Friday, February 19, 2010

کنارے پہ لہروں سے اٹھکھیلیاں تو ہیں بہت آساں

0 comments
کنارے پہ لہروں سے اٹھکھیلیاں تو ہیں بہت آساں
طوفانوں میں گھری کَشتئ نُوح جیسی کم ہیں داستاں

برس جائے تو سوغات تڑپ جائے تو ہے طوفاں
یہ تو سب اس کی جلوہ گری کے ہیں نشاں

سمجھنے والوں کے لیےہے کن فیکوں عیاں
بند در خرد واسطے بہتا برستا ھوا جہاں

ارض و سماں کے ہر رنگ میں ہے وہ پنہاں
بے رنگ نور مجسم پھر بھی متکبر ہے حضرت انساں

نہ غم نہ دنگ نہ ملال ہے نہ پشیماں
ایک قطرہ ہی سے تو ہے مکمل سب جہاں

بدعت عمل سے جن کی مستی جاوداں
ایسی قوموں کا کبھی کوئی پاتا نہیں نشاں

مٹ گئے محلات جبروت کے دربار شاہاں
آباد ہیں آج بھی کاشانہء فقیہاں

چاہنے سے چاہے جانے کی منزل نہیں آساں
خوشہ تقدیر کے مراد دانہ میں چھپا اک جہاں




موسل بار / محمودالحق

صدف نایاب سے مزین جہان رنگ و نو

0 comments
صدف نایاب سے مزین جہان رنگ و نو

اک دل مسلم پکارے الله ھو الله ھو

پَرِند میں ہے خوشہء جزبہ جنوں

کوئی کہے سبحان الله کوئی الله ھو

منزل سے نا آشنا رزق تلاش گرداں

میسر ہے انہیں ہر شب ماہ نو

یقین محکم جن کا آغوش رو سیاہی میں

شب کی چاندنی پہ غالب ہے آفتاب صبو



موسل بار / محمودالحق

Sunday, February 14, 2010

علم سے عالم یا عمل سے مسلمان

6 comments
علم حاصل کرو چاہے تمہیں چین جانا پڑے ۔ حدیث تو ہم نے بھی سن رکھی تھی مگر کبھی بچپن میں اس کے اصل مفہوم سے آگاہی نہیں ہو پائی ۔ پانچویں جماعت میں تھے تو اچانک ایک خیال روشن دماغ کی زینت بنا ۔ پائلٹ بننا اچھا رہے گا ۔تو بس پھر کیا تھا ۔ ہر ٹیچر سے کہتے کہ ہم تو پائلٹ ہی بنیں گے ۔ والد صاحب نے حسن ابدال جانے کی اجازت نہیں دی کہ ابھی چھوٹے ہیں سنبھال نہیں پائیں گے خود کو ۔ جماعت ہشتم تک انتظار کی گھڑیاں گنتے رہے کہ کب پائلٹ بنیں اور جہاز اڑائیں ۔ انگلش میڈیم سکولوں کے فارغ التحصیل شہریوں کے لئے بتانا ضروری ہے کہ جماعت ہشتم سے مراد آٹھویں جماعت ہے ۔ کے جی ون ٹو تھری بنچ کے سامنے کرسی پر بیٹھ کر پڑھنے کے بعد ہائی سکول میں جماعت ششم یعنی چھٹی میں داخلہ لیا۔ تو ٹاٹ کی دھول سے پہلی بار بڑے بھائیوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے شناسائی کا موقع ملا ۔ مخلوط تعلیم لیڈی ٹیچرز کے بعد اچانک ہڈبونگ مچاتی کلاس اور قہر برساتا مولا بخش
کبھی کبھار خاموش بھی ہو جاتا۔ مگر دھول ہوا میں ہی محو رقص پرواز رہتی ۔ اور ہمارے گھر پہنچنے پر ہی آرام گاہ میں اترتی ۔ لیکن ہمیں تو صرف انتظار تھا کہ ششم سے ہفتم اورپھر ہشتم ۔ مگر بعض اوقات تقدیر ہمارے لئے کچھ اور ہی ترتیب رکھتی ہے ۔ میرے ہاتھوں میں جماعت دہم میں پڑھتا میرا بڑا بھائی ٹی وی سے کرنٹ پڑنے سے جانبر نہ ہو سکا ۔ والد صاحب ٹوٹ کر رہ گئے ۔ والدہ ماجدہ کی آنکھیں بیٹے کی جدائی میں آنسوؤں کی ہی سہیلی بن کر رہ گئی ۔ بھائی جو دوست بھی تھا ہاتھ سے چھوٹ گیا ۔ وہ کبوتر پالنے کا بہت شوقین تھا ۔ بچپن میں بیماری سے بڑی مشکل سے صحتیاب ہواتھا ۔ اس لئے تمام کاموں کی اسے چھوٹ تھی اور مجھے نہیں ۔ کیونکہ اب یہ خیال کیا جا رہا تھا ۔ کہ بڑے بھائی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ڈاکٹر بننے کی اہلیت ثابت کرے گا ۔ اور جو بھائی انجئینر بن چکا تھا ۔ میرے چال چلن ان سے ملتے جلتے تھے ۔ میرے ڈاکٹر بننے کی شائد انہیں خواہش اس لئے تھی کہ وہ بڑھاپے میں داخل ہورہے تھے ۔ جب میں پیدا ہوا تو والد صاحب باونویں سال میں تھے ۔ اور والدہ انتالیسویں سال میں ۔ بڑے تمام بھائی روزگار کے سلسلہ میں گھر سے دور اندرون و بیرون ملک جا چکے تھے ۔ اب تو میری زندگی میں جو بھی تعلیم کا میدان تھا وہ شہر لاہور ہی تھا ۔ گھر میں نماز تسبیع میں مشغول میری ماں اور عدالتوں میں پیشی پر آنے والوں کی فائلوں سے رات گئے دیر تک اگلے روز عدالت میں مخالف فریق سے بحث کے لئے تیاری میں مصروف رہتے میرے والد ماجد ۔
دبلا پتلا تو میں بچپن ہی سے تھا ۔ مگر کھلے ڈیل ڈول کے بڑے بھائی کی وجہ سے میں بھی چوڑا رہتا ۔ اس کے غم میں پہلے سے بھی کمزور ہو گیا ۔ اور دشمنوں کی تعداد میں اضافہ ۔ حیران ہونے والی بات نہیں ۔ جہاں ہم رہتے ہیں یہ کسی جنگل سے کم نہیں ہے ۔ طاقتور سے خوف اور کمزور پہ زور کے فارمولے پر عمل پیرا رہتی ہے ۔ پانی کا بہاؤ نیچے کی طرف ہی ہوتا ہے ۔ قوت کا اندازہ ضرب سے نہیں لوہا کے ٹھنڈا گرم ہونے پر ہوتا ہے ۔ زمانہ انسان کا ایسا استاد ہے جس سے پڑھنے کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ وہ خود سبق یاد کرواتا ہے ۔ اور اتنی بار دھراتا ہے کہ گرم فولاد ٹھنڈا ہونے پر جب ڈھلتا ہے تو خود کبھی ڈھال تو کبھی تلوار کا وار بن جاتا ہے ۔ سکول میں پہلی جماعت کے دوستوں سے لیکر کلاس کے دادا گیروں تک سے آنکھ بچا کر گزرنا پڑتا ۔ جینے کی دستگیری تبھی ملتی اگر چمچہ گیری کرو یا آب گیری ۔ ایک بات تو طے تھی کہ اپنا تشخص برقرار رکھنے کے لئے حد سے گزرنا ہوتا ہے ۔ سوچ کے انداز کو بدلنا ہوتا ہے ۔ بچپن میں پیدا ہونے والی سوچ جب پروان چڑھتی ہے تو بڑھتی چلی جاتی ہے ۔ پڑھنے لکھنے والے چین سے بھی آگے جا چکے ۔ اور علم کے سمندر میں موتی ڈھونڈتے ڈھونڈتے عالم جہاں بن جاتے ہیں ۔ دھکم پیل کی معاشرتی اجارہ داری کسی کو وہ بنا دیتی ہے جو وہ خود سے بننا نہ چاہتا ہو ۔ حق پر ہو کر حق چھوڑ دینا کبھی اچھا تو کبھی برا تجربہ رہتا ہے ۔ ایک بار جھکنے سے دوبارہ سنبھل جائے تو الگ بات ہے مگر جھکا کر توڑ دینے میں بہادری نہیں ۔ بلکہ قوت کے استعمال کا انداز جارحانہ ہو جاتا ہے ۔ پے در پے ضربوں سے ٹوٹ نہ سکے تو دھار بن جاتی ہے جو کٹتی نہیں کاٹ دیتی ہے ۔
ایسے ہی ایک موقع پر یہ واقعہ یاد آ جاتا ہے ۔ ایک دوست کے ساتھ فلم دیکھنے سینما گئے ۔ اسے لائن میں کھڑا کیا اور خود پوسٹر سے فلم کی کہانی بننے لگا ۔ اسے اپنی طرف آتا دیکھ کر میں گیلری کی سیڑھیوں کی طرف بڑھنے لگا ۔
ٹکٹ نہیں ملا !
اس کے اس جملے نے فلم دیکھنے کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ۔ بہت عرصہ کے بعد فلم دیکھنے کے لئے سینماکا رخ کیا تھا ۔ اب ایسے ہی واپس لوٹ جائیں کیسے ممکن تھا ۔ حالات جاننے کے بعد جب ٹکٹ لینے والی کھڑکی کے پاس پہنچے تو کمال منظر تھا ۔ لائن کا وجود ہی نہیں تھا ۔ قمیضوں سے بے نیاز ۔ کوئی نیچے سے تو کوئی اوپر سے ایک تنگ سوراخ میں ہاتھ ڈال کر ٹکٹ کا متمنی تھا ۔ ہم نے آؤ دیکھا نہ تاؤ حملہ کر دیا کھڑکی پر لپکنے والوں پر ۔ چار پانچ لڑکوں پر جو سخت ہاتھ جڑے تو ضرب سے طاقت کا اندازہ ہو گیا انہیں کہ اب تو یہ ہاتھ بھی دھار بن چکے ہیں ۔ ایک لمحے میں کھڑکی کلئیر ہو گئی ۔ ایکشن کامیاب رہا ۔ مجھے اندیشہ تھا کہ جوابی حملہ ہوگا مگر نہ ہوا ۔ تگڑے تگڑے بھی پیچھے ہٹ گئے ۔ کیونکہ دبلے پتلے کے ہاتھوں کی ضرب جو جوڈو کراٹے کی تربیت اور اینٹوں پر ضربیں لگانے سے فولادی بن چکے تھے ۔ کسی نے ہمت نہ باندھی ۔ لائن ٹوٹنے سے اصول و قوائد پر عمل کرنے والے یا کمزور جو منتشر ہوئے دوبارہ لائن میں یکجا ہوگئے ۔ دوست کو پھر اسی لائن میں اپنی جگہ بحال کروایا ۔ ابھی ٹکٹ لیکر کر واپس پلٹے ہی تھے ۔ کہ ایک بار پھر وہی کھڑکی پر چاروں اطراف سے حملہ ہو گیا ۔ ایک آواز نے مجھے اپنی طرف متوجہ کیا ۔
جناب لائن ٹوٹ گئی ہے !
میں نے پلٹ کر جواب دیا ۔ مجھے اپنا حق لینا تھا سو لے لیا ۔ اب تم جانو کیسے اپنا حق دفاع کرتے ہو ۔ چند لوگ تم بیسیوں پر بھاری ہیں ۔ مگر میں اکیلا ان پر بھاری تھا ۔
وہ کہنے لگا ! ہم شریف ہیں ۔
تو میں کونسا بدمعاش ہوں۔ میں نے غصے سے جواب دیا ۔ انہی لائین توڑنے اور دوسروں کے سروں پر چڑھنے والوں نے مجھے فولاد بنانے میں اہم کردار ادا کیا ۔
مرحومہ والدہ ماجدہ اکثر کہا کرتی تھیں ۔ کہ کیا بن گئے تم ڈاکٹر تو نہ بنے مگر ان ہاتھوں سے اینٹوں کا اپریشن کرتے رہتے ہو ۔
مگر وہ یہ نہیں جانتی تھیں کہ بروس لی کی فلم انٹر دی ڈریگن سے متاثر ہو کر طاقت ور بننے کا جو کام میں نے شروع کیا ۔ وہ مجھے اعصابی طور پر بھی فولاد بنانے جارہا ہے ۔ ہر چیلنج کو قبول کرنے کی عادت پیدا ہوتی چلی گئی ۔ بڑھاپے میں ماں کو جگر کا سرطان اور والد صاحب کو الزائمر کا موذی مرض جو چودہ سال تک انہیں جسمانی اور مجھ پر اعصابی دباؤ بڑھاتا چلا گیا کو بھی لائن ٹوٹنے کی طرح برداشت نہیں کیا ۔ بلکہ بھر پور جینے کے حق سے دستبرداری کی نوبت نہیں آنے دی۔ الزائمر کی بیماری ایک کے بعد ایک اعصاب کی لائن توڑتی رہی ۔ والد صاحب کو تو توڑ کر سات سال گوشت کا لوتھڑا بنا کر رکھا ۔ مگر میں چودہ سال اس پر حملہ آور ہو کر اپنے اعصاب کی لائن سیدھی رکھتا رہا ۔
علم کے حصول میں عالم تو نہ بن سکے مگر مذہب نے عملی مسلمان بنا دیا ۔ بی اے اور ایم اے بھی اچھے نمبروں سے پاس کیا ۔ لائن توڑنے اور کھڑکی پر حملہ کرنے والے ہر جگہ ملتے رہے ۔ وہ اپنے راستہ پر چلتے رہے اور ہم اپنے پر ۔ کسی نے ہماری لائن نہیں توڑی اور ہم نے اپنی جگہ نہیں کھوئی۔ نہ جانے ہمارے معاشرے کی یہ سوچ کیونکر بن گئی تھی یا ہے ۔ کہ جو تم سے ٹکر لے سکتا ہے اس سے تعاون و تعلق بڑھایا جائے ۔ سکولوں سے لیکر کالج یونیورسٹیوں تک ، کونسلر سے لیکر ایوان صدارت تک ، کمزور و بے ضرر پر طاقت بڑھائی جاتی ہے ۔ جو پارٹیاں بگاڑ پیدا کر سکتی ہیں ۔ وہ اسمبلی سی باہر بھی تعاون رکھتی ہیں ۔ مگر جو اپنی لائن کے ٹوٹنے کو نہیں بچا پاتیں ۔ وہ اسمبلی کے اندر بھی سونے میں ہی وقت گزارتی ہیں ۔ اور ان کے ممبران بیگمات کے مجازی خدا کے درجے پر ہی فائز رہنا پسند کرتے ہیں ۔ لائن توڑنے والے کبھی ایک تو کبھی دوسری پارٹی کی ضرورت بنے رہتے ہیں ۔ جب نہ لوٹیں تو پھر وہ لوٹے ہو جاتے ہیں ۔ کیونکہ کٹی پتنگوں کی طرح انہیں لوٹ لیا جاتا ہے ۔
یہ صرف اتنی دیر ہی لائن سیدھی رکھتے ہیں جب انہیں سخت ہاتھوں سے کوئی دو دو جڑ دیتا ہے ۔ اور اس کے لوٹ جانے کےبعد پھرلائن توڑ دیتے اور کھڑکی پر چاروں اطراف سے حملہ کر دیتے ہیں ۔
ان میں سے ہی چند پھر بول اٹھتے ہیں کہ جناب لائن ٹوٹ گئی ہے ۔ آخر کب تک کوئی بار بار ان کو اپنی جگہ پر بحال کروائے گا ۔ اپنی پوزیشن برقرار رکھنے اور حق لینے کے لئے لائن سیدھی کروائی جاتی ہے ۔ جب تک اس کھڑکی کی لائن میں سب اکھٹے کھڑے رہیں گے ٹکٹ کی آس میں ۔ لائنیں ٹوٹتی رہیں گی ۔ لائن میں کھڑے رہ کر انتظار کرنے والے کیوں نہیں جدا ہو جاتے کھڑکی پر حملہ کرنے والوں سے ۔ کیونکہ فلم دیکھنے کا شوق بھی سبھی رکھتے ہیں ۔ سبھی ہال میں بیٹھنا چاہتے ہیں تبھی تو رش ہوتا ہے ۔ پھر لائن ٹوٹنے کا رونا روتے ہیں ۔

Sunday, February 7, 2010

کالونی سے کمپیوٹر تک

0 comments
چند سال پہلے تک زندگی گزارنے کا ڈھنگ مزاج فطرت میں تھا ۔ رہن سہن سے لے کر ملنے ملانے تک عزیز و اقارب ہوں یا احباب گھر انہ گھرہستی سے مزین اخلاق و کردار تھا ۔جب مہمان آتے تو خوشی سے پھولے نہ سماتے بچے اور جب چھٹیاں ختم ہونے پر لوٹتے تو چہرے اداسی کی تصویر بنے رخصت کرتے اور جانے والے محبتوں کے تسلسل ٹوٹنے پر بھاری قدموں سے اجازت مانگتے ۔خوشیاں ایک پل کو جدا ہوتی محسوس ہوتیں ۔مگر یہ کیفیت زیادہ دیر تک قائم نہ رہتی ۔کالونی محلے میں ساتھ رہنے والےپھر ساتھ جڑ جاتے ۔قہقہوں پر صرف ایک گھر کا حق نہ ہوتا ۔
ایک گھر سے نکلتے تو بلی کی طرح سات گھروں سے بھی آگے میزبانی کا مزہ چکھ کر لوٹتے ۔ہر گھر کھلے بازؤوں سے استقبال کرتا ۔کھیل کھیل میں کبھی ناراضگی ہو جاتی تو پھر صبح وہیں سے آغاز ہوتا ۔ غصہ تو تھا مگر نفرت کا پاس سے بھی گزر نہ ہوتا ۔سالوں سے ایکدوسرے کے قریب بسنے والے قربت کے ایسے رشتوں میں بندھے ہوئے تھے ۔کبھی کبھارملنے اور دور دراز رہنے والےعزیز و اقارب ان کے سامنے اجنبی لگتے ۔ روز ایک نئی کہانی کا آغاز ہوتا ۔شرارتوں کے قصے ہنسی مذاق میں زبان زد عام ہوتے ۔ عمر کے درجے ہی دوستی کے معیار تھے ۔ باپ اور بڑے بھائیوں سے بچوں تک دوستیاں سیڑھیوں کے پائیدان کی طرح ہوتیں ۔کھیل میں گروپ بازی نہ ہوتی ۔ آج ایک ٹیم میں تو اگلے دن دوسری ٹیم میں ہوتے ۔اتحاد و اتفاق تو تھا لیکن نفاق نہیں ۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ترقی کا پہیہ جب چلا تو مزاج مسافروں کی طرح اس میں سوار ہوتا چلا گیا ۔رفتار بڑھتی چلی گئی ۔ سب ہی آگے کی طرف دوڑ پڑے کیونکہ اب پیچھے مڑ کر دیکھنے کا وقت نہیں رہا۔ ہاتھ چھوٹنے کا دور گزر چکا ۔ اب تو ہاتھ ہلا کر رخصت ہونے کا وقت نہیں بچا ۔جنہوں نے اسی سفر میں جنم لیا وہ کالونی محلے کی چاشنی کو نہیں سمجھ سکتے ۔کیونکہ جس گھوڑے پر وہ سوار ہوئے ہوا سے بھی تیز رفتار ہے ۔سینکڑوں ہزاروں میل پر پھیلی ریاست دو انگلیوں کی مسافت پر رہ گئی ہیں ۔وفا کا بھروسہ نہیں مگر عشق میں اندھا پن ہے ۔محبوب سات پردوں میں چھپنے کا تو سنا تھا لیکن اب وہ سات سمندر پار بھی چھپتا نہیں ۔ فاصلے سمٹ کر انگلی کی پور کی مسافت پر ہیں ۔ انٹر نیٹ کی دنیا سے جڑا یہ ہمارا محبوب جان کمپیوٹر ہے ۔جس کے بارے میں بہت جگہ پڑھا کہ اب تو اس کے بغیر دل نہیں لگتا ۔اداسی چھا جاتی ہے ۔ بیویوں کے لئے تو سوکن کا درجہ حاصل کر چکی ہے ۔اور کنوارے روٹھے محبوب منانے کی طرح فورم کی گلیوں میں بے تحاشا چکر لگاتے ہیں ۔اب تو دل کی قربتیں دھڑکن سے جڑی رہ گئی ہیں ۔جو گردش خون سے مسافت طے کرتی ہیں ۔ کبھی سوچا نہ تھا کہ میں بھی اس کی زلف دھاگہ کا اسیر ہو جاؤں گا ۔اور بیشتر فارغ وقت اسی کے ساتھ نغمہ گاتا پھروں گا ۔ لیکن آج نفیس نفس انسان کی تلاش، وقت کی کمی کا شکار ہے ۔خواہش اور ضرورت ہوا پر سوار ہے ۔ہوا ترقی کی رفتار ہے ۔ اور انسان کبھی خوش تو کبھی بیزار ہے۔ کبھی کبھار تو سوچتا ہوں کہ بہتر ہو اگر کچھ وقت کے لئے توقف کر لوں ۔رفتار کی کمی سے ہیجان انگیزی میں کچھ بہتر نتائج سامنے آنے کے امکانات زیادہ ہیں ۔کمپیوٹر سے صرف گھر تک محدود ہو کر رہ گیا ہوں ۔ایک زمانہ تھا شہروں میں ہر مکتبہ فکر کے لوگوں کا الگ الگ حلقہ ارباب تھا ۔ ہم صرف اپنی پسند کے ہی حلقہ اثر تک محدود رہتے ۔ مگریہاں نہ چاہتے ہوئے بھی نظر پڑ ہی جاتی ہے ۔بچپن سے ہی گھر میں جو نظریہ موجود تھا اسی کے ساتھ ہی زندگی پروان چڑھتی رہی۔مگر جوانی ، معاشرہ ، مزاج ، رویے، کتاب، سیاست اور مذہبی خیالات و اعتقادات سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا ۔سنی العقیدہ ماحول میں پرورش پائی ۔ بچپن میں کربلا گامے شاہ بھاٹی گیٹ لاہور دوستوں کے ساتھ بھی جا چکے ۔مگر تربیت میں کیا کمی رہ گئی کہ صرف اپنے مسلک پر سختی سے کاربند نہیں رہے ۔ دوسرے بھی قابل احترام تھے ہمارے لئے ۔درخت کی شاخیں چاہے کتنی بھی دور تک کیوں نہ پھیل جائیں ، آپس میں ان کا ربط بھی نہ ہو اور ہواؤں کے چلنے سے آپس میں ٹکراتی رہیں ۔ مگر جڑی ایک جڑ کے ساتھ ہیں ۔ وہیں سے آب گوہر قطرہ قطرہ سمو کر تنے کے ذریعے شاخوں پتوں تک پہنچتا ہے ۔ پھول کتنا بھی خوشبو دار کیوں نہ ہو ۔جڑ سے کٹ کر خوشبو تو در کنار خود بھی مرجھا جاتا ہے ۔
دے اس قوم کو ایسی جِلا
یہ پکار اٹھیں یا خدا یا خدا
سمجھ کر یہ تیرا فرمانِ ضیا
اپنی روح کو جسم سے کریں جدا
تائب ہوں جو اپنی خطا
ملیں انہیں فرمانِ اجلِ جزا
تحریص و ترغیب تو ہے ابلیسِ ادا
چھن جائے مسلم کی ایمانِ رضا
جو خود ہے وہاں سے نکالا گیا
تیرے لیے بھی چاہے گا ویسی سزا
گر نہ ہو لغزشِ تحریز پا
آئے ایک ہی صدا یا خدا کرم فرما
نہیں ہے وہ تم سے جدا
قلب تو ہے اسکی نورِ ربا
خارِ وفا تو ہے ہمیشہ کی فنا
رضاء خدا ہی کو ہمیشہ بقا
اتنی بھی کیا جلدی سانس لے ذرا
پہلا پڑاؤ ہے تجھے پھر ہے جانا
بن گیا ایندھن جو کٹ گیا
بچ گیا جو جَڑ سے جُڑ گیا

کمپیوٹر سے جو دوستی ہو چکی تو اس کی ہر اچھی یا بری عادت کو اپنانا تو ممکن نہیں مگر ایک بات کا خیال ضرور رکھا جاتا ہے کہ کہیں لکھتے لکھتے قلم شاخ کسی دوسری شاخ سے نہ چھو جائے ۔ نقصان شاخوں کا نہیں ہمیشہ پتوں کا ہوتا ہے ۔جنہوں نے مہکنا اور کھلنا ہوتا ہے ۔بنیادی طور پر میں ایک کم علم انسان ہوں ۔ بھاری کتابوں کا بوجھ میں کیا اُٹھا پاؤں گا ۔ زندگی بھر کےعمل کے لئے چند احکامات ہی کافی ہیں ۔ کیا خوب کہا اقبال (رح) نے ،عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے ۔ ہر فورم پر تاکیدی مضامین پڑھنے کو ملتے ہیں کہ ذاتیات اور بحث و مباحث سے اجتناب برتا جائے۔
یہ سب اردو فورم کسی طرح کی کوئی خدمت انجام نہیں دے رہے ۔وقت کا ضیاع ہے نوجوان نسل کو تفریح فراہم کرنے کا انتظام ہے ۔ اس میں خوبیاں کم برائیاں زیادہ ہیں ۔ اگر میرے ساتھ کوئی بحث چاہتا ہے تو میں ثابت کرتاہوں ۔سنجیدہ نہ ہوں یہ صرف مثال کے لئے لکھے ہیں ۔ یہ حقیقت بھی نہیں ہے ۔ میرے یہ جملے کتنے لوگوں کو چبھے ہوں گے ۔ چندتنقیدی جملے خامیوں کے ساتھ ساتھ خوبیوں کو بھی لپیٹ جاتے ہیں ۔برداشت کےمادہ سےبہت سی خامیاں خود سے فنا ہو جاتی ہیں ۔چونکہ اب کمپیوٹر نے کالونی کی جگہ لے لی ہے ۔ تو اس رشتے سے ہم سب محلے دار ہوئے تو جناب مجھے تو آپ کو برداشت کرنا ہی ہو گا ۔ جو نہیں کرتے وہ شکریہ کے قریب سے بھی نہیں گزرتے ۔ اب نام لے کر پردہ نشینوں کو کیا بے پردہ کروں ۔ جتنا وقت ایک کالم لکھنے میں صرف ہوتا ہے اگر لطیفے لکھتا تو یقینا کمائی (پوائنٹ)لاکھوں میں نہیں تو ہزاروں میں ضرور ہوتی ۔ لیکن اس کام میں ہم ہمیشہ ہی ناکام رہے کیونکہ ہم دعا لکھتے رہے وہ دغا پڑھتے رہے ۔ درد کی داستان میں پھولوں سے شناسائی کھو چکے ، کانٹے اعتبار کے قابل نہیں ۔میرا یہی تخیل شاعری میں خود بخود ڈھل جاتا ہے ۔ایک نشست میں لکھنا ہوتا ہے ۔ چاہے تو شعر ڈھل جائیں یا کالم ۔آج کا کالم حاضر ہے ۔ شعر چند ماہ پہلے لکھے تھے ۔ شاعری میں تو کوئی پڑھتا نہیں تو مجبورا کالم میں پھنسا دیتا ہوں ۔ کالم کے بہانے میرے اشعار جو شائد شعراء کرام کے ترازو پر پورے نہ اترتے ہوں ۔ وہ بھی نکل جاتے ہیں ۔میں کونسا باقاعدہ شاعر یا قلم کار ہوں کہ کتابیں چھاپ کر رائلٹی لینی ہے۔اگر کوئی صرف پڑھ ہی لے تو ہمیں محنت کا صلہ مل جاتا ہے ۔شائد کسی دل سے دعا بھی نکلتی ہو ۔دعاؤں ہی سے تو یہاں تک پہنچا ہوں ۔
کس سے اپنے درد کا اظہار کروں
کوئی تو ہو جسے راز دار کروں
اب تو پھول بھی شناسا نہ رہے
آخر کب تک کانٹوں پہ اعتبار کروں
میری داستان تو ہے ایک نوحہ کناں
سنا سنا کر کب تک بیزار کروں
بھر دے لب تک پیمانے کو ساقی
مدہوشی میں استادِ زمانہ کو برخوردار کروں
جہالت جہاں سے میں بے علم ہی اچھا
الف اقرا ہی کو اپنا علم سالار کروں
آبِ کوثر کی ایک بوند کا طلبگار ہوں
تیرے حکم کو کیسے اور کیونکر انکار کروں
مجھے درد کی دعا دے دوا نہ دے
تہی دامن خزاں کو بھی بہار کروں



تحریر و اشعار: محمودالحق

شعلہ بیان یا سلگتا بیان

1 comments
ایک زمانہ تھا جب بھی کسی قوم کے اندر کسی تحریک کا آغاز ہوتا تو قائدین اپنی تحریروں اور تقریروں سے انقلاب برپا کر دیتے ۔ قوم میں ایک نیا جوش و ولولہ انگڑائیاں لیتا ۔منزل کی نشاندہی اس انداز میں کی جاتی کہ آغاز میں ہی کوشش سےکامیابی قدم چومنے لگتی۔ لیڈر صرف تقریریں نہیں کرتے تھے حقیقت میں اس پر عمل پیرا ہوتے ۔ قوم انہیں اپنا نجات دہندہ سمجھتی ۔ان کی ایک آواز پر لبیک کہتی ۔ڈنڈا گولی سے ڈرنے کی بجائے سینہ تان کر سینہ سپر ہو جاتی۔ چاہے مسجد شہید گنج کا معاملہ ہو یا سانحہ جلیانوالہ باغ ہو ۔ آزادی کے بنیادی حقوق کے لئے آواز بلند کی جاتی ۔انفرادی کوشش سے نہ تو تحریکیں چلیں اور نہ ہی حقوق کا حصول ممکن ہوا ہے ۔ قوموں کے اندر ہی سے ان کے رہنما پیدا ہوتے ۔ جو صحیح معنوں میں صرف حقوق کی آزادی کے لئے نہیں لڑتے بلکہ رہنمائی بھی کرتے ۔
صحیح خطوط پر سیاسی وابستگی کا استعمال کیا جاتا ۔ ذاتی مفادات و کاروبار کا قریب سے بھی گزر نہیں ہوتا ۔عوام سے کئے گئے وعدے وفا ہوتے ۔ جن کے بل بوتے پر اسمبلی میں جاتے ۔ انہی کے لئے بے چین رہتے ۔جلسہ میں ہوتے یا اسمبلی میں اپنی شعلہ بیانی سے مجلس گرما دیتے ۔ ایسے شعلہ بیان مقرر جلسوں میں تقریر سے ، اخبارات میں اپنے کالموں سے نئی روح پھونک دیتے ۔تاریخ شاہد ہے کہ نئی نسل کو شعلہ بیان رہنماؤں نے ایک اچھے مستقبل کی نوید دلائی ۔ مگر اب حالات بدل چکے ہیں ۔لیڈر بہک چکے ہیں ۔قوم سہم چکی ہے ۔کیونکہ جب سے دنیا گلوبل ولیج بنی ہے ۔ انٹر نیٹ پر کاروبار ، اشتہارات ، اخبارات ، غرض میرے جیسے مضمون نگار بھی انٹر نیٹ پر پائے جاتے ہیں ۔ جنہیں کوئی بھی اپنے دو کالمی خبر کے قابل نہ سمجھے۔مگر کیا کریں ہمیں تو کام لینا نہیں آتا ۔کسی بڑے تعلق کا بھی مان نہیں ۔ صرف نماز میں ہی ہاتھ باندھنے سے خوشی ملتی ہے ۔جھکنا صرف سجدہ میں جانے کے لئے ہی اچھا لگتا ہے ۔ہمیں کوئی خواہش نہیں کہ بڑے لیڈر سے ربط بڑھے ۔ ٹی وی پر انٹرویو ان کا ہو اور گردن اُٹھا اُُٹھاکر کیمرے کو منہ چڑاتے پھریں ۔ان کی فائلیں ، موبائل فون ، ڈائری کسی اور کے ہاتھ میں ہو اور وہ دونوں ہاتھ صرف سمیٹنے کےلئے خالی رکھیں ۔بھلا ہو لنڈے میں سستے داموں ملنے والے ٹو پیس سوٹ کا امیر غریب کا فرق مٹا دیا ۔صرف خالی ہاتھ دیکھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ لیڈر یہی ہے ڈائری و فائلیں ٖفون ہاتھ میں رکھنے والا اسسٹنٹ ہے ۔ حکومتیں جب بھی کوئی نیا نظام متعارف کرواتی ہیں تو مقصد عوامی بھلائی نہیں ہوتا بلکہ اسسٹنٹ بنانے میں چھانٹی کا عمل ہے ۔ تاکہ زیادہ سے زیادہ فائلیں اُٹھانے والے میسر ہوں ۔ قوم سمجھتی ہے کہ فائلوں میں وہ پراجیکٹ ہیں جو ان کی بھلائی واسطے شروع کئے جانے والے ہیں ۔ مگر وہ تو مہنگے پلاٹوں کی اوپن فائلیں ہوتیں جن کو بیچ کر پیسے کھرے کئے جاتے ہیں ۔مگر میں یہ کیا کر رہا ہوں کوئی نئی بات ہو تو یہاں ذکر کروں بھلا ان باتوں کا یہاں کیا تعلق ۔ سب ہی تو جانتے ہیں بلکہ کچھ زیادہ ہی جانتے ہیں ۔ ایک آدھ واقعہ بیان کرنا وقت کا ضیا ع ہے قاری کا ۔پہلے کیا کم مسائل سے دوچار ہیں کہ اب پڑھنے کا بھی بوجھ ڈال دوں ان پر ۔ روزانہ ہی نت نئے تازہ حالات پر لب کشائی کی جاتی ہے اور میں ہوں کہ وہی پرانی باتوں کو لیکر بیٹھ جاتا ہوں ۔اب کیا کیا جائے نیا مصالحہ ملتا نہیں ورنہ ہم بھی سیاسی بریانی کی نئی دیگ تیار کر ہی دیں ۔پہلے خبریں گھروں تک پہنچانے والے سینہ گزٹ سے پیراستہ تھے ۔ اب خبریں گھروں سے باہر لائی جاتی ہیں ۔ میڈیا بہت آگے جاچکاہے ۔ ہم پیچھے پیچھے چل تو پڑے ہیں ۔ اب کہیں گر نہ پڑیں تیزی میں چلنے کی دوڑ میں ۔
بہت عرصہ ہوا کسی جلسہ میں جانے کا اتفاق نہیں ہوا ۔ٹی وی پر تقاریر سننے کو مل جاتی ہیں ۔تقریریں بھی ایسی کہ آگ لگانے کی ضرورت ہی نہیں بھڑکی بھڑکائی ۔ ایک دن تقریر دوسرے دن تابڑ توڑ جوابی حملے ۔ کبھی صفائیاں تو کبھی تاویلیں ۔
ایک زمانہ تھا رہنما شعلہ بیان تھا ۔ آج کیا زمانہ ہے سلگتا بیان ہے ۔ چھپتے ہی آگ بھڑکا دیتا ہے ۔

تحریر : محمودالحق

Saturday, February 6, 2010

یادداشت کھو جانے والی بیماری الزائیمر کی علامات

7 comments
آج سے چند سال پیشتر پاکستان میں بہت کم لوگ الزائیمر کے متعلق جانتے تھے۔سیمینار منعقد کئے جاتے رہے تاکہ عوام میں بیماری کے بارے شعور بیدار ہو ۔ یادداشت کھونے والی بیماری جو رفتہ رفتہ انسان کو اپنے بس سے باہر کر دیتی ہے ۔
غیر محسوس طریقے سے دماغ کے خلئے آہستہ آہستہ جسم کے اعضاء کو آزاد ی کے پروانے تھماتے چلے جاتے ہیں ۔اورصرف وہی اعضاء کام سرانجام دیتے رہتے ہیں ۔ جو دماغ کے تابع نہیں ہوتے ۔ورنہ تو ایک کے بعد ایک بغاوت کرتا چلا جاتا ہے ۔خودمختاری کے اعلان کے بعد وجود کو زندہ جسم کی بجائے گوشت کا لوتھڑا بنا دیتا ہے ۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ یاداشت کی کمی اور یاداشت کے خاتمے کی بیماری ”الزائیمر“ میں دماغ کی گہرائی میں حصہ لینے والے خلیوں الیکٹرانک الیکڑوڈ کے ذریعے متحرک کر کے دماغ میں”نیورون گروتھ“ کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔امریکہ کے سابق صدر رونالڈ ریگن 1994میں اسی بیماری کا شکار ہوئے اور 2004 میں دس سال اس بیماری سے لڑتے لڑتے دنیا سے چلے گئے ۔مگر اس بیماری سے نجات نہیں پا سکے ۔تحقیق سے یہ بات دیکھنے میں آئی ہے کہ ذہنی دباؤ کی وجہ سے نیند میں خلل سے اس بیماری کی علامات یادداشت میں کمی سے شروع ہو جاتا ہے ۔
لیکن اس وقت میں اس بیماری کے علاج یا تحقیق کے متعلق سیمیناروں کا احوال بیان نہیں کرنے جارہا ۔ بلکہ یہ بتانے جارہا ہوں کہ یہ بیماری اپنی ابتدائی حالت میں کون کون سی علامات ظاہر کرتی ہے ۔ اور اس کا آغاز کس طرح ہوتا ہے ۔ غیر محسوس انداز میں کہ ساتھ رہنے والے بھی اس بات سے بے خبر رہتے ہیں کہ ایک انسان اپنی زندگی بھول رہا ہے ۔ مرکزی حکومت (دماغ) سے ایک کے بعد ایک ریاست (اعضاء) آزادی کا اعلان بغاوت کر رہے ہیں ۔ انسان سمجھ ہی نہیں پاتا کہ وہ زندگی کے ان تنگ و تاریک راستوں میں داخل ہو رہا ہے ۔ جہاں وہ خود اور اس کے ساتھ رہنے والے ایک دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔الزائیمر کا آغاز جیسا کہ ابتدائی تحقیق سے سامنے آئی ہے کہ ذہنی دباؤ اس کا بنیادی سبب ہے ۔ شروع میں مریض کی یادداشت ایک مختصر وقت کے لئے ختم ہو جاتی ہے جیسے وہ اپنے گھر کے افراد میں سے چند ایک کو پہچان نہیں پاتا اور کبھی کبھار جوانی کے ایام دور کے واقعات اور تعلق والے اسے یاد آتے بلکہ سامنے بیٹھے محسوس ہوتے ہیں ۔گھر سے باہر سیر کے لئے جائیں تو اچانک وہ اپنے گھر کی شناخت بھول جاتے ہیں ۔ گھر کے سامنے کھڑے اپنا گھر تلاش کرتے ہیں ۔ پھر اسی تلاش میں ایک گلی سے دوسری میں جاتے جاتے گھر سے دور نکل جاتے ہیں ۔ اور جب انہیں یادداشت واپس آتی ہے تو اس وقت تک اپنے گھر سے بہت دور نکل چکے ہوتے ہیں ۔ گھر کی پہچان تو واپس آ جاتی ہے مگر اب گھر سامنے نہیں رہتا ۔ کھانا کھا چکنے کے بعد بھی انہیں اس بات کا خیال ہوتا ہے کہ انہوں نے ابھی کھانا نہیں کھایا ۔انہیں یاد دلانا پڑتا ہے کہ وہ کھانا کھا چکے ہیں ۔دن و رات کا فرق ختم ہو جاتا ہے آدھی رات کو سالوں پہلے چھوڑا گیا دفتر اچانک یاد آجاتا ہے اور تیار ہو کر اندھیرے میں دفتر جانے کی تیاری میں گھر سے باہر جانے کی ضد کرتے ہیں ۔آہستہ آہستہ یادداشت کھونے کا دورانیہ بڑھتا جاتا ہے ۔اور دیر تک اپنے حال سے جدا ہو جاتے ہیں ۔ماضی پرانے ریکارڈ کی طرح نکل کر سامنے آ جاتا ہے ۔اردو انگلش لکھنے پڑھنے والی آنکھیں لفظوں سے شناسائی کھو دیتی ہیں ۔ مریض سمجھتا ہے کہ اس کی نظر کمزور ہو چکی ہے مگر دراصل دماغ کے وہ خلئے جس میں الفاظ کا ڈیٹا سٹور رہتا ہے صاف ہو جاتا ہے ۔پاخانہ پیشاب کے لئے باتھ روم تک پہنچ نہیں پاتے اور راستے میں ہی کپڑے خراب ہو جاتے ہیں کبھی بستر پر تو کبھی کسی فرش پر ۔ مریض سمجھ نہیں پاتا کہ کیا ہو رہا ہے ۔ ہاتھ میں پانی کا گلاس پکڑنے کا فن بھول جاتے ہیں ۔ روٹی کا نوالہ بنانے کی ترکیب یاد نہیں رہتی ۔ چمچ کو ہاتھ سے پکڑنا بھول جاتے ہیں ۔ بنیادی طور پر انگلیاں دماغ سے آزادی کا بغل بجا دیتی ہیں ۔اور لکڑی کے سہارے سے بھی لا تعلق ہو جاتی ہیں ۔کئی سال یہی معمولات زندگی رہتی ہے ۔ اگر کبھی دست کی شکایت سے کمزوری یا نقاہت ہو جائے تو ایک دو دن بستر پر رہ جائیں تو پھر پاؤں پر کھڑا ہونا ممکن نہیں رہتا ۔ بچے کی طرح لڑکھڑا کر گر جاتے ہیں ۔ زیادہ تر وقت اپنے حوش وحواس میں نہیں رہتے ۔ چند لمحوں کے لئے یادداشت لوٹ کر آتی ہے ۔ اور مریض صرف بستر تک محدود ہو کر رہ جاتا ہے ۔ کھلی آنکھیں اور سانس لیتی ہوا صرف زندگی کی علامت رہ جاتی ہے۔ یہ زندگی مہینوں نہیں سالوں پر محیط ہے ۔ ایک ایک پل مریض جس تکلیف سے گزرتا ہے بیان سے باہر ہے ۔اس بیماری کا دورانیہ آغاز کے بعد15 سے 20 سال تک بھی رہ سکتا ہے ۔
یہ بیماری زیادہ تر بوڑھے لوگوں میں دیکھنے میں آئی ہے مگر یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ 50 کی عمر کے افراد جو شدید ذہنی دباؤ کا شکار رہے وہ بھی اس بیماری کا شکار ہوئے ۔ترقی یافتہ ممالک میں تو الزائیمر کا مرض کافی پرانا ہے ۔ اور وہ سال و سال سے اس کا علاج دریافت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ مگر فی الحال کوئی خاص کامیابی نہیں ملی مگر اس سے بچاؤ ممکن ہے کہ ڈپریشن اور سٹریس سے حتی الامکان بچنے کی کوشش کی جائے ۔ مگر اب ہمارے معاشرے میں یہ بیماری وبا کی طرح پھیل رہی ہے ۔جوں جوں معاشرہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے ۔ رشتوں میں محبت اور ہمدردی کے جزبات کم ہوتے جارہے ہیں ۔ خاص طور پر معاشی ، خاندانی اور معاشرتی مسائل سے پریشانیاں بڑھی ہیں ۔کہیں دولت کی تقسیم سے تو کہیں رشتوں کے لین دین سے آپس میں ناچاتیاں پیدا ہوتی ہیں ۔زیادہ تر وہی لوگ اس بیماری کا شکار ہوتے ہیں جو گھل گھل کر جیتے ہیں ۔دل کی بات کسی سے نہیں کہتے ۔ غم دکھ کسی ہمدرد سے بانٹتے نہیں بلکہ خود سے برداشت کرنے اور کڑھتے رہنے سے دماغ میں شریانیں سکڑتی چلی جاتی ہیں ۔ جب یہ بیماری سامنے آتی ہے تو وقت ہاتھ سے نکل چکا ہوتا ہے ۔ اپنے ارد گرد ماحول کا جائزہ لیں کہیں ہمارا اپنا کوئی پیارا تو برداشت کی قوت کو آزماتے آزماتے زندگی تو نہیں بھول رہا ۔
اللہ تعالی ہم سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے اور صحت و تندرستی سے زندگی گزارنے کےڈھنگ پرعمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین


محمودالحق

Wednesday, February 3, 2010

کیا کھویا کیا پایا

0 comments
تحریر : محمودالحق
خدا خدا کر کے زندگی کا ایک سال اور گزر گیا ۔ امید و آس کے ساتھ جس کا آغاز ہوا تھا ۔ نا امیدی و مایوسی کے ساتھ انجام پزیر ہوا ۔ دنیا کے نقشے میں کوئی خاص تبدیلی واقع نہیں ہوئی ۔جیسا ہے جہاں ہے کی بنیاد پر ہر ملک اپنی حدوں کے اندر ہی پناہ گزیں رہا۔ جگمگاتی روشنیوں کا فائر ورکس نئی امیدوں کا چراغ بن کر پھر آنکھوں کو چندھیاگیا ۔ ہر سال ہی ہم خوشیوں کے ساتھ نئے سال کا استقبال کرتے ہیں ۔ اور گزشتہ برس پر افسوس کا اظہار کر کے پھر ایک نئی منزل کی امید میں نظریں باندھ لیتے ہیں ۔جیسے ریگستان میں بھٹکا قافلہ ہر پڑاؤ پر نیا سراب دیکھتا ہے ۔ مگر جونہی
قریب پہنچتا ہے تو خواب بکھر جاتے ہیں ۔ ہر بار وہی پشیمانی ، وہی درد افسوس سے ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں ۔جن سے امید باندھ لیتے ہیں وہی نا امیدی کے دھکتے انگاروں پر چلنے پر مجبور کر دیتے ہیں ۔مجھے اب نئے سال کی خوشی نہیں ہوتی اگر کوئی یہ سمجھے کہ ہونی چاہیئے تو پھر احمقوں کی جنت میں رہنے کا اب شوق نہیں رہا۔ ایک کے بعد ایک جزباتی انداز میں فلسفہء زندگی کو ایسے تاک تاک کر نشانے پر بٹھاتے ہیں کہ اب تختہ مشق بننے پر دل آمادہ نہیں ۔حلق سے نیچے تو اب کسی بات کی اثر انگیزی نہیں رہی ۔تر نوالہ کی طرح لعاب دہن ہی اب لفظوں کو گولی میں ڈھال کر حلق سے اتارنے کی کوشش میں ہیں ۔آج سائنس کا یہ کہنا کہ قلب تو بس ایک خون کے بہاؤ کے لئے پمپ کا کام کرتا ہے ، ان کی زبان سے نکلتے الفاظ اور دعوے اس کی دلالت کے غماز ہیں ۔کہ یہ ہیں وہ لوگ جن کے قلب ہر کیفیت سے عاری ہیں اور واقعی انہیں وہ صرف پمپ کاکام ہی دیتے ہیں۔ مگر درد دل رکھنے والا ہر انسان اس مفروضے پر آنکھ بند کر کے یقین کرنے سے قاصر ہے۔جس عقل کی بنیاد پر لوٹ مار کا بازار گرم رکھا جاتا ہے ۔وہ اگر سو بھی جائے تو وہی قلب اس کی حفاظت کا حصار بنا رہتا ہے۔اگر وہ بھی غافل ہو جائے تو منوں مٹی کے نیچے دفن ہونے سے کوئی کیا بچا پائے گا۔ مگر ان کے نزدیک ہر منزل کا راستہ عقل کی راہوں سے گزرتا ہے۔ اور اسی راستے پر چلنے والے تو بہک سکتے ہیں مگر دل کی بات سننے والے ہمیشہ ہی شش و پنج کا شکار رہتے ہیں۔شیطان کا بہکاوہ کمزور عقل مالک پر گہری چوٹ رکھتا ہے۔وگرنہ مٹی سے بنا انسان اسی زمین پر تکبر نہ کرتا ۔کامیابی کا حصول ، دوسروں سے معتبر کرنے میں اپنی تمام کوششیں بروئے کار لائی جاتی ہیں۔برداشت ، صبر ، عجز و انکساری کی جگہ اب لالچ خود غرضی نے لے لی ہیں ۔ فلسفہ حیات و ممات اب صرف کتابوں کی زینت رہ گیا ہے۔دوسروں سے بڑھ جانے کی تگ و دو میں روندنے کا عمل اپنی دانست میں عقل کی معراج سمجھا جانے لگا ہے۔ بیوقوف انسان تصور کیا جاتا ہے جو اپنا مستقبل ، بڑھاپا اور اولاد کی جوانی محفوظ نہیں رکھتا ۔کامیابی کی سیڑھی جزبات کے کھیل سے تیار کی جاتی ہے۔مفاد پرستی میں کینہ و بغض کو جھوٹ کی تراوٹ سے تازگی کے دھوکہ میں بہلایا جاتا ہے۔ سیاست سے لیکر کاروبار تک اور حکومت سے لیکر گھریلو انتظامات تک فرد فرد سے شکوہ و شکایت کے دربار شاہی کا طلبگار ہے۔ہر شخص اپنے مسائل و مشکلات کا شکار ہے ۔جسے جو مسئلہ درپیش ہو ۔ اسی کا مداوا چاہتا ہے ۔مردوں کو نوکریوں کے لالے پڑے ہیں تو خواتین کو مردوں سے برابری کی جنگ جیتنے کی جستجو ہے۔والدین اولادوں سے نالاں ہیں ، تو اولادیں والدین کو اپنی ناکامی کی وجہ قرار دیتے ہیں کہ سفارش یا رشوت کی سیڑھی سے انہیں منزل مراد تک پہنچنے میں مددگار نہیں ہوئے۔احسان ہی بھول چکے ہیں کہ تابعداری میں حکم کیا ہے۔بس صرف شکوہ میں زبان ذکر کرتی ہے۔دولت کا حصول ہی مقصدحیات ٹھہر چکا۔ رشتوں میں بناوٹ و تصنع نے اصل چہرے چھپا لئے ۔ پردہ اٹھنے پر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ اگر ملک میں انصاف نہیں تو خود میں بھی برداشت نہیں۔جلوس ریلیاں نکال نکال کر نوجوانوں کو توڑ پھوڑ کا ڈھنگ سکھا دیتے ۔ پھر شکوہ دوسروں سے کہ اپنی حدوں سے آگے گزر گئے ہیں۔ہر عروج کو زوال سے ہمکنار کرنے میں سب کا ایک ہی ڈھنگ اور کام ہونے کے بعد پھر وہی رنگ۔قوم تتلیوں کی مانند کبھی ایک ڈالی پہ تو کبھی دوسری ڈالی پہ۔ظالموں نے قوم کے خوبصورت رنگوں کو ہی بکھیر دیا ۔ روز ہی ٹی وی مناظروں میں لوٹا لفافہ کریسی سے بات اب آگے بڑھ کر کردار کشی تک جا پہنچی۔لفظوں کی نورا کشتی سے اب آگے تھپڑوں گھونسوں کی باری ہے جو پارلیمنٹ کی بجائے قوم کو گھروں میں دیکھنے کو ملے گی۔کوئی ستر ہزار ووٹ سے جیتنے کے دعوی سے ہر الزام سے بری الزمہ ہو گیا ۔ تو کوئی ان کے کندھوں پر ہی پوری قوم کا نا خدا بن جا تا ہے ۔نہ الیکشن صفاف اور نہ ہی ریفرنڈم ۔ بس بھیڑوں کا ایک باڑا ہے جو چاروں اطراف سے گھرا ہوا ہے۔ ایک ہانکتا ہے تو باقی ارد گرد سے گھیرا ڈال کربکھرنے سے بچاتے ہیں۔بھوک سے لاچار بھی ہوں قدم ڈگمگانے کی اجازت نہیں ۔بچا کر رکھتے ہیں کیونکہ دولت کے انبار انہی کی کھالوں سےتو لئے جاتے ہیں۔جس کو ہاتھ لگاؤ ڈنک بھرے تیار بیٹھےہے۔ ہر بار اس سال کی امید بہار میں ہمارے بالوں میں بھی چاندنی پوری طرح سے پھیل چکی ہے۔ ہم تو بچپن سے لاٹھی جلوس کی تزکیہ نفسی کے شکار رہے اور اب ہمارے بچے بھی دھکم پیل کے اس کھیل میں کہیں عمر نہ گنوا دیں۔اور دوسروں کو اپنے ماموں کے پودینہ کے باغات کے قصے سنا کر مرعوب کرنے کی ناکام کوشش میں اپنی شناخت ہی بھول جائیں ۔ اور جو غریب ہیں ان پر ظلم ڈھانے کے لئے امارت کا رعب ہی کافی ہے۔غریب وکمزور کو اوئے ،تو کہ کر بلانا اور امیر طاقتور کو آپ جناب کی گردان سےعزت افزائی سے طاقت بڑھائی جاتی ہے۔تو غریب بچہ کوئی ایسا ہی فعل انجام دے گا جس کی ایک مثال نیلا گنبد میں پارکنگ سٹینڈ پر گاڑی صاف کرنے والا ایک بچے نے کالی بڑی گاڑی کے شیشےکو اچھی طرح آئینہ کی طرح صاف کیا ۔ اور خود کا چہرہ دیکھا پھر اسی شیشے پر تھوک کر چلا گیا ۔مگر دوسری طرف وی آئی پی کلچر کے دلدادہ وطن میں ہوں تو ملازموں کی فوج ظفر موج انتظار میں پسند فرماتے ہیں۔ اور اگر باہر سے آئیں توامیگریشن سے پہلے اپنے نام کے ساتھ استقبال پر مامور سرکاری ملازم کا پروٹوکول چاہتے ہیں ۔آج بھی یہ سوچتا ہوں کہ دو سو سال بعدبھی کس کی حکومت ہے یہاں مغل بادشاہ کی ، ریاست کے راجہ مہاراجہ کی یا پھر ایسٹ انڈیا کمپنی کی۔ کیونکہ جمہوریت عوام سے ہے مگر عوام کہاں ہیں؟
مگر ان تمام کے باوجود میرے لئے یہ ایک اہم سال تھا ۔ میں زندگی میں مرحوم و مغفوربوڑھے والدین کے ساتھ اس لئے جڑا رہا کہ دنیا تو شائد مجھے کچھ نہ دے سکے ۔مگر ان کی خدمت سےجو اطمینان قلب آج مجھے نصیب ہے ۔ وہ دولت سے بڑھ کر بیش بہا خزانہ تسکین ہے ۔ خاص طور پر اس سال آٹھ جنوری کو شروع ہونے والا میرا یہ سفر در دستک ہے۔ موسل بار ، برگ بار، روشن عطار، خندہ جبین ، بادِ امنگ، بر عنبرین اور خیال رست جیسی تخلیق قلم نے آسودہ کیا۔

Tuesday, February 2, 2010

زندگی گناہ دلدل رقص زمانہ آ گیا

0 comments
زندگی گناہ دلدل رقص زمانہ آ گیا
در توبہ جو کھلا مقام آشیانہ آ گیا

خوف سزا سےگرنہ مائل بہ کرم ہو
لزت جزا ہی سے خواب سہانہ آ گیا


ایک اکیلا راستہ انجان تو آباد گنجان
روح فقیری میں مزاج شاہانہ آ گیا

ترغیب ثروت میں عشرت ہوتی بیتاب
بچ گیا جب اٹھا شور دیکھو دیوانہ آ گیا

نفس مجہول سے زخم خوردہ قوم
محکومی نہ رہی جب انقلاب ترانہ آ گیا

شریک وصل امتنان ہیں باہم رحجان
مفارقت عدم میں رہنے کو بیگانہ آ گیا

قلب اشتیاق جنوں میں جو نغمہ سرا ہوا
زبان پہ میرے کلام عارفانہ آ گیا

ہر روپ الگ روپ میں رنگ جدا
آفتاب و مہتاب میں بھی موازانہ آ گیا

سب کو تو غائب ہے خود میں حضور
علم الف سے ہی حال میں رندانہ آ گیا

شکوہ کو نہیں ملتی تحسین پزیرائی
آنکھوں کو درد میں بھی مُسَخرانَہ آ گیا

وصف عشق میں رنگ ایک تو روپ جدا
ایک ہے آستانہ تو ایک کا افسانہ آ گیا


خندہ جبین / محمودالحق

اے پاک وطن میری پاک زمین

2 comments
اے پاک وطن میری پاک زمین
تو ہی میرا درماں تو ہی یقین

تیری آغوش میری اسلاف امین
تو میرا مکاں میں ہوں تیرا مکین

تیرے چمن میں ہیں ہم گوشہ نشین
میں دلبر تیرا تو میری نازنین

بے کسوں کو بھی ہےتو مکاں ومکین
جہان چمن میں ہے تو گل حسین



خندہ جبین / محمودالحق

Sunday, January 31, 2010

واہ میرے شیر جوانوں

0 comments
آج کل کہیں نہ کہیں سے کوئی نئی خبر ایسی مل جاتی ہے ۔ جس سے غصہ اگر نہ آ ئے تو ہنسی ضرور نکل جاتی ہے۔لطیفوں کا دور ہے ۔خوب مزے مزے سے خوش مزاجی کا اظہار خیال ہے ۔یہاں بتانا ضروری ہے کہ یہ لطیفوں سے آپ کیا سمجھ رہے ہیں یہ تو میں نے لطیف کا استعمال کچھ نئے انداز میں کرنے کی کوشش کی ہے ۔ کیونکہ ہلکے پھلکے انداز میں گفتگو کو آگے بڑھایا جا سکے ۔ طبیعت پر گراں نہ ہو ۔آٹا ، دال چاول کی گرانی تو گراں گزرتی رہی ہے مگر آٹا ، پٹرول گیس سے تو جان کے گزرنے کا اندیشہ ہے ۔لیکن گیس پٹرول بھی جان لیوا ہوں گی کبھی
سوچا نہ تھا ۔آج تک تو انجن اور چولہوں کی محبوب جان تھیں ۔اب ہماری جان پر بن گئیں ہیں ۔پٹرول پمپ مالکان گاہکوں کے انتظار میں خوش آمدیدی کلمات کے بینر لگاتے سستے اور اچھے مرغن کھانوں کے ۔حالات نے کروٹ لے لی گلی محلے میں ہوٹلوں کی طرح سی این جی کھل گئے۔ بینر تو اب بھی ہیں مگر ڈسکاؤنٹ کے۔ کسی نے پرسنٹ میں رعائت کا اعلان طبل بجایا تو کسی نے روپے ہی لکھ دئے ۔جتنی بچت ایک ماہ میں ہوتی ہے ۔ اس کی اب شائد دو کلو چینی نہ مل سکتی ہو ۔مگر بچت کا قطرہ قطرہ سے ملے گا تو خرچہ کا دریا بنے گا۔ بچپن سے سنتے آرہے ہیں کہ چادر سے زیادہ پاؤں نہ پھیلاؤ ۔ لیکن اب صورتحال ایسی ہے کہ پاؤں چادر کے قریب ہی نہ لاؤ ۔ نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری۔ بات تو میں نے لطیفوں سے شروع کی تھی مگر جانے انجانے میں سنجیدہ موضوع اختیار کر گئی ۔ حالانکہ میرا آپ کو اداس کرنے کا ارادہ نہیں تھا ۔اتنے مسائل ہیں کہ ہنسی مذاق کرنا بھی اب ایک مذاق لگتا ہے ۔جیسے کسی شاعر نے کیا خوب کہا "تجھے اٹھکیلیاں سوجی ہم بیزار بیٹھے ہیں "۔
چلیں ایک گھر کی طرف آپ کو لے کر چلتا ہوں جہاں ایک نئی ملازمہ اپنی نئی مالکن سے گفتگو فرما رہی ہے ۔بی بی جی ! آپ کا گھر بہت خستہ بدبو دار تھا ۔ مگر چند دنوں میں میں نے صفائی ستھرائی سے خوشبودار کر دیا ۔دانائی سے بھری بوڑھی مالکن یوں گویا ہوئی کہ اے کم عقل کمال تیرا نہیں اس بدبو کا ہے جس نے تجھے بھی اپنا اسیر کر لیا ہے ۔
کافی عرصہ پہلے سننے کا اتفاق ہوا تھا لیکن آج ایک واقعے نے اسے پھر سے تازہ کر دیا ۔ٹی وی کے ایک پروگرام میں اینکرکاشف عباسی کے ساتھ شیخ رشید ، احسن اقبال اور قمرالزمان کائرہ دوستانہ ماحول میں طنز و تنقید کے ساتھ ساتھ الزام تراشیوں میں لطیف استعاروں کا استعمال کر رہے تھے ۔اور میں احمق عوام کا نمائندہ شاطرسیاسی جماعتوں کے نمائندگان کی گفتگو سے محفوظ ہو رہا تھا ۔ان کے درمیان ہونے والے چٹکلے وقت گزاری میں ممدو معاون ہو رہے تھے ۔احسن اقبال بہت جوش و خروش کا اظہار کر رہا تھا اور مخالفین پر اصول و قوائد کی تلقین و نصیحت پر خاص زور لگا رہا تھا ۔کائرہ کا شیخ رشید کو مخاطب کرکے احسن کا ہاتھ تھام کر کہنا تھا کہ جب کوئی نیا نیا مسلمان ہوتا ہے تو وہ نماز روزے کا پابند پیدائشی مسلمان سے زیادہ ہوتا ہے ۔احسن ابھی نیا نیا سیاست میں آیا ہے ۔ اس لئے اصول و قائدے کی بات کر رہا ہے کچھ عرصہ گزر جائےٹھیک ہو جائے گا ۔ اس بات پر تینوں قوم کے شیر جوانوں نے ایک قہقہہ بلند کیا ۔ تو مجھے یہ خیال آیا سب ہی ایک تھالی کے چٹے وٹے ہیں ۔جو ٹی وی پر سر عام آ کر قوم کی بے حسی پر قہقہہے بکھیر کر چلے جاتے ہیں ۔اس امید کے ساتھ کہ اگلا دن پھر انہی کے نام سے طلوع ہوگا اور ہوتا بھی وہی ہے ۔ چینل بدلو پھر کہیں اور بیٹھے قوم پر لطیف انداز گفتگو سے طنز کر کے چلے جاتے ہیں ۔اور ہر الزام کا ایک ہی جواب ہے سب کے پاس عوام نے منتخب کیا ہے ۔ ووٹ دیا ہے کوئی ڈھٹائی کا سرٹیفیکیٹ تو نہیں دے دیا عوام نے۔بار بار جتلایا جاتا ہے ۔ بار بار غلطی دھرائی جاتی ہے ۔
آنے کا راستہ تو سب کو نظر آتا ہے مگر جانے کا نہیں جیسے حکومت میں آنے کا جانے کا نہیں ۔ ورلڈ بینک یا آئی ایم ایف سے قرضہ آتا تو نظر آتا ہے جاتا کہاں ہے، کاغذ ہی گم جاتا ہے ۔بینک زکواۃ کاٹ لیتے ہیں جاتا کہاں ہے ۔ اخباروں میں بھی چھپ چکا ، جہاز بھر کر حکمران عمرہ کی سعادت سے ثواب حاصل کرچکے۔غریب و لاچار کس کسمپرسی سے زندگی کے دن گزارتا ہے ۔ کبھی باسٹھ سالوں میں ارباب اختیار نے ضرورت محسوس نہیں کی ۔
آج بھی ایسا محسوس ہوتا ہے تقسیم ہندوستان کے وقت مہاجرین کی ٹرین سٹیشن پر آ کر رکتی ہے ۔ اور بے یارومددگار لٹے پھٹے کارواں آس وامید سے ٹرین پر سوار ہونے کی کوشش کرتے ہیں ۔مگر ٹرین چھوٹ جاتی ہے اور ان میں سے چند لوگ قافلے کو پیچھے چھوڑ کر خود اس ٹرین میں سوار ہو جاتے ہیں ۔قافلے بڑھتے جارہے ہیں ۔ ٹرین آتی ہیں ۔ ان میں سے چند طاقتور اور زورآوروں کو ساتھ سوار کر کے لے جاتی ہے ۔پیچھے رہ جاتے ہیں کمزور غریب لاچار ۔ پھر نئی ٹرین کی آس لگا کر کہ شائد اس بار ہم بھی اس میں سوار ہو سکیں ۔پلیٹ فارم پر پڑے پڑے کئی نسلوں سے کئی ٹرینیں چھوٹ گئیں ۔ مسافروں کے قافلے اب رہائشی ہیں وہیں کے ۔زیادہ تر نے ٹرین کے آنے جانے کو اہمیت دینا چھوڑ دیا ۔ کچھ آج بھی امید لگائے ہیں کہ سب مسافر اس نئے سفر پر ضرور روانہ ہوں گے ۔ اور چند ہر بار قافلےکو چھوڑ کر ٹرین پر چڑھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ بعض پہلی کوشش میں تو بعض دوسری یا تیسری کوشش میں کامیاب ہو جاتے ہیں ۔ اب تو مسافر اتنے ہو چکے ہیں کہ ایک ٹرین میں پورے نہ آ سکیں ۔ اگر پہلی ٹرین سے ہی انہیں ساتھ لے کر چلا جاتا تو آج سب ہی منزل تک پہنچ چکے ہوتے ۔پلیٹ فارم پر آس و امید کی تصویر بنے نظر نہ آتے ۔


تحریر : محمودالحق

ووٹر ابن ووٹر

2 comments
دروازہ پہ دستک نے خیالات کے تسلسل کو ایک بار پھرتوڑ دیا ۔ اندر سے ہی بند کواڑ سے آواز دینے پر معلوم ہوا کہ محلے کےچند افراد ہیں جو کسی سیاستدان کے ساتھ جلوہ افروز ہیں ۔دیکھے بغیر اتنا صحیح اندازہ لگانا کوئی آسان کام نہیں تھا ۔ مگر ان کے طرز تخاطب نے مشکل آسان کر دی کہ وہ ووٹر ابن ووٹر سے ملنے کے خواہشمند ہیں ۔باہر جا کر ان کے ساتھ آنے والے سپوٹر ابن سپوٹر نے مجھ سے ان کا تعارف کروایا کہ سیاستدان ابن سیاستدان آپ سے بالمشافہ ملنے کے خواہشمند تھے ۔چہرے پر ناگواری کو چھپاتے ہوئے ایک چمکتی مسکراہٹ سے خوش آمدید کہا اور آنے کا مقصد تو ہمیں معلوم ہی تھا ۔
الیکشن قریب تھے ، وہ منہ دکھائی کی رسم ادا کرنے آئے تھے ۔تاکہ ہم ووٹ ان کی جھولی میں ڈالنے کے فرض سے عہدہ برآہو جائیں ۔میں بچپن سے ان تمام افراد کو اور وہ مجھے جانتے تھے ۔ اس وقت فرق صرف یہ تھا کہ دستک دینے والاسیاستدان ان کا والد اور دروازہ کھولنے والا ووٹر میرے والد تھے ۔ حتی کہ تعارف کروانے والا اسی سپوٹر کا باپ تھا ۔کچھ بھی تو نہیں بدلا تھا جیسے کہ ہاکی کھیلنے والے نام بدل جاتے ہیں مگر پوزیشن وہی رہتی ہےاور کمنٹری کرنے والا رائٹ ان سے سنٹر فاورڈ پھر لفٹ ان پوزیشن سے موو بنانے والے کا ذکر کرتا ہے ۔ آج ہمارا بھی حال اسی کھیل کی مانند لگ رہا ہے ۔ گفتگو ایسے ماحول میں ہوئی جیسے برسوں کے بچھڑے عزیز محبت میں جدائی کے غم کی روئداد سنا رہے ہوں ۔مرحوم ووٹر کا کیسا گہرا رشتہ تھا مرحوم سیاستدان سے ۔ سال و سال تک خوب نبھا تے رہے وہ اس تعلق کو ۔ اب ہمیں ووٹر ابن ووٹر کو سیاستدان ابن سیاستدان سے اسی تعلق کی لاج رکھنی ہو گی جب تک کہ ووٹر- ابن ووٹر ابن ووٹر نہ ہو جائے ۔میرے حالات پہلے سے مختلف تھے تعلیم نے نئی جہت کے دروازے کھول دئے تھے ۔ اب ابن کا تعلق تاریخ کی کتابوں سے جڑا تو اچھا لگتا ہے مگر حقیقت حال میں نسل در نسل حکمران ابن حکمران کا مفروضہ ہضم نہیں ہو رہا تھا ۔جہاں غریب ابن غریب پر قناعت کرے اور امیر ابن امیر کا شاہسوار بنے ۔ غلام ابن غلام کا دور گزر چکا ۔ جب زیادہ غلام رکھنا علامت ِ طاقت تھا وہ تاریخ دہرائی نہیں جائے گی ۔مگر نیا جال لائے پرانے شکاری کے مصداق اب ووٹر زیادہ ہوں تو طاقت کی علامت ہوتے ہیں ۔ہمارا ووٹ تو انہیں اونچی پرواز میں مخالف سمت چلنے والے جھکڑ سے بچنے میں مددگار تھا ۔وگرنہ ہم تو سال و سال سے زمین پر بنتے بگولوں کا شکار ہیں ۔جو صرف آنکھوں میں دھول اڑانے سے زیادہ کارآمد نہیں ہے۔اگرآنکھیں صاف آب و ہوا میں چند دن گزار لیں تو دھول چبھن دینے لگتی ہے ۔آنکھ بند کرنے سے کام نہ چلے تو رخ بدل لیا جاتا ہے ۔لیکن اب منہ موڑنے سے بھی کوئی فرق نہیں پڑنے والا ۔کیونکہ بگولے اب آسمان سے باتیں کرنے لگے ہیں ۔آنکھ بند کریں یا رخ بدل لیں مگر رہیں گے بگولے کے اندر ہی۔جب تک آنکھیں موندھے رہیں صاف آب و ہوا کی عادی نظر بچی رہیں گی ۔ایسی حالت میں ٹکرانے سے بچ نہیں پائیں گے ۔ روشنی چاہے کتنی ہی چکمدار کیوں نہ ہو دیکھنے کی سکت پیدا نہیں ہو تی ۔ہماری پوری زندگی ہی فلاں ابن فلاں بن کر رہ گئی ہے ۔ ترکھان ، لوہار ، جولاہے کا بیٹا سبزی کی دوکان نہیں لگاتا ۔ ڈاکٹر ،انجنیئر بزنس کے دھندے میں نہیں پڑتے ۔ ہاتھ صاف رکھتے ہیں ۔ ہر شعبہ زندگی کی افادیت ،گھرانوں کے مکھی پہ مکھی مارنے کی عادت قفل بندی کا شکار ہے۔ ایک سے بڑھ کر ایک باکمال جادو ئی طاقت کے سحر زدہ ہیں ۔ زیادہ بحث اور سوال و جواب کرنے والا بچہ اہلخانہ کی نظر میں وکیل یا پروفیسر کے مقام پانے کا اہل ہو جاتا ہے ۔ جو بہانہ بازی ، گولی دینے میں ماہر ہو شروع سے گلی محلے کی سیاست کا وارث سمجھا جاتا ہے ۔ ملک و قوم کی نمائندگی کی اہلیت کا تصور الگ ہے ۔غرض معاشرہ اپنی ذمہ داری کندھوں سے اتار چکا ۔ فرض منصبی ادا ہو چکا ۔ جنہیں جو کام کرنا ہے وہ کر رہے ہیں ۔ جیسے پنجابی کی ایک مشہور کہاوت کچھ یوں ہے " بیل سے کسی نے کہا ! تجھے چور لے جائیں، بیل بولا! مجھے اس سے کیا سروکار میں نے تو چارہ ہی کھانا ہے یہاں نہیں تو وہاں "



تحریر ؛ محمودالحق

Saturday, January 30, 2010

قانون فطرت

2 comments
آج کوئی خاص بات ضرور ہے۔ ہر ایک تیز قدموں کے ساتھ کھلے میدان کی طرف بھاگا چلا جا رہا ہے ۔آپس میں چہ مگوئیاں کر رہے ہیں ۔ کہ ایسی بھی کیا آفت آ گئی ۔ بادشاہ کا بلاوا تھا کس کی مجال کہ حکم سے روگردانی کرسکے۔کافی عرصہ سے دانا اور بزرگ اس اہم مسئلہ کی طرف توجہ دلانے کی کوشش کر رہے تھے ۔ آخر کار بادشاہ اور اسکے رفقاء کار کھلے میدان میں دربار کے انعقاد پرمجبور ہوئے ۔ رعایا کو اب اپنے بڑھتے مسائل پر پریشانی کا سامنا تھا ۔ مجلس عاملہ کے لئے اونچا پنڈال نہیں بنایا گیا تھا ۔ بلکہ ایک نسبتا اونچی چٹان پر تمام طاقت کے سرچشمے براجمان تھے ۔ہر قبیلہ سے ایک بڑی تعداد میں شرکت کی گئی تھی ۔شور اس قدر تھا کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی ۔آخر کار بادشاہ سلامت کی آمد کے ساتھ ہی میدان میں خاموشی نے بھی ڈیرہ ڈال لیا ۔ بادشاہ نے میدان میں پھیلے ہجوم پر ایک نظر ڈالی اور گویا ہوا کہ اپنا مدعا بیان کیا جائے ۔کچھ دیر تمام آپس میں صلاح مشورہ کرتے رہے کہ کسے اس معاملہ کو بیان کرنے کے لئے چنا جائے ۔ بالآخر ایک بوڑھا بارہ سنگھا آگے بڑھا اور اپنا مدعا بیان کرناشروع کیا ۔ جناب ہم ان جنگلوں میں صدیوں سے آباد ہیں ۔ہم سب قانون فطرت کے اندر رہتے ہوئے زندگی گزار رہے ہیں ۔مگر کبھی بھی کسی کو آپس میں یا بادشاہ سلامت آپ سے شکایت نہیں ہوئی ۔ جناب آپ سب طاقتور ، زور آور ہیں ۔ ہم آ پ کے مقابلے میں کمزور و ناتواں ہیں ۔ قانون فطرت میں رہتے ہوئے ہم موت سے بچنے کے لئے آپ کے سامنے بھاگتے ہیں ۔ اور آپ زندگی کو پانے کے لئے ہمارے شکار پر مامور ہیں ۔زندگی میں ایک پل ہی ایسا ہوتا ہے جب ہمیں موت کے چنگل سے بچنا ہوتا ہے۔اور آپ زندگی جینے کے لئے بچوں اور لاغروں کی بجائے صحت مند و توانا پر اپنی طاقت کا استعمال کرتے ہیں ۔سبز و ہریالے میدان ہوں یا پانی کے گھاٹ ، آپ سے زندگی جینے کی بھیک نہیں مانگتے ۔ اپنے زور سے موت سے چنگل سے بچتے ہیں ۔تالابوں میں مگر مچھ ہماری تاک میں رہتے ہیں ۔لیکن ان سب کے باوجود قانون فطرت کو قبول کر چکے ہیں ۔کیونکہ ہمارا شکار کرنے سے ہماری تعداد میں کمی نہیں ہوتی اور شکار کرنے سے آپ کی تعداد میں اضافہ نہیں ہوتا ۔صدیوں سے ہمارے اور آپ کے درمیان تعداد کا جو تناسب ہے وہ کبھی بھی نہیں بگڑا ۔ یہی قانون فطرت ہے۔یہ معاملہ صرف آپ کا اور ہمارا نہیں ہے بلکہ اس جنگل میں رہنے والے ہر ایک باسی اسی قانون فطرت پر زندہ رہتے ہیں ۔ کمزور شکار روز ہوتے ہیں مگر وہ ختم نہیں ہوتے ۔ شکار کرنے والے ناپید ہو جاتے ہیں ۔جیسے ڈائنوسار جوکبھی دہشت کی علامت تھے مگر آج ہڈیوں کے ڈھانچے باقی بچے ہیں ۔ لیکن آج صورتحال مختلف ہے ۔ہمیں زندہ رہنے کے لئے جس ماحول کی ضرورت ہے ۔ وہ ختم ہوتی جارہی ہے۔پہلے پہل تو انسانی آبادی کے قریب قریب درختوں کو کاٹ کر ایندھن بنایا جاتا تھا ۔ اب تو انتہا یہ ہے کہ نت نئے ڈیزائن اور خوبصورتی کی تلاش میں ہمارے خوبصورت جنگل تخت مشق بنے ہوئے ہیں ۔اگر بات یہیں تک ہوتی تو ہم صبر کر لیتے کہ ہمارے جینے کے لئے بہت کچھ باقی ہے ۔مگر اب تو انہوں نے اپنے گھروں کو چکاچوند روشن کرنے کے لئے دریاؤں پر بھی بند باندھ دئیے ہیں ۔پانی کی پیاس بجھانے کے لئے دور دور بھٹکنا پڑتا ہے ۔ہم سبھی چوپائے اور پرندے قانون فطرت پر زندہ رہنے والے آج پابند زمانہ کر دئیے گئے ہیں ۔لیکن صرف اتنا نہیں بات تو اور بھی آگے بڑھ چکی ہے ۔ہمارے بہت سے ساتھی قیدی بن چکے ہیں ۔ہمیں موت سے ڈر نہیں لگتا مگر قید ہمیں موت سے بھی بدتر ہے ۔ ہمارے مخبر جاسوس پرندے جو خبریں لاتے ہیں ۔وہ دل لرزا دینے والی ہیں ۔کیسے انہیں تنگ و تاریک کوٹھڑیوں میں قید رکھا جاتا ہے ۔ گرمی پسند کرنے والے سرد علاقوں میں اور سرد ہواؤں کے باسی گرم علاقوں میں قید رکھے جاتے ہیں ۔بلند پرواز رکھنے والے پرندے شکایت کرتے ہیں کہ اونچی پرواز میں اب تو دم گھٹتا ہے ۔ اتنی دھواں بھری گرد آلود ہوائیں ہیں ۔ کہ زیادہ دیر تک وہاں پرواز ممکن نہیں رہی ۔بیماریاں ایسی ایسی ہیں کہ شکار کی موت سے شائد بچ جائیں مگر ان سے بچنا ممکن نہیں رہا ۔بادشاہ سلامت ہم سبھی پیدا تو قانون فطرت پر ہوتے ہیں مگر انسان ہم سے ایک قدم آگے ہے ۔کیونکہ اس قانون فطرت میں رخنہ ڈالنے والا شیطان ان کا ہمعصر ہے ۔جو انہیں ترغیبات و خواہشات کا تابع رکھنے میں اپنی ساری توانائیاں خرچ کرتا ہے ۔خود تو وہ نت نئے ہتھیاروں سے لیس ہو کر خود کی تباہی کا سبب بنتا ہی ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ ہمارے شکار سے تسکین و تسفی پا تا ہے ۔ ایسی ایسی ایجادات کر چکا ہے ۔کہ ہم جیسے شکاری کے جال پھیلانے کو اپنے کانوں اور آنکھوں سے بھانپ لیتے تھے ۔مگر اب اتنے فاصلے سے ہم پر وار کرتے ہیں کہ ہمیں کانوں کان خبر نہیں ہوتی ۔بادشاہ سلامت ہم جس مشکل کا شکار ہیں ۔جینے کے لالے پڑے ہیں ہر طرف سے گھر چکے ہیں ۔نئی نسل کو کچھ بھی تو بتانے کے قابل نہیں رہے ۔فطرت پر زندگی گزارنے کی بجائے جان بچانے کے لئے آگے سے آگے بڑھتے جارہے ہیں ۔جہاں جینا تھوڑا بہت آسان ہو جائے۔اور سانسوں کو چند مزید لمحوں کی مہلت مل جائے۔ہم جانتے ہیں بادشاہ سلامت کہ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ ان سب باتوں کا آپ سے کوئی تعلق نہیں ۔کیونکہ آپ ہمارے خون سے سیر ہو جاتے ہیں ۔ تو پھر آپ کو ان کے بتانے کی ضرورت کیوں پیش آئی ۔کیونکہ اگر حالات ایسے ہی رہے تو آنے والی صدیوں میں ہم کمزور وں کی ہڈیاں تو زمین میں ہی دفن رہیں گی ۔مگر آپ طاقتوروں کی ہڈیاں ڈائنوسار کی طرح جوڑ کر عجائب گھروں میں سجائی جائیں گی ۔ اور کتابوں میں آپ کی دہشت اور شکار کی مہارت کا اندازہ آپ کے دانتوں اور ناخنوں کی طاقت سے لگایا جائے گا ۔ہم گوشہ گمنامی میں رہیں گے مگر آپ سکرین پر زندگی کی علامت بن کر ابھریں گے ۔زندگی میں تو ہم سکون سے شائد جی نہ سکیں مگر موت کے بعد آرام ہی آرام ہو گا ۔ اور آپ موت کے بعد بھی ہڈیوں سے جڑ کر بننے اور ٹوٹنے کے عمل جراحی سے گزرتے رہیں گے ۔زمانہ شائد ہمیں بھول جائے مگر آپ کو بھولنے نہیں دے گا ۔

تیری پرواز سے بہت اگے ہیں تیرے مقام
جس کی تجھے تلاش اس سے اگے تیرے انعام
پلٹتے نہیں وہ اپنی منزل سے پہلے
اورٹھہرتے بھی نہیں وہ بعد از شام
ذوق اشتیاق تو ہے ان کا شب بھر کے لیے
کیا خوب نبھاتے ہیں وہ حکم بنا کسی امام
نہ آرزو ہے نہ خواہش حسد و جلن سے پاک
دیتے ہیں اشراف کو محبت کا پیغام
ایک سے ہوں ہزار نہ مجمع نہ ہجوم
سمجھو تو اصل میں ہیں وہ اقوام
سلب آزادی کے خوف سے ہیں دبکے ہوئے
اشراف کو گمان ہے یہ ان کا احترام
کیسی کیسی خوبیوں کے مالک مختار
پھر بھی نہیں ان میں ناز و اندام
فطرت ثانیہ میں وہ ہیں مکمل آزاد
پھر بھی ہیں ان پر بیوفائی کے الزام


تحریر و اشعار : محمودالحق

Friday, January 29, 2010

قہقہے آنسوؤں کے دامن گیر

0 comments
روزانہ ہی ایک طرح کی اپنی زندگی جینے کی عادت نے دن میں روشنی اور رات میں تاریکی کی چادر اوڑھ رکھی ہے ۔ اب تو آنکھیں بھی وہی منظر دیکھنا پسند کرتی ہیں جو انہیں بار بار دیکھایا جاتا ہے ۔ جوں جوں نظارہ وسیع ہوتا جارہا ہے آنکھیں سکڑتی اور روشنی کم پڑتی جارہی ہے ۔ زندگی کے بیتے دنوں کی یاد نے ستانا شروع کر دیا ہے ۔ جب قہقہے ایسے گونجا کرتے کہ اگر کہیں سے رونے کی آواز آ جاتی تو سب لوگ اپنی توجہ صرف اسی طرف کر لیتے اور قہقہے آنسوؤں کے دامن گیر ہو جاتے اور پل بھر میں اپنی آغوش میں سمیٹ کر مسکرانے پر مجبور کر دیتے ۔ خوشیاں اتنا اپنا پن چھوڑ جاتیں کہ رونے کے لئے بھی کوئی بڑی وجہ چاہیئے ہوتی ۔ نہ جانے کیوں زندگی ایسا کھیل کھیل جاتی ہے ۔ پتھروں جیسے حوصلہ رکھنے والے فولاد کی بھاری ضربوں سے توڑنے جاتے ہیں ۔ آنسو جن کے قریب سے نہ گزرے ہوں وہ ان میں بہہ جاتے ہیں۔ اللہ تعالی پر توکل کرتے کرتے انسانوں سے شکوے بھی ختم ہو جاتے ہیں ۔ مگرعقل کی معراج پانے والے دلوں پر کشت و خون بہا دیتے ہیں ۔ وہ انسان جو زندگی میں اس منزل کے مسافر ہیں جس کا انجام اسی فانی دنیا میں بھگت کر جانے والے ہیں ۔ مگر پھر بھی انہیں راستوں پر گامزن ہیں جہاں ان کے قہقہے چیخوں کی مانند ہیں ۔ اپنے جائزحق کو بھی پانے کے لئے نفرت کی ایسی آگ بڑھکاتے ہیں ۔ کہ آنکھیں حسد و نفرت کی جلتی آگ کے آنسوؤں سے قہر آلود ہو جاتی ہیں ۔ اور بجھتی تبھی ہے جب وہ حوس و حرص کے پانی سےسیراب ہو ۔ اپنی ذاتی خواہشوں کی تکمیل میں ہر رشتہ دھوکہ کی سولی پر لٹکا دیا جاتا ہے ۔ پھر بھی توقع بدلے میں اچھے ہی کی جاتی ہے ۔ عفو و درگزر کر دینا ایسا فعل ہے کہ جسے اللہ اور اسکے رسول محبوب محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے پسند فرمایا ہے ۔ برائی کا بدلہ برائی سے نہ دیا جائے ۔ جو بھٹکے ہوئے ہیں ان کے لئے اللہ تعالی سے ہدایت کی دعا کی جانی چاہیئے ۔ معاف کر دینا چاہیئے جن سے دل دکھے ہوں کڑوی کسیلی باتوں سے ، اختلافات سے ، اعتراضات سے ، نظریات سے ، حسد سے ، جلن سے ۔ مگر وہ جو فتنہ و فساد پھیلانے کا موجب ہو جائیں ۔ بھائی کو بھائی سے جھوٹ اور مکاری سے آپس میں لڑوانے کی سازش کریں ۔ ہمدردی کی اوٹ سے ذاتی مفاد کی خواہش تکمیل میں خاندانوں میں ، بھائیوں میں جھوٹ اور بہتان طرازی سے زہر بھر دیں ۔ وہ نہ تو اس دنیا میں سرخرو ہیں اور نہ ہی اُس جہاں میں ۔ اپنی جھولیاں جس انگار سے بھرنے کے لئے اپنی زبان پر انگار رکھتے ہیں اسی سے جلتے ہیں ۔ جو اللہ اور اسکے رسول محبوب محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر ایمان زبان سے نہیں دل سے رکھتے ہوں ان کے تمام معاملات راضی بالرضا ہوتے ہیں ۔ توکل سے تحمل و برد باری کی زمین تیار ہوتی ہے ۔ عفو و درگزر کی فصل بوئی جاتی ہے ۔ اور رحمتوں کے پھلوں سے جھولیاں بھری جاتی ہیں ۔


حاسد حسد سے جل کر خاک ہوتا ہے
صابر صبر کے پھل سے پاک ہوتا ہے
کینہ و بغض تو کرتے ہیں رزق کا شکار
راضی بالرضا سے توکل بیباک ہوتا ہے
باطل تو ہے با سبب بد اعمال
بردباری تو حق کا ادراک ہوتا ہے
قلب کو یاد آنچ میں گرماؤ تو اچھا ہے
آتش کا حد سے بڑھنا تشویشناک ہوتا ہے
چاہ طلبوں کو تو چاہیے منزل الماس
فقہاء کا تو فقر ہی پوشاک ہوتا ہے
کھولے جو بند گرہ تلاش راز کو
بہتان طرازی کا جرم بڑا انجام المناک ہوتا ہے


تحریر و اشعار : محمودالحق

کس بات کی ہے تسکین طمع زندگی

0 comments
کس بات کی ہے تسکین طمع زندگی
ہررات تو بجھتی ہےشمع زندگی

بڑھتی متاع دنیا کس کام کی
ہر پل گھٹتی ہے اجمع زندگی



روشن عطار / محمودالحق

Thursday, January 28, 2010

زمانہ پھر بھی رہ جائے گا

0 comments
تحریر : محمودالحق

کوئی بھی کام مشکل نہیں ہوتا اسے نا ممکن ہم خود بنا دیتے ہیں۔ اگر مگر کی تکرار سے اپنی سہولت کی خاطر۔تن آسانی کی عادت اتنی آسانی سے چھوڑنے کو من نہیں چاہتا۔ رائی نظرآنے والی شے پہاڑ سے بھی بھاری پن کا احساس دلاتی ہے۔ اندھیرے میں چشمہ ڈھونڈتے ہوئے پاؤں ٹھوکر نہ کھائیں تو سمجھ بوجھ ،عقلمندی سے تعبیر کرتے ہیں ۔زندگی کی معمولی کامیابی کے قصے فاتح عالم کے انداز تکلم میں بیان کرنے میں فخر زماں کا لقب پانے میں حق بجانب سمجھتے ہیں۔ اور اسے سمجھنے میں افلاطون اور سمجھانے میں ارسطو سے بھی اگے نکل جاتے ہیں۔ میں کے کنواں میں اپنا ہی عکس دیکھ کر پھولے نہیں سماتے ۔پہاڑوں میں پلٹ کر آنے والی اپنی ہی آواز کی گونج سے منور رہتے ہیں ۔ کنواں سے پانی لا کر مٹکے بھرنے سے جو تسکین ملتی ہے۔ مٹکے کےپانی سے پیاس بجھنے میں نہیں ۔کولہو کا بیل واپس لوٹنے پر کوسوں میل کی مسافت کی تھکاوٹ کے احساس سے چور ہوتا ہے ،کوا چھت کی منڈھیر پر بیٹھا گھر والوں کی نظر بچا کر راہزنی کی تاک میں رہتا ہے، کوئل تنہا درختوں کے جھنڈ میں چھپی اپنی ہی دھن میں مگن گنگناتی رہتی ہے، طوطے اپنی آوازوں سے ہنگامہ برپا کرکے پھلوں کے پکنے کا اعلان کرتے ہیں ، قاصد کبوتر پیغام رسانی ہی سے محبوب نظر ہو جاتے ہیں ،شہباز بلندیوں کی اپنی حدود میں داخل ہونے والوں کے لئے اجل کا پیغام بن جاتے ہیں ، بہار میں کھلتے پھول بڑی چونچ کی چڑیا کو دعوت طعام دیتے ہیں اور جو آگ کو چکھتے ہیں آگ ہی سے جلتے ہیں ۔ سر اٹھا کر اونچے پتوں تک جانے والے باندھ کر پتوں ہی پر جھکا دئیے جاتے ہیں ، خود شکار کرنے والے قید میں ہڈیوں سے گوشت کو نوچتے ہوئےغرانے پر مجبور ہو جاتے ہیں ، کمزور کی آنکھ اسکی مفلسی و لاچاری کی علامت بن جاتی ہے۔ طاقت کا نشہ خوف بن کر نظروں میں اتر آتا ہے۔وہ ہماری قید میں ہیں ہم زمین کی اور زمین نظام شمسی کی قید میں، سارا جہاں ہی قید کی ایسی زنجیروں میں جکڑا ہے۔ جو ایک پل کے لئے بھی خود کو جدا نہیں کر سکتا۔ ہمارے قیدی ہماری تابعداری میں رہیں اور ہم نا فرمانی میں۔زمین کو حکم نہیں کہ حدوں سے باہر چلی جائے ۔ چاندنیء مہتاب کو رخصتی کی اجازت نہیں اورآفتاب کو روشنی پھیلانے میں کمی کی۔جو وجود چند ہزار قدموں سے زیادہ کی سکت نہیں رکھتا آسمان پہ کمندڈالنے کا خواہش مند ہے۔مٹی کی بندشِ قید تو مٹی تک ہے۔ روح کی آزادی ہی انہیں کائنات کی تحقیق پر آمادہ کرتی ہے ۔جو آزادی ہمیں نصیب ہوئی چند خواہشات کے بدلے میں اسے گروی رکھ دیا۔ہم سے جو کہا کہ جہاں میں پوشیدہ کیا کیا ہے ۔ہم نے فائدے کے لالچ میں انگار ہی بھر لئے۔ پانی کے نیچے سرنگ بنا دی تو بڑی بات ہوئی جس نے سمندر ہی ٹھہرا دیا اسے بھلا دیا ۔بھاگ بھاگ کر شائد تھک جائیں مگر سمیٹنے سے تھکتے نہ ہی رکتے ہیں۔ زمین کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک بھی جا کر دیکھ لیا ۔ یہاں بھی آہٹ میرے ہی قدموں کی ہے اور وہاں بھی میرے ہی قدموں کی۔ یہ قدم اسی زمین کے وفادار ہیں ۔ جب تک ان پر وزن رہتا ہے اسی سے بغلگیر ہوتے ہیں ۔ جس گھر کے رہنے والے نہ ہوں وہاں اناج بھر بھر کیا کرنا۔عقلمندی کی یہی بات سمجھنے کی ہے کہ دوست کو دوست رہنے دو۔ زمانہ کو نہ ستاؤ ۔ دور گزر جائے گا۔ زمانہ پھر بھی رہ جائے گا ۔