Wednesday, December 28, 2011

پیار سے ڈر لگتا ہے

1 comments
سننے میں اچھا لگتا ہے یا شائد کسی کو برا لگتا ہے ۔ معصومیت بھرا لفظ ہے پھر اس سے کیوں ڈر لگتا ہے ۔ ڈھو نڈنے پیار کو یہاں آ گئے ۔ الفاظ کڑوی گولی کی طرح مفہوم مسیحائی میں سما گئے ۔
بیماری پنپتی جزبات میں گھائل روح تمازت سے ہے ۔ کھلی آنکھوں سے نظر میں سمائے تو بند آنکھوں سے دل میں اتر جائے ۔ پھر ڈرنے کی وجہ سمجھ سے باہر ہے ۔ اگر سمجھنا یہ ہے تو ایک جملے کو اتنی پزیرائی کیوں ۔ تپھڑ سے ڈر نہیں لگتا پیار سے لگتا ہے ۔ تپھڑ سے آنکھوں میں اندھیرا چھا جاتا ہے تو پیار سے عقل پہ پردہ ۔
نفرت آگ کی حدت ہے جو جلا نہ پائے تو پھگلا ضرور دیتی ہے ۔ مگر پیار ڈوری کی مانند دوسِروں کو باہم باندھ دیتا ہے ۔
ایک ایسی روشنی جو آفتاب کی مہتاب پر پڑیں تو چاہے پہلی کا چاند بنا دیں یا چودھویں رات کی چاندنی ۔ مہتاب کرنوں کی محبت سے محروم ایک پل کے لئے بھی نہیں رہتا ۔
مگر دل ایسی زمین ہے جو حالات و موسمی اثرات کے زیر اثر سچی روشنی کی نعمت سے بھی کبھی کبھار محروم رہ جاتا ہے ۔ نفرت ، ہوس و حرص کے بادل تہہ آب سے جزبات کی بلندی کو چھو کر برس جاتے ہیں ۔ آسمان سے برسیں تو گرد و غبار کی کثافت چھٹ جاتی ہیں ۔ آنکھوں سے برس کر دل کے غبار کو نکال باہر کرتی ہیں ۔
ان باتوں سے تو پیار سے ڈر کا تعلق واضح نہیں ہوتا ۔کیا ایسا سوچتے ہیں ہم ۔
زمین کی محبت میں گرفتاری کا خوف کبھی پاس سے بھی نہیں گزرتا ۔ مگر یہی زمین زلزلہ ، سونامی ، ہریکین سے اپنا وجود سمجھائے تو خوف میں جکڑے جاتے ہیں ۔ ہماری سوچ ، ہماری زندگی حالات کے رحم و کرم پر بند بادبان کی کشتی جیسی ہے جو ہوا کے دباؤ کو برداشت کرنے سے قاصر ہے ۔
جو زندگی سے پیار کرتے ہیں وہ فنا ہونے سے ڈرتے ہیں ۔ مگر فنائی صفت پر جان نچھاور کرتے ہیں ۔ دن رات ہوس و حرص کی روشنی سمیٹتے ہیں ۔ جو پیدا اس پانی سے ہوتی ہے جس کی قدر نخلستان میں بھٹکے مسافر سے زیادہ کس کو ہو گی ۔
اللہ تبارک تعالی کی نعمتیں ہزارہا ہیں ۔ انسان گنتا وہی ہے جو مادیت پر ہوں ۔ بدن میں حرارت 98.6 سینٹی گریڈ تک کسی شمار میں نہیں ۔ حلق کے نوالے گنتی میں ہیں مگر سانس کی آمدورفت صرف علامت ہے ۔ تیز رفتاری میں قابل توجہ ہوتی ہے ۔
محبت کی تاریخ کو افکار کے آئنے میں تلاش کریں تو عکس لگن سے ملن ، قربت سے محبت تک بنتا ہے ۔ اگر نظریات سے کھوج کریں تو شکوہ سے شکایت ، حقیقت میں روایت کا عکس بنتا ہے ۔ حال کی جوانی کو ماضی کے بچپن سے کشیدہ نہیں کیا جاتا ۔ محبت کو نفرت سے رنجیدہ نہیں کیا جاتا ۔ خوشی کو غم سے بینا و دیدہ نہیں کیا جاتا ۔ اوصاف کو وصف سے حمیدہ نہیں کیا جاتا ۔ جسے بھول جانے کا خوف ہو وہ عشق نہیں جسے سنبھال نہ سکو وہ بھی عشق نہیں ۔ جو خود میں سمو لے ۔ جو خود کو کھو دے وہ عشق ہے ۔
جو  فریاد سے نہ ہو اعتماد سے ہو ۔ارمان سے نہ ہو ایمان سے ہو ۔ طلب سے نہ ہو قلب سے ہو ۔ چھپ کر نہ ہو مگر چپ سے ہو ۔ انگاروں جیسا نہ ہو مگر ستاروں جیسا ہو ۔
ڈھونڈو ایسی محبت کو جو روٹھتی نہیں ۔ جس کی چاہ سے چاشنی نہیں جو عقیدت کے جنون سے لبریز ہے ۔ جو افتراء سے نہیں اقراء سے ہے ۔ جو زنگار سے نہیں ابرار سے ہے ۔ جو اسرار سے نہیں اقرار سے ہے ۔ جو عبد سے نہیں عابد سے ہے ۔ جو ابد سے نہیں احد سے ہے ۔ واحد کی محبت زاہد کا مقام ہے ۔ بیان میں جو نہ آئے وہی انعام ہے ۔


 تحریر !  محمودالحق

Saturday, November 19, 2011

عشق سے عشق تک

0 comments
اونچی آواز میں دعا مانگوں یا اللہ مجھے محبت عطا کر تو ارد گرد نمازی تجسس بھری نگاہوں سے گھورے گے ضرور ۔ بد بخت مسجد میں بھی نفسانی خواہشیں لپیٹ لایا ہے ۔ گھر میں لبوں پہ یہی دعا گنگنائے تو رات کا کھانا خراب طبیعت کے بہانے میں رہ جائے ۔
جو رہتا ہے تو رہ جائے جو بگڑے سو بگڑے مگر دل کی بات کہنے سے نہ کوئی روک پائے ۔ ایک محبت کی کمی نے زندگی بے رنگ کر دی ۔ خواہشیں انگڑائی لینا بھول گئیں ۔ گناہ توبہ کی کسوٹی سے پرکھنے لگے ۔ نیکیاں آرزؤں کی سولی پر لٹک کر جھولنے لگیں ۔ ارمان گھٹ گھٹ مرنے لگیں ۔ لطیف سانس اکھڑ اکھڑ کر حلق میں اٹکنے لگے تو قلب رازِ محبت کے بار سے بیٹھنے لگے ۔ خشک ہونٹ نامراد ناکام عاشق کی طرح اجڑنے کا منظر پیش کرنے لگیں ۔ قدم آگےبڑھنے سے پہلے دل سے اجازت مانگیں جو دھڑکنوں کی گنتی خود یاد کرنے میں دھک دھک کر نے میں مصروف عمل ہو تو بے چاری عقل جو مغز کی ماری ہو سوچ کے کونے کھدرے سے نکال نکال کر قصیدے قرینے سے پلکوں پر بٹھا کر آداب بجا لاتی رہے ۔ بن پنکھ کے کہیں اُڑنے کے لئے پر تولتی ہو تو خون آشام کے پروردہ ہاتھوں پہ رنگ حنا لئے بہلانے پھسلانے کو آسمانوں می‫‫ں اُڑا اُڑا چہرے کی رنگت شفق سےفق ہونے لگے ۔ دلاسے ہمت باندھتے کم جکڑمحبت میں مذید گانٹھیں لگانے میں پیش پیش زیادہ ۔
عشق سے عشق تک پہنچنے کے تمام مراحل خود سے طے ہونے لگیں ۔ جنون محبت کا ، ارادے قربت کے ، چاہت پانے کی ، خوشی لذت کی ، انتظار آنے کا مگر جانے کا غم بچپن کے یاد کئے پہاڑےکےسبق کی طرح دو سے دو چار خود بخود ہوتے چلے جاتے ہیں ۔
تنہا ایک خود ہے پہاڑے دو سے سولہ تک یاد رکھتا ہے ۔ اکیلے کا مول الگ ہے دو کا تول الگ سے ۔
محبت بنیاد نہیں سطح آب ہے جہاں جزبات کے بخارات اُٹھتے تو اُداسیوں ، ناکامیوں کے بادل برستے کہیں اور ہیں ۔
جنہیں محبت کا جنوں ہے انہیں خود کی تلاش ہے ۔ پانے کی چاہت کمزور ہے جیتنے کی لگن زورآور ۔
انا کا ایک خاموش بت شخصیت کے گرد حلقہ بنائے محبت کے پجاریوں کے جھکنے سے تسکین پانے میں نشہ کے جام چھلکاتا ہے ۔
محبت کی داستان سچی ہو تب بھی ہیر رانجھا ، شیریں فرہاد ، لیلی مجنوں اور سسی پنوں کے نام سے بیان ایک داستان رہے گی ۔ جنہیں بچھڑنے کے غم نے نڈھال کر دیا ۔ کھونے کا غم کسی کے بدن سے جان لے گیا ۔
آغاز محبت میں شدت ایمان کی صورت اور انجام سے بے خبری کسی کافر کے گناہوں میں لت پت ہونے جیسی ۔
عشق مجازی سے عشق حقیقی تک پہنچنے کی راہ ۔
مگر کیسے ؟
کسی کو پانے کی شدت ہے یا خود کو منوانے کی ۔ ناکامی و نامرادی کا حزن نہیں تو ملال کا گزر بھی نہیں ۔
پھر دل تھام تھام ہمدردی کی جھولی پھیلانے سے درد کے افاقہ کی سیل توڑی نہیں جا سکتی ۔
دل ٹوٹے ٹوٹے گانے میں اچھا ہو سکتا ہے مگر جینے میں بار بار ٹوٹنا سامان رسد باندھ لینا خوشیوں کے روٹھ جانے پر ۔
محبت میں جیت کا راستہ دیکھیں تو کیسے ؟ محبت کا مفہوم ہی نہیں سمجھ پائےتو محبوب کے جلوہ کا تصور ہی آنکھوں کو چندھیا دے ۔
عشق میں گداگر کی طرح مانگتے جاؤ ۔کشکول میں ڈالنے والے محبوب ہو جاتے ہیں ۔
بزم میں شمع جلاؤ تو بند کواڑ سے عاشق لپکتے ہیں ۔ جو جلنے پر بضد ہوتے ہیں ۔
تنہائیوں کے خوف انہیں موت کے گھاٹ نہیں اتارتے بلکہ جلوہ افروزی پر فریفتہ اپنی جان کے نذرانے پیش کرتے ہیں ۔
جو پانے کے لئے دکھوں کے روگ پال لیتے ہیں ۔ کھونا جنہیں دل کا روگی بنا دے ۔ ہمدردی سے ایک بار پھر انا کی بازی جیتنے سے توانائی کے طالب ہوتے ہیں ۔
قابل رحم ہیں جو سچی محبت کا روگ الاپتے مگر پانے اور کھونے کے غیر محسوس ڈر کا شکار رہتے ہیں ۔
سچی محبت کا حقدار تو صرف وہی ہے جو داتا ہے ۔ غنی ہے ۔ غفور ہے ۔ رحیم ہے ۔ محبتیں اس کی امین ہیں ۔ ہمارے پاس تو امانتیں ہیں ۔ جنہیں لوٹانے میں پس و پیش اور لیت و لعل کی ضرورت باقی نہیں رہتی ۔
سچ لکھنے سے دل کا بوجھ ہلکا ہوتا ہے تو کسی تار بابو سے خط لکھوانے کی ضرورت نہیں ۔
قلب ِقلم کو نعمت ِخداوندی کے شکرسے خوب بھر لو ۔
محبت کے سفید کاغذ پر عشق کی انمٹ روشنائی سے لکھتے جاؤ ۔۔۔۔۔۔۔

تیری عنایات ہیں اتنی کہ سجدہء شکر ختم نہ ہو
تیرے راستے میں کانٹے ہوں میرا سفر ختم نہ ہو
پھیلا دوں روشنی کی طرح علم خضر ختم نہ ہو
توبہ کرتا رہوں اتنی میرا عذر ختم نہ ہو
سجدے میں سامنے تیرا گھر ہو یہ منظر ختم نہ ہو
تیری رحمتوں کی ہو بارش میرا فقر ختم نہ ہو
مجھ ادنیٰ کو تیرے انعام کا فخر ختم نہ ہو
جہاں جہاں تیرا کلام ہو میرا گزر ختم نہ ہو
تیری منزل تک ہر راستے کی ٹھوکر ختم نہ ہو
آزمائشوں کے پہاڑ ہوں میرا صبر ختم نہ ہو
زندگی بھلے رک جائے میرا جذر ختم نہ ہو
وجود چاہے مٹ جائے میری نظر ختم نہ ہو
تیری اطاعت میں کہیں کمی نہ ہو میرا ڈر ختم نہ ہو
بادباں کو چاہے کھینچ لے مگر لہر ختم نہ ہو
خواہشیں بھلا مجھے چھوڑ دیں تیرا ثمر ختم نہ ہو
تیری عبادت میں اتنا جیئوں میری عمر ختم نہ ہو
بھول جاؤں کہ میں کون ہوں مگر تیرا ذکر ختم نہ ہو
جاگوں جب غفلتِ شب سے میرا فجر ختم نہ ہو
تیری محبت کا جرم وار ہوں میرا حشر ختم نہ ہو
تیری حکمت سے شفایاب ہوں مگر اثر ختم نہ ہو
میرے عمل مجھ سے شرمندہ ہوں مگر فکر ختم نہ ہو
منزلیں چاہے سب گزر جائیں مگر امر ختم نہ ہو
سپیدی و سیاہی رہے نہ رہے مگر نشر ختم نہ ہو
دن چاہے رات میں چھپ جائے مگر ازہر ختم نہ ہو


تحریر و اشعار ! محمودالحق

Sunday, October 30, 2011

یہ جینا بھی کیا جینا ہے

1 comments
انسان اپنی سوچ کے دھارے میں بہنے اور بہانے کے عمل سے دوچار رہتا ہے ۔ کبھی خوشی سمیٹتا تو کبھی غموں کے جام چھلکاتا ہے ۔ جینے کے نت نئے انداز لبادے کی طرح اوڑھے جاتے ہیں ۔ مگر جینا کفن کی طرح ایک ہی لبادے کا محتاج رہتا ہے ۔ برداشت دکھ جھیلنے اور درد سہنے میں طاقت کی فراہمی کا بندوبست کرتی ہے ۔
نقصان عدم اعتماد پیدا کرتا اور بھروسہ کو پامال کرتا ہے ۔ فائدہ تکبر کا مادہ پیدا کرتا ہے ۔ مقدر کے سمندر میں سکندر کی ناؤ بہاتا ہے ۔ انسان سوچتا وہی ہے جو پانا چاہتا ہے ۔ ہوتا وہی ہے جو تقدیر میں لکھا ہو ۔
زندگی میں خوشیاں تلاش کی جاتی ہیں ۔ جبکہ خوشی موقع کی تلاش میں رہتی ہے ۔ اور مواقع حسد ، رقابت ، لالچ اور نفرت سے کھوتے چلے جاتے ہیں ۔ مزاج مسلسل بگڑے رہنے سے رویے عدم توازن کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ پھر دوست دوست نہیں رہتے ۔ محبوب بھی محبوب نہیں رہتے ۔ عیوب کی نظر بد کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ جیسے ساحل سمندر پر لہریں پاؤں کے نیچے سے ریت سرکا نے سے توازن بگاڑتی اور پھر ساتھ بہانے کی ضد میں ایک کے بعد ایک لہر دوسرے کی مدد کو پہنچ جاتی ہے ۔جو سنبھلنے اور پاؤں جمانے کی مہلت دینے میں بخل سے کام لیتیں ہیں ۔
محنت سے جوڑی گئی ایک ایک اینٹ جب ایک دوسرے سے کٹ جائے تو صرف ملبہ کے ڈھیر کی صورت میں رہ جاتی ہے ۔ عمارت نقش و نگار سے مزین اور نظر اُٹھا کر دیکھنے میں خوبصورتی کا مجسمہ بنتی ہے ۔نظریں جھکانا احتیاط یا تابعداری میں رہتا ہے ۔ دیکھنے والی آنکھ وجود کا ہی حصہ ہیں مگر نظر میں جزب کی کیفیت روح سے مزین ہے ۔
زمین میں بیج بو کر آبیاری سے ثمر کے حصول تک پروان چڑھانا ایک عمل کا نتیجہ ہے ۔ مگر جس زمین کی تاثیر سے شاخوں میں پھول کھلتے اور رس گھلتے ہیں ۔ وہ جڑوں سے پہنچنے والی طاقت ،مٹی میں عمل تبخیر آبگیری تک آنکھوں سے اوجھل رہتی ہے ۔
جو درخت گرمی میں ٹھنڈک پہنچاتے ، دھوپ سے بچاتے تو سردی میں وہی اپنے سے دور رہنے پر مجبور کرتے ہیں ۔ مگر انھیں کاٹ کر پھینک نہیں دیا جاتا ۔ بلکہ موسم میں تبدیلی کے آثار نمودار ہونے تک انتظار میں رہا جاتا ہے ۔ مگر انسان بھلائی نیکی کرنے والے کی ایک غلطی یا خامی کو حالات کی درستگی تک ٹھیک ہونے کی مہلت دینے کو تیار نہیں ہوتا ۔بلکہ محبت کی ڈوری سے بندھے رشتے ناطے کو نفرت اور غرض کی آری سے کاٹنے کے درپے رہتا ہے ۔ چشمہ سے ابلتا پانی گرمی میں ٹھنڈک کا احساس دلاتا اور موسم سرما میں یخ بستہ سردی کا احساس مٹاتا ہے ۔ مٹی سے بنا انسان مٹی سے اٹ جانے کو گندگی تصور کرتا ہے ۔ لباس اور وضع قطع سے منفرد اور مسحور کر دینے کی بے لگان خواہش سے عزت ومنزلت اور جاہ و مرتبہ کا متمنی رہتا ہے ۔
آزادی سرکش اور بے لگام گھوڑے کی مانند ہے جسے قانون کی کاٹھی سے موافق بنایا جاتا ہے ۔ مگر نفس پھر بھی سرکشی پر مائل رہتا ہے ۔اگر روح کا بار وجود پر بھاری پن کا احساس بڑھا دے تو خلوت کا احساس بوجھ سے آزاد ہو جاتا ہے ۔ترغیب گناہ کی لذت کا احساس ضمیر اور خواہش کے درمیان فاصلے مٹاتا چلا جاتا ہے ۔
خوشی لزت سے آشنا ہوتی ہے اور غم خوف سے ۔
غم کے آنے میں غم ہے تو جانے میں خوشی ۔ خوشی کے آنے میں خوشی ہے تو جانے میں غم ۔
جو اسے رضا جان لے تو رضائے الہی سے قلب اطمینان میں دھڑکتا ہے وگرنہ اچھل اچھل بھڑکتا ہے ۔

Sunday, September 18, 2011

کس کی بنی ہے عالمِ ناپائدار میں

0 comments
جب بخار کی شدت میں دو تین ڈگری کمی آتی تو تیمار داری کے لئے آنے والوں سے ہنسی مذاق میں موڈ خوش گوار کر لیتا ۔ جیسے ہی دوا کے اثرات زائل ہونا شروع ہوتے تو ٹمپریچر 105 سینٹی گریڈ تک پہنچتے پہنچتے مجھے نڈھال کر دیتا ۔ سر ایک طرف ڈھلک جاتا ۔ کھانا پینا تو پہلے ہی دواؤں کی کڑواہٹ کا شکار تھا ۔ کمزوری و نقاہت سے بدن حاجت کے لئے بھی سہارے کا محتاج ہو چکا تھا ۔ نرس گلوکوز کی بوتل میں ہی وقفے وقفے سےگھونٹ گھونٹ ٹیکے ٹکا رہی تھی ۔ خواتین تیمار داری کے ساتھ ساتھ باتیں کم اور کچھ پڑھتے ہوئے ہاتھ کے انگوٹھے سے انگلیوں کو جگا رہی تھی ۔ اور میں جاگتے ہوئے بھی مدہوشی کی کیفیت میں مبتلا تھا ۔
کسی بھی ٹیسٹ میں بیماری کی تشخیص میں مدد نہیں مل رہی تھی ۔ ڈاکٹر ٹامک ٹوئیوں سے کام چلا رہے تھے ۔ ویسے بھی مریض کو اتنی جلدی ٹانک پر ڈالا نہیں جاتا ۔ کمزوری دنوں میں بڑھتی ہے اور طاقت مہینوں میں لوٹتی ہے ۔ بیماری جڑ سے نکالنے میں گولیوں کے ساتھ ساتھ ٹیکوں کی ٹیک دینا ضروری خیال کیا جاتا ہے ۔ ہزاروں کا بل چکانے کے بعد بھی بیماری نے گردن کو اکڑنے کی اجازت نہیں دی ۔ جھکی کمر افسران بالا کے سامنے ماتحت کی عرض مندی کا منظر پیش کر رہی تھی ۔ تکلیف کا خیال آتے ہی آنکھوں کے سامنے تارے ناچنے لگتے ۔ شدید سر درد اور مسلسل قے کی وجہ سے توبہ ! توبہ ! سر دیواروں سے ٹکرانے کو جی چاہتا ۔ نہ دن کو چین اور نہ ہی رات میں سکون ۔ بھلا ہو ڈاکٹر وں کا ٹیکے لگا لگا ایسا نشہ طاری کیا کہ بیماری سے لا علم نشے کی لت کا شکار سمجھتے ہوں گے ۔ کام کے لئے گھر سے نہ نکل سکے مگر صحت و تندرستی چل چلا پر گامزن تھی ۔
جو دو دن شادی میں شرکت کی تھکاوٹ سے پھر بے حال ہو گئی ۔ سر ایک بار پھر درد کے ہتھوڑے سے ہاتھ ہولا رکھنے میں ناکام تھا ۔ ایک مہربان نے پھر سے ایک دوسرے بڑے ڈاکٹر کے در پہ جا پھٹکا ۔ سرنجوں سے خون نکال نکال لیبارٹری اسسٹنٹ نے آنکھوں میں ایسا اندھیرا پھیلایا کہ کئی مریضوں کو بوتل بھر بھر خون کا عطیہ دینے میں کبھی چکر نہیں آیا تھا ۔ رزلٹ پھر وہی ڈھاک کے تین پات ۔ ہمت مرداں مدد خدا ۔ کلینک کے باہر قطار میں انتظار سے بھی کوفت نہیں ہوتی تھی ۔ ڈاکٹر کی صورت دیکھ کر یہ پیغام ملتا کہ پاس کر اور برداشت کر ۔ سو پاس کرنے کا اختیار تو بیماری کے سپرد کر دیا اور برداشت کرنے کا اپنے ذمے لیا ۔ معدہ جن ادویات کو برداشت کر چکا تھا اب ان مہنگی ادویات کی شان باقی نہیں رہی تھی ۔
آخر انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں ۔ تمام لیبارٹری ٹیسٹ میز پر رکھے تھے جس پر لکھی اے بی سی 123 کے ساتھ پڑھ کر بھی اپنی کم علمی پر ندامت ہو رہی تھی ۔ ڈاکٹر نے بھاری فیس کے عوض جو دوا لکھی وہ سرے سے ہی پلے نہ پڑی ۔ بھاری قدموں سے ہلکے کاغذ پر لکھے نسخے کے ساتھ میڈیکل سٹور پر حاضری دی ۔ دوا ہاتھ میں تھما کر جس رقم کا مطالبہ ہوا کلیجہ منہ کو آ گیا ۔ ہزاروں روپے خرچ کرنے کے بعد یہ کیا چند روپوں کی گولیاں ہاتھ لگیں ۔ جسے بچپن میں ماں جی کئی بار کھلا چکی تھیں ۔ اگر وہ اس وقت زندہ ہوتیں تو بخار نناوے پر آؤٹ ہو چکا ہوتا ۔ ایک سو پانچ کی یاد گار انگز کبھی نہ کھیل پاتا ۔ بقول ڈاکٹر صاحب یہ ملیریا کی ایسی قسم ہے جو لاکھوں میں سے کسی ایک مچھر میں موجود ہے جو پاکستان میں نہ ہونے کے برابر ہے اور لاکھوں میں ایک مریض اس کا شکار ہوتا ہے ۔ ساؤتھ افریقہ میں یہ پایا جاتا ہے ۔ آج ہمیں کوئی فخر نہیں کہ ایسی ہی کسی مچھر کی ڈینگی قسم اب ہمارے ہاں بھی پائی جاتی ہے ۔ جس نے شہر شہر سراسیمگی پھیلا رکھی ہے ۔
کیا بات تھی ماؤں کی ، کسی ڈاکٹر سے کم نہ ہوتیں ۔ بغیر ٹیسٹوں کے ہی تشخیص کر لیتیں ۔ اور مسیحائی کرتیں ۔ آج ڈاکٹر تو بہت ہیں مسیحا کوئی نہیں ۔ بیماریاں آنے میں صبر نہیں کرتیں اور دوائیں اثر نہیں کرتیں ۔
جیسے محبتیں بہت ہیں قربانی کہیں نہیں ۔ ایک ہاتھ دو ایک ہاتھ لو کی بجائے دو ہاتھ دو اور دو ہاتھ لو کے فارمولہ پر ایک وقت میں ایک کام سرانجام پا سکتا ہے ۔ بیماری غریب کے در پر دستک ہر بار دیتی ہے ۔ بہتے برستے پانی جب گھروں میں جوہڑوں کی طرح ٹھہر جائیں تو دونوں خالی ہاتھ کم کشکول بن جاتے ہیں ۔ بلکتے سسکتے بچے ماؤں کی گود میں پانی کو جب ترستے تو وہ بھوکی شیرنیوں کی طرح خوراک کی تقسیم کرنے والوں پر جھپٹ پڑتیں ۔ لاٹھیاں جن کا مقدر کسی کا گولیاں بھی نصیب بن جاتی ہیں ۔ جہاں زندہ سنبھالے نہیں جاتے وہیں لاشیں بن اپنوں کی جدائی کو بھی زرہ بے نشان بنا دیتی ہیں ۔ غریب کی دہائی دہائیوں کے اقتدار کی ضمانت بن کر رہ جاتی ہے ۔ غربت کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی بجائے کہیں غریب ہی نہ مٹ جائیں ۔ پھر جمہوریت کے تھیلے سے موٹی بلی کیسے باہر نکالی جا ئے گی ۔ کیونکہ امیروں کو نوٹوں کی ضرورت نہیں ۔ پھر حکمرانی کے لئے لمبی غریبی لائن کے بغیر جعلی ووٹوں کی بھی انٹری ممکن نہیں ۔ نمائندگی کے دعوی کا دم بھرنے والے بھیک منگوں کی بجائے خودداری کے علمبراد بن جائیں تو عوام صدیوں پہلے ٹیپو سلطان کے کہے گئے الفاظ کہ شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے کو پڑھنے سے کڑھنے کی کوفت سے بچ جائیں ۔ شائد وہ سمجھ سکیں کہ ایک حلال لقمہ حرام اور بے ایمانی کے کروڑوں سے بہتر ہے ۔ اپنے بڑھاپے کے سہاروں کو امانت میں خیانت کر کےکردار کی جس عمارت کی بنیاد رکھ رہے ہیں ۔ کتنی آہوں کو دبا کر ،امنگوں کو سلا کر ،ضمیر کی نظروں سے چرا کر تاریخ کے گرد آلود اوراق کی شان بے نیازی تو ہو سکتے ہیں مگر شان امتیاز نہیں ۔ آخری شہنشاہ ہندوستان بہادر شاہ ظفر ایک پیغام چھوڑ گیا ہے انہی سوالیوں کے لئے ۔

لگتا نہیں ہے جی مرا اُجڑے دیار میں
کس کی بنی ہے عالمِ ناپائدار میں

بُلبُل کو باغباں سے نہ صَیَّاد سے گلہ
قسمت میں قید لکّھی تھی فصلِ بہار میں

کہہ دو اِن حسرتوں سے کہیں اور جا بسیں
اتنی جگہ کہاں ہے دلِ داغدار میں

ایک شاخ گل پہ بیٹھ کے بلبل ہے شادمان
کانٹے بچھا دیے ہیں دل لالہ زار میں

عُمْرِ دراز مانگ کے لائے تھے چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں

دِن زندگی کے ختم ہوئے شام ہو گئی
پھیلا کے پاؤں سوئیں گے کُنجِ مزار میں

کتنا ہے بدنصیب ظفر دفن کے لیے
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں

Friday, August 19, 2011

ایک سوال ادھورا جواب

0 comments
پاکستان کے کسی بھی بڑے شہر میں اگر ٹریفک سگنل کے چاروں اطراف کی سرخ لائٹ کو بلنک کر دیا جائے ۔ جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ چاروں اطراف کی ٹریفک دیکھ بھال کر اور پہلے آئیے پہلے جائیے کے کلیہ پر عمل پیرا ہو تو ہمارے ہاں ایسے چوک میں کیا منظر ہو گا ۔ جہاں کوئی پولیس کا سپاہی بھی تعینات نہ ہو ۔ یقینا طوفان بد تمیزی ہو گا ۔ ہر سواری پہلے گزرنے کو اپنا حق اولین سمجھتی ہے ۔ بلکہ یہاں تک بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ سرخ لائٹ پر بھی زیادہ دیر تک رکنا محال ہوتا ہے ۔ بلا وجہ ہارن بجانا مشغلہ ایسا ہے جیسا اسمبلی میں ڈیسک بجانا ۔
ہم اکثر سنتے ہیں کہ ہم بحیثیت قوم ایسی با کمال خوبیوں کے مالک ہیں کہ علامہ اقبال کو بھی یہ کہنا پڑا کہ زرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی ۔ بلا شبہ مٹی تو زرخیز ہے جسے پانے کے لئے سنٹرل ایشیا سے لے کر یورپ تک کے حکمران ایک دوسرے کو دھول چٹواتے رہے ۔ مگر آخر کار مقامی افراد کو اپنی مٹی کی زرخیزی کو سونا بنانے کا حق مل گیا ۔ سونے کی چڑیا سمجھ کر مغربی حکمران کوہ نور تاج میں سجا کر پلٹ جانے میں ہی عافیت پا گئے ۔ منٹو پارک کے اجلاس نے جو بنیاد رکھی ۔ اقبال پارک بن کر اسے دھرنا اور جلوس سے پورا کیا جاتا رہا ۔
انگریز کی لاٹھی اور گولی کا بدلہ اس کے جانے کے بعد توڑ پھوڑ سے لینے کی کوشش آج تک جاری ہے ۔ حکمران بدل گئے مگر لاٹھی اور گولی کی سرکار نہیں بدلی ۔ بدلے بھی کیسے قانون 1861 کو ہی چند تبدیلیوں کے ساتھ جاری و ساری رکھا جاتا رہا ۔ اگر پوچھا جائے کہ جناب کیسے جاری ہے تو خبر کا حوالہ دینے میں کیا حرج ہے آرڈیننس کے تحت صوبے میں کمشنری نظام، سندھ لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 1979ءاور پولیس ایکٹ 1861ءبحال ہوگئے ہیں۔
اگرعلامہ صاحب جانتے کہ بنیادی ڈھانچہ تبدیل کرنے میں چونسٹھ سال بھی کافی نہیں ہوں گے تو زرا نم کی بجائے پوری طرح سیراب کرنے کی بات کرتے ۔ 1930 ، 1933 کی گول میز کانفرنسز کی ناکامی کے بعد دل برداشتہ قائد قوم کو ان مسلمانوں کی دگرگوں حالت زار کا حوالہ دے کر طوفان میں پھنسی کشتی کو نکالنے کے لئے خط نہ لکھتے ۔ کیونکہ مسلم لیگ کا نیا دھڑا سر شفیع کی قیادت میں مسلمانوں کی قیادت کا ترجمان نہیں تھا ۔ مگر کام ہونے کے بعد اب سب ہی ترجمانی کے دعوی دار ہیں ۔
بات تو ہو رہی تھی ٹریفک سگنل پر رکے مسافروں کی ۔ جا پہنچی آزادی کے متوالوں تک ۔ فکر کی کوئی بات نہیں قلمکار کا قلم بھی رکشہ کی طرح اپنے پاؤں پلٹنا جانتا ہے ۔ مارشل لاء کی سرخ بتی پر کئی کئی سال رکا رہتا ہے ۔ جمہوریت کی سبز بتی پر رفتار تیز کر لیتا ہے ۔
قائداعظم نے اتحاد اور نظم و ضبط کا بھی درس دیا تھا ۔ جسے یقین کے ساتھ بھٹو نے ایوب کے خلاف استعمال کیا اور بھٹو کے خلاف خود قومی اتحاد نے ۔ پھر اس کے بعد تو دس سال تک نظم و ضبط کا خوب مظاہرہ ہوا ۔ اور اس کے بعد اب تک صرف برداشت کے مظاہرے ہیں ۔ مظاہرے تو بے شمار ہیں ان کے احوال کے لئے کتاب لکھنا ہو گی ۔ کتاب کے لئے ایک عدد مصنف درکار ہوتا ہے اور چھاپنے کے لئے پبلشر اور ان سب کے لئے رقم کی مدد درکار ہوتی ہے ۔ صرف توڑ پھوڑ کی کہانی پر زر کثیر خرچ کرنا دانائی نہیں ۔ قومی معاملہ پر اس بے اعتناعی کو بزدلی سے محمول نہ کیا جائے ۔ کیونکہ
وہ اور ہوں گے کنارے سے دیکھنے والے
ہماری نہ پوچھ ہم نے تو طوفاں کے ناز اٹھائے ہیں
اس میں کیا شک ہے کہ بعض بے گناہوں نے تو کوڑے بھی کھائے ہیں ۔ اب بے چارے وہ کوڑے کے ڈھیر کے قریب بسیرا رکھتے ہیں ۔ جو اس وقت کچھ کھانے سے محروم رہ گئے تھے اب ان کے کھانے کے دن ہیں ۔
قلم بار بار پتنگ کی طرح ایک ہی طرف کنی کھائے جا رہا ہے ۔ کیا کریں برابر کرنے کے لئے کوئی میرے قائد کا جانشین نہیں ہے ۔ ولی عہد تو بہت ہیں جو تیز ہوتی ہوا میں مزید کنی کھانے کے لئے قوم کی امنگوں کی پتنگ کو مزید ہوا دے رہے ہیں ۔
اتنی لمبی تمہید باندھنے کی ضرورت پیش آنے کی وجہ بھی تو دینی پڑے گی وگرنہ اعتراض باندھنے میں حجت سے کام کیوں نہ لیا جائے گا ۔ کیونکہ نئی بات تو اس میں ایک بھی نہیں ۔ جب قائد ہی بھلا دیا تو صرف تاریخ پڑھا کر کیا سبق یاد کروایا جا سکتا ہے ۔ باد مخالف سے تو عقاب نہیں گھبرایا کرتے مگر الفاظ سیاہی سے ضرور گھبراتے ہیں کیونکہ سیاہی ہر شے کو سیاہی میں ڈبو دیتی ہے ۔ روشنی کے مینار بہت دور دکھائی دیتے ہیں ۔ لیکن جب اندھیرے سے روشنی کے دائرے میں داخل ہو جائیں تو روشنی کے منبع کی طرف دیکھنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی ۔


نوٹ ! ایک بار مغرب کی ایک شاہراہ پر سرخ بتی کو بلنک کرتے ہوئے چاروں اطراف دور دور تک پھیلی لمبی ٹریفک کو انسانی ہجوم سے بہتر انداز میں ایثار و رواداری ، نظم و ضبط کی پابندی میں دیکھا تو حیرانی ہوئی جو گاڑی اپنی حدود سے اگے چوک تک پہنچتی تو تمام گاڑیاں اس کے انتظار میں ایسے مودب کھڑے رہتے جیسے ہماری سڑکوں پر حکمرانوں کے قافلے گزرنے پر قوم کو انتظار کی سولی پر مودب کھڑا کیا جاتا ہے ۔
قومیں صرف کھوکھلے نعروں اور دعوؤں سے عظیم نہیں ہوتی بلکہ اپنے عمل و کردار سے اس مقام تک پہنچتی ہیں ۔

تحریر ! محمودالحق

Sunday, August 14, 2011

جشن آزادی مبارک تمہیں ۔۔۔ دیا سے دیا جلاؤ

1 comments
پاکستان کی آزادی کو آج چونسٹھ سال ہو چکے ۔ ایک قوم نے ایک وطن کی بنیاد رکھی ۔ ایک رہنما نے رہنمائی کی شمع جلائی ۔ قوم کے ہاتھوں میں ایک امید کا دیا تھما دیا ۔ جو دئیے سے دیا جلانے کی کوشش کے انتظار میں خود دیا ٹمٹماتا رہا ۔ بجھانے کی نیت رکھنے والے منہ کی کھاتے رہے ۔ آس ٹوٹی نہ امید ۔ جشن آزادی کی نعمت سے جگمگاتے منور ہو گئے ۔ حقیقی خوشی سے محروم طبقہ عارضی پن سے نعمتوں کا شکر بجا لانے میں کسر نفسی کا شکار رہا ۔ قوم چھتوں پر جھنڈیاں پھیلائے جشن کو آزادی کے ترانوں سے گنگناتی رہی ۔
بہت کچھ کھونے کے بعد بہت کچھ پایا تھا ۔ جو اسلام کا گہوارہ بننے میں بیتاب تھا ۔ اصول سیاست میں رہنما تو اصول معاش میں مساوات کے ترازو کے ہر پلڑے میں انصاف برابر یقین محکم تھا ۔
لیکن آج صبح عجب تھی ایس ایم ایس جو ملا شکایت سے بھرا شکوؤں سے تلا بے بسی سے تلملاتا پیغام آزادی کے رنگ سے ہرا تھا ۔ یہ جھنڈا سفید و سبز رنگ سے لہراتا خون آشوب شام کا سویرا تھا ۔ جو نئے چاند کو پہلو میں دبائے چمکتے ستارے سے روشنی پھیلانے کو بیتابی کا مظہر ہے ۔
اٹھاون کا مارشل لاء، پینسٹھ کی جنگ ۔ 71 کی آدھے وجود سے جدائی کے بعد پے در پے صدمات کا بوجھ کندھوں پر ایسے اٹھاتا چلا گیا جیسے باپ کے کندھوں پر نادان معصوم بچپن سوار ہو کر گہرے پانی سے گزر جاتا ہے ۔
آج ان کندھوں کو توانا اور طاقتور بازوؤں کے سہارے کی ضرورت ہے ۔ تو بازو بغلگیر ہونے سے گھبراہٹ کا شکار ہیں کہیں تنگدستی نے تو کہیں تنگیء داماں نے ہاتھ روک رکھا ہے ۔ خون بہانے سے نئی زندگی کو جلا نہیں ملتی ۔ اور جلانے سے جفا نہیں ملتی ۔ وفا کی سیڑھی محبت کی منزل تک پہنچاتی ہے ۔ اور محبت آسمان پر پھیلے قوس و قزح کے رنگوں تک ۔محبت تو وسیلہ ہے وفا کو منزل تک پہنچانے کی ۔
وطن ہر وقت دینے کا متمنی رہتا ہے ۔ قوم لینے میں بیتاب ۔ لیکن آج وقت نے آنکھوں سے پٹی کھول رکھی ہے ۔ لینے والے آج دینے میں تاءمل کیوں کریں ۔رگوں میں دوڑتے سرخ گرم لہو میں جو جوش زیادہ دیتے ہیں ۔ ان نوجوانوں کے عزم و حوصلہ کو ایک دھاگہ میں پرونے کی ضرورت آن پڑی ہے ۔ جہاں دانہ دانہ سے چپکا دانائی کی لڑی سے جڑا ہے ۔ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت نہیں جوش کی گانٹھوں کو وفا کے دھاگوں کی مزید ضرورت ہے ۔
جو کامیاب دکھائی دیتے ہیں وہ دراصل ناکام ہیں ۔ ہوس حرص کی محبت وفا کی چاشنی سے لبریز نہیں ۔
گاڑیوں کی رفتار ہارن کی آواز سونے کی جھنکار زندگی کے ساز نہیں ۔ سازندے ہاتھوں کے جادو سے آنکھوں کو چندھیا نے میں شعبدہ باز تو ہوں گے مگر پاکباز نہیں ۔
کیوں نہ آج یہ عہد کریں محلہ محلہ گلی گلی دھواں پھیلاتی موٹر سائیکل سے موٹر اتار کر دودھ دہی ، برگر ، پیپسی لانے میں دو پیڈل کا سہارا لیں ۔ جو بچت بھی ہے ۔ صحت بھی رکھے اچھی فارغ وقت کا بہترین مصرف بھی ۔ ٹریفک کے شور سے پاک ، انتظار کی کوفت سے دور فاصلوں کے قریب ہونے میں مددگار بھی ہوتی ہے ۔ دئیے سے دیا جلاؤ ۔ دوسروں کے محل دیکھ کر اپنی جھونپڑی مت گراؤ ۔ منزل تک پہنچنے کے لئے رفتار بڑھانے کی بجائے قدم بڑھاؤ ۔ جو قدم سے قدم ملائے گا ۔ ایک مقصد کو پہلےاپنا نصب العین بناؤ ۔ ایک کے بعد ایک رسم ضیاع کو تختہ مشق بناؤ ۔ رئیسی کی طفلانہ حرکت بچگانہ پر صرف مسکراؤ ۔
نہ گھیراؤ نہ ہی کچھ جلاؤ ۔ صرف دیا سے دیا جلاؤ

محمودالحق

Saturday, July 30, 2011

لکھنا مجبوری میری، پڑھنا کیوں تیری

0 comments
لکھنا چاہتا ہوں مگر لکھ نہیں‌پا رہا ۔ سمجھنا چاہتا ہوں سمجھ نہیں پا رہا ۔ نیٹ کے دھاگے کمزور ہوتے جارہے ہیں ۔ یا میری نظر کی کمزوری یہاں بھی حائل ہو چکی ہے ۔ چند روز تک نئے چشمے سے الفاظ صاف دیکھائی دینے لگیں گے ۔ مگر قلب کی صفائی دیکھنے میں ابھی مذید انتظار کرنا ہو گا ۔ سالہا سال کے انتظار کے بعد نہ تو محلے کی گلیاں صاف ہوئیں ۔ ندیاں بھل صفائی کی محتاج ہیں تو نالے کوڑا کرکٹ کی صفائی کے ۔
سیاستدان نرما کی وجہ سے اجلے دیکھائی دیتے ہیں ۔ مگر کردار ابھی صاف نہیں ۔ سیاست کے شیر ہیں یا ترکش میں بھرے تیر ۔ بچے کھچے عوام قطعا بھوکے بٹیر نہیں جو لڑ بھڑ کر بھڑاس نکالیں ۔ البتہ ترم کے پتے استعمال کرنے کی پابندی ہر گز نہیں ہے ۔ اب اسے مڈ ۔ ٹرم پڑھنے والے ایک نئی بحث کا آغاز خود سے کر دیں ۔ تو ہنوز دلی دور است نہ سمجھا جائے ۔ کیونکہ جج جہاں پایا جائے ۔ عدالتی کاروائی کا وہیں اختیار رکھتی ہے ۔ کم از کم ہمیں فیصلے کا اختیار نہیں ۔ کسی بھی دھاگے پر موم چپکا کر آگ جلانے کا اختیار ماچس ہاتھ میں لینے سے شروع ہو گا ۔ ہماری تو آواز بھی اچھی نہیں کہ اپنا راگ ہی آلاپ سکیں ۔ آگ تاپنے کا مزہ موسم سرما میں اچھا ہے ۔ ایسے شدید گرم موسم میں گرمی سردی صحت کے لئے سود مند نہیں ۔ سردا اگر بازار سے میسر نہ ہو تو گرما ابھی چند مزید ماہ دستیابی کا ترانہ گنگاتا رہے گا ۔
ماہ رمضان کی آمد آمد ہے پھل گھر گھر جانے کے لئے بیتاب ہیں ۔ تاکہ روزہ داروں کی افطاری میں غریب سے غریب تر کو بھی بھوک کے نڈھال پن سے نجات دلانے میں اپنا حصہ ڈال سکیں ۔ حصہ تو بقدر جثہ ہر صاحب حیثیت کو بھی بیواؤں یتیموں ، مسکینوں ، بیماروں اور لاچاروں کی مدد کرنے میں ڈالنا چاہیئے ۔ تاکہ وہ بھی شدید گرمی میں غربت کا پسینہ بہہ جانے سے نقاہت کا شکار ہونے سے اپنے آپ کو بچا سکیں ۔ اور ان کے بچے امیر کی عیال سے نفرت پال کر جوانی کی دہلیز تک انتقام کے گھوڑے پر سوار سفر طے نہ کریں ۔ بلکہ ہم سفر ہونے کے اعزاز سے نوازے جائیں ۔ ستارہ امتیاز سے نوازے جانے کی آرزو کہیں کہیں مچلتی دکھائی بھی دے تو گھر میں فوٹو فریم میں لٹکانے سے لٹکے منہ اُٹھائے نہیں جا سکتے ۔ سر اُٹھانے میں ایڑی چوٹی کا زور لگانے میں کوتاہی کی سرکوبی خیال کرنی ضروری ہے ۔
تیس دن جسم کی ضرورتوں کو کھجور اور دودھ سے توانا ئی سے بھرپور غزائیت پہنچانے کے ساتھ ساتھ روحانیت بکثرت عمل صالح سے ندامت ناصح پر ہو تو قلب تر و تازہ پھلوں سے بنایا خون سر پھرے شریانوں میں برابر پہنچ کر مقرب تکبر خاص کو اکڑاؤ کی بجائے نرم خوئی پر رواں دواں کر دے ۔ نا کہ جیو اور جینے دو کے جھنڈے تلے سانس لینے میں بھی محتاجی کا علم تھما دے ۔
کج فہمی میں کی گئی بات رات ڈھلنے کے انتظار میں اتفاق کی بجائے نفاق کے سبب اسباب پیدا کرنے کی صلاحیت سحر ہو جاتی ہے ۔ جو بات بے بات اپنا عمل دوا کی بجائے طبیب کی تشخیص کا اعلان ایجاد بن جاتا ہے ۔ علماء کے اجتہاد سے اسے الگ پڑھا جائے ۔ فتاوی ملنے سے کچھ خوش رہتے ہیں تو کچھ صرف پڑھنے سے ۔ اکثریت نہ پڑھنے میں ہی خوش ہے کیونکہ وہ ان پڑھ ہیں ۔ ملک کی تقریبا ستر فیصد شائد اسی کیٹیگری میں آتے ہیں ۔ بوڑھے طوطے تو اب پڑھنے سے رہے ۔ لیکن فال نکالنے کے لئے ان کے تجربات سے فائدہ نہ اُٹھانا کوئی دانشمندی نہیں ۔
اگر زندگی نے وفا کی تو ہر وفاء بے اختیار کو آقا سراپا کی غلامی میں تیغ زن تیار ہوتا پھر سے پائیں گے ۔
لیکن اگر آج سے بے نیام شمشیریں عقائد کے سر قلمی اعتراضات سے اختلافات کی بجائے پیار اور امن کی عبادات سے بھائی چارے کی ترغیبات کو فروغ دینا شروع کریں تو ایک ماہ ہی شائد سال بھر کی شرکتی بزلہ سنجی کا اثر زائل کرنے کا سبب ہو ۔
آؤ ایک سجدہ کریں عالم مدہوشی میں
لوگ کہتے ہیں کہ ساغر کو خدا یاد نہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محمودالحق

Tuesday, July 26, 2011

رشتے دل کے جو جان پر بن آئے

0 comments
بات نہایت مختصر بیان کرنے کی جسارت کروں تو سمجھنے سمجھانے میں پل صدیوں میں ڈھل جائیں ۔ سحر آفتاب غروب کے منظر کو مہتاب کر دے ۔ بات آفتاب کی نہیں جو شمش کہلائے تو شمشیر سے گہرا اثر اپنی حدت سے چھوڑ جائے ۔ یہاں ذکر ہے رشتوں کا جو کبھی بندھتے ہیں تو کبھی چھوٹتے ۔ گردش ایام کے پابند رہتے ہیں ۔ گردش کائنات سے سروکار نہیں رکھتے ۔ کیونکہ وہاں سرکار کسی کی نہیں ۔ موج مستی صرف اتنی کہ پاؤں زمین پر تھرک سکیں ۔ جو آنکھ سے اوجھل ہے چاہے پہاڑ کے پار ہو یا پہلے آسمان سے آگے ۔ خواہشوں کی بیڑیاں پہنے طوق غلامی سے جھکتا چلا جائے ۔ پھر بھی رہتا شکوہ اپنے پن سے جو بیگانگی میں اغیار کی پرستش میں مسیحائی کا طالب ہو ۔

Sunday, July 24, 2011

دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو مَیں

0 comments
محبت ، خلوص ،رواداری سے اپنا بنانے کے لئے جو بھی عمل کیا جائے وہ انجام خیر سے بے خبر ہوتا ہے ۔ انسان دو آنکھوں سے زمانے بھر کو دیکھتا ہے ۔ کبھی دکھ سکھ میں آنسو تو کبھی غصہ میں آگ کی لالی سے پانی بہتا ہے ۔ لیکن اس سب کے باوجود ایک دو بار ہی آنکھیں دو آنکھوں سے چار ہوتیں ہیں ۔ جو سیدھا نشانہ دل پہ لیتی ہیں ۔ پھر عقل سے نظر کی تمام طنابیں چھوٹ کر دل کی دھڑکن سے جڑ جاتیں ہیں ۔ تمام رشتے ایک نظر کے سامنے ہیچ لگتے ہیں ۔ سوچ عقل کی سٹاک مارکیٹ دلاں دے سودے میں مندے کا شکار ہو جاتی ہے ۔
آسمان پہ چپکے سفید روئی کے گالوں کی طرح برسنا قسمت میں نہیں ، صرف ٹہلنا رہ جاتا ہے ۔ جو نہ تو دھوپ سے بچاتے ہیں اور نہ ہی پیاسی زمین کی پیاس بجھاتے ہیں ۔
آسمان سے باتیں کرتے جنگلی درختوں کی طرح اکڑے ثمرات سے بے فیض ہوتے ہیں ۔ اظہار محبت کے لئے تین لفظوں سے لے کر ایجاب و قبول کے درمیان اٹک جاتے ہیں ۔ زندگی کا یہ مختصر ترین عرصہ صدیوں سے چلتی معاشرتی قدروں کے سامنے بغاوت کا علم بلند کر دیتا ہے ۔ عزت کا جنازہ نکل جانے کا غم نہیں ۔ پانے کی خواہش اتنی شدت اختیار کر لیتی ہے ۔ کہ جیت کے نشہ سے بڑھ کر نشہ کی علت میں مبتلا کر دیتی ہے ۔ بچپن ، لڑکپن کی یادیں احسان فراموشی کی شال اوڑھ لیتی ہیں ۔ میں کی عینک میں منزل مراد وحید ہو جاتی ہے ۔ کھلونوں کے بازار میں کھڑے بچے کی مانند جو صرف اپنی پسند پہ فریفتہ رہ جاتا ہے ۔ اوراگلی بار پھر کسی اور پسند پر ۔ ایک زمانہ کی پسند ایک زمانہ تک رہتی ہے ۔
حسرت کا یہ کوہ پیمائی سلسلہ خواہشوں کے انبار میں قوت خرید کی بنا پر ایک وقت میں ایک خواہش کی تکمیل کی تدپیر نہیں رکھتا ۔

Friday, July 22, 2011

بھولنے والے بھول جائیں

0 comments
اصلاح احوال کریں تو کیسے کریں اتنے ٹی وی چینل خبریں تو ایک جیسی ہیں ۔ مگر انداز بیان الگ الگ ۔ اخبارات شہر شہر نگری نگری کی کہانیاں سمیٹے ہوئے ظلم و نا انصافی کی دہائی دیتے ہوئے مظلوم کے حق میں انصاف کا جھنڈا لہراتے ہوئے عوامی خدمت سر انجام دے رہے ہیں ۔ عوامی نمائندے بھی کسی سے پیچھے نہیں حق رائے دہی کا احترام کرتے ہوئے حق سے محرومی پر سیخ پا نظر ضرور آتے ہیں ۔ عوام کی تکلیف کا احساس حکمران اور ان کے مشیران کو آنسو بہانے پر مجبور کر دیتا ہے ۔
بعض الفاظ اپنا تاریخی پس منظر چھوڑ جاتے ہیں ۔ جیسے سیاسی اداکار کا جملہ فنکاروں کو یہ سوچنے پر مجبور کر گیا ۔ کہ ان کا مستقبل کیا ہو گا ۔ ایک وقت تھا ٹی وی پر ان کے جلوے تھے ۔ تھیٹر ریڈیو سے سفر طے کرتے کرتے ٹی وی تک پہنچنا محال تھا ۔ اور فلمی سفر کی ٹکٹ ملنا تودیوانہ کا خواب تھا ۔
جیسا کہ اب محلے کی ویلفیر سوسائٹی سے کونسلر تک کا سفر طے طے کرتے کرتے اسمبلی تک پہنچنا محال ہے وزارت کا قلمدان سنبھالنا تو دیوانے کا خواب ہے ۔ جوں جوں معاشرہ اخلاقی اقدار کی کاٹ کا شکار ہے ۔ توں توں حکمرانی بندر بانٹ کے فارمولہ پر اتفاق رکھتی ہے ۔ مگر بیوقوفی میں تماشا نہیں بنتی ۔ پکڑے جانے کا ڈر ہو تو بندر کی طرح مٹھی بند نہیں رکھتی کھلے ہاتھ دکھا دیتی ہے ۔ سمجھ دار کے لئے اشارہ ہی کافی ہے ہاتھا پائی سے گریبان پھٹتے تو گالی سے روح تلملا جا تی ہے ۔ مگر کانوں میں جوں رینگنے کا دور گزر چکا ۔ جوں سے سر میں کھجلی کی بجائے ہاتھ کی میل دولت آنے کی امید سے کھجلی پیدا ہوتی ہے ۔ جو شریفوں کے لئے خجل خواری تو ہوس کے پجاریوں کے لئے سرمایہ کاری ہوتی ہے ۔ جس کے اثرات تابکاری جیسے نہیں ہوتے ۔ عوام ایسے معاملات کی جانکاری مانگتے مانگتے تانگے کی سواری کرنے کے قابل رہ جاتے ہیں ۔ رمضان کی آمد آمد ہے غریب گھرانے کئی سو روپے میں افطاری تک اپنے سحر کے اختتام کا سفر طے کریںگے ۔
ڈکشنری میں ہر لفظ کا مطلب نکالا جا سکتا ہے مگر حل نہیں ۔مشنری اور کمشنری کے الفاظ ہم آواز تو ہیں مگر ہم معنی نہیں ۔ متحدہ ہندوستان میں مشنریوں کا جادو سر چڑھ کر بولتا رہا ۔ مگر آج بھی گورا راج کی نشانی کمشنری کا جادو سر سے اتاریں تو پھر چڑھ دوڑنے کے لئے بیتاب رہتا ہے ۔ بچپن میں دوست جادوگروں کی کہانیاں پڑھ کر ایسے شہزادوں کا روپ دھارنے کی کوشش میں رہتے جو خوبصورت شہزادی کو ظالم جادو گر کی قید سے رہائی دلا کر سہرے کی لڑیاں سجانے کے لئے آنکھوں میں طلسماتی خواب بسا لیتے ۔
آج کا جدید دور شہزادیوں کی محبت کا روادار نہیں ۔ موبائل فون اور انٹر نیٹ سے قارون کے خزانے کی جستجو ہے ۔ لاکھوں کروڑوں کے سودے ادھر سے ادھر ہو جاتے ہیں ۔ کمیشن لینے والا اب کمیشن ایجنٹ نہیں کہلاتا ۔ رقم کی منتقلی ارجنٹ مانگتا ہے ۔ ایک زمانہ تھا مانگنے والے کو منگتا بھی کہا جاتا تھا ۔ اب مانگنا شرمساری کا باعث نہیں ۔ جب ملک قرض مانگ کر شرمندہ نہیں ہوتے تو ایسے میں فرد واحد کیوں فخر سے محروم رہے ۔
طعنے کوسنے دینے سے مسائل سے نجات ممکن دکھائی نہیں دیتی ۔ اور اکثر لکھنے والے یہ سمجھ لیتے ہیں کہ وہ جو سوچتے ہیں وہی لکھتے ہیں ۔ حقیقت کا ادراک رکھنے والوں کے لئے کھلی نشانیاں ہیں ۔ حالانکہ نشانی سب کی اپنی اپنی ہے جیسا کہ ۔۔۔۔۔ چلیں چھوڑیں سب ہی جانتے ہیں کہ آج باہمی اختلاف کس بات پر ہے ۔
اصل مسئلہ شائد عدم برداشت کا ہے ۔ میں میرا ، تو تیرا نے رشتوں اور باہمی احترام کی ڈوریاں ڈھیلی کر دی ہیں ۔ ابھی ٹوٹی نہیں ہیں ۔ ڈھیلی پھر بھی کسی جا سکتی ہیں مگر ٹوٹی جڑ نہیں سکتیں ۔ بہت کم لوگ ہوں گے جو خود میں نیوٹرل یعنی غیر جانبداری کا طوق گلے میں پہنے ہوں ۔ اکثریت جو پڑھ لیں یا جو سن لیں اسی پر یقین کی بنیاد کھڑی کر لیتے ہیں ۔ پھر کوئی نظریہ کوئی فلسفہ زبر سے زیر نہیں کر سکتا ۔ اگر کوئی ایسا نہیں ہے تو اپنے مکمل کوائف اور تفصیلات تیار رکھے ۔ کیونکہ ڈگریوں کی طرح انہیں بھی ردی کی ٹوکری انعام میں ملنے کی توقع ہے ۔
ہر انسان کو اپنا کام کرتے جانا چاہیئے ۔ پڑھنے والے پڑھتے جائیں ۔ لکھنے والے لکھتے جائیں ۔ سمجھنے والے سمجھ جائیں ۔ بھولنے والے بھول جائیں ۔ لینے والے لے جائیں کیونکہ مال واسباب تو یہ ہے نہیں لٹنے کا خوف نہیں کھونے کا ڈر نہیں ۔

تحریر ! محمودالحق

Saturday, July 16, 2011

دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے

0 comments
جدید دنیا نے انسانوں کو جہاں بے پناہ سہولتیں پہنچائی ہیں ۔ وہاں بے شمار مسائل سے بھی دوچار کیا ہے ۔ ہر دور کا انسان جدید ترقی کی منازل آہستہ آہستہ طے کرتا رہا ۔اور ماضی کو پائیدان بنا کر اگلی منزل کی طرف گامزن ہوا ۔ مگر ہر انسان اس سے استفادہ حاصل نہیں کر سکا مگر چند کے سوا ۔ اور اسی طرح چند ممالک ہی اس ترقی کا بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں ۔
ترقی پزیر اور پسماندہ ممالک کا ذکر ہی کیا ۔ مگر ترقی یافتہ ممالک کا ہر فرد بھی خوش وخرم اور مطمئن زندگی نہیں گزار رہا ۔جہاں امیر امیر تر ہوتا جا رہا ہے ۔ اور غریب اپنی روزمرہ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے 8 سے 12 گھنٹے روزانہ مشقت کرتا ہے ۔اکیلا وہ بھی بیوی بچوں کے اخراجات پورا کرنے کی طاقت نہیں رکھتا ۔
تاہم عورت مرد کے شانہ بشانہ معاشرے میں اپنے حصے کا کام کرتی ہے ۔ جو ایک ہفتہ میں چالیس گھنٹے یا اس سے زیادہ بھی ہو سکتے ہیں ۔ ملازمتوں سے فارغ ہونا اور کریڈٹ کارڈ کی واجب الاادا رقوم انہیں سخت محنت کا عادی بنا دیتی ہیں ۔
ہر ملک کا میڈیا سب اچھا کی خبر دیتا ہے آج کے بناوٹی دور میں پسماندہ ملک کا میڈیا بھی وہاں کے عوام کی اصل شکل نہیں دکھاتا ۔یہی وجہ ہے کہ عوام الناس میں بھی ایسے پروگرام زیادہ پزیرائی حاصل کرتے ہیں ۔ جن میں لوگ بہت سی دولت چند لمحوں میں حاصل کر لیتے ہیں ۔جیسے کون بنے گا کروڑ پتی اور ڈیل یا نو ڈیل پروگرام ۔ اس کے علاوہ نیوزپیپر اور میگزین کھلاڑیوں کی آمدنی کا تخمینہ لگاتے رہتے ہیں ۔ جو نئی نسل کے ذہنوں میں جلد امیر ہونے کا ایک آسان طریقہ ہوتا ہے ۔ جو لاکھوں میں سے چند ایک کو حاصل ہو تا ہے ۔ کچھ پڑھائی تو پہلے چھوڑ چکے ہوتے ہیں رہی سہی کسر دولت کمانے کے کئی دوسرے طریقے اپنانے میں پوری ہو جاتی ہے ۔چند محنت اور لگن سے اور کچھ غیر قانونی طریقوں سے ترقی پاتے ہیں ۔لوگ امیر ہونے اور دوسروں سے آگے بڑھنے کے عمل میں اپنی اپنی حیثیت میں کوشش کرتے ہیں ۔ ایسے میں ایک ریڑھی بان سے لے کر سیاستدان تک ایک خاص مقصد کے حصول کے جنون میں کوشش کرتے ہیں ۔مگر مقصد ایک ہے دولت مندی اور دوسروں سے برتری ۔
مفادات کی اس جنگ میں آخر کار فتح خود غرضی کی ہوتی ہے ۔
ایک زمانہ تھا لوگ اپنے بزرگوں کا تعارف ان کے اخلاق ، اخلاص اور کردار ، ایمانداری ، اصول پرستی اور ایثار و قربانی کی اساس پر کراتے تھے ۔اور خود پر فخر کرتے ۔ مگر آج کی دنیا اور دولت پرستی کو کیا کہیئے کہ اولادیں والدین کے اصولوں پر فخر کرنے کی بجائے ان پر موقع ملنے پر فائدہ اُٹھا کر انہیں مہنگی اور جدید تعلیم سے آراستہ نہ کرنے اور ان کے نالائق مستقبل کو محفوظ کرنے کا خاطر خواہ انتظام نہ کر سکنے کے الزامات دینے میں تامل نہیں کرتی ۔
جو والدین اپنی اولاد سے توقع کریں کہ وہ اپنی قابلیت کے بل بوتے پر ان کا سر فخر سے بلند کریں۔ انہیں معاشرہ ناکام قرار دینے میں تامل نہیں کرتا ۔
ایسے لوگوں سے مل کر نہایت مایوسی ہوتی ہے جو اپنی رہائشی کالونی کا ذکر فخریہ انداز میں کرتے ہیں ۔ اور اس کی تعریفوں کے پل باندھتے ہیں اور اپنی حیثیت کا وزن بڑھانے کے لئے بیوروکریٹ اور سیاستدانوں کا ہمسایہ ہونے پر سینہ تان لیتے ہیں ۔
کیا دور آ گیا ہے لوگ اپنے آپ کو محترم کرنے کے لئے آباؤاجداد کی بجائے تعلقات کا تزکرہ فخر سے کرتے ہیں ۔
اسے کیا کہا جائے تعلیم کی کمی ،حسد و جلن یا احساس محرومی جو دوسروں پر برتری جتلانے سے ٹھنڈک کا احساس پاتا ہے ۔
خطبہ حجتہ الوداع کے موقع پر آپ صل اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر کوئی کسی سے برتر ہے تو وہ تقوی اور پرہیز کے وجہ سے ہے ۔
ہمارا معاشرہ جس سمت چل رہا ہے وہ کسی قانون یا کسی ترمیم سے اپنی اصل پر واپس نہیں آئے گا ۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ قانون بنانے والے اور اس پر تنقید کرنے والے اپنے قول و فعل میں تضاد ختم کریں ۔عوام کے لئے ایک اچھی اور سچی مثال بنیں ۔مگر یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک عوام اپنے رہنما چنتے وقت دولت کے انبار کی بجائے کردار کو ترجیح دیں گے ۔جھرلو طریقہ انتخاب سے منتخب ہونے والے بھاری مینڈیٹ کے لئے جھاڑو کا سہارا لیتے ہیں ۔ ہر منتخب ہونے والا سیاستدان خود کو تخت شاہی کا حقدار سمجھتا ہے ۔
اس کا جواب تو عوام بہتر طور پر سمجھتے ہیں جو آوے ہی آوے اور جاوے ہی جاوے کے نعروں کا ایندھن بنتے ہیں ۔
ہمارے سیاستدان اور سیاسی علماء کرام کیوں بھول جاتے ہیں کہ لاہور شہر میں سروں پر حکومت کرنے والے ایک قطب بادشاہ کے مزار پر ہو کا عالم اور دلوں پر راج کرنے والے ایک ولی اللہ کے مزار پر زائرین کا جم غفیر ایک سبق آموز حقیقت پیش کرتا ہے ۔ پھر بھی سیاستدان سروں پر حکومت کر کے معاشرہ کی درستگی کا بیڑہ اُٹھانے کا متمنی نظر آتا ہے ۔ حالانکہ قوم جانتی ہے کہ قانون بنانے والوں پر قانون لاگو نہیں ہوتا ۔ قانون کمزوروں کو اور بے کس بنانے میں استعمال ہوتا ہے ۔ طاقتور اور امیر تعلقات اور اثر ورسوخ سے قانون کے شکنجے سے بچ نکلتے ہیں ۔ سیاسی مخالفین کے علاوہ شاید ہی کسی نے طاقتور کو سزا سے فیضیاب ہوتے دیکھا ہو ۔ کروڑوں اربوں کے ٹیکس نا دہندہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے نہیں دیکھے گئے ۔ چند سو کے نا دہندہ کے لئے کوئی خاص رعایت نہیں ۔
چند سال پہلے مال روڈ لاہور پر منہ زور ایم پی اے کی کار سے کالے شیشے اتارنے کی جرآت پرٹریفک افسر کی وردی بھی اتری اور جیل کی سلاخوں کے ہار بھی پہنے ۔
پنڈی کا عوامی سپوت کلاشنکوف لہرانے پر پانچ سال کی سزا پر اسلحہ رکھنے سے باز آیا ۔ اور اسلام آباد کے سپوت کو اسی جرم میں بھاری بوٹوں نے تھانے میں ہی مجسٹریٹ کے ہاتھوں رہائی کے پروانے کے ہار پہنائے ۔
جہاں وزیر اعلی خود تھانے جا کر ملزم چھڑا لائے ۔ وہاں قانون صرف ہاتھ ملتا ہی رہ جاتا ہے ۔
مگر افسوس صد افسوس قانون کے ایسے قتل عام پر نہ جلوس نکلا نہ احتجاجی جلسہ ہوا ۔ نہ ہی لانگ مارچ ہوا اور نہ ہی کسی تحریک کا آغاز ہوا ۔ میری نظر میں یہ سب یک نظر ہیں ۔ کیونکہ قانون کی بالادستی کی وجہ سے کبھی نہ کبھی وہ بھی اس کے شکنجے میں کسے جا سکتے ہیں ۔ کیونکہ دامن اتنا صاف شاید ہی کسی کا ہو کہ دوسروں کو دھبہ نظر نہ آئے ۔
قربانی کا بکرا صرف عوام ہی کیوں ۔ عوام کو شاید یہ ان کے عملوں کی سزا ہے جو وہ ہر بار انہی دولت مندوں اور با اختیار لوگوں کو منتخب کرتے ہیں ۔ جن کا سسٹم بھی تابع ہے ۔
عام آدمی تو گھر میں چوری کی رپورٹ درج کروانے کے لئے علاقے کی بااثر شخصیت کی سر پرستی کا محتاج ہے ۔
کیونکہ پہلا شک گھر کے بھیدی پر جاتا ہے ۔

محمودالحق

Thursday, May 26, 2011

معمار قوم

0 comments
آج کل ایسا ویسا لکھنے کا رواج عام ہے تو سوچا کہ ایک کالم کاغذ کی کشتی بنا کر بارش کے بہتے پانی میں بہا دوں ۔ ارادہ پکا تھا کہ خود فریبی میں مبتلا قوم عمار کو ضرور ایک معمار کی ضرورت پیش آ سکتی ہے تو اپنی خدمات پیش کر کے دیکھوں کیا نتیجہ نکلتا ہے ۔ امتحانات کے نتائج توتینتیس اور پچاس کے درمیان ہی رہے ۔ اگر معماری کا کنٹریکٹ ہاتھ لگ جائے تو چھیاسٹھ تک گنتی پہنچ سکتی ہے ۔ پھر چاہے قانون بدل دوں یا آئین ۔ پوچھے گا کون ۔
معمارقوم بیمار ہوا تو بنیاد پر ہی کام رک گیا ۔ اس کے بعد ایک کے بعد ایک نیا خودساختہ معمار بنیاد میں ڈالے گئے مضبوط کنکریٹ کو بھول بھلیاں سمجھنے کا شکار رہا ۔ باورچی خانہ کی جگہ باتھ روم تو ڈرائینگ روم کی جگہ کچن بناتا چلا گیا ۔ نیا نئے سرے سے معمار کے آئیڈیا کو جانچتا یہ کہہ کر یہ نقشہ اصل معمار کی بنیاد سے میل نہیں رکھتا ۔ پھر سے بنیاد تک بلڈنگ ڈھا دیتا ۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ
مسجد ڈھا دے مندر ڈھادے
ڈھیندا جو کجھ ڈھا دے
اک بندے دا دِل ناں ڈھاویں
رب!دلاں اندر رھیندا
اور یہ سب انہوں نے خوف خدا سے کیا کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اٹھانے گرانے سے رب کی ناراضگی کا انہیں اندیشہ نہیں ۔ دلوں میں اس کی یاد خوشبو کی طرح بس چکی ہے ۔ ایک ہلکا سا ترانہ بجانے اور جھنڈا لہرانے سے وہ مہک اُٹھے گا ۔ زنجیر سے باندھے مست ہاتھی کے جوش سے بڑھ کر جوشیلا پن نعروں کی گونج میں مترنم ہو گا ۔
عمارت کا کیا ہے ۔معماری کا ایک شاہکار ہی تو ہے ۔ بنیاد تو پھر بھی رہ جائے گی ہڑپہ اور مونجو ڈھارو کی طرح جہاں صرف عمارتیں ملیا میٹ ہو چکی ہیں ۔ تاریخ بنیاد سےخود پتہ چلا لے گی کیا کہاں تھا ۔ جب عمارت کا وجود ہی تاریخ کے لئے ضروری نہیں تو پھر اسے مضبوط کرنے کے لئے خون جگر دینے کی ضرورت آج کے معمار نہیں سمجھتے ۔
جیسے خون وہ مچھروں کو دیتے ہیں ۔ بات کاٹنے کی کرتے ہیں ۔ یہی حال معماروں کا ہے لوٹتے مال ہیں الزام ان پر کال کے ہیں ۔
فرق صرف اتنا ہے مچھروں میں ڈینگی وائرس پھیلانے والا کوئی کوئی ہے ۔ معماروں کے ہاتھ سے بچتا کوئی کوئی ہے ۔ جو بچ جائے وہ ڈریکولا نہیں بنتا دوسری طرف معماروں کے کاٹے خود خون چوسنے کی بیماری کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ مریض اپنے اپنے مسیحا ء کی لمبی عمر کی دعا سے دم بھرتے ہیں ۔ جب کہ دوسروں کی تعریف سے سانس ان کے رکتے ہیں ۔
اگر سب ہی خون چوسنے والے بن جائیں تو خون دینے والے کہاں سے لائے جائیں گے ۔ شائد اسی لئے خاندانی منصوبہ بندی پر عملداری سے روکا جاتا رہا ۔ کیونکہ جمہوریت میں انسان تولے نہیں گنے جاتے ہیں ۔ گنتی میں بھاری ہلکے سب چل جائیں گے ۔ حالات تولنے کے ہوئے تو راشن کے بٹوارے کا خطرہ ہے ۔ ایک غلطی کا خمیازہ 71 میں بٹوارہ کی صورت میں بھگت چکے ہیں ۔ اب پھر راشن کی تقسیم کا رولا پڑ چکا ہے ۔ پانی راشن نہ سہی اجناس راشن کا سبب تو ہے ۔ زمین کے مقدر میں اس کا جزب ہونا نہ لکھا ہو ۔ سمندر میں غرق ہونے سے جو پھر بادل بن اُٹھ جائے تو ہونٹوں پہ مسکراہٹ کیوں نہ چپک جائے ۔اگر نہ برسے تو یہ کہنا کہاں جائز قرار پائے گا کہ
میرے گھر کے بادل گرج کر گزر گئے
تیرے گھر کے بادل برس کر بکھر گئے
میری شاخِ شجر کے پتے اتر گئے
تیرے پھول بھی کھل کر نکھر گئے

شکوے تو معماروں سے ہیں ۔ نہ گل سے نہ گلزاروں سے ۔

محمودالحق

Sunday, May 15, 2011

اختلاف رائے اور ہمارے رویے

0 comments
اسلام ایک ضابطہ حیات ہے جو تا قیامت ہماری رہنمائی کی سند رکھتا ہے ۔ جس پر کوئی اختلاف نہیں ہے ۔ اختلاف تو بعد میں حالات و واقعات میں تبدیلی کے عمل سے پیدا ہونے والی صورتحال سے ہم آہنگی اختیار کرنے کی وجہ سے ہے۔ہمارے حالات بدل گئے ۔ غلامی کے دور گزر گئے ۔ غلام ہندوستان میں بھی یہی اختلاف رائے کبھی مسلکی تو کبھی نظریاتی انداز میں بھرپور نظر آتا ہے کہ کون کون پاکستان کے قیام کے حق میں نہیں تھے ۔ ایک نامور کانگرسی مسلما ن ابوالکلام آزاد بھی تو ایک آزاد اسلامی ملک کی مخالفت میں ہمیشہ کمر بستہ رہے ۔دوسری طرف ایک جدید تعلیم سے آراستہ محمد علی جناح نے بغیر کسی مالی فائدہ کے حصول کےاپنی بہن کے ساتھ ساری زندگی اس ملک کی ایک اقلیت کے حقوق کی حفاظت میں صرف کر دی ۔ جب انہیں قائد اعظم کے خطاب سے بھی نوازا گیا ۔ تو کافر اعظم کہنے والے فتوی دینے میں اپنا حق محفوظ رکھتے تھے ۔ علامہ اقبال کے اشعار ڈاکٹر اسرار احمد سے لیکر ڈاکٹر طاہرالقادری تک قران کی تفسیر بیان کرتے ہوئے سمجھانے کے لئے آسانی پیدا کرنے کے لئے بیان کرتے رہے ہیں ۔ شکوہ لکھنے پر ان پر بھی فتوی لگے تھے ۔اور جواب شکوہ لکھنے پر جوش صاحب کا یہ کہنا تھا کہ وہ اپنے مقام سے گر گئے ۔
جو بات قرآن و سنت سے مطابقت نہ رکھتی ہو پر اختلاف کی بجائے جو قرآن و سنت کے منافی ہو اس پر اختلاف تو ایک طرف اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکنا چاہئے ۔
ایوب خان نے اسلام میں طے شدہ عائلی قوانین ہی تبدیل کر دیے ۔ چند سال پہلے پینتیس چالیس سال پرانے یہ ایوب دور کے عائلی قوانین شریعت کورٹ نے منسوخ کر دئے ۔ ماسوائے ایک کے " اگر بیٹا باپ سے پہلے وفات پا جائے تو اس کی اولاد اپنے دادا کی وفات کے بعد جائداد میں وراثت کی حقدار ہو گی "۔کیونکہ وہ حالات کی وجہ سے ایسے اقدام کا متقاضی تھا ۔ حالانکہ دین اسلام میں پوتا دادا کی وراثت کا حق نہیں رکھتا اور واضح ہے۔
اس کے علاوہ بے شمار معاشرتی رسمیں ایسی ہیں جن کا دین اسلام سے دور دور کا بھی واسطہ نہیں ۔ ان پر کوئی قدغن نہیں ۔ بسنت تو ہندوانہ تہوار ہے مگرکراچی سے لیکر پشاور تک گلی محلوں میں انڈین فلمیں اورگانے جائز ہیں ۔ گھر گھر کیبل نیٹ ورک ہر انڈین چینل دو سو روپوں میں دستیاب ہے ۔ دوسروں کے گھروں میں پتھر پھنکنے سے پہلے خود کے گھر کا تو جائزہ لینا ہو گا ۔ ہم کس پتھر کے گھر میں رہتے ہیں ۔
اختلاف رائے رکھنا کوئی بری بات نہیں ۔ مگر بحث برائے بحث اور تنقید برائے تنقید کے لئے میں نہ مانوں کی رٹ کم از کم میرے نزدیک تو کوئی صحت مند دلیل نہیں ہے ۔
ہر شخص کا اپنا نقطہ نظر ہے ۔ جو وہ اپنی پسند سے اختیار کرتا ہے ۔کتنے لوگ ہیں جو ہر دو موقف کو جاننے کے بعد کسی نتیجہ پہنچے ۔ ہمارے ہاں سیاست اور کاروبار کی طرح دینی افہام زیادہ تر موروثی ہوتا ہے ۔ بریلویوں کے گھر بریلوی سپوت اور دیوبندیوں کے گھر دیوبندی سپوت ہی پیدا ہوتے ہیں ۔ جیسے بنگالیوں کے گھر بنگالی پیدا ہوئے تھے ۔ اب پنجابیوں کے گھر پنجابی اور پٹھانوں کے گھر پٹھان ۔ اردو سپیکنگ بھی اس میں شامل ہیں ۔
دعوی تو سبھی یہی کرتے ہیں کہ ہم بگاڑ ٹھیک کر کے سدھار رہے ہیں ۔ معاشرہ اختلاف اور تنقید سے نہیں اخلاق و اخلاص اور برداشت سے تبدیلی کے عمل سے گزرتا ہے ۔ جو آج کل کہیں بھی دیکھنے کو نہیں ملتی ۔ تحسین و پزیرائی جب تک ملتی رہے تو واہ واہ اگر کبھی غلطی سے آئینہ دکھا دیں تو تو کون ۔ جیسے جنہیں بیوی ناپسند ہو تو اس کا بنایا ذائقہ دار کھانا بھی شدید نا پسند ہوتا ہے ۔
سب سے آسان کام تنقید ہی ہے ۔ جس کے لئے نہ تو تعلیم کی ضرورت ہے نہ شعور کی اور عقل تو سرے سے چاہئے ہی نہیں ۔ تنقید کو صرف تنقید ہی کہنا شائد صحیح نہ ہو ۔ کیونکہ یہ بھی دو طرح کے رحجانات رکھتی ہے یعنی مثبت اور منفی ۔ مثبت تنقید کسی میں پائی جانے والی خامی کو دور کرنے کی نیت سے بھی کی جا سکتی ہے ۔ اور اپنے نظریہ کی سچائی کے لئے بھی ۔ مگر اگر تنقید نظریات یا موقف کی ترجمانی کی بجائے ذات کی خامیوں پر آگ برسائے تو نقصان خود کا ہوتا ہے ۔ کیونکہ وہ برداشت کی سرحد پار کروا دیتی ہے ۔ اور عدم برداشت کا مادہ بہنے سے انسان اپنے قد سے بہت چھوٹا ہو جاتا ہے ۔ کئی ضرب المثل ہمیں یاد رہتی ہیں ۔ بڑی ہستیوں کےاقوال سنہری حروف میں لکھتے ہیں ۔ لیکن جب انہیں استعمال کرنے کا وقت خود پہ آتا ہے تو کئی توجیحات نکال لی جاتی ہیں ۔ ہم کبھی غور ہی نہیں کرتے ہم زندہ کیسے رہتے ہیں ۔ ہماری عقل یا ہمارا شعور جنہیں معتبر بنا لیتا ہے ۔ وہ انا اور تکبر بن جاتے ہیں ۔ انہیں پارسائی کے اس مقام تک پہنچا دیتے ہیں ۔ کہ ان پر انگلی اٹھانا معیوب ہی نہیں گناہ کے تصور میں ڈھال دیا جاتا ہے ۔
ایک مثال سے کچھ کہنا چاہوں گا ۔ کائنات کی ہر شے میں ہمارے سمجھنے کے لئے پیغام ضرور ہے ۔ہزاروں لاکھوں شہد کی مکھیاں ایک ایک ملکہ کی زیر کمان پھول پھول سے رس لے کر چھتہ کو بھگوتی رہتی ہیں ۔ ہر موسم میں کھلنے والے پھولوں کی تاثیر بھی شہد میں اتر آتی ہے ۔ جو انسانی صحت کے لئے نہایت کارآمد اور صحت بخش ہے ۔ ہر چھتہ کی ملکہ الگ ضرور ہے مگر کام ایک ہی ہے ۔ پھولوں کی عرق ریزی سے شہد بنانا ۔ وہ قانون قدرت پر عمل پیرا تھیں ۔ ہم نے مصنوعی انداز میں شہد کے حصول کو ممکن بنایا ۔ مکھیاں پال کر شکر کے شیرے سےشہد کا حصول ممکن کر دکھایا ۔ نہ تو مکھیوں کی فطرت بدلی اور نہ ہی کام ۔ مگر انجام ضرور بدل گیا ۔ چاروں موسموں کے پھولوں کے اثرات سے لبریز صحت بخش شہد کی بجائے کماد سے شکر ، شکر سے شہد تک کا مرحلہ ایسے ہی طے ہوا جیسے کماد سے فیکٹری میں چینی تیار کی جاتی ہے ۔ دیکھنے میں تو وہ شہد ہی ہو گا مگر چکھنے میں چینی جیسی مٹھاس ہی رکھتا ہے ۔ مگر اثر شہد جیسا نہیں !!!!!!!!

تحریر : محمودالحق

اختلاف رائے اور ہمارے رویے

0 comments
اسلام ایک ضابطہ حیات ہے جو تا قیامت ہماری رہنمائی کی سند رکھتا ہے ۔ جس پر کوئی اختلاف نہیں ہے ۔ اختلاف تو بعد میں حالات و واقعات میں تبدیلی کے عمل سے پیدا ہونے والی صورتحال سے ہم آہنگی اختیار کرنے کی وجہ سے ہے۔ہمارے حالات بدل گئے ۔ غلامی کے دور گزر گئے ۔ غلام ہندوستان میں بھی یہی اختلاف رائے کبھی مسلکی تو کبھی نظریاتی انداز میں بھرپور نظر آتا ہے کہ کون کون پاکستان کے قیام کے حق میں نہیں تھے ۔ ایک نامور کانگرسی مسلما ن ابوالکلام آزاد بھی تو ایک آزاد اسلامی ملک کی مخالفت میں ہمیشہ کمر بستہ رہے ۔دوسری طرف ایک جدید تعلیم سے آراستہ محمد علی جناح نے بغیر کسی مالی فائدہ کے حصول کےاپنی بہن کے ساتھ ساری زندگی اس ملک کی ایک اقلیت کے حقوق کی حفاظت میں صرف کر دی ۔ جب انہیں قائد اعظم کے خطاب سے بھی نوازا گیا ۔ تو کافر اعظم کہنے والے فتوی دینے میں اپنا حق محفوظ رکھتے تھے ۔ علامہ اقبال کے اشعار ڈاکٹر اسرار احمد سے لیکر ڈاکٹر طاہرالقادری تک قران کی تفسیر بیان کرتے ہوئے سمجھانے کے لئے آسانی پیدا کرنے کے لئے بیان کرتے رہے ہیں ۔ شکوہ لکھنے پر ان پر بھی فتوی لگے تھے ۔اور جواب شکوہ لکھنے پر جوش صاحب کا یہ کہنا تھا کہ وہ اپنے مقام سے گر گئے ۔
جو بات قرآن و سنت سے مطابقت نہ رکھتی ہو پر اختلاف کی بجائے جو قرآن و سنت کے منافی ہو اس پر اختلاف تو ایک طرف اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکنا چاہئے ۔
ایوب خان نے اسلام میں طے شدہ عائلی قوانین ہی تبدیل کر دیے ۔ چند سال پہلے پینتیس چالیس سال پرانے یہ ایوب دور کے عائلی قوانین شریعت کورٹ نے منسوخ کر دئے ۔ ماسوائے ایک کے " اگر بیٹا باپ سے پہلے وفات پا جائے تو اس کی اولاد اپنے دادا کی وفات کے بعد جائداد میں وراثت کی حقدار ہو گی "۔کیونکہ وہ حالات کی وجہ سے ایسے اقدام کا متقاضی تھا ۔ حالانکہ دین اسلام میں پوتا دادا کی وراثت کا حق نہیں رکھتا اور واضح ہے۔
اس کے علاوہ بے شمار معاشرتی رسمیں ایسی ہیں جن کا دین اسلام سے دور دور کا بھی واسطہ نہیں ۔ ان پر کوئی قدغن نہیں ۔ بسنت تو ہندوانہ تہوار ہے مگرکراچی سے لیکر پشاور تک گلی محلوں میں انڈین فلمیں اورگانے جائز ہیں ۔ گھر گھر کیبل نیٹ ورک ہر انڈین چینل دو سو روپوں میں دستیاب ہے ۔ دوسروں کے گھروں میں پتھر پھنکنے سے پہلے خود کے گھر کا تو جائزہ لینا ہو گا ۔ ہم کس پتھر کے گھر میں رہتے ہیں ۔
اختلاف رائے رکھنا کوئی بری بات نہیں ۔ مگر بحث برائے بحث اور تنقید برائے تنقید کے لئے میں نہ مانوں کی رٹ کم از کم میرے نزدیک تو کوئی صحت مند دلیل نہیں ہے ۔
ہر شخص کا اپنا نقطہ نظر ہے ۔ جو وہ اپنی پسند سے اختیار کرتا ہے ۔کتنے لوگ ہیں جو ہر دو موقف کو جاننے کے بعد کسی نتیجہ پہنچے ۔ ہمارے ہاں سیاست اور کاروبار کی طرح دینی افہام زیادہ تر موروثی ہوتا ہے ۔ بریلویوں کے گھر بریلوی سپوت اور دیوبندیوں کے گھر دیوبندی سپوت ہی پیدا ہوتے ہیں ۔ جیسے بنگالیوں کے گھر بنگالی پیدا ہوئے تھے ۔ اب پنجابیوں کے گھر پنجابی اور پٹھانوں کے گھر پٹھان ۔ اردو سپیکنگ بھی اس میں شامل ہیں ۔
دعوی تو سبھی یہی کرتے ہیں کہ ہم بگاڑ ٹھیک کر کے سدھار رہے ہیں ۔ معاشرہ اختلاف اور تنقید سے نہیں اخلاق و اخلاص اور برداشت سے تبدیلی کے عمل سے گزرتا ہے ۔ جو آج کل کہیں بھی دیکھنے کو نہیں ملتی ۔ تحسین و پزیرائی جب تک ملتی رہے تو واہ واہ اگر کبھی غلطی سے آئینہ دکھا دیں تو تو کون ۔ جیسے جنہیں بیوی ناپسند ہو تو اس کا بنایا ذائقہ دار کھانا بھی شدید نا پسند ہوتا ہے ۔
سب سے آسان کام تنقید ہی ہے ۔ جس کے لئے نہ تو تعلیم کی ضرورت ہے نہ شعور کی اور عقل تو سرے سے چاہئے ہی نہیں ۔ تنقید کو صرف تنقید ہی کہنا شائد صحیح نہ ہو ۔ کیونکہ یہ بھی دو طرح کے رحجانات رکھتی ہے یعنی مثبت اور منفی ۔ مثبت تنقید کسی میں پائی جانے والی خامی کو دور کرنے کی نیت سے بھی کی جا سکتی ہے ۔ اور اپنے نظریہ کی سچائی کے لئے بھی ۔ مگر اگر تنقید نظریات یا موقف کی ترجمانی کی بجائے ذات کی خامیوں پر آگ برسائے تو نقصان خود کا ہوتا ہے ۔ کیونکہ وہ برداشت کی سرحد پار کروا دیتی ہے ۔ اور عدم برداشت کا مادہ بہنے سے انسان اپنے قد سے بہت چھوٹا ہو جاتا ہے ۔ کئی ضرب المثل ہمیں یاد رہتی ہیں ۔ بڑی ہستیوں کےاقوال سنہری حروف میں لکھتے ہیں ۔ لیکن جب انہیں استعمال کرنے کا وقت خود پہ آتا ہے تو کئی توجیحات نکال لی جاتی ہیں ۔ ہم کبھی غور ہی نہیں کرتے ہم زندہ کیسے رہتے ہیں ۔ ہماری عقل یا ہمارا شعور جنہیں معتبر بنا لیتا ہے ۔ وہ انا اور تکبر بن جاتے ہیں ۔ انہیں پارسائی کے اس مقام تک پہنچا دیتے ہیں ۔ کہ ان پر انگلی اٹھانا معیوب ہی نہیں گناہ کے تصور میں ڈھال دیا جاتا ہے ۔
ایک مثال سے کچھ کہنا چاہوں گا ۔ کائنات کی ہر شے میں ہمارے سمجھنے کے لئے پیغام ضرور ہے ۔ہزاروں لاکھوں شہد کی مکھیاں ایک ایک ملکہ کی زیر کمان پھول پھول سے رس لے کر چھتہ کو بھگوتی رہتی ہیں ۔ ہر موسم میں کھلنے والے پھولوں کی تاثیر بھی شہد میں اتر آتی ہے ۔ جو انسانی صحت کے لئے نہایت کارآمد اور صحت بخش ہے ۔ ہر چھتہ کی ملکہ الگ ضرور ہے مگر کام ایک ہی ہے ۔ پھولوں کی عرق ریزی سے شہد بنانا ۔ وہ قانون قدرت پر عمل پیرا تھیں ۔ ہم نے مصنوعی انداز میں شہد کے حصول کو ممکن بنایا ۔ مکھیاں پال کر شکر کے شیرے سےشہد کا حصول ممکن کر دکھایا ۔ نہ تو مکھیوں کی فطرت بدلی اور نہ ہی کام ۔ مگر انجام ضرور بدل گیا ۔ چاروں موسموں کے پھولوں کے اثرات سے لبریز صحت بخش شہد کی بجائے کماد سے شکر ، شکر سے شہد تک کا مرحلہ ایسے ہی طے ہوا جیسے کماد سے فیکٹری میں چینی تیار کی جاتی ہے ۔ دیکھنے میں تو وہ شہد ہی ہو گا مگر چکھنے میں چینی جیسی مٹھاس ہی رکھتا ہے ۔ مگر اثر شہد جیسا نہیں !!!!!!!!

تحریر : محمودالحق

Saturday, March 26, 2011

پروانے شمع سے جلتے ہیں

2 comments
تحریر ! محمودالحق
میری تحاریر پر بعض اوقات یہ اعتراض سامنے آتاہے کہ مشکل مفہوم کے ساتھ پیچیدہ طرز تحریر اختیار کرتا ہوں ۔ جسے پڑھنے پر بعض اوقات ایسے جوابات سے بھی نوازا جاتا ہے " پیچ در پیچ اتنی پیچیدہ تحریر واللہ بندہ سمجھنے کے چکر میں پیچاں پیچ ہوجائے " ۔ اگراس کے ساتھ نصیحت بھی ہو تو مشورہ مفت دل بے رحم سے کم نہیں ہوتا ۔ اسی لئے اپنی تمام مصروفیات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک بار پھر لکھنے پر کمر بستہ ہوں ۔ اب اگر شکوہ نہ جائے تو ہمیں ضرور توبہ کرنی چاہئے قاری کو پڑھنے سے اور مجھے ایسی سوچ رکھنے پر ۔
کیونکہ میرے سیاسی عزائم نہ ہونے کے برابر ہیں ۔ نا عاقبت اندیشی سیاست میں کسی کام کی نہیں ۔ سیاستدان ہمارے کسی کام کے نہیں ۔ اب اگر ذوالفقار علی بھٹو بحیثیت سیاستدان یا وزیراعظم مجھے پسند ہے تو اس کی خاص وجہ یہ کہ زندگی میں ایک بار بغیر امتحان دئیے ساتویں سےآٹھویں جماعت میں پہنچ گئے تھے ۔کیونکہ نو ستارے مل کر الیکشن میں اپنے انتخابی نشان ہل جو کہ کسان کی محنت اور قوت کی غمازی ہے کے بل پر بھی ملک میں جمہوریت کی کھڑی فصل کو نہ بچا سکے ۔ اور بھٹو اپنی جان کو ۔
حکمرانی جیل کی سلاخوں کے پیچھے چلی گئی اور اپوزیشن نئی حکومت کے پیچھے کے دروازے پر ۔ دونوں کو آخر کیا ملا ۔ ایک کو موت تو دوسری اپنی موت آپ مر گئی ۔ کیونکہ وہ آج بھی صرف ایک اپوزیشن کا ہی کردار نبھانے میں ماہر سمجھی جاتی ہے ۔جسے عوامی اعتبار حاصل کبھی نہیں ہوا ۔ لیکن امید بھی ختم نہیں ہوئی ۔علامہ اقبال کے اس شعر پر ابھی تک کامل یقین رکھتے ہیں کہ زرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی ۔
مٹی زرخیز ہو بھی تو کیا ۔ہل چلانے والے ہی انجان اور نا تجربہ کار ہوں ۔ بنا محنت کے ہی فصل کاٹنے کے لئے بیتابی مہماناں کو جاناں تصور بنا کر رکھتے ہوں تو ایک کیا صدیاں تو تین بھی نا کافی ہوں گی ۔ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں ہو ۔ تو پھر ہاتھی میرا ساتھی نہیں ہوتا ۔
ان میں سے ہی بعض تو ایسے قد کاٹھ رکھنے والے قائد تھے ۔ کہ دل جلے پھبتی کستے کہ پوری پارٹی ایک ہی تانگہ پر پوری بیٹھ سکتی ہے ۔ اب بھلا تانگہ پر بیٹھ کر ایوان تجارت تک جانے کا راستہ نہیں رہا تو ایوان صدارت تک تو کجا مشکل ہی نہیں نا ممکن ہے ۔ اسلام آباد میں کئی بار اس راستے سے گزر کر قیاس کیا کہ کیسے یہاں تک پہنچنا آسان ہو سکتا ہے ۔ لیکن جہاں سے گزرنا میرا تھا وہاں سے تو روزانہ ہزاروں لوگوں کا گزرنا رہتا ہے ۔پھر ایک خیال دل میں آیا کہ جسے ہم اندر جانے کا راستہ سمجھتے ہیں دراصل وہ باہر آنے کا راستہ ہے ۔ اندر جانے کے لئے کسی دروازے کی نہیں ایک گہری سرنگ کی ضرورت ہوتی ہے ۔ نکلتی کہاں سے ہے کسی کو معلوم نہیں ۔ جاتی کہاں ہے سب ہی جانتے ہیں ۔
حیدرآباد میں کوئلہ کی کانوں میں جو سرنگیں مجھے دکھائی گئی تھیں ۔ وہ تو ایک ہی کنویں سے چاروں اطراف پھیل جاتی تھیں اور کوئلہ نکال نکال کر اس کنویں سے باہر لایا جاتا اور ضرورت مندوں تک پہنچا بھی دیا جاتا ۔ لیکن یہ فارمولہ ہر جگہ اپلائی نہیں ہوتا ۔ضرورت مند تو وہ بھی بہت تھے جن کے گھروں پر سویت یونین نے یلغار کی تھی ۔ اور وہ خیمہ بستیوں میں پناہ لئے بارڈر کے اس طرف خیموں میں کسمپرسی کی زندگی گزار رہے تھے ۔ اور ان کے لئے بھیجا گیا ہالینڈ کا اعلی گھی ان کے ہاتھوں سے صرف پانچ سو میل دور شہروں میں دوکانوں کے باہر ڈھیر کی صورت سستے داموں بیچنے کے لئے موجود تھا ۔ ایسا ولائتی گھی دیہات میں گھروں میں نکالے جانے والے دیسی گھی کو بھی پیچھے چھوڑ گیا ۔ کالج یونیورسٹیز میں مجاہد عام دیکھے جا سکتے تھے ۔ نوجوانوں میں کمانڈو جیکٹ کا شوق دیدنی تھا ۔ بعض نے تحقیق پر پتہ چلایا کہ لنڈے بازار سے دو سو پاکستانی روپے میں امریکن کمانڈو جیکٹ دستیاب ہے ۔ مقصد کتنا بھی عظیم کیوں نہ ہو جب نیت میں کھوٹ ہو وہ مراد بر نہیں آتی ۔
صرف جیکٹ یا یونیفارم پہن لینے سے ہر ڈیوٹی پوری نہیں ہوتی اور نہ کوئی ڈگری ہاتھ لگتی ہے ۔ یہ وہ زمانہ تھا جب نکاح کا کاغذ بیوی کے ساتھ رکھنا ضروری تھا ۔ ڈیوٹی ادا کرنے والے نانی تک یاد کروا دیتے تھے ۔ کیونکہ شوہر و بیوی کو اپنا نکاح سچ ثابت کرنے کے لئے الگ الگ عزیز رشتہ داروں کے نام بتانے پر جان چھوٹنے کا سرٹیفیکیٹ جاری ہوتا ۔
وقت ا ور حالات کبھی یکساں نہیں رہتے ۔ ترجیحات بدلتی رہتی ہیں ۔ منہ سونگھنے سے بھی کئی دفعات نافذالعمل ہوجاتی تھیں ۔بعد کا ایک وقت وہ بھی گزرا جب سونگھنا ایک اچھا فعل نہیں مانا جاتا تھا ۔ کیونکہ یہ آزادی حق کلام سے ہاتھ دھونے کے مترادف سمجھا جاتا تھا ۔ کیونکہ صرف بات کرنے سے ذہنی فتور کےپکڑے جانے کا اندیشہ تھا ۔
لیکن جن کے بات کہنے سے پوری قوم کی نمائندہ اسمبلی گھر وں کو روانہ ہو گئی ۔ انہیں صرف اتنی تنقید کا سامنا رہا کہ جو منہ سے بادام نہیں توڑ سکتے انہوں نے اسی منہ سے اسمبلی توڑ دی ۔ لیکن ذہنی فتور پکڑنے کا کسی کو خیال کبھی نہیں آیا ۔خیال تو ان سیاسی بازیگروں کو بھی نہیں آیا جب مینار پاکستان پر جلسہ غیر منتخب حکمرانوں کا ہو بسیں بھر بھر سرکاری ملازم لائیں جائیں ۔ اور جھنڈے اُٹھائے ان کے پارٹی ورکر اپنے اپنے قائدین کے وزیراعظم ہونے کا خود ہی ڈھنڈورا پیٹتے رہیں ۔ وہ یہ جانتے ہیں کہ جو پٹتے ہیں وہ قائدین کی صفوں میں شامل نہیں ہو سکتے ۔ کیونکہ قائد وہ ہوتا ہے جو پٹوا سکے نہ کہ خود پٹتا پھرے ۔ تاریخ شاہد ہے صرف ہماری کہ جن کے سر پھٹے وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے"روز ہوتا ہے ایک نیا تماشا میری نظروں کے سامنے " دیکھتے رہے ۔
مصر تیونس میں سر تو ضرور پھٹے جانیں بھی گنوائی گئیں مگر آنکھیں پوری کھل چکی ہیں ۔ اب لیبیا اور اس کے بعد شام میں پھٹی پھٹی آنکھوں سے حکمران "روز ہوتا ہے ایک نیا تماشا میری نظروں کے سامنے " دیکھ رہے ہیں ۔ امیدیں تو کچھ مہربانوں کو یہاں بھی ہیں ۔ عوام نے کئی بار نئی امید سے کبھی ایک کبھی دوسرے کو کندھوں پر بھٹا کر سر کا تاج بنایا ۔ مگر وہ تاج ور نہ بن سکے ۔ محتاج ہی رہے امداد کے ، سہارے کے ۔
جو حکمران خود محتاج ہوں ۔عوام سے ووٹوں کی بھیک مانگ کر ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف سے بھیک مانگنے کے اہل ہوئے ہوں ۔ ایسے اخلاقی طور پر مرے ہوئے دوبارہ مرنے کی اہلیت نہیں رکھتے ۔
جن کے پاس انقلاب کے ارادے ہیں ۔ ان کے پاس عوام نہیں ۔ جن کے پاس عوام ہیں انہیں سوچنے کی فرصت نہیں ۔سالہا سال وہ جلا وطنی کے دور میں تنہا سوچ سوچ کر اب کسی نئی سوچ کے متحمل نہیں ہو سکتے ۔
گھر کی مرغی دال برابر کی مثال تو سن رکھی ہے ۔ مگر ملک میں لیڈر بھی مرغ برابر ہی رہتا ہے ۔ جو وقت بے وقت ہڑتال ، ریلی کی بانگ دیتا رہتا ہے ۔
قوم کی ہمدردی کی عرق ریزی وہ کامیابی سے کرتے ہیں جو جلا وطن ہوں چاہے خود ساختہ ہی کیوں نہ ہوں ۔ اس بات پر یقین کرنے کے علاوہ کیا چارہ ہے ۔ اگر نہیں تو خود ہی دیکھ لیں تین بڑی حکمران پارٹیاں تینوں کے رہنما جلا وطن ہیں یا رہ چکے ہیں ۔
لیڈرجلا وطن ہوتے ہیں توحکمران بنتے ہیں ۔
عوام وطن کو جلا بخشتے ہیں ۔تو جلادوں کے ہاتھوں پٹتے ہیں ۔جیسے پروانے شمع سے جلتے ہیں ۔