Friday, January 29, 2010

قہقہے آنسوؤں کے دامن گیر

0 comments
روزانہ ہی ایک طرح کی اپنی زندگی جینے کی عادت نے دن میں روشنی اور رات میں تاریکی کی چادر اوڑھ رکھی ہے ۔ اب تو آنکھیں بھی وہی منظر دیکھنا پسند کرتی ہیں جو انہیں بار بار دیکھایا جاتا ہے ۔ جوں جوں نظارہ وسیع ہوتا جارہا ہے آنکھیں سکڑتی اور روشنی کم پڑتی جارہی ہے ۔ زندگی کے بیتے دنوں کی یاد نے ستانا شروع کر دیا ہے ۔ جب قہقہے ایسے گونجا کرتے کہ اگر کہیں سے رونے کی آواز آ جاتی تو سب لوگ اپنی توجہ صرف اسی طرف کر لیتے اور قہقہے آنسوؤں کے دامن گیر ہو جاتے اور پل بھر میں اپنی آغوش میں سمیٹ کر مسکرانے پر مجبور کر دیتے ۔ خوشیاں اتنا اپنا پن چھوڑ جاتیں کہ رونے کے لئے بھی کوئی بڑی وجہ چاہیئے ہوتی ۔ نہ جانے کیوں زندگی ایسا کھیل کھیل جاتی ہے ۔ پتھروں جیسے حوصلہ رکھنے والے فولاد کی بھاری ضربوں سے توڑنے جاتے ہیں ۔ آنسو جن کے قریب سے نہ گزرے ہوں وہ ان میں بہہ جاتے ہیں۔ اللہ تعالی پر توکل کرتے کرتے انسانوں سے شکوے بھی ختم ہو جاتے ہیں ۔ مگرعقل کی معراج پانے والے دلوں پر کشت و خون بہا دیتے ہیں ۔ وہ انسان جو زندگی میں اس منزل کے مسافر ہیں جس کا انجام اسی فانی دنیا میں بھگت کر جانے والے ہیں ۔ مگر پھر بھی انہیں راستوں پر گامزن ہیں جہاں ان کے قہقہے چیخوں کی مانند ہیں ۔ اپنے جائزحق کو بھی پانے کے لئے نفرت کی ایسی آگ بڑھکاتے ہیں ۔ کہ آنکھیں حسد و نفرت کی جلتی آگ کے آنسوؤں سے قہر آلود ہو جاتی ہیں ۔ اور بجھتی تبھی ہے جب وہ حوس و حرص کے پانی سےسیراب ہو ۔ اپنی ذاتی خواہشوں کی تکمیل میں ہر رشتہ دھوکہ کی سولی پر لٹکا دیا جاتا ہے ۔ پھر بھی توقع بدلے میں اچھے ہی کی جاتی ہے ۔ عفو و درگزر کر دینا ایسا فعل ہے کہ جسے اللہ اور اسکے رسول محبوب محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے پسند فرمایا ہے ۔ برائی کا بدلہ برائی سے نہ دیا جائے ۔ جو بھٹکے ہوئے ہیں ان کے لئے اللہ تعالی سے ہدایت کی دعا کی جانی چاہیئے ۔ معاف کر دینا چاہیئے جن سے دل دکھے ہوں کڑوی کسیلی باتوں سے ، اختلافات سے ، اعتراضات سے ، نظریات سے ، حسد سے ، جلن سے ۔ مگر وہ جو فتنہ و فساد پھیلانے کا موجب ہو جائیں ۔ بھائی کو بھائی سے جھوٹ اور مکاری سے آپس میں لڑوانے کی سازش کریں ۔ ہمدردی کی اوٹ سے ذاتی مفاد کی خواہش تکمیل میں خاندانوں میں ، بھائیوں میں جھوٹ اور بہتان طرازی سے زہر بھر دیں ۔ وہ نہ تو اس دنیا میں سرخرو ہیں اور نہ ہی اُس جہاں میں ۔ اپنی جھولیاں جس انگار سے بھرنے کے لئے اپنی زبان پر انگار رکھتے ہیں اسی سے جلتے ہیں ۔ جو اللہ اور اسکے رسول محبوب محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر ایمان زبان سے نہیں دل سے رکھتے ہوں ان کے تمام معاملات راضی بالرضا ہوتے ہیں ۔ توکل سے تحمل و برد باری کی زمین تیار ہوتی ہے ۔ عفو و درگزر کی فصل بوئی جاتی ہے ۔ اور رحمتوں کے پھلوں سے جھولیاں بھری جاتی ہیں ۔


حاسد حسد سے جل کر خاک ہوتا ہے
صابر صبر کے پھل سے پاک ہوتا ہے
کینہ و بغض تو کرتے ہیں رزق کا شکار
راضی بالرضا سے توکل بیباک ہوتا ہے
باطل تو ہے با سبب بد اعمال
بردباری تو حق کا ادراک ہوتا ہے
قلب کو یاد آنچ میں گرماؤ تو اچھا ہے
آتش کا حد سے بڑھنا تشویشناک ہوتا ہے
چاہ طلبوں کو تو چاہیے منزل الماس
فقہاء کا تو فقر ہی پوشاک ہوتا ہے
کھولے جو بند گرہ تلاش راز کو
بہتان طرازی کا جرم بڑا انجام المناک ہوتا ہے


تحریر و اشعار : محمودالحق

کس بات کی ہے تسکین طمع زندگی

0 comments
کس بات کی ہے تسکین طمع زندگی
ہررات تو بجھتی ہےشمع زندگی

بڑھتی متاع دنیا کس کام کی
ہر پل گھٹتی ہے اجمع زندگی



روشن عطار / محمودالحق

Thursday, January 28, 2010

زمانہ پھر بھی رہ جائے گا

0 comments
تحریر : محمودالحق

کوئی بھی کام مشکل نہیں ہوتا اسے نا ممکن ہم خود بنا دیتے ہیں۔ اگر مگر کی تکرار سے اپنی سہولت کی خاطر۔تن آسانی کی عادت اتنی آسانی سے چھوڑنے کو من نہیں چاہتا۔ رائی نظرآنے والی شے پہاڑ سے بھی بھاری پن کا احساس دلاتی ہے۔ اندھیرے میں چشمہ ڈھونڈتے ہوئے پاؤں ٹھوکر نہ کھائیں تو سمجھ بوجھ ،عقلمندی سے تعبیر کرتے ہیں ۔زندگی کی معمولی کامیابی کے قصے فاتح عالم کے انداز تکلم میں بیان کرنے میں فخر زماں کا لقب پانے میں حق بجانب سمجھتے ہیں۔ اور اسے سمجھنے میں افلاطون اور سمجھانے میں ارسطو سے بھی اگے نکل جاتے ہیں۔ میں کے کنواں میں اپنا ہی عکس دیکھ کر پھولے نہیں سماتے ۔پہاڑوں میں پلٹ کر آنے والی اپنی ہی آواز کی گونج سے منور رہتے ہیں ۔ کنواں سے پانی لا کر مٹکے بھرنے سے جو تسکین ملتی ہے۔ مٹکے کےپانی سے پیاس بجھنے میں نہیں ۔کولہو کا بیل واپس لوٹنے پر کوسوں میل کی مسافت کی تھکاوٹ کے احساس سے چور ہوتا ہے ،کوا چھت کی منڈھیر پر بیٹھا گھر والوں کی نظر بچا کر راہزنی کی تاک میں رہتا ہے، کوئل تنہا درختوں کے جھنڈ میں چھپی اپنی ہی دھن میں مگن گنگناتی رہتی ہے، طوطے اپنی آوازوں سے ہنگامہ برپا کرکے پھلوں کے پکنے کا اعلان کرتے ہیں ، قاصد کبوتر پیغام رسانی ہی سے محبوب نظر ہو جاتے ہیں ،شہباز بلندیوں کی اپنی حدود میں داخل ہونے والوں کے لئے اجل کا پیغام بن جاتے ہیں ، بہار میں کھلتے پھول بڑی چونچ کی چڑیا کو دعوت طعام دیتے ہیں اور جو آگ کو چکھتے ہیں آگ ہی سے جلتے ہیں ۔ سر اٹھا کر اونچے پتوں تک جانے والے باندھ کر پتوں ہی پر جھکا دئیے جاتے ہیں ، خود شکار کرنے والے قید میں ہڈیوں سے گوشت کو نوچتے ہوئےغرانے پر مجبور ہو جاتے ہیں ، کمزور کی آنکھ اسکی مفلسی و لاچاری کی علامت بن جاتی ہے۔ طاقت کا نشہ خوف بن کر نظروں میں اتر آتا ہے۔وہ ہماری قید میں ہیں ہم زمین کی اور زمین نظام شمسی کی قید میں، سارا جہاں ہی قید کی ایسی زنجیروں میں جکڑا ہے۔ جو ایک پل کے لئے بھی خود کو جدا نہیں کر سکتا۔ ہمارے قیدی ہماری تابعداری میں رہیں اور ہم نا فرمانی میں۔زمین کو حکم نہیں کہ حدوں سے باہر چلی جائے ۔ چاندنیء مہتاب کو رخصتی کی اجازت نہیں اورآفتاب کو روشنی پھیلانے میں کمی کی۔جو وجود چند ہزار قدموں سے زیادہ کی سکت نہیں رکھتا آسمان پہ کمندڈالنے کا خواہش مند ہے۔مٹی کی بندشِ قید تو مٹی تک ہے۔ روح کی آزادی ہی انہیں کائنات کی تحقیق پر آمادہ کرتی ہے ۔جو آزادی ہمیں نصیب ہوئی چند خواہشات کے بدلے میں اسے گروی رکھ دیا۔ہم سے جو کہا کہ جہاں میں پوشیدہ کیا کیا ہے ۔ہم نے فائدے کے لالچ میں انگار ہی بھر لئے۔ پانی کے نیچے سرنگ بنا دی تو بڑی بات ہوئی جس نے سمندر ہی ٹھہرا دیا اسے بھلا دیا ۔بھاگ بھاگ کر شائد تھک جائیں مگر سمیٹنے سے تھکتے نہ ہی رکتے ہیں۔ زمین کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک بھی جا کر دیکھ لیا ۔ یہاں بھی آہٹ میرے ہی قدموں کی ہے اور وہاں بھی میرے ہی قدموں کی۔ یہ قدم اسی زمین کے وفادار ہیں ۔ جب تک ان پر وزن رہتا ہے اسی سے بغلگیر ہوتے ہیں ۔ جس گھر کے رہنے والے نہ ہوں وہاں اناج بھر بھر کیا کرنا۔عقلمندی کی یہی بات سمجھنے کی ہے کہ دوست کو دوست رہنے دو۔ زمانہ کو نہ ستاؤ ۔ دور گزر جائے گا۔ زمانہ پھر بھی رہ جائے گا ۔

Wednesday, January 27, 2010

خود سے جو اپنے فدا ہوتے ہیں

0 comments
خود سے جو اپنے فدا ہوتے ہیں
راہ تیری سے خود جدا ہوتے ہیں

محبت میں رہتے جو در درباں
عشق میں کہاں جنوں انتہا ہوتے ہیں



خندہ جبین / محمودالحق

پروانہ شمع سے جلے الزام تمازتِ آفتاب پہ ہو

0 comments
پروانہ شمع سے جلے الزام تمازتِ آفتاب پہ ہو
عشقِ وفا کہاںجوچاہتِ محبوب وصلِ بیتاب پہ ہو

زندگی کو تماشا نہ بناؤ تماشا خود زندگی ہو جائے
درد کا چیخِ مسکن خوشیِ القاب پہ ہو

تختِ عرش کو دوام رہتا جو ہوا میں ہے
فرشِ محل نہیں پائیدار قائم جو بنیادِ آب پہ ہو

گل گلزار سے تو مہک بہار سے ہے وابستہ
اگتا ہے صرف خار ہی بستا جو سراب پہ ہو

شاہِ زماں سے دل گرفتہ رہتے جو معظمِ ہمراز
دلگیرئ فقیر میں سدا رنگ تابانئ مہتاب پہ ہو


بادِ اُمنگ / محمودالحق

Tuesday, January 26, 2010

عفو و درگزر رحمت کا راستہ

3 comments
عفو و درگزر ایسا فعل جسے میرے مولا اور اس کے محبوب محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے پسند فرمایا ! اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے تو ایک ایسی مثال قائم کی کہ رہتی دنیا تک ہمارے لئے روشن مثال ہے ۔اور اگر کبھی بھٹکنے کی نوبت آ بھی جائے تو ہم بھٹک نہیں سکتے ۔غصہ کے بےلگام گھوڑا کو قابو میں رکھنے کا ایک ایسا کوڑا جو اسے بدکنے اور سرکشی سے باز رکھنے میں طاقت میں اپنا ثانی نہیں رکھتا ۔انسان معاشرے میں کہیں نہ کہیں ناانصافی اور ظلم کا شکار ہو سکتا ہے ۔اور اگر بدلہ ہی اسے انصاف دلا سکے تو ہر فرد اپنے خلاف کئے جانے والے تمام عوامل کے مد مقابل خود ہی بدلہ کے ترازو سے انصاف کے پلڑا کو بھاری کرتا جائے مگر یہ مشیت الہی نہیں ہے ۔ کیونکہ اس طرح معاشرہ بدلہ کی آگ سے انتقام کی حدود سے بھی آگے گزر جانے کا احتمال رہے گا ۔اور بدلہ ظلم کے خلاف ضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال سے پھر ظالم مظلومیت کے کٹہرے میں جا کھڑا ہو گا ۔جو ہمیشہ سے ہوتا آرہا ہے ۔ ظالم قانون سے بھی سزا یافتہ ہو تب بھی ظلم سہنے والے ہی کو مورد الزام ٹھہراتا ہے ۔کیونکہ شیطان کا بہکاوہ انسان کو کسی بھی پل اس احساس سے خالی نہیں جانے دیتا ۔کہ اس کا کوئی بھی عمل ظلم و اذیت دینے میں نا انصافی پر مبنی ہے ۔حتی الوسع کوشش یہی ہونی چاہیے کہ کسی سے نا انصافی نہ ہو اور اپنے عمل سے ہی اور خاص طور پر ظلم سہنے اور نقصان اٹھانے کے بعد معافی کا راستہ اختیار کیا جائے ۔کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر اللہ تبارک تعالی اور اس کے محبوب محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے محبت کا ثبوت ثبت ہو سکتا ہے ۔ چیخنے کی زیادہ آوازیں انہیں انسانوں کے گلے سے نکلتی ہیں ۔جو اپنے نفس کے شکار ہوتے ہیں اور اللہ کی ہدایت اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اسوہ حسنہ پر عمل پیرا نہیں ہوتے ۔اور جو راہ ہدایت پر ہوتے ہیں وہ محبوب ہو جاتے ہیں ۔ان سے محبت رکھنے والے کبھی بھی ایسا فعل سر انجام نہیں دیتے ۔ کہ جس سے دیکھنے والا فعل کی نسبت محبوبیت سے جدا کر سکے ۔ ایک پل کے لئے انا ، ضد ،تکبر اور اعلی مرتبت کے بت کو دوسرے کے ہاتھوں نقصان اٹھائے جانے سے ٹھیس پہنچتی ہے اور یہی شیطانی خیالات کا بہکاوہ انسان کو اپنی راہ سے بہکانے کا سبب بنتا ہے ۔ اور اللہ تبارک تعالی کی نظر میں وہ بدلہ جو انتقام کی آگ میں جلا ہو۔ نا پسندیدہ عمل قرار پا جاتا ہے ۔ اللہ تبارک تعالی خود معاف کرنے والا ہے غفورورحیم ہے ۔ یہی خوبی اپنے بندے میں دیکھنا پسند فرماتا ہے ۔اس سے ڈرنے والے دوسروں کو ڈراتے نہیں بلکہ اپنے حسن اخلاق سے نرم خوئی کے بیج بوتے ہیں ۔جس سے عفو و در گزر کے پھول اگائے جاتے ہیں ۔ اور محبت کی خوشبو مہکائی جاتی ہے ۔بہت آسان ہے کہہ دینا کہ معاف کر دوں گا ۔مگر ظلم و نقصان اٹھانے کے بعد عملی طریقہ سے یوں کہ بدلہ لینے کی طاقت ہو اور پھر معاف کرنا ۔ پسندیدہ عمل ہو جاتا ہے ۔ اللہ تعالی کے ہاں مقبول اور محبوب ہو جاتا ہے۔ اور رحمتوں کی بارش سے فیض یاب ہوتا ہے

تحریر : محمودالحق

سپیدئ اَوراق کرن سیاہ میں چھپائی

2 comments
تحریر و اشعار : محمودالحق

کبھی پہاڑوں سے دھول اُڑتی ہے ۔توکبھی سمندر کی لہریں ہوا کے زور پہ ساحل سے آگے بستیوں پر قہر بن جاتی ہیں ۔بادل گرج کر جب برس جائیں ۔تو پانی بہا لے جاتے ہیں ۔اگرسفید روئی کی طرح نرم حد سے گزر جائیں تو راستوں ہی میں جکڑ دیتے ہیں ۔تسکین تکلیف میں بدل جاتی ہے ۔زندگی جو بچ جائے وہ جدا ہونے والوں کی یاد بھی بھلا دیتی ہے۔ایک سے بڑھ کر ایک منظور نظر جب بپھر جائیں تو قیامت سے کم نہیں ہوتے ۔مگر ایسے حسین مناظر کی تصویر کشی کرنے والے خود سے کیوں بہک جاتے ہیں ۔جن کے دم سے رونق افروز ہیں انہیں پر آفت بن کر ٹوٹتے ہیں ۔بے ضرر دکھنے والے خدائی طاقت کا اظہار ایسے کرتے ہیں کہ جینا بھلا دیتے ہیں ۔زمانہ قدیم کی مدفن تہذیبوں سے ہم صرف ٹوٹے برتنوں کو ہی جوڑ پائے ہیں۔مگر منوں مٹی کے نیچے دبنے سے لا علم ہیں ۔ ساری بستیاں ہی زمین دوز ہو گئیں ۔صرف سخت مٹی سے بنائی ہی خاک ہونے سے بچی رہیں ۔ خاک چاٹنے والی ہر شے کو خاک نے خاک کر دیا ۔ امارت رکھنے والے اپنے پیچھے کوئی ایسا نشان بھی نہ چھوڑ پائے کہ آج تاریخ کی کتابوں میں ہی زندہ رہ جاتے ۔ ان کے نزدیک زندگی کے کیا معنی تھے ،انسانیت کی کس معراج پر مقام رکھتے تھے ۔ طاقت کا توازن کیسےبرقرار رکھا گیا۔اپنی حدود کا تعین کرنے میں کیا حکمت عملی کارفرما تھی۔قرض دینے میں کیا شرائط طے کرتے ،غلام بنانے کے لئے جبر کا کونسا ہتھیار استعمال کرتے ۔جنگ و جدل میں زندگی برباد کرتے یا تجسس و تحقیق میں توانیاں صرف کرتے رہے وہ۔زمین سے تو لا تعلق تھے مگر آسمانوں پر چمکتے ستاروں سے جڑے رہتے ۔کبھی وہ سورج کو مالک کائنات سمجھ لیتے تو کبھی آگ دیوتا کا روپ دھار لیتے۔عقل و شعور کا جب ادراک حد سے بڑھا ،تو تخیل میں پرستش عمل سے اپنے ہی ہاتھوں سے بنائے بتوں کے سامنے سجدہ ریز ہوتے اورمعاشرتی اقدار کا من مانے طریقے سے اظہار کرتے ۔بیٹوں کی پیدائش پر شادیانے بجاتے تو بیٹیاں عزت کے نام پر زندہ دفن کر دیتے۔انسان قبیلوں میں اور قبیلے طاقت کی بنیاد پر اپنے وجود کی اہمیت کا احساس دلاتے۔ کمزوروں کو جھکنے کی عادت نے زندہ رہنے کی مہلت دی۔ طاقتور کبھی بلا تو کبھی فنا کے اصول پر دست اندازی کرتے۔قانون قدرت کے بر خلاف نفس شیطان کے پیروکار رہنے میں بلند مرتبہ کی حاجت کے متمنی رہتے۔ انقلابات زندگی نے انسان کو ہمہ گیر جہت مسلسل کی بجائے ہمگیر جہالت کفر کے لبادے میں اوڑھا دیا۔ ترغیب و تحریص نے پامالیء انسانیت کا پرچم نیزے کی نونک پر بلند رکھا۔اپنی گردن اکڑا کر تلوار سے دوسروں کی گردنوں کو کاٹ کر جھکا دیا جاتا۔ بھیڑ وں اور اونٹوں کی طرح منڈیوں میں غلاموں کی تجارت کا بازار گرم رکھا جاتا۔ شہزادگی کی زندگی شکست خوردہ ہوتے ہی غلامی میں بدل جاتی۔ فتح کے نشہ میں معافی و درگزر کا قریب سے بھی گزر نہ ہوتا۔ایسے میں اللہ تعالی نےقبیلہ قریش میں اپنے پیغام انسانیت اور مقصدانسانی حیات کے پہنچانے میں اپنے محبوب محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جو صادق و امین کے رتبہ پر پہلے ہی سے فائز تھے کو غیر انسانی و غیر اخلاقی نظام ہستی کو نظام وحدت میں پرونے کے لئے ہدایت اور دین حق دے کر مبعوث فرمایا۔اللہ تعالی کے توحید کے پیغام کو معاشرےکے سدھار کے لئے پہلا راستہ اختیار کیا گیا۔جب خد اتعالی کی حاکمیت اعلی کو تسلیم کر لیا گیا ۔ تو زندگی کے تمام معاملات کو اسی کی ذات کے ساتھ منسوب رکھنے میں ہی نجات کا راستہ دکھا دیا گیا ۔ خطبہ حجتہ الوداع کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نےارشاد فرما یا !
ہاں جاہلیت کے تمام دستور آج میرے پاؤں کے نیچے ہیں عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر ، سرخ کو سیاہ پر اور سیاہ کو سرخ پر کوئی فضیلت نہیں مگر تقویٰ کے سبب سے ۔میں تم میں ایک چیز چھوڑتا ہوں۔ اگر تم نےاس کو مضبوط پکڑ لیا تو گمراہ نہ ہوگے وہ کیا چیز ہے؟ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ۔
سپیدئ اَوراق کرن سیاہ میں چھپائی
حرف علم زماں میں مفہوم ہے خدائی
چر رہ دے دل فگار کو عقل کلیم سے
نہیں مشکل کاٹ دے پہاڑ کو ایک رائی
خزانہ تو ہے مدفن یا درافتن
اتنا تو صرف ہے آدم کی پزیرائی
اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نےیہ بھی ارشاد فرمایا !
تمہاری اس سرزمین میں شیطان اپنے پوجے جانے سے مایوس ہو گیا ہے لیکن دیگرچھوٹے گناہوں میں اپنی اطاعت کئے جانے پر خوش ہے اس لیے اپنا دین اس سےمحفوظ رکھو!
تحریص و ترغیب تو ہے ابلیس ِادا
چھن جائے مسلم کی ایمانِ رضا
قرآن مجید اور سنت نبوی کے بعد کسی بات کی گنجائش نہیں رہ جاتی ۔ مگرلفظوں کی حقیقت ، ماہیئت اور ہیئت سے الگ نقطہ نظر معنی پوشاک کر دئیے جاتے ہیں ۔ صرف علمیت کو فوقیت کے درجے پر بٹھا دیا جاتا ہے۔ لفظوں کو گھٹانے بڑھانے کے عمل سے ایک الگ رویہ تلمیح اختیار کی جاتی ہے۔ مفہوم کو سمجھنے کے لئے ذاتی علمی آراء کا اظہار پسند و ناپسند کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ معنی و مفہوم کو بھی پسند کی کسوٹی پر پڑھا جاتا ہے۔ اسی پسند نا پسند کی بنیاد ی وجہ عناد نے مسلم قومیت کو تقسیم در تقسیم کر دیا ہے۔
کائنات قرون میں پھر پڑھنا سبق قرآن واللہ احد
بختاور بے کراں میں ابجو ورد ِمسلمان اللہ الصمد
خود پرستی میں مبتلا قوم عمار کھوتی رہن متاع ِمحبوب
نہیں بے سبب ارتقا ءآدم عالم ِتنہا میں جہان ِواحد
آرمیدن نستعلیق میں دستگیری تضاد قال و قول
طلوع اسلام کے پہلے پیغام و صف آرائی مسلمان کا نام احد
حسرت ِحالی پہ غالب داغ ِمیر تو درد ِاقبال
ترتیب زیاں میں نہیں بہر و بند بچتی صرف خاک لحد
آنکھ میں دیکھنا سرور تو قراری قلب میں بیقراری ہو
قلب طہور میں آتی سرور جاں پڑھتے جب کفو احد

Saturday, January 23, 2010

تیری عنایات ہیں اتنی کہ سجدہء شکر ختم نہ ہو

1 comments
تیری عنایات ہیں اتنی کہ سجدہء شکر ختم نہ ہو
تیرے راستے میں کانٹے ہوں میرا سفر ختم نہ ہو
پھیلا دوں روشنی کی طرح علم خضر ختم نہ ہو
توبہ کرتا رہوں اتنی میرا عذر ختم نہ ہو
سجدے میں سامنے تیرا گھر ہو یہ منظر ختم نہ ہو
تیری رحمتوں کی ہو بارش میرا فقر ختم نہ ہو
مجھ ادنیٰ کو تیرے انعام کا فخر ختم نہ ہو
جہاں جہاں تیرا کلام ہو میرا گزر ختم نہ ہو
تیری منزل تک ہر راستے کی ٹھوکر ختم نہ ہو
آزمائشوں کے پہاڑ ہوں میرا صبر ختم نہ ہو
زندگی بھلے رک جائے میرا جذر ختم نہ ہو
وجود چاہے مٹ جائے میری نظر ختم نہ ہو
تیری اطاعت میں کہیں کمی نہ ہو میرا ڈر ختم نہ ہو
بادباں کو چاہے کھینچ لے مگر لہر ختم نہ ہو
خواہشیں بھلا مجھے چھوڑ دیں تیرا ثمر ختم نہ ہو
تیری عبادت میں اتنا جیئوں میری عمر ختم نہ ہو
بھول جاؤں کہ میں کون ہوں مگر تیرا ذکر ختم نہ ہو
جاگوں جب غفلتِ شب سے میرا فجر ختم نہ ہو
تیری محبت کا جرم وار ہوں میرا حشر ختم نہ ہو
تیری حکمت سے شفایاب ہوں مگر اثر ختم نہ ہو
میرے عمل مجھ سے شرمندہ ہوں مگر فکر ختم نہ ہو
منزلیں چاہے سب گزر جائیں مگر امر ختم نہ ہو
سپیدی و سیاہی رہے نہ رہے مگر نشر ختم نہ ہو
دن چاہے رات میں چھپ جائے مگر ازہر ختم نہ ہو



برگِ بار / محمودالحق

جس کو ملے حکمِ اذاں

0 comments
جس کو ملے حکمِ اذاں غلام سے سردار ہو جائے
اگر عبادت میں ہو دکھاوا تو انکار ہو جائے
بات گر حد سے بڑھے تو تکرار ہو جائے
تقاضا بار بار ہو تو اصرار ہو جائے
منظر جو دکھا دیا تو علمبردار ہو جائے
نظر سے جو چھپا لیا تو اسرار ہو جائے
عشق کی ہے انتہا ہر پتے میں دیدار ہو جائے
گل جو سونگھ لوں دل بیقرار ہو جائے
نیکی زبان زدِ عام ہو تو بیکار ہو جائے
لفظوں کو جب ملے زبان تو شاہکار ہو جائے
عقل خرد تو شعورِ علم سے بیزار ہو جائے
شاہانہ مزاج ہی اس کا سرکار ہو جائے
مومن کا عملِ صالح تو سالار ہو جائے
ضعیف الایمان تو صرف رضاکار ہو جائے



برگِ بار / محمودالحق

میوہ و مہک سے گر تو اکتائے

0 comments
میوہ و مہک سے گر تو اکتائے تو لوٹا دینا
نعمتیں حسرتوں سے بڑھتی پائے تو لوٹا دینا
آنسو غم سے خوشی میں ڈھل جائے تو لوٹا دینا
تکبرِ پا سے خاک سر کو آئے تو لوٹا دینا
آب کو گر آگ گرمائے تو لوٹا دینا
گل مہکنے کے بعد مرجھائے تو لوٹا دینا



برگِ بار / محمودالحق

بلبل تو جگنو کی روشنی کی ہے طلبگار

0 comments
بلبل تو جگنو کی روشنی کی ہے طلبگار
ظلمتِ شب تو درویش کو ہیں نورِ مینار
خیالِ مراتب ہو جہاں وہ ہے شاہی دربار
شاہ و گدا صرف وہیں کھڑے ہیں ایک قطار
جسے جس کی تمنا وہی ہے اس کا دلدار
جھکنا اس کو اچھا احسان کا نہیں جو روادار
دامن بھر بھر لیتے ہیں وہ زرِ انگار
تہی دَست کو ملتا ہے گلستان و گلزار
تجھ پہ موقوف چاہے تو دربار یا انوار
مہکنے کو تو گل ہی ہو گا خار دار
گر تو قید یہاں وہاں سے نہیں راہِ فرار
سمجھ اس بات کو وہ تو ہے بڑا مددگار
اس بازی میں تو جیت ہے یا ہار
ایک میں بیقراری ایک ہے گلزار
کیا مشکل ہے گر ہو جائے تھوڑا ابرار
ورنہ تو ہر طرف ہی ہے فگار و ضرار
کوئی کہے کہ اب نہیں ہوتا انتظار
میرے لیے تو کافی ہے یہی اشکبار
مانگیں پناہ خُدا سے سب دل آزار
خود سے تو کبھی اوروں سے بیزار
تَکبر سے جب اپنے ہوتے ہیں لاچار
ڈھونڈتے ہیں اپنے لیے پھر راز دار
تیرے عشق جنوں کا ہے مجھے خَشِیت بخار
نہیں ضرورت باقی اب کسی مسیحاء تیماردار



برگِ بار / محمودالحق

عشق کا رنگ ہو غالب

0 comments
اک رُت آنے سے اک رَنگ جاتا ہے
عشق کا رنگ ہو غالب تو اُٹھایا سنگ جاتا ہے
دیوار میں چنوائی تو تاریخ کہلاتی ہے
عاشق کا جنازہ تو موت کے سنگ جاتا ہے



برگِ بار / محمودالحق

سیاست کے میدانوں کے بڑے شکاری

1 comments
سیاست کے میدانوں کے وہ بڑے شکاری
ملک و قوم ہے انہیں صرف پارک سفاری

آئین و انصاف تو ہے مارچ کبھی دھرنا
ووٹ ہے انہیں جاہ و حشمت کی سواری

قائد کے وطن اسلام کو صیغہ آباد لگا دیا
ہاتھ باندھے کھڑے ہیں جہاں سب درباری

چھن گئی ان سے متاع محبوبِ الہٰی
شکر ہے مفتی اعظم نہیں کوئی سرکاری

نہیں خدا کو چاہ جو خود سے نہیں آگاہ
قرآن سے متصادم جن کی رسم کار و کاری

آبِ قطرہ ہی سے ہے لہر ابر و آبشار
صرف خون کو خون سے نہیں کوئی آبیاری

نفسِ شیطان کے ہیں یہ عروجِ کمالات
چھن گئی جن سے عزتِ نفس و خودداری

قوم کی تقدیر بن گئی قسمت کا کھیل
آج اس کی باری تو کل اس کی باری

نہیں بدلتا وہ ایسی قوموں کی تقدیر
جہاں سفید کو ہو سیاہ کی ریا کاری

اب تو سمجھو ابن خلق جوڑ لو تعلق
عشقِ رسول و خوفِ خدا ہو تم پہ طاری

تمہاری روحیں کیوں جسموں سے جدا جدا
تم سب تو ہو ایک خدا کے پجاری

اے خدا چھین لے میرا علم مجھ سے
جو حائل ہو میری شَبِ عبادت گزاری

تیرا گھر ایک ہر گھر میں تیرا کلام ایک
ایک کو دوسرے سے پھر کیوں ہے بیزاری

ابلیس نے ایک بار جو بہکا دیا
بنی آدم نے اختیار کرلی وہی روش ساری


برگِ بار / محمودالحق

راستے کا پتھر ہو جاؤں

0 comments

جینا اسی کا نام ہے

0 comments
تحریر: محمودالحق
آج پھر میں ایک عجیب کشمکش کا شکار ہوں۔ پرندےغول در غول مشرق کی طرف محو پرواز ہیں۔ شور مچاتے دھیرے دھیرے اپنی اپنی منزل مراد کی طرف گامزن۔ ہر نئی صبح کی طرح خالی چونچ اور پنجوں کے ساتھ۔ جیسے کل واپس لوٹے تھے خالی چونچ اور پنجوں کے ساتھ ۔ نہ ان کے آنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کس منزل کے مسافر ہیں اور نہ ہی ان کے جانے سے ۔زاد سفر کبھی بھی ان کے پاس نہیں ہوتا۔ تو پھر یہ کس امید و آس پہ روز اپنے اپنے گھونسلوں میں ننھے بچوں کو اکیلا چھوڑ کر کس روزی کی تلاش میں نکلتے ہیں۔ کون انہیں روز یہ تسلی دیتا ہے کہ کل پھر آؤ گے تو اپنا کاروبار زندگی پھر وہیں سے شروع کرنا جہاں ایک روز پہلے چھوڑ کر گئے تھے۔ ہر روز ایک نیا پڑاؤ ،نئی جستجو انہی پرانے راستوں پر انہیں لے کر آتی جاتی ہے۔ موسم سرد ہو یا گرم، بہار ہو یا خزاں بارش ہو یا آندھی مایوسی تو ہوتی ہو گی انہیں بھی۔ اگر سارا دن بارش نہ رکی تو صبح کام پر کیسے جائیں گے۔ خود تو شائد بھوک برداشت کر لیں۔ مگر ان ننھے بچوں کا خیال انہیں ضرور تڑپاتا ہو گا کہ کہیں بارش میں نہ بھیگ جائیں۔ ایک کو تو ان پر اپنے پروں کا سائبان رکھنا ہو گا۔بارش میں بھیگ کر بخار نمونیہ نہ ہو جائے۔ دوسرے کو آج اکیلے ہی محنت بڑھ کر کرنی ہو گی۔ پہلے سے زیادہ وقت تلاش رزق میں صرف کرنا ہو گا۔ کیونکہ آج کسان بھی کھیت میں بیج ڈالنے شائد نہ آئے ۔کھلی گلیوں بازاروں میں بھی کھانے پینے کی دوکانیں نہ سجیں ۔ بہت مشکل میں زندگانی کو پاتے ہوں گے۔ مگر اس کے باوجود شام کو واپس لوٹتے ہوئے پھر بھی خوش ہیں چہچہا رہے ہیں۔ گنگنا رہے ہیں۔ کیا آج بھی گزشتہ روز کی طرح پر باش ہیں۔ نہیں آج تو ان کے لئے برا دن ہونا چاہیے۔ اتنے کم ملنے پر بھی ان کی خوشیوں میں فرق کیوں نہیں آیا۔ شائد ان کی خواہشیں دم توڑ چکی ہیں۔ آگے بڑھنا نہیں چاہتے۔ روز اتنا لمبا سفر کرنے کی کیا ضرورت ہے ۔انہی شہروں کے گلی کوچوں میں کہیں بسیرا کیوں نہیں کر لیتے۔ آنے جانے میں وقت کا ضیائع بھی نہیں ہو گا ۔بچے بھی قریب رہیں گے اور جلد ہی اپنے پاؤں پر کھڑے ہو جائیں گے۔مگر نہیں وہ ایسا نہیں کرسکتے ان کھلے درختوں پر ان کے ساتھی سنگی ساتھ رہتے ہیں۔ جو دکھ سکھ کے ساتھی ہیں۔ اپنوں سے جدائی انہیں قبول نہیں۔ سب چھوٹے بڑے قریب قریب ہی بستے ہیں۔ بھوکے بے دھڑک سو جاتے ہیں۔ مگر ایک دوسرے کو نوچتے نہیں۔ کھانا ملنے پر ٹوٹ پڑتے ہیں ۔مگر اپنی بھوک اور ضرورت سے زیادہ کی طمع نہیں رکھتے۔ ایک دن کے لئے جو چاہیے اسی پہ قناعت کر لیتے ہیں۔ نفرت اور دشمنی کے نام سے نا آشنا ہیں۔ ایک دوسرے کے آشیانوں پر قبضہ نہیں جماتے۔ شائد اس لئے کہ سب نہتے ہیں اور کوئی بھی ظلم کرنے والے کا ساتھ نہیں دیتا۔ کمزور اکیلا ہی ظلم کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن جاتا ہے ۔مگر صرف انسان کو ہی دیکھ کر کیوں دبک جاتا ہے۔ انسانی عظمت کی داستانیں اس تک کیسے پہنچی ۔جنگ و جدل کی کہانیاں کون بیان کر گیا ۔انہیں کہ آج یہ انسان ہی کو اپنا دشمن ماننے لگا ہے۔ کیا یہ نہیں جانتے کہ ہم کل کیا تھے آج کیا ہیں۔ ہمارے جہاز، سڑکیں، پل ،اونچی اونچی عمارتیں اور بڑی بڑی گاڑیاں گھوڑوں سے بھی زیادہ تیز رفتار ہیں ۔اس زمین کا زرہ زرہ تسخیر ہو چکا۔ اب تو کائنات باقی ہے۔ یہی تو فرق ہے اپنی جڑوں کے ساتھ جڑے رہنے والے کب ترقی کر پاتے ہیں۔ دیکھو آج انسان کس نہج پر کھڑا ہے۔ مال و دولت کے ساتھ ساتھ عزت وقار رتبہ جو انسان کو میسر ہے وہ کسی اورکو نہیں ۔ کیا ہوا اگرتھوڑا بہت خون بہا دیا گیا۔ رشتوں کو پامالی کی زنجیروں میں باندھ دیا گیا۔ ایک ایسی خوشی کے لئے جس کا دروازہ دکھوں کی جھیل میں کھلتا ہے ۔بغض و نفرت کی کشتیوں میں بیٹھ کرترقی کے کنارہ تک کا سارا سفر طے کرتے ہیں۔

شائد جینا اسی نام ہے ؟