Sunday, February 20, 2011

کچھ کھٹی کچھ میٹھی باتیں

7 comments
بتیس فلموں کے گانے لکھنے والے مشہور نعت خواں اور نعت گو شاعر مظفر وارثی اب ہم میں نہیں رہے ۔میں انہیں ایک نعت گو شاعر کی حیثیت سے ہی جانتا تھا ۔ مگر ٹی وی پر ان کی فلمی شاعری کے نمونہ کلام سننے پر احساس ہوا کہ اچھا ہے کہ انہوں نے آج کے دور میں فلمی گانے نہیں لکھے ۔
ورنہ آج ڈنڈا ، پنڈا ، آم ، منجی اور گڈی جیسے الفاظ استعمال میں زو معنی ہو جاتے یا پھر سارا شہر ہی بلو کی طرح کسی نیلی کے گھر کی طرف لائن میں کھڑے ہونے والوں کو کوستا ۔ جیسے ہندوستانی فلمیں سننے میں تو اعتراضات کی زد میں کم ہیں مگر دیکھنے میں اپنے بس سے باہر ہیں ۔ دوسری طرف ہماری فلمیں اور سٹیج ڈرامے دیکھنے میں اعتراضات کی زد میں کم ہیں ۔ مگر سننے میں اپنے بس سے باہر ہیں ۔ایسی ایسی شاعری کا نمونہ کلام اور مکالمہ بازی پیش کی جاتی ہے کہ کہنے کو دل چاہتا ہے کہ علموں بس کریں او یار !
گڈی وگوں آج مینوں سجنا اُڑائی جا کی بجائے فٹ بال وگوں مینوں سجنا میدان وچ پھجائی جا ہوتا مزا دوبالا ہونے کا چانس تھا ۔کیونکہ گڑی سے ہمارا پرانہ رشتہ ہے ۔ گڈی یعنی پتنگ اُڑانے کا شوق بچپن سے تھا ۔ سب سے پہلے خوبصورت رنگوں کا انتخاب ہوتا ۔پھر اس کی بناوٹ اور آخر میں کاریگر کے ہاتھ کی صفائی کے بعد صرف ہماری کاریگری کی محتاج رہ جاتی وہ گڈی ۔جس کے کندھوں اور کمر پر ڈور باندھنا یعنی تلاویں ڈالنا کسی فن سے کم نہیں ہوتا ۔
اچھا پتنگ باز ہوا کی رفتار کے مطابق گڑی کے اگے پیچھے گانٹھیں انتہائی مہارت سے لگاتا ۔ تیز ہوا میں اگلی گانٹھیں زیادہ باندھی جاتیں تاکہ ہوا کے زیادہ زور سے گڈی ٹوٹ یا پھٹ نہ جائے ۔اگلی اور پچھلی گانٹھوں میں کمی بیشی کا دارومدار ہوا کی رفتار سے بہت گہرا ہوتا ہے ۔
زندگی بھر یہ سنتے آئے ہیں کہ شوہر بیوی گاڑی کے دو پہیوں جیسے ہوتے ہیں ۔جن کا برابر میں رہنا ضروری ہوتا ہے ۔مگر مجھے یہ دونوں گڈی میں لگائی گئی گانٹھیں محسوس ہوتی ہیں ۔جہاں حالات کے مطابق کبھی گانٹھیں آگے زیادہ تو کبھی پیچھے زیادہ لگائی جاتی ہیں ۔ تاکہ زمانے کی رفتار اور حالات کی تیزی میں تبدیلی کے عمل سے اپنا توازن برقرار رکھ سکیں ۔
ہماری معاشرتی زندگیاں کچھ ایسے ہی ہوا کی مانند کبھی اونچی اڑان میں تو کبھی زمین پر چپکی رہتی ہیں ۔جہاں بوقت ضروت شوہر بیوی ایک دوسرے سے رویوں میں گانٹھیں لگانے سے ایڈجسٹ کرتے ہیں ۔ تاکہ مشکل حالات میں اپنا توازن برقرار رکھ سکیں ۔اونچی اُڑان میں پھٹ جانے اور زمین پر گرنے سے تو بہتر ہے کہ رویوں کی گانٹھیں لگنے سے کچھ دیر ہوا کے سنبھلنے کے انتظار میں نیچی اڑان ہی برقرار رکھ سکیں ۔کیونکہ ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی ضد خوشیوں سے دور لے جاتی ہے ۔
رہتے ہم اکیسویں صدی میں ہیں ۔ اصول معاشرت کی علمبرداری انیسویں صدی کے طبقاتی نظام پر کھڑی ہے ۔جہاں عمر کی قید ، گھر کی آرائش ، حسن کی زیبائش اور دولت کی نمائش خواہشوں کی فرمائش پر رہتی ہے ۔
پھولوں کے کھلنے اور مہکنے کا ایک مخصوص موسم اور وقت ہوتا ہے ۔ پھلوں کے لگنے اور پکنے کے بھی موسم طے شدہ ہیں ۔وہ بھی آب و ہوا سے جدا نہیں ہیں ۔مٹی سے مانوسیت درجہ اول پر ہے ۔ صرف ایک بارش کا نہ برسنا ہی ان کے ساتھ ساتھ پرند چرند کو بھی سوچوں میں متغرق کر دیتا ہے ۔جو آج بھی صدیوں پہلے گزرے انسانوں کی طرح صرف پانی اور موسم کی تبدیلی سے ہجرت کرتے ہیں ۔
بات کہاں سے شروع کی اور کہاں جا پہنچی ۔ پڑھنے والے کہیں یہ نہ سمجھیں کہ باتوں کا کھٹا کھاتا ہوں ۔یہاں کھٹے سے مراد ترش نہیں بلکہ منافع ہے ۔اور منافع خوری ہمیں آتی نہیں ۔اس میں تو کوئی شک نہیں کہ آج کے دور میں لفظوں کی تجارت اپنے عروج پر ہے ۔اگر تجارت لکھنا اچھا نہ ہو ۔ تو پھر خود ہی انصاف کریں کہ ڈھیروں کے حساب سے اخبارات اور ٹی وی چینل کیا ہیں ۔
چارلی چپلن کی گونگی فلموں کا دور تو رہا نہیں ۔جب کم کم سننا بہرہ پن کی شکائت نہیں رکھتا تھا ۔اب تو اونچی آواز میں ڈیک پر گانے اور ٹی وی پر شادیانے نماز کی خشوع و خضوع میں بھی رکاوٹ نہیں رہے ۔دیکھنے میں آتا ہے کہ اگر خاوند حاجی ہو تو بیوی ضرور نمازی ہوتی ہے ۔لیکن اگر بیوی یہ دعوی جگہ جگہ کرتی پھرے کہ دیکھو شوہر نامدار کیسا نمازی بنایا تو خشوع و خضوع کی گارنٹی خود اس کے پاس نہیں ۔
ایسے شوہر رات دیر سے تھیٹر یا فلم دیکھ کو گھر لوٹنے پرنا گہانی آفت سے بچنے کے لئے کسی صوفی بزرگ کے مزار کی حاضری اور خصوصی دعا کا بہانہ تراش لیتے ہیں ۔ ان کی روحیں تو شائد پہلے ہی بعض وراثتی گدی نشینوں کے اعمال صالح کی بدولت ہدف تنقید رہنے پر پریشان رہتی ہیں ۔
ایسے چراغ جلیں گے تو روشنی ہو گی ۔تعلیم کی نئی روشنی نہ ہونے سے علم پہلے ہی ضعیف الاعتقادی کی بیساکھی پر کھڑا ہے ۔اور کوئی ہٹ دھرمی کے ستون پر ۔
مصر اور تیونس کی طرح سنا ہے کہ اب ہمارا ملک بھی انقلاب کے دھانے پر کھڑا ہے ۔ لیکن تاریخ تو بتاتی ہے کہ ملک کئی بار معاشی اور سیاسی انقلابات سے بحسن رضا گزر چکا ہے ۔اگر یقین نہیں تو معاشی انقلاب کی بدولت معرض وجود میں آئی سٹیل مل اب وبال جان ہے ۔ جان تو پی آئی اے کی بھی خطرے میں ہے ۔
جان کنی کا عالم ہو یا نہ ہو مگر گورکن تیار ہیں ۔
ان کی حالت زار تو "میں تو کمبل کو چھوڑتا ہوں مگر کمبل مجھے نہیں چھوڑتا "جیسی ہے ۔

Tuesday, February 15, 2011

آپ ﷺجزاب ہو راہِ صواب ہو

0 comments
آپ ﷺجزاب ہو راہِ صواب ہو
زرِ ناب ہو خندہ آفتاب ہو

اللہ اللہ یا رسول اللہ
اللہ اللہ یا محبوب اللہ

آپ ﷺرشاد محبوبِ رب العباد ہو
پرِ سرخاب ہو تَسخیرِ ماہتاب ہو

اللہ اللہ یا رسول اللہ
اللہ اللہ یا محبوب اللہ

آپ ﷺ اِتساہ باصفا اذعان ہو
باغِ رضوان ہو توقیر الوہاب ہو

اللہ اللہ یا رسول اللہ
اللہ اللہ یا محبوب اللہ

آپ ﷺ روشن سواد دل نہاد ہو
رشادی روشن جہان ِ تاب ہو

اللہ اللہ یا رسول اللہ
اللہ اللہ یا محبوب اللہ

آپ ﷺ چمن دلبہار اشہر نجم اطہر ہو
ہم صادق الاعتقاد کو امید ِ حسن الماب ہو

اللہ اللہ یا رسول اللہ
اللہ اللہ یا محبوب اللہ

میرے دلِ چاک کو آپ ﷺ فرحت ناک ہو
میں گوہر بے آب ہوں آپ ﷺگوہر خوش آب ہو

اللہ اللہ یا رسول اللہ
اللہ اللہ یا محبوب اللہ

میں مشت خاک ہوں آپ ﷺمصحف پاک ہو
میں نقش بر آب ہوں آپ ﷺنگہت مآب ہو

اللہ اللہ یا رسول اللہ
اللہ اللہ یا محبوب اللہ


برگِ بار / در دستک
محمودالحق

Tuesday, February 1, 2011

کھلتا جو گلاب ہے

0 comments
کھلتا جو گلاب ہے جلتاپھر یہ زمان کیوں
گزرا ہر نشیدہ پل بہکاتا نیا شیطان کیوں

تجھے آنا مشکل نہیں جانا ہی پھر امتحان کیوں
جگر کا گرم لہو قلب ہی پھر ارمان کیوں

چبھتا نہیں خار بھی ، پھول پھر پشیمان کیوں
ڈرتا تاریکی سے چاندنی مجھ پہ مہربان کیوں

کٹتا رہا قلب تنہا ، میرا تن نادان کیوں
بیتابیء جاناں میں پٹخنا سر ہی آسان کیوں

چاہتے شب وروز مسیحائی کم پھر انسان کیوں
لکھتا لوح قلم پہ ، پڑھتے نہیں پھر قرآن کیوں


محمودالحق
خیال رست / در دستک

اُٹھ نہیں پاتا جہاں میں بھاری لہو کیوں ہے

1 comments
اُٹھ نہیں پاتا جہاں میں بھاری لہو کیوں ہے
جوسمجھ ہی نہیں پاتا ایسی جستجو کیوں ہے

دشت ہو یا صحرا ، گلزار ہو یا ہو گلستان
بہلانے میں نہیں رنگ پھر ماہ نو کیوں ہے

دست میں رکھا دم ، پا سرِ خم کر دیا
قلب عشقِ امتحان ،عقل جامِ سبو کیوں ہے

بیان جو میرا نہیں مفہوم بھی تو تیرا نہیں
ڈستے مجھے اندھیرے پھیلایا آفتاب صبو کیوں ہے

اصلاحِ احوال نہیں رہتے جو دامان اِستاد ہو
پلک جھپکتی روشِ روشن قلب کسو کیوں ہے

زلفِ نار سے جھولتے ، مے خراب سے مستی نہیں
محبتوں کے رنگ ہیں تیرا فراق ہجو کیوں ہے

آسان نہیں سمجھنا لعاب ریشم کی دھار ِ کنار کو
قیام جہان میں تنہا ،سجدہ میں روبرو کیوں ہے


محمودالحق
خیال رستاں / در دستک

Saturday, January 29, 2011

حقائق کی حقیقت کیا ہے

3 comments
بہت سال پہلے جب میڈیا الیکٹرانک کی بجائے صرف پرنٹ پر انحصار رکھتا تھا ۔خبریں زیادہ تو جگہ کی کمی رہتی تھی ۔صفحہ اول پر صرف اہم خبریں جگہ بنا پاتیں ۔ انٹرٹینمنٹ انڈسٹری یعنی فلم ٹی وی کی جگہ اندرونی صفحات تک محدود تھی ۔
جس رہنما کو عوامی پزیرائی کا طوق پہنانا مقصود ہوتا تو ایک آدھ بیان کسی غیر اہم موضوع پر چھاپ دیا جاتا ۔
دنیا گلوبل ویلج بننے سے خبریں اخبارات کی زینت بننے سے زیادہ میڈیا پر اشتہاری حیثیت میں پہنچ رکھتی ہیں ۔میڈیا کی بدولت بعض انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کی غیر معروف ثخصیات اتنی قد آور بنا دی جاتی ہیں اور ٹی وی و اخبارات میں دکھا دکھا کر عوامی سروں پر بٹھا دیا جاتا ہے ۔انہیں یہ پزیرائی کسی فلاحی کام میں کارہائے نمایاں سرانجام دینے کی خوشی میں نہیں ہوتی ۔بلکہ فیشن ، حسن اور سکینڈل سے ناموری پانے کے اعزاز کی بدولت ہوتی ہے ۔
کئی سال پہلے اسلام آباد کے ایک ہوٹل میں ایک صوبائی وزیر کی بیگم نے کامیاب چھاپہ کے بعد اچھی درگت بنائی تھی ۔اسی طرح دوسری بڑی پارٹی کے اعلی و ارفع رہنما عدالت میں نکاح نامہ پیش کر کے جان بخشی کروا چکے ہیں ۔
ثقافتی سفیر کے خطابات سے نوازنے میں میڈیا ایک اہم کردار ادا کرتا ہے ۔اور جب ان کا وہی بےباک پن اپنی حدو ں کے ساتھ ملکی سرحدوں سے باہر بھی نکل جائے تو وہی کردار میڈیا پر عزت کا جنازہ جا رہا ہے گاتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ ان پر لگائے جانے والے عوامی اعتراضات کو ایک بار پھر الیکٹرانک میڈیا سے بھرپور نمائندگی کے حق کی طرح پیش کیا جاتا ہے ۔اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ انہیں وطن اسلام پاکستان کی نمائندگی کے حق سے دستبرادری پرمجبور نہیں کیا جاسکتا ۔
طوائف الملوکی کے شکار ملک میں سیاست وظائف سے ایسے ہی خوش ہوتی ہے جیسے طوائف تحائف سے راضی رہتی ہے ۔لاکھوں کی گاڑیاں ، کروڑوں کے بنگلے اور یورپ کے دورے کنگلوں کی حق حلال کی روزی سے بہت اوپر ہوتے ہیں ۔ان کے لئے الٹا سوال یہ رہ جاتا ہے کہ بچت نہ کر کے حج و عمرہ کی سعادت سے کیوں محروم ہیں ۔
حیرت ہوتی ہے کہ کیسی سوچ پنپ رہی ہے ۔دولت کا ہونا ہی عزت رہ گیا ہے ۔ زرائع چاہے کوئی بھی استعمال میں لائے گئے ہوں ۔اور نہ ہونا کسی گناہ سے کم درجہ نہیں رکھتا ۔
آبدوزوں کے کمیشن ہوں ، سٹیل مل کی نجکاری کا معاملہ یا بنکوں کی نجکاری میں بندر بانٹ ۔ ٹیکس نا دہندگان کے شمار کا کوئی تصور ہی نہیں ۔اربوں کھربوں کے مالک سالانہ ٹیکس دینے میں یورپ امریکہ کے ایک پرچون فروش سے بھی غریب دکھائی دیتے ہیں ۔
انتہا تو یہ ہے بیرون ملک اعلی تعلیم کے سکالرشپ کی بندر بانٹ میں معمولی ایم پی اے یا ایس پی اور ڈپٹی سیکرٹری کے درجہ تک درجہ چہارم میں آتے ہیں ۔ بڑے مگر مچھ شکار ہڑپ کرنے میں کوئی سستی کا مظاہرہ نہیں کرتے ۔ ثبوت کے طور پر نام لے بھی دوں تو کوئی فرق نہیں پڑنے والا ۔کیونکہ ہر کوشش کے بعد ہماری رائے یہ ہوتی ہے کہ انگور کھٹے ہیں ۔اگر ایک لسٹ اخبارات کے زینت بن بھی جائے تو ہم قہقہہ لگا کر دو گالیوں سے مطمعن ہو جاتے ہیں کہ سب چور ہیں ۔حالت تو ایسی ہے کہ
زہر مجھ کو ملتا نہیں وگرنہ کیا قسم ہےتیرے ملنے کی کہ کھا بھی نہ سکوں
زمانہ کی چال بدلی ہے چلن نہیں ۔پہلے سیاسی مذہبی رہنما انسانی دماغ کی رفتار بڑھانے والے مشروب کی نسبت خطاب سے نوازے گئے اب گاڑیوں کی رفتار بڑھانے والی گیس سے عزت افزائی پاتے ہیں ۔
حکمرانی حج و عمرہ کی ادائیگی بھی اب ایسے ہی مال مفت دل بے رحم کے مصداق دعوت طعام کی طرح اڑائی جاتی ہے ۔اس کے گھر میں اپنی ترقی و منزلت کی مزید دعا پڑھواتے ہیں ۔
اقتدار کا حصول ایسے ہے جیسے جوتیوں میں دال بٹ رہی ہو ۔ کوئی ایسا لیڈر ہے جو کسی فتوی کی زد میں آئے بنا اس قوم کی کشتی کو کنارے لگا سکے ۔قومیں دہائیوں میں ظلمت کی جس گہرا ئی میں اترتی ہیں ۔ صدیوں میں اس بھنور سے نکلتی ہیں ۔مذہبی اور سیاسی تحریکیں طاقت ور پروں کی پرواز رکھتی ہیں ۔این جی اوز بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جاتی ۔ مگر معاشرتی اصلاح کے لئے صرف انقلاب کا دروازہ کھلنے کا انتظار رہتا ہے ۔
سن تو یہ رکھا کہ جیسا دیس ویسا بھیس ۔ اب یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ جیسی ریاست ویسی سیاست ۔ اردو زبان کی خدمت کے دعوی دار تمام فورمز پر یہ ذمہ داری عائد کی جا سکتی ہے ۔ کہ آگے بڑھیں اور نوجوان نسل کو محبت کے اشعار ، گپ شپ موضوعات اور مذہبی اختلافات کو بھلا کر اس طرف بھی توجہ دلائیں کہ ہم ایک ہیں ۔کسی بھی فورم میں جھانکیں سب سے غیر اہم موضوع پاکستان نکلتا ہے ۔ جہاں لکھنا اندھے سے تختی لکھوانے کے مترادف ہے ۔ہمارے دعوے بڑے اور برداشت میں کمی ہے ۔ موقع ملنے پر اگر سننا اچھا نہ ملے تو تنقید چاہے مثبت کیوں نہ ہو برداشت کرنا زرا مشکل ہے ۔

دلوں کا حال اللہ سبحان تعالی بہتر جانتا ہے ۔

Friday, January 28, 2011

جینے کا ڈھنگ ہمیں بھی سکھا دو

4 comments
بچپن سے لیکر آج تک اس بات کو سمجھنے میں دقت محسوس کرتے آ رہے ہیں ۔ کہ مجھے کیا ہونا چاہئے تھا ۔ ڈاکٹر ، وکیل ، پروفیسر ، سیاستدان یا پھر بزنس مین ۔ کسی کے قریب سے ہو کر گزر گئے ۔ کسی نے ہمیں قریب نہ پھٹکنے دیا ۔ بہت کچھ بن کر بھی کچھ نہ بن سکے ۔ جو رنگ اپنایا ۔ آنکھوں کو چندھیا دیتا ہے ۔ مگر جو دیکھ لیں پھر گہرے اور پکے رنگوں کی طرح اپنا اثر نہیں چھوڑتا ۔

تعلق ضرور چھوٹتے رہے ہیں اور رہیں گے ۔ اتنا آسان ہے یہ کہہ دینا کہ آئی ڈونٹ کئیر ۔ایک نسل سے تعلق رکھنے والے چوپائے ایک دوسرے کے لئے خطرہ نہیں ہوتے ۔ مدمقابل مخالف جنس رہتی ہے ۔ مگر ہمارے مقابل ہمیشہ میرے اپنے رہتے ہیں ۔جو ہماری طرح ہی سنتے بولتے چلتے ہیں ۔

شائد ہم وقت سے پہلے بوڑھے ہو جاتے ہیں۔ستر اسی سال کی زندگی چند گھڑیوں سے زیادہ دیکھائی نہیں دیتی ۔ اس میں کوئی شک بھی نہیں پیچھے مڑ کر دیکھیں تو چند لمحوں میں زندگی فلم کے ٹریلر کی طرح چل جاتی ہے ۔

آنے والا دور وقت اور حالات کی بہتری کے انتظار میں خواہشوں کے بل پر صدیوں پر چلا جاتا ہے ۔ جب خواہشیں خوشی کی آرزو پر ہوں تو حسرتوں کے پنپنے میں ماحول کو سازگاری کے لمحات میسر آتے ہیں ۔

ہر طرف من موجی متوالوں کا رش بے مہار ہے ۔ ایک بار جینے کی ایسی لغت کا استعمال کرتے ہیں کہ جینا ایک وقت کے بعد لعنت بن کر رہ جاتاہے ۔

گاڑی نئی ہو یا پرانی ، گیس تیل کے بنا دھکے سے دھکیلنے کے قابل رہتی ہے ۔ بے احتیاطی ، تیز رفتاری اس کے پرزوں کی مدت معیاد کو کم کر دیتا ہے ۔ اور اس کی قدر و قیمت بھی نام سے نہیں کام سے رہ جاتی ہے ۔

بچوں میں گڑا ،گڑیوں کے شادی کے دور کا خاتمہ ہو گیا ۔ جب وہ اپنے بچپن کے بچپنے میں جوانی میں نبھانے کے رشتے معصوم خیالات سے کھیل کود میں سیکھ جاتے تھے ۔ لڑکیاں سگھڑ پن کی انتہا تک پہنچ جاتی تھیں ۔ لڑکے تابعداری میں زنان خانہ میں گھنگھارتے ہوتے گزرتے ۔ اب اتنے گھر میں کمرے نہیں جتنے دروازے ہوتے ہیں ۔ ہر دروازہ ایک گھر کی حیثیت اختیار کر گیا ہے ۔ جس سے آگے جانا دستک کے بغیر ممکن نہیں ۔

کتابوں نے انسان کو اتنا عالِم بنا دیا کہ سارا عالَم اس کے سامنے عام ہو گیا ۔سوچ علم کے تابع ہو گئی ۔ شاگرد ختم ہو گئے ۔ استاد زمانہ جنم لے چکے ۔جن کی کتابوں نے پڑھنا سکھایا وہ اب پھر کتابیں کھولے بیٹھے ہیں ۔ کہ کہاں وہ ایسالکھ بیٹھے ۔ کہ وہ دوبارہ پڑھنے پڑ گئے ۔

Monday, January 10, 2011

رضوان سے ایک تعارف

2 comments
چند روز ہوئے ایک سیاہ فام نوجوان میرے پاس ایک کاروباری کمپنی کی طرف سے آیا ۔ اور اپنے آنے کا مقصد بیان کیا ۔ کچھ کمپنی کےفضائل پیش کرنے کے بعد اپنا فون نمبر نام کے ساتھ چھوڑ کر اجازت چاہی ۔ میں نام دیکھ کر چونک گیا ۔
رضوان !
یہی نام تھا اس کا ۔ میرے استفسار پر بتایا کہ چار سال پہلے اس نے اسلام قبول کر لیا ہے ۔ ایک بیٹے کا نام ابراہیم اور دوسرے کا عمر رکھا اس نے ۔ میرا نام جاننے کے بعد اپنے ٹرک میں سے قرآن پاک ، انگلش ترجمہ اور کئی ایک اسلامی کتب نکال لایا ۔ میں حیرانگی سے اسے دیکھتا رہا کہ کام کے دوران میں اتنی کتب کا کیا کام ۔ میرے سوال پر اس نے بتایا کہ جب بھی اسے دوران ملازمت وقت میسر ہوتا ہے اللہ سبحان تعالی کے ذکر سے مستفید ہوتا ہے ۔ اور اپنی زندگی کو صحیح اطوار پر رکھنے کے لئے اسلام کے لافانی اور لاثانی ضابطہ حیات کو سمجھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کے لئے مطالعہ کرتا ہے ۔
وہ تو چلا گیا مگر اپنے پیچھے میرے لئے کئی سوال چھوڑ گیا ۔ اللہ اور اس کے محبوب کے ذکر سے کتنا خوش تھا ۔جو اس کے چہرے سے عیاں تھا ۔ اور مجھے بھی ان کتابوں کا حوالہ دئیے جارہا تھا ۔ اور میں بھی اس کے اشتیاق میں برابر دلچپسی لیتا رہا ۔
ایک لمحے کے لئے میرے دل میں خیال پیدا ہوا کہ اسے اپنا تعارف پیش کروں کہ کس ملک کی مٹی سے میرا تعلق ہے ۔ کن اسلاف کی نیابت میں سنبھالے ہوئے ہوں ۔ ہم نے کتنی قربانیوں کے بعد وطن پاکستان حاصل کیا ہے ۔ نوجوانوں اور بوڑھوں کو تیغ زن کیا گیا ۔ بچوں کو نیزوں میں پرو دیا گیا ۔ لڑکیوں کو ہوس کے پجاریوں نے ایک لاش بنا کر اپنی دھرتی پر زندہ درگور کر دیا ۔
لیکن ہم اپنے مقصد سے نہیں ہٹے ۔ پہلے بھی ہم میں غازی علم دین شہید پیدا ہوتے رہے ۔ ہندو کو اتنی جرآت نہیں دی کہ وہ ہمارے اسلام یا ہمارے ایمان پر نشتر چبھو سکے ۔ اٹوٹ انگ کا اس کا خواب چکنا چور کر دیا ۔ اس کے مغرب اور مشرق دو بازوؤں پر مشتمل پاکستان گھیرا ڈالے تھا ۔ وہ اپنے آپ کو ہماری گرفت سے نکالنا چاہ رہا تھا ۔ اور ہم ایک دوسرے کی گرفت سے ۔
دلوں کی کھیتی جو ہری بھری تھی ۔ جو ذکر سے کھلی کھلی تھی ۔اپنے آپ کو سچا ثابت کرنے میں ساری توانائیاں خرچ کر دی گئی ۔ پہلے بازو کی گرفت ڈھیلی پڑی پھر ایک دوسرے سے ہی آزاد ہو گئے ۔ اب مشرق اور مغرب صرف سورج کے لئے ہیں ۔ اب ہم صرف مغرب ہیں ۔ مشرق ہمارا سنہ 71 میں غروب ہو چکا ۔ آج ہم مغرب سے طلوع ہونے کو دنیا کے لئے پیغام بننے جا رہے ہیں ۔
میں حیران تھا کہ رضوان شائد ہماری نئی تاریخ سے بھی آگاہ نہیں ۔ ہم اپنی ہی مساجد کو نشانہ بنائے ہوئے ہیں ۔ پٹاخوں کی گونجدار آواز میں خون کے فوارے بہانے میں سکون پاتے ہیں ۔
ہم سب ---- ہیں ۔ نعوذبااللہ ۔ کیونکہ ہم ایک دوسرے کو اس نام سے پکارتے ہیں ۔ ہمارے عقائد ہی ہمارا دین ہے ہمارا اسلام ہے۔ جو ہمارا امام ہے ۔ ایک دوسرے کو ایسے طعنے دیتے ہیں ۔ کہ پاکستان پاک نہیں رہ جاتا شرکستان معلوم ہوتا ہے ۔ جو دوسرے کریں وہ غلط جو ہم کریں وہ ٹھیک عین اسلامی جو قرآن و سنت سے ثابت بھی کیا جا سکتا ہے ۔
رضوان تم کتنے بھولے ہو مجھے قرآن پاک اور احادیث کی کتب کا بتا رہے ہو ۔ ہم مہینوں سالوں اس پر بحث کر سکتے ہیں کہ کون علمی بد دیانتی کر رہا ہے ۔ کس کے عقائد فاسق ہیں ۔ ہم اتنی جلد متفق نہیں ہوتے ۔ عمل اگر نہ بھی ہوں تو کوئی حرج نہیں وہ اللہ اور اس کے بندے کا معاملہ سمجھا جاتا ہے ۔ ہمیں تو حکم ہے صفیں درست کرنے کا ۔ اعمال کی درستگی اتنی ضروری نہیں سمجھتے ۔
کیا کہا تم نے چار سال پہلے شہادۃ پڑھی کہ
میں گواہی دیتا ہوں کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اﷲ کے رسول ہیں۔
مگر یہ جاننا تمہارے لئے بہت ضروری ہے کہ آپ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے محبت کا مقام کس حد تک ہے کیونکہ اب تم جس مذہب میں داخل ہوئے ہو وہاں تمہیں ان سوالات کا بھی جواب دینا پڑ سکتا ہے ۔
جتنا تم جان جاؤ دوسروں تک پہنچاؤ بلکہ انہیں منوانے تک جاؤ ۔ علم کا اتنا پانا ضروری نہیں ۔ دس بیس کیسٹس میں تیار لیکچر تمہیں اسلام کے دائرہ میں داخل صحیح افراد کی نشاندہی کر دیں گے ۔ ہاتھ آیا موقع گنوایا نہیں جاتا یہاں ۔ ایک دنیا پرست ، مفاد پرست کی بنیاد پر ساری امت کے ایمان کو دھویا جا سکتا ہے ۔
زیادہ گہرائی میں مت جانا کہ ہم نے صدام حسین کو عالم اسلام کا ہیرو کیوں بنا دیا تھا جب کہ اس نے ایک ہمسایہ اسلامی ملک کویت پر قبضہ کر لیا تھا ۔ کیوں ہر کار ، ویگن اور دوکان پر صرف اسی کا پوسٹر چسپاں تھا ۔ملک کی تاریخ میں شائد ہی اس سے زیادہ پوسٹر کسی کا فروخت ہوا ہو ۔
یہ سوال بھی ہم سے نہ پوچھنا کہ اکثر اسلامی ممالک میں موروثی بادشاہت ہمیں قبول کیوں ہے ۔لیکن ہمارے ہاں تمہیں بادشاہت نہیں ملے گی ۔ کیونکہ ہم صرف موروثی سیاسی و مذہبی قیادت پر یقین رکھتے ہیں ۔
جو ملک ووٹ ، عوامی سپورٹ سے بنا تھا اب لوٹ کھسوٹ سے چلتا ہے ۔
ایک بات کا خیال رکھنا قدم بوسی کی اجازت چاہنے کا استعمال کبھی غلطی سے بھی نہ کرنا ۔ بے علم بھی نسبت رتبہ سے سجدہ تک پہنچا دے گا ۔ ہندوستان کے ہر دلعزیز بادشاہ اکبر اعظم کے دین الہی کا مطالعہ شائد تمہیں مدد دے سکے ۔ یہ بادشاہ تو نہیں مگر شاہ گری کے کمالات سے بخوبی واقف ہیں ۔ دنیا کے خزینے سمیٹتے اور اللہ کی رحمتیں بانٹنے کے دعوےدار ہیں ۔
مگر رضوان !
یہ سو فیصد حقیقت نہیں ۔
اکثریت کا ایمان تو اللہ سبحان تعالی اور اس کے پیارے محبوب نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے بڑھتا نہیں ۔ جتنا سمجھنے کے لئے سوچ لیتےہیں ۔ ڈر ختم نہیں ہوتا کہ کہیں اللہ تعالی کی حدود سے نہ آگے بڑھ جائیں ۔
ہم کسی کو بھی برا نہیں کہ سکتے کیونکہ سب ہی اللہ سبحان تعالی کےنام لیوا ایمان کے خزینوں سے بھرے قلب رکھتے ہیں ۔ ہم گناہگاروں سے بہت اچھے ہیں ۔
یہ دعا ہے کہ ہمیں ایمان کی سلامتی اور صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرما ۔ آمین

تیری عنایات ہیں اتنی کہ سجدہء شکر ختم نہ ہو
تیرے راستے میں کانٹے ہوں میرا سفر ختم نہ ہو
پھیلا دوں روشنی کی طرح علم خضر ختم نہ ہو
توبہ کرتا رہوں اتنی میرا عذر ختم نہ ہو
سجدے میں سامنے تیرا گھر ہو یہ منظر ختم نہ ہو
تیری رحمتوں کی ہو بارش میرا فقر ختم نہ ہو
مجھ ادنیٰ کو تیرے انعام کا فخر ختم نہ ہو
جہاں جہاں تیرا کلام ہو میرا گزر ختم نہ ہو
تیری منزل تک ہر راستے کی ٹھوکر ختم نہ ہو
آزمائشوں کے پہاڑ ہوں میرا صبر ختم نہ ہو
زندگی بھلے رک جائے میرا جذر ختم نہ ہو
وجود چاہے مٹ جائے میری نظر ختم نہ ہو
تیری اطاعت میں کہیں کمی نہ ہو میرا ڈر ختم نہ ہو
بادباں کو چاہے کھینچ لے مگر لہر ختم نہ ہو
خواہشیں بھلا مجھے چھوڑ دیں تیرا ثمر ختم نہ ہو
تیری عبادت میں اتنا جیئوں میری عمر ختم نہ ہو
بھول جاؤں کہ میں کون ہوں مگر تیرا ذکر ختم نہ ہو
جاگوں جب غفلتِ شب سے میرا فجر ختم نہ ہو
تیری محبت کا جرم وار ہوں میرا حشر ختم نہ ہو
تیری حکمت سے شفایاب ہوں مگر اثر ختم نہ ہو
میرے عمل مجھ سے شرمندہ ہوں مگر فکر ختم نہ ہو
منزلیں چاہے سب گزر جائیں مگر امر ختم نہ ہو
سپیدی و سیاہی رہے نہ رہے مگر نشر ختم نہ ہو
دن چاہے رات میں چھپ جائے مگر ازہر ختم نہ ہو

Saturday, January 8, 2011

غمِ آنسو بہہ جائیں تو گلزار بھی صحرا ہوا

0 comments
غمِ آنسو بہہ جائیں تو گلزار بھی صحرا ہوا
تمہیں شائد اچھا ہوا مگر برا تو میرا ہوا

کہاں رہ گئیں ساون رُت کیا ابرِ برسات ہوئی
زندگی کو عزیز جانا مگر اس کو میں برا ہوا

دامن کو میں نے پھیلایا سینہ بہ سینہ چھپایا
رازِ زباں رہتا کاغذ پہ قلمِ بیاں ٹھہرا ہوا

بلبل نغمہ سرا ہوا تو کوئل نے چپ سادھ لی
خوفِ صیاد سے شاہیں کا گنبدِ سلطانی پہ بسیرا ہوا


ٹھوکر پہ تھا جن کے زمانہ خود سے ستائے ہوئے
آغوشِ محبت میں بھی تحفظ ارمان ڈرا ہوا

آرامِ جہاں میں بے چین زماںِ گنجان میں انجان
ماہی بے آب کا ہے رقص تماشائیوں نے گھیرا ہوا

مدحت سرائی میں جھولاتے جھولا زہر بھرے ہیں خنجر آستین
جگاتے کیا غفلت شب سے ضمیر تو ہے مرا ہوا

محمود راہ تو اچھی تھی سفر تیرا کچھ مشکل ہوا
منزل شب تو اچھی تھی دن کا اب سویرا ہوا


بر عنبرین / محمودالحق

بام رادِ تنہائی میں اُٹھتی ہوک صدا الکبیر

0 comments
بام رادِ تنہائی میں اُٹھتی ہوک صدا الکبیر
بے نام و نشان میں سوتی قسمت تو کھوتی تقدیر

روحِ روشن سے ہے جلتے چراغ میں روشنیٔ قلب
وہمِ طوفاں سے بْجھتی ایمان کفِ دستگیر

چاہتا ہوں ہر چراغ سے ایک ہی امیدِ کرنِ صبح
الفاظِ اوراق میں الگ رنگِ تفسیر بشیر و نذیر


محمودالحق

Sunday, January 2, 2011

درِ دستک سے چند اقتباس

0 comments
یو ٹیوب پر دیکھیں

Thursday, December 30, 2010

تمہاری یاد کے آنسو

4 comments

Tuesday, December 21, 2010

ایک بے وفا کے نام

6 comments
تجھے اپنا بنانے کی قسم تو نہیں کھائی تھی ۔ مگر تجھے چھوڑنے کے ارادے کا گناہگار بھی نہیں ۔ تیری یادیں نسیم صبح کے جھونکے تھے ۔ ہواؤں پہ رقص کرتی تیرے قہقہوں کی کھنک کانوں میں سرگوشی میں مستی کرتی ۔میں بھولا کہ زمین سے دور اُٹھتے تمازت آفتاب میں کیسے سہم جائے گی نسیم سحر ۔
جنہیں یاد تھا اپنا درد، قصہ سنا کر اپنی راہ پر چل دئے ۔ دھول میں اُڑتے جیسے بادل۔یادیں آنکھوں سے بہہ بہہ کر گر پڑے ۔کفن پہنی رہ گئی حسرتیں ۔ آرزوؤں نے غسل دیا ۔خواہشوں نے پھولوں کی چادر چڑھائی ۔
جنازہ صرف پڑھایا گیا ۔ دفنایا خود سے گیا ۔
لوٹ پھر سے گئی حسرتیں ، آرزؤئیں ،خواہشیں ۔
پھر کندھوں پہ سجائے کسی اور کو دفنانے ۔
صدیوں سے لحد میں اتار اتار کر پھر لوٹ جاتیں کسی بے وفا کی طرح ۔نئے محبوب کی تلاش میں جو ہاتھ بڑھائے خود مرنے کی آرزو میں مچل مچل جاتے ۔
ایک کے بعد ایک اپنا کھو تے چلے گئے مگر بے وفائی سے دامن اپنا نہ بچا سکے ۔ بچایا بھی تو صرف دو گز زمین ۔ اپنے ہاتھوں سے جس کی آرائش نہیں ۔ فرمائش کی تو گنجائش نہیں ۔ کھلے آسمان سے جو ڈرتے بند زمین میں رکھتے پناہگاہیں ۔
فیصلہ ہوتا جو ایمانی ۔ رکھتا نہیں وہ پریشانی ۔
شمع بزم میں ہے جلتی ۔ بزم شمع سے نہیں چلتی ۔
حجاب میں رہتا محبوب ۔ بے پردہ ہوتی محبت ۔
حال دل تو ہے پاک ۔آنکھ میں نفس مقید حیات ۔
چھونا جان سے چھوٹ جانے میں ۔ لفظ محبت پانے میں ۔مایوسی چھوٹ جانے میں ۔
لفظوں کی دستک دھڑکنوں تک جا پہنچیں ۔ قربتوں میں جو دوریاں کم پڑیں ۔ فاصلے سمٹتے سایہ بن کر وجود میں سما گئے ۔
کس سے کہوں حال دل ، جزبات میں جو بہہ نکلے ۔وہ خواہشیں ، وہ آرزؤئیں ، وہ چاہتیں ، وصل کی بندشیں ، ٹوٹ جانے کی صدائیں ،
تیریاں مجبوریاں، تیرے رشتے ،تیری بندشیں ،تیرا سر خم تسلیم شہنائیوں کے بجنے پر جھکتا گیا ۔
میرے ٹوٹے دل کے تار بجتےبجتے ٹوٹتے رہے ۔
تیری سچائیاں ، تیری قسمیں ، تیرے وعدے تیری طرح بے وفا نکلے ۔
میرا بھولپن، میرا بچپن، میری سادگی، میری سچائیاں ، میری پہلی محبت کی داستانیں ،میری وفا نکلے ۔
ٹوٹا ایک رشتہ، تو نے دلاسے سے جوڑنا چاہا ، ٹوٹا جس کا میں وجود تھا ۔تو نے محبت سے جوڑنا چاہا ۔
ٹوٹا جس کا میں فخر تھا ۔تو نے وفاؤں کے گھیرے میں سلا دیا ۔
یہ کیسی عجب شام ہے ۔نیلگوں آسمان بھی آج کالی چادر اوڑھنے کے لئے بیتاب نہیں ۔
ستارے اوٹ سے چھپ چھپ کر چمکتے بجھتے مجھ پر ہنستے یا منہ چھپاتے ،سامنے نہیں آتے ۔
دلوں پہ دستک دینے والوں کندھوں پر جانے کا وقت تم پر بھی آئے گا ۔آرزؤئیں ، خواہشیں تمہیں بھی بے وفائی کے کفن میں دفنائیں گی ۔
کھلونوں سے کھیلتی ، محبتوں میں پلی ، رشتوں میں جڑی جوانی خود پرائی آگ میں جو کود پڑی ۔
محبت جلتی پر تیل کا کام کر گئی ۔پہلے تپش سے گرمائی، اب آگ سے جل گئی ۔
جو تریاق تھے وہ زہر بن ڈستے رہے ۔جو کنارے تھے وہ بے رحم لہریں بن ڈبوتی رہیں ۔
جن کے آنے سے زندگی کی امید ہوئی وہ لوٹے تو موت کا سکوت چھوڑ گئے ۔ بے وفائی کے ظالم ہاتھ نے سچائی کا گلا گھونٹ دیا ۔ سانس لینے سے جو دل کی دھڑکن تھے ۔ سانس لینے کے دشمن ہو گئے ۔
پلٹ کر مت دیکھ میں تاریک جنگل کا مسافر نہیں ۔راستے میرے ہمسفر ہیں ۔ درخت میرے ہمراز ہیں ۔کلیاں میرے مسکرانے کے انتظار میں ، ہوائیں آہ کی چاہتوں کی بے قراری میں ۔
یہ ایک کہانی ہے جو میری زبانی ہے ۔
آنکھوں میں جن کے پیاس ہے ۔ قلب ایسے پر رکھتا قلب آس ہے ۔

نوٹ !
آن لائن کسی کی محبت کے انجام کو پڑھ کر اپنے الفاظ میں بیان کرنے کی ایک ادنی سی کوشش ہے ۔ امید ہے آپ کو پسند آئے گی ۔

Sunday, December 12, 2010

ہم بادشاہ کے غلام ہیں بینگن کے نہیں

6 comments
ہمارے ادارے کو ایک  کے میل (خیالی ای میل ) میں یہ خط موصول ہوا ہے جسےادارہ اپنی نیک نیتی سے مشتہر کر رہا ہے ۔

خط کا متن !

مجھے کسی سیاسی پارٹی میں شمولیت اختیار کرنی ہے ۔ لہذا ضرورت مند پارٹیاں اپنے مکمل کوائف اور منشور کے ساتھ رابطہ کریں ۔ خاص طور پر سابقہ کارگزاری کا چارٹ منسلک کرنا نہ بھولیں ۔ جس میں منافقت ، ریا کاری ،مالی بے ضابطگی ، اقربا پروری اور رشتہ داروں کو نوازنے کی تفصیلات الگ الگ کالموں میں تفصیلا بیان ہوں ۔

شرائط :
اس بات کی یقین دہانی ضروری ہے کہ جو عہدہ یا رتبہ مجھے عنائت ہو میری زندگی کے بعد میری اولاد کا اس پر حق تسلیم کیا جائے گا ۔
مال کی بندر بانٹ میں مجھے حق سے محروم کرنے کی ہر سازش کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا ۔ اور اس کی تلافی کے لئے علاقے کی نالیوں اور نالوں کی صفائی میں %25 کمیشن رکھا جائے گا ۔
پارٹی صدارت کے لئے انتخابات کے مطالبے کے خلاف دھرنہ دینے کی صورت میں ایل پی جی کا پرمٹ اور ٹیکس کی عدم ادائیگی پر قانونی چارہ جوئی سے تحفظ فراہم کیا جائے گا ۔
آبدوزوں کے کمیشن ،چینی کی گراں فروشی اور ڈیزل، تیل کی قیمتوں میں ہیر پھیر سے حاصل قیادتی آمدن کا کم از کم %0.00001 لندن میں میرے لئے فلیٹ خریدنے کے لئے مختص کیا جائے گا ۔
اسمبلی کے پلیٹ فارم ( اگر پارٹی قیادت کی خوشنودی حاصل کرنے کے بعد ممبر بن پایا تو ) اور ٹی وی مناظروں ( اگر اینکر بغیر رقم لیے دعوت دیں تو ) میں جیوے جیوے کہنے اور گلا پھاڑ کر مخالف دھڑے پر لعن طعن کرنے کے عوض میرے حلقہ کی کم از کم تین زکواۃ کمیٹیوں کے فنڈز غریبوں ناداروں یتیموں بیواؤں میں تقسیم میرے بینک اکاؤنٹ سے کی جائے گی ۔

اہلیت :
میری اہلیت کا سب سے بڑا ثبوت اور گارنٹی یہ ہے کہ میرے دور و نزدیک خاندان کے اباؤاجداد میں سے کسی کا بھی تحریک پاکستان میں کوئی کردار نہیں رہا ۔
قائدین تحریک سے تو تعلق کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ۔ اگر تعلق ثابت ہو جائے تو جو چور کی سزا وہ میری ۔
قوم کی تکلیف اور دکھڑے سننے پر نیند زیادہ اور بھوک بڑھ جاتی ہے ۔
ایک کان سے سننے اور دوسرے کان سے نکالنے کا سیاسی مزاج رکھتا ہوں ۔
عوامی مسائل پر مگر مچھ کے آنسو بہانے میں اپنا کوئی ثانی رکھتا ۔
لوگوں کو بیوقوف بنانا میرے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے ۔ جو بچپن سے بڑوں کی سرپرستی میں کھیلتا آرہا ہوں ۔
منافع خوروں ، ٹیکس چوروں ، زخیرہ اندوزوں اور ملاوٹ خوروں میں رہ کر جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا ہے ۔
ہمارا یہ بھی ماننا ہے کی ہم بادشاہ کے غلام ہیں بینگن کے نہیں ۔
آقاؤں کی شخصیت پرستی میں ہمارے خاندان کا دور دور تک کوئی مقابلہ نہیں ۔
اس کے علاوہ سیاست میں گندگی پھیلانے کی ہماری مثالیں دی جاتی ہیں ۔
انسانوں کے علاوہ بیشتر جانوروں اور پرندوں کی عادات و اطوار کا بنظر طائر مشاہدہ کر چکے ہیں ۔
صرف امن کی فاختہ کو سمجھنے کا وقت نہیں ملا ۔
مکاری میں لومڑی ، بھوک میں شیر اور وفاداری میں کتے سے بہت متاثر ہیں ۔

موقع پرست
ایک آدنی درخواست گزار

نوٹ : ادارہ خط کے مضر اثرات سے محفوظ رہنے کا مکمل اختیار رکھتا ہے

Thursday, September 9, 2010

حق کیسے ادا ہو

0 comments
بحیثیت انسان ہمیں یہ حق حاصل ہے کہ اپنی زندگی عقل و شعور و دانش کو بروئے کار لاتے ہوئے اچھائی میں یا برائی سے مبراء گزاریں ۔کسی کو پابند نہیں کیا جا سکتا کہ زمانہ کی مرضی و منشاء اور حدودو قیود کے اندر اپنا ما فی الضمیر بیان کرے ۔ جینے کی چاہت ہر زی روح میں ہوتی ہے ۔ حشرات سے لے کر جانور اور پرندوں تک اپنی جان کی حفاظت کرتے ہیں ۔ اور رزق کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں ۔اس احساس سے خالی کہ ان کا آنے والا کل کیسا ہو گا ۔
تکلیف کے احساس سے بچنے اور آرام کے پل پانے کے لئے جستجو و تلاش کے راستے کھلے رہتے ہیں ۔ جب انہیں بند کرنے کا خیال پیدا ہو یا کوشش کی جائے ۔ تو پھر کسی اور منزل کی امید پیدا ہو جاتی ہے ۔جستجو و تلاش کا سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوتا ۔کتنے ہی لوگ ہیں جو ایسی زندگی گزارتے ہیں ۔ان میں زیادہ تر کا انحصار تلاش پر ہوتا ہے ۔جو خواہشوں سے پیدا ہوتی ہیں ۔ اور خواہشیں ارد گرد کے ماحول سے کھڑے پانی سے بخارات بن کر خواہشوں کے بادل بننے کے عمل کا شکار رہتی ہیں ۔ مقصد کے حصول تک زندگی میں ہلچل پیدا کرنے کے اسباب خود بخود پیدا ہوتے چلے جاتے ہیں ۔ انگلی پکڑنے والے تو سبھی ہوتے ہیں ۔ مگر ہاتھ دینے والا کوئی کوئی ۔باتوں سے تسلی و تسفی تو دی جا سکتی ہے ۔مگر غم و تکلیف کامداوا نہیں ہو سکتا ۔ سبھی اپنے مفادات کو اولین ترجیح دیتے ہیں ۔اجتماعی مفاد کی بات اس لئے نہیں کی جا تی ۔ دوسرے کی خوشی میں خوش ہونا اعلی ظرفی کا متقاضی ہوتا ہے ۔ زیادہ تر آگے بڑھنے والے ایک آنکھ نہیں بھاتے ۔ دوسرے کی کامیابی و کامرانی کو عدم برداشت کی بنا پر اپنی ناکامیوں اور خواہشوں کے ادھورے پن کی عینک سے دیکھتے ہیں ۔بہت مشکل ہے اس بات کو سمجھنا کہ کسی اور کو بھی پریشانی پریشان کر سکتی ہے ۔ صرف اپنے مسائل پہاڑ کی چوٹیوں کی طرح دوسری طرف کھائیوں پر نظر جانے ہی نہیں دیتے ۔
ماں باپ کو چھوڑ کر جانے والے کسی بھی امتحان اور آزمائش سے بری الزمہ ہو جاتے ہیں ۔ اور ساتھ رہ جانے والی اولاد بھوکی مر رہی ہو تو ہر جگہ تعریف و تحسین کی سولی پر لٹکا دیا جاتا ہے ۔زبان پر تحسین و داد آفرینی کے کلمات بناوٹ گوٹہ کناری سے مزین شال سے سایہ کرتے ہیں ۔ اور اگر خوشحالی میں وہی اولاد چلی جائے تو حسد ونفرت کی آگ میں جلتے بھی اور جلاتے بھی ہیں ۔ مفاد پرستی اور کینہ پروری جو بن پر رہنے کے باوجود موقع پرستی اور مٹھاس بھرے رویے کڑواہٹ کو دل میں ایسے چھپا کر رکھتے ہیں کہ چہرے کی منافقت مماثلت کے فارمولے سے بھی حل نہیں ہو پاتی ۔
اچھائی سے کیا مراد لی جا سکتی ہے ۔پاگل پن یا اپنا پن ۔ دنیا میں اس سے بڑا کیا امتحان ہو گا ۔ انسان اپنی اولاد کے لئے تو ہر مشکل وقت اور کھٹن حالات کا سامنا خوش دلی سے کرے ۔ مگر والدین کا احسان پانی کی سطح پر بنتے بلبلے سے زیادہ نہ ہو ۔
شکوے توپ کے دھانہ سے اگلتی آگ کی مانند سامنے کھڑے دوست و دشمن کی پہچان بھی نہیں رہنے دیتے ۔ تاریخ میں ظلم و نا انصافی کے خلاف بغاوتیں اُٹھا کرتی تھیں ۔ آج حالات کا تقاضا ہے کہ بغاوت صرف اپنے خلاف ہی کی جا سکتی ہے معاشرے سے کٹ کر رہنے کی ۔ شیر گھاس کھانے پر مجبور ہو تو وہ جنگل کا بادشاہ نہیں کہلا سکتا ۔ مداری کی ڈگڈگی پر سلام کرنے والی تماشا تو ہو سکتی ہے ۔ جنگل کی تماشبین نہیں ۔
ہمیں حالات سے سمجھوتہ کرنے کی مجبوری کیوں ہو ۔ برائی کو ختم کرنے کا تہیہ نہ بھی کریں تو کوئی خاص فرق نہیں پڑنے والا ۔مگر ایک محاذ ایسا ہے جس پر مصلحت پسندی آڑے نہیں آ سکتی ۔اس پر سمجھوتہ نہیں ہونا چاہئے ۔ اگر اسے ڈھیلا چھوڑ تے چلے جائیں ۔وہ پھیلتا پھیلتا اتنا بڑھ جاتا ہے ۔ کہ وہ فتنہ بن جاتا ہے ۔جس کا آغاز غرض کی شال میں لپیٹ کر رکھا جاتا ہے ۔ انجام کار نا فرمانی کے لحاف بستر گرماتے ہیں ۔
اللہ کے نافرمانوں میں صف اول میں والدین کے نافرمان ضرور ہو ں گے ۔ زمین میں پیدا کرنے والوں کا جو حق ادا نہ کر سکیں ۔ دنیا میں پیدا کرنے والے کا حق کیا ادا کر پائیں گے ۔

Monday, September 6, 2010

اشعار تصویری

4 comments