Showing posts with label کائنات،تخلیق،خالق. Show all posts
Showing posts with label کائنات،تخلیق،خالق. Show all posts

Saturday, February 13, 2021

روح کی آبیاری

0 comments

زندگی جسم اور روح کا مرکب ہے۔ زمین پر ان دونوں کی موجودگی اسباب سے منسلک ہے ۔ جو کہ ہوا پانی روشنی سے وابستہ ہےجس کے لئے صبح اٹھتے ہیں اور رات گئے سوتے ہیں۔ روح جب تک جسم سے تشنگی لیتی ہے تو زمین سے جڑی رہتی ہے۔ جب وہ اسے قید محسوس کرے تو پھر وہ پرواز کرتی ہے۔ اس کی پرواز ہے کیا۔ سوچنے سمجھنے کے لئے وہ علم کے روائتی فلسفہ کی بجائےحقیقت شناسی کے راستے پر گامزن ہو جاتی ہے۔ سائنس کہتی ہے کہ زمین سورج کے گرد 365.25 دنوں میں چکر مکمل کرتی ہے۔ چارموسم ہیں، ہر موسم کا الگ الگ پھل ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ آم گرمیوں میں صرف تیار نہیں ہوتا بلکہ سورج کے ایک مخصوص حصے میں پہنچنے پر پکتا ہے اور یہی حال دوسرے پھلوں اور چاول گندم کا بھی ہے۔ صرف سوچنے کا انداز تبدیل ہوتا ہےکیونکہ ہم اس جگہ موجود تو نہیں ہوتے ۔ لیکن ہم احساس سے جڑ جاتے ہیں۔ جب روح فطرت سے جڑ نے لگتی ہے تو زمین سےوابستگی کمزور پڑنے لگتی ہے۔ معجزات اور کرامات اسی وابستگی سے وقوع پزیر ہوتے ہیں۔ اگر آسان انداز میں زمین پر رہتے ہوئےتجربہ کرنا چاہئیں تو بھی ممکن ہے۔ کسی بھی پھل کی دوکان سے سیب، آم، کیلا،امرود، ناشپاتی، انگور وغیرہ پانچ دس کلو  خرید کرگھر میں چھری کانٹے سے پلیٹ میں کاٹ کر کھائیں۔ پھر ان پھلوں کو باغات میں توڑ کر کھائیں۔ درخت سے توڑ کر کھایا جانے والاایک سیب دوکان سے ٹوکری بھرے سیب سے مختلف کیوں محسوس ہوتا ہے۔ صرف اس وجہ سے کہ  باغات میں لٹکے پھل ہمیں فطرت کے قریب لے کر جاتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ روح کی تشنگی فطرت سے مٹتی ہے۔ اور فطرت ایک سسٹم کا نام ہے۔ اللہ سبحان تعالی فرماتے ہیں کہ تم دیکھتے نہیں کہ بادل کیسے ہوائیں لے کرجاتی ہیں اور مردہ زمین کو زندگی عطاکرتی ہیں۔ وہی بارش کا پانی ایک مخصوص درجہ حرارت پر برف باری میں بدل جاتا ہے۔ لیکن سورج کے ایک مخصوص حصہ میں زمین کے پہنچنے پر ایسا ہونا ممکن ہوتا ہے۔ روح جب دنیاوی بدنی ضرورتوں سے بے پرواہ ہو جائے، نظام حیات سے نظام کائنات سے منسلک ہو جائے تو خالق سے ایک رشتے میں جڑ جاتی ہے۔ اسی ناطے سے اللہ سبحان تعالی فرماتے ہیں کہ اس کا کان بن جاتاہوں جس سے وہ سنتاہے اور میں اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اورقدم بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے ۔

دنیا بھر میں ایک ہی دن پیدا ہونے والے ہر رنگ و نسل کے بچوں کو ایک ہی چھت تلے اکٹھا کریں تو ان سب میں کوئی فرق نہیں ہو گا۔ ان کے مسکرانے میں چہرے پر معصومیت ایک جیسی ہو گی۔جوں جوں بڑے ہوتے ہیں شعور، تربیت اور راہنمائی سےپروان چڑھتا ہے۔ اس وقت جو ہم سب ایک ہی رنگ و نسل سے موجود ہیں ہمارے مزاج، رویے ، افکار وسوچ ایک جیسے نہیں رہے۔ تو اس میں روح کا کیاعمل دخل ہے ۔ ہماری سوچ میں نظریات اور فلسفہء حیات کا بہت عمل دخل ہوتا ہے کیونکہ معاشرت ہمیں گائیڈ کرتی ہے۔

مذہب ہمیں نفس کے متعلق آگاہی دیتا ہے کہ اس سے جنگ کرو کیونکہ یہ ہمارے سسٹم میں بلٹ ان نہیں ہوتا۔ بلکہ اسے ہم ڈاؤن لوڈ کرتے ہیں اپنے ارد گرد سے جس کے نتیجے میں ہمارے اندر وائرس بھی داخل ہو جاتے ہیں۔ دین بنیادی طور پر ہمارےوجود میں اینٹی وائرس کا کردار ادا کرتا ہے جو کسی بھی غیر متعلقہ خیال اور فکر  کواندر گھس کر بیٹھنے کی اجازت نہیں دیتا۔

روح کو سمجھنے کے لئے ہمیں سب سے پہلے اپنے نظام کو سمجھنا پڑے گا جو ہمیں درست سمت میں سفر کرنے کا پابند بناتا ہے۔چھوٹی سی مثال ہے کہ ہمارے گھروں اور کھیتوں میں سبزی پھل پھول اگائے جاتے ہیں اور کھیت ، کیاریوں میں گھاس پھونس تلف کی جاتی ہے جڑی بوٹیاں ختم کی جاتی ہیں۔ خالص روح پانے کے لئے سب سے پہلے اپنے وجود کو  خیال کی ان جنگلی  جڑی بوٹیوں سے محفوظ کرنا پڑے گا۔خیالات کی پنیری بار بار اگنے کی اہلیت رکھتی ہے کیونکہ اس کی جڑیں بہت اوپر یعنی سوچ تک محدود ہوتی ہیں اور چھوٹی چھوٹی جڑ کرتنآور ہو جاتی ہیں۔ 


تحریر: محمودالحق

Friday, November 1, 2019

جوہر افشانی عطائے رب العزت (کائنات کے سربستہ راز)

0 comments
میرا عشق فطرت کا حسن ہے جو مجھے تلاش کی راہ پر گامزن کرتا ہے۔نظام قدرت آکائی سے اجتماعی تک مکمل اور جامع منصوبہ بندی کی ایک ایسی شاہکار تخلیق ہے کہ جس میں زرہ برابر بھی فرق نہیں ہے۔ 4300 سال قبل ایک کچھوے کے خول پر بنے ڈاٹس کی ترتیب نے دنیا پر اپنے سحر کا جادو آج تک برقرار رکھا ہے اور اس ترتیب و تشکیل نے مجھے کیا دیکھایا ۔ خالق نے تخلیق سے مجھے کیا سمجھایا ۔ آج اسے ایسی صورت میں سامنے لا رہا ہوں جو دنیا بھر  کے ریاضی دانوں کے لئے ایک کھلا چیلنج ہے ، ایک ایسے انسان کی طرف سے جو ریاضی، الجبرا اور جیومیٹری کے متعلق کچھ نہیں جانتا۔ صرف اتنا ہی جتنا اللہ تبارک تعالی نے اپنی رضا سے اسے عطا کیا ہے۔
1تا 256اعداد کا ایسا کھیل جو آکائی سےاجتماعی تک مکمل اور جامع منصوبہ بندی کا شاہکار ہے۔اسے سمجھنے کے لئے ریاضی میں ماہر ہونا ضروری نہیں۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ نمبرز کا ایسا جادو آج سے پہلے دنیا میں کسی نے پیش نہیں کیا ہو گا۔
ریاضی کا نام سنتے ہی بعض لوگ سر کھجانے لگتے ہیں اور بدن میں بے چینی دوڑنے لگتی ہے۔ کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ خشک ہونے کے ساتھ ساتھ بورنگ بھی ہوتا ہے۔ لیکن آج میں دعوی سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر میری اس تحریر کو عقل کے ترازو پہ تولنے کی بجائے دل سے پڑھیں گے تو کائنات کے سربستہ راز کے نام سے جس سلسلہ کا آغاز میں نے ایک خیال کے ذہن میں عود کر آنے سے کیا تھا   اس بات کو سمجھنا نہایت آسان ہو جاتا ہے کہ کیسےقانون فطرت اپنی کھوج میں جستجو کرنے والوں کے لئے راستہ بناتا چلا جاتا ہے۔
پہلی تصویر میں 16.16 خانوں پر مشتمل ایک باکس ہے۔ 16 اعداد کو جس رخ سے بھی جمع کریں ان کا حاصل ایک جیسا 2056 آتا ہے۔ انہیں 16Rows، 16 Columns اور 2Diagonals میں دیکھا جا سکتا ہے۔

انہی 256 نمبرز پر مشتمل باکس کو برابر 4 حصوں 8x8 کے خانوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ 4 باکس میں 8,8 اعداد کو جس رخ پر بھی جمع کریں ان کا ٹوٹل 1028 ہی آتا ہے۔ 8,8 کے ہر باکس میں Rows  ، Columns  اور  Diagonals میں ایک ہی حاصل 1028 آتا ہے۔
اب ہم مزید تقسیم کرتے ہوئے 4 Boxes کو 16 Boxes میں ڈھال دیں گے۔ اس بات کو ذہن نشین رکھیے گا کہ نمبرز کی ترتیب کسی بھی مرحلے میں تبدیل نہیں ہوتی۔ نمبرز اپنی جگہ پر رہتے ہوئے اپنے مکمل اور جامع ہونے کا ثبوت فراہم کریں گے۔
وہی 256 نمبرز 16 حصوں میں 4x4 کے خانوں میں تقسیم کر دیئے گئے ہیں۔ان 16 باکس میں 4,4 نمبرز Rows, Columns اور Diagonals میں 514 کا ٹوٹل رکھتے ہیں۔
اگر تھکاوٹ محسوس ہو تو  کچھ دیر آرام کر لیں کیونکہ ہندسوں کا جادو ابھی جاری ہے۔عقل دنگ کرنے والے حقائق ابھی باقی ہیں۔
4x4 کے 16 باکس کو مزید 2x2 کے 64 باکس میں ڈھال دیا گیا ہے۔ہر باکس میں 4 نمبرز کا ٹوٹل 514 آتا ہے اور 2,2 کراس نمبرز بالترتیب 249 اور 265 کا ٹوٹل رکھتے ہیں۔یوں 249اور 265 نمبرز ہر باکس میں دیکھے جا سکتے ہیں جو کہ 64، 64 کی تعداد میں اس میں موجود ہیں۔
بات ابھی یہاں ختم نہیں ہوتی۔ 1 تا 256 نمبرز ہر  Row میں ایک اور شکل میں بھی موجود ہیں۔ نیچے دی گئی تصویر میں نمبرز کے جمع اور تفریق سے ایک نئی شکل دیکھائی جائے گی۔
4,4 کے ہر باکس میں پہلے اور چوتھے نمبر کو جمع کرنے سے 257 کا ٹوٹل حاصل ہوتا ہے۔اسی طرح دوسرے اور تیسرے نمبر کو جمع کریں تو وہ بھی 257 کا ٹوٹل رکھتے ہیں۔اس طرح 16Rows میں  اوپر بتائی گئی ترتیب کے مطابق دو نمبرز مل کر 257 کا ٹوٹل رکھتے ہیں۔جن کی کل تعداد 128 بنتی ہے۔
ابھی تک تو اس میں جمع کا طریقہ ہی اختیار کیا گیا ہے۔ اب میں آپ کے سامنے نمبرز کو منفی کرنے سے حاصل ٹوٹل دکھاؤں گا۔ جو ایک توازن میں نظر آئیں گے۔
4x4 کے اس باکس میں پہلی Row میں پہلے اور دوسرے نمبرز کو ایک دوسرے سے منفی کرنے پر 136 کا ٹوٹل حاصل ہوتا ہے۔اسی طرح تیسرے اور چوتھے نمبرز کو ایک دوسرے سے منفی کرنے پر بھی 136 کا ٹوٹل حاصل ہوتا ہے۔
اگر اسی ترتیب سے ہر دو نمبرز کو ایک دوسرے سے منفی کرتے جائیں تو ایک Row میں منفی کے عمل سے 136 کا ٹوٹل حاصل ہوتا ہے ، تو دوسری Row میں 120 کا اور اس طرح 16 Rows میں سے 8 Rows میں منفی کا ٹوٹل 136 اور 8 Rows میں 120 آتا ہے۔
یہاں تک تو نمبرز ایک دوسرے کے قریب رہتے ہوئے ایک جیسا ٹوٹل دیتے ہیں۔اب انہی نمبرز کو گرافکس میں مختلف رنگوں کی مدد سے ایک مختلف شکل میں ایک جیسا ٹوٹل رکھتے ہوئے دیکھایا گیا ہے۔
نیچے دی گئی تصویر میں 8,8 نمبرز کے 32 گروپس تشکیل دیئے گئے ہیں جو چار رنگوں میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ تمام 32 گروپس کے 8 نمبرز کا ٹوٹل ایک جیسا 1028 ہے۔
نیچے دی گئی تصاویرمیں رنگوں کے امتزاج سے ایک مختلف صورت دیکھی جا سکتی ہے۔ جس میں 4,4 نمبرز 514 کا ٹوٹل رکھتے ہیں ۔ 8,8 نمبرز 1028 کا ٹوٹل اور 16 نمبرز 2056 کے ٹوٹل کے ساتھ ایک خوبصورت گرافکس میں ڈھلے ہوئے نظر آتے ہیں۔


محمودالحق

Wednesday, November 28, 2018

کائنات کے سربستہ راز _3

0 comments
 پچھلی تحریر  میں  Math Magic Square  کے بارے میں اعداد کی ترتیب اور ان سے بنائے گئے Graphs کو میں نے تصویری شکل میں پیش کیا ، اب ہم اس  Math magic  کی بنیادی جزئیات سے حاصل کئے گئے نتائج پر روشنی ڈالیں گے۔
آئیے سب سے پہلے ہم  Math magic   کی ترتیب اور اس کی تشکیل میں اختیار کئے گئے فارمولہ پر روشنی ڈالتے ہیں۔



زیر نظر تصویر کو بغور دیکھنے پر معلوم ہوتا ہے کہ 1  تا 9 عددایسے تشکیل پائے ہیں کہ چاروں اطراف میں ان کا حاصل 15 ہے۔  جب کہ تمام اعداد کا ٹوٹل 45 ہے۔ پہلا نکتہ جو غور طلب ہے کہ اس میں 5  کا ہندسہ ایسا ہے جو ہر ٹوٹل میں شامل ہے اور  چار اعداد  6,7,8,9 اس سے بڑے ہیں اور چار ہی اعداد  4,3,2,1 اس سے چھوٹے۔  دوسرے لفظوں میں  5  کا ہندسہ بنیادی طور پر ان تمام اعداد کا Center  ہے۔اس کے اطراف میں جو ہندسے موجود ہیں ان میں مرکز سے بڑے نمبر مرکز سے چھوٹے نمبر سےمل کر   بنتے ہیں۔ اور  5  کے اطراف میں ہر دو اعداد کا اوسط  5  نکلتا ہے۔
9+1=10 _  8+2=10 _7+3=10_ 6+4=10
اس پورے Magic Square  میں ہر  عدد کی  اوسط ویلیو 5  بنتی ہےجوکہ Center کے برابر ہے۔
چونکہ میں نے سب 7x 7 Graphs  کے  Math magic square  میں بنائے ہیں، اس لئے انہی Numbers  کو لے کر ہم آگے بڑھتے ہیں۔اس Magic square میں  1 تا 49  نمبرز ہیں ، جن کا Central نمبر 25 ہے۔اس میں تین Squares  موجود ہیں۔ پہلے Square  میں 8 اعداد ہیں ،دوسرے Square  میں 16  اور تیسرے میں 24۔ 


Central Box  کا پہلا بیرونی سرکل 8 Boxes پر مشتمل ہے، جن میں اعداد کا ٹوٹل 200 ہے۔ 200 کو 8 Boxes  میں تقسیم کیا جائے تو ہر ایک Box  کی ویلیو 25  آتی ہے۔
اسی طرح دوسرے بیرونی Circle کے 16 Boxes کے اعداد  کا ٹوٹل 400 اور تیسرے بیرونی Circle کے 24 Boxes  کے اعداد  کا ٹوٹل 600 ہے۔اگرہر Circle کے ٹوٹل نمبرز کو ان کے Boxes  میں تقسیم کیا جائے توہر Box  کی ویلیو 25  ہو گی۔
ہم اوپر بیان کئے گئے اعداد کو مزید مختصر کریں گے۔  اگر 25  کو ایک 1 تسلیم کر لیا جائے تو تمام Squares  میں ہر Box  کی Average Ratio  بھی 1 ہی ہے۔اس کے لئے ہم مرکزی نمبر 25 کے ساتھ ہر  Box   میں موجود نمبر کو تقسیم کر کے اس کی Ratio  حاصل کریں گے، جو نیچے دی گئی تصویر میں دکھائے گئے نمبرز جیسی ہو گی۔ 
اس کا مطلب یہ ہوا کہ مرکز سمیت ہر Box کی اوسطا ویلیو 1  ہے۔
اب اس Math magic square  پر غور کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ Center  کیvalue  1  ہے اور اس کے اطراف میں دو اعداد کی Value  بھی  1 , 1  ہی ہے جو مختلف Ratio  سے 2  بنتے ہیں۔ بظاہر دیکھنے میں چاروں اطراف سے ایک ہی ٹوٹل حاصل ہوتا ہے مگر غور کرنے پر دکھائی دیتا ہے کہ Center  کے گرد  گردش  کا ایک بیلنس موجود ہے۔مرکز سے ایک طرف بڑی value  موجود ہے تو دوسری طرف ایک کم value   مرکز سے منسلک موجود ہے جو کہ دو یکجا ہو کر مرکز سے دوگنی ہے ۔ تمام اعداد مرکز کے گرد Balance force  کا نمونہ پیش کرتے ہیں۔
زیر نظر تصویر  میں جو بلیک دائرے دکھائے گئے ہیں انہیں ان کی Actual value  کے مطابق بنایا گیا ہے تاکہ Motion , Rotation  اور Balance  کے فارمولہ کو سمجھنے میں آسانی ہو۔ مرکز سے منسلک ہر دو دائرے مل کر دو گنا سائز میں ہیں لیکن انفرادی طور پر  Different Ratio میں مرکز کے سائز کے برابر ہوں گے۔


بنیادی طور پر یہ ایک  Motion, Rotation and Balance کا فارمولہ ہے۔ جس میں توازن برقرار ہے اور مرکز سے جڑے ہیں۔ جہاں مرکز بہت مضبوط دکھائی دیتا ہے۔ کیونکہ کوئی بھی عدد مرکز کو چھوئے بغیر دوسری طرف کے عدد سے مل کر مرکز کے برابر ویلیو  اختیار نہیں کر سکتا۔ اگر اسی طرح ہم بڑے Magic square  میں زیادہ تعداد میں Circles  بنائیں تو ہر Circle  میں اوسط 1:2 ہی رہے گی۔  اس میں کہیں بھی کسی Circle  میں دو اعداد کی value  انفرادی طور پر مرکز کے برابر ہوتی ہے، لیکن ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے۔ ہر عدد مرکز کو چھوتے ہوئے صرف اپنے ہی پارٹنر سے مل کر  2  کی اوسط پوری کر سکتا ہے۔ اعداد کا ایک Pair کسی دوسرے سےMatch   نہیں کر سکتا۔  
عام طور پر حساب کتاب کے لئے اعداد کی جمع تفریق کے لئے خانے استعمال کئے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان میجک سکوئر میں بھی خانوں کا ہی استعمال کیا گیا۔ لیکن درحقیقت کچھوے کی پشت پر جو Math magic Dots  موجود تھے انہیں square  میں ڈھال کرVertically , Horizantally, Diagonally ایک جیسے ٹوٹل کے نتائج حاصل کئے گئے مگر میری تحقیق کے مطابق دراصل وہ Math magic square  نہیں بلکہ Circle  ہے۔ کیونکہ اس  Math magic  سے حاصل نتائج صرف اعداد کی جمع تفریق نہیں بتاتے بلکہ اس کے اندر Rotation, Motion , Balance کی ایک قوت کارفرما ہے جو اسے اپنے  Orbit میں کنٹرول کرتی دکھائی دیتی ہےاور یہ  صرف نمبرز کے جمع کا فارمولہ نہیں ہے بلکہ اس کے اندر مختلف ایکشن ہیں۔ وہ کیا ہیں اور کیسے Act  کرتے ہیں۔ اس کے بارے میں تفصیل کسی اگلی تحریر میں قلمبند کریں گے۔

تحریر و تحقیق : محمودالحق

Sunday, November 25, 2018

کائنات کے سربستہ راز - 2

3 comments
چین کے بادشاہ نے   2300  قبل مسیح دریا سے باہر نکلتے کچھوے کی پشت پر مختلف ڈاٹ کی ایسی ترکیب   دیکھی جو اپنی نوعیت میں بہت خاص تھی۔ چاروں اطراف سے ان ڈاٹس کی تعداد 15 تھی۔ جسے لو شو میتھ میجک کا نام دیا گیا۔

پچھلی کئی صدیوں سے ریاضی دان اس پر بہت کچھ لکھتے آ رہے ہیں۔ لیکن  آج میرا موضوع بہت خاص ہے کیونکہ میری سوچ نے 4300 سال قبل کچھوے کی پشت پر لکھے اعداد کے فارمولہ کو ان فولڈ کیا ہے۔ اس کی حقیقت میری نظروں کے سامنے ایسے کھل کر آئی ہے کہ آج میں حیرانگی میں مبتلا ہوں۔ 
آج سے دس سال پہلے جب میں نے لفظوں کے ملاپ سے در دستک لکھی تو شاعری کے ترازو میں میری شاعری بے وزن ہو گئی۔ جسے میں نے سنبھال کر سٹور میں رکھ دیا۔ کیونکہ میں انسانوں کے بنائے باٹ سے اپنے لفظوں کو برابر نہ کر  سکا۔ نیچے لنک میں ایک ایسی ہی مثال  ہے۔ 
آج میں اپنے مالک کائنات رب العالمین  کی رحمت و فضل پر سجدہ شکر بجا لاتا ہوں کہ اس نے مجھے وزن اور بیلنس کے اس مقام تک رسائی عطا فرمائی جو کسی انسان کے خودساختہ ہم وزن ردیف قافیے کے ترازو میں تولنے کے لئے نہیں رکھی جا سکتی۔
میں اپنے خیال میں آئےایک فارمولہ کو میتھ میجک جانتے ہوئے اعداد کو ٹٹولنے میں سر کھجانے کی نعمت سے بھی محروم ہو گیا تو رفتہ رفتہ مجھ پر یہ آشکار ہونا شروع ہوا کہ اس کے اندر تو الگ دنیا آباد ہے۔ جہاں اعداد آپس میں گتھم گتھا نہیں ہوتے بلکہ انتہائی رازداری سے اپنے اپنے راستوں پر  نکل جاتے ہیں ۔ 
دیکھنے میں ایسے ،جیسے دو چھوٹی بچیاں ایکدوسرے کے دائیں ہاتھ میں دایاں ہاتھ اور بائیں ہاتھ میں بایاں ہاتھ پکڑے  ہاتھوں کے گرد گھومتی ہیں۔میں نے  انہیں مختلف زاویوں سے بنایا۔ فی الوقت چند ایک تصاویر دکھانے پر اکتفا کروں گا ۔ 
کیونکہ یہ بہت زیادہ تفصیل کی طلبگار ہے۔ جسے میں نے ترتیب دینا شروع کر دیا ہے۔

 7 x 7 Math magic circle


7 x 7 Math magic circle




9 x 9 Math magic circle



9 x 9 Math magic circle




یہاں سوال یہ پیدا نہیں ہوتا کہ میں نے کیا ریسرچ کیا  اور میتھ میجک سکوئر سے کیا نتیجہ برآمد ہوا بلکہ اہم یہ ہے کہ کہاں جا پہنچا۔ میں انجانےمیں اپنی تحقیق میں  سوچ کے کسی رخ پر چلتا چلتا جب بہت آگے چلا گیا تو فارمولہ کے خیال کے میرے ذہن میں آنے جیسے ایک نئے خیال نے مجھے صدیوں پیچھے دھکیل دیا۔  جب میں نے اپنے حاصل کئے گئے نتائج کو سامنے رکھتے ہوئے لو شو، کچھوے کی پشت پر بنے میتھ میجک کو اس پر اپلائی کیا تو آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ میں نے دریافت کی  جوایک بلند عمارت کھڑی کی ، کچھوے کی پشت پر بنے ڈاٹس کے سامنے ڈھیر ہو گئی۔ 
جو کچھ میں نے بنایا وہ تو کچھوے کی پشت پر بنے ڈاٹس کا عکس نکلا۔ جو کچھ میں نے دریافت کیا جو گرافکس بنائے وہ سب لوشو ،کچھوے کے فارمولہ کا عکس نکلے۔ نہ ایک ہندسہ اُدھر اور نہ ہی ایک ہندسہ اِدھر۔ بلکہ جسے میں اپنا کارنامہ سمجھ کر  شئیر کرتا رہا تو مجھ پر انکشاف ہوا کہ میں دراصل اپنے کسی فارمولہ پر تحقیق نہیں کر رہا تھا بلکہ 4300 سال قبل کچھوے کی پشت پر بنے  میتھ میجک  ڈاٹس اللہ تبارک تعالی کی رضا سے میرے ذہن میں کھل رہے تھے۔
 میں کوئی ریاضی دان تو ہوں نہیں ، بس ایک معمولی سا انسان ہوں جو اپنے  مرحوم بوڑھے والدین کی دعاؤں کی چھاؤں تلے رحمتوں کی آغوش میں ہوں۔
انشاءاللہ میں اپنی اگلی تحریر جو کہ طویل ہونے کی وجہ سے زیادہ وقت کی متقاضی ہے ، میں خوبصورت گرافک ڈیزائین کی اپنی تحقیق کو قلمبند کروں گا جو کہ صرف کچھوے کی پشت پر بنے خوبصورت ڈاٹس  کے فارمولہ  کا عکس ہے۔
میرا اس میں کوئی کمال نہیں ، یہ صرف اسی کی رضا ہے جو ہم سب کا مالک و مختار ہے، ایک دن اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
آج  ایک بار پھر اپنی ایک حمد دہرانے کو جی چاہتا ہے۔۔۔۔


تیری عنایات ہیں اتنی کہ سجدہء شکر ختم نہ ہو
تیرے راستے میں کانٹے ہوں میرا سفر ختم نہ ہو
پھیلا دوں روشنی کی طرح علم خضر ختم نہ ہو
توبہ کرتا رہوں اتنی میرا عذر ختم نہ ہو
سجدے میں سامنے تیرا گھر ہو یہ منظر ختم نہ ہو
تیری رحمتوں کی ہو بارش میرا فقر ختم نہ ہو
مجھ ادنیٰ کو تیرے انعام کا فخر ختم نہ ہو
جہاں جہاں تیرا کلام ہو میرا گزر ختم نہ ہو
تیری منزل تک ہر راستے کی ٹھوکر ختم نہ ہو
آزمائشوں کے پہاڑ ہوں میرا صبر ختم نہ ہو
زندگی بھلے رک جائے میرا جذر ختم نہ ہو
وجود چاہے مٹ جائے میری نظر ختم نہ ہو
تیری اطاعت میں کہیں کمی نہ ہو میرا ڈر ختم نہ ہو
بادباں کو چاہے کھینچ لے مگر لہر ختم نہ ہو
خواہشیں بھلا مجھے چھوڑ دیں تیرا ثمر ختم نہ ہو
تیری عبادت میں اتنا جیئوں میری عمر ختم نہ ہو
بھول جاؤں کہ میں کون ہوں مگر تیرا ذکر ختم نہ ہو
جاگوں جب غفلتِ شب سے میرا فجر ختم نہ ہو
تیری محبت کا جرم وار ہوں میرا حشر ختم نہ ہو
تیری حکمت سے شفایاب ہوں مگر اثر ختم نہ ہو
میرے عمل مجھ سے شرمندہ ہوں مگر فکر ختم نہ ہو
منزلیں چاہے سب گزر جائیں مگر امر ختم نہ ہو
سپیدی و سیاہی رہے نہ رہے مگر نشر ختم نہ ہو
دن چاہے رات میں چھپ جائے مگر ازہر ختم نہ ہو

طلبگار دعا: محمودالحق

Sunday, October 7, 2018

کائنات کے سر بستہ راز

5 comments
اشرف المخلوقات کے مقام برتری نے انسان کو ہمیشہ آسمانوں پر پھیلے جگمگاتے روشن ستاروں کی حقیقت جاننے کی جستجو میں اُلجھائے رکھا۔ ہزار ہا سال سے یورپ و ایشیا کے علم ریاضیات  اور علم نجوم  کے اساتذہ اور ماہرین کھوج لگانے کی کوشش میں رہے لیکن تاحال زیادہ تر مفروضے ہیں جو خیال ہیں یا شکوک شبہات۔ سولہویں صدی میں Agrippa اور Durer ایسے انسان گزرے ہیں جن کے دیئے گئے فارمولے math magic square کہلاتے ہیں۔جنہوں نے اپنے فارمولہ کے علم اعداد کو مختلف سیاروں ستاروں سے منسوب کیا ۔ مختلف انداز میں آج بھی وہ موضوع بحث ہیں۔
Math magic square کے method کو ریاضی دانوں نے مختلف طریقوں کو استعمال کرتے ہوئےانہیں  بنانے کا راز پا لیا ہے۔ایم۔ اے تاریخ ہونے کے ناطے مجھے پرانے لوگوں کی زندگی جاننے کی ایک عادت پڑ چکی ہے۔سائنسی معلومات بس واجبی سی ہیں۔اکثر سر کے اوپر سے جنگی جہاز کی رفتار سے گزر جاتی ہیں۔میٹرک سائنس فسٹ ڈویژن میں پاس کرنے کا بس اتنا فائدہ ہے کہ نیٹ پر عام فہم سائنسی معلومات سے آگاہی پا لیتا ہوں۔ رٹے  کی عادت جب سے چھوٹی جاننے کی جستجو زیادہ بڑھ چکی ہے۔
فطرت کے حسن میں کھو جاتا ہوں۔رنگوں کا خوبصورت امتزاج پرندوں کے پروں اور پھلوں کے رنگوں میں دیکھیں تو بے ساختہ مونہہ سے سبحان اللہ نکلتا ہے۔جاندار اور بے جان میں تشکیل کی ایسی ترتیب ہے کہ ترکیب سمجھنے میں دنیا بھر کی لیبارٹریاں اور لائبریریاں بہت معمولی دکھائی دیتی ہیں۔
ایک یو ٹیوب ویڈیومیں کسی سیمینار سے ریاضی کا ایک پروفیسر Agrippa  اور Durer کے ریاضی کی ان کی تراکیب کے فارمولے پر تقابلی جائزہ پیش کر رہا تھا، حیران کن طور پر  square  میں موجود اعداد کی ترکیب horizontally, vertically, diagonally ایک جیسے ٹوٹل میں تھی۔


کاغذ پنسل لے کر میں بھی اعداد کو ٹٹولنے لگا کہ کیسے ایک فارمولہ اعداد کی تشکیل ایسے کر دیتا ہے کہ ان کا حاصل چاروں اطراف سے ایک جیسا ہی رہتا ہے۔ میری محنت لے آئی اور  ان دونوں کے Magic Square کے فارمولے سمجھنے میں کوئی زیادہ وقت نہیں لگا پروفیسر کے کلیہ کے مطابق بآسانی حل مل گیا۔

جس طرح میرے ذہن سےالفاظ باہر نکلنے کے لئے مچلتے ہیں عین اسی لمحے اسی طرح ایک فارمولہ میرے ذہن میں کھلبلی مچانے لگا۔ بے اعتناعی سے 3x3 کے square پر اسے آزمانے کا ارادہ کیا مگر یہ کیا میرا فارمولہ تو ان بڑے ریاضی دانوں کی طرح فٹ بیٹھ گیا۔ ہندسوں نے اپنا جادو دکھا دیا۔ 
اسے اتفاق سمجھتے ہوئے ایک کے بعد اگلے بڑے اعداد پر آزمانے لگا ۔ اللہ تبارک تعالی کی عطا کردہ عنایت پر دم بخود رہ گیا۔ کیونکہ میرے جیسے آرٹس پڑھنے والے کے لئے ایسا فارمولہ تشکیل پانا کسی معجزہ سے کم نہیں تھا۔ 

یہ فارمولہ طاق ہندسوں کے Squares میں unlimited ہے۔ نظام کائنات  شائد کسی ایسے ہی فارمولے کی بنیاد پر Big 
Bang کی تشکیل کا سبب ہو۔ واللہ علم بالصواب


میری حیرانگی اپنی انتہا تک جا پہنچی جب میرا فارمولہ 21x21 کے square 441 اعداد کے ساتھ اپنے چاروں اطراف میں 408408 اعداد کی ٹوٹل حاصل کر گیا۔ مجھے اس کے اندر  441 کے اعداد انتہائی کمزور بے بس دکھائی دئیے۔

میرا فارمولہ Agrippa  اور Durer سے قطعی مختلف ہے البتہ Durer کے Square کی طرح ایک کا ہندسہ Top Center  میں رہتا ہے۔ 
علم فلکیات اور علم نجوم کی حقیقت نظروں کے سامنے تھی۔میرے ذہن میں ایک فارمولہ آیا لاکھوں اعداد خود بخود ایک ایسی ترتیب میں چلے گئے کہ  چاروں اطراف سے ایک برابر طاقت نے اسے جکڑ لیا۔ایک فارمولہ میں اتنی طاقت ہے کہ کروڑوں اعداد ایسے تشکیل پا جائیں کہ اعداد کی ان سے کئی گنا بڑی طاقت ان کے اطراف میں ایسی گرفت پیدا کر لے کہ وہ اپنہ جگہ سے ہل نہ سکیں۔
کائنات میں اربوں  کھربوں سیارے ستارے اور گلیکسیز اپنے اپنے مدار میں گردش کر رہی ہیں۔ ایک مخفی طاقت کے زیر اثر اپنی حدود کے اندر کہیں سیارے بہت بڑے تو کہیں بہت چھوٹے ان Squares کی مانند کائنات سے باہر چاروں اطراف سے کئی گنا بڑی ایک مجموعی طاقت کے کنٹرول میں رہتے ہوئے۔
اس وقت مجھےقرآن کی آیات یاد آ گئیں۔ 
 سورۃ الرحمن کی آیت ۳۳ میں اللہ تبارک تعالی جن و انسان سےفرماتاہے۔
ترجمہ:اے گروہ جنات و انسان! اگر تم میں آسمانوں اور زمین میں کے کناروں سے باہر نکل جانے کی طاقت ہے تو نکل بھاگو! بغیر غلبہ اور طاقت کے تم نہیں نکل سکتے ۔
ترجمہ: اے گروہِ جن و اِنس! اگر تم اِس بات پر قدرت رکھتے ہو کہ آسمانوں اور زمین کے کناروں سے باہر نکل سکو ( اور تسخیرِ کائنات کرو ) تو تم نکل جاؤ ، تم جس ( کرّۂ سماوی کے ) مقام پر بھی نکل کر جاؤ گے وہاں بھی اسی کی سلطنت ہوگی۔
سورۃ النحل کی آیت ۴۰ میں اللہ تبارک تعالی کا فرمان ہے۔
ترجمہ: ہم جب کسی چیز کا ارادہ کرتے ہیں تو صرف ہمارا یہ کہہ دینا ہوتا ہے کہ ہو جا ، پس وہ ہو جاتی ہے ۔

تحریر: محمودالحق

Thursday, April 9, 2015

حسنِ تخلیق

0 comments

وقت کی سوئیاں ساکت ہو جائیں تو کیا زندگی رک جائے گی،سانسیں تھم جائیں گی، خواب بکھر جائیں گے،خواہشیں مٹ جائیں گی،آرزوئیں دم توڑ دیں گی یا رشتے ناطے ٹوٹ جائیں گے۔
نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ کچھ بھی تو نہیں بدلے گا۔آنکھیں اندھیرا چھا جانے پرکالی چادر اوڑھ لیتی ہیں مگر ہاتھ ٹٹول ٹٹول کر اپنے لئے راستہ تلاش کر لیتے ہیں۔ چاہے پاؤں کتنی ہی ٹھوکروں سے سنبھل پائیں۔
زندگی ہاتھ پاؤں کی مانند لگے بندھے اختیار تک محدود نہیں ہوتی۔یہ تو تخیل پرواز رکھتی ہے۔پرندوں کی طرح فضاؤں میں اُڑان بھر کر ایک منزل سے کہیں دور دوسری منزل تک سفر طے کر لیتی ہے۔آسمان پر چمکتے تارے جو صرف گنتی میں رہتے تھے وہ اپنی ساخت ہیت اور گردش مدار کا اتہ پتہ دینے لگے ہیں۔
عقلِ انسان نے آنکھ کو دو انتہاؤں کے وہ مناظر دکھا دئیے کہ عقل پر ماتم کرتے کرتے تخلیق یزداں تک جا پہنچے۔ خوردبین نے انہیں امیبا اور ہبل نے گلیکسیوں کی جگمگاتی دنیا کے در وا کر دیئے۔ قانون قدرت کے طلسماتی کرشماتی کائنات کے بھید کھول دیئے۔ جس کی وسعتوں میں عقل انسان دھنستی چلی جا رہی ہے۔خاص طور پر وہ نشانیاں جو عقل والوں کے لئے ہیں۔انسان عجائبات کی دنیا کا باسی ہے۔ جس میں عجوبے سجا سجا کر رکھے جاتے ہیں۔نباتات کی دنیا میں پیدا ہونے والا ہر بیج تناور درخت نہیں بنتا۔ وقت کی دھوپ چھاؤں انہیں بانجھ بنا دیتی ہے تو کبھی زمین کو بنجر۔آنکھوں سے پڑھے گئے الفاظ اور کانوں سے سنے گئے فقرےیاد داشت کے الگ الگ فولڈرز میں محفوظ کر لئے جاتے ہیں۔مگر بعض اوقات کچھ  کہی ان کہی کہانیاں  خود سے جنم لے لیتی ہیں۔
دعوؤں سے درماندگی دور ہوتی ہے۔خامیوں سے درستگی کی جانب سفر ہوتا ہے۔مگر درحقیقت حقیقت جاننے کی جستجو  میں بعض اوقات سچ دور ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ ملنا اور پانا تب بیکار ہوتا ہے جب اسے سنبھالا نہ جا سکے۔
بچپن معصومیت سے جانا جاتا ہے، جوانی حسن سے تو بڑھاپا لاغرپن سے۔قید و بند کو صعوبت جانا جاتا ہے،آزادی کو نعمت۔اگر زمین چاند سورج آزادی پالیں تو تصویر کا دوسرا رخ کیا ہو گا۔آنکھ ایک بار جس منظر کو ایک بار موہ لے لبھا لے۔ پھر بند آنکھ میں وہی منظر خواب سہانے بن کر واویلا مچاتے ہیں۔
حرکت کرنے والی ہر شے جاندار و بے جان آگے بڑھنے پر ہی رفتار بڑھا پاتی ہے۔پیچھے ہٹنا  ایک حد تک ہی ممکن ہے کہ جس سے صحیح سمت اختیار کی جا سکے۔بہت زیادہ تنہا رہنے والے اور بہت زیادہ بھیڑ میں پھنسے لوگ ہی خود فراموشی کے سوالات کی بوچھاڑ کا شکار رہتے ہیں۔ کبھی کبھار ٹھنڈے میٹھے چشموں سے چند قطرے سیرابی سے تسکین پا لیتے ہیں۔چشموں سے پھوٹتا میٹھا پانی کئی آبادیوں سے گزر کر مینڈکوں کی آفزائش گاہ اور مگر مچھوں کی کمین گاہ بن جاتا ہے۔پانی کے ریلے تو گزر جاتے ہیں مگر مٹھاس پانے والےچشموں تک رسائی کی کوشش کرتے رہتے ہیں کیونکہ بہتے پانی ہر بستی میں اپنا پتہ چھوڑ جاتے ہیں۔
منہ سے نکلے اور قلم سے لکھے الفاظ اس حقیقت کے آئینہ دار ہوتے ہیں جن سے ان کے میٹھے یا کڑوے پن کے آغاز سفر کی روئیداد بیان ہوتی ہے۔فلسفہ حیات میں طےشدہ ترجیحات پر ڈگری عطا ہوتی ہے جو کبھی نمبروں تو کبھی اے بی سی ڈی سے تولی جاتی ہے۔جو تعبیری لحاظ سے خاکی ہے ابدی اور دائمی نہیں۔
پہناوا ہیرے جواہرات سے مزین ہے تو حسن اداؤں سے۔ یہ سب ایسے ہی ہے جیسے کہ بھوک آنکھ بھر کر دیکھنے سے مٹتی ہو۔جلوے اور دکھاوے کا اختیار تو قدرت کا ہے جو اپنی بڑائی اور طاقت کی سند رکھتا ہے۔ہر تخلیق کا اپنا حسن ہے جو اسے اپنی ذات میں ممتاز رکھتا ہے۔ بھاؤ تاؤ تو دوکاندار اور خریدار کا پتہ دیتے ہیں، بڑائی اور طاقت کا نہیں۔مہنگا سودا بیچ کر دوکاندار ممتاز نہیں ہو سکتا اور نہ ہی مہنگی شے پہن کر خریدار۔

محمودالحق

Wednesday, April 23, 2014

حسنِ خیال

3 comments

تخلیق کائنات کا حسن اُس کی کھوج جستجو اور نا مکمل تحقیق کے باوجود پوری دلکشی اور رعنائیوں کے ساتھ موجزن ہے۔جدید سائنس نیوٹن سے لے کر آئین سٹائن تک تحقیق و مفروضوں کی بنیاد پر اصل حقیقت جاننے سے ابھی اتنے ہی دور ہیں جتنے ایک نظام شمسی دوسری گلیکسی کے نظام شمسی سے فاصلے پر ہے۔ ان دیکھی مخفی طاقتیں نہایت وزنی مادہ وجود کو مخصوص دائرے میں محو گردش رکھتی ہیں۔جانداروں کے افزائش کے مراحل نہایت رازداری سے چھپ کر طے پاتے ہیں۔ جیسے ایک ننھا بیج زیر زمین ایک مخصوص فاصلے پر رہ کر ہی پروان چڑھتا ہے۔جہاں سے اسے حدت و ہوا ، روشنی و پانی موصول ہوتی ہے۔غرض یہ کہ شاخیں ہوں یا اعضائ جڑ کی بدولت ہی حرکت میں رہتے ہیں۔الگ ہوتے ہی سوکھ کر کانٹا ہو جاتے ہیں اور آخر کار اپنا وجود کھو دیتے ہیں۔
انسان تخلیق کائنات کا سب سے خوبصورت جزو ہے۔وگرنہ اتنے بڑے نظام کائنات کے ہوتے ہوئے ایک خودسر اور متکبر تخلیق کی کیا حیثیت۔ بچپن سے بلوغت تک پہنچنے کی ایک مقررہ مدت ہے۔ اس سے پہلے افزائش نسل انسانی بھی ممکن نہیں۔
اندھیرا بے سبب ہوتا ہے، روشنی کا منبع ہوتا ہے۔ کہیں نہ کہیں ایک روشن آلاؤ دہک رہا ہوتا ہے۔ جو فاصلوں کو مقید رکھتا ہے۔اندھیرے قریب آنے والے ہر وجود کو فنا کر دیتے ہیں۔جیسا بلیک ہول کے قریب جانے والے صفحہ ہستی سے مٹ جاتے ہیں۔
اللہ تبارک تعالی کے فرمان حدود و قیود میں رہتے ہوئے حقوق و فرائض کی گردش رفتار کا اہتمام کرتے ہیں۔ایک زرہ سے لے کر ایک جہان تک پابندی اوقات و رفتار کی حدود وقیود میں رہتے ہیں۔مگر انسان اپنی سرشت میں ستاروں پہ کمند ڈالنے کا متمنی رہتا ہے۔لہذا پیغمبروں کے علاوہ مقدس کتابیں بھی رہنمائی کے لئے اُتاری جاتی رہیں۔قرآن کی صورت میں ان سب کو یکجا و مکمل کر دیا گیا۔پھر اس کے بعد کسی نبی خدا کی بھی ضرورت باقی نہیں رہی۔کائنات کو جاننے کا عمل دنیا کے قائم رہنے تک جاری رہے گا۔مگر خالق کائنات کی تلاش اور جاننے کی صورت نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دنیا میں رحمت بن کر آنے سے ختم ہو گئی۔ اب صرف خالق کائنات کو اپنا ماننا اور خود کو اس کے حوالے کر دینا باقی ہے۔ تاکہ اس کی رحمتوں کا ایک جہان گردش ثمرات سے ہمیں منور کر دے۔ جاندار اور بے جان نظام حیات و نظام کائنات کی طرح نظام رحمت سے بنی نوع انسان اپنے نظام وجود کی تکمیل کر پائے۔
دنیاوی خواہشات سے لبریز نفس انسانی وجود میں بلیک ہول کی طرح کام کرتا ہے۔ ہدایت روشنی کی حدود وقیود سے آزادی پانے والے نیک خیال نفس کے اس بلیک ہول میں فنا ہوتے جاتے ہیں۔اپنے وجود کے اندر اس بلیک ہول کو پہچاننا ہر مسلمان کا فرض ہے۔ اور ہدایت کی روشنی ہی اس کا مقدر ہونا چاہیئے۔اپنے اپنے دائرے میں حرکت کرتے ہوئے دوسروں کی حدود کا خیال رکھتے ہوئے دن رات اور گرم سرد کا وقت معین پر انتظار کرنا ، خواہشوں آرزؤں کی عارضی قبولیت سے اندھیروں میں غرق ہونے سے بہتر ہے کہ ہدایت کی روشنی کے گرد اپنے سفر کو جاری رکھا جائے۔جو ایک وقت کے بعد اپنے اختتام کو پہنچے گی ، نہ کہ وقت سے پہلے اپنے انجام کو۔
خالق کائنات رب زوالجلال کو ایسے یاد کیا جائے کہ اس کے احکامات کی پاسداری اور تکمیل جزئیات کے ساتھ مکمل بندگی میں پرو دی جائے۔تو ایسی کئی رحمتیں رضا بن کر ہر مشکل گھڑی میں مدد کو پہنچ جاتی ہیں۔زندگی  ایک تہائی عمر حکم کی بجاآوری کے بعد اس راستے پر گامزن ہو جائے۔جہاں نفس کے بلیک ہول میں غرق ہونے کی بجائے ہدایت کی روشنی روح کو منور کر دے۔ تو سمجھنا کافی ہے کہ اصل راستہ کی پہچان اور آگاہی منزل مقصود کی قربتوں کی ہمراہی ہے۔
تحریر ! محمودالحق