح کے رنگ۔ رم جھم  ستارےبوند بوند روشنی آنکھوں میں اُترتے ہیں۔ جو سونے کے بعد بھی کالے آسمان پر چمکتے ہیں۔ وہ ہمیشہ چاہ پانے والی نگاہوں کے انتظار میں روشنی کے دیپ جلا کر رکھتی ہیں۔ مگر نگاہیں اندر کے اندھیروں سے گھل مل جاتی ہیں کہ باہر کی روشنی انہیں کسی مزار پر جلتے تیل کے چراغ دکھائی دیتے ہیں۔جنہیں منت مانگنے والوں کی مدد سے روشن رہنے کی  عادت ہو جاتی ہے۔ ان کو زندگی تبھی ملتی ہے جب مایوسی اور محرومی کے شکار ان میں اُمید کے تیل ڈالتے ہیں۔
ایسے چراغِ شب بجھا دو جو نگاہوں کو ستاروں کی محبت سے محروم رکھیں۔


!نوٹ 
میں نے یہ تحریر شاعرہ سارا شگفتہ کو پڑھنے کے بعد لکھی ۔   اس کے الفاظ میری روح میں اُتر گئے ۔میں نے بہت کوشش کی کہ اُس مقام پر کھڑا ہو کر دیکھ پاؤں جہاں سارا شگفتہ نے نظمیں لکھیں۔لیکن میں ڈر کر پیچھے ہٹ گیا۔ کیونکہ اُس کے لفظ کوڑوں کی طرح میری روح پر برس رہے تھے۔میں واہ واہ کی بجائے ہائے ہائے کرتا رہ گیا۔ اُس کے الفاظ میری روح کو تشنگی کی انتہا پر پہنچا کر اکیلا چھوڑ گئے۔ میں نے سونا چاہا تو اُس کے الفاظ مجھے جھنجوڑ جھنجوڑ کر اُٹھا دیتے کہ  تلاوت کے لئے انسانی صحیفہ تلاش کرو۔ میں نے اپنے زمانہ کا سارا علم ٹٹول ڈالا ۔اُس کے الفاظ آنکھیں بن کر مجھ سے سوال کرتے ہیں۔ جن کے جواب میرے پاس نہیں۔اسے تیس سال پہلے کوئی ٹرین کے نیچے آنے سے روک نہ سکا۔امریتا پریتم نے اسے جان کر کتاب لکھ ڈالی اور اسے انسانی صحیفہ کی پہلی آیت قرار دیا۔   مجھے آج تیس سال بعد معلوم ہوا کہ وہ کون تھی۔اُس کے لفظوں کے سامنے میں پانی پانی ہو گیا۔

تنہائیوں کی نوکیں میرے اعضاء میں پیوست کر دی گئی ہیں
پھر بھی کہتے ہو، آؤ باغ کو چلیں
میں اپنی آنکھوں پہ زندہ ہوں
میرے لب پتھر ہو چکے ہیں
اور کسی سنگ تراش نے ان کا مجسمہ
کسی پہاڑ کی چوٹی پر نصب کر دیا ہے
میں لہُو سے بیگانی ہوں
میرے جذبے اپاہج کر دیئے گئے ہیں
میں مکمل گفتگو نہیں کر سکتی
میں مکمل اُدھار ہوں
میری قبر کے چراغوں سے ہاتھ تاپنے والو
ٹھٹھرے وقت پر ایک دن میں بھی کانپی تھی
کاش آنکھیں آواز ہوتیں
زنگ کی دھار میرے لہُو میں رچ رہی ہے
بتاؤ ! تھوڑے پھُول دو گے
تیور زنگ آلود ہو چکے ہیں
میں نے کسی سے شاید وعدہ کر لیا تھا
مُسکراہٹ ہنسے گی تو آنکھیں ہنسیں گی
یہ تو لفظ کھڑکی کا پردہ ہوئے
لیکن دیوار کا پردہ نہ ہو سکے
رفتہ رفتہ پتھر میری گردن تک آ پہنچے ہیں
ڈر ہے کہیں میری آواز پتھر نہ ہو جائے
یہاں تو روز مجھے میری قبر سے اُکھاڑا جاتا ہے
کہ لوگ میری زندگی کے گُناہ گِن سکیں
یہاں تو میرے لہُو کی بوند بوند کو رنگا جا رہا ہے
لوگوں کی پُوریں انگارہ ہو رہی ہیں
میں کس سے ہاتھ مِلاؤں
کہ میری یاد کے ساتھ ہر ہر دل میں
ایک پتھر نصب کر دیا گیا ہے
میں نے نہیں کہا تھا
سُورج ہمیشہ میرے کپڑوں کا رنگ چُرا لے جاتا ہے
میرے قدم مجھے واپس کر دو
یہ اُدھار مہنگا ہے
میری دوکان چھوٹی ہے
جانے کون سی سڑک پہ ہم دوڑے تھے
میں پُوری مٹی میں چھُپ گئی
اور تم مٹی میں پانی چھڑکا کے
سوندھی سوندھی خوشبو اپنے جذبے میں لئے
اپنی زندگی کے دن بڑھا رہے ہو ۔۔۔۔
دیکھ تیرا چاند پتھر پہ لڑھک آیا ہے
اب کون سے چاند کو دیکھ کر
لوگ دعائیں مانگیں گے
میرا کفن زہریلے دھاگوں سے سیا جا رہا ہے
اور تم کہتے ہو
سفید لباس میں تم کتنی اچھی لگتی ہو ۔۔۔۔

Tuesday, August 5, 2014

میں ہوں برگ و بار

0 comments

ساری دنیا میرے سامنے ہے۔  زرہ زمین سے لیکر ستارہ آسمان تک میں دیکھ سکتا ہوں مگر مجھے میرا اپنا وجود محسوس نہیں ہو پا رہا ۔ ہاتھوں کو مسلتا ہوں پاؤں  رگڑتا ہوں پھر بھی اپنا آپ محسوس نہیں کر پا رہا۔ 
 یہ سوچتے سوچتے میرے دل کی دھڑکن بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ سانس میری روح میں سرایت کرتا جارہا ہے۔
طوفان تو کب کا تھم چکا ہے۔
سانس آج اکھڑا سا کیوں محسوس ہو رہا ہے۔ یہ مجھے اپنے پن کا احساس نہیں دلا پا رہا۔
ایسے لگتا ہے کسی کی کونپل کسی دوسری شاخ میں پیوند کر دی گئی ہو۔ اجبنیوں کو بہت مشکل سے قبول کیا جاتاہے۔
 ہر شاخ اپنا وجود ہی چاہتی ہے۔ آزادی سے جینے کا ڈھنگ اپنے ہی وجود سے پھیل کر خود میں سماتی ہے۔ اسے کسی کا انتظار نہیں۔ بہار ہو تو زمین کو سینچ کر پھول کھلا دیتی ہے۔ خزاں میں انہی پتوں کو پھر لوٹا دیتی ہے۔ نہ احسان اٹھاتی ہے نہ احسان جتاتی ہے۔ جس سے لپٹ کر پروان چڑھتی ہے۔ جدا ہو جائے تو اسی میں فنا ہو جاتی ہے۔ 
عشق کی انتہا ہے۔
پلتی، بڑھتی، کھلتی، مہکتی مگر اپنے محسن سے بیوفائی کا تصور تک نہیں۔ اس کی بہار بہار نہیں خزاں خزاں نہیں۔
 زندگی جینے کا ایک ڈھنگ ہے۔
 جس میں سلیقہ ہے، قرینہ ہے، اپنائیت ہے، جزبیت ہے، وفا ہے، عاجزی ہے۔
 مگر!
 خودسری نہیں۔ جھکتے ہیں تو بوجھ سے نہیں۔ محبت کو ہاتھوں پہ رکھ لیتے ہیں۔
 خوشبو پھیلا دیتے ہیں تاکہ پیاس بجھانے والے بھوک مٹانے والے راستہ نہ بھٹک جائیں۔
چھپاتے نہیں ہیں کھلے دل سے بلاتے ہیں۔ 
مسافروں کا انتظار کرتے کرتے سوکھ جائیں تو پھر لوٹا دیتے ہیں۔
 سخت گرمی ہو تو آنچل بن جاتے ہیں۔ خود جلنے کا ملال نہیں۔
 پناہ دینے میں شاخ شاخ سے بڑھ جانے کی دوڑ میں ہے۔ ہر خوشی کا پل سنبھالنا ہی ان کی معراج ہے۔
 اس خدمت کا کیا صلہ پاتے ہیں؟ جن پہ احسان کرتے ہیں انہیں کے ہاتھوں مرتے ہیں۔ دفنائے نہیں جاتے سجائے جاتے ہیں۔
 خوشیوں میں تو شریک ہیں۔ جان کنی کے عالم میں دکھوں کے نالے ہیں۔
 بہار میں تو جیت گئے۔ 
مگر!
  خزاں میں ہار  گئے  وہ  برگ  و  بار

محمودالحق

Thursday, July 24, 2014

اللہ کرے زورِ جذب اور زیادہ

0 comments
دماغ کے گرم تنور پہ اختلاف کے پیڑے سے تسلی کی روٹی بنانے کی کوشش میں ہوں۔ اگر گول مٹول کی بجائے چپٹی بن جائے تو مردِ انجان سے کھری کھری سننے کی نوبت نہیں آئے گی مگر امور خانہ داری نبھانے والوں سے جان بچانی مشکل ہو جائے گی۔ جنہیں بھوک نے ستا رکھا ہو ظاہری خدو خال کی پیچیدگیوں سے آنکھیں چرائے رکھتے ہیں۔نخرہ  تو تب کیا جاتا ہے جب پیٹ بھرا ہو۔ خالی پیٹ تو آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل ہوتا ہے۔
والدین بچوں کے گریڈ کم آنے پر دہائی دیتے ہیں۔ بچے ٹیچروں کے نہ پڑھانے کی دہائی دیتے ہیں۔ حکومتیں قانون قانون کی دہائی دیتی ہیں۔ عوام امن کی دہائی دیتے ہیں۔غریب مہنگائی کی دہائی دیتے ہیں۔امیر ائیر کنڈیشنڈ کمرے میں بے سکونی کی دہائی دیتے ہیں۔لڑکے محبت محبت کی دہائی دیتے ہیں۔ لڑکیاں بے وفائی کی دہائی دیتی ہیں۔مظلوم ظلم ظلم کی دہائی دیتا ہے ۔ ظالم نا انصافی کی دہائی دیتا ہے۔  اورشاعر وزن بحر کی دہائی دیتا ہے  توادیب نارسائی کی دہائی دیتا ہے۔  جن کی پانچ گھی میں ہوں وہ نیند میں خواب کے مزے لیتا ہے۔ جن کی ایک کے بعد ایک ٹیڑھی ہونے کے باوجود گھی نہ نکلے  انہیں دوسروں کی سیدھی بری لگتی ہے۔سب اصول و ضوابط حضرت انسان کے اپنی ذات انجمن کے طے کردہ ہیں۔لندن اور امریکہ میں نظام ٹریفک ایسے ہے کہ  ایک کو دوسرے کی ٹریفک ون وے کی خلاف ورزی کر تی نظر آتی ہے۔کیونکہ لندن لیفٹ ہینڈ ٹریفک چلتی ہے تو امریکہ میں رائٹ ہینڈ ۔
قانون فطرت نہیں بدلتا ، مذہب کی تشریح بدل جاتی ہے۔ سرحدیں آسانی سے نہیں بدلتیں  کیونکہ طاقتور سے سامنا کرنا پڑتا ہےمگر قانون بدل جاتے ہیں کیونکہ وہ کمزور پر لاگو ہوتے ہیں۔ جن ملکوں میں نظام تعلیم پرائیویٹ سکولوں کے ٹھیکیداری نظام پر چلتا ہو ۔ استاد ٹیوشن سے گھر کا چولہا جلانے پر مجبور ہو۔ جہاں پیسے کے زور پر علم سیکھا جاتا ہو۔ وہاں شعر و ادب کے رکھوالے صدیوں کی روایات کو نشاۃ ثانیہ قرار دے کر دبستان لکھنو کی تحریک کے روح رواں بنے نظر آتے ہیں۔وہ حق بجانب ہیں کیونکہ ادب کی ان اصناف کو ماننے والے مسلمانوں سے زیادہ ہیں۔وہ اس لئے کہ مسلمان عشق حقیقی کو ماننے والا ہے  مگر یہاں تو عشق مجازی کے پرستار لاکھوں کی تعداد میں جلتی شمع کے گرد پروانوں کی طرح مٹنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ جن کے لئے میری ذات ذرہ بے نشان صرف ڈرامے کی حد تک ہوتی ہے۔قرآن و سنت نے جو طے کر دیا باتوں سے پورا کر لیا جاتا ہے۔اولاد  بننے سے لے کر فرد بننے تک اپنے فائدے کے حقوق مرضی کے فرائض ادا کر دئیے جاتے ہیں۔ 
اللہ کرے زور قلم اور زیادہ ۔یہ وہ دعا ہے جو لکھنے والوں کو دی جاتی ہے۔
اللہ کرے زور جذب اور  زیادہ ۔ یہ دعا  پڑھنے والوں کو دی جانی چاہیئے۔ 
لاہور کی سخت گرمی اور حبس  میں  لوڈ شیڈنگ سے بھری سحری اور افطاری کے بعد  ان سے دور آ کر ٹھنڈی ہواؤں  نےان سے غافل نہیں کیا جو گرمی اور حبس میں اللہ کے شکر گزار بندے بن کر رہتے ہیں۔ 
 پانچ انگلیوں سے لکھتے لکھتے پانچ سال ہو گئے۔ پانچ ملنے مشکل ہیں ۔لکھنا قلم سے ہوتا تو قلمی دوستیاں رکھتا۔مگر قلب مستی کرتا ہے۔اسی مستی میں ٹی وی پر آنے والے ایک فقیر سے ملاقات کا وقت مانگ لیا تو سیکرٹری نے دو گھنٹے انتظار کے بعد دو منٹ دینے پر رضا مندی ظاہر کی۔اتنے کم  تو ہم بھی نہیں کہ دو منٹ میں حال دل بیان کر دیتے۔ سالہا سال  سےعشق حقیقی میں مبتلا  ہیں۔دو منٹ میں تو دھڑکن سنائی نہیں دے  گی۔ ایک اور صاحب کے معتقد نے خود ہی  مایوسی سے بھانڈا پھوڑ دیا کہ آدھے گھنٹہ  کی ملاقات کا بیس ہزار اورپندرہ منٹ کے فون کا پانچ ہزار لیتے ہیں۔  ٹی وی پر آنے کا  معاوضہ تو ایسے ہی ہوتا ہے۔ جتنا گڑ ڈالو اتنا میٹھا ہو گا۔  اب وہ زمانہ نہیں کہ ایک ہاتھ سے خیرات کرو تو دوسرے ہاتھ کو پتہ نہ چلے۔ کیمرہ ٹی وی کا نہ بھی ہو اپنا ساتھ ضرور رکھو۔ نیکی کا ثبوت مانگا جا سکتا ہے۔اب نیکی کر دریا میں ڈال والا دور نہیں۔ کھوٹا کھرے سے زیادہ چلتا ہےاور جھوٹ سچ سے۔زبان قینچی کی طرح چلتی ہے تو قلم خنجر کی طرح۔

Wednesday, July 23, 2014

محبت بے نام ہے

1 comments


آج صرف دل کی سنتا ہوں۔کل کی بات ہے یہ صرف میری سنتا تھا۔یہ مجھے سمجھاتا کہ میں تو عکس آئینہ ہوں ۔ میں نے سمجھا کہ یہ پسِ آئنیہ ہے۔میں تصویر پہ تصویر بناتا  چلا گیا اور یہ انہیں مٹاتا چلا گیا۔
غصہ تو بہت کیا ۔میرے رنگوں کو بے رنگ کر دیتا۔جیسے سکول میں استاد تختہ سیاہ  کے ہر نشان کو ڈسٹر سے  صاف کر دیتا۔
استاد تو میں تھا اس کا ۔حرف مٹانے کا اختیار تو میرا تھا پھر یہ اپنی من مانی کیوں کرتا رہا میرے ساتھ ۔ ہر جذبہ ، ہر احسا س کو کرایہ دار کی طرح مکان سے بے دخل کر دیتا۔
مطالبہ بھی عجب تھا  چاہت ِکرایہ چاہے نہ دو مگر سکونت مکین کی طرح رکھو مسافر کی طرح پڑاؤ نہیں۔
 اندھیروں سے ڈر کر پناہ کی تلاش میں آنے والے تیل بھر بھر چراغ لے جاتے مگر یہ بھول جاتے کہ چراغ ِ روشن کے لئے چنگاری چاہیئے ہوتی ہے۔پھر چاہے چراغ سے گھر روشن کر لو یا اسے جلا لو۔یہ جل کر روشنی بھی دیتا  ہے اور جلا کر بھی۔
لیکن خواہش میں ہمیشہ بنا تیل کے بجھا جادوئی چراغ رہتا ہے۔جو ہاتھ کی رگڑ سے ہی محل جگمگا دے۔
شاعر کی نطر محبت کے شعر رگڑنے سے  دل کے بیاباں روشن نہیں ہوتے۔جب تک  کہ دل خود نہ جلے ۔
محبت محبوب  کودیکھنے کا نہیں ، اس کی گلی سے گزرنے کا نام ہے۔اسے پانے کا نہیں اسے سوچنے کا نام ہے۔مٹنے کا نہیں ہمیشہ رہنے کا نام ہے۔دیکھنے کا نہیں جاننے کا نام ہے۔خواہش کا نہیں احساس کا نام ہے۔تعلق کا نہیں بے پرواہی کا نام ہے۔پھول چننے کا نہیں  کانٹو ں سے بچنے کا نام ہے۔خاک پر رہنے کا نہیں خاک میں رہنے کا نام ہے۔

Saturday, July 12, 2014

نشانیاں

0 comments

گرمی سے ستائے لوگ نہر میں الٹی قلابازیاں لگاتے کود رہے تھے۔ چند ایک پانی کو گندہ جان کر صرف پاؤں کو ٹھنڈک پہنچانے تک ہی استفادہ حاصل کر رہے تھے۔ وہاں گاڑیوں سے گزرنے والے بے اعتنائی سےکچھ بھی سوچنے کی مشقت سے لا پرواہی برتتے ہوئے افطاری میں مدعو کئے مہمانوں کی آؤ بھگت کے لئے جیب میں ڈالی لسٹ پر بار بار اچٹکتی نگاہ ڈالتے کہ کہیں گھر پہنچنے پر حافظہ کی کمزوری کا طعنہ سننے میں نہ آجائے۔کسی کو جانے کی جلدی تھی تو کسی کو واپس آنے کی۔دھوپ 43, 45  ڈگری سے جسم کی حرارت بڑھا رہی تھی تو دماغ ڈبل سپیڈ سے خیالات کو ہوا کے گھوڑے پر بٹھا رہا تھا۔غرض بندہ بشر کچھ سن رہا تھا کچھ سنا رہا تھا۔جو سبق ابھی یاد کیا اسے بھلا رہا تھا۔ رات کا چین کھو رہا تھا تو دن کا سکون بھی ہاتھ سے جا رہا تھا۔
نظر اُٹھا کر جب درختوں کو میں نے دیکھا تو وہ مسکرا رہے تھے۔ ٹہنی سے ٹہنی ملائے پتے سے پتہ ٹکرائے   تونشہ میں جھولتے ہوئے جھوم جھوم جاتے۔ میں زیر لب بڑبڑایا کہ تجھے اٹھکھیلیاں سوجی ہیں ہم بیزار بیٹھے ہیں۔ چلنے کونہیں ہم تیار بیٹھے ہیں۔چاہے صدیاں گزر جائیں کر کے انکار بیٹھے ہیں۔ اور ان میں سے کسی نے  خود کوپھل کے زیور سے آراستہ کر رکھا ہے  اور جھک جھک کر آداب بجا لا رہا ہے۔ کوئی  خود پھیل کر چھاؤں پھیلا کر  احسان جتانے پر بضد ہے۔ 
بیشک اللہ بیج اور گٹھلی کو چیرنے والا ہے)۔الانعام 95۔) 
زمین کی ہمواری سے لے کر آبیاری تک بیج کو پے در پے مواقع حاصل ہوتے ہیں۔ جن کی موسم سےنسبت طے کر دی جاتی ہے۔جو پہلے رنگ پاتے ہیں پھر خوشبو پھیلاتے ہیں۔بیج زمین سے ایسے نکلتے ہیں جیسے تاریکی چاک کر کے صبح  نکلتی ہے۔رات تو چین کا باعث ہے ۔ دن اور رات کی نسبت سورج اور چاند سے طے  کر دی جاتی ہے۔جو حساب کے سا دہ اصول پر جمع تفریق میں مصروف عمل رہتا ہے۔ اور دن کی تھکاوٹ کا حساب رات کو چکتا کر دیتے ہیں۔
یہ سادہ اور زبردست ہے جاننے والے کا )۔ الانعام 96۔ )
سورج اور چاند سے ہٹ کر تارے آسمان پر ٹمٹماتے  انگلیوں سے گنتی میں نہیں آتے۔ نہ ہی سکون آور ہیں نہ ہی چین کھونے والے مگر  خشکی اور تری کے اندھیروں میں  مسافروں کو راہ دکھلاتے ہیں۔تاکہ وہ بھٹک نہ جائیں اپنی سمت کو درست رکھ پائیں۔ اور منزل تک پہنچ کر اگلے سفر کی تیاری کا قصد کر لیں۔ان کے انتظار میں رہنے والے سورج اور چاند کی گردش سے جانے آنے کے فاصلوں کو دن رات میں باندھ لیں۔بے شک یہ نشانیاں علم والوں کے لئے ہیں۔
ہم نے نشانیاں مفصل بیان کر دیں علم والوں کے لئے) الانعام 97)
اللہ تبارک تعالی نے  سب سے پہلے آدم کی تخلیق   کی جسے  جاننے کاعلم عطا کیا گیا۔  پھر اسی جان سے اس کی بیوی پیدا کی گئی ۔پھر ان سے بہت سے مرد اور عورتیں پیدا کی گئیں۔ انسانی جان سے زندگی کے ایک مسلسل تسلسل کو جاری و ساری رکھنا حکمت خداوندی ٹھہرا ۔جہاں کوکھ  سےقبر میں ٹھہرانے اور امانت میں رکھنے کو منشاء و رضائے الہی ماننا بلا شک و شبہ  قرار پایا ۔جس کو علم کی طرح جاننے کی بجائے سمجھنا ضروری ہے کہ    حکم ربی ہے کیا۔زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے نکالنے والا ہے ۔چاہے وہ بیج اور گٹھلی ہو یا ایک جان سے پیدا کیا گیا انسان ۔ ایک میں مفصل بیان کی گئی نشانیاں علم والوں کےلئے ہیں اور ایک میں سمجھ والوں کے لئے۔ انسان قبل از پیدائش سے  موت اور بعد از موت رکھے جانے کو احکامات پروردگار سے جستجو و تلاش کے راستے سے سمجھنے کی کوشش میں اللہ کا قرب پانے کےقریب ہو جاتا ہے۔ جہاں اس پر رحمتیں نچھاور ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔قبل از موت کئے گئے فیصلے بعد از موت محفوظ رکھے جاتے ہیں تاآنکہ فیصلہ کا دن آن پہنچے گا۔ انسان نشو ونما کی بجائے پرورش سے پروان چڑھتا ہے۔تربیت کے مختلف ادوار میں آگہی کی سوجھ بوجھ سے بعداز موت کے مناظر کو پہلے ہی کینوس پر  مختلف رنگوں کے حسین امتزاج   سےمنتقل کیا جانا بہتر رہتا ہے۔ 
بیشک ہم نے مفصل آیتیں بیان کر دیں سمجھ والے کے لئے)  الانعام 98)
اللہ تبارک تعالی نے مخلوق کو زندگی کی لذتوں سے مستفید رکھا ۔ آسمان سے پانی اتارا جس نے مردہ زمین کو زندہ کیا پھر وہاں سے ہر اُگنے والی چیز پیدا کی۔ تاکہ آدم اپنی ضرورت کے مطابق  سبزیوں اور پھلوں کو اپنے استعمال میں لا سکے۔ صرف زندگی عطا نہیں کی بلکہ اس کے بھرپور لوازمات بھی عطا کئے۔ایسی سبزی جس کے دانے ایک دوسرے پر چڑھے ہوئے اور کھجور کے گچھے انگور کے باغ اور زیتون اور انار کسی بات میں ایک دوسرے ملتے اور کسی بات پہ دیکھنے میں الگ ۔ ایسے پھل جو  پھلنے سے پکنے تک ٹوٹنے اور بچنے کی قدرتی حصار میں پروئے رہتے ہیں۔  تا آنکہ وہ پک کر اپنےوجود کو ذائقہ اور تسکین سے  بھر لیں۔آدم ان نعمتوں کو انعام و اکرام  مان کر رب کائنات کی شکر گزار بندگی میں چلا جائے۔
بیشک اس میں نشانیاں ہیں ایمان والوں کے لئے) الانعام 99)

تحریر ! محمودالحق