Wednesday, January 27, 2010

خود سے جو اپنے فدا ہوتے ہیں

0 comments
خود سے جو اپنے فدا ہوتے ہیں
راہ تیری سے خود جدا ہوتے ہیں

محبت میں رہتے جو در درباں
عشق میں کہاں جنوں انتہا ہوتے ہیں



خندہ جبین / محمودالحق

پروانہ شمع سے جلے الزام تمازتِ آفتاب پہ ہو

0 comments
پروانہ شمع سے جلے الزام تمازتِ آفتاب پہ ہو
عشقِ وفا کہاںجوچاہتِ محبوب وصلِ بیتاب پہ ہو

زندگی کو تماشا نہ بناؤ تماشا خود زندگی ہو جائے
درد کا چیخِ مسکن خوشیِ القاب پہ ہو

تختِ عرش کو دوام رہتا جو ہوا میں ہے
فرشِ محل نہیں پائیدار قائم جو بنیادِ آب پہ ہو

گل گلزار سے تو مہک بہار سے ہے وابستہ
اگتا ہے صرف خار ہی بستا جو سراب پہ ہو

شاہِ زماں سے دل گرفتہ رہتے جو معظمِ ہمراز
دلگیرئ فقیر میں سدا رنگ تابانئ مہتاب پہ ہو


بادِ اُمنگ / محمودالحق

Tuesday, January 26, 2010

عفو و درگزر رحمت کا راستہ

3 comments
عفو و درگزر ایسا فعل جسے میرے مولا اور اس کے محبوب محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے پسند فرمایا ! اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے تو ایک ایسی مثال قائم کی کہ رہتی دنیا تک ہمارے لئے روشن مثال ہے ۔اور اگر کبھی بھٹکنے کی نوبت آ بھی جائے تو ہم بھٹک نہیں سکتے ۔غصہ کے بےلگام گھوڑا کو قابو میں رکھنے کا ایک ایسا کوڑا جو اسے بدکنے اور سرکشی سے باز رکھنے میں طاقت میں اپنا ثانی نہیں رکھتا ۔انسان معاشرے میں کہیں نہ کہیں ناانصافی اور ظلم کا شکار ہو سکتا ہے ۔اور اگر بدلہ ہی اسے انصاف دلا سکے تو ہر فرد اپنے خلاف کئے جانے والے تمام عوامل کے مد مقابل خود ہی بدلہ کے ترازو سے انصاف کے پلڑا کو بھاری کرتا جائے مگر یہ مشیت الہی نہیں ہے ۔ کیونکہ اس طرح معاشرہ بدلہ کی آگ سے انتقام کی حدود سے بھی آگے گزر جانے کا احتمال رہے گا ۔اور بدلہ ظلم کے خلاف ضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال سے پھر ظالم مظلومیت کے کٹہرے میں جا کھڑا ہو گا ۔جو ہمیشہ سے ہوتا آرہا ہے ۔ ظالم قانون سے بھی سزا یافتہ ہو تب بھی ظلم سہنے والے ہی کو مورد الزام ٹھہراتا ہے ۔کیونکہ شیطان کا بہکاوہ انسان کو کسی بھی پل اس احساس سے خالی نہیں جانے دیتا ۔کہ اس کا کوئی بھی عمل ظلم و اذیت دینے میں نا انصافی پر مبنی ہے ۔حتی الوسع کوشش یہی ہونی چاہیے کہ کسی سے نا انصافی نہ ہو اور اپنے عمل سے ہی اور خاص طور پر ظلم سہنے اور نقصان اٹھانے کے بعد معافی کا راستہ اختیار کیا جائے ۔کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر اللہ تبارک تعالی اور اس کے محبوب محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے محبت کا ثبوت ثبت ہو سکتا ہے ۔ چیخنے کی زیادہ آوازیں انہیں انسانوں کے گلے سے نکلتی ہیں ۔جو اپنے نفس کے شکار ہوتے ہیں اور اللہ کی ہدایت اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اسوہ حسنہ پر عمل پیرا نہیں ہوتے ۔اور جو راہ ہدایت پر ہوتے ہیں وہ محبوب ہو جاتے ہیں ۔ان سے محبت رکھنے والے کبھی بھی ایسا فعل سر انجام نہیں دیتے ۔ کہ جس سے دیکھنے والا فعل کی نسبت محبوبیت سے جدا کر سکے ۔ ایک پل کے لئے انا ، ضد ،تکبر اور اعلی مرتبت کے بت کو دوسرے کے ہاتھوں نقصان اٹھائے جانے سے ٹھیس پہنچتی ہے اور یہی شیطانی خیالات کا بہکاوہ انسان کو اپنی راہ سے بہکانے کا سبب بنتا ہے ۔ اور اللہ تبارک تعالی کی نظر میں وہ بدلہ جو انتقام کی آگ میں جلا ہو۔ نا پسندیدہ عمل قرار پا جاتا ہے ۔ اللہ تبارک تعالی خود معاف کرنے والا ہے غفورورحیم ہے ۔ یہی خوبی اپنے بندے میں دیکھنا پسند فرماتا ہے ۔اس سے ڈرنے والے دوسروں کو ڈراتے نہیں بلکہ اپنے حسن اخلاق سے نرم خوئی کے بیج بوتے ہیں ۔جس سے عفو و در گزر کے پھول اگائے جاتے ہیں ۔ اور محبت کی خوشبو مہکائی جاتی ہے ۔بہت آسان ہے کہہ دینا کہ معاف کر دوں گا ۔مگر ظلم و نقصان اٹھانے کے بعد عملی طریقہ سے یوں کہ بدلہ لینے کی طاقت ہو اور پھر معاف کرنا ۔ پسندیدہ عمل ہو جاتا ہے ۔ اللہ تعالی کے ہاں مقبول اور محبوب ہو جاتا ہے۔ اور رحمتوں کی بارش سے فیض یاب ہوتا ہے

تحریر : محمودالحق

سپیدئ اَوراق کرن سیاہ میں چھپائی

2 comments
تحریر و اشعار : محمودالحق

کبھی پہاڑوں سے دھول اُڑتی ہے ۔توکبھی سمندر کی لہریں ہوا کے زور پہ ساحل سے آگے بستیوں پر قہر بن جاتی ہیں ۔بادل گرج کر جب برس جائیں ۔تو پانی بہا لے جاتے ہیں ۔اگرسفید روئی کی طرح نرم حد سے گزر جائیں تو راستوں ہی میں جکڑ دیتے ہیں ۔تسکین تکلیف میں بدل جاتی ہے ۔زندگی جو بچ جائے وہ جدا ہونے والوں کی یاد بھی بھلا دیتی ہے۔ایک سے بڑھ کر ایک منظور نظر جب بپھر جائیں تو قیامت سے کم نہیں ہوتے ۔مگر ایسے حسین مناظر کی تصویر کشی کرنے والے خود سے کیوں بہک جاتے ہیں ۔جن کے دم سے رونق افروز ہیں انہیں پر آفت بن کر ٹوٹتے ہیں ۔بے ضرر دکھنے والے خدائی طاقت کا اظہار ایسے کرتے ہیں کہ جینا بھلا دیتے ہیں ۔زمانہ قدیم کی مدفن تہذیبوں سے ہم صرف ٹوٹے برتنوں کو ہی جوڑ پائے ہیں۔مگر منوں مٹی کے نیچے دبنے سے لا علم ہیں ۔ ساری بستیاں ہی زمین دوز ہو گئیں ۔صرف سخت مٹی سے بنائی ہی خاک ہونے سے بچی رہیں ۔ خاک چاٹنے والی ہر شے کو خاک نے خاک کر دیا ۔ امارت رکھنے والے اپنے پیچھے کوئی ایسا نشان بھی نہ چھوڑ پائے کہ آج تاریخ کی کتابوں میں ہی زندہ رہ جاتے ۔ ان کے نزدیک زندگی کے کیا معنی تھے ،انسانیت کی کس معراج پر مقام رکھتے تھے ۔ طاقت کا توازن کیسےبرقرار رکھا گیا۔اپنی حدود کا تعین کرنے میں کیا حکمت عملی کارفرما تھی۔قرض دینے میں کیا شرائط طے کرتے ،غلام بنانے کے لئے جبر کا کونسا ہتھیار استعمال کرتے ۔جنگ و جدل میں زندگی برباد کرتے یا تجسس و تحقیق میں توانیاں صرف کرتے رہے وہ۔زمین سے تو لا تعلق تھے مگر آسمانوں پر چمکتے ستاروں سے جڑے رہتے ۔کبھی وہ سورج کو مالک کائنات سمجھ لیتے تو کبھی آگ دیوتا کا روپ دھار لیتے۔عقل و شعور کا جب ادراک حد سے بڑھا ،تو تخیل میں پرستش عمل سے اپنے ہی ہاتھوں سے بنائے بتوں کے سامنے سجدہ ریز ہوتے اورمعاشرتی اقدار کا من مانے طریقے سے اظہار کرتے ۔بیٹوں کی پیدائش پر شادیانے بجاتے تو بیٹیاں عزت کے نام پر زندہ دفن کر دیتے۔انسان قبیلوں میں اور قبیلے طاقت کی بنیاد پر اپنے وجود کی اہمیت کا احساس دلاتے۔ کمزوروں کو جھکنے کی عادت نے زندہ رہنے کی مہلت دی۔ طاقتور کبھی بلا تو کبھی فنا کے اصول پر دست اندازی کرتے۔قانون قدرت کے بر خلاف نفس شیطان کے پیروکار رہنے میں بلند مرتبہ کی حاجت کے متمنی رہتے۔ انقلابات زندگی نے انسان کو ہمہ گیر جہت مسلسل کی بجائے ہمگیر جہالت کفر کے لبادے میں اوڑھا دیا۔ ترغیب و تحریص نے پامالیء انسانیت کا پرچم نیزے کی نونک پر بلند رکھا۔اپنی گردن اکڑا کر تلوار سے دوسروں کی گردنوں کو کاٹ کر جھکا دیا جاتا۔ بھیڑ وں اور اونٹوں کی طرح منڈیوں میں غلاموں کی تجارت کا بازار گرم رکھا جاتا۔ شہزادگی کی زندگی شکست خوردہ ہوتے ہی غلامی میں بدل جاتی۔ فتح کے نشہ میں معافی و درگزر کا قریب سے بھی گزر نہ ہوتا۔ایسے میں اللہ تعالی نےقبیلہ قریش میں اپنے پیغام انسانیت اور مقصدانسانی حیات کے پہنچانے میں اپنے محبوب محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جو صادق و امین کے رتبہ پر پہلے ہی سے فائز تھے کو غیر انسانی و غیر اخلاقی نظام ہستی کو نظام وحدت میں پرونے کے لئے ہدایت اور دین حق دے کر مبعوث فرمایا۔اللہ تعالی کے توحید کے پیغام کو معاشرےکے سدھار کے لئے پہلا راستہ اختیار کیا گیا۔جب خد اتعالی کی حاکمیت اعلی کو تسلیم کر لیا گیا ۔ تو زندگی کے تمام معاملات کو اسی کی ذات کے ساتھ منسوب رکھنے میں ہی نجات کا راستہ دکھا دیا گیا ۔ خطبہ حجتہ الوداع کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نےارشاد فرما یا !
ہاں جاہلیت کے تمام دستور آج میرے پاؤں کے نیچے ہیں عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر ، سرخ کو سیاہ پر اور سیاہ کو سرخ پر کوئی فضیلت نہیں مگر تقویٰ کے سبب سے ۔میں تم میں ایک چیز چھوڑتا ہوں۔ اگر تم نےاس کو مضبوط پکڑ لیا تو گمراہ نہ ہوگے وہ کیا چیز ہے؟ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ۔
سپیدئ اَوراق کرن سیاہ میں چھپائی
حرف علم زماں میں مفہوم ہے خدائی
چر رہ دے دل فگار کو عقل کلیم سے
نہیں مشکل کاٹ دے پہاڑ کو ایک رائی
خزانہ تو ہے مدفن یا درافتن
اتنا تو صرف ہے آدم کی پزیرائی
اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نےیہ بھی ارشاد فرمایا !
تمہاری اس سرزمین میں شیطان اپنے پوجے جانے سے مایوس ہو گیا ہے لیکن دیگرچھوٹے گناہوں میں اپنی اطاعت کئے جانے پر خوش ہے اس لیے اپنا دین اس سےمحفوظ رکھو!
تحریص و ترغیب تو ہے ابلیس ِادا
چھن جائے مسلم کی ایمانِ رضا
قرآن مجید اور سنت نبوی کے بعد کسی بات کی گنجائش نہیں رہ جاتی ۔ مگرلفظوں کی حقیقت ، ماہیئت اور ہیئت سے الگ نقطہ نظر معنی پوشاک کر دئیے جاتے ہیں ۔ صرف علمیت کو فوقیت کے درجے پر بٹھا دیا جاتا ہے۔ لفظوں کو گھٹانے بڑھانے کے عمل سے ایک الگ رویہ تلمیح اختیار کی جاتی ہے۔ مفہوم کو سمجھنے کے لئے ذاتی علمی آراء کا اظہار پسند و ناپسند کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ معنی و مفہوم کو بھی پسند کی کسوٹی پر پڑھا جاتا ہے۔ اسی پسند نا پسند کی بنیاد ی وجہ عناد نے مسلم قومیت کو تقسیم در تقسیم کر دیا ہے۔
کائنات قرون میں پھر پڑھنا سبق قرآن واللہ احد
بختاور بے کراں میں ابجو ورد ِمسلمان اللہ الصمد
خود پرستی میں مبتلا قوم عمار کھوتی رہن متاع ِمحبوب
نہیں بے سبب ارتقا ءآدم عالم ِتنہا میں جہان ِواحد
آرمیدن نستعلیق میں دستگیری تضاد قال و قول
طلوع اسلام کے پہلے پیغام و صف آرائی مسلمان کا نام احد
حسرت ِحالی پہ غالب داغ ِمیر تو درد ِاقبال
ترتیب زیاں میں نہیں بہر و بند بچتی صرف خاک لحد
آنکھ میں دیکھنا سرور تو قراری قلب میں بیقراری ہو
قلب طہور میں آتی سرور جاں پڑھتے جب کفو احد

Saturday, January 23, 2010

تیری عنایات ہیں اتنی کہ سجدہء شکر ختم نہ ہو

1 comments
تیری عنایات ہیں اتنی کہ سجدہء شکر ختم نہ ہو
تیرے راستے میں کانٹے ہوں میرا سفر ختم نہ ہو
پھیلا دوں روشنی کی طرح علم خضر ختم نہ ہو
توبہ کرتا رہوں اتنی میرا عذر ختم نہ ہو
سجدے میں سامنے تیرا گھر ہو یہ منظر ختم نہ ہو
تیری رحمتوں کی ہو بارش میرا فقر ختم نہ ہو
مجھ ادنیٰ کو تیرے انعام کا فخر ختم نہ ہو
جہاں جہاں تیرا کلام ہو میرا گزر ختم نہ ہو
تیری منزل تک ہر راستے کی ٹھوکر ختم نہ ہو
آزمائشوں کے پہاڑ ہوں میرا صبر ختم نہ ہو
زندگی بھلے رک جائے میرا جذر ختم نہ ہو
وجود چاہے مٹ جائے میری نظر ختم نہ ہو
تیری اطاعت میں کہیں کمی نہ ہو میرا ڈر ختم نہ ہو
بادباں کو چاہے کھینچ لے مگر لہر ختم نہ ہو
خواہشیں بھلا مجھے چھوڑ دیں تیرا ثمر ختم نہ ہو
تیری عبادت میں اتنا جیئوں میری عمر ختم نہ ہو
بھول جاؤں کہ میں کون ہوں مگر تیرا ذکر ختم نہ ہو
جاگوں جب غفلتِ شب سے میرا فجر ختم نہ ہو
تیری محبت کا جرم وار ہوں میرا حشر ختم نہ ہو
تیری حکمت سے شفایاب ہوں مگر اثر ختم نہ ہو
میرے عمل مجھ سے شرمندہ ہوں مگر فکر ختم نہ ہو
منزلیں چاہے سب گزر جائیں مگر امر ختم نہ ہو
سپیدی و سیاہی رہے نہ رہے مگر نشر ختم نہ ہو
دن چاہے رات میں چھپ جائے مگر ازہر ختم نہ ہو



برگِ بار / محمودالحق

جس کو ملے حکمِ اذاں

0 comments
جس کو ملے حکمِ اذاں غلام سے سردار ہو جائے
اگر عبادت میں ہو دکھاوا تو انکار ہو جائے
بات گر حد سے بڑھے تو تکرار ہو جائے
تقاضا بار بار ہو تو اصرار ہو جائے
منظر جو دکھا دیا تو علمبردار ہو جائے
نظر سے جو چھپا لیا تو اسرار ہو جائے
عشق کی ہے انتہا ہر پتے میں دیدار ہو جائے
گل جو سونگھ لوں دل بیقرار ہو جائے
نیکی زبان زدِ عام ہو تو بیکار ہو جائے
لفظوں کو جب ملے زبان تو شاہکار ہو جائے
عقل خرد تو شعورِ علم سے بیزار ہو جائے
شاہانہ مزاج ہی اس کا سرکار ہو جائے
مومن کا عملِ صالح تو سالار ہو جائے
ضعیف الایمان تو صرف رضاکار ہو جائے



برگِ بار / محمودالحق

میوہ و مہک سے گر تو اکتائے

0 comments
میوہ و مہک سے گر تو اکتائے تو لوٹا دینا
نعمتیں حسرتوں سے بڑھتی پائے تو لوٹا دینا
آنسو غم سے خوشی میں ڈھل جائے تو لوٹا دینا
تکبرِ پا سے خاک سر کو آئے تو لوٹا دینا
آب کو گر آگ گرمائے تو لوٹا دینا
گل مہکنے کے بعد مرجھائے تو لوٹا دینا



برگِ بار / محمودالحق

بلبل تو جگنو کی روشنی کی ہے طلبگار

0 comments
بلبل تو جگنو کی روشنی کی ہے طلبگار
ظلمتِ شب تو درویش کو ہیں نورِ مینار
خیالِ مراتب ہو جہاں وہ ہے شاہی دربار
شاہ و گدا صرف وہیں کھڑے ہیں ایک قطار
جسے جس کی تمنا وہی ہے اس کا دلدار
جھکنا اس کو اچھا احسان کا نہیں جو روادار
دامن بھر بھر لیتے ہیں وہ زرِ انگار
تہی دَست کو ملتا ہے گلستان و گلزار
تجھ پہ موقوف چاہے تو دربار یا انوار
مہکنے کو تو گل ہی ہو گا خار دار
گر تو قید یہاں وہاں سے نہیں راہِ فرار
سمجھ اس بات کو وہ تو ہے بڑا مددگار
اس بازی میں تو جیت ہے یا ہار
ایک میں بیقراری ایک ہے گلزار
کیا مشکل ہے گر ہو جائے تھوڑا ابرار
ورنہ تو ہر طرف ہی ہے فگار و ضرار
کوئی کہے کہ اب نہیں ہوتا انتظار
میرے لیے تو کافی ہے یہی اشکبار
مانگیں پناہ خُدا سے سب دل آزار
خود سے تو کبھی اوروں سے بیزار
تَکبر سے جب اپنے ہوتے ہیں لاچار
ڈھونڈتے ہیں اپنے لیے پھر راز دار
تیرے عشق جنوں کا ہے مجھے خَشِیت بخار
نہیں ضرورت باقی اب کسی مسیحاء تیماردار



برگِ بار / محمودالحق

عشق کا رنگ ہو غالب

0 comments
اک رُت آنے سے اک رَنگ جاتا ہے
عشق کا رنگ ہو غالب تو اُٹھایا سنگ جاتا ہے
دیوار میں چنوائی تو تاریخ کہلاتی ہے
عاشق کا جنازہ تو موت کے سنگ جاتا ہے



برگِ بار / محمودالحق

سیاست کے میدانوں کے بڑے شکاری

1 comments
سیاست کے میدانوں کے وہ بڑے شکاری
ملک و قوم ہے انہیں صرف پارک سفاری

آئین و انصاف تو ہے مارچ کبھی دھرنا
ووٹ ہے انہیں جاہ و حشمت کی سواری

قائد کے وطن اسلام کو صیغہ آباد لگا دیا
ہاتھ باندھے کھڑے ہیں جہاں سب درباری

چھن گئی ان سے متاع محبوبِ الہٰی
شکر ہے مفتی اعظم نہیں کوئی سرکاری

نہیں خدا کو چاہ جو خود سے نہیں آگاہ
قرآن سے متصادم جن کی رسم کار و کاری

آبِ قطرہ ہی سے ہے لہر ابر و آبشار
صرف خون کو خون سے نہیں کوئی آبیاری

نفسِ شیطان کے ہیں یہ عروجِ کمالات
چھن گئی جن سے عزتِ نفس و خودداری

قوم کی تقدیر بن گئی قسمت کا کھیل
آج اس کی باری تو کل اس کی باری

نہیں بدلتا وہ ایسی قوموں کی تقدیر
جہاں سفید کو ہو سیاہ کی ریا کاری

اب تو سمجھو ابن خلق جوڑ لو تعلق
عشقِ رسول و خوفِ خدا ہو تم پہ طاری

تمہاری روحیں کیوں جسموں سے جدا جدا
تم سب تو ہو ایک خدا کے پجاری

اے خدا چھین لے میرا علم مجھ سے
جو حائل ہو میری شَبِ عبادت گزاری

تیرا گھر ایک ہر گھر میں تیرا کلام ایک
ایک کو دوسرے سے پھر کیوں ہے بیزاری

ابلیس نے ایک بار جو بہکا دیا
بنی آدم نے اختیار کرلی وہی روش ساری


برگِ بار / محمودالحق

راستے کا پتھر ہو جاؤں

0 comments

جینا اسی کا نام ہے

0 comments
تحریر: محمودالحق
آج پھر میں ایک عجیب کشمکش کا شکار ہوں۔ پرندےغول در غول مشرق کی طرف محو پرواز ہیں۔ شور مچاتے دھیرے دھیرے اپنی اپنی منزل مراد کی طرف گامزن۔ ہر نئی صبح کی طرح خالی چونچ اور پنجوں کے ساتھ۔ جیسے کل واپس لوٹے تھے خالی چونچ اور پنجوں کے ساتھ ۔ نہ ان کے آنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کس منزل کے مسافر ہیں اور نہ ہی ان کے جانے سے ۔زاد سفر کبھی بھی ان کے پاس نہیں ہوتا۔ تو پھر یہ کس امید و آس پہ روز اپنے اپنے گھونسلوں میں ننھے بچوں کو اکیلا چھوڑ کر کس روزی کی تلاش میں نکلتے ہیں۔ کون انہیں روز یہ تسلی دیتا ہے کہ کل پھر آؤ گے تو اپنا کاروبار زندگی پھر وہیں سے شروع کرنا جہاں ایک روز پہلے چھوڑ کر گئے تھے۔ ہر روز ایک نیا پڑاؤ ،نئی جستجو انہی پرانے راستوں پر انہیں لے کر آتی جاتی ہے۔ موسم سرد ہو یا گرم، بہار ہو یا خزاں بارش ہو یا آندھی مایوسی تو ہوتی ہو گی انہیں بھی۔ اگر سارا دن بارش نہ رکی تو صبح کام پر کیسے جائیں گے۔ خود تو شائد بھوک برداشت کر لیں۔ مگر ان ننھے بچوں کا خیال انہیں ضرور تڑپاتا ہو گا کہ کہیں بارش میں نہ بھیگ جائیں۔ ایک کو تو ان پر اپنے پروں کا سائبان رکھنا ہو گا۔بارش میں بھیگ کر بخار نمونیہ نہ ہو جائے۔ دوسرے کو آج اکیلے ہی محنت بڑھ کر کرنی ہو گی۔ پہلے سے زیادہ وقت تلاش رزق میں صرف کرنا ہو گا۔ کیونکہ آج کسان بھی کھیت میں بیج ڈالنے شائد نہ آئے ۔کھلی گلیوں بازاروں میں بھی کھانے پینے کی دوکانیں نہ سجیں ۔ بہت مشکل میں زندگانی کو پاتے ہوں گے۔ مگر اس کے باوجود شام کو واپس لوٹتے ہوئے پھر بھی خوش ہیں چہچہا رہے ہیں۔ گنگنا رہے ہیں۔ کیا آج بھی گزشتہ روز کی طرح پر باش ہیں۔ نہیں آج تو ان کے لئے برا دن ہونا چاہیے۔ اتنے کم ملنے پر بھی ان کی خوشیوں میں فرق کیوں نہیں آیا۔ شائد ان کی خواہشیں دم توڑ چکی ہیں۔ آگے بڑھنا نہیں چاہتے۔ روز اتنا لمبا سفر کرنے کی کیا ضرورت ہے ۔انہی شہروں کے گلی کوچوں میں کہیں بسیرا کیوں نہیں کر لیتے۔ آنے جانے میں وقت کا ضیائع بھی نہیں ہو گا ۔بچے بھی قریب رہیں گے اور جلد ہی اپنے پاؤں پر کھڑے ہو جائیں گے۔مگر نہیں وہ ایسا نہیں کرسکتے ان کھلے درختوں پر ان کے ساتھی سنگی ساتھ رہتے ہیں۔ جو دکھ سکھ کے ساتھی ہیں۔ اپنوں سے جدائی انہیں قبول نہیں۔ سب چھوٹے بڑے قریب قریب ہی بستے ہیں۔ بھوکے بے دھڑک سو جاتے ہیں۔ مگر ایک دوسرے کو نوچتے نہیں۔ کھانا ملنے پر ٹوٹ پڑتے ہیں ۔مگر اپنی بھوک اور ضرورت سے زیادہ کی طمع نہیں رکھتے۔ ایک دن کے لئے جو چاہیے اسی پہ قناعت کر لیتے ہیں۔ نفرت اور دشمنی کے نام سے نا آشنا ہیں۔ ایک دوسرے کے آشیانوں پر قبضہ نہیں جماتے۔ شائد اس لئے کہ سب نہتے ہیں اور کوئی بھی ظلم کرنے والے کا ساتھ نہیں دیتا۔ کمزور اکیلا ہی ظلم کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن جاتا ہے ۔مگر صرف انسان کو ہی دیکھ کر کیوں دبک جاتا ہے۔ انسانی عظمت کی داستانیں اس تک کیسے پہنچی ۔جنگ و جدل کی کہانیاں کون بیان کر گیا ۔انہیں کہ آج یہ انسان ہی کو اپنا دشمن ماننے لگا ہے۔ کیا یہ نہیں جانتے کہ ہم کل کیا تھے آج کیا ہیں۔ ہمارے جہاز، سڑکیں، پل ،اونچی اونچی عمارتیں اور بڑی بڑی گاڑیاں گھوڑوں سے بھی زیادہ تیز رفتار ہیں ۔اس زمین کا زرہ زرہ تسخیر ہو چکا۔ اب تو کائنات باقی ہے۔ یہی تو فرق ہے اپنی جڑوں کے ساتھ جڑے رہنے والے کب ترقی کر پاتے ہیں۔ دیکھو آج انسان کس نہج پر کھڑا ہے۔ مال و دولت کے ساتھ ساتھ عزت وقار رتبہ جو انسان کو میسر ہے وہ کسی اورکو نہیں ۔ کیا ہوا اگرتھوڑا بہت خون بہا دیا گیا۔ رشتوں کو پامالی کی زنجیروں میں باندھ دیا گیا۔ ایک ایسی خوشی کے لئے جس کا دروازہ دکھوں کی جھیل میں کھلتا ہے ۔بغض و نفرت کی کشتیوں میں بیٹھ کرترقی کے کنارہ تک کا سارا سفر طے کرتے ہیں۔

شائد جینا اسی نام ہے ؟

Thursday, December 24, 2009

سمت پرواز کیا ہے

0 comments
تحریر : محمودالحق

آج ہم جس طرف بھی نظرڈالیں بحث و مباحث کا بازارگرم نظرآتا ہے ۔ملکی سیاست سے لیکر چینی کی عدم دستیابی تک ہر ضروری اور غیر ضروری موضوع پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے ۔اپنی کہی بات کو سچ ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور آواز کو دوسروں سے بہت اونچا رکھنے سے کیا جا رہا ہے ۔ایک کے بعد ایک لطیفہ منظر عام پہ آرہا ہے ۔قوم میں مایوسی کا بڑھنا اضطراب کا موجب بن رہا ہے۔ خاندان میں مردوں اور گھروں میں خواتین کا کردار ہمارے معاشرے میں کیا اہمیت رکھتا ہے ۔ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ۔مگر آہستہ آہستہ کچھ ان دیکھے انداز میں تبدیلی کا عمل معاشرے میں کسی زہر کی طرح سرایت کرتا جا رہا ہے۔اور جسے ہم غیر اہم قرار دے کر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرتے جا رہے ہیں۔ مگر بلی جدید ٹیکنالوجی یعنی انٹر نیٹ اور الیکٹرونک میڈیا کی صورت اختیار کئے دھاک لگائے بیٹھی ہے۔اور اس انتظار میں ہے ،کہ اجتماعیت کی موجودگی میں شائد وہ اپنا کام نہ کر سکے۔ مگر انفرادیت کی وبا میں اسے اپنا کام دکھانے میں خاص مشکل پیش نہیں آئے گی ۔اور ایک کے بعد ایک اس کا لقمہ خواہش بنتا جا رہا ہے۔اور بچنے والے سہمے ہوئے پنجرے کے اندر بھی غیر محفوط محسوس کر رہے ہیں ۔پنجرہ مضبوط کرنے سے شائد جان تو بچ جائے۔ مگر خوف اور بے یقینی کی کیفیت سے چھٹکارہ پانا تبھی ممکن ہے جب بلی تھیلے میں بند کر کے دور پہنچا دی جائے۔ بلی کے گلے میں گھنٹی باندھنے سے مسئلہ کا حل ممکن نظر نہیں آتا ۔کسی کا چہرہ سرخ ہو تو اپنا تھپڑوں سے سرخ نہیں کیا جا تا ۔جیسے آج ہمارے ٹی وی پروگرام کچھ ایسا ہی منظر پیش کر رہے ہیں ۔ کسی ریڑھی فروش کی طرح مکھیاں اڑاتے ہوئے اونچی آواز میں گاہکوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کا طریقہ اپنائے ہوئے ہیں ۔ہر نئی ایجاد و اختراح کو اندھا دھند تقلید کی سولی پر چڑھا دیتے ہیں ۔یہ سوچے سمجھے بغیر کہ جن لوگوں کو اپنے باسی پروگرام کی بھینٹ چڑھایا جارہا ہے۔ وہ اخلاقی ، سماجی ، تمدنی ، اخلاقی اور مذہبی لحاظ سے اس بیماری کو جھیلنے کی ہمت رکھتے بھی ہیں یا کہ اس کے سائیڈ افیکٹ سے نئی بیماری کا شکار ہو جائیں۔برداشت ، صبر ، اخوت ، رواداری،محبت اور یگانگت جیسے قوی افکار بھی سبب مرض ،کمزوری اور نقاہت کا شکار ہیں۔ ہر گلی کی نکڑ سیاست کا اکھاڑا معلوم ہوتی ہے۔ ایک دوسرے پر اچھل اچھل کر الزام لگانے میں شاہی وفاداری کا تمغہ سجانے میں حق بجانب سمجھتے ہیں۔ جس انگلی کو اُٹھانا مغربی معاشرے میں معیوب سمجھا جاتا ہے ۔ہمارے ہاں بندوق کی نالی کی طرح اکڑا کر رکھا جاتا ہے۔ اور اسی سے شخصیت پر حملہ کے لئے تلوار کا کام لیا جاتا ہے۔ اس بات سے قطع نظر کہ ہم کون ہیں ۔کن کی نیابت اسلاف سنبھالے ہوئے ہیں۔ہماری طاقت کس میں ہے ، ہماری کمزوری کیا ہے۔طاقت کے استعمال سے جو قوم نہ جھک سکی ۔ اب وہ اپنے کمزور پہلوؤں سے صیاد کے چنگل میں آتی جارہی ہے۔ پشاور سے لیکر کراچی تک ٹیلیفون کی لائینوں کے ساتھ اب کیبل نیٹ ورک کےذریعے سے وہی کلچر پروان چڑھایا جارہا ۔ جس میں تقسیم ہند سے پہلےہمارے بچوں کو جب ہندوانہ رسومات کا پابند کرنے کی کوشش کی گئی ۔تو پورا مسلم معاشرہ ہی سراپا احتجاج بن گیا تھا۔ مگر کیا ہوا کہ آج گھر گھر میں ، ہر گلی کی نکڑ میں وہی تہذیب و ثقافت کا پرچار ہے۔ اور ہم ہیں کہ اپس میں اختلافات کی جنگ جیتنے میں سر دھڑ کی بازی لگانے کی کوشش میں ہیں۔مذہب ، سیاست ، معاشرت بری طرح سے متاثر نظر آتی ہے۔ہم تقسیم ہو چکے ہیں ۔ برادریوں ذاتوں میں ، سیاسی جماعتوں میں اور رہی سہی کسر فرقہ بندیوں نے پوری کردی۔
آج مجھے ایک کہاوت میں اس بوڑھے کبوتر کا اپنے ساتھ دوسرے قید پرندوں کو دیا گیا مشورہ یاد آتا ہے ۔کہ جب انہوں نے باہمی اتفاق سے ایک ساتھ پروں کو پھیلایا اور جال سمیت اُڑ گئے۔

قربانی ہو چکی

0 comments
تحریر : محمودالحق

کسی نے بکرا لیا تو کوئی گائے کا خریدار ہوا۔ چند ایک نے کچھ نیا کرنے کی ٹھانی ۔اونٹ کی قربانی کی نیت کی ،غرض ہر آدمی نے اپنی جیب کے مطابق اپنے اسلامی فرض کی ادائیگی کا فرض ادا کیا۔ بعض ان سے بھی آگے نکل گئے ایسے جانور کے طلب گار ہوئے جو دیکھنے میں اپنا ثانی نہ رکھتا ہو ۔ پھر کیمرے کی فلش روشن ہوئی ،مسکراتے چہروں سے تصویریں بھی بنوائی گئیں ۔ محبت کا ایک لا جواب نمونہ پیش کیا۔ اپنے اپنے جانور کی خوبیوں اور تلاش میں پیش آنے والے مسائل کو زیر بحث لایا گیا۔ غریبوں کو بھی یاد رکھا گیا گھر کے دروازے پہ ہر سائل کو مایوس نہیں لوٹنا پڑا ۔ جو سارا سال گوشت کے صرف نام سے ہی واقف تھے ۔آج انہیں اسے دیکھنے اور چکھنے کا بھی موقع ملا۔ پورا معاشرہ بھائی چارہ رواداری اور یگانگت کی تصویر بنا ہوا تھا۔ شہروں سے گئے بیٹوں کو ماؤں کی آغوش میں کچھ سستانے کا موقع بھی ملا ۔ چھوٹے بڑے اپس میں گلے مل مل کر مبارکباد دے رہے تھے ۔عید کا ہر گزرتا دن تھکاوٹ کا احساس مٹاتا جا رہا تھا اور آخر کار وہ دن بھی آ گیا ۔ ماؤں سے جدائی کا ، بیوی بچوں کو چھوڑ کو اپنی اسی منزل کی طرف لوٹ جانے کا دن ۔گاڑیاں مسافروں سے بھری انہیں ان کی منزل پر اتار کر پھر لوٹ جاتی ،نئے مسافروں کو اٹھانے ۔تاکہ وہ بھی اپنے سفر کے آغاز کے مقام تک پہنچ جائیں۔ جہاں وہ ایک فرض کی ادائیگی کو ادا کرنے کے لئے زندگی کے پہیے کو روک کر آئے تھے ۔ ایک ایسی منزل کے راہی جہاں سے آگے جانے کے تو بہت راستے ہیں ۔مگر پیچھے مڑنے کے لئے جلی کشتیوں کا نظارہ کرتے ہیں اور اگر لوٹنا بھی چاہیں ، تو امید کے جگنو چمک کر انہیں پھر ایک مبہم سی تصویر کا عکس دکھا دیتے ہیں ۔ آہستہ آہستہ آگے بڑھتے خوشیوں کی تلاش میں اپنوں کی جدائی کی قیمت میں ،خوش نصیب ہیں وہ جو دل کے رشتوں کے قریب بستے ہیں ۔ فاصلے چاہے جتنے بھی زیادہ کیوں نہ ہوں مگر محسوس انہیں ہمیشہ قریب ہی کرتے ہیں قلب کی قربتیں جسموں پربہت بھاری ہوتی ہیں ۔ اس رشتے کو ہمیشہ ساتھ رکھیں جو روح کے لئے ایک لطیف ہوا کے جھونکے کا احساس رکھتا ہے اور جو قدموں کوبھاری پن کے احساس سے نہ نکلنے دے۔اسے قربانی کے جزبہ سے کاٹنے کاعمل شروع کر دیں ،جو احساس لیکر گئے تھے ۔اسے پلیٹوں میں سجائے گئے ضرورت سے زائد گوشت کی طرح نہیں ۔بلکہ قربانی کے جانور کی خرید سے لیکر ذبیح کرنے تک کے عمل کے ساتھ شاخ شجر کی طرح پیوست کر لیں ۔ اور اگلے سال کی قربانی کے انتظار میں نہ رہیں ۔بلکہ ہر آنے والا دن اسی جذبہ کا اظہار ایمان ہو ۔ تو روح پھول پنکھڑیوں کی طرح نرم ،محبت کی چاشنی سے لبریز ہو گی اور قدم بھاری پن کے احساس سے آزاد رہیں گے۔

Sunday, December 20, 2009

سیاسی محبت کے اسیر

0 comments
تحریر : محمودالحق

سیاسیات کا مضمون جب کالج میں پڑھنے کا ارادہ کیا۔ تو یہ اندازہ نہیں تھا کہ آنے والے وقت میں ملکی سیاست میں اس کی افادیت سے آگاہی کا نہ ہونا ہی بہتر ہے ۔کیونکہ اس مضمون کی نسبت کا ادراک مجھے تحریک و تاریخ پاکستان کے آئینے میں دیکھنے سے ہوا ۔ قومیت کے جس جزبے کو پرونے کا عمل محمد بن قاسم کے دیبل سے ملتان تک کی فتوحات ،پھر محمود غزنوی کی سومنات پر یلغار اور قطب الدین ایبک کا ہندوستان کا باقائدہ حکمران بننے سے جوشروع ہوا ۔مسلمان حکمرانوں کی عروج و زوال کی داستانوں نے تاریخ کے دھارے میں مسلم معاشرے کی سنگ بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ۔ مذہب کی عملداری میں روح رواں مشائخ و اہل اللہ نے اسلام کے سنہری اور لافانی اصولوں کی احسن انداز میں تبلیغ کی اور معاشرے کی تزکیہ نفس و تصفیہ باطن کی تعلیم وتلقین فرمائی ۔ لیکن مسلم انداز حکمرانی اور مسلم معاشرتی انداز فکر میں ایک واضح خلیج حائل رہی ۔ اکبر اعظم جیسا طاقتور بادشاہ بھی اپنی سلطنت کی وسعت و ہر دلعزیزی کے لئے کبھی مان سنگھ جیسے سپہ سالاروں کو اپنا داہنہ ہاتھ بناتا۔ تو کبھی دین الہی کی شکل میں ایک نئے مذہب کی بنیاد رکھنے میں تامل نہ کرتا ۔
جہانگیر کی انارکلی دیوار میں چنوا دی جاتی تو کبھی اقتدار نور جہاں کی محبت کا اسیر ہو جاتا ۔شاہ جہان باغات کے شوق جنوں میں محبت کے تاج محل کی لازوال داستان رقم کر جاتا ۔ تو اورنگزیب عالمگیر پچیس سال دکن میں مرہٹوں کی سرکوبی میں گزار گیا ۔
اقتدار کا نشہ جب سر چڑھنا شروع ہوا تو وزیر مشیر بھی مسند اقتدار کی دوڑ میں شامل ہو گئے ۔ رعایا کو سکہ رائج الوقت پر ان کے من پسند بادشاہوں کا ہی گرویدہ رہنے دیا گیا ۔مگر اُکھاڑ پچھاڑ کی سیاست کو انہوں نے اپنا اوڑھنا بچھونا بنائے رکھا ۔ایک کے بعد ایک کو اپنی نالائقی کی سزا کا مزا چکھنا نصیب ہوا ۔بادشاہ رنگ رلیوں میں مست ہوتے گئے ۔ تو نادر شاہ درانی اورا حمد شاہ ابدالی کبھی حملہ آور بن کر، تو کبھی مدد کو آئے۔ مگر نہ تو بادشاہ ہی اپنے پاؤں جما سکے اور نہ ہی معاشرے کو انحطاط کا شکار ہونے سے بچا سکے ۔اور آخر کار بہادر شاہ ظفر " دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں " کہتے ہوئے تاریخ کی کتابوں میں دفن ہو گئے۔
سیاسی شعبدہ بازیوں سے بھری پڑی تاریخ سے سبق سیکھنے کا عمل کا پہیہ جام ہو گیا ۔ تو سر سید احمد خان جیسا متنازعہ ہونے کے باوجود بھی تعلیمی میدان میں کارہائے نمایاں سر انجام دیتا رہا ۔ایک نئی سوچ کو مسلم معاشرے کی ضرورتوں سے ہم آہنگ کرنے میں ہمیشہ کوشاں رہا ۔ ایک انسان تبدیلی کے اس عمل میں ہر رخ اور زاویہ سے عمل پیرا ہونے سے قاصر ہوتا ہے ۔ جب تک کہ دوسرے بھی اپنی اپنی ذمہ داریاں پوری اس انداز میں کریں کہ انحطاط پزیر معاشرہ ہر میدان میں کوشش عمل سے خود اعتمادی سے اپنے پاؤں پر دوبارہ سے کھڑا ہونے کے قابل ہو ۔جب کہ دو بڑی قوتیں انگریز اور ہندو مد مقابل ہوں ۔ جو سیاسی اور مذہبی افکار میں مسلمانوں کی بیخ کنی میں پیش پیش ہوں ۔ایسے میں مسلمانوں کی رہنمائی کے لئے سیاسی، مذہبی قائدین نے قابل قدر خدمات انجام دیں ۔
عوام میں انفرادی سوچ صدیاں بھی پنپتی رہے تو تبدیلی کا ہونا بعید از قیاس ہے جب تک کہ اجتماعیت کے دھارے میں قوم نہ ڈھل سکے۔
معاشرتی ، معاشی ، سیاسی ، تمدنی اور مذہبی لحاظ سے مسلمانوں کو پسماندہ کرنے اور پیچھے دھکیلنے پر کمر بستہ ہندو قوم 1857 کی جنگ آزادی میں مسلمانوں کے شانہ بشانہ لڑ رہی تھی۔مگر آقا کی تبدیلی سے موقع پرستی اور مفاد پرستی کے بت دوبارہ تیار ہو گئے ۔ تقسیم کرو اور حکومت کرو کی سیاسی بساط بچھانے والی گورا حکومت نے ایک ہزار برس تک اقلیتی قوم کی حکومتی اجارہ داری کے خلاف اکثریتی قوم کو موقع فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ۔ یہاں تک کہ ایک انگریز اے۔ او۔ ہیوم نے 1885 میں ہندوستانیوں کی بھلائی کی آڑ میں ہندوؤں کو نوازنے کی ایک اور کوشش انڈین نیشنل کانگریس کے قیام سے کی۔
مسلم قائدین تیس سال بعد بھی محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور تھے۔سیاسی سرگرمیوں سے پہلے انہیں صرف تعلیمی تحریک سے سماجی ، معاشرتی اور معاشی میدانِ عمل میں فکری و نظریاتی سوچ کو پروان چڑھانے کی ضرورت تھی۔ غیر مسلم اندازِ حکمرانی سے واسطہ پہلی بار پڑا تھا ۔صدیوں میں آقاؤں کی تبدیلی نے مسلم معاشرت پر مذہبی انحطاط کے علاوہ معاشی ، معاشرتی اور تمدنی لحاظ سے کوئی قابل ذکر اثرات مرتب نہیں کئےتھے۔ یہی وجہ ہے مجدد الف ثانی اور شاہ ولی اللہ محدث دہلوی جیسے جید علماء مسلمانوں کو مذہبی انتشار و بیگانگی سے بچانے کی تحریکوں کے روح رواں تھے۔
اور یہ پہلی بار تھا کہ مسلمانوں کو ان تمام محاذوں پر نبرد آزما ہونا پڑ رہا تھا ۔ اور جنگ آزادی میں ناکامی سے انگریزوں کی انتقامی کاروائیوں سے محفوظ رہنے کے لئے یہ ثابت کرنے کی ضرورت محسوس کر رہے تھے ۔کہ وہ حکومت کے مخالف نہیں ہیں۔ کانگرسی ہندوؤں کی ریشہ دوانیوں کے بیس سال بعد اور جنگ آزادی کے تقریبا پچاس سال بعد بھی مسلمانوں کے اندر حقوق کی جنگ لڑنے کی بجائے ، مفاہمتی پالیسی اختیار کرنے کی ضرورت کو مدِنظر رکھا گیا۔ لیکن 1905 میں تقسیم بنگال سے مشرقی بنگال کےمسلمانوں کو ہونے والے فائدے کی ہندوؤں کی مخالفت نےمسلمانوں کو اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک الگ سیاسی جماعت کی تشکیل پر آمادہ کیا اور 1906میں ڈھاکہ کے مقام پر آل انڈیا مسلم لیگ قائم ہوئی۔
اس کے بعد آل انڈیا مسلم لیگ اور انڈین نیشنل کانگریس کے درمیان اپنی اپنی قوموں کی حقوق کے تحفظ کی ترجمانی میں ایک وقت ایسا بھی آیا کہ دونوں جماعتوں نے 1916 میں لکھنو پیکٹ کے نام سے معاہدہ کیا جو آئندہ حکومتی شراکت داری میں ہندوستانیوں کو زیادہ سے زیادہ حصہ دلانے کی جدوجہد کا ایک حصہ تھی۔ جس نے ہندو ذہنیت کو فائدہ حاصل کرنے میں مسلمانوں کی مدد حاصل کرنے پر آمادہ کیا ۔ اور وقت نے یہ ثابت کیا کہ ہندو نے صرف اس وقت مسلمانوں کے ساتھ معاہدات کرنے کو ترجیح دی۔ جب اسے انگریزی حکومت سے معاملات طے کرنے میں ایک بڑی مسلم قوم کی مدد کی مجبوری تھی ۔ اور فائدہ حاصل ہوتے ہی پیٹھ میں خنجر گھونپنے کی ان کی فطرتی عادت کارفرما رہی ۔ یہی وجہ تھی کہ قائداعظم محمد علی جناح نے ہندو مسلم مسئلے کے حل کے لیے مارچ 1929ء کو دہلی میں آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں نہرو رپورٹ کے جواب میں پیش کیے جو کہ تحریک پاکستان میں سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انہوں نےحقیقی معنوں میں مسلمانانِ ہند کی ترجمانی کرتے ہوئے ان کے مفادات و حقوق کے حقائق کو مدلل انداز میں پیش کر کے برطانوی حکومت کو یہ بات باور کروانے کی کوشش کی کہ کانگرس محض ہندوؤں کی اکثریت ہی کی فلاح و بہبود کے بارے تحفظات رکھتی ہے جبکہ ہندوستان کی اقلیتیں خصوصاً مسلمانوں کو ان کے حقوق و مفادات کے حوالے سے کسی خاطر میں ہی نہیں لاتی۔
مگر اس سے پہلے 1927 میں مسلم لیگ کو پہلی بار دو حصوں میں تقسیم کا عمل شروع ہوا ۔ جب ایک گروپ سرمحمد شفیع اور دوسرا قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں آگیا۔مگر مسلم لیگ کی تقسیم سے ہندوستان کے مسلمانوں کے حقوق و مفادات کے تحفظ کو کوئی زد نہیں پہنچی ۔ کیونکہ مسلم قوم اپنے ہمدرد رہنما اور قائد کو پہچان چکی تھی ۔
گول میز کانفرس میں کانگریس کے اس مخالفانہ اور غیر مصالحانہ رویے کے باوجود مسلمانوں نے امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا ۔ گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ مجریہ 1935ء کے تحت 1937 میں منعقد صوبائی انتخابات میں مسلمانوں کے لئے مختص 486 نشستوں میں مسلم لیگ کو صرف 102 پر کامیابی حاصل ہوئی ۔ گیارہ میں سے آٹھ صوبوں میں کانگرسی وزارتوں نے اقتدار کے نشہ میں مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا ۔ اور ظلم و ستم کی انتہا کی ۔ کانگرسی حکومت میں مسلمانوں نے انگریز حکومت سے بھی بد تر حالات کا سامنا کیا۔اور دوسری جنگ عظیم کے آغاز پر ڈھائی سالہ کانگرسی وزارتوں کے استعفے سے مسلمانوں نے سکھ کا سانس لیا ۔
قائد اعظم محمد علی جناح نے اس دوران ملک بھر کے دورہ کئے ۔ اور آخر کار 23 مارچ 1940 کو منٹو پارک لاہور میں علامہ اقبال کے خواب کی تعبیر، قرار داد پاکستان کی شکل میں تاریخی قرارداد پاس ہوئی۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد برطانوی حکومت پر دباؤ بڑھ گیا کہ وہ ہندوستان کے سیاسی مسائل کا حل تلاش کرے۔ اس صورتِ حال میں برطانوی حکومت نے عوامی رجحانات کا پتہ چلانے کی خاطر عام انتخابات کا اعلان کیا۔ دسمبر 1945 ء میں مرکزی اسمبلی اور جنوری 1946 ء میں صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کروانے کا فیصلہ ہوا۔ تمام جماعتوں نے انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا۔
مرکزی اسمبلی میں مسلم سیٹوں کی تعداد 30تھی جو کہ مسلم لیگ نے تمام تر مخالف محاذکے باوجود تمام سیٹیں جیت لیں ۔
اور صوبائی اسمبلیوں میں مسلم سیٹوں کی مختص تعداد 495 تھی ۔مسلم لیگ نے 434 سیٹیں جیتیں۔ یہی وہ موقع تھا جب مسلم لیگ مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت تسلیم کی گئی اور محمد علی جناح قائد۔
کانگرسی وزارتوں کے مظالم نے پورے ہندوستان کے مسلمانوں کو مسلم لیگ کے جھنڈے تلے اکٹھا کردیا تھا۔وہی مسلم لیگ 1937 کے صوبائی انتخابات میں تقریبا 20% نشستیں جیت پائی تھی اور اب سارے ہندوستان کے مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت بن کر ابھر کر سامنے آئی۔اور خاص طور پر مسلم اقلیتی صوبوں کے مسلمانوں کا کردار قابل تعریف ہے جنہیں یہ بھی معلوم تھا کہ مسلم لیگ جس پاکستان کا مطالبہ کر رہی ہے وہ خود اس ملک کا حصہ نہیں ہو ں گے۔مگر انہوں نے اپنا وزن مسلم لیگ کے پلڑے میں ڈالا ۔اور ہندوستان کی نمائندہ جماعت کہلانے والی کانگریس قائد اعظم اور مسلم لیگ کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوئی۔اور برطانوی حکومت کو انہیں نظر انداز کرنا ممکن نہ رہا۔
بالاخر14 اگست 1947 کا دن دنیا کی تاریخ میں روشن باب بن گیا ۔جب ایک قوم نے نظریہ کی بنیاد پر اپنے لئے ایک الگ وطن کا حصول ممکن بنایا۔
آج پاکستان میں کبھی صوبائی کارڈ استعمال کیا جاتا ہے تو کبھی چھوٹے بڑے بھائیوں کے درمیان پانی کی تقسیم پر اختلافات پیدا ہوجاتے ہیں ۔سوچنے والی بات ہے اگر مسلم اقلیتی صوبوں کے مسلمان صوبائی تعصب کی بنا پر مسلم لیگ کی بجائے کانگرسی مسلمانوں کو ووٹ ڈال دیتے تو آج ہم کہاں کھڑے ہوتے ؟