Thursday, July 22, 2010

شوکن میلے دی

10 comments
نام سے چونکیں نہیں کہ یہ کس موضوع پر اظہار خیال کا انداز فکر ہے ۔ ویسے ہی سنجیدہ موضوعات سے ہٹ کر کچھ نیا لکھنے کا دل چاہ رہا تھا ۔ سوچتے ہوں گے کہ چاہنے کو تو اور بھی بہت کچھ ہے ۔مگر یہ کیسی چاہ ہے ۔ جو گزرے وقتوں کی اکلوتی تفریح کے شوق کی تشہیری تحریر کا مقام پانے کی آرزو رکھتی ہے ۔
اکثر دیہات کے قریب ایک ایسا مقام ضرور پایا جاتا ہے ۔جسے ٹبہ یعنی اونچی جگہ سے منسوب کیا جاتا ہے ۔ جہاں خاص طور پر گندم کی کٹائی کے موسم میں میلوں کے انعقاد ہوتے ۔میلے میں شرکت کرنے والے شوقین افراد کی تعداد کا تعلق بزرگ کے عقیدت مندوں کی مالی حیثیت سے ہوتا ۔جہاں لنگر خانوں سے لیکر جھولوں اور سٹالوں پر ایک خطیر رقم خرچ کی جاتی تھی۔

مر و خواتین کے پاس وقت کی قلت ہمیشہ رہتی ۔ بیلوں کی جوڑی سے زمین پر ہل اور سہاگہ چلایا جاتا ۔ ایک ایکڑ کا مالک کاشکار بھی سارا سال فیکٹری کی طرح زمین پر کھیتی باڑی میں مصروف رہتا ۔
خواتین بھینسوں کو چارہ ڈالنے کے ساتھ ساتھ دودھ سے دہی مکھن کو محنت سے بناتیں ۔ روزانہ چنگیر پر روٹی سجانے کے لئے ضرورت کے مطابق گیہوں کو چکی میں پیسا جاتا ۔اور بجھتی آگ کو پھونکنی کی ہوا سے بڑھکایا جاتا ۔دودھ ہلکی آنچ پر اگلی صبح تک طاقت و توانائی کے لوازمات برقرار رکھتا ۔ نیند سے جاگنے کے لئے سورج کی پہلی کرن کا انتظار نہیں ہوتا تھا ۔
زندگی اتنی سادہ تھی ۔کہ شادی بیاہ کی رسومات ہی خوشی کا محور تھے ۔آٹھ دن پہلے ہی شادی والے گھر ڈیرے ڈال دئے جاتے ۔نوجوان لڑکے لڑکیوں کے لئے یہی مستی کرنے کے دن ہوتے ۔ہر گھرانہ کے لئے دس بارہ بچے ہونے کے باوجود خوشی کے یہ لمحات پوری زندگی کے لئے کافی نہ تھے ۔مختلف تواریخ میں میلوں کے انعقاد سے اس کمی کو پورا کیا جاتا تھا ۔جس میں ہر عمر کے افراد شرکت کرتے ۔تفریح طبع کے ہاتھ آئے موقع سے خوب لطف اُٹھاتے تھے ۔اور خواتین اپنی ضرورت کے تحت میک اپ کے سامان میں پاؤڈر کریم کے سٹالوں پر زیادہ پائی جاتیں ۔
ایک اتنی سستی تفریح اتنی مہنگی بھی پڑ سکتی ہے ۔کہ آج بھی کسی مردو زن میں تمیز کئے بغیر پھبتی کسنے کے لئے یہی فقرہ چست کیا جاتا ہے ۔"شوکن میلے دی"(میلہ کی شوقین ) یا "پھر پلے نیں دھیلا کردی میلہ میلہ" ( جیب میں پھوٹی کوڑی نہیں میلہ میں جانے کی ضد)۔
میلوں میں اکثر بچوں کے کھو جانے کی کہانیاں فلموں کا موضوع بنی ۔ جو اختتام پر بازو پر کندہ نام سے بچھڑے ہوئے ملائے جاتے ۔ شائد اسی خوف سےاس زمانے کے اکثر لوگوں کے نام ان کے بازو پر کندہ ہوتے ۔ اور نام کندہ کرنے والے زیادہ تر میلوں ہی میں پائے جاتے ۔ لیکن آج کل جو ٹیٹوبنائے جاتے ہیں ۔ وہ اس کی جدید شکل تو ہیں مگر مقصد بچھڑے ہوئے ملانا نہیں ۔ بلکہ فیشن ہے ۔
مضمون کے عنوان کے حوالے سے ڈھونڈنے والے شوکن (شوقین) کی تلاش پڑھتے ہوئے یہاں آ پہنچے ہوں گے ۔ کب ذکر خیر ہو ۔مگر یہاں ذکر صنف کے حوالے سے نہیں ہے ۔ بلکہ اصناف کا ہے ۔
کہ انسانی معاشرہ بتدریج ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے تفریح طبع کے لئے جدید علوم سے آراستہ ہو چکا ہے ۔میلوں میں سٹال لگا کر صدائیں دینے والا دور گزر چکا ۔ جب کوڈو سٹیج پر کھڑا ایک روپہ ایک روپہ کی صدا لگاتا تھا ۔ نقلیوں اور بھانڈوں کا دور جا چکا ۔ اب مسخرہ پن کا دور عروج ہے ۔ جہاں ڈی وی ڈی ،ویڈیو سے خوشی کے لمحات قید کر لئے جاتے ہیں ۔پندرہ پندرہ دن کی شادی کی رسومات ڈھول کی تھاپ ، تو کبھی گانوں کی جھنکار کے ساتھ کورس کی شکل میں سجائی جاتی ہیں ۔پھر پورا سال ویڈیو دیکھنے میں گزارا جاتا ہے ۔
شہروں قصبوں میں فوڈ بازار میلوں سے بڑھ کر سارا سال ہی انواع و اقسام کے کھانوں کی خوشبوؤں سے ماحول کو مہکائے رکھتے ہیں ۔بڑی سڑکیں کسی فوڈ مارکیٹ کا منظر پیش کرتی ہیں ۔ ہر چوک پر بیوٹی پارلر کھلنے سے دلہن اور اس کی سہیلیوں کے ساتھ ساتھ دلہا اور اس کے دوست بھی میک اپ سے مستفید ہونے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے ۔گھروں کو گرا گرا کر برگر پوائنٹ اور ولائیتی کھانوں کا مرکز بنایا جارہاہے ۔جہاں عوام کا جم غفیر مال مفت دل بے رحم جیسا منظر پیش کرتا ہے ۔دولت کا نشہ منرل واٹر سے گلاسوں میں انڈیلا جاتا ہے ۔موبائل فون کی بجتی گھنٹیاں اور پھر ان پر کھلے قہقہے یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں ۔
اگر وہ دور" شوکن(شوقین) میلے دی" کا تھا ۔ تو کیا اب یہ دور" سوکن ویلے(وقت) دی" کا کہلائے گا ۔

Wednesday, July 21, 2010

پتھر بھی بول اُٹھے

6 comments
معمولات زندگی کے شب و روز ایسے گزرتے ہیں ۔کہ اگر خاموش رہیں تو سینہ پتھر ہو جائے ۔بول اُٹھیں تو جیسےپتھر لاوہ بن کر بہہ نکلے۔پھولوں کی طرح کھلتے ہوئے مسکرانا ، بھینی بھینی خوشبو کی طرح پھیل جانا محض محاورہ کی دنیا کی دل نشینی تک محدود ہے ۔جو آنکھوں میں خواب جاگنے کے بعد شروع ہوتے ہیں ۔ جنہیں پلکیں اُٹھا اُٹھا کر تھک کر بند ہو جاتی ہیں ۔
پتھر کے زمانے کا انسان ترقی کے میدان کا سورما تو نہیں تھا مگر طاقت ، توانائی اور تندرستی تناور درخت کی مانند رکھتا تھا ۔پتھر سے ہی تیار ہتھیار اور اوزار سے لیس رہتا ۔مگر خود پھول اور پتوں کی مانند محبت میں نرمی رکھتا ۔جیسے جیسے پتھر زندگی میں غیر اہم ہوتے چلے گئے ۔چٹانیں بھی اپنی قدر کھوتی چلی گئیں ۔
لکڑی لوہا اپنے آپ کو ہر رنگ میں ڈھالنے کی صلاحیت کے بل پر انسانی معاشرے میں جستجوء حاصل کی معراج پہ جا پہنچا ۔جس میں گلنے گھسنے کا عمل زیاکاری اپنی آخری حد تک ہوتا ہے ۔
صحیح ہی تو کہا جاتا ہے کہ سینوں میں دل نہیں پتھر ہیں ۔جو ہر احساس سے خالی رہتے ہیں ۔پھر دوسرے ہی لمحے یہ کہنا کہ چٹانوں کی طرح جمے رہنا بہادری اور فتح کی نشانیاں ہیں ۔پھر یہ تاثر بھی کہاں تک درست ہے کہ کسی پر اتنا دباؤ بڑھایا جائے ۔ کہ وہ برداشت ہی نہ کر پائے ۔ اور ایسا ہو جائے کہ کہنے والے کہنے سے نہ چوکیں کہ اب تو پتھر بھی بول اُٹھے ۔
پتھر پر ضرب لگانے کا انداز لکڑی کی طرح نرم ، لوہا کی طرح گرم نہیں ہوتا ۔کہ کٹنا اور ڈھلنا آسان ہو ۔بلکہ پتھر اپنے پر استعمال کی گئی ہر ضرب کی طاقت کو واپس بھی لوٹا تاہے ۔
اہرام مصر کا معمہ آج بھی حل طلب ہے کیسے اور کیونکر وہ پتھر وہاں تک پہنچائے گئے ۔ آج موضوع صرف پتھروں کی تاریخ بیان کرنے کے لئے کافی نہیں ہے ۔اصل مقصد تو انسانی مزاج کو تشبہہ و استعارات سے منسوبیت ہے ۔انسان زندہ تو مٹی ، ہوا کی بدولت ہے ۔مگر مزاج کی تاثیر لکڑی لوہا یا پتھر سے تابکاری اثرات کی طرح حاصل کرتا ہے ۔لکڑی لوہا سے حاصل کردہ کٹی اور ڈھلی ہوئی اشیاء انسانی قدروں کے قد کاٹھ میں پستی اور اونچائی کا معیار بنا دی گئی ہیں ۔ایک سے بڑھ کر ایک ڈیزائن اور تخلیق نے مخلوق کو تقسیم کی تفریق میں مبتلا کر رکھا ہے ۔مگر احساس تحفظ تو وہی پتھر جیسا ہے ۔جو چار دیواری کے اندر غار کی طرح محفوظ ہونے کا احساس جاگزیں رکھتا ہے ۔
کسی بھی بات کو کہنا پھر اس کی تہہ تک جانا اور توقع یہ کرنا کہ جیسا اسے کہا گیا وہ حقیقت و سچائی ہے ۔ علا وہ اس کے دنیا پرائی ہے ۔عقل غیر سودائی ہے ۔رہنا اکیلے مزاج میں ڈھٹائی ہے ۔اپنا رنگ ہی اکثیر ۔ دوسرا حقیر و رسوائی ہے ۔قائدہ و قانون پابندی اختیار کرنے پر مجبور کرتے ہیں ۔ مگر سوچ زیادہ تر پابندی کے خلاف بغاوت پر اکساتی ہے ۔
پھول اور پتھر کی طرح انسانی رویے میں محبت کو پروان چڑھاؤ جو درختوں اور چٹانوں کی طرح آسمانوں کو چھوئے ۔ نہ کہ زمین کے اندر دھنسی ہوئی دھاتوں سے بنائی ہوئی اشیاء سے طوق کی طرح گردن ، کڑوں کی طرح ہاتھ پاؤں قید تو ہوں مگر بڑائی کے نشہ کا سرور نہ جائے ۔

Monday, July 19, 2010

صحت کی دعا

15 comments
ہم سب کی دعا ہے کہ معظم شاہ صاحب کی زوجہ محترمہ کو اللہ تبارک تعالی صحت و تندرستی کی نعمت عطا کرے ۔ جلد از جلد اپنی بیماریوں کو شکست فاش دے کر گھر کے گلستان میں پھول سے بچوں میں خوشبو کی طرح بسی رہیں۔اور بیماریاں کانٹوں کی طرح سوکھ کر فنا ہو جائیں ۔گھر کا دروازہ کھولیں تو باد نسیم کے جھونکے آندھیوں کی طرح آنگن میں کھیلتے بچوں سے لپٹ لپٹ کر خوشیوں کی مہک سے لبریز ہو جائیں ۔زرہ زرہ زمین قدموں سے لپٹ لپٹ کر خوشی کے ہر پل میں سمونے کی آرزو میں مچل مچل جائے۔زندگی بانہیں کھولے امتحانوں سے گزرنے کے پل سراط کو عبور کرنے پر خوش آمدیدی کلمات دہراتی قربان ہوتی جائے ۔ دکھ و پریشانی کا ایک ایک پل سکون نعمت کے برس ہا برس میں پھیلتاچلا جائے ۔آنکھوں میں امید کے چراغ روشن رکھنے والی بینائی ستاروں کی عنبریں جھرمٹ میں کہکشاؤں سے قہقہے بانٹنے میں بازی جیت جانے کی خوشی میں شہر شہر دعا ء منادی کرے ۔زندگی سے اپناپن چھیننے کی کوشش کرنے والے موذی امراض اپنی موت کا آخری دیدار تیز آندھیوں میں سوکھے پتوں کے بنتے زرات تحلیل ہوتے ہوتے خاک ہوتے ہوئے دیکھیں۔
اللہ تبارک تعالی بھابھی صاحبہ کو ہر بیماری اور اس کے اثرات سے محفوظ اور اپنی حفظ و امان میں رکھے ۔اور شاہ صاحب کو بلند حوصلگی و ہمت کا صلہ رحمی عطا ہو ۔

آمین ثمہ آمین

Sunday, July 18, 2010

چینی کم

11 comments
چائے میں کتنے چمچ چینی چاہیں گے آپ ۔چینی کیااپنی انگلی محبت سے ڈال دیں چاشنی پوری ہو جائے گی ۔ بہت گھسا پٹا جملہ ہےآج سنانے کی کیا ضرورت آ گئی۔ سنانا توکھری کھری چاہتا ہوں مگر کئی بار پڑھ چکا ہوں اور کئی بار شائد کسی ڈرامے یا فلم میں سن چکا ہوں ۔ اس لئے اب سنجیدہ بات کرنے کا کوئی موڈ نہیں ۔ غیر سنجیدگی میں جو مزا ہے سنجیدگی کی چپ میں نہیں ۔
باتوں کی جھڑی جب لگ جائے تو قہقہوں کی برسات روکنے سے نہیں تھمے گی۔
اب اگر منانے والے یہ کیوں نہ کہتے پھریں کہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے ۔ ہاں یہی بات تومیں کہنا چاہتاہوں ۔ آخر کب تک باتوں ہی سے پیٹ کا جہنم بھرتے پھریں ۔ ایندھن ویسے بھی اب ملنا مشکل ہے ۔ بس چنگاری بڑھکانے والے آتش تیلی انگلیوں میں دبائے رکھتے ہیں ۔چاہے اس سے سگریٹ سلگا لیں یا کسی کا گھر حسد کی آگ سے بھسم کر دیں ۔کوئی ملال نہیں ۔
انتہا تو یہ ہے کہ حلال وہی سمجھتے ہیں جو حرام کی کمائی سے چاہے خریدی گئی ہو مگر حرام نہ ہو ۔
بات صرف کھانے کی حد تو ہوتی تو خیر تھی مگر یہاں بات اس سے بھی آگے بڑھ چکی ہے ۔ اگر لکھنے کی غلطی کر بیٹھا ۔ٹخنے کیسے بچاپاؤں گا ۔ جیسے بچپن میں سبق یاد نہ کر کے آنے کی پاداش میں ماسٹر کی چھڑی سے کبھی بچا نہیں پاتے تھے ۔بات تو صرف ہو رہی تھی حرام حلال کی جو صرف کھانے کی حد تک اپنے اوپر حد کی صورت میں لاگو رہتاہے ۔ مال تو ہمیشہ حلال ہی ہوتا ہے ۔چاہے وہ چینی مہنگی ہونے سے ہو یا ڈیزل کے کمیشن سے ہو ۔
جان کی امان پاؤں تو عرض ہے کہ یہ تو صرف طرز ہے ۔ ورنہ کہاں یہ منہ اور یہ مسور کی دال ۔اتنے برے غلطی معاف کریں بڑےناموں کو ہدف تنقید بنانے کی اب جرآت کہاں رہ گئی ۔ رہنمائی سیدھے راستہ سے حاصل ہوتی ہے ۔جب رہنما سیدھے راستے سے نہ آتے ہوں تو رہنمائی تو در کنار دھلائی بھی ٹھیک طرح سے ہونا مشکل ہے ۔جب نعرہ یہ ہو کہ غریب نہیں رہے گا تو پھر غریب کو بھی تو یہ چاہئے کہ وہ کہے غربت بھی نہ رہے ۔
لیکن اب وقت کا یہ تقاضا ہے کی وہ مغرب کے بعد گھروں میں رہیں ۔غربت تو پہلے ہی ہے اب کہیں رات اپنے ہی نالہ سے باندھ کر کوئی سڑک پر پھینک جائے اور کپڑے لوٹ لے جائے ۔ یہ زمانہ دیکھنے کو کیا باقی ہے کہ عزت بچی رہے کپڑے لوٹ لئے جائیں۔پہلے ہی بڑی مارکیٹوں کے سرمایہ دار اچھی گانٹھیں کھول کھول کر ولائتی بابو ہینگر میں لٹکا کر دعوت خرید کے جرموار ہیں ۔
جرم تو ان کے بھی سنگین ہیں کہ سامنے جن کے کپڑے خون میں رنگے جاتے ہیں ۔مگر ان کی دعوت جو شاہی محل کے شیش محل کے لان جیسی خاص ہو ۔عام الناس کو فقط اپنے جوتے بغل میں دبائے کسی عقیدت گاہ کے منظر سے کم نہیں رہ گئی ۔قصور ان کی نظر کا نہیں ہے ۔ معاملہ عقیدت کا ہے ۔سبز باغ دکھا کر پانی لگانے والے باغبان اقوام میں شامل ہونے کی افواہ اڑانے سے خوش فہمی کی ایسی گھاس پر ننگے پاؤں چلاتے کہ گلدستے بنا بنا انہی کے گلدانوں میں اپنے ہاتھ سے سجاتے۔ خوشی خوشی چھوٹے مالک کو کندھوں پر اٹھا اٹھا گلکاریاں کرتے اظہار تشکر ختم نہیں ہوتا ۔حاکم ،محکوم کو مالک ،مالی بھی کہاجا سکتا ہے ۔
مشورہ مفت ہو عمل کرنے یا نہ کرنے سے کیا فرق پڑتا ہے ۔ایک انگلی ایک کان میں اور ایک انگلی دوسرے کان میں دیں ۔ آذان کے لئے تیاری کا نہیں کہ رہا ۔انگلیاں کانوں میں ٹھونسنے کا مشورہ ہے ۔اب صرف اتنا کریں کہیں آنکھوں میں پٹی خود سے نہ باندھ لیں۔ ایسا اس لئے کہا جلوس نکالنے کا کہا جائے یا ریلی نکالنے کا تو کسی شرپسند یا مالک کا سند یافتہ پتھر ایک پھینکے تو مجمع کتبے بینر چھوڑ باقی کا کام خود سے ہی پورا کر دیتے ہیں ۔
پھیکی چائے پی کر لب شیریں نہیں رہ گئے ۔ فرہاد کو ڈھونڈ کر لانا ہی ہو گا جو میٹھے دودھ کی نہر کھود ڈالے ۔اب کیا کریں دودھ پینے والے مجنووں کی بھرمار ہے ۔ سلطان راہی مجھے ہمیشہ سے ہی پسند تھا ۔ غربت تو ختم نہ کر سکا۔ مگر غریب کے دل میں امید کی کرن جگا تارہا ۔ خون کی ندیاں خود ہی بہاتا رہا۔ اور خون کبھی بھی سکرین سے باہر نہیں ٹپکا ۔اب تو خون ہر طرف ٹپکتا ہے ۔اور وہ بھی غریب کا ۔ غربت ختم کرنے کا انوکھا طریقہ ایجاد ہو ا ہے ۔ جو صرف غریب ختم کرکے شائد ختم ہو ۔سکرین پر ختم ہونے والےہر کشت و خون کے بعد یہ ضرور آتا تھا ۔ ختم شد۔
مگر اب بات ختم پر ہی شائد ختم ہو۔ جس پر بھی اعتراض کیا جا سکتا ہے ۔ اتنی ڈشیں بنانے کی کیا ضرورت ہے ۔ مہنگائی کے دور میں ایسی فضول خرچی کہ انسان کا مرنا آسان اور جینامشکل ہو ۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو خودکشی کو حرام کہنے سے جینا حلال بھی تو ممکن نہیں۔ ممکن تو یہ بھی نہیں کہ ہم آج ایک عہد کر لیں کہ نفرت کی آگ بڑھکنے سے پہلے رواداری کے پانی سے بجھا دیں گے ۔رواداری باری باری سے ہی ممکن ہے ہاری کی آزادی سے نہیں ۔عوامی باری تو کبھی آئے گی نہیں ۔ زر کا دور ہے ۔ شر کا زور ہے ۔ پھر سب سے کم لکھنا ہی کمزور ہے ۔
میرا سلام ہے ۔ اردو کو انٹر نیٹ پر متعارف کروانے والوں کو ۔ جن کی بدولت کاغذ قلم کے اخراجات سے مفت میں ہی محفوظ رہنے کا فارمولہ پا گئے۔اور بے تکی تحریروں کا سلسلہ بلاگ کی کھونٹی سے باندھنے میں کامیاب ہوئے۔ اور جس کی لاٹھی اس کی بھینس کو سچ کر دکھایا ۔دودھ کے اثرات زائل ہو بھی جائیں مگر کھونٹی سے آزادی کا خواب کبھی پورا نہیں ہونے دیں گے ۔بلاگستان میں دھما چوکڑی ہوتی رہے ۔ناموں میں کیا رکھا ہے ۔کانٹے زیادہ بڑے ہوں تو پھول اتنے ہی خوبصورت دکھائی دیتے ہیں۔
پھر نہ کہنا ہمیں خبر نہ ہوئی ۔ شکر ہے خبر پھیلانے والوں میں ہمارا شمار ہو گا ۔ شر پھیلانے والوں سے وابستگی ثابت نہیں کر پائیں گے۔گالی کی کوئی گارنٹی نہیں ۔ شائد غصے میں کبھی پھسل گئی ہو ۔مگر ڈگری کی گارنٹی ہے ۔ دن رات کی محنت اور کئی عدد سگریٹ کے پیکٹ پھونکنے کی قیمت میں حاصل کی تھی ۔ لیکن ڈگری کا علم سے بھلا کیا تعلق ۔میٹرک پاس عالم فاضل صحافی لاکھوں گریجوایٹس سے علمی برتری کےدعویدار ہیں ۔کبھی ہم یہ دعوی کرتے ہوئے پائے جائیں کہ لاکھوں میٹرک فیل سے جہالت میں بدتر نہیں تو یقین کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہے گا ۔کیونکہ قدر مشترک ایک ہی ہے کہ چائے صرف چینی کے لئے پیتے ہیں۔حقہ اگرچہ کڑوہ ہوتا ہے مگر چسکا گڑ کا رہتا ہے ۔اب اگر گڑ چینی سے مہنگاملے تو باتوں میں کیوں نہ مٹھاس ہی پیدا کر لیں ۔ اب اس مفت کے مشورہ کی حیثیت کسی زخم پر جونک لگوانے سے زیادہ کیا ہو گی ۔جونکیں پہلے ہی خون چوس چوس کر موٹاپے کا شکار ہیں ۔نا امیدنہ ہوں اقبال رحمہ فرما گئے ہیں۔
نہیں نا امید اقبال اپنی کشت ویران سے
زرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

Saturday, July 17, 2010

جو سمجھتے ہیں کامیابی ان کو ہے

12 comments
سچ کہنا اور لکھنا اتنا ہی مشکل ہے جتنا کہ سننا ۔ بچپن ہی سے تحسین و پزیرائی کی ایسی عادت پروان چڑھتی ہے کہ زندگی بھر انسان اچھا سننے کو ہی اچھا سمجھتا ہے ۔نہ جانے آئینے میں کیا خوبی ہے کہ وہ سچ دکھاتا ہی نہیں یا اس میں نظر کا قصور ہے ۔ جو بچپن ہی سے اچھے خواب پلکوں پہ سجانے کی عادی ہو جاتی ہیں ۔آئینہ خود سے انھیں کچھ نہیں دکھاتا ۔انہی آنکھوں کے خواب انھیں واپس لوٹا دیتا ہے ۔
انسان فطرت میں رہتے ہوئے بھی ایک دوسرے سے فطرت میں دور ہے ۔ انسانی سوچ یک طرفہ ٹریفک کی مانند ایک رخ پہ زیادہ چلتی ہے ۔ساتھ چلنے والے چاہے تیز رفتار کیوں نہ ہوں ۔قربت کا احساس دیر تک ساتھ رکھتے ہیں ۔ مگر اس کے مقابلے میں مخالف سمت آنے والے خاموش ، بے آواز ،بے ضرر کیوں نہ ہوں۔ خوف میں مبتلا رکھتے ہیں ۔پانی کے بہاؤ میں آگے بڑھتی ناؤ پانی کے فرش پہ پھیلتی چلی جاتی ہے ۔مخالف سمت بہاؤ میں تو بادبان بھی نہیں کھلتے ۔اور نہ ہی ملاح کے دست و بازو ساتھ نبھاتے ہیں ۔
جیسے زبان سے سچ پھسلتا اور جھوٹ اٹکتا ہے ۔
زبان اچھا چکھنے اور کان اچھا سننے کی فطرت پہ ہوتے ہیں ۔اچھا سننا سچ اور جھوٹ کے ترازو سے نہیں تولا جاتا ۔بلکہ سوچ کے انداز ِ اصول پہ ہوتا ہے ۔بیٹا ماں کے قدموں میں بیٹھ کر خوشنودی کی خاطر بیوی کی نا معقولیت کا شکوہ کرے تو سننا اچھا ہے ۔ لیکن بحیثت بیوی مرد کا یہی فعل برا سمجھا جاتا ہے ۔
ایسا آلہ بھی کیوں نہ ایجاد ہوتا ۔ جو ایک اپریشن سے انسان کے اندر سے بغض ، حسد ، لالچ ، جھوٹ کا زہریلا مادہ نکال باہر کر سکے ۔اگر یہ فاسد مواد گردش خون سے پیدا ہوتا تو شائد ممکن بھی ہوتا ۔مگر یہ تو آنکھ اور کان سے روح میں اترتا ہے ۔ اور لعاب دہن میں لپٹ کر جسم سے نکلتا ہے ۔آج تک کسی بھی طبیب نے آلات جراحی سے روح کی جراحی نہیں کی ۔ اس سے بچنے اور محفوظ رہنے کا وہی راستہ ہے جو مذہب نے بتایا ہے ۔ وہ راستہ ایجاد کا نہیں انسانیت کا ہے ۔جو جھوٹ و فریب کی پزیرائی نہیں کرتا اور دل آزاری بھی نہیں چاہتا ۔
جو سمجھتے ہیں کامیابی ان کو ہے
صورت ہی کی دستیابی ان کو ہے
دیکھو جلوے پھیلے انوار روشن کے
منظر جو نظر ہو بیتابی ان کو ہے

Wednesday, July 14, 2010

پنکھ ہوتے تو اُڑ جاتے

0 comments
ہواؤں کا چلنا ، بادل کا اُڑنا ،بارش کا برسنا ، پہاڑوں پر برف کا جمنا ، پھولوں کے کھلنے کا اپنا وقت ، پھلوں کے پکنے کا اپنا، ایک موسم میں ایک فصل کا ہونا ،پرندوں کا چہچہاتے ہوئے صبح کا آغاز اور چہچہاتے ہوئے ہی دن کا اختتام، کسی بھی بے چینی کے اظہار سے بے نیاز ہوتا ہے ۔جو میرے بچپن میں جیسا تھا آج بھی ویسا ہے ۔لیکن میں ویسا نہیں رہا ۔گزرنے والا ہر لمحہ پہلے سے زیادہ تفکر و پریشانی کا سبب بن جاتا ہے ۔نہ جانے کیوں پروان چڑھتی غلط انداز سوچ میں سامنے والا بیوقوفی یا جھلا پن کی حدوں کو چھوتا دکھائی دیتا ہے۔ ہمدردی جتانے والے چہرہ کے سامنے سے ہٹتے ہی منافقت کی چادر کیوں اوڑھ لی جاتی ہے ۔
تعلق ہو یا کوئی رشتہ غرض و مفاد
کی اوڑھ میں چھپا کر رکھا جاتا ہے ۔کیا یہ ضروری ہے کہ جیسا دیس ویسا بھیس بھی اختیار کیا جائے ۔گھر آنے والے ہر مہمان کو بلا لحاظ کردار مسکراتی آنکھوں سے خوش آمدید کہا جائے ۔جس کے وہ اہل نہ بھی ہوں ۔ سارے فلسفے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں ۔جب بار بار کی نیکی کرنے سے بھی نفاق کی گرہیں نہیں کھلتیں ۔ڈرامے اکثر چند قسطوں کے بعد اچھائی کے زیر اثر نظر آتے ہیں ۔مگر زندگی میں اچھا بننا کوئی زیادہ فائدہ مند نہیں ہوتا ۔بلکہ اچھا دکھانا زیادہ اہمیت رکھتا ہے ۔جیسے اکثر ٹی وی پر آمنے سامنے بیٹھے سیاست کے ستون اس ملک کی حقیقی نمائندگی کے علمبردار نظر آتے ہیں ۔الزامات ، دفاع ، جارحیت اور جھوٹ کا پلندہ اٹھانے کا اعلی نمونہ پیش کرتے ہیں ۔سچ کی ہمیشہ جیت نہیں ہوتی کبھی سبکی بھی ہوتی ہے ۔
کیا سچائی جاننے کے لئے انسانوں کو پھر سے جنگلوں کا رخ کرنا ہوگا ۔جہاں پل بھر میں بدلتے چہروں جیسے موسم نہیں ہوتے ۔مصنوعی ضابطہ حیات کی قد غن نہیں ہوتیں ۔پرندے اور چوپائے ہزاروں سال سے فطرتی کردار نگاری سے مزین نظر آتے ہیں ۔بادشاہت کا تاج ہمیشہ شیر ہی کے سر رہا ۔لومڑی فطری چالبازیوں سے ویسے ہی دم افروز ہے ۔لیکن جس تہذیب یافتہ معاشرے کے ہم باسی ہیں ۔وہاں کردار نگاری میں حقیقی رنگ مصنوعی طریقہ سے بھرا جاتا ہے ۔
جنگ آزادی کے ہیرو کے پڑ پوتے معاشی ضرورتوں کے لئے آج ٹیکسیاں چلانے پر مجبور ہیں ۔تو دوسری طرف آزادی کے متوالوں کی مخبری کرنے والوں کے پڑپوتے ملک و قوم کی آزادی اور سالمیت پر آنسو بہاتے ہوئے نہیں تھکتے ۔اتنے بڑے تضاد کے ساتھ حکمران ٹیپو سلطان ہو یا ایسٹ انڈیا کمپنی ، بہادر شاہ ظفر ہو یا ملکہ ۔ بیچاری عوام کبھی میر صادق، میر جعفر تو کبھی ہندو کی سازشوں کے طفیل اصطبل میں بندھے گھوڑوں کی مانند رہ جاتی ہے ۔ جنہیں خالی چنوں پر رکھا جاتا ہے ۔بھگانے کی ضرورت پڑنے پر سیبوں کے مربع سے بھی تواضع کی جا سکتی ہے ۔ لنگڑا ہونے کی صورت میں صرف گولی جن کا مقدر بنتی ہے ۔

زن آٹے دارتھپڑ کی گونج

7 comments
ڈاکٹر ڈین کے منہ پر ایک زناٹے دار تھپڑ کی گونج کئی بار سنائی دی ۔ تھپڑ تو ایک بار ہی پڑا تھا ۔ مگر فلم کرما کئی بار دیکھی گئی ۔جیلر کو پلٹ کو ڈاکٹر ڈین کا دھمکانا کہ وہ اس تھپڑ کی گونج بھولے گا نہیں ۔ جیلر چاہتا بھی یہی تھا کہ وہ کبھی نہ بھول پائے ۔
لیکن ہمیں گونج سے کبھی بھی سروکار نہیں رہا ۔مگر اس بات کا تجسس کبھی ختم نہیں ہوا ۔کہ یہ خاص قسم کی گونج کب اور کیونکر پیدا ہوتی ہے ۔کیونکہ گھونسوں سے کبھی ایسی آواز نکلتے دیکھی نہیں ۔سنا ہے کہ آٹا گوندھنے والی خاتون کا ہاتھ بہت بھاری ہو جاتا ہے ۔ شائد اسی بنا پر گونج دار تھپڑ کو ایسی عورت کے ہاتھ سے تعبیر کردیا گیا ہے ۔ زن (عورت) آٹے دار ۔

اس نام کے سنتے ہی ایک واقعہ دماغ میں گرم روٹی کی طرح تازہ ہو جاتا ہے ۔جسے ہمارے ایک دوست نے کچھ یوں بیان کیا تھا ۔
ان کا ایک کلاس فیلو کیمسٹری کی لیب میں ایک روز دوستوں سے ایسے کیمیکل کے بارے میں جانکاری مانگ رہا تھا ۔جو اس کی داہنی آنکھ کو بھی سرخ کر دے ۔بائیں آنکھ بس میں دوران سفر ایک زن آٹے دار تھپڑ کی وجہ سے پہلے ہی سرخ تھی ۔ گھر والوں کی تفتیشی نگاہوں سے بچنے کا صرف یہی ایک حل انہیں نظر آیا ۔ دوستوں نے افسوس کا اظہار تو کم ہی کیا ۔ البتہ مذاق زیادہ اڑایا گیا ۔
موصوف ہمیشہ اپنی قمیض کی جیب میں ایک ایسی ڈائری رکھتے کہ جس میں روزانہ ادا کی گئی پنجگانہ نمازوں کی ادائیگی کے اوقات درج ہوتے ۔ چہرہ ان کا تراشی ہوئی داڑھی سے منور تھا ۔ایسے میں موصوف کے چہرے پہ زن آٹے دار تھپڑ کی لالی سمجھ سے بالا تر تھی ۔جو موصوف نے کچھ یوں بیان کی ۔
ان ہی کے کالج کا ایک آوارہ لڑکا اکثر بسوں میں لڑکیوں سے مہذب انداز میں چھیڑ خانی کرتا ۔ بد قسمتی سے اس بار وہ مہذب انداز چھیڑ خانی موصوف کی بغل کے نیچےسے ہاتھ نکال کر آگے کھڑی لڑکی سے کرنے لگے ۔تو زن آٹے دار تھپڑ کے سامنے جو پہلا چہرہ آیا وہ موصوف کا تھا ۔سو وہ انہی پر جما دیا گیا ۔اور وہ سمجھ ہی نہیں پائے کہ ماجرا کیا ہوا ۔ اپنے پیچھے کھڑے مہربان کو پایا تو معاملہ سمجھنے میں دیر نہیں لگی ۔مگر اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی ۔پھر اس کے بعد وہ زندگی بھر بس کے پچھلے حصے میں ہی اپنا مقام بناتے رہے ۔ پچھلے دروازہ پر لٹک کر جانے کو بہتر جانتے اگلے دروازہ کے قریب جانے سے ۔
ابھی حال ہی میں دو خواتین ارکان اسمبلی میں دست بدست تھپڑوں کا تبادلہ ہوا ۔ مگر گونج زور دار نہیں تھی ۔البتہ گالیاں کافی جاندار تھیں ۔اگر زنانیاں( خواتین) آٹے دار ہوتیں تو زن آٹے دار گونج مرد ارکان کے کانوں میں بھی پہنچتی اور شائد ڈر کے مارے مرد و خواتین کی نشستیں اور دروازے بس کی طرح آگے پیچھے ہو جاتے ۔شائد اسی لئے تو آٹا گوندھنے والی خواتین کو اسمبلی کی اہلیت کے قابل نہیں سمجھا جاتا ۔ کہیں ان کی گونج قوم کو سنائی نہ دے جائے ۔



نوٹ : اس مضمون کو طنز و مزاح کے تناظر میں پڑھاجائے ۔

Saturday, July 10, 2010

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں

0 comments
انسان پیدا اپنی خاکی فطرت پہ ہوتا ہے ۔ خاک سے پیدا کی گئی خوراک لقمہ ہضم رکھتی ہے ۔خون میں ڈھلتی ہے تو پھر پانی سے جمتی ہے ۔مٹی کی جذبیت نہیں رکھتی مگر اس کی تاثیر سے ضرور پنپتی ہے ۔ پھل پھول کی طرح زندگی کے مدارج کا آغاز بیج ہونے سے نہیں ہوتا ۔ بلکہ بیج بنانے کے عمل کے آغاز سے ہوتا ہے ۔
دنیا میں آنکھ کھولنا شاید کچھ لمحوں کے توقف کا محتاج ہو مگر نہ جانے پہلا سانس لینا اسے کائنات میں گردش کرتے ستاروں سے کیسے جوڑ دیتا ہے ۔کہ بارہ مہینوں میں گردش ایام بارہ ستاروں سے منسوب کئے جاتے ہیں ۔آج شاید کم لوگ اس بات سے لا علم ہوں کہ ان کا سٹار کیا ہے ۔ سو سال پہلےضرورت پڑنے پر ہی تاریخ پیدائش ڈھونڈھی جاتی تھی۔
آج انٹر نیٹ کی دنیا میں سنڈے میگزین کا انتظار نہیں کہ " آپ کا یہ ہفتہ کیسا گزرے گا " بلکہ روز کا معمول بھی جانا جا سکتا ہے ۔ مجھے کبھی بھی ہفتہ کیسا گزرے گا جاننے کا شوق نہیں رہا ۔ اور شاید اسی لئے پڑھنے کی بھی خاص ضرورت پیش نہیں آئی ۔ضرورت تو اب بھی نہیں ہے ۔
جب حالات میں تبدیلی کے آثار معدوم ہونے شروع ہوتے ہیں ۔تو طبیعت میں تغیر پسندی کچھ نیا کرنے کے لئے پرانے انداز میں ردوبدل کی گنجائش پیدا کر لیتی ہے ۔جس سے کبھی فائدہ تو کبھی نقصان کا بھی احتمال رہتا ہے ۔مگر پچھتاوا کا سبب نہیں ہوتا ۔ پچھتاوا مجبوری سے جڑا ہے ۔ شوق کا تو کوئی مول نہیں ہوتا ۔
اب ایسی تغیر پسندی پر حال دل جاننے کی کوئی کوشش کرے تو پھولوں کے ساتھ ساتھ کانٹے بھی چننے پڑیں گے ۔مگر بات سوچنے والی ہے کہ خاکی بدن میں جو رویہ و مزاج اسے گھر سے بے گھر ، تعریف سے لعن طعن ، محبت سے نفرت ، دوستی سے دشمنی ، اچھائی سے برائی تک کا فاصلہ طے کرواتا ہے ۔ وہ ستاروں کے ایک دوسرے سے کی قربت و دوری سے کیا واسطہ رکھتا ہے ۔
دو اور دو چار کرنے والے کامل یقین کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں ۔سمجھتے بھی وہی ہیں جو پڑھتے ہیں ۔بس کبھی کبھار ایک اور ایک کو دو کی بجائے گیارہ سمجھ لیتے ہیں ۔نو دو گیارہ ہونے میں اگر دقت ہو تو دس نمبری ہونے سے مشکل سے بچتے ہیں ۔یہ ہندسوں میں کیا خوب خاصیت ہے چاہے گنتی کر لیں یا باتیں ۔ خوش نصیبی اگر سات کے عدد سے ملنے کی آس رکھتے ہیں ۔ تو تیرہ کے قریب سے بھی گزرنے سے ڈرتے ہیں ۔لیکن اس کے باوجود آج بھی بہت سے اعداد ایسے ہیں جو بے اثر ہیں ۔
عام طور پہ یہ دیکھا گیا ہے کہ کسی بھی شے کی اہمیت اس کی عددی اکثریت سے ہوتی ہے ۔مگر اعداد اگر عدد میں رہیں تو بڑے ہیں ۔اعداد کا یہ کھیل دلچسپ بھی اور اسراریت بھی رکھتا ہے ۔ستاروں کے جن گھروں سے ایک دوسرے کو جوڑا جاتا ہے ۔وہ ستارے خود میں ہی پر اسرار ہیں ۔اور تو اور بعض کھیل بھی اعداد اور گھروں سے چالیں چلنے میں استعمال ہوتے ہیں ۔جیسا کہ شطرنج کا وزیر چالیں چلنے میں ہر گھر میں داخلہ کا پروانہ ہاتھ میں لئے رکھتا ہے ۔گھوڑے کو ہمیشہ تیز رفتاری کی خوبی سے اچھا جانتے ۔ مگر ڈھائی گھر آڑھا ترچھا چلنے کا انداز تو یہیں پایا جاتا ہے ۔
آج بیٹھے بٹھائے کیا سوجی کہ اعداد کے چکر میں پڑ گئے ۔اب کوئی چکر دینا چاہے تو چکرا تو جائیں گے ہی ۔اور اگر کوئی تاریخ و وقت پیدائش کے ذریعے دو تین صفحات پر مشتمل شخصیت خوبیوں اور خامیوں کے تیہ پانچہ کے ساتھ ستارے کے گھرسے نکال لائے تو بات اچنبھے والی تو ہو گی ۔ کیونکہ اپنی خوبیوں کا کریڈٹ ستاروں کو دینا زرا مشکل کام ہے ۔ آج تک تو یہی سمجھتے رہیں ہیں کہ سونا بھٹی میں ڈھل کرکندن بنتا ہے ۔ایسے موقع پر تو یہی بات یاد رہ جاتی ہے کہ " سو سنار کی تو ایک لوہار کی "۔سچائی پر پردہ ڈال دینے سے "ایک لوہار کی" سے جان چھوٹ جائے مگر " سو سنار کی " میں زندگی کا ایک حصہ گزر جاتا ہے ۔اگر بات صرف ایک رات کی ہوتی تو کہہ دیتے کہ رات گئی بات گئی مگر یہاں معاملہ ایک دور کا ہے ۔ ادوار اس لئے نہیں کہا کہ وہ صرف سیاستدانوں کو میسر ہوتے ہیں ۔عوام تو ایک فرد ایک ووٹ ہوتے ہیں ۔جن کی قسمت کا حال کارڈ پر لکھا طوطا نکالتا ہے ۔بولنے والے طوطے تو بہت دیکھے تھے اب قسمت کا حال منہ زبانی سنانے والے طوطے بھی ایجاد ہو گئے ہیں ۔ جو کارڈ کی بجائے خوش بختی کی خبر فرفر بول کر سناتے ہیں۔ اور مایوس چہرے پہ تھکن کی سلوٹیں ایک امید کی کرن سے ہی خوشی کی چمک میں ڈھانپ دیتے ہیں ۔
بازاروں چوراہوں میں زمین پہ چادر پھیلائے قسمت کا حال بتانے والے طوطے صرف اپنی قسمت میں لکھی گئی چوری کا انتظام رکھتے ہیں ۔ مگر میڈیا پر فرفر بولنے والے طوطے اب کہانی والے نہیں رہ گئے ۔قسمت کا حال بتانے والے جادوئی طاقت کے حامل جادو گر بن گئے ہیں ۔جو جادو کی چھڑی سے کچھ بھی کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں ۔ جب چاہیں بجلی ، گیس بند اور پٹرول ، آٹا ، چینی غائب کر سکتے ہیں ۔طوطا گری کا یہ فارمولہ اتنا کامیاب ہو چکا ہے ۔ کہ اب انصاف کے لئے بھی کسی دروازے کو کھٹکھٹانے کی ضرورت نہیں ۔چار پانچ منٹ کی ایک جھوٹی کہانی کی خبر بھی چھٹی کا دودہ یاد دلانے کے لئے کافی ہے ۔
علامہ اقبال رحمہ کے یہ اشعار شائد آج ہمارے بارے میں ہی لکھے گئے ہیں ۔
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
اسی روز و شب میں الجھ کر نہ رہ جا
کہ تیرے زمان و مکاں اور بھی ہیں
گئے دن کہ تنہا تھا میں انجمن میں
یہاں اب مرے رازداں اور بھی ہیں

Friday, July 9, 2010

وہ ثناء جمال عشق بیاں

4 comments
وہ ثناء جمال عشق بیاں
عجب رنگ مُحَمَّدﷺ کا سفر آسماں

لب سوز و جان با ادب بیاں
اَللہ مُحَمَّدﷺ و قرآن کا عہد و پیماں

معارض مدارج میں ھے دَہَن محبوب بیاں
کچھ تو ھے جش رباع عیاں

آرا تیہی قوس میں نو جرس متاں
عازم شکن ماذ فر آں



موسل بار / محمودالحق

آقا نبی آخرالزماںﷺ کی ایک جھلک چاہئیے

1 comments




آقا نبیۖ آخرالزماں کی ایک جھلک چاہئیے

2 comments
آقا نبیۖ آخرالزماں کی ایک جھلک چاہئیے
سفر حجاز سے آزاد ایک عرش فلک چاہئیے

حاصل ھوا جو آپۖ کو مقام معراج پر
مجھ ادنی کو ایک زرا سی مشک چاہئیے


ملی جو آپۖ کو راہ میں پیاروں کی رسد
مجھ غریب ناتواں کو بھی اک زرا سی کمک چاہئیے

سموئی جو آپۖ میں ہر منزل کی تابناکی
میری آنکھوں کے نور کو ایک زرا سی چمک چاہئیے

حاصل ھوا جو آپۖ کو نظارہء عرش جہاں
میری زندگی کے گزرنے کو اک زرا سی دمک چاہئیے

پائی جو آپۖ نے نور خدا کی شفق
مجھ مریض عشق خدا کو اک زرا سی اشک چاہئیے



موسل بار / محمودالحق

آپۖ جذاب ہو راہ صواب ہو

0 comments


آپۖ جذاب ہو راہ صواب ہو
زر ناب ہو خندہ آفتاب ہو
اللہ اللہ یا رسول اللہ
اللہ اللہ یا محبوب اللہ

آپۖ رشاد محبوب رب العباد ہو
پرسرخاب ہو تَسخِیرِماہتاب ہو
اللہ اللہ یا رسول اللہ
اللہ اللہ یا محبوب اللہ

آپۖ اتساہ با صفا اذعان ہو
باغ رضوان ہو توقیر الوہاب ہو
اللہ اللہ یا رسول اللہ
اللہ اللہ یا محبوب اللہ

آپۖ روشن سواد دل نہاد ہو
رشادی روشن جہان تاب ہو
اللہ اللہ یا رسول اللہ
اللہ اللہ یا محبوب اللہ

آپۖ چمن دلبہار اشہر نجم اطہرہو
ہم صادق الاعتقاد کو امید حسن المآب ہو
اللہ اللہ یا رسول اللہ
اللہ اللہ یا محبوب اللہ

میرے دل چاک کو آپۖ فرحت ناک ہو
میں گوہر بے آب ہوں آپۖ گوہر خوش آب ہو
اللہ اللہ یا رسول اللہ
اللہ اللہ یا محبوب اللہ

میں مشت خاک ہوں آپۖ مصحف پاک ہو
میں نقش بر آب ہوں آپۖ نگہت مآب ہو
اللہ اللہ یا رسول اللہ
اللہ اللہ یا محبوب اللہ


برگِ بار / محمودالحق

آپۖ جذاب ہو راہ صواب ہو

0 comments
آپۖ جذاب ہو راہ صواب ہو
زر ناب ہو خندہ آفتاب ہو
اللہ اللہ یا رسول اللہ
اللہ اللہ یا محبوب اللہ

آپۖ رشاد محبوب رب العباد ہو
پرسرخاب ہو تَسخِیرِماہتاب ہو
اللہ اللہ یا رسول اللہ
اللہ اللہ یا محبوب اللہ

آپۖ اتساہ با صفا اذعان ہو
باغ رضوان ہو توقیر الوہاب ہو
اللہ اللہ یا رسول اللہ
اللہ اللہ یا محبوب اللہ

آپۖ روشن سواد دل نہاد ہو
رشادی روشن جہان تاب ہو
اللہ اللہ یا رسول اللہ
اللہ اللہ یا محبوب اللہ

آپۖ چمن دلبہار اشہر نجم اطہرہو
ہم صادق الاعتقاد کو امید حسن المآب ہو
اللہ اللہ یا رسول اللہ
اللہ اللہ یا محبوب اللہ

میرے دل چاک کو آپۖ فرحت ناک ہو
میں گوہر بے آب ہوں آپۖ گوہر خوش آب ہو
اللہ اللہ یا رسول اللہ
اللہ اللہ یا محبوب اللہ

میں مشت خاک ہوں آپۖ مصحف پاک ہو
میں نقش بر آب ہوں آپۖ نگہت مآب ہو
اللہ اللہ یا رسول اللہ
اللہ اللہ یا محبوب اللہ


برگِ بار / محمودالحق

Sunday, July 4, 2010

لہؤ مسلمان کی اس قدر ارزانی پہلے تو نہ تھی

1 comments

لہؤ مسلمان کی اس قدر ارزانی پہلے تو نہ تھی

دین میں دی جاتی تعلیم نادانی پہلے تو نہ تھی

خدا کے سامنے سر تو نہتے پہ تلوار نہ اٹھتی

اسلام سرگزشتہ میں ایسی مسلمانی پہلے تو نہ تھی

اپنے ہاتھوں کو اپنا سر ہی درکار رہ گیا

قلب قوم میں ایسی ہوس فراوانی پہلے تو نہ تھی

ہاتھوں کی بنے زنجیر اب اس قوم کی پکار ہے

غفلت صبح میں ڈوبی قوم سلطانی پہلے تو نہ تھی

قلب ترازو میں پلڑا عشق اللہ و رسولۖ کیا ہوا

چاہ طلب دنیا کا بھاری پلڑا انسانِی پہلے تو نہ تھی




بادِ اُمنگ / محمودالحق

Thursday, June 24, 2010

قدر ِ تخلیق میں محبتِ خالق

6 comments
بچپن میں محلے کے لڑکے مل کر کینچے کھیلتے ،کٹی پتنگوں کےپیچھے بھاگتے، تو کبھی کبوتر اُڑاتے ۔ تو  بزرگ ایسے کھیلوں سے منع کرتے اور نصیحت بھی ۔ اپنا وقت فضول کاموں میں ضائع کرنے کی بجائے پڑھائی کی طرف توجہ دینے پر زور دیتے ۔ اور جو زبان سے کچھ نہ کہتے مگر ان کا رویہ اپنائیت کا احساس دلاتا ۔ دادا نانا کہلاتے بزرگ پاس سے گزرتے ہوئے آداب یا اسلام و علیکم کہتے ۔ جواب میں وعلیکم اسلام تو کہہ دیتے مگر شرمندگی سے ۔ان کا سمجھانا یا ڈانٹنا کبھی برا نہیں لگتا تھا ۔ مگر ان کے سامنے آنے سے کتراتے ضرور تھے ۔تاکہ کسی نصیحت کا سامنا نہ کرنا پڑ جائے ۔جس پر عمل کرنے کی ان میں تاب نہ تھی ۔ باتیں ان کی غلط نہیں تھیں ۔سمجھانا بھلائی کے لئے ہوتا ۔ پھر بھی ان سے دور رہتے اور عمل بھی نہ کرتے ۔مگر ان کی عزت و احترام میں کبھی فرق نہیں آتا ۔ احترام ہمیشہ دل میں رہتا ۔ نہ سمجھنا کسی خاص وجہ سے نہیں تھا ۔ بلکہ تفریح کی لطف اندوزی کچھ سوچنے کا موقع ہی نہیں دیتی تھی ۔کھیل کود اور ایسی تفریح کے علاوہ ان کے پاس کوئی اور آپشن نہیں تھا ۔

جنہوں نے نصیحتوں پر عمل نہیں کیا ۔ استاد زمانہ نے حالات کی رسی میں اچھی طرح کس کر وہ باتیں سمجھائیں ۔ زندگی کو وہ جو معنی پہناتے رہے ہیں ۔دراصل وہ ایسی نہیں ہے ۔
آج نئی نسل کے ہمارے بچے کینچے کھیلنے اور کبوتر پالنے کے شوق تو نہیں رکھتے ۔ مگر آج ہماری نصیحتیں اپنے بزرگوں جیسی ہی ہیں ۔مگر سمجھنے کا انداز بدل چکا ہے ۔ٹی وی گیمز کھیلنا اور ٹی وی دیکھنے کو ان فرسودہ تفریح سے بہتر جانا جاتا ہے ۔ماضی کے تجربے سے ہم کبھی خود سے ہی پریشان ہو جاتے ہیں ۔کہ کہیں دوسروں کو ہماری باتیں ناگوار نہ گزرتی ہوں ۔ کچھ ایسا ہی حال ہماری تحریروں اور آزاد شاعری کا بھی ہے ۔ شائد یہی وجہ ہے کہ اکثر ان کے پاس سے ایسے گزر جاتے ہیں جیسے بچپن میں ہم بزرگوں کو سامنے سے آتا دیکھ کر راستہ بدل لیتے یا چھپ جاتے ۔ تاکہ ہماری تفریح طبع کا تسلسل نہ ٹوٹ پائے ۔ مجھے اس بات کی کوئی پریشانی نہیں کیونکہ میں نہ تو شاعر ہوں اور نہ ہی ادیب ۔ بچپن سے ہی کتابوں کے علاوہ کھیل کود میں خاص دلچسپی رہی ۔لیکن اب لکھنا ایسی مجبوری میں ڈھل چکا ہے کہ خیالات میں جو ہنگامہ برپا ہوتا ہے لکھنے سے ختم ہوتا ہے ۔
حالات نے جو ہمیں سمجھایا بچپن سے جوانی تک ایسا کبھی کسی نے نہیں بتایا ۔کئی بار یہ خیال دل میں طوفان بن کر کھڑا ہو جاتا ہے کہ لکھنا کیا ضروری ہے ۔پڑھنے والے کہیں مجھے مولانا فصیحت ہی نہ سمجھنا شروع کر دیں ۔ مولوی بننے کے چانسسز بہت کم ہیں ۔بچپن میں قرآن پاک مسجد میں قاری صاحب سے پڑھا ۔ تب عربی متن پڑھایا اور یاد کرایا گیا ۔ ترجمہ گھر میں خود سے پڑھا ۔
ضروری نہیں کہ لکھنے کا سلسلہ بھی ہمیشہ چلتا رہے ۔زندگی میں ترجیحات بدلتی رہتی ہیں ۔ اور جو کام بچپن کے کسی شوق کا نتیجہ نہ ہو کسی وقت بھی اپنے اختتام کو پہنچ سکتا ہے ۔مختلف مصنفین کی تصانیف پڑھنے کے اثرات لکھنے پر ضرور اثر انداز ہوتے ہوں گے ۔ مجھے بادی النظر میں تو کوئی ناول نگار ہونا چاہئے کیونکہ نسیم حجازی کا کوئی ناول شائد ہی کبھی چھوڑا ہو ۔
شائدانسان تخلیق سے متاثر ہو کر اس کے زیر اثر لکھنے پر مجبور ہوتا ہے ۔ کائنات کی تخلیق نے مجھے اپنے سحر میں گرفتار کر لیا ۔سمجھنے کی کوشش میں خالق ابھر کر عقل تصور میں سرایت کر گیا ۔ ہر تحریر کا مرکز خالق کائنات کی تخلیق سے متاثر صورت دکھائی دیتی ہے ۔ تحریر یں اتنا گہرا اثر نہیں چھوڑتی جتنا تخلیق گہرے نقوش چھوڑ جاتی ہے ۔کائنات ِ پھیلاؤ میں انسانی سوچ دھنس جاتی ہے ۔جہاں خالق کی تخلیق مخلوق کی ایجاد پر بہت بھاری ہو جاتی ہے ۔جیسے چاند پر ڈسکوری کا پہنچنا کمال نہیں ہے ۔ کمال تو یہ ہے کی ایک ننھا کمزور پودا سنگلاخ چٹانوں کو چیر کر اپنا راستہ بناتا ہے ۔نظام حیات میں نظام کائنات جیسا تسلسل نہیں ۔ہنگامہ خیزی اور تجسس سے بھرا ایک عارضی پن پایا جاتا ہے ۔ اگر تخلیق کی قدر ہو گی تو خالق سے محبت ہو ہی جاتی ہے ۔


سب سے جدا رنگ نو اللہ ہو اللہ ہو
مراتب جہان میں خداۓ تو اللہ ہو اللہ ہو
مائل ہے پردہ خیال پَر تَو اللہ ہو اللہ ہو
پکار اٹھے خاک طور ہو اللہ ہو اللہ ہو


تیری رحمتوں کا یہ اظفر اللہ اکبر اللہ اکبر
تیری حکمت سےبھرےاحمر اللہ اکبر اللہ اکبر
نورہلال سےپھیلے پیکر ازہر اللہ اکبر اللہ اکبر
عرش پہ پیوست مجسم امبر اللہ اکبر اللہ اکبر

روشن عطار / محمودالحق