Sunday, December 20, 2009

اللہ کی نگہبانی

0 comments
اللہ کی نگہبانی میں دیتا جو سرِ نہاں لاالہ الا للہ
رہتی دنیا تک ہے آفاقی نام و نشاں لاالہ الا للہ

مُحَمَّدۖ کی محبت کا عہد و پیماں لاالہ الا للہ
سروشِ سلطانی میں ہے رازِ پنہاں لاالہ الا للہ

با زادِ تکمیل میں اُٹھتی نِگاہ لاالہ الا للہ
وردِ کلمہ جاری قلبِ ایماں لاالہ الا للہ

حکمِ ربی پہ جھکا سر تو گنگِ زباں لاالہ الا للہ
پیدا ہوتے ہوا عظیم مکاں لاالہ الا للہ

کائناتِ حسین میں رکھتا فخرِ جہاں لاالہ الا للہ
سرورق کو چومتا غلافِ قرآں لاالہ الا للہ

سجدہ شکر میں بھرا نورِ احساں لاالہ الا للہ
ردائے فقر میں چھپا شاہِ جہاں لاالہ الا للہ


بادِ اُمنگ / محمودالحق

جس کا جتنا زور

0 comments
جس کا جتنا زور دیکھاتے اپنا سوچ عمل
نظام کائنات میں نہیں ہو سکتا ردوبدل

نشان منزل کی نہیں فکر پیمائش راہ
آج تنقید تطہیرِ تفسیر، نہیں فکر کیا ہے کل

سب سے جدا راہِ راہ نہیں حقِ ادائیگی مسلمان
مغلوب و غالب میں اب کیا حق تو کیا باطل

اسرار تو ہے من و عن ظاہر میں ہو پیچ و خم
جمادات کو رکھتے مقدم نہیں تقوی و توکل

میرے ذوقِ علم میں دو نام دو شہر دو جہاں
تخمین و ظن میں رہے تو پیدا ہوتا اپنا ہمشکل

خندہ جبین / محمودالحق

خوشبو کی طرح

0 comments
خوشبو کی طرح ہواؤں میں بس جاؤں گا
بہار گزر گئی تو کانٹوں میں پھنس جاؤں گا

شجر اغیار میں ثمرِ انتظار کب تک رہے
گھٹائیں گزر گئیں تو قطرہ کو ترس جاؤں گا

گداگری میں ہے سمِ شاہی کا تریاق
درد عشق ہوں آنکھوں سے برس جاؤں گا

عمل مشک فورروح نفس میں مہک پائے گی
خاک نشینوں میں رہا خاک میں دھنس جاؤں‌گا


خندہ جبین / محمودالحق

قید میں ضمیر قفس

0 comments
قید میں ضمیر قفس کے ہے ہجوم تنہائی
پابۂ زنجیر ہے نفس طائر رہائی

موج عمل کو چاہئیے طلاطم ہوش بندگی
غموں کی عادت ہے خوشی میں آنکھ بھر آئی

بہا بہا کر آنسو قطرہ موتی تلاش کروں
خاکی کے اوڑھنے بچھونے کو زندگی ہے پرائی


روشن عطار / محمودالحق

شمع قطرہ قطرہ

0 comments
شمع قطرہ قطرہ پگھل کرنجات کون ومکاں ہوگئی
چشم تر قطرہ قطرہ برس کر حمیت جہاں ہو گئی

پروانہ جل کر عشق میں خاک جہاں سے گیا
عشق منزلت عرش سےتعظیم محبوباں ہو گئی

چمن بھی ہے دلگداز انتظار بہار
ارادے ضعیف ناتواں تومشکلیں محفل جواں ہوگئی


روشن عطار / محمودالحق

بندہ غرض

0 comments
بندہ غرض کو پل قناعت سے گزرنا آسان نہیں
غم روزگار و خشوع افکار کوئی بڑا امتحان نہیں
مادیت کا اژدہا جسے نگل لے کامل انسان نہیں
معبود سے عبد کی محبت کا کوئی بیان نہیں


روشن عطار / محمودالحق

حاسد حسد سے خاک

0 comments
حاسد حسد سے جل کر خاک ہوتا ہے
صابر صبر کے پھل سے پاک ہوتا ہے

کیَنہ و بغض تو کرتے ہیں رزق کا شکار
راضی بالرضا سے توکل بَیباک ہوتا ہے

باطل تو ہے با سبب بد اعمال
بردباری تو حق کا ادراک ہوتا ہے

قلب کو یاد آنچ میں گرماؤ تو اچھا ہے
آتش کا حد سے بڑھنا تشویشناک ہوتا ہے

چاہ طلبوں کو تو چاہیۓ منزل الماس
فقہاء کا تو فقر ہی پوشاک ہوتا ہے

کھولے جو بند گرہ تلاش راز کو
بہتان طرازی کا جرم بڑا انجام المناک ہوتا ہے


برگِ بار / محمودالحق

سہل انگاروں کا پیچھا

0 comments
سَہل اَنْگاروں کا پیچھا پچھتاوے کرتے ہیں

گر ہوں عاجِز تو خوف کےمارے ڈرتے ہیں

وَحدہُ لاشریک لہ کی اَمان میں جونہیں رہتے
نفس کے کئی خداؤں سے وہ مرتے ہیں

قربتیں کم ہوں یا تَفاوُت بَڑھ جائیں
ساعَت کی قید فرنگ سے نہیں نکل پاتے ہیں

بڑھتے درد کا صبر جب فریاد بن جائے
انصاف کے باب کھلنے سے نہیں رکتے ہیں

بَلَند پَرواز میں نہیں رکھتے جو ماویٰ
بَدَلتِی رتوں سے بھی گزرتے چلے جاتے ہیں

برگِ بار / محمودالحق

Saturday, December 19, 2009

پنکھڑی پر خار

0 comments
تحریر : محمودالحق

آج جب میں بیدار ہوا تو انتہائی خاموش فضا معلوم ہوئی سوگوار کا لفظ مجھے مناسب معلوم نہیں ہوتا یہاں ، کیونکہ میرے اندر خاموشی اپنے ترنم سے محو رقص تھی۔ مگر ارد گرد کا ماحول درد تنہائی سے کراہ نہیں رہا تھا۔ ان کا کراہنا ہی مجھے سوگواری کا باعث ہوتا ہے۔ بستر کو چھوڑنا ایک انتہائی جان جوکھوں کا کام لگتا ہے۔ صرف یہی تو وہ پل ہیں جنہیں میں اپنا کہ سکتا ہوں۔ کیونکہ میری روح احساسات بدنِ فانی سے چند لمحوں کے لئے آزاد رہتی ہے۔ پھر تو اگلی آزادی تک جسم جسموں پر چنگھاڑتے ،برستے، آگ اگلتے روز ہی فنا ہوتے ہیں۔ مگر میرا روح احساس ہر نئی صبح پہلے سے بھی زیادہ محبت اخلاص سے قوی ہوتا ہے۔ انسانوں کی بھیڑ میں قدم اپنے اپنے بوجھ کو لئے بھاگ رہے ہوتے ہیں۔ جسے اپنی منزل تک رسائی کی جتنی جلدی ہوتی ہے۔ ان قدموں کا ساتھ دست و بازو بھی پوری تندہی سے دے رہے ہوتے ہیں۔ اور ایک وفادار غلام کی طرح ہوس و حرس کے آقا کی دلربائی کا اہتمام کرنے میں جتے رہتے ہیں۔ میرا نفس بھی مجھے ان کی تقلید کی پابندی کا مژدہ سناتا ہے۔ مجھے ان کا بھاگنا تو نظر آتا ہے ،مگر منزل ہمیشہ ہی پوشیدہ نظر آئی۔ شائد ان کی آنکھ اس منزل کو دیکھ پا رہی ہو۔ جو مجھے کبھی بھی دکھائی نہیں دیتی۔ دوسروں کے آئینے میں اپنا عکس دیکھنے والے یہ کیوں بھول جاتے ہیں۔ خوشبو سدا نہیں مہکتی، جوانی سدا نہیں رہتی ۔اس مٹی سے پیدا ہر چیز مٹی ہو جاتی ہے ۔میرا آئینہ مجھے یہی دکھاتا ہے ۔میرے چہرے کی وہ رنگت نہیں رہی۔ جوں جوں تفکر ایمان بڑھتا چلا جا تا ہے۔ وجود اس کے مقابل کمزور سے کمزور ہوتا چلا جاتا ہے۔ تکلیفیں پریشانیاں دکھ انسان کو کمزور کرنے نہیں آتیں۔ بلکہ وجود میں صبر، برداشت، ایمان کی پختگی کا پیغام لاتی ہیں۔ بدن روح کی طاقت کا محتاج ہے۔ جو اسے ہم دیتے ہیں کمزوری کا سبب بنتا ہے۔ آسائش سہولت شاندار طرز زندگی اسے اپنے اصل سے بہکاوہ کی ترغیب دلاتے ہیں ۔مجھے ہر اس انسان کو تلاش کرنا ہے ۔جو ہمیں ترغیبات فنا کا سبق چھوڑ کر گیا ہے۔ جو اس نے پایا، آج اس سے کیا پھل اگایا جا رہا ہے۔ ان کی داستان صرف کاغذ کی سیاہی بن کر رہ گئی ہے۔ زندہ وہ ہیں، جو آج اسی سیاہی سے پھر انسانی بھلائی کی تحریک کی شکل میں زندہ ہو جاتے ہیں۔ اور اس ہجوم میں سے وہ سب کے سب جو سچائی اور حقیقت کا ادراک پا لیتے ہیں۔ ان کے قدم دست و بازو کی مدد کے باوجود ضمیر کی قید میں پابند سلاسل ہو جاتے ہیں۔ اور پورے وجود کو آزادی کی نعمت سے ہمکنار کر دیتے ہیں۔ پھر نہ ہی ان کی آنکھ اپنی من مانی منظر کشی کرتی ہے۔ کان چیخ و پکار سے تسکین نہیں پاتے۔ اور نہ ہی زبان قلب کی پنکھڑی پر خار ہوتی ہے۔

Friday, December 18, 2009

اہل اِیمان کی گریہ

0 comments
اہل اِیمان کی گریہ میں سکوتِ کائنات
بائیں عملِ غافل میں شور و غوغہء حاجات

لوحِ تقدیر میں لکھے با سبب اسباب
انسان اپنے ہی تئیں میں عملِ مکافات

ارضِ شوی میں ہے عاجزیء شبیری
منزلِ نوید میں ہے خوشہء انجیرِ التفات


را مقابل ہر زہ محاصل مشاہیر
اک قطرہ بقاء میں تاثیرِ طبیبِ کائنات

پردہ سیمیں مزّین رنگِ بالاج
خیرہ نہ کر دے کہیں آبِ انگور مشکات

نارْکِ تحریم تکبیرِ قیام مقامِ رکوع
سجود ہی پہنچائے تجھ کو تا منزلِ نجات

مانع طور و نور غائب و حضور
حرف بہ حرف لفظ بہ لفظ یہ صادق آیات

کھلے جو بامِ در میرا غنچہء نصیب میں
سخنِ سوز و جاں میں نہ رہے دل کی بات

موسل بار : محمودالحق

عملِ زندگی میں پنہاں

0 comments
عملِ زندگی میں پنہاں رازِ گل و نار
عقلِ خرد ہے انتہائے کوتاہ سے برسرِ پیکار

عارضِ نوحہ کربِ یزداں کی ہے پکار
بستی آلام و آلائش با روئے زرفگار

میری راہ میں تیری چاہ کی ہے اشک بار
مسجود ہیں سب جہاں تیرا ہے دربار

قضائے نماز ہے جائز ہر کسِ سفر و بیمار
حاجاتِ انسان میں ہے سو بیمار ایک انار

عملِ جہاں تو ہیں دو دھاری تلوار
یا تو اِس پار ہے یا اْس پار

نہیں منزل جن کی کوئی بے سلیقہ بے شعار
قافلے اور پنچھی پناہ گاہوں کو جاتے قطار در قطار


موسل بار : محمودالحق

ایمان کی لڑی میں

0 comments
ایمان کی لڑی میں پرو کر پھیل گئے ہر سو
اپنوں کے مقابل صف آراء ہوئے باوضو

دینا مجھ کو طاقت یا رب قوت گویائی کی
تیرا ذِکر ہی کرے مجھے لحد میں روبرو

مہکتا گل اچھا سوکھے خار کی عمرِ بار سے
میرا دل ہی ہو میرے نفس کا بادِ نو

سینچا مجھ کو میرے باغباں نے
جھاڑی نہیں ہوں میں کوئی خود رو

فراق محبوب و عشق محبوب میں کیا جدا ہے
ایک میں مَیں ہے اور ایک میں صرف تُو

ایک جل کے فنا ہے ایک کی فنا میں جِلا
حیراں کر گئی مجھے ایک درویش کی گفتگو

موسل بار : محمودالحق

گل میں خار

0 comments
گل میں خار کی طرح پیوست ہو جا
فقیری میں من و سلوی سے تنگدست ہو جا

وحدت الوجود سے قصص القرآن ہوا
ظہورِ عقل میں شعورِ ایمان سے دست بدست ہو جا


موسل بار : محمودالحق

قطار در قطار

0 comments
تحریر: محمودالحق
گرمی کا احساس بڑھنے پر میں نے گاڑی کاشیشہ تھوڑا نیچا کیا ہی تھا کہ ایک ہاتھ تیزی میں میری طرف بڑھا مشکل سے اپنا منہ بچا پایا مگر کانوں میں ایک بےسری آواز نے ایسا جادو جگایا کہ میری برداشت ہی جواب دے گئی اتنی تکلیف مجھے ایک گھنٹے سے ٹریفک میں پھنسے رہنے سے نہیں ہوئی میں نے دونوں ہاتھ جوڑ کر ایک ہٹے کٹے بھکاری سے معافی مانگی “اللہ کے واسطے تو مجھے معاف کر دے “اب تو میں نے ان بھکاریوں سے الجھنا چھوڑ دیا تھا روز طرح طرح کی باتیں سننے کی تو انہیں عادت تھی مگر مجھے سنانے کی نہیں تھی ایک بات تو طے ہے عوام کی برداشت بڑھانے میں ان کا اہم کردار ہے.
وہ مجھ پر ایسے چیخ رہا تھا جیسے کوئی قرض خواہ قرض دار سے وعدہ کا وقت گزرنے پر دو دو ہاتھ کرنے آیا ہو اگر جان چھڑوانے کے لئے ایک کا احسان چکا بھی دیں تو نہ جانے کون سی بھاشا میں دوسروں کو اطلاع کر دیتے ہیں کہ یہ بکرا نرم دل ہے تو ایک ایک کر کے دوسرے فقیر آوازوں کی چھری سے حلال کرنے پہنچ جاتے ہیں.
بات کہاں سے کہاں پہنچ گئی واقعہ تو مجھے اور بیان کرنا تھا جسے آج میں پہلی بار دیکھ رہا تھا فقیر تو ہم روزانہ ہی دیکھتے ہیں اور بھگتنا بھی پڑتا ہے.
لاہور کا ایک مصروف چوک موڑ سمن آباد چاروں اطراف سے بھاری ٹریفک کی آمدورفت سے اکثر و بیشتر ایسا منظر پیش کرتا جیسے سینکڑوں بھیڑوں کو ایک تنگ گلی میں دھکیل دیا گیا ہو عوام کی بے چینی ان کے چہروں سے عیاں ہوتی ہے بعض مجبوری سے آگے پیچھے دیکھتے ہیں موقع ملے تو وہ نکل بھاگیں بچے سکولوں کے باہر ان کی راہ تک رہے ہوتے ہیں اور بعض ایسے بھی جن پر یہ محاورہ پورا اترتا ہے کہ” منٹ دا ویل نیں ٹکے دی آمدن نیں”ایسے مواقع پر میرا پسندیدہ مشغلہ لوگوں کے چہروں سے اڑتی ہوائیاں دیکھوں یا پھر سڑک کے اطراف ہورڈنگز کیسے “نیا جال لائے ہیں پرانے شکاری” میری حیرانگی کی انتہا نہ رہی جب میں نے ہورڈنگ پر بنی تصویر دیکھی ہمیں تو دیکھنے کی عادت ہو چکی ہے شیونگ کریم کے اشتہار میں ایک خوبصورت ماڈل کی چمکتی مسکراہٹ یا موٹر سائیکل کا اشتہار چلانے والے کی آنکھ کے تصور سے آگے سپیڈو میٹر تو پیچھے بیٹھی ماڈل نظر آتے ہیں خود وہ کیمرے میں ڈھل جاتا ہے
یہ تصویر ایک الگ ہی کمپنی کا اچھوتا آئیڈیا معلوم ہو رہی تھی نیچے چیونٹیوں کی ایک لمبی قطار اور اوپراُڑتے ہوئے ایک قطار میں پرندے ایک لمحے کو یہ خیال گزرا کہ شکار کے متعلق کچھ معلومات ہوں مگر یہ چیونٹیاں کیوں ہیں یہاں، بے ضرر ہیں کیڑے مار ادویات والے اتنا پیسہ کیوں لگائیں گے میں نے اپنی توجہ وہاں سے ہٹائی تو صوبائی حکومت کا نام ایک پیغام کے ساتھ نیچے نظر آیا کہ قطار میں چلنے کا ان سے ہمیں سبق سیکھنا چاہیئے لیکن میرے تو آگے پیچھے ایک عجب تماشا کا سماں تھا عوام ایک دوسرے کوکوس رہے تھے بعض موٹے تازے تو آنکھوں سے ڈرانے کی بھی کوشش کر رہے تھے تاکہ دوسرے راستہ دیں اور وہ نکل جائیں بعض سمجھدار قسم کے لوگ ایسی بے ہنگم ٹریفک کو حکومت کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ قرار دے رہے تھے مگر کوئی بھی اس ہورڈنگ کی طرف نہیں دیکھ رہا تھا مگر وہ پرندے اور چیونٹیاں انہیں ضرور دیکھ رہے تھے کہ ہمیں پاؤں میں روندنے والے اور پروں کو نوچنے والے کیسے دست وگریباں ہونے کو تیار بیٹھے ہیں حکومت نے اپنا فرض ادا کر دیا تھا عوام اپنا فرض ادا کر رہے ہیں اور یہ چیونٹیاں اور پرندے اپنے پروردگار کے حکم سے اشرف المخلوقات کو انسانیت کا پیغام پہنچانے کا کام سر انجام دے رہے ہیں یہ پریشان تو ضرور ہوتے ہوں گے کہ وہ انسان پانچ وقت بغیر کسی لالچ و ترغیب کے نظم وضبط کا کمال مظاہرہ کرتا ہے اور لاکھوں کا اجتماع بھی اپنے پروردگار کے سامنے کسی خارجی دباؤ کے بغیر رکوع و سجود ایسی قطاروں اور نظم و ضبط سے کرتا ہے کہ یہ پرندوں اور چیونٹیوں نے شائد وہیں سے سیکھا ہو.
مغربی دنیا نے ان سب کو قانون کے دھارے میں ڈھال کر قطار کا پابند کروایا مگر ہمیں ہمارے پروردگار نے سجدہ کا حکم دیا تو ہم نےقطاریں بنا لی کیا ہی اچھا ہو اگر پانچ وقت کی اسی عادت کو 24 گھنٹے اپنائے رکھیں.

Thursday, December 17, 2009

انسان متوکل

2 comments
تحریر : محموالحق
زندگی میں ہر انسان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ ایسا کام کرے جس سے دوسروں کی نظر میں معتبر اور ہر دلعزیز ہو۔ میں نے بھی کئی بار ایسی کوششیں کیں مگر اکثر ناکام رہا ۔ سچی بات کہنے کی عادت نے دوستوں میں ایک واضح فرق پیدا کیا۔ تملق ہمیشہ طبیعت پر گراں گزرتی۔ کیونکہ اس کی پہلی شرط یہ ہے کہ مزاج کے بر خلاف مقصد کے حصول پر نظر ہونی چاہیئے ۔ ہر انسان کی پیدائش فطرت پر ہوتی ہے ۔مگر حالات و واقعات اس کے اندر تغیر و تبدل پیدا کرتے ہیں۔ہماری اسی عادت نے ہمارا ساتھ کبھی نہیں چھوڑا ۔ ڈاکٹر کے پاس گئے تو ریسیپشن پر فیس جمع کروانے کا کہا گیا۔ تو بول پڑے کہ جناب آجو گئے ہیں تو قربان ہو کر ہی جائیں گے۔ خواہ مخواہ شک میں کیوں پڑتے ہیں کہ بھاروں (بکرا ) بھاگ نہ جائے کہیں انتظار کی اذیت سے۔ اور اگر اپوائنٹمنٹ کے مطابق باری پر نہ بلایا ۔تب جواب طلب کر لیتے کہ یہاں تین گھنٹے بٹھانا ہی تھا ۔تو دو ہفتہ قبل وقت لینے کا فائدہ۔ مگر وہ بیچارے بھی مجبور ہیں کہ ڈاکٹر صاحب اسی معاشرے کے شہری ہیں ۔ ایسے طاقتور شیروں سے ٹکر تو نہیں لے سکتے جو عام شہریوں کے ساتھ انتظار کی قطار میں بیٹھنے کو ہتک جانیں ۔ وہ پہلے آئیے پہلے پائیے کا حق مروجہ کے حامل طبقہ سے تعلق جو رکھتے ہیں ۔ میرے جیسا پڑھا توسکتا ہے استادی نہیں دکھا سکتا پھر ایسے بے ضرر معاشرتی حیوان( بقول ارسطو) کو جہاں چاہو بٹھاتے رہوکیا فرق پڑتا ہے ۔مگر ہم بھی ضدی مزاج واقع ہوئے ہیں اپنی بات کہے بنا تو چھوڑنے والے نہیں ۔ اسی وجہ سے لوگ حیران ہو کر سر تا پاؤں ملاحظہ کرتے۔مگر وہ یہ بھول جاتے کہ شہر کی انہی گلیوںمیں جوان ہوئے ہیں۔ صرف کتابوں کی ورق گردانی نہیں کی ، لوگوں کی بھی گرد جھاڑتے رہے ہیں ۔
ہمیں ہر معاملے میں خودکفالت کا ہمیشہ جنون رہا ۔ اگر کبھی آلارم کی بھی ضرورت پڑی ، توسوچ لیا صبح 4 بجے اُٹھنا ہے ،تو آنکھ ایسے کھل جاتی جیسے کسی نے جنجھوڑ کر جگا دیا ہو ۔ ڈاکٹر کے پاس بھی تبھی جاتے جب اپنے تمام فارمولے کارگر نہ ہوتے ۔ اگر مکینک نے گاڑی ، موٹر سائیکل یا ٹیپ ریکاڑر سامنے کھولنے کی غلطی کی ۔ تو اگلی بار ہمارے انتظار میں آنکھیں سو جاتیں ۔ اس بات پر ہمیں ہمیشہ ہی فخر رہا کہ ہر کام کے لئے احتیاج ٹھیک نہیں ۔ وقت کی قدر کا ہمیشہ ادراک رہا ۔ اس میں خاص طور پر جس شے نے اہم کردار ادا کیا ۔ وہ ہماری 1969 ماڈل کی ٹیوٹا کرونا کار تھی ۔ جس نے بچپن سے خوب تربیت کی ۔ بارہ سال کی عمر میں ہی نیچے اور پیچھے کشن رکھ کر سڑکوں پر ہارن بجاتے دوڑاتے ۔ وقت کے گزرنے کے ساتھ ہم جوانی میں اور وہ بڑھاپے میں ڈھلتی گئی۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ اس کا استعمال ایسے کاموں کے لئے کیا گیا کہ دوست احباب ہمارے ساتھ اس کی بھی خیریت پوچھتے " سناؤ گڑ (بیل گاڑی) کیسی چل رہی ہے " ۔ ہم صرف مسکرا دیتے اور کوشش کرتے کہ اس کی ٹپ ٹاپ میں فرق نہ آئے۔ تو اکثر منٹگمری روڈ سے بناؤ سنگھار کرواتے ۔ اب تو ڈیش بورڈ بھی دھوپ سے جل کر ایسا معلوم ہوتا کہ سوکھے کی بنجر زمین میں دراڑیں پڑی ہوں ۔آخر فیصلہ کر لیا اس بار سیٹوں کی بجائے جو بجٹ میں رقم بچی ہے ڈیش بورڈ ہی پوشش کیوں نہ کروا لیں ۔ یہ نیت باندھی اور منٹگمری روڈ کا رخ کیا ۔20 ،22 سال کا ایک نوجوان بھاگتا ہوا پاس آیا۔ اور جو جو کام اسے آتے تھے ایک ہی سانس میں بیان کردئے ۔ میرا مدعائے دل جب اس نے سنا تو بولا اس کام کی اجرت کے بارے میں میرے ابو بتائیں گے ۔ ہمارے اس نئے خیال سے اسکی ہنر مندی کے تمام پول کھل گئے ۔تمھارے ابو کہاں ہیں ، میرے اس سوال پر اس نے دو آدمیوں کی طرف اشارہ کیا جو آپس میں کسی بات کو طے کرنے میں محو گفتگو تھے ۔ ہر بات کی جستجو اور سوال کرنے کی عادت سے مجبور تھا سوال داغ دیا ۔
وہ سفید بالوں والا ہے تمھارا ابو!
اس نے نفی میں سر ہلا کر کہا ساتھ والا ۔
میری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ تیس پینتیس سال کے لگ بھگ آدمی کو اپنا باپ بتا رہا تھا ۔ میرے استفسار پر اس نے یقین دلانے کی کوشش کی کہ وہ سچ کہ رہا ہے ۔ اب تو میرا تجسس اور بڑھ گیا کہ ماجرا کیا ہے ۔ تھوڑی ہی دیر بعد وہ میرے پاس تھا ۔ نوجوان نے کام کے بارے بتایا ۔ اس سے پہلے کہ وہ اگلی بات کہتا میں نے پھر سوال داغ دیایہ تمھارا بیٹا ہے ؟

جی باؤ جی !
لیکن تم تو خود نوجوان دکھائی دیتے ہو ۔میری حیرانگی اور بڑھ گئی جب اس نے کہا یہ تیسرے نمبر کا ہے ۔
کیا ؟
میرا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا ۔ وہ بولتا جا رہا تھا کہ باؤ جی میرا بڑا بیٹا 28 سال کا شادی شدہ ہے 26 سالہ بیٹی بھی شادی شدہ ہے چوتھا 17 سال کا ہے ۔دادا ، نانا بن چکا ہوں ،میری عمر 45 سال ہے 16 سال کی عمر میں شادی ہوئی تھی۔
لیکن دیکھنے میں تم پینتیس سے زیادہ کے دکھائی نہیں دیتے ۔
باؤ جی آپ کیا کوئی بھی نہیں مانتا ۔ اور یہی حال میری بیوی کا ہے وہ ان کی ماں نہیں لگتی ،لوگ مجھے ان کا بڑا بھائی اور میری بیوی کو ان کی بھابھی سمجھتے ہیں ۔
میں اپنے خیالات میں گم سوچے جارہا تھا کہ ہمارے چہرے پہ سارے زمانے کی پریشانیاں دکھائی دیتی ہیں مگر یہ انسان دیکھنے میں ایسا کیوں ہے ۔
آخر تم میاں بیوی کا ایسا نظر آنے میں راز کیا ہے؟ میں وہ فارمولا جاننا چاہتا تھا ۔
باؤ جی اگر دیہاڑی 500 روپے کی لگی تو بہت خوشی نہیں کی اور اگر 25 کی لگی تو غم نہیں کیا ۔ہر حال میں خوش رہتے ہیں۔مجھے اس کا جواب سن کر ایک کتاب میں پڑھے یہ الفاظ یاد آ گئے۔
"متوکل وہ ہے جس کے وجود اور عدم برابر ہوں مطلب یہ ہے کہ رزق پانے سے دل خوش نہ ہو اور اس کے نہ ہونے سے دل غمگین نہ ہو"
وقت گزرتا گیا ، زندگی میں اس کے بعد کافی تبدیلی بھی آئی ۔لیکن اس کے الفاظ آج بھی میرے ذہن میں نقش ہیں ۔ لاکھوں کروڑوں کمانے والوں سے بھی واسطہ پڑا ۔
لیکن اس سے بڑھ کرانسان متوکل نہیں ملا ۔جس کی زبان سے بڑھ کر اس کا چہرہ سچائی کا آئینہ دار تھا ۔