تحریر ! محمودالحق
جب میں نے لکھنا شروع نہیں کیا تھا تب کسی اردو ویب سائٹ سے شناسائی بھی نہیں تھی ۔صرف معاشرے میں ایک فرد کی حیثیت سے تماشائی کا روپ دھارے ہوئے تھے ۔وقت نے اس بات کا احساس دلایا کہ ہم تو صرف تماشا تھے ۔تھپکیوں سے ہی خوشی میں لوٹ پوٹ ہو جاتے ۔
اپنی ذمہ داریوں سے روگردانی کرنے والے تحسین کی سولی پہ چڑھاتے رہے ۔ جسے حسن اخلاق سمجھتے رہے وہ دراصل حالات کی نزاکت میں فرار کا محفوظ راستہ تھا ۔ان کے جانے کی قدموں کی چاپ تھپکیوں کی تھپ تھپ میں سنائی ہی نہ دے پائی ۔
گھر میں پیاز کی تہیں کٹنے سے ہر آنکھ اشکبار ہوتی تو کئی بار دیکھ چکے ہیں ۔خلوص کے چہرے سے بناوٹ کی تہیں اترنے لگیں تو صرف اپنی آنکھیں ہی چبھن سے اشکبار ہو جاتی ہیں۔ ایک کے بعد ایک آستینوں سے خنجر نکل آتے ہیں ۔اور اخلاص کے پہلو میں گھونپتے چلےجاتے ہیں ۔
بہت دیر کی مہرباں سمجھاتے سمجھاتے ۔ سمجھ تو وہ باپ بھی نہ پایا ہو گا ۔جب خوشی خوشی بیٹے کا خط کھول کر پڑھتے ہوئے آنکھیں پتھرا گئیں ہوں گی ۔ کہ آج وہ ایک ناکام انسان کے ساتھ ساتھ ناکام باپ بھی ہے ۔جو بچوں کو تعلیمی میدان میں مالی و اخلاقی مدد کے باوجود انھیں معاشی ترقی میں سیڑھی کا کردار ادا نہیں کر پایا ۔اس کا سفارش کی بجائے قابلیت کو معیار سمجھنا کامیاب والدین کی صف سے نکلنے کا سبب ہو گیا ۔کتنی آسانی سے انسان ( خاص طور پر مسلمان جسے والدین کی خدمت کا حکم اللہ تبارک تعالی نے بار بار دیا ہے ) دوسروں پر انگلی اٹھا کر اپنے بچوں کی انگریزی دانی کو ہی معیار بنا کر والدین کو مورد الزام ٹھہرا دیں ۔کہ وہ ان کے لئے کچھ نہ کر سکے ۔چودہ سولہ جماعتیں کرا دینا ہی تو والدین کی ذمہ داری نہیں ہوتی ۔معاشی طور پر مضبوط بنیادوں کا استوار کرنا بھی والدین کا فرض اولین قرار دے دیا جاتا ہے ۔
جس معاشرے کی بنیاد ایک ہاتھ دو تو ایک ہاتھ لو پر ہو تو وہاں ناکام و کامیاب کی بحث نا قابل عمل ہے ۔صرف ڈراموں اور فلموں میں تین گھنٹوں میں شیطان صفت کردار تائب ہو کر انسانی معراج پر پہنچ جاتے ہیں ۔مگر جیتے جاگتے پل گنتے گنتے زندگی میں بال سفید تو بینائی کمزور ہو جاتی ہے ۔مگر غرض و مفاد کے بت روز اول ہی کی طرح بناؤ سنگھار کئے پجاریوں کے سر پہ سوار رہتے ہیں ۔اور تا حیات تغیر و تبدل کے اثرات سے محفوظ ہی نہیں رہتے بلکہ جامد سوچ و افکار پر گہری چوٹ رکھتے ہیں ۔
کسی اخلاقی اصول پر معاشرتی ہم آہنگی پیدا ہونے کے امکانات محدود ہوتے ہیں ۔مگر مفاد حصول میں ہم آہنگی ہم نوالہ ہم پیالہ سے بھی بڑھ کر بغلگیر ہو جاتی ہے ۔اب ایسے ہم نواؤں سے خیر خواہی کی توقع عبث ہے ۔
لکھنا قلم سے ہو تو قلمی دوستی سے آگے نہیں بڑھ پاتی ۔مگر قلب سے لکھنا قلبی تعلق تک وسیع ہے ۔آنکھوں سے دیکھنا صفحات پر اترتا چلا جائے تو نشتر بن کر زخم دیتا ہے ۔ قلب سے جو اترے تو خنجر بن جاتا ہے ۔جو گھاؤ کی پیوندکاری میں اکثیر ہوتا ہے ۔زخم کے گھاؤ گہرے نہ ہوں تو لکھنا بھی سفینہء نہ ہو ۔شکوہ ذات سے ہو تو شکن تک نہ ہو ۔
مگر جہاں شکایات کے انبار ہوں ۔ وہاں عنایات انتظار میں رہتی ہیں ۔خواہشات کے بازار میں تو الزامات کی بھرمار ہوتی ہے ۔دو ہاتھوں میں دو اور سے چار تو ہو سکتے ہیں ۔ مگر قسمت کے کھیل میں جیت سے ہمکنار نہیں ۔جو کھونے کے خوف سے پہلے سے جمع سنبھالنے میں آنکھیں بند اور ہاتھ باندھ لیتے ہیں ۔دینے والے کے انعامات سے بھی منہ موڑ لیتے ہیں ۔
بارش کے برسنے میں بادلوں کے شکرگزار ہیں ۔سمندر کی تہہ سے اٹھنے والے بخارات انھیں بےثمر ہیں ۔
جینا جان سے انھیں زندگی ہے ۔ ایک امام سےبھی بڑھتی نہیں آگے ان کی زندگی ہے ۔
جب میں نے لکھنا شروع نہیں کیا تھا تب کسی اردو ویب سائٹ سے شناسائی بھی نہیں تھی ۔صرف معاشرے میں ایک فرد کی حیثیت سے تماشائی کا روپ دھارے ہوئے تھے ۔وقت نے اس بات کا احساس دلایا کہ ہم تو صرف تماشا تھے ۔تھپکیوں سے ہی خوشی میں لوٹ پوٹ ہو جاتے ۔
اپنی ذمہ داریوں سے روگردانی کرنے والے تحسین کی سولی پہ چڑھاتے رہے ۔ جسے حسن اخلاق سمجھتے رہے وہ دراصل حالات کی نزاکت میں فرار کا محفوظ راستہ تھا ۔ان کے جانے کی قدموں کی چاپ تھپکیوں کی تھپ تھپ میں سنائی ہی نہ دے پائی ۔
گھر میں پیاز کی تہیں کٹنے سے ہر آنکھ اشکبار ہوتی تو کئی بار دیکھ چکے ہیں ۔خلوص کے چہرے سے بناوٹ کی تہیں اترنے لگیں تو صرف اپنی آنکھیں ہی چبھن سے اشکبار ہو جاتی ہیں۔ ایک کے بعد ایک آستینوں سے خنجر نکل آتے ہیں ۔اور اخلاص کے پہلو میں گھونپتے چلےجاتے ہیں ۔
بہت دیر کی مہرباں سمجھاتے سمجھاتے ۔ سمجھ تو وہ باپ بھی نہ پایا ہو گا ۔جب خوشی خوشی بیٹے کا خط کھول کر پڑھتے ہوئے آنکھیں پتھرا گئیں ہوں گی ۔ کہ آج وہ ایک ناکام انسان کے ساتھ ساتھ ناکام باپ بھی ہے ۔جو بچوں کو تعلیمی میدان میں مالی و اخلاقی مدد کے باوجود انھیں معاشی ترقی میں سیڑھی کا کردار ادا نہیں کر پایا ۔اس کا سفارش کی بجائے قابلیت کو معیار سمجھنا کامیاب والدین کی صف سے نکلنے کا سبب ہو گیا ۔کتنی آسانی سے انسان ( خاص طور پر مسلمان جسے والدین کی خدمت کا حکم اللہ تبارک تعالی نے بار بار دیا ہے ) دوسروں پر انگلی اٹھا کر اپنے بچوں کی انگریزی دانی کو ہی معیار بنا کر والدین کو مورد الزام ٹھہرا دیں ۔کہ وہ ان کے لئے کچھ نہ کر سکے ۔چودہ سولہ جماعتیں کرا دینا ہی تو والدین کی ذمہ داری نہیں ہوتی ۔معاشی طور پر مضبوط بنیادوں کا استوار کرنا بھی والدین کا فرض اولین قرار دے دیا جاتا ہے ۔
جس معاشرے کی بنیاد ایک ہاتھ دو تو ایک ہاتھ لو پر ہو تو وہاں ناکام و کامیاب کی بحث نا قابل عمل ہے ۔صرف ڈراموں اور فلموں میں تین گھنٹوں میں شیطان صفت کردار تائب ہو کر انسانی معراج پر پہنچ جاتے ہیں ۔مگر جیتے جاگتے پل گنتے گنتے زندگی میں بال سفید تو بینائی کمزور ہو جاتی ہے ۔مگر غرض و مفاد کے بت روز اول ہی کی طرح بناؤ سنگھار کئے پجاریوں کے سر پہ سوار رہتے ہیں ۔اور تا حیات تغیر و تبدل کے اثرات سے محفوظ ہی نہیں رہتے بلکہ جامد سوچ و افکار پر گہری چوٹ رکھتے ہیں ۔
کسی اخلاقی اصول پر معاشرتی ہم آہنگی پیدا ہونے کے امکانات محدود ہوتے ہیں ۔مگر مفاد حصول میں ہم آہنگی ہم نوالہ ہم پیالہ سے بھی بڑھ کر بغلگیر ہو جاتی ہے ۔اب ایسے ہم نواؤں سے خیر خواہی کی توقع عبث ہے ۔
لکھنا قلم سے ہو تو قلمی دوستی سے آگے نہیں بڑھ پاتی ۔مگر قلب سے لکھنا قلبی تعلق تک وسیع ہے ۔آنکھوں سے دیکھنا صفحات پر اترتا چلا جائے تو نشتر بن کر زخم دیتا ہے ۔ قلب سے جو اترے تو خنجر بن جاتا ہے ۔جو گھاؤ کی پیوندکاری میں اکثیر ہوتا ہے ۔زخم کے گھاؤ گہرے نہ ہوں تو لکھنا بھی سفینہء نہ ہو ۔شکوہ ذات سے ہو تو شکن تک نہ ہو ۔
مگر جہاں شکایات کے انبار ہوں ۔ وہاں عنایات انتظار میں رہتی ہیں ۔خواہشات کے بازار میں تو الزامات کی بھرمار ہوتی ہے ۔دو ہاتھوں میں دو اور سے چار تو ہو سکتے ہیں ۔ مگر قسمت کے کھیل میں جیت سے ہمکنار نہیں ۔جو کھونے کے خوف سے پہلے سے جمع سنبھالنے میں آنکھیں بند اور ہاتھ باندھ لیتے ہیں ۔دینے والے کے انعامات سے بھی منہ موڑ لیتے ہیں ۔
بارش کے برسنے میں بادلوں کے شکرگزار ہیں ۔سمندر کی تہہ سے اٹھنے والے بخارات انھیں بےثمر ہیں ۔
جینا جان سے انھیں زندگی ہے ۔ ایک امام سےبھی بڑھتی نہیں آگے ان کی زندگی ہے ۔