Saturday, July 30, 2011

لکھنا مجبوری میری، پڑھنا کیوں تیری

0 comments
لکھنا چاہتا ہوں مگر لکھ نہیں‌پا رہا ۔ سمجھنا چاہتا ہوں سمجھ نہیں پا رہا ۔ نیٹ کے دھاگے کمزور ہوتے جارہے ہیں ۔ یا میری نظر کی کمزوری یہاں بھی حائل ہو چکی ہے ۔ چند روز تک نئے چشمے سے الفاظ صاف دیکھائی دینے لگیں گے ۔ مگر قلب کی صفائی دیکھنے میں ابھی مذید انتظار کرنا ہو گا ۔ سالہا سال کے انتظار کے بعد نہ تو محلے کی گلیاں صاف ہوئیں ۔ ندیاں بھل صفائی کی محتاج ہیں تو نالے کوڑا کرکٹ کی صفائی کے ۔
سیاستدان نرما کی وجہ سے اجلے دیکھائی دیتے ہیں ۔ مگر کردار ابھی صاف نہیں ۔ سیاست کے شیر ہیں یا ترکش میں بھرے تیر ۔ بچے کھچے عوام قطعا بھوکے بٹیر نہیں جو لڑ بھڑ کر بھڑاس نکالیں ۔ البتہ ترم کے پتے استعمال کرنے کی پابندی ہر گز نہیں ہے ۔ اب اسے مڈ ۔ ٹرم پڑھنے والے ایک نئی بحث کا آغاز خود سے کر دیں ۔ تو ہنوز دلی دور است نہ سمجھا جائے ۔ کیونکہ جج جہاں پایا جائے ۔ عدالتی کاروائی کا وہیں اختیار رکھتی ہے ۔ کم از کم ہمیں فیصلے کا اختیار نہیں ۔ کسی بھی دھاگے پر موم چپکا کر آگ جلانے کا اختیار ماچس ہاتھ میں لینے سے شروع ہو گا ۔ ہماری تو آواز بھی اچھی نہیں کہ اپنا راگ ہی آلاپ سکیں ۔ آگ تاپنے کا مزہ موسم سرما میں اچھا ہے ۔ ایسے شدید گرم موسم میں گرمی سردی صحت کے لئے سود مند نہیں ۔ سردا اگر بازار سے میسر نہ ہو تو گرما ابھی چند مزید ماہ دستیابی کا ترانہ گنگاتا رہے گا ۔
ماہ رمضان کی آمد آمد ہے پھل گھر گھر جانے کے لئے بیتاب ہیں ۔ تاکہ روزہ داروں کی افطاری میں غریب سے غریب تر کو بھی بھوک کے نڈھال پن سے نجات دلانے میں اپنا حصہ ڈال سکیں ۔ حصہ تو بقدر جثہ ہر صاحب حیثیت کو بھی بیواؤں یتیموں ، مسکینوں ، بیماروں اور لاچاروں کی مدد کرنے میں ڈالنا چاہیئے ۔ تاکہ وہ بھی شدید گرمی میں غربت کا پسینہ بہہ جانے سے نقاہت کا شکار ہونے سے اپنے آپ کو بچا سکیں ۔ اور ان کے بچے امیر کی عیال سے نفرت پال کر جوانی کی دہلیز تک انتقام کے گھوڑے پر سوار سفر طے نہ کریں ۔ بلکہ ہم سفر ہونے کے اعزاز سے نوازے جائیں ۔ ستارہ امتیاز سے نوازے جانے کی آرزو کہیں کہیں مچلتی دکھائی بھی دے تو گھر میں فوٹو فریم میں لٹکانے سے لٹکے منہ اُٹھائے نہیں جا سکتے ۔ سر اُٹھانے میں ایڑی چوٹی کا زور لگانے میں کوتاہی کی سرکوبی خیال کرنی ضروری ہے ۔
تیس دن جسم کی ضرورتوں کو کھجور اور دودھ سے توانا ئی سے بھرپور غزائیت پہنچانے کے ساتھ ساتھ روحانیت بکثرت عمل صالح سے ندامت ناصح پر ہو تو قلب تر و تازہ پھلوں سے بنایا خون سر پھرے شریانوں میں برابر پہنچ کر مقرب تکبر خاص کو اکڑاؤ کی بجائے نرم خوئی پر رواں دواں کر دے ۔ نا کہ جیو اور جینے دو کے جھنڈے تلے سانس لینے میں بھی محتاجی کا علم تھما دے ۔
کج فہمی میں کی گئی بات رات ڈھلنے کے انتظار میں اتفاق کی بجائے نفاق کے سبب اسباب پیدا کرنے کی صلاحیت سحر ہو جاتی ہے ۔ جو بات بے بات اپنا عمل دوا کی بجائے طبیب کی تشخیص کا اعلان ایجاد بن جاتا ہے ۔ علماء کے اجتہاد سے اسے الگ پڑھا جائے ۔ فتاوی ملنے سے کچھ خوش رہتے ہیں تو کچھ صرف پڑھنے سے ۔ اکثریت نہ پڑھنے میں ہی خوش ہے کیونکہ وہ ان پڑھ ہیں ۔ ملک کی تقریبا ستر فیصد شائد اسی کیٹیگری میں آتے ہیں ۔ بوڑھے طوطے تو اب پڑھنے سے رہے ۔ لیکن فال نکالنے کے لئے ان کے تجربات سے فائدہ نہ اُٹھانا کوئی دانشمندی نہیں ۔
اگر زندگی نے وفا کی تو ہر وفاء بے اختیار کو آقا سراپا کی غلامی میں تیغ زن تیار ہوتا پھر سے پائیں گے ۔
لیکن اگر آج سے بے نیام شمشیریں عقائد کے سر قلمی اعتراضات سے اختلافات کی بجائے پیار اور امن کی عبادات سے بھائی چارے کی ترغیبات کو فروغ دینا شروع کریں تو ایک ماہ ہی شائد سال بھر کی شرکتی بزلہ سنجی کا اثر زائل کرنے کا سبب ہو ۔
آؤ ایک سجدہ کریں عالم مدہوشی میں
لوگ کہتے ہیں کہ ساغر کو خدا یاد نہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محمودالحق

Tuesday, July 26, 2011

رشتے دل کے جو جان پر بن آئے

0 comments
بات نہایت مختصر بیان کرنے کی جسارت کروں تو سمجھنے سمجھانے میں پل صدیوں میں ڈھل جائیں ۔ سحر آفتاب غروب کے منظر کو مہتاب کر دے ۔ بات آفتاب کی نہیں جو شمش کہلائے تو شمشیر سے گہرا اثر اپنی حدت سے چھوڑ جائے ۔ یہاں ذکر ہے رشتوں کا جو کبھی بندھتے ہیں تو کبھی چھوٹتے ۔ گردش ایام کے پابند رہتے ہیں ۔ گردش کائنات سے سروکار نہیں رکھتے ۔ کیونکہ وہاں سرکار کسی کی نہیں ۔ موج مستی صرف اتنی کہ پاؤں زمین پر تھرک سکیں ۔ جو آنکھ سے اوجھل ہے چاہے پہاڑ کے پار ہو یا پہلے آسمان سے آگے ۔ خواہشوں کی بیڑیاں پہنے طوق غلامی سے جھکتا چلا جائے ۔ پھر بھی رہتا شکوہ اپنے پن سے جو بیگانگی میں اغیار کی پرستش میں مسیحائی کا طالب ہو ۔

Sunday, July 24, 2011

دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو مَیں

0 comments
محبت ، خلوص ،رواداری سے اپنا بنانے کے لئے جو بھی عمل کیا جائے وہ انجام خیر سے بے خبر ہوتا ہے ۔ انسان دو آنکھوں سے زمانے بھر کو دیکھتا ہے ۔ کبھی دکھ سکھ میں آنسو تو کبھی غصہ میں آگ کی لالی سے پانی بہتا ہے ۔ لیکن اس سب کے باوجود ایک دو بار ہی آنکھیں دو آنکھوں سے چار ہوتیں ہیں ۔ جو سیدھا نشانہ دل پہ لیتی ہیں ۔ پھر عقل سے نظر کی تمام طنابیں چھوٹ کر دل کی دھڑکن سے جڑ جاتیں ہیں ۔ تمام رشتے ایک نظر کے سامنے ہیچ لگتے ہیں ۔ سوچ عقل کی سٹاک مارکیٹ دلاں دے سودے میں مندے کا شکار ہو جاتی ہے ۔
آسمان پہ چپکے سفید روئی کے گالوں کی طرح برسنا قسمت میں نہیں ، صرف ٹہلنا رہ جاتا ہے ۔ جو نہ تو دھوپ سے بچاتے ہیں اور نہ ہی پیاسی زمین کی پیاس بجھاتے ہیں ۔
آسمان سے باتیں کرتے جنگلی درختوں کی طرح اکڑے ثمرات سے بے فیض ہوتے ہیں ۔ اظہار محبت کے لئے تین لفظوں سے لے کر ایجاب و قبول کے درمیان اٹک جاتے ہیں ۔ زندگی کا یہ مختصر ترین عرصہ صدیوں سے چلتی معاشرتی قدروں کے سامنے بغاوت کا علم بلند کر دیتا ہے ۔ عزت کا جنازہ نکل جانے کا غم نہیں ۔ پانے کی خواہش اتنی شدت اختیار کر لیتی ہے ۔ کہ جیت کے نشہ سے بڑھ کر نشہ کی علت میں مبتلا کر دیتی ہے ۔ بچپن ، لڑکپن کی یادیں احسان فراموشی کی شال اوڑھ لیتی ہیں ۔ میں کی عینک میں منزل مراد وحید ہو جاتی ہے ۔ کھلونوں کے بازار میں کھڑے بچے کی مانند جو صرف اپنی پسند پہ فریفتہ رہ جاتا ہے ۔ اوراگلی بار پھر کسی اور پسند پر ۔ ایک زمانہ کی پسند ایک زمانہ تک رہتی ہے ۔
حسرت کا یہ کوہ پیمائی سلسلہ خواہشوں کے انبار میں قوت خرید کی بنا پر ایک وقت میں ایک خواہش کی تکمیل کی تدپیر نہیں رکھتا ۔

Friday, July 22, 2011

بھولنے والے بھول جائیں

0 comments
اصلاح احوال کریں تو کیسے کریں اتنے ٹی وی چینل خبریں تو ایک جیسی ہیں ۔ مگر انداز بیان الگ الگ ۔ اخبارات شہر شہر نگری نگری کی کہانیاں سمیٹے ہوئے ظلم و نا انصافی کی دہائی دیتے ہوئے مظلوم کے حق میں انصاف کا جھنڈا لہراتے ہوئے عوامی خدمت سر انجام دے رہے ہیں ۔ عوامی نمائندے بھی کسی سے پیچھے نہیں حق رائے دہی کا احترام کرتے ہوئے حق سے محرومی پر سیخ پا نظر ضرور آتے ہیں ۔ عوام کی تکلیف کا احساس حکمران اور ان کے مشیران کو آنسو بہانے پر مجبور کر دیتا ہے ۔
بعض الفاظ اپنا تاریخی پس منظر چھوڑ جاتے ہیں ۔ جیسے سیاسی اداکار کا جملہ فنکاروں کو یہ سوچنے پر مجبور کر گیا ۔ کہ ان کا مستقبل کیا ہو گا ۔ ایک وقت تھا ٹی وی پر ان کے جلوے تھے ۔ تھیٹر ریڈیو سے سفر طے کرتے کرتے ٹی وی تک پہنچنا محال تھا ۔ اور فلمی سفر کی ٹکٹ ملنا تودیوانہ کا خواب تھا ۔
جیسا کہ اب محلے کی ویلفیر سوسائٹی سے کونسلر تک کا سفر طے طے کرتے کرتے اسمبلی تک پہنچنا محال ہے وزارت کا قلمدان سنبھالنا تو دیوانے کا خواب ہے ۔ جوں جوں معاشرہ اخلاقی اقدار کی کاٹ کا شکار ہے ۔ توں توں حکمرانی بندر بانٹ کے فارمولہ پر اتفاق رکھتی ہے ۔ مگر بیوقوفی میں تماشا نہیں بنتی ۔ پکڑے جانے کا ڈر ہو تو بندر کی طرح مٹھی بند نہیں رکھتی کھلے ہاتھ دکھا دیتی ہے ۔ سمجھ دار کے لئے اشارہ ہی کافی ہے ہاتھا پائی سے گریبان پھٹتے تو گالی سے روح تلملا جا تی ہے ۔ مگر کانوں میں جوں رینگنے کا دور گزر چکا ۔ جوں سے سر میں کھجلی کی بجائے ہاتھ کی میل دولت آنے کی امید سے کھجلی پیدا ہوتی ہے ۔ جو شریفوں کے لئے خجل خواری تو ہوس کے پجاریوں کے لئے سرمایہ کاری ہوتی ہے ۔ جس کے اثرات تابکاری جیسے نہیں ہوتے ۔ عوام ایسے معاملات کی جانکاری مانگتے مانگتے تانگے کی سواری کرنے کے قابل رہ جاتے ہیں ۔ رمضان کی آمد آمد ہے غریب گھرانے کئی سو روپے میں افطاری تک اپنے سحر کے اختتام کا سفر طے کریںگے ۔
ڈکشنری میں ہر لفظ کا مطلب نکالا جا سکتا ہے مگر حل نہیں ۔مشنری اور کمشنری کے الفاظ ہم آواز تو ہیں مگر ہم معنی نہیں ۔ متحدہ ہندوستان میں مشنریوں کا جادو سر چڑھ کر بولتا رہا ۔ مگر آج بھی گورا راج کی نشانی کمشنری کا جادو سر سے اتاریں تو پھر چڑھ دوڑنے کے لئے بیتاب رہتا ہے ۔ بچپن میں دوست جادوگروں کی کہانیاں پڑھ کر ایسے شہزادوں کا روپ دھارنے کی کوشش میں رہتے جو خوبصورت شہزادی کو ظالم جادو گر کی قید سے رہائی دلا کر سہرے کی لڑیاں سجانے کے لئے آنکھوں میں طلسماتی خواب بسا لیتے ۔
آج کا جدید دور شہزادیوں کی محبت کا روادار نہیں ۔ موبائل فون اور انٹر نیٹ سے قارون کے خزانے کی جستجو ہے ۔ لاکھوں کروڑوں کے سودے ادھر سے ادھر ہو جاتے ہیں ۔ کمیشن لینے والا اب کمیشن ایجنٹ نہیں کہلاتا ۔ رقم کی منتقلی ارجنٹ مانگتا ہے ۔ ایک زمانہ تھا مانگنے والے کو منگتا بھی کہا جاتا تھا ۔ اب مانگنا شرمساری کا باعث نہیں ۔ جب ملک قرض مانگ کر شرمندہ نہیں ہوتے تو ایسے میں فرد واحد کیوں فخر سے محروم رہے ۔
طعنے کوسنے دینے سے مسائل سے نجات ممکن دکھائی نہیں دیتی ۔ اور اکثر لکھنے والے یہ سمجھ لیتے ہیں کہ وہ جو سوچتے ہیں وہی لکھتے ہیں ۔ حقیقت کا ادراک رکھنے والوں کے لئے کھلی نشانیاں ہیں ۔ حالانکہ نشانی سب کی اپنی اپنی ہے جیسا کہ ۔۔۔۔۔ چلیں چھوڑیں سب ہی جانتے ہیں کہ آج باہمی اختلاف کس بات پر ہے ۔
اصل مسئلہ شائد عدم برداشت کا ہے ۔ میں میرا ، تو تیرا نے رشتوں اور باہمی احترام کی ڈوریاں ڈھیلی کر دی ہیں ۔ ابھی ٹوٹی نہیں ہیں ۔ ڈھیلی پھر بھی کسی جا سکتی ہیں مگر ٹوٹی جڑ نہیں سکتیں ۔ بہت کم لوگ ہوں گے جو خود میں نیوٹرل یعنی غیر جانبداری کا طوق گلے میں پہنے ہوں ۔ اکثریت جو پڑھ لیں یا جو سن لیں اسی پر یقین کی بنیاد کھڑی کر لیتے ہیں ۔ پھر کوئی نظریہ کوئی فلسفہ زبر سے زیر نہیں کر سکتا ۔ اگر کوئی ایسا نہیں ہے تو اپنے مکمل کوائف اور تفصیلات تیار رکھے ۔ کیونکہ ڈگریوں کی طرح انہیں بھی ردی کی ٹوکری انعام میں ملنے کی توقع ہے ۔
ہر انسان کو اپنا کام کرتے جانا چاہیئے ۔ پڑھنے والے پڑھتے جائیں ۔ لکھنے والے لکھتے جائیں ۔ سمجھنے والے سمجھ جائیں ۔ بھولنے والے بھول جائیں ۔ لینے والے لے جائیں کیونکہ مال واسباب تو یہ ہے نہیں لٹنے کا خوف نہیں کھونے کا ڈر نہیں ۔

تحریر ! محمودالحق

Saturday, July 16, 2011

دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے

0 comments
جدید دنیا نے انسانوں کو جہاں بے پناہ سہولتیں پہنچائی ہیں ۔ وہاں بے شمار مسائل سے بھی دوچار کیا ہے ۔ ہر دور کا انسان جدید ترقی کی منازل آہستہ آہستہ طے کرتا رہا ۔اور ماضی کو پائیدان بنا کر اگلی منزل کی طرف گامزن ہوا ۔ مگر ہر انسان اس سے استفادہ حاصل نہیں کر سکا مگر چند کے سوا ۔ اور اسی طرح چند ممالک ہی اس ترقی کا بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں ۔
ترقی پزیر اور پسماندہ ممالک کا ذکر ہی کیا ۔ مگر ترقی یافتہ ممالک کا ہر فرد بھی خوش وخرم اور مطمئن زندگی نہیں گزار رہا ۔جہاں امیر امیر تر ہوتا جا رہا ہے ۔ اور غریب اپنی روزمرہ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے 8 سے 12 گھنٹے روزانہ مشقت کرتا ہے ۔اکیلا وہ بھی بیوی بچوں کے اخراجات پورا کرنے کی طاقت نہیں رکھتا ۔
تاہم عورت مرد کے شانہ بشانہ معاشرے میں اپنے حصے کا کام کرتی ہے ۔ جو ایک ہفتہ میں چالیس گھنٹے یا اس سے زیادہ بھی ہو سکتے ہیں ۔ ملازمتوں سے فارغ ہونا اور کریڈٹ کارڈ کی واجب الاادا رقوم انہیں سخت محنت کا عادی بنا دیتی ہیں ۔
ہر ملک کا میڈیا سب اچھا کی خبر دیتا ہے آج کے بناوٹی دور میں پسماندہ ملک کا میڈیا بھی وہاں کے عوام کی اصل شکل نہیں دکھاتا ۔یہی وجہ ہے کہ عوام الناس میں بھی ایسے پروگرام زیادہ پزیرائی حاصل کرتے ہیں ۔ جن میں لوگ بہت سی دولت چند لمحوں میں حاصل کر لیتے ہیں ۔جیسے کون بنے گا کروڑ پتی اور ڈیل یا نو ڈیل پروگرام ۔ اس کے علاوہ نیوزپیپر اور میگزین کھلاڑیوں کی آمدنی کا تخمینہ لگاتے رہتے ہیں ۔ جو نئی نسل کے ذہنوں میں جلد امیر ہونے کا ایک آسان طریقہ ہوتا ہے ۔ جو لاکھوں میں سے چند ایک کو حاصل ہو تا ہے ۔ کچھ پڑھائی تو پہلے چھوڑ چکے ہوتے ہیں رہی سہی کسر دولت کمانے کے کئی دوسرے طریقے اپنانے میں پوری ہو جاتی ہے ۔چند محنت اور لگن سے اور کچھ غیر قانونی طریقوں سے ترقی پاتے ہیں ۔لوگ امیر ہونے اور دوسروں سے آگے بڑھنے کے عمل میں اپنی اپنی حیثیت میں کوشش کرتے ہیں ۔ ایسے میں ایک ریڑھی بان سے لے کر سیاستدان تک ایک خاص مقصد کے حصول کے جنون میں کوشش کرتے ہیں ۔مگر مقصد ایک ہے دولت مندی اور دوسروں سے برتری ۔
مفادات کی اس جنگ میں آخر کار فتح خود غرضی کی ہوتی ہے ۔
ایک زمانہ تھا لوگ اپنے بزرگوں کا تعارف ان کے اخلاق ، اخلاص اور کردار ، ایمانداری ، اصول پرستی اور ایثار و قربانی کی اساس پر کراتے تھے ۔اور خود پر فخر کرتے ۔ مگر آج کی دنیا اور دولت پرستی کو کیا کہیئے کہ اولادیں والدین کے اصولوں پر فخر کرنے کی بجائے ان پر موقع ملنے پر فائدہ اُٹھا کر انہیں مہنگی اور جدید تعلیم سے آراستہ نہ کرنے اور ان کے نالائق مستقبل کو محفوظ کرنے کا خاطر خواہ انتظام نہ کر سکنے کے الزامات دینے میں تامل نہیں کرتی ۔
جو والدین اپنی اولاد سے توقع کریں کہ وہ اپنی قابلیت کے بل بوتے پر ان کا سر فخر سے بلند کریں۔ انہیں معاشرہ ناکام قرار دینے میں تامل نہیں کرتا ۔
ایسے لوگوں سے مل کر نہایت مایوسی ہوتی ہے جو اپنی رہائشی کالونی کا ذکر فخریہ انداز میں کرتے ہیں ۔ اور اس کی تعریفوں کے پل باندھتے ہیں اور اپنی حیثیت کا وزن بڑھانے کے لئے بیوروکریٹ اور سیاستدانوں کا ہمسایہ ہونے پر سینہ تان لیتے ہیں ۔
کیا دور آ گیا ہے لوگ اپنے آپ کو محترم کرنے کے لئے آباؤاجداد کی بجائے تعلقات کا تزکرہ فخر سے کرتے ہیں ۔
اسے کیا کہا جائے تعلیم کی کمی ،حسد و جلن یا احساس محرومی جو دوسروں پر برتری جتلانے سے ٹھنڈک کا احساس پاتا ہے ۔
خطبہ حجتہ الوداع کے موقع پر آپ صل اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر کوئی کسی سے برتر ہے تو وہ تقوی اور پرہیز کے وجہ سے ہے ۔
ہمارا معاشرہ جس سمت چل رہا ہے وہ کسی قانون یا کسی ترمیم سے اپنی اصل پر واپس نہیں آئے گا ۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ قانون بنانے والے اور اس پر تنقید کرنے والے اپنے قول و فعل میں تضاد ختم کریں ۔عوام کے لئے ایک اچھی اور سچی مثال بنیں ۔مگر یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک عوام اپنے رہنما چنتے وقت دولت کے انبار کی بجائے کردار کو ترجیح دیں گے ۔جھرلو طریقہ انتخاب سے منتخب ہونے والے بھاری مینڈیٹ کے لئے جھاڑو کا سہارا لیتے ہیں ۔ ہر منتخب ہونے والا سیاستدان خود کو تخت شاہی کا حقدار سمجھتا ہے ۔
اس کا جواب تو عوام بہتر طور پر سمجھتے ہیں جو آوے ہی آوے اور جاوے ہی جاوے کے نعروں کا ایندھن بنتے ہیں ۔
ہمارے سیاستدان اور سیاسی علماء کرام کیوں بھول جاتے ہیں کہ لاہور شہر میں سروں پر حکومت کرنے والے ایک قطب بادشاہ کے مزار پر ہو کا عالم اور دلوں پر راج کرنے والے ایک ولی اللہ کے مزار پر زائرین کا جم غفیر ایک سبق آموز حقیقت پیش کرتا ہے ۔ پھر بھی سیاستدان سروں پر حکومت کر کے معاشرہ کی درستگی کا بیڑہ اُٹھانے کا متمنی نظر آتا ہے ۔ حالانکہ قوم جانتی ہے کہ قانون بنانے والوں پر قانون لاگو نہیں ہوتا ۔ قانون کمزوروں کو اور بے کس بنانے میں استعمال ہوتا ہے ۔ طاقتور اور امیر تعلقات اور اثر ورسوخ سے قانون کے شکنجے سے بچ نکلتے ہیں ۔ سیاسی مخالفین کے علاوہ شاید ہی کسی نے طاقتور کو سزا سے فیضیاب ہوتے دیکھا ہو ۔ کروڑوں اربوں کے ٹیکس نا دہندہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے نہیں دیکھے گئے ۔ چند سو کے نا دہندہ کے لئے کوئی خاص رعایت نہیں ۔
چند سال پہلے مال روڈ لاہور پر منہ زور ایم پی اے کی کار سے کالے شیشے اتارنے کی جرآت پرٹریفک افسر کی وردی بھی اتری اور جیل کی سلاخوں کے ہار بھی پہنے ۔
پنڈی کا عوامی سپوت کلاشنکوف لہرانے پر پانچ سال کی سزا پر اسلحہ رکھنے سے باز آیا ۔ اور اسلام آباد کے سپوت کو اسی جرم میں بھاری بوٹوں نے تھانے میں ہی مجسٹریٹ کے ہاتھوں رہائی کے پروانے کے ہار پہنائے ۔
جہاں وزیر اعلی خود تھانے جا کر ملزم چھڑا لائے ۔ وہاں قانون صرف ہاتھ ملتا ہی رہ جاتا ہے ۔
مگر افسوس صد افسوس قانون کے ایسے قتل عام پر نہ جلوس نکلا نہ احتجاجی جلسہ ہوا ۔ نہ ہی لانگ مارچ ہوا اور نہ ہی کسی تحریک کا آغاز ہوا ۔ میری نظر میں یہ سب یک نظر ہیں ۔ کیونکہ قانون کی بالادستی کی وجہ سے کبھی نہ کبھی وہ بھی اس کے شکنجے میں کسے جا سکتے ہیں ۔ کیونکہ دامن اتنا صاف شاید ہی کسی کا ہو کہ دوسروں کو دھبہ نظر نہ آئے ۔
قربانی کا بکرا صرف عوام ہی کیوں ۔ عوام کو شاید یہ ان کے عملوں کی سزا ہے جو وہ ہر بار انہی دولت مندوں اور با اختیار لوگوں کو منتخب کرتے ہیں ۔ جن کا سسٹم بھی تابع ہے ۔
عام آدمی تو گھر میں چوری کی رپورٹ درج کروانے کے لئے علاقے کی بااثر شخصیت کی سر پرستی کا محتاج ہے ۔
کیونکہ پہلا شک گھر کے بھیدی پر جاتا ہے ۔

محمودالحق

Thursday, May 26, 2011

معمار قوم

0 comments
آج کل ایسا ویسا لکھنے کا رواج عام ہے تو سوچا کہ ایک کالم کاغذ کی کشتی بنا کر بارش کے بہتے پانی میں بہا دوں ۔ ارادہ پکا تھا کہ خود فریبی میں مبتلا قوم عمار کو ضرور ایک معمار کی ضرورت پیش آ سکتی ہے تو اپنی خدمات پیش کر کے دیکھوں کیا نتیجہ نکلتا ہے ۔ امتحانات کے نتائج توتینتیس اور پچاس کے درمیان ہی رہے ۔ اگر معماری کا کنٹریکٹ ہاتھ لگ جائے تو چھیاسٹھ تک گنتی پہنچ سکتی ہے ۔ پھر چاہے قانون بدل دوں یا آئین ۔ پوچھے گا کون ۔
معمارقوم بیمار ہوا تو بنیاد پر ہی کام رک گیا ۔ اس کے بعد ایک کے بعد ایک نیا خودساختہ معمار بنیاد میں ڈالے گئے مضبوط کنکریٹ کو بھول بھلیاں سمجھنے کا شکار رہا ۔ باورچی خانہ کی جگہ باتھ روم تو ڈرائینگ روم کی جگہ کچن بناتا چلا گیا ۔ نیا نئے سرے سے معمار کے آئیڈیا کو جانچتا یہ کہہ کر یہ نقشہ اصل معمار کی بنیاد سے میل نہیں رکھتا ۔ پھر سے بنیاد تک بلڈنگ ڈھا دیتا ۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ
مسجد ڈھا دے مندر ڈھادے
ڈھیندا جو کجھ ڈھا دے
اک بندے دا دِل ناں ڈھاویں
رب!دلاں اندر رھیندا
اور یہ سب انہوں نے خوف خدا سے کیا کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اٹھانے گرانے سے رب کی ناراضگی کا انہیں اندیشہ نہیں ۔ دلوں میں اس کی یاد خوشبو کی طرح بس چکی ہے ۔ ایک ہلکا سا ترانہ بجانے اور جھنڈا لہرانے سے وہ مہک اُٹھے گا ۔ زنجیر سے باندھے مست ہاتھی کے جوش سے بڑھ کر جوشیلا پن نعروں کی گونج میں مترنم ہو گا ۔
عمارت کا کیا ہے ۔معماری کا ایک شاہکار ہی تو ہے ۔ بنیاد تو پھر بھی رہ جائے گی ہڑپہ اور مونجو ڈھارو کی طرح جہاں صرف عمارتیں ملیا میٹ ہو چکی ہیں ۔ تاریخ بنیاد سےخود پتہ چلا لے گی کیا کہاں تھا ۔ جب عمارت کا وجود ہی تاریخ کے لئے ضروری نہیں تو پھر اسے مضبوط کرنے کے لئے خون جگر دینے کی ضرورت آج کے معمار نہیں سمجھتے ۔
جیسے خون وہ مچھروں کو دیتے ہیں ۔ بات کاٹنے کی کرتے ہیں ۔ یہی حال معماروں کا ہے لوٹتے مال ہیں الزام ان پر کال کے ہیں ۔
فرق صرف اتنا ہے مچھروں میں ڈینگی وائرس پھیلانے والا کوئی کوئی ہے ۔ معماروں کے ہاتھ سے بچتا کوئی کوئی ہے ۔ جو بچ جائے وہ ڈریکولا نہیں بنتا دوسری طرف معماروں کے کاٹے خود خون چوسنے کی بیماری کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ مریض اپنے اپنے مسیحا ء کی لمبی عمر کی دعا سے دم بھرتے ہیں ۔ جب کہ دوسروں کی تعریف سے سانس ان کے رکتے ہیں ۔
اگر سب ہی خون چوسنے والے بن جائیں تو خون دینے والے کہاں سے لائے جائیں گے ۔ شائد اسی لئے خاندانی منصوبہ بندی پر عملداری سے روکا جاتا رہا ۔ کیونکہ جمہوریت میں انسان تولے نہیں گنے جاتے ہیں ۔ گنتی میں بھاری ہلکے سب چل جائیں گے ۔ حالات تولنے کے ہوئے تو راشن کے بٹوارے کا خطرہ ہے ۔ ایک غلطی کا خمیازہ 71 میں بٹوارہ کی صورت میں بھگت چکے ہیں ۔ اب پھر راشن کی تقسیم کا رولا پڑ چکا ہے ۔ پانی راشن نہ سہی اجناس راشن کا سبب تو ہے ۔ زمین کے مقدر میں اس کا جزب ہونا نہ لکھا ہو ۔ سمندر میں غرق ہونے سے جو پھر بادل بن اُٹھ جائے تو ہونٹوں پہ مسکراہٹ کیوں نہ چپک جائے ۔اگر نہ برسے تو یہ کہنا کہاں جائز قرار پائے گا کہ
میرے گھر کے بادل گرج کر گزر گئے
تیرے گھر کے بادل برس کر بکھر گئے
میری شاخِ شجر کے پتے اتر گئے
تیرے پھول بھی کھل کر نکھر گئے

شکوے تو معماروں سے ہیں ۔ نہ گل سے نہ گلزاروں سے ۔

محمودالحق

Sunday, May 15, 2011

اختلاف رائے اور ہمارے رویے

0 comments
اسلام ایک ضابطہ حیات ہے جو تا قیامت ہماری رہنمائی کی سند رکھتا ہے ۔ جس پر کوئی اختلاف نہیں ہے ۔ اختلاف تو بعد میں حالات و واقعات میں تبدیلی کے عمل سے پیدا ہونے والی صورتحال سے ہم آہنگی اختیار کرنے کی وجہ سے ہے۔ہمارے حالات بدل گئے ۔ غلامی کے دور گزر گئے ۔ غلام ہندوستان میں بھی یہی اختلاف رائے کبھی مسلکی تو کبھی نظریاتی انداز میں بھرپور نظر آتا ہے کہ کون کون پاکستان کے قیام کے حق میں نہیں تھے ۔ ایک نامور کانگرسی مسلما ن ابوالکلام آزاد بھی تو ایک آزاد اسلامی ملک کی مخالفت میں ہمیشہ کمر بستہ رہے ۔دوسری طرف ایک جدید تعلیم سے آراستہ محمد علی جناح نے بغیر کسی مالی فائدہ کے حصول کےاپنی بہن کے ساتھ ساری زندگی اس ملک کی ایک اقلیت کے حقوق کی حفاظت میں صرف کر دی ۔ جب انہیں قائد اعظم کے خطاب سے بھی نوازا گیا ۔ تو کافر اعظم کہنے والے فتوی دینے میں اپنا حق محفوظ رکھتے تھے ۔ علامہ اقبال کے اشعار ڈاکٹر اسرار احمد سے لیکر ڈاکٹر طاہرالقادری تک قران کی تفسیر بیان کرتے ہوئے سمجھانے کے لئے آسانی پیدا کرنے کے لئے بیان کرتے رہے ہیں ۔ شکوہ لکھنے پر ان پر بھی فتوی لگے تھے ۔اور جواب شکوہ لکھنے پر جوش صاحب کا یہ کہنا تھا کہ وہ اپنے مقام سے گر گئے ۔
جو بات قرآن و سنت سے مطابقت نہ رکھتی ہو پر اختلاف کی بجائے جو قرآن و سنت کے منافی ہو اس پر اختلاف تو ایک طرف اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکنا چاہئے ۔
ایوب خان نے اسلام میں طے شدہ عائلی قوانین ہی تبدیل کر دیے ۔ چند سال پہلے پینتیس چالیس سال پرانے یہ ایوب دور کے عائلی قوانین شریعت کورٹ نے منسوخ کر دئے ۔ ماسوائے ایک کے " اگر بیٹا باپ سے پہلے وفات پا جائے تو اس کی اولاد اپنے دادا کی وفات کے بعد جائداد میں وراثت کی حقدار ہو گی "۔کیونکہ وہ حالات کی وجہ سے ایسے اقدام کا متقاضی تھا ۔ حالانکہ دین اسلام میں پوتا دادا کی وراثت کا حق نہیں رکھتا اور واضح ہے۔
اس کے علاوہ بے شمار معاشرتی رسمیں ایسی ہیں جن کا دین اسلام سے دور دور کا بھی واسطہ نہیں ۔ ان پر کوئی قدغن نہیں ۔ بسنت تو ہندوانہ تہوار ہے مگرکراچی سے لیکر پشاور تک گلی محلوں میں انڈین فلمیں اورگانے جائز ہیں ۔ گھر گھر کیبل نیٹ ورک ہر انڈین چینل دو سو روپوں میں دستیاب ہے ۔ دوسروں کے گھروں میں پتھر پھنکنے سے پہلے خود کے گھر کا تو جائزہ لینا ہو گا ۔ ہم کس پتھر کے گھر میں رہتے ہیں ۔
اختلاف رائے رکھنا کوئی بری بات نہیں ۔ مگر بحث برائے بحث اور تنقید برائے تنقید کے لئے میں نہ مانوں کی رٹ کم از کم میرے نزدیک تو کوئی صحت مند دلیل نہیں ہے ۔
ہر شخص کا اپنا نقطہ نظر ہے ۔ جو وہ اپنی پسند سے اختیار کرتا ہے ۔کتنے لوگ ہیں جو ہر دو موقف کو جاننے کے بعد کسی نتیجہ پہنچے ۔ ہمارے ہاں سیاست اور کاروبار کی طرح دینی افہام زیادہ تر موروثی ہوتا ہے ۔ بریلویوں کے گھر بریلوی سپوت اور دیوبندیوں کے گھر دیوبندی سپوت ہی پیدا ہوتے ہیں ۔ جیسے بنگالیوں کے گھر بنگالی پیدا ہوئے تھے ۔ اب پنجابیوں کے گھر پنجابی اور پٹھانوں کے گھر پٹھان ۔ اردو سپیکنگ بھی اس میں شامل ہیں ۔
دعوی تو سبھی یہی کرتے ہیں کہ ہم بگاڑ ٹھیک کر کے سدھار رہے ہیں ۔ معاشرہ اختلاف اور تنقید سے نہیں اخلاق و اخلاص اور برداشت سے تبدیلی کے عمل سے گزرتا ہے ۔ جو آج کل کہیں بھی دیکھنے کو نہیں ملتی ۔ تحسین و پزیرائی جب تک ملتی رہے تو واہ واہ اگر کبھی غلطی سے آئینہ دکھا دیں تو تو کون ۔ جیسے جنہیں بیوی ناپسند ہو تو اس کا بنایا ذائقہ دار کھانا بھی شدید نا پسند ہوتا ہے ۔
سب سے آسان کام تنقید ہی ہے ۔ جس کے لئے نہ تو تعلیم کی ضرورت ہے نہ شعور کی اور عقل تو سرے سے چاہئے ہی نہیں ۔ تنقید کو صرف تنقید ہی کہنا شائد صحیح نہ ہو ۔ کیونکہ یہ بھی دو طرح کے رحجانات رکھتی ہے یعنی مثبت اور منفی ۔ مثبت تنقید کسی میں پائی جانے والی خامی کو دور کرنے کی نیت سے بھی کی جا سکتی ہے ۔ اور اپنے نظریہ کی سچائی کے لئے بھی ۔ مگر اگر تنقید نظریات یا موقف کی ترجمانی کی بجائے ذات کی خامیوں پر آگ برسائے تو نقصان خود کا ہوتا ہے ۔ کیونکہ وہ برداشت کی سرحد پار کروا دیتی ہے ۔ اور عدم برداشت کا مادہ بہنے سے انسان اپنے قد سے بہت چھوٹا ہو جاتا ہے ۔ کئی ضرب المثل ہمیں یاد رہتی ہیں ۔ بڑی ہستیوں کےاقوال سنہری حروف میں لکھتے ہیں ۔ لیکن جب انہیں استعمال کرنے کا وقت خود پہ آتا ہے تو کئی توجیحات نکال لی جاتی ہیں ۔ ہم کبھی غور ہی نہیں کرتے ہم زندہ کیسے رہتے ہیں ۔ ہماری عقل یا ہمارا شعور جنہیں معتبر بنا لیتا ہے ۔ وہ انا اور تکبر بن جاتے ہیں ۔ انہیں پارسائی کے اس مقام تک پہنچا دیتے ہیں ۔ کہ ان پر انگلی اٹھانا معیوب ہی نہیں گناہ کے تصور میں ڈھال دیا جاتا ہے ۔
ایک مثال سے کچھ کہنا چاہوں گا ۔ کائنات کی ہر شے میں ہمارے سمجھنے کے لئے پیغام ضرور ہے ۔ہزاروں لاکھوں شہد کی مکھیاں ایک ایک ملکہ کی زیر کمان پھول پھول سے رس لے کر چھتہ کو بھگوتی رہتی ہیں ۔ ہر موسم میں کھلنے والے پھولوں کی تاثیر بھی شہد میں اتر آتی ہے ۔ جو انسانی صحت کے لئے نہایت کارآمد اور صحت بخش ہے ۔ ہر چھتہ کی ملکہ الگ ضرور ہے مگر کام ایک ہی ہے ۔ پھولوں کی عرق ریزی سے شہد بنانا ۔ وہ قانون قدرت پر عمل پیرا تھیں ۔ ہم نے مصنوعی انداز میں شہد کے حصول کو ممکن بنایا ۔ مکھیاں پال کر شکر کے شیرے سےشہد کا حصول ممکن کر دکھایا ۔ نہ تو مکھیوں کی فطرت بدلی اور نہ ہی کام ۔ مگر انجام ضرور بدل گیا ۔ چاروں موسموں کے پھولوں کے اثرات سے لبریز صحت بخش شہد کی بجائے کماد سے شکر ، شکر سے شہد تک کا مرحلہ ایسے ہی طے ہوا جیسے کماد سے فیکٹری میں چینی تیار کی جاتی ہے ۔ دیکھنے میں تو وہ شہد ہی ہو گا مگر چکھنے میں چینی جیسی مٹھاس ہی رکھتا ہے ۔ مگر اثر شہد جیسا نہیں !!!!!!!!

تحریر : محمودالحق

اختلاف رائے اور ہمارے رویے

0 comments
اسلام ایک ضابطہ حیات ہے جو تا قیامت ہماری رہنمائی کی سند رکھتا ہے ۔ جس پر کوئی اختلاف نہیں ہے ۔ اختلاف تو بعد میں حالات و واقعات میں تبدیلی کے عمل سے پیدا ہونے والی صورتحال سے ہم آہنگی اختیار کرنے کی وجہ سے ہے۔ہمارے حالات بدل گئے ۔ غلامی کے دور گزر گئے ۔ غلام ہندوستان میں بھی یہی اختلاف رائے کبھی مسلکی تو کبھی نظریاتی انداز میں بھرپور نظر آتا ہے کہ کون کون پاکستان کے قیام کے حق میں نہیں تھے ۔ ایک نامور کانگرسی مسلما ن ابوالکلام آزاد بھی تو ایک آزاد اسلامی ملک کی مخالفت میں ہمیشہ کمر بستہ رہے ۔دوسری طرف ایک جدید تعلیم سے آراستہ محمد علی جناح نے بغیر کسی مالی فائدہ کے حصول کےاپنی بہن کے ساتھ ساری زندگی اس ملک کی ایک اقلیت کے حقوق کی حفاظت میں صرف کر دی ۔ جب انہیں قائد اعظم کے خطاب سے بھی نوازا گیا ۔ تو کافر اعظم کہنے والے فتوی دینے میں اپنا حق محفوظ رکھتے تھے ۔ علامہ اقبال کے اشعار ڈاکٹر اسرار احمد سے لیکر ڈاکٹر طاہرالقادری تک قران کی تفسیر بیان کرتے ہوئے سمجھانے کے لئے آسانی پیدا کرنے کے لئے بیان کرتے رہے ہیں ۔ شکوہ لکھنے پر ان پر بھی فتوی لگے تھے ۔اور جواب شکوہ لکھنے پر جوش صاحب کا یہ کہنا تھا کہ وہ اپنے مقام سے گر گئے ۔
جو بات قرآن و سنت سے مطابقت نہ رکھتی ہو پر اختلاف کی بجائے جو قرآن و سنت کے منافی ہو اس پر اختلاف تو ایک طرف اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکنا چاہئے ۔
ایوب خان نے اسلام میں طے شدہ عائلی قوانین ہی تبدیل کر دیے ۔ چند سال پہلے پینتیس چالیس سال پرانے یہ ایوب دور کے عائلی قوانین شریعت کورٹ نے منسوخ کر دئے ۔ ماسوائے ایک کے " اگر بیٹا باپ سے پہلے وفات پا جائے تو اس کی اولاد اپنے دادا کی وفات کے بعد جائداد میں وراثت کی حقدار ہو گی "۔کیونکہ وہ حالات کی وجہ سے ایسے اقدام کا متقاضی تھا ۔ حالانکہ دین اسلام میں پوتا دادا کی وراثت کا حق نہیں رکھتا اور واضح ہے۔
اس کے علاوہ بے شمار معاشرتی رسمیں ایسی ہیں جن کا دین اسلام سے دور دور کا بھی واسطہ نہیں ۔ ان پر کوئی قدغن نہیں ۔ بسنت تو ہندوانہ تہوار ہے مگرکراچی سے لیکر پشاور تک گلی محلوں میں انڈین فلمیں اورگانے جائز ہیں ۔ گھر گھر کیبل نیٹ ورک ہر انڈین چینل دو سو روپوں میں دستیاب ہے ۔ دوسروں کے گھروں میں پتھر پھنکنے سے پہلے خود کے گھر کا تو جائزہ لینا ہو گا ۔ ہم کس پتھر کے گھر میں رہتے ہیں ۔
اختلاف رائے رکھنا کوئی بری بات نہیں ۔ مگر بحث برائے بحث اور تنقید برائے تنقید کے لئے میں نہ مانوں کی رٹ کم از کم میرے نزدیک تو کوئی صحت مند دلیل نہیں ہے ۔
ہر شخص کا اپنا نقطہ نظر ہے ۔ جو وہ اپنی پسند سے اختیار کرتا ہے ۔کتنے لوگ ہیں جو ہر دو موقف کو جاننے کے بعد کسی نتیجہ پہنچے ۔ ہمارے ہاں سیاست اور کاروبار کی طرح دینی افہام زیادہ تر موروثی ہوتا ہے ۔ بریلویوں کے گھر بریلوی سپوت اور دیوبندیوں کے گھر دیوبندی سپوت ہی پیدا ہوتے ہیں ۔ جیسے بنگالیوں کے گھر بنگالی پیدا ہوئے تھے ۔ اب پنجابیوں کے گھر پنجابی اور پٹھانوں کے گھر پٹھان ۔ اردو سپیکنگ بھی اس میں شامل ہیں ۔
دعوی تو سبھی یہی کرتے ہیں کہ ہم بگاڑ ٹھیک کر کے سدھار رہے ہیں ۔ معاشرہ اختلاف اور تنقید سے نہیں اخلاق و اخلاص اور برداشت سے تبدیلی کے عمل سے گزرتا ہے ۔ جو آج کل کہیں بھی دیکھنے کو نہیں ملتی ۔ تحسین و پزیرائی جب تک ملتی رہے تو واہ واہ اگر کبھی غلطی سے آئینہ دکھا دیں تو تو کون ۔ جیسے جنہیں بیوی ناپسند ہو تو اس کا بنایا ذائقہ دار کھانا بھی شدید نا پسند ہوتا ہے ۔
سب سے آسان کام تنقید ہی ہے ۔ جس کے لئے نہ تو تعلیم کی ضرورت ہے نہ شعور کی اور عقل تو سرے سے چاہئے ہی نہیں ۔ تنقید کو صرف تنقید ہی کہنا شائد صحیح نہ ہو ۔ کیونکہ یہ بھی دو طرح کے رحجانات رکھتی ہے یعنی مثبت اور منفی ۔ مثبت تنقید کسی میں پائی جانے والی خامی کو دور کرنے کی نیت سے بھی کی جا سکتی ہے ۔ اور اپنے نظریہ کی سچائی کے لئے بھی ۔ مگر اگر تنقید نظریات یا موقف کی ترجمانی کی بجائے ذات کی خامیوں پر آگ برسائے تو نقصان خود کا ہوتا ہے ۔ کیونکہ وہ برداشت کی سرحد پار کروا دیتی ہے ۔ اور عدم برداشت کا مادہ بہنے سے انسان اپنے قد سے بہت چھوٹا ہو جاتا ہے ۔ کئی ضرب المثل ہمیں یاد رہتی ہیں ۔ بڑی ہستیوں کےاقوال سنہری حروف میں لکھتے ہیں ۔ لیکن جب انہیں استعمال کرنے کا وقت خود پہ آتا ہے تو کئی توجیحات نکال لی جاتی ہیں ۔ ہم کبھی غور ہی نہیں کرتے ہم زندہ کیسے رہتے ہیں ۔ ہماری عقل یا ہمارا شعور جنہیں معتبر بنا لیتا ہے ۔ وہ انا اور تکبر بن جاتے ہیں ۔ انہیں پارسائی کے اس مقام تک پہنچا دیتے ہیں ۔ کہ ان پر انگلی اٹھانا معیوب ہی نہیں گناہ کے تصور میں ڈھال دیا جاتا ہے ۔
ایک مثال سے کچھ کہنا چاہوں گا ۔ کائنات کی ہر شے میں ہمارے سمجھنے کے لئے پیغام ضرور ہے ۔ہزاروں لاکھوں شہد کی مکھیاں ایک ایک ملکہ کی زیر کمان پھول پھول سے رس لے کر چھتہ کو بھگوتی رہتی ہیں ۔ ہر موسم میں کھلنے والے پھولوں کی تاثیر بھی شہد میں اتر آتی ہے ۔ جو انسانی صحت کے لئے نہایت کارآمد اور صحت بخش ہے ۔ ہر چھتہ کی ملکہ الگ ضرور ہے مگر کام ایک ہی ہے ۔ پھولوں کی عرق ریزی سے شہد بنانا ۔ وہ قانون قدرت پر عمل پیرا تھیں ۔ ہم نے مصنوعی انداز میں شہد کے حصول کو ممکن بنایا ۔ مکھیاں پال کر شکر کے شیرے سےشہد کا حصول ممکن کر دکھایا ۔ نہ تو مکھیوں کی فطرت بدلی اور نہ ہی کام ۔ مگر انجام ضرور بدل گیا ۔ چاروں موسموں کے پھولوں کے اثرات سے لبریز صحت بخش شہد کی بجائے کماد سے شکر ، شکر سے شہد تک کا مرحلہ ایسے ہی طے ہوا جیسے کماد سے فیکٹری میں چینی تیار کی جاتی ہے ۔ دیکھنے میں تو وہ شہد ہی ہو گا مگر چکھنے میں چینی جیسی مٹھاس ہی رکھتا ہے ۔ مگر اثر شہد جیسا نہیں !!!!!!!!

تحریر : محمودالحق

Saturday, March 26, 2011

پروانے شمع سے جلتے ہیں

2 comments
تحریر ! محمودالحق
میری تحاریر پر بعض اوقات یہ اعتراض سامنے آتاہے کہ مشکل مفہوم کے ساتھ پیچیدہ طرز تحریر اختیار کرتا ہوں ۔ جسے پڑھنے پر بعض اوقات ایسے جوابات سے بھی نوازا جاتا ہے " پیچ در پیچ اتنی پیچیدہ تحریر واللہ بندہ سمجھنے کے چکر میں پیچاں پیچ ہوجائے " ۔ اگراس کے ساتھ نصیحت بھی ہو تو مشورہ مفت دل بے رحم سے کم نہیں ہوتا ۔ اسی لئے اپنی تمام مصروفیات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک بار پھر لکھنے پر کمر بستہ ہوں ۔ اب اگر شکوہ نہ جائے تو ہمیں ضرور توبہ کرنی چاہئے قاری کو پڑھنے سے اور مجھے ایسی سوچ رکھنے پر ۔
کیونکہ میرے سیاسی عزائم نہ ہونے کے برابر ہیں ۔ نا عاقبت اندیشی سیاست میں کسی کام کی نہیں ۔ سیاستدان ہمارے کسی کام کے نہیں ۔ اب اگر ذوالفقار علی بھٹو بحیثیت سیاستدان یا وزیراعظم مجھے پسند ہے تو اس کی خاص وجہ یہ کہ زندگی میں ایک بار بغیر امتحان دئیے ساتویں سےآٹھویں جماعت میں پہنچ گئے تھے ۔کیونکہ نو ستارے مل کر الیکشن میں اپنے انتخابی نشان ہل جو کہ کسان کی محنت اور قوت کی غمازی ہے کے بل پر بھی ملک میں جمہوریت کی کھڑی فصل کو نہ بچا سکے ۔ اور بھٹو اپنی جان کو ۔
حکمرانی جیل کی سلاخوں کے پیچھے چلی گئی اور اپوزیشن نئی حکومت کے پیچھے کے دروازے پر ۔ دونوں کو آخر کیا ملا ۔ ایک کو موت تو دوسری اپنی موت آپ مر گئی ۔ کیونکہ وہ آج بھی صرف ایک اپوزیشن کا ہی کردار نبھانے میں ماہر سمجھی جاتی ہے ۔جسے عوامی اعتبار حاصل کبھی نہیں ہوا ۔ لیکن امید بھی ختم نہیں ہوئی ۔علامہ اقبال کے اس شعر پر ابھی تک کامل یقین رکھتے ہیں کہ زرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی ۔
مٹی زرخیز ہو بھی تو کیا ۔ہل چلانے والے ہی انجان اور نا تجربہ کار ہوں ۔ بنا محنت کے ہی فصل کاٹنے کے لئے بیتابی مہماناں کو جاناں تصور بنا کر رکھتے ہوں تو ایک کیا صدیاں تو تین بھی نا کافی ہوں گی ۔ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں ہو ۔ تو پھر ہاتھی میرا ساتھی نہیں ہوتا ۔
ان میں سے ہی بعض تو ایسے قد کاٹھ رکھنے والے قائد تھے ۔ کہ دل جلے پھبتی کستے کہ پوری پارٹی ایک ہی تانگہ پر پوری بیٹھ سکتی ہے ۔ اب بھلا تانگہ پر بیٹھ کر ایوان تجارت تک جانے کا راستہ نہیں رہا تو ایوان صدارت تک تو کجا مشکل ہی نہیں نا ممکن ہے ۔ اسلام آباد میں کئی بار اس راستے سے گزر کر قیاس کیا کہ کیسے یہاں تک پہنچنا آسان ہو سکتا ہے ۔ لیکن جہاں سے گزرنا میرا تھا وہاں سے تو روزانہ ہزاروں لوگوں کا گزرنا رہتا ہے ۔پھر ایک خیال دل میں آیا کہ جسے ہم اندر جانے کا راستہ سمجھتے ہیں دراصل وہ باہر آنے کا راستہ ہے ۔ اندر جانے کے لئے کسی دروازے کی نہیں ایک گہری سرنگ کی ضرورت ہوتی ہے ۔ نکلتی کہاں سے ہے کسی کو معلوم نہیں ۔ جاتی کہاں ہے سب ہی جانتے ہیں ۔
حیدرآباد میں کوئلہ کی کانوں میں جو سرنگیں مجھے دکھائی گئی تھیں ۔ وہ تو ایک ہی کنویں سے چاروں اطراف پھیل جاتی تھیں اور کوئلہ نکال نکال کر اس کنویں سے باہر لایا جاتا اور ضرورت مندوں تک پہنچا بھی دیا جاتا ۔ لیکن یہ فارمولہ ہر جگہ اپلائی نہیں ہوتا ۔ضرورت مند تو وہ بھی بہت تھے جن کے گھروں پر سویت یونین نے یلغار کی تھی ۔ اور وہ خیمہ بستیوں میں پناہ لئے بارڈر کے اس طرف خیموں میں کسمپرسی کی زندگی گزار رہے تھے ۔ اور ان کے لئے بھیجا گیا ہالینڈ کا اعلی گھی ان کے ہاتھوں سے صرف پانچ سو میل دور شہروں میں دوکانوں کے باہر ڈھیر کی صورت سستے داموں بیچنے کے لئے موجود تھا ۔ ایسا ولائتی گھی دیہات میں گھروں میں نکالے جانے والے دیسی گھی کو بھی پیچھے چھوڑ گیا ۔ کالج یونیورسٹیز میں مجاہد عام دیکھے جا سکتے تھے ۔ نوجوانوں میں کمانڈو جیکٹ کا شوق دیدنی تھا ۔ بعض نے تحقیق پر پتہ چلایا کہ لنڈے بازار سے دو سو پاکستانی روپے میں امریکن کمانڈو جیکٹ دستیاب ہے ۔ مقصد کتنا بھی عظیم کیوں نہ ہو جب نیت میں کھوٹ ہو وہ مراد بر نہیں آتی ۔
صرف جیکٹ یا یونیفارم پہن لینے سے ہر ڈیوٹی پوری نہیں ہوتی اور نہ کوئی ڈگری ہاتھ لگتی ہے ۔ یہ وہ زمانہ تھا جب نکاح کا کاغذ بیوی کے ساتھ رکھنا ضروری تھا ۔ ڈیوٹی ادا کرنے والے نانی تک یاد کروا دیتے تھے ۔ کیونکہ شوہر و بیوی کو اپنا نکاح سچ ثابت کرنے کے لئے الگ الگ عزیز رشتہ داروں کے نام بتانے پر جان چھوٹنے کا سرٹیفیکیٹ جاری ہوتا ۔
وقت ا ور حالات کبھی یکساں نہیں رہتے ۔ ترجیحات بدلتی رہتی ہیں ۔ منہ سونگھنے سے بھی کئی دفعات نافذالعمل ہوجاتی تھیں ۔بعد کا ایک وقت وہ بھی گزرا جب سونگھنا ایک اچھا فعل نہیں مانا جاتا تھا ۔ کیونکہ یہ آزادی حق کلام سے ہاتھ دھونے کے مترادف سمجھا جاتا تھا ۔ کیونکہ صرف بات کرنے سے ذہنی فتور کےپکڑے جانے کا اندیشہ تھا ۔
لیکن جن کے بات کہنے سے پوری قوم کی نمائندہ اسمبلی گھر وں کو روانہ ہو گئی ۔ انہیں صرف اتنی تنقید کا سامنا رہا کہ جو منہ سے بادام نہیں توڑ سکتے انہوں نے اسی منہ سے اسمبلی توڑ دی ۔ لیکن ذہنی فتور پکڑنے کا کسی کو خیال کبھی نہیں آیا ۔خیال تو ان سیاسی بازیگروں کو بھی نہیں آیا جب مینار پاکستان پر جلسہ غیر منتخب حکمرانوں کا ہو بسیں بھر بھر سرکاری ملازم لائیں جائیں ۔ اور جھنڈے اُٹھائے ان کے پارٹی ورکر اپنے اپنے قائدین کے وزیراعظم ہونے کا خود ہی ڈھنڈورا پیٹتے رہیں ۔ وہ یہ جانتے ہیں کہ جو پٹتے ہیں وہ قائدین کی صفوں میں شامل نہیں ہو سکتے ۔ کیونکہ قائد وہ ہوتا ہے جو پٹوا سکے نہ کہ خود پٹتا پھرے ۔ تاریخ شاہد ہے صرف ہماری کہ جن کے سر پھٹے وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے"روز ہوتا ہے ایک نیا تماشا میری نظروں کے سامنے " دیکھتے رہے ۔
مصر تیونس میں سر تو ضرور پھٹے جانیں بھی گنوائی گئیں مگر آنکھیں پوری کھل چکی ہیں ۔ اب لیبیا اور اس کے بعد شام میں پھٹی پھٹی آنکھوں سے حکمران "روز ہوتا ہے ایک نیا تماشا میری نظروں کے سامنے " دیکھ رہے ہیں ۔ امیدیں تو کچھ مہربانوں کو یہاں بھی ہیں ۔ عوام نے کئی بار نئی امید سے کبھی ایک کبھی دوسرے کو کندھوں پر بھٹا کر سر کا تاج بنایا ۔ مگر وہ تاج ور نہ بن سکے ۔ محتاج ہی رہے امداد کے ، سہارے کے ۔
جو حکمران خود محتاج ہوں ۔عوام سے ووٹوں کی بھیک مانگ کر ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف سے بھیک مانگنے کے اہل ہوئے ہوں ۔ ایسے اخلاقی طور پر مرے ہوئے دوبارہ مرنے کی اہلیت نہیں رکھتے ۔
جن کے پاس انقلاب کے ارادے ہیں ۔ ان کے پاس عوام نہیں ۔ جن کے پاس عوام ہیں انہیں سوچنے کی فرصت نہیں ۔سالہا سال وہ جلا وطنی کے دور میں تنہا سوچ سوچ کر اب کسی نئی سوچ کے متحمل نہیں ہو سکتے ۔
گھر کی مرغی دال برابر کی مثال تو سن رکھی ہے ۔ مگر ملک میں لیڈر بھی مرغ برابر ہی رہتا ہے ۔ جو وقت بے وقت ہڑتال ، ریلی کی بانگ دیتا رہتا ہے ۔
قوم کی ہمدردی کی عرق ریزی وہ کامیابی سے کرتے ہیں جو جلا وطن ہوں چاہے خود ساختہ ہی کیوں نہ ہوں ۔ اس بات پر یقین کرنے کے علاوہ کیا چارہ ہے ۔ اگر نہیں تو خود ہی دیکھ لیں تین بڑی حکمران پارٹیاں تینوں کے رہنما جلا وطن ہیں یا رہ چکے ہیں ۔
لیڈرجلا وطن ہوتے ہیں توحکمران بنتے ہیں ۔
عوام وطن کو جلا بخشتے ہیں ۔تو جلادوں کے ہاتھوں پٹتے ہیں ۔جیسے پروانے شمع سے جلتے ہیں ۔

Saturday, March 19, 2011

تیرا دل تو ہےصنم آشنا

3 comments
کافی دنوں کے بعد آج مزاج کچھ ہشاش بشاش ہے ۔ اب امید پیدا ہو ئی کہ عنقریب خوش باش بھی ہو گا ۔ پر باش تو روز ہی رہتا ہے ۔ا مارت کا ابھی دور شروع نہیں ہوا مگر بیماری ء امراء کا آغاز ہو چکا ہے ۔کیونکہ بہت سی ڈشیں مجھے پسند نہیں اور جو پسند ہیں وہ ڈاکٹر کو پسند نہیں ۔ بچی کھچی اب معدہ پسند نہیں کرتا ۔
ایک زمانہ تھا تندور سے روٹی منگواتے تو پانی بھری دال چنے منہ کا ذائقہ بدلنے کو منہ چڑانے کو آتی ۔ یہ اتنی خوشی بھرپور کھانا تناول فرمانے کی خوشی میں نہیں ہے ۔ بلکہ سکون جان سے آئی ہے ۔ خوش آمدی کلمات کہتے کہتے چہرے پر تو خوشی امڈ آتی ہے مگر دل کی ویرانی ہے کہ بڑھتی جا تی ہے ۔روکنا چاہتے ہیں مگر خود میں جھانکنے سے ایک آواز دستک پہ دستک دیتی ہے کہ
تیرا دل تو ہے صنم آشنا
صنم کا تصور اتنا بڑ اہے کہ بہت چھوٹا ہو جاتا ہوں ۔جو مجھ سے دور تھے میں آج ان کے قریب نہیں ۔
عجب کھیل ہے اس زندگی کے کھیل کا ۔کھیلتے ہیں اور کھلاڑی بھی نہیں ۔جہاں ہار جیت کا ٹاس ہے کھیل کے آغاز کا نہیں ۔بہت سی باتیں ایک ساتھ کرنے سے بوجھل نہ ہو جائیں ۔ جو کہنا چاہتا ہوں درحقیقت انہیں سمجھنا چاہتا ہوں ۔ کہ محبوب کے ہاتھ میں دل دیا تو عاشق کہلائے ۔ دل میں ہی محبوب بسائے تو دیوانہ کیوں کہلائے ۔
عجب زندگی کی رت ہے بے چین دن تو پرسکون رات ہے ۔ جاگنے میں اذیت تو سونے میں عافیت ہے ۔زخم بھی اپنے کانٹے بھی اپنے ۔مرہم بھی اپنا مسیحائی بھی اپنی ۔ غیر صرف وہ جو ہرجائی ہے ۔ کس توسط سے بلاؤں کہ آؤ تمہیں محبوب اپنے سے ملاؤں ۔ چاہت اس کی گمنام ہے ۔زندگی ہی جس کا انعام ہے ۔
ڈھونڈتا انہیں جو اپنی تلاش جستجو میں ۔
عشق کہنے کا ،محبت جوانی کی ، سوز نگر میں تصویر بشر کا حسن جمال ۔
خیال حسن کی پزیرائی ، دلکشی بھی اور رعنائی ، ڈھونڈنا اپنے لئے ،پانا تسکین وفا ، کھونا ملال و آہ ۔
وہ وقت بھی آئے گا جو یہ سمجھائے گا ۔ راستے خود سے ہیں جدا ۔ تلاش اختیار میں نہیں ۔اختیار کی تلاش ہے ۔
زندگی کو نہ یوں پڑھا ہوتا ۔ خواہشوں سے نہ جھگڑا ہوتا ۔آرزو میں لپٹا کفن لمس احساس میں نہ ڈوبا ہوتا ۔ تو ہزاروں خواہشوں پہ نہ اتنا دم نکلا ہوتا ۔

Saturday, March 12, 2011

کالج سے شادی کی " تیاری " تک

0 comments
آج پھر وہ آئینے میں اپنے آپ کو بار بار دیکھ کر خود پہ فریفتہ جا رہا تھا ۔ تو ماں جی کی بلند آواز میں دی جانے والی تنبیہ کہ آج بھی کالج دیر سے پہنچنے کا ارادہ ہے ۔ تو قربان واری جانے کا پروگرام ادھورا رہ گیا ۔ ایک ہاتھ میں کاپی اور ایک کاپی نما کتاب ، دوسرا ہاتھ جیب میں کچھ ٹٹول رہا تھا ۔ پھٹی جیب کا کیا بھروسہ ویگن کے کرایہ کی رقم ہی راہ چلتے کسی بے فکرے کو تھما دیں ۔ تھمانی تو رقم ہمارے ہاتھ ویگن والوں کو چاہئے کہ بکروں کی طرح ٹھونسا جاتا ہے مگر اُف تک نہیں کہتے ۔بس سٹاپ تک تمام دوست اکھٹے رہتے ۔ پھر بکرے الگ الگ بن کر کلاس روم تک پہنچتے ۔ اب تو ٹیچر بھی یہ کہنا چھوڑ گئے کہ کس سے لڑ جھگڑ کر آئے ہو ۔ کیونکہ آدھی قمیض کا پتلون سے باہر رہنا معمول کا پہناوہ بن چکا ہے۔ سلوٹیں تو اب ڈیزائن بن چکی ہیں ۔ کئی گارمنٹس کمپنیوں نے کپڑے ہی ایسے بنا دئے ہیں کہ سو کر ہاتھ منہ دھوئے بغیر بھی باہر جھانک لیں ۔ تو پوچھ لیا جاتا ہے کہ کہاں جانے کےپروگرام میں اتنی تیاری ہے ۔
اتنی تیاری صرف امتحانی ہال تک پہنچے میں کی جاتی ہے ۔ پرچہ ہمیں ہمارے حال تک پہنچاتا ہے ۔ پھر گھر میں سبھی پہلے دن کالج جانے کی تیاری میں کی جانے والی تیاری تک پہنچاتے ہیں ۔کہ اب دیکھ لو دیر تک آئینہ کے سامنے کھڑے ہو کر تیار ہونے کا نتیجہ ۔ نتیجہ والے دن لمبی قطار میں کھڑے خوشیوں کے قہقہوں میں دبی دبی گلے سے نکلتی آواز بیماری کی علامات کی تیاری میں ہوتی ہے ۔ کئی بار ایسی علامات ظاہر ہوئیں مگر بیماری بننے سے پہلے ہی رفو چکر ہو گئیں ۔ اب اگر ہاتھ میں لئے ڈگری کو انتہائی کم نمبروں سے رفو کیا ہو ۔ ملازمت کے لئے جگہ جگہ چکر لگانے سے آخر بھوک میں چکر آ جاتے ہیں ۔ تھک ہار کر گلی کی نکڑ پر شاہیں کا بسیرا رہتا ۔
گلیاں آنے جانے والوں کے لئے راستہ ہوتی ۔ مگر کچھ کے نزدیک وہ صرف چکر لگانے کے کام آتی ہیں ۔ کھلی کھڑکیوں سے کھلی ہوا کے آنے جانے میں کوئی رکاوٹ تو نہیں ۔ یہ دیکھنے بار بار ان گلیوں میں چکر لگاتے ہیں ۔ اپنے گھر میں والدین کھانس کھانس کر بے حال ہو جائیں ۔ حالات خراب ہیں کہ کر کھڑکیاں دروازے بند رکھوائے جاتے ہیں ۔ انہی حالات کی کارستانی کی وجہ سے اکثر کالجز کے باہر لڑکوں کا رش رہتا ہے ۔ اپنے کالج سے بھاگنے کو جی چاہتا اور دوسرے کالج میں جھانکنے کو ۔ آنکھیں عقاب کی طرح چوکس رہتی ۔ مست حال شکار پر جھپٹنے کے لئے ۔
نظر کی کمزوری کے شکار بزرگوں کو نیچی نظروں میں گزرتے نوجوان سعادت مندی کی معراج پر نظر آتے ۔ رضا مندی کے لئے سیل فون پرٹیکسٹ میسجنگ کے لئے نظروں کا نیچا رکھنا ضروری ہوتا ہے ۔ نظریں اُ ٹھا کر چلنا اب صرف محاورہ کی طرح رہ گیا ہے ۔ محاورہ اگر نہیں بھی ہو گا تو بن جائے گا ۔
سیل فون پر نظریں ایسی جمتی ہیں جیسی کسی زمانے میں پرس میں رکھی تصویر پر یار لوگوں کی رہتی تھیں ۔سیل فون میں خامیاں کئی مگر ویسے سہولت تو ہے ۔ کہاں ہو ؟ کیا کر رہےہو ؟ گھر سےنکلے کہ نہیں ؟ کب تک پہنچو گے ؟
شادی بیاہ میں تو اپنے گھر والے ڈھونڈے سے نہیں ملتے تھے ۔ عزیز رشتہ داروں سے پوچھتے کہ خالہ امی تو نہیں دیکھی آپ نے ۔ تتلی ! پری کو دیکھا کیا ۔باجی کو بتاؤ گڑیا کی مہندی لگانے والی آ چکی ہیں ۔ ابا کو ڈھونڈتے پھرتے دیگ پکانے والا سامان مانگ رہا ہے ۔
اب تو اور بھی سہولت ہے ۔گھر والے ڈھونڈنے نہیں پڑتے بلکہ شادی ہال پہنچ کر مہمان فون پر پوچھتے ہیں ۔ کہاں ہو تم دولہے میاں ۔
بیوٹی پارلر سے آدھے گھنٹے میں بس فارغ سمجھو ۔ابھی پہنچے کہ پہنچے چاہے آنے میں گھنٹہ لگے ۔
بھئی اگر تمہارے پہنچے میں دیر ہے تو انتظار کرنے والوں کو تو ایک ایک کھجور ہی تھما دو ۔لیکن رواج کے مطابق نکاح کے بعد ہی ٹوفیاں گولیاں میٹھی سونف اور پرانے خشک چھوہارے حلق سے نیچے اتار پاؤ گے ۔ کھانا کھلنے پر پہلے آئیے پہلے پائیے کا اصول کارفرما ہوتا ہے ۔ چمچ کانٹے سے لیس پلیٹ کھانے کی سستی میں سستانے کی قائل نہیں ہوتی اس لئے ایک بار ہی گولہ بارود" گول بارعب بوٹیوں " سے بھر لیا جائے تو اچھا ہے ۔
کسی نے گھر جہیز سے بھر لیا، جیب نوٹوں سے بھر لی ۔ گھر کے کام کاج میں ایک سپاہی اور بھرتی کر لی ۔
اور تجھے اعتراض صرف مہمانوں کی پلیٹ بھرنے پر واہ تیرے لکھنے پر قربان جائیں !!!!!
میرے لکھنے پر واہ واہ نہ بھی کریں تو کیا ۔ارادہ کر لیں کہ کالج کے لئے آئینہ کے سامنے تیار ہو کر نکلنےسے لے کر بیوٹی پارلر میں تیار ہونے تک کسی ایک اپنی قربانی پر خود ہی قربان ہو جائیں تو واہ واہ ہو جائے ۔

Saturday, March 5, 2011

بوڑھے کی لاٹھی - 4

5 comments
باپ بیٹے کی ایک سچی کہانی
باپ کے بڑھاپے کی جوان بیٹا جب لاٹھی بنا۔

آخری حصہ
نہ جانے اس قلب میں ایسی کیا خوبی ہے۔ کہ وہ کسی کا محتاج نہیں۔ اپنی ہی ریاست کا خود بادشاہ ہے۔ اسے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ دماغ کے خلئے کام کرتے ہیں یا نہیں۔ وہ اس کے حکم کا محتاج نہیں ہے۔صبح شام اپنی ایک ہی رفتار سے اپنے آقا روح کی موجودگی کا بگل بجاتا رہتا ہے۔ اسے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اس ہی کی طرح کے دوسروں کے سینوں میں بگل بجانے والے کس حال میں ہیں۔ اسے صرف اپنے حال ہی کا فکر ہے۔ جو دوسروں کے متعلق جاننے والا تھا ۔وہ خود اپنے آپ سے چھوٹ رہا تھا ۔کمانڈ اور اتھارٹی کا نرالا امتزاج ہے ۔ایک جسم تو دوسرا روح کی کمانڈ کرتا ہے ۔دونوں میں سے جس کی کمانڈ ختم ہو جائے۔ تو مکمل سکوت طاری ہو جاتا ۔لیکن یہاں ایک بات تو طے ہے۔قلب کو دماغ پر فوقیت ہے۔ کیونکہ اباجی کا ایک نظام تو بالکل مفلوج ہو چکا تھا ۔مگر قلب کی کمانڈ اور اتھارٹی مکمل موجود تھی ۔اگر قلب کا کنٹرول ختم ہو جائے تو دماغ اپنی کسی طاقت کے بل بوتے پر بھی نہیں بچ سکتا ۔
اسے اب اندازہ ہو چکا تھا کہ ذہن کے بل بوتے پر زندگی جینے والے دراصل کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ زندہ وہی رہتے ہیں جو اپنے قلب کی کمانڈ اور اتھارٹی کو سمجھ لیتے ہیں اوراب اس کے اندر یقین کامل پیدا ہو چکا تھا کہ یہ جسم و دماغ اسی مٹی سے جو بنے ہیں مٹی کی ہی ترغیب رکھتے ہیں ۔
قلب کی طاقت ہی دراصل روح کی طاقت ہے۔ جس کے سامنے دماغ اپنی پوری طاقت کے ساتھ بھی کمزور ہے ۔
اس لئے وہ اباجی کی بیماری کو دماغ سے نہیں قلب سے قبول کرچکا تھا اور اسی قوت کو بروئے کار لا کر اس منزل کا مسافر بننا چاہتا تھا ۔جہاں سفر کرنے والے بدنی مسافر ایک دو ہی پڑاؤ کے بعد لوٹ جاتے ہیں۔ اپنے ماں باپ کی بیماریوں سے اس کے علم میں صرف میڈیسن کے متعلق ہی اضافہ نہیں ہوا ۔بلکہ جسم اور روح کے باہمی تعلق کی گتھیاں بھی کافی سلجھنے لگیں۔ ہر بار وہ کیوں کے سوال پر اٹک جاتا۔ جب تک اسے وہ جواب ملتا ایک نیا کیوں، پھر اس کے سامنے آکر کھڑا ہو جاتا اور پھر کیوں کیوں کی تکرار نے اسے بہت سے سوالوں کے جوابات سے آگاہ کر دیا ۔جو شائد کتابوں سے حاصل کبھی بھی نہ ہو پاتے۔ اس کے ذہن میں یہ تاثر ابھر جاتا کہ کیسے ممکن ہے کہ اس مختصر زندگی میں قرآن پاک کو سمجھ کراللہ تعالی کو پڑھنے سے ہی پالیا جائے ۔کیونکہ خود اس کی اپنی جوانی کے ایام صرف اللہ تعالی کے ایک حکم پر مبنی آیات پر عمل کرنے سے ہی گزر گئی اور مکمل قرآن پاک سمجھنے اور عمل کرنے میں شائد اسے ایک ہزار برس سے بھی زیادہ کاعرصہ درکار ہو گا ۔لیکن پھر بھی وہ مطمعن نہیں تھا ۔تنہائی میں اباجی کے پاؤں پکڑتا اور معافی مانگتا ۔کہ جو کوتاہی اس سے رہ گئی ہو۔ وہ معاف ہو جائے کیونکہ اللہ تعالی نے جس طرح والدین کی خدمت کا حکم دیا ہے۔ شائد وہ اسے پورا نہیں کر پا رہا ہے۔
اپنے ارد گرد دیکھنے پر اس جیسی زندگی کا حامل کوئی بھی انسان نظر نہیں آ رہا تھا ۔بہکنے کے امکانات زیادہ تھے ۔یہی وجہ تھی کہ اس کی جوانی جدید دنیا سے الگ نہیں ہو پا رہی تھی۔ تین بیٹوں کا وہ باپ بن چکا تھا بڑا بیٹا اب سات برس کا ہو چکا تھا ۔اسے ایک بار ایسا کیلنڈر نظر آیا۔ جس پر سورۃ بنی اسرائیل کی وہی آیات تھیں جو والدین کی خدمت کے متعلق تھیں ۔اسے لا کر اس نے انہیں اباجی کے پلنگ کے اوپر لگا دیا ۔تاکہ وہ کہیں بہک نہ جائے۔ کیونکہ اب وہ اس بیماری کے متعلق جان چکا تھا ۔کہ شائد اسے ان حالات کا سامنا اگلے دس پندرہ سال تک بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ اور اللہ تعالی کی مدد کے بغیر یہ سب ناممکن تھا ۔
ابا جی جیسا انسان زندگی کی جنگ ایسے لڑے گا۔ کبھی اس نے سوچا نہ تھا ایک رخ ایسا بھی اس کے سامنے تھا۔ جو ابا جی کے بارے میں احترام کی ایسی بلند عمارت کھڑی کر گیا ۔کہ اسے سوچنے پر مجبور کر دیا جو لوگ زندگی میں نیکی کم کرتے ہیں۔ دنیا کی محبت میں مرتے ہیں۔ وہ شکوہ کیوں زیادہ کرتے ہیں ۔
ایک بار گھر کی بیل بجی تو ایک بوڑھا شخص پوچھنے لگا وکیل صاحب کا گھر یہی ہے۔
جی ہاں ! یہی ہے فرمائیے آنے والے سے اس نے پوچھا ۔
کیا وہ اب ہیں ؟
وہ چونک گیا کہ کیسا سوال ہے ! اس کے استفسار پر آنے والے نے کہا کہ میرا بیس سال پرانا کیس کی تاریخ نکلی ہے اور یہ میرے وکیل تھے اس وقت ان کی عمر ساٹھ سے اوپر تھی اس لئے مجھے خیال ہوا کہ شائد وہ اس دنیا میں نہ ہوں دیہاتی آدمی بہت سادہ ہوتے ہیں جو بات دل میں ہو کہہ دیتے ہیں۔ شائد اس لئے ہوتا ہے کہ وہ پڑھ لکھ کر زندہ رہنے کا مصنوعی ڈھنگ نہیں اپنا پاتے۔
آپ مجھے ایک دو روز دیں۔ آپ کی فائل ڈھونڈ دیتا ہوں ۔نیا وکیل کر لیں اور ان کے بارے صورتحال سے آگاہ کر دیا۔ اس نے ہمدردی اظہار کیا اور چلا گیا ۔
اس نے اباجی کی تمام پرانی فائلوں میں تلاش کاکام شروع کیا۔ تو فائل مل گئی۔ مگر اس کے ساتھ ہی اسے ایسے لیٹر ملے جو ایوب خاں کے مارشل لاء کے ابتدائی دور کے تھے ۔ عوامی لیگ پارٹی کے سربراہ کے دستخطوں سے جاری پارٹی کے لیٹر پیڈ پر بعض لوگوں کوپارٹی فنڈ سے رقم کے اجرا کا کہا گیا تھا ۔جو اس زمانے کے مطابق ایک بڑی رقم تھی۔
جوں جوں وہ ابا جی کے بارے میں سوچتا اس کے دل میں ان کے بارے میں عزت و احترام کا مجسمہ اور بڑا ہو جاتا ۔
اس کی نظروں کے سامنے وہ منظر گھوم جاتا ۔جس کا ذکر ماں جی اکثر کیا کرتی یہ وہی سال ہے ۔جس کے متعلق ماں جی کہتی کہ سیاست کی وجہ سے وکالت متاثر ہوئی تمھارے اباجی کے معاشی حالات بہت برے ہو گئے۔ گھر کا ایک حصہ کرایہ پر دیا گیا ۔تاکہ کچن چلایا جا سکے ۔مگر یہ پارٹی کے سربراہ کے دستخطوں سے جاری لیٹر کوئی اور کہانی بیان کر رہے تھے۔ کہ ایک ایسا انسان جو پارٹی کا فنانس سیکرٹری ہو سینکڑوں اور ہزاروں روپے اس کے دستخط سے جاری ہوتے ہوں اس کےگھر کا کچن چلانے کے لئے گھر کا ایک حصہ60 روپے ماہانہ کرایہ پر دیا گیا ہو۔ آج امانت میں خیانت نہ کرنے والے لوگ اب کیوں دکھائی نہیں دیتے۔ لوٹ مار، اقربا پروری، رشوت ،سفارش نے پورا معاشرہ ہی کھوکھلا کر کے رکھ دیا ہے۔ اور غلط کو غلط کہنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کیونکہ جب دنوں میں امیر ہونے والے معاشرے میں تقویت پاتے ہیں۔ تو پھر بھیڑیں ہی بھیڑیوں کا روپ دھار لیتی ہیں۔
اس کےابا جی نے کبھی بھی سفارش کی سیڑھی کا سہارا نہیں لیا ۔یہی وجہ تھی کہ بعض بیٹے باپ سے نالاں تھے کہ 1973 کے آئین کے تحت حلف اٹھانے والے صدر( جو ان کا بہت گہرا دوست تھا ۔سیاست کےابتدائی دور میں دونوں ایک ساتھ پارٹی میں تھے۔جب وہ ملک کا صدر بنا ۔اس کے ابا جی سیاست چھوڑ چکے تھے ۔مگر دوستی کا تعلق ابھی تک جاری تھا)سے کوئی ذاتی فائدہ نہ اٹھا سکے ۔ مگر انہوں نے مفاد پرستی کے لئے اصول کی زندگی قربان کرنے کا فیصلہ نہیں کیا ۔وہ ہمیشہ یہی سمجھاتے کہ لوگ ترقی کے لئے ہر حربہ استعمال کرتے ہیں ۔مگر عزت و احترام کھو دیتے ہیں۔ اپنے فائدے کے لئے کسی جائز کا حق مت غصب کرو۔
اپنی ساری زندگی کی کمائی سے صرف ایک پونجی بنائی ۹۹ سالہ لیز کا مکان !فیصلہ تو یہ کرنا ہے ۔کہ کیا وہ انسان ہونے کے ناطے اپنا حق ادا کرتا رہا ہے۔ اگر وہ سچ پہ تھا تو کیا اسے اپنی نیکیوں کا صلہ مل گیا۔ بڑھاپے میں ملی وہ اولاد ۔جس نے انہیں ہاتھوں پہ لیا ۔کیا وہ اس کی صاف ستھری زندگی گزارنے کا انعام تھا ۔
اس بیٹے میں باپ کی محبت بڑھ کر عشق بن چکی تھی۔ چھ سال تک وہ ایک ایسے باپ کے ساتھ رہا۔ جو صرف دیکھنے میں ہڈیوں کا ڈھانچہ اورگوشت پوست کا لوتھڑا تھا ۔جو صرف سانس لینے تک محدود تھی اور چند نوالے کھانے اور چند گھونٹ پانی کے لینے تک۔
اس کے ابا جی ۱۴ سال کی بیماری سے بھرپور زندگی بھی جی گئے اور آخر کار ۹۴ سال کی عمر میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے ۔ اور وہ بالوں میں مکمل پھیلی چمکتی سفیدی کے ساتھ چالیس سال کی حد عبور کر گیا ۔ اور تیرہ سالہ اس کا بڑا بیٹا پہلی بار اپنے سخت مزاج باپ کو ایک بچے کی طرح روتا دیکھ رہا تھا ۔
جس رات وہ ابا جی کو دفنا کر واپس آیا ۔اگلی صبح کئی سالوں کے بعد اجنبی تھی ۔آج سورج کے طلوع کا منظر وہ نہ دیکھ پایا ۔کیونکہ دیر تک وہ سویا رہا ۔اس کے ابا جی نے آخری سانس اس کے سامنے پورے کئے اور جب روح جسم کو چھوڑ کر گئی۔ تو جسم کسی بھی تکلیف کے اس احساس سے خالی تھا ۔کیونکہ جسم تو بہت پہلے مر چکا تھا ۔صرف روح کو اپنا کام کرنا تھا اور اتنی خاموشی سے جدا ہوئی جیسے ہوا کا ایک لطیف جھونکا آکر گزر جاتا ہے۔
وہ اپنے ابا جی کا اتنا عادی ہو چکا تھا ۔کہ جدائی سے آنسو بار بار آنکھوں سے ٹپک جاتے ۔
اس کےجیسے ہی ابا جی دنیا سے گزرے۔ چند روز میں غرض و مفاد کی ایک نئی دنیا جو اس سے پہلےغفلت فرائض میں آنکھیں موندھے سو رہی تھی۔ اب اس کے سامنے اپنے پر کھول کر کھڑی ہو گئی۔ اور اپنے مقابلے میں اڑان کی نوید سنائی۔ مگر وہ تو ایک ایسے پرندے کی زندگی گزارنے کا عادی تھا ۔جس کے پر کٹے ہوں۔ وہ انہیں اڑتا دیکھتا مگر خود پرواز کی خواہش نہیں رکھتا تھا ۔مگر اس نئے چیلنج نےاس کے آنسو خشک کر دئیے ۔اور وہ اپنے آپ کو یہ سوچ کر آمادہ کرنے لگا ۔کہ اسے دنیا کا یہ روپ بھی برداشت کرنا ہو گا ۔
ایک سوال ابھر کر اس کے سامنے آ گیا ۔کہ میں جو شروع کرنے اب جا رہا ہوں اگر زندگی یہ ہے۔ تو جو گزاری ہے وہ کیا تھی۔ ایک خیال کےآتے ہی وہ زیر لب مسکرایا !
ایک نئی ہمت کو اپنے اندر پا کروہ اٹھ کھڑا ہوا اور خود کلامی کے انداز میں بولا !
وہ تو ایک بوڑھے کی لاٹھی تھی ۔


تحریر ! محمودالحق

بوڑھے کی لاٹھی - 4

4 comments
باپ بیٹے کی ایک سچی کہانی
باپ کے بڑھاپے کی جوان بیٹا جب لاٹھی بنا۔

آخری حصہ
نہ جانے اس قلب میں ایسی کیا خوبی ہے۔ کہ وہ کسی کا محتاج نہیں۔ اپنی ہی ریاست کا خود بادشاہ ہے۔ اسے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ دماغ کے خلئے کام کرتے ہیں یا نہیں۔ وہ اس کے حکم کا محتاج نہیں ہے۔صبح شام اپنی ایک ہی رفتار سے اپنے آقا روح کی موجودگی کا بگل بجاتا رہتا ہے۔ اسے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اس ہی کی طرح کے دوسروں کے سینوں میں بگل بجانے والے کس حال میں ہیں۔ اسے صرف اپنے حال ہی کا فکر ہے۔ جو دوسروں کے متعلق جاننے والا تھا ۔وہ خود اپنے آپ سے چھوٹ رہا تھا ۔کمانڈ اور اتھارٹی کا نرالا امتزاج ہے ۔ایک جسم تو دوسرا روح کی کمانڈ کرتا ہے ۔دونوں میں سے جس کی کمانڈ ختم ہو جائے۔ تو مکمل سکوت طاری ہو جاتا ۔لیکن یہاں ایک بات تو طے ہے۔قلب کو دماغ پر فوقیت ہے۔ کیونکہ اباجی کا ایک نظام تو بالکل مفلوج ہو چکا تھا ۔مگر قلب کی کمانڈ اور اتھارٹی مکمل موجود تھی ۔اگر قلب کا کنٹرول ختم ہو جائے تو دماغ اپنی کسی طاقت کے بل بوتے پر بھی نہیں بچ سکتا ۔
اسے اب اندازہ ہو چکا تھا کہ ذہن کے بل بوتے پر زندگی جینے والے دراصل کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ زندہ وہی رہتے ہیں جو اپنے قلب کی کمانڈ اور اتھارٹی کو سمجھ لیتے ہیں اوراب اس کے اندر یقین کامل پیدا ہو چکا تھا کہ یہ جسم و دماغ اسی مٹی سے جو بنے ہیں مٹی کی ہی ترغیب رکھتے ہیں ۔
قلب کی طاقت ہی دراصل روح کی طاقت ہے۔ جس کے سامنے دماغ اپنی پوری طاقت کے ساتھ بھی کمزور ہے ۔
اس لئے وہ اباجی کی بیماری کو دماغ سے نہیں قلب سے قبول کرچکا تھا اور اسی قوت کو بروئے کار لا کر اس منزل کا مسافر بننا چاہتا تھا ۔جہاں سفر کرنے والے بدنی مسافر ایک دو ہی پڑاؤ کے بعد لوٹ جاتے ہیں۔ اپنے ماں باپ کی بیماریوں سے اس کے علم میں صرف میڈیسن کے متعلق ہی اضافہ نہیں ہوا ۔بلکہ جسم اور روح کے باہمی تعلق کی گتھیاں بھی کافی سلجھنے لگیں۔ ہر بار وہ کیوں کے سوال پر اٹک جاتا۔ جب تک اسے وہ جواب ملتا ایک نیا کیوں، پھر اس کے سامنے آکر کھڑا ہو جاتا اور پھر کیوں کیوں کی تکرار نے اسے بہت سے سوالوں کے جوابات سے آگاہ کر دیا ۔جو شائد کتابوں سے حاصل کبھی بھی نہ ہو پاتے۔ اس کے ذہن میں یہ تاثر ابھر جاتا کہ کیسے ممکن ہے کہ اس مختصر زندگی میں قرآن پاک کو سمجھ کراللہ تعالی کو پڑھنے سے ہی پالیا جائے ۔کیونکہ خود اس کی اپنی جوانی کے ایام صرف اللہ تعالی کے ایک حکم پر مبنی آیات پر عمل کرنے سے ہی گزر گئی اور مکمل قرآن پاک سمجھنے اور عمل کرنے میں شائد اسے ایک ہزار برس سے بھی زیادہ کاعرصہ درکار ہو گا ۔لیکن پھر بھی وہ مطمعن نہیں تھا ۔تنہائی میں اباجی کے پاؤں پکڑتا اور معافی مانگتا ۔کہ جو کوتاہی اس سے رہ گئی ہو۔ وہ معاف ہو جائے کیونکہ اللہ تعالی نے جس طرح والدین کی خدمت کا حکم دیا ہے۔ شائد وہ اسے پورا نہیں کر پا رہا ہے۔
اپنے ارد گرد دیکھنے پر اس جیسی زندگی کا حامل کوئی بھی انسان نظر نہیں آ رہا تھا ۔بہکنے کے امکانات زیادہ تھے ۔یہی وجہ تھی کہ اس کی جوانی جدید دنیا سے الگ نہیں ہو پا رہی تھی۔ تین بیٹوں کا وہ باپ بن چکا تھا بڑا بیٹا اب سات برس کا ہو چکا تھا ۔اسے ایک بار ایسا کیلنڈر نظر آیا۔ جس پر سورۃ بنی اسرائیل کی وہی آیات تھیں جو والدین کی خدمت کے متعلق تھیں ۔اسے لا کر اس نے انہیں اباجی کے پلنگ کے اوپر لگا دیا ۔تاکہ وہ کہیں بہک نہ جائے۔ کیونکہ اب وہ اس بیماری کے متعلق جان چکا تھا ۔کہ شائد اسے ان حالات کا سامنا اگلے دس پندرہ سال تک بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ اور اللہ تعالی کی مدد کے بغیر یہ سب ناممکن تھا ۔
ابا جی جیسا انسان زندگی کی جنگ ایسے لڑے گا۔ کبھی اس نے سوچا نہ تھا ایک رخ ایسا بھی اس کے سامنے تھا۔ جو ابا جی کے بارے میں احترام کی ایسی بلند عمارت کھڑی کر گیا ۔کہ اسے سوچنے پر مجبور کر دیا جو لوگ زندگی میں نیکی کم کرتے ہیں۔ دنیا کی محبت میں مرتے ہیں۔ وہ شکوہ کیوں زیادہ کرتے ہیں ۔
ایک بار گھر کی بیل بجی تو ایک بوڑھا شخص پوچھنے لگا وکیل صاحب کا گھر یہی ہے۔
جی ہاں ! یہی ہے فرمائیے آنے والے سے اس نے پوچھا ۔
کیا وہ اب ہیں ؟
وہ چونک گیا کہ کیسا سوال ہے ! اس کے استفسار پر آنے والے نے کہا کہ میرا بیس سال پرانا کیس کی تاریخ نکلی ہے اور یہ میرے وکیل تھے اس وقت ان کی عمر ساٹھ سے اوپر تھی اس لئے مجھے خیال ہوا کہ شائد وہ اس دنیا میں نہ ہوں دیہاتی آدمی بہت سادہ ہوتے ہیں جو بات دل میں ہو کہہ دیتے ہیں۔ شائد اس لئے ہوتا ہے کہ وہ پڑھ لکھ کر زندہ رہنے کا مصنوعی ڈھنگ نہیں اپنا پاتے۔
آپ مجھے ایک دو روز دیں۔ آپ کی فائل ڈھونڈ دیتا ہوں ۔نیا وکیل کر لیں اور ان کے بارے صورتحال سے آگاہ کر دیا۔ اس نے ہمدردی اظہار کیا اور چلا گیا ۔
اس نے اباجی کی تمام پرانی فائلوں میں تلاش کاکام شروع کیا۔ تو فائل مل گئی۔ مگر اس کے ساتھ ہی اسے ایسے لیٹر ملے جو ایوب خاں کے مارشل لاء کے ابتدائی دور کے تھے ۔ عوامی لیگ پارٹی کے سربراہ کے دستخطوں سے جاری پارٹی کے لیٹر پیڈ پر بعض لوگوں کوپارٹی فنڈ سے رقم کے اجرا کا کہا گیا تھا ۔جو اس زمانے کے مطابق ایک بڑی رقم تھی۔
جوں جوں وہ ابا جی کے بارے میں سوچتا اس کے دل میں ان کے بارے میں عزت و احترام کا مجسمہ اور بڑا ہو جاتا ۔
اس کی نظروں کے سامنے وہ منظر گھوم جاتا ۔جس کا ذکر ماں جی اکثر کیا کرتی یہ وہی سال ہے ۔جس کے متعلق ماں جی کہتی کہ سیاست کی وجہ سے وکالت متاثر ہوئی تمھارے اباجی کے معاشی حالات بہت برے ہو گئے۔ گھر کا ایک حصہ کرایہ پر دیا گیا ۔تاکہ کچن چلایا جا سکے ۔مگر یہ پارٹی کے سربراہ کے دستخطوں سے جاری لیٹر کوئی اور کہانی بیان کر رہے تھے۔ کہ ایک ایسا انسان جو پارٹی کا فنانس سیکرٹری ہو سینکڑوں اور ہزاروں روپے اس کے دستخط سے جاری ہوتے ہوں اس کےگھر کا کچن چلانے کے لئے گھر کا ایک حصہ60 روپے ماہانہ کرایہ پر دیا گیا ہو۔ آج امانت میں خیانت نہ کرنے والے لوگ اب کیوں دکھائی نہیں دیتے۔ لوٹ مار، اقربا پروری، رشوت ،سفارش نے پورا معاشرہ ہی کھوکھلا کر کے رکھ دیا ہے۔ اور غلط کو غلط کہنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کیونکہ جب دنوں میں امیر ہونے والے معاشرے میں تقویت پاتے ہیں۔ تو پھر بھیڑیں ہی بھیڑیوں کا روپ دھار لیتی ہیں۔
اس کےابا جی نے کبھی بھی سفارش کی سیڑھی کا سہارا نہیں لیا ۔یہی وجہ تھی کہ بعض بیٹے باپ سے نالاں تھے کہ 1973 کے آئین کے تحت حلف اٹھانے والے صدر( جو ان کا بہت گہرا دوست تھا ۔سیاست کےابتدائی دور میں دونوں ایک ساتھ پارٹی میں تھے۔جب وہ ملک کا صدر بنا ۔اس کے ابا جی سیاست چھوڑ چکے تھے ۔مگر دوستی کا تعلق ابھی تک جاری تھا)سے کوئی ذاتی فائدہ نہ اٹھا سکے ۔ مگر انہوں نے مفاد پرستی کے لئے اصول کی زندگی قربان کرنے کا فیصلہ نہیں کیا ۔وہ ہمیشہ یہی سمجھاتے کہ لوگ ترقی کے لئے ہر حربہ استعمال کرتے ہیں ۔مگر عزت و احترام کھو دیتے ہیں۔ اپنے فائدے کے لئے کسی جائز کا حق مت غصب کرو۔
اپنی ساری زندگی کی کمائی سے صرف ایک پونجی بنائی ۹۹ سالہ لیز کا مکان !فیصلہ تو یہ کرنا ہے ۔کہ کیا وہ انسان ہونے کے ناطے اپنا حق ادا کرتا رہا ہے۔ اگر وہ سچ پہ تھا تو کیا اسے اپنی نیکیوں کا صلہ مل گیا۔ بڑھاپے میں ملی وہ اولاد ۔جس نے انہیں ہاتھوں پہ لیا ۔کیا وہ اس کی صاف ستھری زندگی گزارنے کا انعام تھا ۔
اس بیٹے میں باپ کی محبت بڑھ کر عشق بن چکی تھی۔ چھ سال تک وہ ایک ایسے باپ کے ساتھ رہا۔ جو صرف دیکھنے میں ہڈیوں کا ڈھانچہ اورگوشت پوست کا لوتھڑا تھا ۔جو صرف سانس لینے تک محدود تھی اور چند نوالے کھانے اور چند گھونٹ پانی کے لینے تک۔
اس کے ابا جی ۱۴ سال کی بیماری سے بھرپور زندگی بھی جی گئے اور آخر کار ۹۴ سال کی عمر میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے ۔ اور وہ بالوں میں مکمل پھیلی چمکتی سفیدی کے ساتھ چالیس سال کی حد عبور کر گیا ۔ اور تیرہ سالہ اس کا بڑا بیٹا پہلی بار اپنے سخت مزاج باپ کو ایک بچے کی طرح روتا دیکھ رہا تھا ۔
جس رات وہ ابا جی کو دفنا کر واپس آیا ۔اگلی صبح کئی سالوں کے بعد اجنبی تھی ۔آج سورج کے طلوع کا منظر وہ نہ دیکھ پایا ۔کیونکہ دیر تک وہ سویا رہا ۔اس کے ابا جی نے آخری سانس اس کے سامنے پورے کئے اور جب روح جسم کو چھوڑ کر گئی۔ تو جسم کسی بھی تکلیف کے اس احساس سے خالی تھا ۔کیونکہ جسم تو بہت پہلے مر چکا تھا ۔صرف روح کو اپنا کام کرنا تھا اور اتنی خاموشی سے جدا ہوئی جیسے ہوا کا ایک لطیف جھونکا آکر گزر جاتا ہے۔
وہ اپنے ابا جی کا اتنا عادی ہو چکا تھا ۔کہ جدائی سے آنسو بار بار آنکھوں سے ٹپک جاتے ۔
اس کےجیسے ہی ابا جی دنیا سے گزرے۔ چند روز میں غرض و مفاد کی ایک نئی دنیا جو اس سے پہلےغفلت فرائض میں آنکھیں موندھے سو رہی تھی۔ اب اس کے سامنے اپنے پر کھول کر کھڑی ہو گئی۔ اور اپنے مقابلے میں اڑان کی نوید سنائی۔ مگر وہ تو ایک ایسے پرندے کی زندگی گزارنے کا عادی تھا ۔جس کے پر کٹے ہوں۔ وہ انہیں اڑتا دیکھتا مگر خود پرواز کی خواہش نہیں رکھتا تھا ۔مگر اس نئے چیلنج نےاس کے آنسو خشک کر دئیے ۔اور وہ اپنے آپ کو یہ سوچ کر آمادہ کرنے لگا ۔کہ اسے دنیا کا یہ روپ بھی برداشت کرنا ہو گا ۔
ایک سوال ابھر کر اس کے سامنے آ گیا ۔کہ میں جو شروع کرنے اب جا رہا ہوں اگر زندگی یہ ہے۔ تو جو گزاری ہے وہ کیا تھی۔ ایک خیال کےآتے ہی وہ زیر لب مسکرایا !
ایک نئی ہمت کو اپنے اندر پا کروہ اٹھ کھڑا ہوا اور خود کلامی کے انداز میں بولا !
وہ تو ایک بوڑھے کی لاٹھی تھی ۔


تحریر ! محمودالحق

بوڑھے کی لاٹھی - 3

0 comments
 باپ بیٹے کی ایک سچی کہانی
باپ کے بڑھاپے کی جوان بیٹا جب لاٹھی بنا۔

حصہ سوم
اس کی سوچ میں یہ تبدیلی ۱۷ سال کی عمر آئی جب جمعہ کی نماز میں اس نے یہ حدیث سنی۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ رَغِمَ أَنْفُ ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُ ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُ ‏"‏ ‏.‏ قِيلَ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ مَنْ أَدْرَكَ والديه عِنْدَ الْكِبَرِ أَحَدَهُمَا أَوْ كِلَيْهِمَا ثم لَمْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ ‏"‏ ‏.‏
( صحيح مسلم : 2551 ، البر و الصلة – الأدب المفرد : 646 )

ترجمہ:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا : اس کی ناک خاک آلود ہو ،پھر اس کی ناک خاک آلود ہو : آپ سے سوال کیا گیا یا رسول اللہﷺ وہ کون شخص ہے؟ آپﷺ نے فرمایا : جس نے بڑھاپے میں اپنے والدین کو پایا ، ان میں سے کسی ایک کو یا دونوں کو پا لیا پھر بھی "ان کے ساتھ حسن سلوک کر کے" جنت میں داخل نہیں ہوا۔
شائد اس حدیث کے الفاظ سے وہ اپنے آپ کو کبھی بھی الگ نہیں کرپایا ۔اسے یہی خوف رہا کہیں اس کا ناک خاک آلود نہ ہو جائے۔
قران پاک کے اندر سورۃ بنی اسرائیل میں ان آیات میں والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم جب اس نے پڑھا کہ
"اور تمھارے رب نے حکم فرمایا ہے کہ اس کےسوا کسی کو نہ پوجو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو اگر تیرے سامنے ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کوپہنچ جائیں تو ان سے ہوں نہ کہنا اور انہیں نہ جھڑکنااور ان سے تعظیم کی بات کہنااور ان کے لئے عاجزی کا بازو بچھا نرم دلی سے اور عرض کرکہ اے میرے رب تو ان دونوں پر رحم کرجیسا کہ ان دونوں نے مجھے چھٹپن میں پالا"
تو اب اس کے لئے اللہ تعالی کے حکم سے روگردانی کا سوال پیدا ہونے کا امکان نہیں تھا ۔مقصد اس کے سامنےتھا۔ بوڑھے والدین کو چھوڑنا نہیں۔
کئی سال اپنے ابا جی کو اٹھانے سے وہ خود بھی کمر کی شدید تکلیف کا شکار ہو گیا۔ اور درد دن بدن بڑھتا ہی رہتا۔ خود بھی اسی ڈاکٹر کا مریض بن گیا جو کبھی اس کے ابا جی کا ڈاکٹر تھا ۔عزیز رشتہ دار تو اب آپس میں باتیں کرتے کہ اتنی پر آسائش زندگی اور بے بہا دولت ہونے کے باوجود ملازم کیوں نہیں رکھ لیتا، ان کے لئے۔ خود اٹھاتا، بیٹھاتا، نہلاتا، دھلاتااور نجاست کی صفائی خود ہی کرتا ہے ۔بیمار ہو گیا ہے یہ دولت کس کام کی ہے۔
مگر وہ کیا بتاتا کسی کوکہ انہیں سنبھالنے کا حکم صرف اس کے لئے ہے۔ کیسے سمجھ پائیں گے اللہ تعالی سےاپنی معافی کا راستہ ماں باپ کی خدمت میں نظر آیا اسے۔
اور جس دولت کی وہ بات کرتے ہیں وہ تو آزمائش ہے۔ اللہ تعالی نے اسے اسی خدمت کے صلے میں اسے انعام کیاہے۔ ورنہ وہ اس وقت کو آج تک نہیں بھول پایا ۔جب اس کے ابا جی ولیمے کے دن ایک سوال پر ٹھہر گئے تھے "بیٹا مہمانوں کے لئے کھانا پورا ہو جائے گا"اور یہی سوال ہر دس پندرہ منٹ بعد دہراتے۔
بات ماہ دو ماہ کی ہوتی۔ تو الگ بھی تھی ۔اب تو اس کا پورا وجود اپنے ابا جی کی روح میں ڈھل چکا تھا۔ اسے وہ دن بھی ابھی یاد تھے جب اس بیماری کی اگلی سٹیج میں گھر سے سیر کرنے کے لئے اچانک خاموشی سے نکلتے اور بھول جاتے کہ وہ کون ہیں ،کیا نام ہے ان کا، کہاں رہتے ہیں۔ سڑکوں پر اپنے ہی گھر کے سامنے سے بار بار گزر جاتے اور اپنے گھر کی پہچان بھول جاتے۔ کئی بار تو ایسا ہو چکا تھا !
دنیا میں نیک انسانوں کی کمی نہیں۔ ایک بار تو ایک رکشہ والے کو انہوں نے روکا اور کہا میں اپنا گھر بھول گیا ہوں ۔اس نے ساتھ بٹھایا ۔تو ایک گھنٹہ ان کو لئے پھرتا رہا اور وہ خود ابا جی کو موٹر سائیکل پر گلیوں محلوں میں تلاش کر رہا تھا۔ ابا جی کی اپنے گھر کے سامنے سے گزرتے ہوئے پہچان واپس آ گئی تو رکشے والا اتار کر چلا گیا ماں جی نےکچھ پیسے دینے چاہے۔ تو اس نے لینے سے انکار کر دیا تھا ۔ چار بار ہو چکا تھا دو بار تو وہ خود دوتین گھنٹے گلیوں بازاروں میں گھوم گھوم کر ڈھونڈ لایا تھا اور دو بار جنہوں نے ابا جی کی مدد کی وہ انتہائی غریب لوگ تھے۔ وہ ہمیشہ ابا جی کو لانے والوں کو دعائیں دیتا ۔
دن ہفتوں میں ہفتے مہینوں میں بدلتے جا رہے تھے ۔ اس کی شادی کوچار سال گزر چکے تھے۔ اسی دوران اس کے ہاں دوسرا بیٹا پیدا ہوا ۔گھر میں سبھی خوش تھے ۔
اب تو اس کے ابا جی کا پیشاب پاخانے پر کنٹرول مکمل ختم ہو چکا تھا۔ باتھ روم لے کر جاتے تو کچھ نہ کرتے واپسی پر چلتے جاتے اور جہاں جہاں سے گزرتے کپڑوں سے لے کر فرش تک نجاست بہہ جاتی ۔
بیٹا میں جان بوجھ کرنہیں کرتا ۔مجھے پتہ ہی نہیں چلتا۔اپنی صفائی وہ خود ہی دینے کی کوشش کرتے ۔
مجھے علم ہے ابا جی !
آپ کیوں پریشان ہوتے ہیں۔ میں صفائی کردیتا ہوں۔ وہ فوری ابا جی کو تسلی دیتا ۔
یہ تو اب معمول بن چکا تھا ۔کبھی بستر تو کبھی قالین صحن میں دھو کر رکھا جاتا تھا ۔ماں جی کے ساتھ ان کا وقت گزر جاتا تھا ۔
اس کی ماں کی پتے کی پتھری اپریشن نہ ہونے کی وجہ سے تکلیف بہت بڑھ چکی تھی ۔کئی بار ہاسپٹل میں داخل رہ چکے تھے۔ ڈاکٹر وں کا کہنا تھا کہ اپریشن سے جان کا رسک ہے۔ اب اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا کہ اسے نکلوا دیا جائے۔ ڈیفنس میں ایک ڈاکٹر کا اسے علم ہوا کہ وہ جدیدٹیکنالوجی لیپراسکوپی سرجری کے ذریعے اپریشن کرتا ہے۔ ڈاکٹر سے اس نےبات چیت کی۔ ڈاکٹر نے تسلی دی کہ خطرے والی بات نہیں ہے۔ ہائی بلڈ پریشر، ہیموگلوبن کی کمی اور ہارٹ ان لارج کے باجود اس میں رسک بہت کم ہے۔ کیونکہ اس وقت شہر میں وہ اکیلا ہی اس شعبہ میں تھا ۔سو ایک بڑی رقم کا اس نے تخمینہ بتایا۔ مگر یہاں اسے رقم سے زیادہ اپنی ماں جی کی صحت کی فکر تھی۔ کیونکہ جب سے اس نے اباجی کی زرعی زمین پر خودکاشت کا کام شروع کیا۔ دولت کی ریل پیل تھی ۔
تکلیف اتنی بڑھ چکی تھی۔ کہ اب لمبا انتظار ممکن نہیں تھا۔ ڈاکٹر نے تیاری کے بعد انہیں بلایا۔ اپریشن کیا اور باہر آکر خوش خبری سنائی کہ اپریشن کامیاب رہا اور ساتھ ہی ایک ایسی خبر جو وہ سننے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا ۔کہ پتھری اتنی بڑی ہو چکی تھی، جگر اس سے متاثر ہوا ہے اور اس نے جگر کے متاثرہ حصے کی بھی سرجری کر دی ہے اور اسے بائیوپسی کے لئے بھجوا دیا گیا ۔ دو دن بعد وہ ماں جی کو لے کر گھرچلے گئے چند روز بعد وہ بائیوپسی کی رپورٹ لے کر ڈاکٹرکے پاس گیا ۔تو وہ خبر اس پر بجلی بن کر گری ۔جگر کا کینسر تشخیص ہوا تھا ۔تفصیل بتاتے ہوئے ڈاکٹرنے کہا ایسے مریض چھ ماہ یا آٹھ ماہ سے زیادہ زندگی نہیں پاتے۔
ڈاکٹر کے یہاں سے نکل کر وہ جناح باغ چلا گیا درختوں کی پناہ میں کھلی فضا میں۔
سگریٹ پہ سگریٹ سلگائے جارہا تھا اور صرف ایک خیال اس کے ذہن میں پیوست ہو کر رہ گیا کیا میری ماں اب مہینوں کی مہمان ہے ۔یہ دن دیکھنا باقی تھا ۔کہ اپنی نظروں کے سامنے ہر پل موت کی طرف جاتا دیکھوں اور دوسری طرف ابا جی کی بگڑتی ذہنی اور جسمانی حالت اور اب یہ روح فرسا خبر ۔
دیر تک اپنے آپ سے جنگ کرتا رہا اور خدا سے اپنے لئے ہمت اور حوصلہ کی دعا مانگتا رہا۔ اس نے پھر ایک نئی طاقت کو اپنے اندر محسوس کیا کہ جس میرے مالک نے مجھے ان مشکلات سے لڑنے کی طاقت پہلے دی۔ اب بھی وہی دے گا اور گھر کی طرف روانہ ہوا ۔
کیا رپورٹ آئی ہے ماں کے سامنےبڑی بہن نے سوال کیا !
بالکل ٹھیک ہے۔ وہ جھوٹ بول گیا اور اسی طرح مسکراتے ہوئے ماں جی سے ہنسی مذاق کرنے لگا ۔
زندگی میں پہلی بار وہ اداکاری کرنے کی بھرپور کوشش کر رہا تھا ۔مگر بدلا رویہ اس کی چغلی کر رہا تھا۔ نہ جانے اس کی بڑی بہن نے اس ہنسی کے پیچھےدرد کو کیسے دیکھ لیا اور چند روز کے بعد ہی ایک الگ کمرے میں اسی لے گئی اور پوچھنے لگی سچ بتا رپورٹ میں کیا ہے۔ تیرا چہرہ مجھے کچھ اور کہتا ہے۔ وہ بچوں کی طرح بلک بلک کر رونے لگا۔دونوں بہن بھائی کافی دیر تک روتے رہے ۔انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ ماں جی کو پتہ نہیں چلنا چاہیئے۔ کہیں ان کی ہمت نہ ٹوٹ جائے ۔
ابا جی تو بیماری کے ہاتھوں پہلے ہی ان باتوں سے لاتعلق ہو چکے تھے ۔
اس کی ماں کی دن بدن حالت بگڑتی جارہی تھی۔ اپریشن سے پہلے انہوں نے بیٹے سے کہا تھاکہ اس بار جب فصل آئے گی ۔گھر کے تمام اینٹوں کے بنے ہوئے فرش اکھاڑ کر سیمنٹ کا فرش لگوانا ہےاور سٹور بنانے ہیں۔ صفائی میں بہت مشکل ہوتی ہے اور ایک مجھے اپنے لئے نیا پلنگ بنوانا ہے ۔جس کے پیچھے دراز زیادہ ہوں ۔
جی ماں جی ضرور ! کہہ کر ماں سے وعدہ کیا تھا۔
ڈاکٹر نے زندگی جینے کا وقت مقرر کر رکھا تھا۔ مگراسے ماں سے کئے گئے وعدہ کا پاس تھا ۔فصل کی رقم ملتے ہی اس نے پلنگ کا آرڈر دے دیا ۔جیسا ماں چاہتی تھیں اور گھر کے تمام فرش اکھیڑ دئیے اور مستری سے ایک ماہ میں اسے مکمل کرنے کا کہا ۔ خاندان کے بعض افراد اس بات سے ناراض دکھائی دیئے کہ ایسی بیماری اور گھر میں مرمت کا کام ۔
مگر اسے صرف ایک بات کی خواہش تھی۔ ماں جی نے جو خواہش کی ہے وہ ان کی زندگی میں پوری ہو۔ جسم ان کا سوکھ کر کانٹا بنتا جا رہا تھا۔ کینسر اندر ہی اندر پوری طرح پھیل چکا تھا ۔جب فرش تیار ہو گئے ۔تو اپنی ماں کو اٹھوا کر صحن میں لایا اور اس نے کہا ! ماں جی ! جیسا آپ نے کہا ویسا ہو چکا ہے۔ انہوں نےغور سے صحن کو دیکھا اور بہت دھیمی آواز میں کہنے لگیں میں ٹھیک ہوتی تو اس سے بہتر کام کرواتی لیکن پھر بھی ٹھیک ہے ۔
کینسر نے چھ ماہ میں پورے وجود کو پہلےمکمل زیر کیا۔ پھر اذیت پر اتر آیا۔ درد کی شدت اب بڑھ رہی تھی۔ ڈاکٹر خوش مزاج نہیں تھا بس چیک کرتا اور نسخہ ہاتھ میں دے کر چلتا کر دیتا۔ ماں جی نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا ۔تو نئے ڈاکٹر کا انتخاب کیا گیا۔جو اپنے شعبہ کا ماہر اور نہایت خوش اخلاق خوش گفتار بھی تھا۔ پل پل موت اپنا گھیرا تنگ کر رہی تھی اور ڈاکٹروں کی دی گئی معیاد پوری ہوئی اور آٹھویں ماہ وہ زندگی کی جنگ ہار گئیں۔
انہیں دفنانے کے بعد جب وہ واپس لوٹا۔ تو ابا جی کسی بھی طرح کے رد عمل سے بے نیاز اپنے کمرے میں سستا رہے تھے۔ اور وہ سوچ رہا تھا کہ اب اسے زندگی کی یہ جنگ اکیلے لڑنی ہے۔ ماں کا سہارا ختم ہو چکا تھا۔ ایک دعا دینے والے ہاتھ اب اس کے پیچھے نہیں تھے۔
انسانی دماغ کے خلیات کیسے کام کرتے ہیں۔ میڈیکل میں اسے مختلف نام دئیے گئے ہیں۔ مگر اباجی کے ساتھ جو ہو رہا تھا وہ اسے کیا نام دیتا ۔ کینسر ،دل کی بیماری اور فالج کی معلومات تو اسے کافی تھی مگر اس بیماری کا انجام کیا ہو گا۔ اس بات سے لا علم تھا ۔
روز بروز بڑھتی بیماری اس کے لئے نئی سوچ کے دروازے کھول دیتی۔ ہاتھوں کی انگلیاں مٹھی کی مستقل شکل اختیار کر چکی تھیں۔ جیسے انگلیاں انگوٹھوں کو آزادی نہ دینے کی ضد پر اوپر ایسے جم چکی تھیں ۔کہ ان کا ہلنا بھی ممکن نہ تھا۔ ٹانگیں بھی کچھ ایسا ہی منظر پیش کر رہی تھیں۔
وہ سوچتا کہ کیسے ممکن ہے ۔انسان اچانک ہی کسی بات کو بھول جائے اور پھر یہ بھی بھول جائے کہ ہاتھوں سے گلاس یا چمچ کو کیسے پکڑا جاتا ہے ۔اور انتہا تو یہ کہ دست لگنے کی وجہ سے دو دن پلنگ پر رہنے سے یہ بھول جائے کہ اسے چلنا کیسے ہے۔ اس کے اباجی کے ساتھ یہ سب یکےبعد دیگرے ہو رہا تھا ماں جی کو فوت ہوئے تین سال ہوئے تھے ۔کہ دستوں نے ایسا کمزور کیا پھر انہیں اٹھنے کے لئے کہا تو پوچھنے لگے کیسے چلوں۔ ٹانگیں ان کے دماغ سے آزاد ہو چکی تھی۔ اب وہ کسی حکم کی محتاج نہیں تھیں ۔بلکہ اپنی مرضی کی مالک خود مختار اس جسم کو اپنے اوپر بوجھ محسوس کر رہی تھیں اور پھر اس کی تقلید میں بازو، ہاتھ بھی ساتھ شامل ہو گئے اور خود مختا ری کا باری باری اعلان کرنے لگے۔--------- جاری ہے


تحریر ! محمودالحق

بوڑھے کی لاٹھی - 3

0 comments
 باپ بیٹے کی ایک سچی کہانی
باپ کے بڑھاپے کی جوان بیٹا جب لاٹھی بنا۔

حصہ سوم
اس کی سوچ میں یہ تبدیلی ۱۷ سال کی عمر آئی جب جمعہ کی نماز میں اس نے یہ حدیث سنی۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ رَغِمَ أَنْفُ ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُ ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُ ‏"‏ ‏.‏ قِيلَ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ مَنْ أَدْرَكَ والديه عِنْدَ الْكِبَرِ أَحَدَهُمَا أَوْ كِلَيْهِمَا ثم لَمْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ ‏"‏ ‏.‏
( صحيح مسلم : 2551 ، البر و الصلة – الأدب المفرد : 646 )

ترجمہ:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا : اس کی ناک خاک آلود ہو ،پھر اس کی ناک خاک آلود ہو : آپ سے سوال کیا گیا یا رسول اللہﷺ وہ کون شخص ہے؟ آپﷺ نے فرمایا : جس نے بڑھاپے میں اپنے والدین کو پایا ، ان میں سے کسی ایک کو یا دونوں کو پا لیا پھر بھی "ان کے ساتھ حسن سلوک کر کے" جنت میں داخل نہیں ہوا۔
شائد اس حدیث کے الفاظ سے وہ اپنے آپ کو کبھی بھی الگ نہیں کرپایا ۔اسے یہی خوف رہا کہیں اس کا ناک خاک آلود نہ ہو جائے۔
قران پاک کے اندر سورۃ بنی اسرائیل میں ان آیات میں والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم جب اس نے پڑھا کہ
"اور تمھارے رب نے حکم فرمایا ہے کہ اس کےسوا کسی کو نہ پوجو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو اگر تیرے سامنے ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کوپہنچ جائیں تو ان سے ہوں نہ کہنا اور انہیں نہ جھڑکنااور ان سے تعظیم کی بات کہنااور ان کے لئے عاجزی کا بازو بچھا نرم دلی سے اور عرض کرکہ اے میرے رب تو ان دونوں پر رحم کرجیسا کہ ان دونوں نے مجھے چھٹپن میں پالا"
تو اب اس کے لئے اللہ تعالی کے حکم سے روگردانی کا سوال پیدا ہونے کا امکان نہیں تھا ۔مقصد اس کے سامنےتھا۔ بوڑھے والدین کو چھوڑنا نہیں۔
کئی سال اپنے ابا جی کو اٹھانے سے وہ خود بھی کمر کی شدید تکلیف کا شکار ہو گیا۔ اور درد دن بدن بڑھتا ہی رہتا۔ خود بھی اسی ڈاکٹر کا مریض بن گیا جو کبھی اس کے ابا جی کا ڈاکٹر تھا ۔عزیز رشتہ دار تو اب آپس میں باتیں کرتے کہ اتنی پر آسائش زندگی اور بے بہا دولت ہونے کے باوجود ملازم کیوں نہیں رکھ لیتا، ان کے لئے۔ خود اٹھاتا، بیٹھاتا، نہلاتا، دھلاتااور نجاست کی صفائی خود ہی کرتا ہے ۔بیمار ہو گیا ہے یہ دولت کس کام کی ہے۔
مگر وہ کیا بتاتا کسی کوکہ انہیں سنبھالنے کا حکم صرف اس کے لئے ہے۔ کیسے سمجھ پائیں گے اللہ تعالی سےاپنی معافی کا راستہ ماں باپ کی خدمت میں نظر آیا اسے۔
اور جس دولت کی وہ بات کرتے ہیں وہ تو آزمائش ہے۔ اللہ تعالی نے اسے اسی خدمت کے صلے میں اسے انعام کیاہے۔ ورنہ وہ اس وقت کو آج تک نہیں بھول پایا ۔جب اس کے ابا جی ولیمے کے دن ایک سوال پر ٹھہر گئے تھے "بیٹا مہمانوں کے لئے کھانا پورا ہو جائے گا"اور یہی سوال ہر دس پندرہ منٹ بعد دہراتے۔
بات ماہ دو ماہ کی ہوتی۔ تو الگ بھی تھی ۔اب تو اس کا پورا وجود اپنے ابا جی کی روح میں ڈھل چکا تھا۔ اسے وہ دن بھی ابھی یاد تھے جب اس بیماری کی اگلی سٹیج میں گھر سے سیر کرنے کے لئے اچانک خاموشی سے نکلتے اور بھول جاتے کہ وہ کون ہیں ،کیا نام ہے ان کا، کہاں رہتے ہیں۔ سڑکوں پر اپنے ہی گھر کے سامنے سے بار بار گزر جاتے اور اپنے گھر کی پہچان بھول جاتے۔ کئی بار تو ایسا ہو چکا تھا !
دنیا میں نیک انسانوں کی کمی نہیں۔ ایک بار تو ایک رکشہ والے کو انہوں نے روکا اور کہا میں اپنا گھر بھول گیا ہوں ۔اس نے ساتھ بٹھایا ۔تو ایک گھنٹہ ان کو لئے پھرتا رہا اور وہ خود ابا جی کو موٹر سائیکل پر گلیوں محلوں میں تلاش کر رہا تھا۔ ابا جی کی اپنے گھر کے سامنے سے گزرتے ہوئے پہچان واپس آ گئی تو رکشے والا اتار کر چلا گیا ماں جی نےکچھ پیسے دینے چاہے۔ تو اس نے لینے سے انکار کر دیا تھا ۔ چار بار ہو چکا تھا دو بار تو وہ خود دوتین گھنٹے گلیوں بازاروں میں گھوم گھوم کر ڈھونڈ لایا تھا اور دو بار جنہوں نے ابا جی کی مدد کی وہ انتہائی غریب لوگ تھے۔ وہ ہمیشہ ابا جی کو لانے والوں کو دعائیں دیتا ۔
دن ہفتوں میں ہفتے مہینوں میں بدلتے جا رہے تھے ۔ اس کی شادی کوچار سال گزر چکے تھے۔ اسی دوران اس کے ہاں دوسرا بیٹا پیدا ہوا ۔گھر میں سبھی خوش تھے ۔
اب تو اس کے ابا جی کا پیشاب پاخانے پر کنٹرول مکمل ختم ہو چکا تھا۔ باتھ روم لے کر جاتے تو کچھ نہ کرتے واپسی پر چلتے جاتے اور جہاں جہاں سے گزرتے کپڑوں سے لے کر فرش تک نجاست بہہ جاتی ۔
بیٹا میں جان بوجھ کرنہیں کرتا ۔مجھے پتہ ہی نہیں چلتا۔اپنی صفائی وہ خود ہی دینے کی کوشش کرتے ۔
مجھے علم ہے ابا جی !
آپ کیوں پریشان ہوتے ہیں۔ میں صفائی کردیتا ہوں۔ وہ فوری ابا جی کو تسلی دیتا ۔
یہ تو اب معمول بن چکا تھا ۔کبھی بستر تو کبھی قالین صحن میں دھو کر رکھا جاتا تھا ۔ماں جی کے ساتھ ان کا وقت گزر جاتا تھا ۔
اس کی ماں کی پتے کی پتھری اپریشن نہ ہونے کی وجہ سے تکلیف بہت بڑھ چکی تھی ۔کئی بار ہاسپٹل میں داخل رہ چکے تھے۔ ڈاکٹر وں کا کہنا تھا کہ اپریشن سے جان کا رسک ہے۔ اب اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا کہ اسے نکلوا دیا جائے۔ ڈیفنس میں ایک ڈاکٹر کا اسے علم ہوا کہ وہ جدیدٹیکنالوجی لیپراسکوپی سرجری کے ذریعے اپریشن کرتا ہے۔ ڈاکٹر سے اس نےبات چیت کی۔ ڈاکٹر نے تسلی دی کہ خطرے والی بات نہیں ہے۔ ہائی بلڈ پریشر، ہیموگلوبن کی کمی اور ہارٹ ان لارج کے باجود اس میں رسک بہت کم ہے۔ کیونکہ اس وقت شہر میں وہ اکیلا ہی اس شعبہ میں تھا ۔سو ایک بڑی رقم کا اس نے تخمینہ بتایا۔ مگر یہاں اسے رقم سے زیادہ اپنی ماں جی کی صحت کی فکر تھی۔ کیونکہ جب سے اس نے اباجی کی زرعی زمین پر خودکاشت کا کام شروع کیا۔ دولت کی ریل پیل تھی ۔
تکلیف اتنی بڑھ چکی تھی۔ کہ اب لمبا انتظار ممکن نہیں تھا۔ ڈاکٹر نے تیاری کے بعد انہیں بلایا۔ اپریشن کیا اور باہر آکر خوش خبری سنائی کہ اپریشن کامیاب رہا اور ساتھ ہی ایک ایسی خبر جو وہ سننے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا ۔کہ پتھری اتنی بڑی ہو چکی تھی، جگر اس سے متاثر ہوا ہے اور اس نے جگر کے متاثرہ حصے کی بھی سرجری کر دی ہے اور اسے بائیوپسی کے لئے بھجوا دیا گیا ۔ دو دن بعد وہ ماں جی کو لے کر گھرچلے گئے چند روز بعد وہ بائیوپسی کی رپورٹ لے کر ڈاکٹرکے پاس گیا ۔تو وہ خبر اس پر بجلی بن کر گری ۔جگر کا کینسر تشخیص ہوا تھا ۔تفصیل بتاتے ہوئے ڈاکٹرنے کہا ایسے مریض چھ ماہ یا آٹھ ماہ سے زیادہ زندگی نہیں پاتے۔
ڈاکٹر کے یہاں سے نکل کر وہ جناح باغ چلا گیا درختوں کی پناہ میں کھلی فضا میں۔
سگریٹ پہ سگریٹ سلگائے جارہا تھا اور صرف ایک خیال اس کے ذہن میں پیوست ہو کر رہ گیا کیا میری ماں اب مہینوں کی مہمان ہے ۔یہ دن دیکھنا باقی تھا ۔کہ اپنی نظروں کے سامنے ہر پل موت کی طرف جاتا دیکھوں اور دوسری طرف ابا جی کی بگڑتی ذہنی اور جسمانی حالت اور اب یہ روح فرسا خبر ۔
دیر تک اپنے آپ سے جنگ کرتا رہا اور خدا سے اپنے لئے ہمت اور حوصلہ کی دعا مانگتا رہا۔ اس نے پھر ایک نئی طاقت کو اپنے اندر محسوس کیا کہ جس میرے مالک نے مجھے ان مشکلات سے لڑنے کی طاقت پہلے دی۔ اب بھی وہی دے گا اور گھر کی طرف روانہ ہوا ۔
کیا رپورٹ آئی ہے ماں کے سامنےبڑی بہن نے سوال کیا !
بالکل ٹھیک ہے۔ وہ جھوٹ بول گیا اور اسی طرح مسکراتے ہوئے ماں جی سے ہنسی مذاق کرنے لگا ۔
زندگی میں پہلی بار وہ اداکاری کرنے کی بھرپور کوشش کر رہا تھا ۔مگر بدلا رویہ اس کی چغلی کر رہا تھا۔ نہ جانے اس کی بڑی بہن نے اس ہنسی کے پیچھےدرد کو کیسے دیکھ لیا اور چند روز کے بعد ہی ایک الگ کمرے میں اسی لے گئی اور پوچھنے لگی سچ بتا رپورٹ میں کیا ہے۔ تیرا چہرہ مجھے کچھ اور کہتا ہے۔ وہ بچوں کی طرح بلک بلک کر رونے لگا۔دونوں بہن بھائی کافی دیر تک روتے رہے ۔انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ ماں جی کو پتہ نہیں چلنا چاہیئے۔ کہیں ان کی ہمت نہ ٹوٹ جائے ۔
ابا جی تو بیماری کے ہاتھوں پہلے ہی ان باتوں سے لاتعلق ہو چکے تھے ۔
اس کی ماں کی دن بدن حالت بگڑتی جارہی تھی۔ اپریشن سے پہلے انہوں نے بیٹے سے کہا تھاکہ اس بار جب فصل آئے گی ۔گھر کے تمام اینٹوں کے بنے ہوئے فرش اکھاڑ کر سیمنٹ کا فرش لگوانا ہےاور سٹور بنانے ہیں۔ صفائی میں بہت مشکل ہوتی ہے اور ایک مجھے اپنے لئے نیا پلنگ بنوانا ہے ۔جس کے پیچھے دراز زیادہ ہوں ۔
جی ماں جی ضرور ! کہہ کر ماں سے وعدہ کیا تھا۔
ڈاکٹر نے زندگی جینے کا وقت مقرر کر رکھا تھا۔ مگراسے ماں سے کئے گئے وعدہ کا پاس تھا ۔فصل کی رقم ملتے ہی اس نے پلنگ کا آرڈر دے دیا ۔جیسا ماں چاہتی تھیں اور گھر کے تمام فرش اکھیڑ دئیے اور مستری سے ایک ماہ میں اسے مکمل کرنے کا کہا ۔ خاندان کے بعض افراد اس بات سے ناراض دکھائی دیئے کہ ایسی بیماری اور گھر میں مرمت کا کام ۔
مگر اسے صرف ایک بات کی خواہش تھی۔ ماں جی نے جو خواہش کی ہے وہ ان کی زندگی میں پوری ہو۔ جسم ان کا سوکھ کر کانٹا بنتا جا رہا تھا۔ کینسر اندر ہی اندر پوری طرح پھیل چکا تھا ۔جب فرش تیار ہو گئے ۔تو اپنی ماں کو اٹھوا کر صحن میں لایا اور اس نے کہا ! ماں جی ! جیسا آپ نے کہا ویسا ہو چکا ہے۔ انہوں نےغور سے صحن کو دیکھا اور بہت دھیمی آواز میں کہنے لگیں میں ٹھیک ہوتی تو اس سے بہتر کام کرواتی لیکن پھر بھی ٹھیک ہے ۔
کینسر نے چھ ماہ میں پورے وجود کو پہلےمکمل زیر کیا۔ پھر اذیت پر اتر آیا۔ درد کی شدت اب بڑھ رہی تھی۔ ڈاکٹر خوش مزاج نہیں تھا بس چیک کرتا اور نسخہ ہاتھ میں دے کر چلتا کر دیتا۔ ماں جی نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا ۔تو نئے ڈاکٹر کا انتخاب کیا گیا۔جو اپنے شعبہ کا ماہر اور نہایت خوش اخلاق خوش گفتار بھی تھا۔ پل پل موت اپنا گھیرا تنگ کر رہی تھی اور ڈاکٹروں کی دی گئی معیاد پوری ہوئی اور آٹھویں ماہ وہ زندگی کی جنگ ہار گئیں۔
انہیں دفنانے کے بعد جب وہ واپس لوٹا۔ تو ابا جی کسی بھی طرح کے رد عمل سے بے نیاز اپنے کمرے میں سستا رہے تھے۔ اور وہ سوچ رہا تھا کہ اب اسے زندگی کی یہ جنگ اکیلے لڑنی ہے۔ ماں کا سہارا ختم ہو چکا تھا۔ ایک دعا دینے والے ہاتھ اب اس کے پیچھے نہیں تھے۔
انسانی دماغ کے خلیات کیسے کام کرتے ہیں۔ میڈیکل میں اسے مختلف نام دئیے گئے ہیں۔ مگر اباجی کے ساتھ جو ہو رہا تھا وہ اسے کیا نام دیتا ۔ کینسر ،دل کی بیماری اور فالج کی معلومات تو اسے کافی تھی مگر اس بیماری کا انجام کیا ہو گا۔ اس بات سے لا علم تھا ۔
روز بروز بڑھتی بیماری اس کے لئے نئی سوچ کے دروازے کھول دیتی۔ ہاتھوں کی انگلیاں مٹھی کی مستقل شکل اختیار کر چکی تھیں۔ جیسے انگلیاں انگوٹھوں کو آزادی نہ دینے کی ضد پر اوپر ایسے جم چکی تھیں ۔کہ ان کا ہلنا بھی ممکن نہ تھا۔ ٹانگیں بھی کچھ ایسا ہی منظر پیش کر رہی تھیں۔
وہ سوچتا کہ کیسے ممکن ہے ۔انسان اچانک ہی کسی بات کو بھول جائے اور پھر یہ بھی بھول جائے کہ ہاتھوں سے گلاس یا چمچ کو کیسے پکڑا جاتا ہے ۔اور انتہا تو یہ کہ دست لگنے کی وجہ سے دو دن پلنگ پر رہنے سے یہ بھول جائے کہ اسے چلنا کیسے ہے۔ اس کے اباجی کے ساتھ یہ سب یکےبعد دیگرے ہو رہا تھا ماں جی کو فوت ہوئے تین سال ہوئے تھے ۔کہ دستوں نے ایسا کمزور کیا پھر انہیں اٹھنے کے لئے کہا تو پوچھنے لگے کیسے چلوں۔ ٹانگیں ان کے دماغ سے آزاد ہو چکی تھی۔ اب وہ کسی حکم کی محتاج نہیں تھیں ۔بلکہ اپنی مرضی کی مالک خود مختار اس جسم کو اپنے اوپر بوجھ محسوس کر رہی تھیں اور پھر اس کی تقلید میں بازو، ہاتھ بھی ساتھ شامل ہو گئے اور خود مختا ری کا باری باری اعلان کرنے لگے۔--------- جاری ہے


تحریر ! محمودالحق