انسانوں سےبھرےمعاشرےسےجب اکتاہٹ ہونےلگےیادل بھرجائےتوقدرت کےحسین نظارےبانہیں کھولےخوش آمدیدکہنےکےلئےبیتاب ہوجاتےہیں۔ لہلاتےدرخت ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں روح تک اپنی تاثیرمسیحائی پہنچاتی ہیں۔بدن کی گرمائش پتوں کی سرسراہٹ سےآلام وآرائش سےاتنی دورچلی جاتی ہےکہ واپس جانےکوجی نہیں چاہتا۔ مگررہناتوبستیوں میں ہی ہوتاہےکیونکہ آبادیوں میں جسم محفوظ ہوتےہیں اور نقصان سےمحفوظ انہیں قانون کی عملداری رکھتی ہے۔ درخت جب روشنی سےفاصلہ کرلیتےہیں توحشرات اورجانوروں کےقوانین کی عملداری شروع ہوجاتی ہے۔ جوننگےبدن پرخوراک کی تلاش میں حملہ آورہوتےہیں۔ چھوٹےپرندےچونچ میں چھوٹےکیڑےدبائےاپنےگھونسلوں کی طرف بچوں کےلئےمحوپروازہوتےہیںلیکن آبادیوں میں انسان ہوس وحرص،لالچ ومفاداورحسدونفرت کی ٹوکریاں بھرکراپنےبچوں کوعمربھرکاراشن مہیاکرنےکےلئےاحساسات وجذبات کی لاشوں کوبےدردی سےروندتےآگےبڑھتے ہیں۔
انسان علم سےقداونچاکرتاہےاوردولت سےمعیار۔ رویےسےدباؤاورمقابلےسےتناؤکاماحول پیداکرتاہے۔
حواس خمسہ کاپانچ ہونا،بدن میں دل جگرپھیپھڑےمعدہ اورگردےکاپانچ ہونا،ہاتھ پاؤں کی انگلیاں پانچ ہونا،دوٹانگوں دوبازؤوں اورایک گردن کاپانچ ہوناایمان رکھنےوالوں کےلئےبہت اہمیت اختیارکرلیتےہیں جونمازپنجگانہ اوردین اسلام کےپانچ ارکان کواختیارکرلیتےہیں۔
ذہن میں خیالات اترآئےتوتخیل بن جاتاہےاگرخون اپنےراستےسےاترجائےتوزندگی راستہ بھٹک جاتی ہے۔ سجدوں میں دعائیں رہ جاتی ہیں۔ عجب تماشاہےجوچارسوپھیلاہے۔ فرعون کی ممی عجائبات جہاں بن کررہ گئی۔ فرعون سوچ بن کرجہاں میں دندناتےپھررہےہیں۔
بچپن گزر جاتا ہے ، کھلونے ٹوٹ جاتے ہیں اور لوگ بڑے ہو جاتے ہیں۔ لیکن ماضی سے جدا نہیں ہو پاتے۔ مگربعض لوگ زندگی میں طوفان کی طرح آتے ہیں اور ایک جھونکے کی طرح گزر جاتے ہیں۔ نہ تو راہ و رسم رہتی ہے ، نہ ہی تعلق قائم رہتا ہے اور نہ اپنائیت و وابستگی۔ بس یادداشت کے کینوس پر گرد و غبار کی مانند بس اتنی سی جیسے عینک پر پڑی دھول جو آنکھوں پر کوئی اثر نہیں رکھتی۔ وہ سوچتے ہیں کہ دنیا کو بہت کچھ دینے جا رہے ہیں۔ جبکہ وہ لینے والوں کی لائن میں لگے ہوتے ہیں ۔غذائی ضرورتیں انسان کی صحت و توانائی کا لیبل سجائے رکھتی ہیں اور بھوک بدن کو زندہ رکھنے کی تڑپ میں مبتلا رکھتی ہے۔
ایک بات تو طے ہے راستے جدا جدا ہیں منزلیں الگ الگ۔ الفاظ ترازو نہیں ہو سکتے جن پر انسان تولے جا سکتے ہیں۔ انسانی بستیوں میں بھیڑ ہوتی ہے یا تنہائیاں ، جنگلی حیات میں ریوڑ ہوتے ہیں یا غول۔
عجب لوگ ہیں خالق کائنات کی تخلیق پر غور نہیں کرتے لیکن جب اس کا نام بادلوں، پھلوں میں نظر آئے تو اس کی شان و بڑائی سے تعبیر کرتے ہیں۔ کسی نے روٹی پر دکھا دیا تو ٹی وی پر چلا دیا۔ عجب زمانہ ہے دولت و طاقت سے عزت و وقار کا بھرم ہے۔ کردارواعتبار ، اخلاق و اطوار تو بس وہ اجزائےترکیبی ہیں جو ہر شے پہ لکھے ہوتے ہیں مگرپڑھتا کوئی نہیں۔ مال و اسباب ترازو پر رکھتے ہیں۔ لیکن آنسوؤں اور ہنسی کا کسی کے پاس حساب نہیں۔ ایک ہنسی میں کتنے آنسو پڑتے ہیں۔ بس یاد ہے تو صرف مسکرانا یا رونا۔
جو لفظوں میں معنی تلاش کرتے ہیں ان کے سفر ادھورے ہیں۔ جو احساس تلاش کرتے ہیں وہ منزل کی طرف گامزن ہوتے ہیں۔
محبت انسان اس لئے کرتا ہے کیونکہ اس میں کوئی دوسرا اچھا لگتا ہے یا اپنا آپ اچھا لگتا ہے۔ حالانکہ چاہت احساس مانگتی ہے اوراحساس ایثار مانگتا ہے۔ ایثار قربانی مانگتا ہے تو قربانی قبولیت مانگتی ہے۔ قبولیت تعلق مانگتی ہے اور تعلق تقدس مانگتا ہے۔ تقدس وفا مانگتا ہے اور وفا عشق مانگتا ہے۔
اے زندگی تیرے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے ہیں۔ عرض کرنے کی حالت نہیں، حکم دینے کی جسارت نہیں۔ پھر بھی امید کا دامن تھامے ساتھ کھڑے ہیں کہ نہ جانے کب معافی کا دروازہ کھلے اور سجدہ ریزی میں بخشش کی عطا سے امید کرن نور جمال ہو جائے۔
یہ دنیا تو ایک عطا ہے مگر نہ جانے کیوں کسی کو دکھتی ایک سزا ہے۔ کہیں جفا ہے تو کہیں ادا ہے۔ کہیں مدعا ہے تو کہیں دعا ہے۔ یہ زندگی عجب ندا ہے ، سن لیں تو قضاء ہے۔ سوچنے میں تو بس دغا ہے۔
ایک آنکھ مسکرانے لگتی ہے تو ایک آنکھ رلانے لگتی ہے۔ ایک قدم بڑھتا ہے تو ایک قدم رکتا ہے۔ زندگی تو ایک کفن کی محتاج ہے۔ہزار کفن شائدایک درد کو نہ دفنا پائیں۔ جسے حاصل سمجھتے رہے وہ منزل کے نشان نہ دے پائے اور قدم واپسی کا راستہ بھی کہیں کھو آئے۔ دیواروں کے پار جائیں تو دیواریں چیختی ہیں۔ دیواروں کے حصار میں تنہائی چیختی ہے۔ کس کو دلاسہ دیں کس کی امید بر لائیں۔ انگور کی بیل دیواروں درختوں سے لپٹ کر پھل بچا لیتی ہے۔ نخلستان زندگانی میں کیا اور کتنا بچائیں۔ کس سے کہیں آ چلمن کے پیچھے سرگوشیاں سنیں۔
چیونٹیوں سے ستاروں تک اپنا پتہ پوچھتے رہے۔ بس ایک ہوا ہی تھی جو کانوں میں سرگوشی کر کے پاس سے گزر گئی۔ انسان تو زمین کا بوجھ مٹی کے سپرد کرنے کے لیے بیتاب رہتا ہے۔
آرزوں کی خاک جب لالچ کی دھول میں اڑتی ہے تو غرض و مفاد کی کنکریاں سہانے خوابوں کی نیل گیں روشنی کو دھندلا دیتی ہے۔ ہر چہرے پہ ایک ہی عینک سے منظر صاف دکھائی نہیں دیتے جو نظر سے دھندلائے گئے ہوں۔ ایک ہی عینک سے ایک اخبار کو بہت سے لوگ پڑھ لیتے ہیں۔ عقل انسان پہاڑوں سے لڑھکتے پتھروں کی مثل پستیوں میں گر گر ٹوٹ پھوٹ جاتے ہیں۔ بلندیوں کو چھونے والے پہاڑ اور پرندے مجبوری سے پستیوں میں گرتے ہیں یا اترتے ہیں۔ خواہشیں اور آرزوئیں منزل تک پہنچنے کے مقصد نہیں ہوتے۔ بادل بننے کی خواہش دل کے ارمان ہوتے ہیں جو بادل بن کر برسنے سے محروم رہ جائے تو گڑگڑاتے چلاتے ہیں۔ زندگی صرف پانے کا نام نہیں ہے دینا بھی اسی کا جزو ہے۔ محمودالحق
ایک نئے خیال نے بہت دنوں سے ذہن میں کھلبلی مچا رکھی تھی کہ کچھ ایسا نیا ہونا چاہیئے جو اچھوتا ہو ، منفرد ہو اور مکمل بھی ہو۔ پھر وہی ہوا اچانک ایک نیا آئیڈیا دماغ میں عود کر آیا۔ سفید کاغذ پر چند آڑھی ترچھی لکیریں بنانے کے بعد مائیکروسوفٹ ایکسل پر رکھا تو وہ بنتا ہی چلا گیا۔چھ سات ماہ سے جسے پڑھا سیکھا سمجھا اور بنایا یہ اسی کا تسلسل ہےیعنی Math magic ۔ لیکن اس بار معاملہ زرا ہٹ کے ہے کیونکہ یہ ایک انوکھے، منفرد اور اچھوتے خیال کا شاخسانہ ہے۔
یہ Double math magic کا آئیڈیا ہے جو بنتا تو ایک ہی Pattern سے ہے لیکن دونوں Math magic الگ الگ بھی کئے جا سکتے ہیں۔ اگرچہ Double math magic میں اعداد کی ترتیب مختلف ہے اور مختلف اعداد کی وہی ترتیب دونوں Math magic کو الگ الگ کرنے پر بھی رزلٹ میں فرق نہیں آنے دیتی۔فارمولہ کے مطابق Vertically, Horizantally اور Diaginally ان سب کا ٹوٹل ایک ہی آتا ہے یعنی 516۔اس میں نمبرز کی ٹوٹل تعداد 128 ہے اور 64 جوڑے ایسے بنتے ہیں کہ ان کا ٹوٹل 129 آتا ہے۔ جنہیں دو مخالف سمت میں ایک جیسے دو رنگوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔
اس کی مختلف Formations ہیں جو کہ میں نے پانچ طرح سے تصاویر کے ذریعے دکھائی ہیں۔عام طور پر یہ Square میں ہوتے ہیں ، میں نے اسے Diamond shape میں تشکیل دیا ہے۔ Even / Even اور Even / Odd میں بنائے جا سکتے ہیں۔زیر نظر تصاویر 8x8 & 8x8 کے Math magic کی ہیں جس میں مختلف رنگوں سے مزین انہیں دیکھا جا سکتا ہے۔ ان میں 1 تا 128 نمبرز ایسے استعمال ہوئے ہیں کہ نمبرز دو واضح حصوں کی بجائے ملے جلے دیکھنے کو ملتے ہیں۔
اس تصویر میں 16 گروپ دیکھے جا سکتے ہیں جن میں ہر گروپ میں 8اعداد کا ٹوٹل 516 بنتا ہے۔ جو کہ دونوں Math magic کے چار چار نمبرز سے تشکیل پاتے ہیں ۔ ایک ہی رنگ میں 516 کے دو گروپس میں 8 جوڑے ایسے بنتے ہیں کہ ہر جوڑے کا ٹوٹل 129 بنتا ہے۔
اگر ان دونوں کو الگ الگ کر کے دیکھا جائے تو 258کےچار اعدادایک ہی رنگ میں مخالف سمت میں موجود258 کے چاراعداد سے مل کر 516 بنتے ہیں۔
ایک اس کی یہ صورت بھی بنتی ہے کہ Math magic کے چار عدد مل کر 130 بنتے ہیں اور اسی جگہ پر دوسرے Math magic کے چار عدد 386 بنتے ہیں جن کا ٹوٹل 516 ہے۔
اگر ان دونوں کو الگ الگ کر کے دیکھا جائے تو نمبرز کی ترتیب کچھ یوں بنتی ہے کہ جس سے درج بالا Math magic تشکیل پاتا ہے۔
ایک اس کی صورت یہ بھی بنتی ہے کہ ہر رنگ میں اعداد کا ٹوٹل 516 بنتا ہے اور مخالف سمت کے اسی رنگ میں ان کا جوڑا بنتا ہے جن کا ٹوٹل 129 ہے۔
آج کا موضوع بہت اہم ہے کیونکہ قرآن کی سورتوں اور آیات کا میری تحقیق سے بہت خاص تعلق مجھے نظر آیا۔خاص طور پر قرآن کی سب سے عظیم آیت الکرسی کی نسبت جنہیں مختلف ویب سائٹس پر لکھا گیا اور یو ٹیوب پر ویڈیو اپ لوڈ کی گئیں ۔ اسی پوسٹ میں آیت الکرسی کی وضاحتی تحریر کو شامل کیا گیاہے اور یو ٹیوب ویڈیو بھی موجود ہے۔ میری تحریر کا ایک ایک جملہ اس پُرحقیقت منزل تک پہنچنے کے لئے میرے سفر کی روئیداد کا احاطہ کرتا ہے۔
میں نے Math اور Algebra کو صرف میٹرک تک پڑھا۔ کائنات کے سربستہ راز کی تلاش نے سوچ کی بلندیوں کو عقل و شعور کی گہرائیوں میں اتار دیا۔ اللہ تبارک تعالی کے احکامات میری ذات سے اس قدر منسلک ہوئے کہ ایک قانون کی مانند زندگی پر نافذ ہو گئے۔ الزائمر کے مریض اور فالج زدہ بوڑھےباپ کی 14 سال تک ایسے دیکھ بھال کی جیسے ایک ماں اپنے بچے کو سنبھالتی ہے۔ دس سال ہاتھوں سے نجاست کوصاف اور جسم پر بننے والے زخموں پر مرہم رکھا۔ اللہ نے اتنی دولت عطا کی کہ باپ کی خدمت کے لئےدو ملازم رکھ کر دنیا کی رنگینی میں کھو چکا ہوتا اگر اللہ تبارک تعالی کی رحمت نہ ہوتی۔ ماں نے مجھے گود میں سلایا، محبت کے نوالے منہ میں ڈالے۔ باپ نے میری پیدائش پر منوں مٹھائی تقسیم کی۔ وہ یہ سوچ کر خوش تھا کہ باون سال کی عمر میں اللہ نے آٹھواں بیٹا عطا کیا مگر اللہ نے تو بوڑھے کے لئے ایک لاٹھی کا انتظام کیاتھا۔ وہی بوڑھے کی لاٹھی جو میری تحاریر اور بلاگ پر موجود ہے۔ جس باپ نےقدم قدم چلنے پر سنبھالا۔ عزت و احترام اور قربانی و ایثار کا ایسا سبق میری ذات میں اتارا کہ اپنے باپ کی دیکھ بھال اُٹھانے، بٹھانے،اورنہلانے کے دوران کمر درد کی شدید شکایت آج بھی کبھی کبھی ہلکا سرور دیتی ہے۔
چھ ماہ قبل Magic square کے بارے میں جاننے کی جستجو میں ایک فارمولہ نے میرے ذہن پر دستک دی ۔ جسے کھوجنے کی کوشش میں کھولتا چلا گیا۔2300سال قبل مسیح چین میں دریا سے باہر نکلتے ایک کچھوے کی پشت پر بنے Dots کی ترتیب ایک ایسا ریاضی کا جادو ہے جو آج بھی موضوع بحث اور ارتباط حیرت و عقل ہے۔جلد ہی مجھ پر یہ انکشاف ہوگیاکہ جو Math magic square میں بنا رہا ہوں وہ دراصل اسی کا عکس ہے۔
ہر روز سوچ کے نئے در وا ہوتے چلے گئے، جیسے ہی ایک گرہ کھلتی تو صدیوں سے ہونے والی تحقیق ایک بار پھر کسی نئے راستہ پر ڈال دیتی جس سے ایک نیا راستہ پھر کھل جاتا۔ بالآخر Math magic square کی اُس انتہا تک جا پہنچا جہاں میں نے اپنے ہاتھ اُٹھا لئے، کیونکہ نتائج نے مجھے ورطہء حیرت میں ڈال دیا ۔ میں نے Magic square بنانے کے لئے جو اپناطریقہ کار اختیار کیا تو نتائج Infinity کی طرف جا نکلے۔
25x25 کے Magic square کی تعداد کا تعین کرنا چاہا تو عقل دنگ رہ گئی۔بنیادی طور پر یہ ایک Math magic carpet کاFormula ہےجس میں Root numbers اور Prime numbers مل کر Magic square کی تشکیل کرتے ہیں۔جو نمبرز ہمیں سامنے دکھائی دیتے ہیں وہ ان دونوں کا مجموعہ ہوتے ہیں۔ یہ Associative Magic square کہلاتے ہیں کیونکہ ہر جوڑا مرکزی نمبر سے گزر کر ایک دوسرے کے ساتھ ملتا ہے۔
کسی بھی ایک Odd order کے Magic square جس میں کہ Root numbers ساکن رہتے ہیں اور Prime numbers کے جوڑوں میں موجود نمبرزکی ردو بدل سے مزید Magic square بننے کی استعداد موجود ہوتی ہے۔ جس کا فارمولہ P(n , r) =? ہے۔
25x25 کے Magic square میں 12 عدد Number pairs میں Math magicبننےکی استعداد Permutation nPr calculator کی رُو سے 479,001,600 ہے اور 51x51 کے Magic squareمیں 24 عدد Number pairs میں Magic square بننے کی استعداد 15,511,210,043,330,985,984,000,000ہے۔
یہ رزلٹ کسی مفروضے اور قیاس کی بنیاد پر اخذ نہیں کئے گئے۔ یہ ایک فارمولہ ہے جو منطقی ہے اور یہ خوبی صرف اور صرف کچھوے کی پشت پر بنے ڈاٹس کے پیچھے چھپے فارمولہ کی بدولت ہے جو کہ ایک حقیقت ہے ۔
25x25
51x51
لیکن!
آج حقیقت میں کچھ اور بتانا مقصود ہے۔ آیت الکرسی اورسورۃ النور کی ایک آیت کا اس Magic square سے نسبت دلچسپی سے خالی نہیں۔ آج ہی ایک ویڈیو میری نظر سے گزری جس میں ان دونوں آیات کا الگ الگ توازن اور تناسب بہت خوبصورتی اور مثالوں سےجس طرح بیان کیا گیا۔وہ Lo Shu magic square ( کچھوے کی پشت پر موجود) نمبرز سے ہو بہو مطابقت رکھتا ہے۔قرآن مجید میں بیان کئے گئے اکثر الفاظ کاتوازن اور تناسب خالق کائنات کی عظمت اور قدرت کی دلیل ہے۔
"آیت الکرسی کا مطلب ہے بادشاہی کی آیت کیونکہ اس میں اللہ کی بادشاہت اور اس کی طاقت بیان کی گئی ہے۔ آیت الکرسی ایک مکمل آیت ہے اور اپنے معنی کے اعتبار سے بہت طاقتور ہے۔ اس آیت میں اللہ کی تعریف اور اسکی بادشاہت کا ذکر کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ایک مکمل اور طاقتور ذات ہے۔ اپنی اسی خصوصیت کے باعث آیت الکرسی انسان کو خطرات اور دوسری بلاؤں سے محفوظ رکھنے کے لئےموثر ہے۔
آیت الکرسی کی وضاحت
آیت الکرسی کے نو حصے ہیں مگر ان نو حصوں کو اللہ نے بہت ہم آہنگی سے بنایا ہے
یہ آیت الکرسی کا حصہ دوئم اور ہشتم ہے. ان حصوں کو اگر گہرائی سے دیکھا جائے تو دونوں میں اللہ کے بارے میں ایک ہی بات بیان کی گئی ہے کہ وہ کسی قسم کی تھکاوٹ سے پاک ہے. جب اللہ کسی چیز کی حفاظت کرتا ہے تو اسے نہ نیند آتی ہے نہ اونگھ اور زمین و آسمان کی نگرانی بھی اللہ کو تھکاتی نہیں ہے
یہ اس آیت کا تیسرا اور ہفتم حصہ ہے. ان دونوں کو دیکھنے سےمعلوم ہوتا ہے کہ یہ آپس میں ملتے جلتے ہیں. ان حصوں میں اللہ انسان کو باور کرواتا ہے کہ وہ نا صرف زمیں و آسمان کا مالک ہے بلکہ تمام کائنات میں پھیلی ہوئی ہر شے کا بادشاہ بھی ہے.
اس چوتھے اور چھٹے حصے میں اللہ انسان کو اس کے کمزور اور اللہ کے محتاج ہونے کی یاددہانی کرواتا ہے اور پھر کہتا ہے کہ سوائے اس انسان کے جسے اللہ خود طاقت عطاکرے
يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ
یہ اس آیت کا درمیانہ اور پانچواں حصہ ہے. اس میں اللہ انسان کو بتاتا ہے کہ وہ جانتا ہے کہ اس آیت میں اس نے پہلے کیا بیان کیا ہے اور بعد میں کیا بیان کیا ہے "
قرآن مجید میں بیان کئے گئے اکثر الفاظ کاتوازن اور تناسب خالق کائنات کی عظمت اور قدرت کی دلیل ہے۔ قرآن میں متضاد الفاظ جو ایک ہی تعداد میں آتے ہیں اُن کی تعداد بہت زیادہ ہے ، ان میں سے چند یہاں بیان کرتا ہوں۔
(Allah loves - 17 times_Allah loves not - 17 times)
(Love-17 times_Hate-17 times)
(Angels – 88 times _ Devils – 88 times)
(This word – 115 times _ Next world – 115 times)
(Heat – 4 times_ Coolness – 4 times)
(Summer – 1 time _Winter – 1 time)
(Worry – 13 times _Reassurence – 13 times)
(Close– 10 times_Away – 10 times)
(Belief – 25 times_Disbelief – 25 times)
(Benefit-9 times _ Harm – 9 times)
(East Sunrise – 16 times_ West Sunset – 16 times)
(Your day – 5 times_Their day – 5 times)
(Old man - 4 times _ Old woman - 4 times)
(Child (opposite to old people above) - 4 times)
(Obedience-3 times_Disobedience-3 times)
(Sleep/Dream - 7 times_ Vision - 7 times)
اس کے ساتھ ساتھ ایک جیسے الفاظ کی تعداد اتنی ہے کہ ان سب کا یہاں احاطہ کرنا مشکل ہے۔ چند ایک پیش خدمت ہیں۔
(Sun – 33 times _ Light (singular)- 33 times)
(Preach – 25 times_ Tongue/Language – 25 times)
(That day (refering to Judgment day) – 70 timesJudgment day – 70 times))
(War – 4 times_Prisinors of War – 4 times _ Spoils of War - 4 times_Painful Penalty - 4 times)
(The Kingdom – 20 times_The Throne – 20 times)
(Bees - 1 time_Honey - 1 time)
خالق کائنات نے اپنی تخلیق کردہ ہر جاندار اور بے جان حتی کہ اپنے کلام کو بھی الفاظ کے توازن اور تناسب کا حسن بخشا ہے۔ قرآن پاک کی تلاوت میں جو لہن و چاشنی ہے ، اس کے پیچھے الفاظ اور آیات میں توازن اور تناسب ہے۔ یہی وجہ تھی جب کفار جو قرآن کو انسان کا کلام کہتے تھے ان کو چیلنج دیا گیا کہ" اگر تم شک میں ہو میرے بندے پر نازل شدہ کتاب کے بارے میں تو اس جیسی کوئی ایک سورت ہی لےآؤاور اللہ کے سوا جو کوئی تمہارے مدد گار ہیں انہیں بھی بلا لو"۔
Magic squareکی حقیقت کو میں نے کائنات کے سر بستہ راز جان کر دن رات ایک کر دیا، جس نے مجھے تھکا دیا ۔ صرف اعداد کا جادو میرے لئے کافی نہیں تھا ۔ نمبرز کےٹوٹل اور جوڑے صدیوں سے انسان بناتے اورسمجھاتے آ رہے ہیں اور میں انہیں قرآن میں تلاش کر رہا تھا۔آج اچانک ہی ایک ویڈیو میری نظروں کے سامنے آئی تو میری خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی۔پچھلے 6 ماہ سے ستاروں میں جو تلاش کر رہا تھا۔ مجھے قرآن سے مل گیا۔آج میرا تجسس ، میری جستجو اور میری تحقیق ختم ہو گئی۔