Showing posts with label نثری مضامین،. Show all posts
Showing posts with label نثری مضامین،. Show all posts

Wednesday, December 24, 2014

بنجر زمین فصل نو بہار

0 comments

جو زندگی کے سفر میں تنہا رہتے ہیں ۔ہجوم غافل میں سسکتی آہوںکو آنکھوں سے کھوجتے تو کانوں سے ٹٹولتے ہیں۔بلند و بالا پہاڑوں کے بیچ اندھیری کھائیوں سے گونجنے والی آوازیں قوت سماعت سے ٹکرا کر قوت احساس کا امتحان بن جاتی ہیں۔
زندگی سفر میں آسان ہوتی ہے، آزمائش میں امتحان۔جس میں پورا اترنے کی کوشش میں راستے کی پگڈنڈیوں پر چلتے چلتے خوف کی گانٹھیں ایسی سختی سے لگاتے جاتے ہیں کہ جب کھولنے کا وقت آتا ہے تو دانتوں سے بھی کھل نہیں پاتیں۔یہ ایسی آندھی ہےجو رفتار بڑھنے پر ہر شے تہس نہس کر دیتی ہے۔جو مان کر بیٹھ جاتے ہیں ،جان کر جان سے چلے جاتے ہیں۔پاس آنے سے جو سکون پاتے ہیں، دور جانے سے کھونے کے خوف میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔زندگی انہیں راستہ دکھاتی ہے جو منزل کی تلاش میں بے خود ہو جاتے ہیں، بے خوفی انہیں مقام تلاش سے آگے دھکیل دیتے ہیں۔پھونک پھونک کر قدم اُٹھانے والے قدموں کی چاپ کے احساس سے واپس پلٹنے پر بضد رہتے ہیں۔
اندھیری گلیوں سے گزرتے ہوئے چاندنی راتوں کے انتظار کی سولی پر جو لٹکے رہتے ہیں، وقت گزرنے پر ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں۔یہ محبوب کی گلی نہیں کہ جس میں راستے پھولوں سے سجائے جاتے ہیں۔عاشقوں کے راستے کانٹوں سے لبریز برہنہ پا عشقِ لہو سے سرخ ہوتے ہیں۔یہ سردیوں کی رات نہیں کہ لحاف اوڑھ کر بسر کر لی جائے۔ یہ وہ پیراہن ہے جو کھلے آسمان تلے ٹھٹھرتی راتوں میں پیشانی پر پانی کے قطرہ سے نمودار ہو جائے۔
محبت کوئی پھول نہیں کہ آگے بڑھ جاؤ تو وہ مرجھا جائے۔ یہ تو وہ کانٹے ہیں جو دامن سے اُلجھ کر تار تار کر دیتے ہیں۔آگے بڑھنا جنہیں محال ہے، اظہار کی نہیں انہیں کوئی مجال ہے۔یہ بھیک نہیں جو خیرات پر ختم ہو۔یہ منزل نہیں جو جستجو پر ختم ہو۔یہ دل نہیں جو دھڑکن سے ختم ہو۔یہ اندھیرا نہیں جو روشنی سے ختم ہو۔یہ آس نہیں جو خیال سے ختم ہو۔یہ وجود نہیں جو چاہ سے ختم ہو۔
جو پا گیا وہ راز زندگی جان گیا۔جو کہنے سے رہ گیا وہ پھر ایک طویل سفر پر چلنے کے لئے تیار ہو گیا۔ایک پڑاؤ سے اُٹھ گئے تو سمجھو چل پڑےنئے پڑاؤ کی طرف نئی منزلوں کی طرف۔مسافر گزر جاتے ہیں منزلیں ٹھہری رہتی ہیں۔آگے بڑھ کر جو تھام لےوہی سفر کو روک لیتے ہیں۔ جو خود گزر جاتے ہیں وہ اُلجھ جاتے ہیں۔یہ ایسا امتحان ہے جو دوسرا چانس نہیں دیتا۔جو گزر گیا سو بھول گیا۔یاد صرف وہی رکھا جاتا ہے جسے مکمل تسخیر کر لیا جاتا ہے۔جو مسخر نہ ہو اسے ریاست تخیل سے نکال باہر کیا جاتا ہے۔خط و کتابت میں حال واحوال جانا جاتا ہے۔ کیفیت اظہار میں ہاں نا سے فیصلہ صادر کیا جاتا ہے۔جب کوئی خود کے بس میں نہیں تو کسی اور کے خیال سے حقیقت کیسے ہو گا۔
پرانے کپڑے رفو گری کے کمال ہنر مندی کے محتاج ہوتے ہیں ۔ نئے تعلق آداب تخیل سے بے پرواہ ہوتے ہیں۔دو راستے نقطہ آغاز سے سمت مخالف بڑھنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔آگے بڑھنے والے پلٹ سکتے ہیں مگر پلٹ کر بڑھنا جان جوکھوں کا کام ہے۔کیفیت اظہار کی مرہون منت ہے۔احساس محرومی اور تشکر ارمان میں چشم تر  سے نہ گزرے تو آرزوئے انجان سے نہ لپٹے۔
کھلی کتاب میں بند سوال صفحات در صفحات آگے نہیں بڑھتے۔بعض اوقات ایک لفظ سے ہی مفہوم کی وضاحت کر دیتے ہیں۔اظہار کیفیت کا حال بیان کرتا ہے۔خاموشی پردہ پوشی کرتی ہے۔بتانے والے سنا کر گزر جاتے ہیں۔سننے والے سمجھ کر ٹھہر جاتے ہیں۔حالانکہ مسافتیں ہمسفر چاہتی ہیں نہ کہ ہمراز۔ایک ساتھ چلنے والے ، ایک ٹھہرنے والے۔نا سمجھی میں چلنا ،سمجھ کر ٹھہرنے سے بدرجہا بہتر ہےکہ آگے بڑھنا ہی زندگی کا مقصد ہے۔پھولوں کی رنگت اور مہک سے بے خود ہو کررکنے والے ایک نئی بہار کے انتظار تک جامد و ساکت ہو جاتے ہیں۔زندگی ایک ایسا تسلسل ہے جو مسلسل ہے مگر متصل نہیں۔ہجر ہے فکر ہے مگر قدر کے بغیر صرف جبر ہے۔جنوں ہے تو سکون ہے۔زندگی چار دیواری کے اندر پروان چڑھتی ہےتو محبت سوچ وخیال کے بند کواڑ سے باہر جھانکتی ہے۔بند کواڑ کھل جائے تو پرواز کر جاتی ہے وگرنہ وہیں دم توڑ دیتی ہے۔
ان گنت بال جسم کو احساس دلائے بنا بڑھتے رہتے ہیں۔جب ان میں سے کسی ایک کو الگ کرنے کی کوشش کی جائے تو جسم ایک بال کی جدائی کو پورے وجود میں محسوس کرتا ہے۔محبت ایسے ہی جسم و جاں پر نچھاور ہو کر پروان چڑھتی ہےکسی احساس کے بغیر، مگر الگ ہونے کی کوشش پر جسم قلب کے زیر عتاب آ جاتا ہے۔

تحریر! محمودالحق



Sunday, May 11, 2014

غلافِ عشق

5 comments

 عشق و محبت کا موضوع  توبہت پرانا ہے۔معاشرہ ہمیشہ اسے خلافِ عشق گردانتا رہا۔حالانکہ عاشق و محبوب اس سے خ خوشی محسوس کرتے تھے۔ مگر حالات  نے انہیں  غ غم میں مبتلا کیا۔ اسی لئے تو خ لاف کو غ لاف سے مربوط کر دیا۔
یہاں خ غ کا قائدہ قانون بتانا مقصود نہیں ہے۔ جن کی حفاظت کی جانی ہوتی ہے انہیں محفوظ کیا جاتا ہے۔  جو خوشبو پھیلاتے ہیں وہ کچھ چھپاتے نہیں ہیں۔ قوس و قزح کے رنگوں کی طرح کھلے نظر آتے ہیں۔ اپنی ذات کو وقت آنے پر فنا کر دیتے ہیں۔ نئے آنے والوں کو سپیس دیتے ہیں۔
 مگر جو ان کی محبت کو نچوڑ لیتے ہیں۔وہ انہیں غلافوں میں بھر بھر رکھتے ہیں۔ ایسی چاشنی ، لذت اور مٹھاس روئے زمین پر اپنا ثانی نہیں رکھتی۔ صحت بخش ، توانائی  بھی ہوتی ہے بیماریوں سے نجات کا  ذریعہ بھی۔ انگریز انہیں ہنی اور ہم شہد کہتے ہیں۔ ہنی کا لفظ اس لئے استعمال کیا  کیونکہ اس کی افادیت شہد بتانے سے قدرے زیادہ ہے۔حکیم ان سے علاج بھی تجویز کرتے ہیں۔جب اس کا استعمال بڑھا تو یار لوگ ملاوٹ کرنے وہاں بھی پہنچ گئے ۔ شکر کے شربت اور لکڑی کے گھروندوں میں غلافِ عشق بنا ڈالے۔جن کی نہ ہی تاثیر ہے نہ ذائقہ۔فائدہ تو کیا ہونا تھا چاہنے  والوں کا اعتماد ہی اُٹھ گیا۔شکر سے کچھ زیادہ مٹھاس کے علاوہ افادیت ہی کھو بیٹھا۔جب عشق و محبت میں سچائی کی خوشبو ڈھونڈنے والے مصنوعی تاک دان میں عشق کو غلاف میں لپٹا پائیں گےتو ان میں جستجو چاہت قربانی کے  جزبات اہمیت و قدر کے ساتھ ساتھ پاکیزگی اور شفافیت بھی  کھو دیں گے۔
 عشق قربانی مانگتا ہے یہاں تک کہ جان بھی عزیز نہ رہے۔اگر عاشق محبوب کی قربت کے خیال سے نفاست نصف ایمان سے بھی بڑے درجہ پر لے جائے تو اسے عشق کو غلاف میں لپیٹ کر رکھنا ہو گا۔موسمی اثرات ہوائے گرد آلود سے بچانے کے لئے نہیں بلکہ عشق حقیقی کو  مجازی بننے سے ۔ جن کی منزل ایک ہوتی ہے وہ مسافر قربت کی پگڈنڈیوں سے دوسروں کو آگے بڑھنے میں مددگار ہوتے ہیں۔ تحریر ابھی تک واضح خدو خال کے ساتھ دل اور دلدار کے بغیر  غلافِ عشق کے زمرے   میں نہیں  آ ئی۔
عاشق ذہن پر دباؤ کا شکار ہوں گے اور محبوب قلب کی تیز دھڑکن کا۔  
مقدس کتاب کی طرح یہ غلاف بھی مقدس عشق کا ہے۔  ایک سچےواقعہ سے غلافِ عشق کو ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔
3 فروری 2012 بروز جمعۃالمبارک اوکلوہاما کے شہر تلسہ میں ایک بڑی جامع مسجد کی دوسری صف میں کھڑا ایک نمازی جس کے بائیں جانب 60 اور دائیں جانب 45 نمازی نیت باندھے کھڑے تھے۔  مسجد داخل ہونے سے پہلے وہ سگریٹ کے پیکٹ میں  آخری سگریٹ کو  دھوئیں میں ڈھال کر وضو کرتےہوئے  نئے سگریٹ کے پیکٹ کے نہ ہونے کےافسوس میں مبتلا تھا۔ کیونکہ  بینسن اینڈ ہیجز  برانڈ ہر جگہ سے نہیں ملتا   تھا۔ اسی چاہت شوق میں جو وہ پچیس سال سے پالے ہوئے تھا مسجد میں نمازیوں کے ساتھ نیت باندھے کھڑا تھا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب وہ ہمیشہ کی طرح عشق کو غلاف سے نکال لیتا اور امام کے پیچھے اپنی ناقص عقل سے الحمداللہ رب العالمین کو جزب کرنے کی کوشش کرتا۔  لیکن اس دن عشق نے نماز تک پہنچنے والے خیال کو آڑے ہاتھوں لیا۔  ہاسپٹل دفتر تو ایک طرف بسوں اور پارکوں میں جس کے سلگانے کی اجازت نہیں ہے  ۔ چند کلیوں کے بعد رب العالمین کا نام لینے  سے کوئی ملال نہیں جس کی بد بو ابھی تک سانس میں رواں تھی۔ اس خیال کے آتے ہی قلب کے نہاں خانوں میں ایک ہلچل مچ گئی۔ جسم کے روئیں روئیں سے  لہو غلافِ عشق اُتار کر پچیس سال سے دماغ میں بسی چاہت  دھواں کو ایک ایک خلیے سے نکال باہر لائے ۔ اور پورے وجود کو ایسے نہلا دیا جیسے بارش کے بعد چاندنی رات میں زمین کو روشنی سے نہلا دیتی ہے۔جسے نماز سے پہلے وہ فراموش نہیں کر پا رہا تھا۔ اب وہ اسے یاد نہیں کر پا رہا تھا۔ جسے ہاتھ سے  چھونا اور ہونٹوں سے لگانا ایک نشہ میں مبتلا کر دیتا تھا ۔ آج وہ چاہت بے ثباتی اسے ایسے چھوڑ گئی جیسے کسی زندہ وجود سے روح نکل کر واپسی اختیار نہیں کرتی۔عشق میں سچائی ہو دیانت ہو ایمانداری ہو محبوب کی عزت و تکریم  کا خیال ہو۔تو عشق لہو بن کر رگوں میں دوڑتا ہے۔
رگوں میں دوڑنے پھرنے کے ہم نہیں قائل
جو آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو وہ لہو کیا ہے

تحریر : محمودالحق




Saturday, March 29, 2014

چراغِ شب بجھا دو

3 comments
ایمان کا تقاضا کیا ہے ؟ رضا کا مقام کیا ہے؟ ثواب کی جزا کیا ہے؟ گناہ کی سزا کیا ہے؟ صبر کی انتہا کیا ہے؟ مشکل کی انتہا کیا ہے؟ پریشانی کا حل کیا ہے؟ جستجو کا انجام کیا ہے؟ مدد کی طلب کیا ہے؟ اور حاصل کا وجود کیا ہے؟
ان میں سے کچھ لازم ہیں باقی ملزوم ہیں ۔لیکن شائبہ کی گنجائش نہیں۔شک کا احتمال نہیں۔شکوہ کی اجازت نہیں۔خواہشیں آرزؤئیں لاکھ انگڑائیاں لے لے بستر مرگ پہ سلوٹوں سے تابندگی کی نوید اُمنگ جگاتی رہیں۔مگر زندگی کی ناؤ  تا دم ازل و آخر حیات و ممات کے سمندر میں موجزن ململی لہروں پر رقصاں رہتی ہے۔
نا اُمیدی اتھاہ گہرائیوں کے اندھیرے سناٹے میں چیخنے چلانے کے بے ہنگم ہنگامے پر شادمانی  میں جھومتی رقصاں رہتی ہے۔ یہیں سے دو راستوں میں سے ایک کا انتخاب ضروری ہو جاتا ہے۔ ڈوب جاؤ یا پار لگ جاؤ۔ اُڑتے رہو یا گر جاؤ۔توکل اختیار کرو یا تحمل برد باری چھوڑ دو۔ رضا کو پا لو یا خواہشیں چھوڑ دو۔روشنی کے لئے چراغ میں تیل ڈالتے رہو یا کرنیں بکھیرتی صبح کے انتظار میں چراغ شب بجھا دو۔ مایوسی کا خوفناک عفریت ایسا سراب چاہت بناتا ہے کہ چشم َ عقل اندھے کی لاٹھی کی مثل ٹھک ٹھک راستہ تلاش کرتی ہے۔ منزل جتنی دور ہو گی راستے اتنے آسان ہوں گے۔ منزل جتنی قریب ہو گی راستہ اتنا ہی مشکل۔
شاہی تخت یا تختہ کی ترکیب پر ہوتی ہے۔زندگی میں اور تو کی ترکیب پر۔ اسے یوں بھی بیان کیا جا سکتا ہے کہ ایک ہاتھ دو ایک ہاتھ لو سراسر پورے تول کی غمازی کرتی ہے۔ جتنا دیا اس سے کم پر سمجھوتہ نہیں کرنا۔ زندگی پانی ہے تو موت دے دو۔ بھوک مٹانی ہے تو دوسرے سے چھین لو۔طاقتور بننا ہے تو  مد مقابل کو کمزور بنا دو۔
 ناخنوں کی تراش کے دوران ایک ہلکی لائن کے پیچھے زندگی اور اگے موت پاتا ہوں۔ بند آنکھیں دیکھنے سے قاصر ہوتی ہیں کان سوتے میں سننے سے ۔سانس اور دھڑکن  کی حد خاموشی کے اس پار ہے۔ اس کے لئے ایک وقت کا انتظار ہے۔ ایک کمزور بال کھینچنے کی معمولی تکلیف پر پورا وجود یکسوئی سے اس مقام کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔زبان بہت گرم اور نہایت ٹھنڈے کے درمیان ہی عافیت سے رہتی ہے۔بدن جاڑے میں لحاف اور  گرمی میں ہوا سے تسکین پاتا ہے۔خوشبو آنکھوں میں نشہ بھر دیتی ہے ۔ بد بو پورے وجود کو کچوکے لگاتا ہے۔
پھر یہ نفس ہی ایمان کا امتحان کیوں ہے۔دراصل دنیا امتحان گاہ ہے جس میں پرچہ ایمان کا ہے حل نفس کو کرنا ہے۔ سوالات کے آؤٹ آف سلیبس جوابات سے صفر ہی حاصل ہو گا۔ ڈگری تو ڈگری ہوتی ہو گی اصل کیا جعلی کیا۔ مگر نقل محنت سے جیت نہیں سکتی۔پاس کا رتبہ اور ہے فیل کا مقام اور۔ نہ تو دنیا گیلری ہے اور نہ ہی دنیا دار آرٹ کے نمونے۔ جیسے کہ میٹروپولیٹن میوزیم نیو یارک میں رکھے یونانیوں کے عہد قدیم کے ننگ دھڑنگ دیو قامت مجسمے۔
جیتے جاگتے انسان جو ناخنوں سے مردہ حصے باقائدگی سے الگ کرتے ہیں۔ روح کی زندگی یعنی ایمان  کی تراش سے کسی بھی تکلیف کے احساس سے محروم کیسے رہتے ہیں۔لالچ وغرض کے کفن میں لپیٹ کر زندہ درگور کر دیتے ہیں خواہشوں آرزؤں کی مالاؤں  سے یاد کے دئیے روشن رکھتے ہیں۔یہ ایسا قبرستان ہے جہاں ایک کے بعد ایک زندہ حصے دفن کرنے چلا آتا ہے۔مردہ حصے چمکتے دمکتے گھروندوں میں سجانے میں مشغول ہے۔
 
تحریر ! محمودالحق

Monday, April 29, 2013

السلام علیکم

6 comments
میڈیکل سٹور کا دروازہ کھولتے ہی کام کرنے والے تمام افراد پر ایک سرسری نظر ڈال کر میں نے بلند آواز سے السلام علیکم کہا اور سیدھا کاؤنٹر پر جا پہنچا۔ جہاں ایک با ریش نوجوان کمپیوٹر پر نگاہیں جمائے کھڑا تھا۔کچھ دیر اس کا چہرہ تکتارہا۔اس نے سر اُٹھا کر دیکھنے کی زحمت گوارا نہ کی اور نہ ہی سلام کا جواب دیا۔میں نے پلٹ کر دوسرے ملازمین سے توجہ طلب نگاہوں سے مدد چاہی تو ایک نے احسان عظیم کیا اور اپنے پاس آنے کی دعوت دی۔میں آگے بڑھا اور اس غم گسار کے سامنے مایوسی کے گہرے سائے کو روندتے ہوئے اس کے سامنے جا کھڑا ہوا۔ جو انتہائی لاپرواہی سے میرے  منہ سے کسی کڑوی دوائی کا نام سننے کے انتظار میں تھا۔لیکن آج میں ان کا جنرل نالج آزمانے گیا تھا۔تاکہ وہ میرے گھر کے قریب ترین ایسی جگہ  کا پتہ بتا دیں جہاں سے میں اپنی دس سالہ بیٹی کے دائیں ٹانگ پر چڑھائے گئے پلسترکی وجہ سے چلنے پھرنے کے لئے بیساکھی کا انتظام کر پاؤں۔
میرے لئے بیساکھی کا ٹھکانہ معلوم کرنے سے زیادہ یہ جاننا بہت ضروری ہو چکا تھاکہ میڈیکل سٹور میں موجود پانچ ملازمین میں سے کسی نے بھی میرے سلام کا جواب  کیوں نہیں دیا ۔ میں نے انتہائی لا پرواہی اور کسی قدر غصہ میں ان سب سے یہ سوال کیا کہ  جس ملک میں ہم رہتے ہیں کیا اسے  ابھی تک اسلامی جمہوریہ پاکستان ہی کہا جاتا ہے اور یہاں بسنے والے مسلمان کہلاتے ہیں تو انہوں نے بیک زبان کہا کہ جی بالکل!
میں نے ان سے استفسار کیا کہ پھر انہیں میرے سلام کے جواب میں   وعلیکم السلام کہنے میں کیا عذر تھا۔ جس کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ حالانکہ وہ السلام علیکم کا مطلب بخوبی جانتے تھے۔انہوں نے معذرت خواہانہ انداز اپنایا۔ جو ان کے چہروں سے عیاں تھا۔انہوں نے منزل تک پہنچنے کی میری رہنمائی کی۔ ان کا شکریہ ادا کر کے میں نئی منزل کی طرف گامزن تھا۔ مجھے رہ رہ کر امریکہ میں گزارے صبح دوپہر شام اور رات میں کہےجانے والے کلمات یاد آنے لگے۔ گڈ مارننگ کے جواب میں گڈ مارننگ ، گڈ ایوننگ کے جواب میں گڈ ایوننگ، ہیو اے نائس ڈے کے جواب میں یو ٹو،تھینک یو کے جواب میں یو آر ویلکم ضرور کہا جاتا تھا۔اگر کسی سے پوچھیں آپ کیسے ہیں جواب میں اچھا کہہ کر آپ کا احوال ضرور پوچھتا۔مگر مجھے اپنوں سے ہمیشہ شکایت رہتی ہے کہ وہ سلام کا جواب دینے میں تامل کرتے ہیں۔ حال احوال پوچھنے پر اجنبی نظروں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔فون کی گھنٹی بجنے پر ہیلو سے جواب دیا جاتا ہے۔ فون کرنے والا بھی ہیلو سے اپنا تعارف کراتا ہے۔ 
ہر واقف و ناواقف مسلمان کو سلام کہنا سنت ہے۔سلام کا جواب دینا واجب ہے کیونکہ اس کا حکم قرآن میں ہے سورۃ النساء آیت نمبر 86 میں یوں آیا ہے:
اور جب تمھیں کوئی کسی لفظ سے سلام کرے تو اس سے بہتر لفظ جواب میں کہو یا وہی کہہ دو۔
سلام کے لغوی معنی ہیں طاعت و فرمانبرداری کے لیے جھکنا، عیوب و نقائص سے پاک اور بری ہونا، کسی عیب یا آفت سے نجات پانا۔ سلام اسماء الحسنی یعنی اللہ تعالٰی کے صفاتی ناموں میں سے بھی ہے ۔ شریعت کی اصطلاح میں اس سے مراد دو یا دو سے زیادہ مسلمانوں کی آپس میں ملاقات کے وقت کی دعا یعنی السلام علیکم کہنا ہے۔ جواب کے لیے وعلیکم السلام کے الفاظ ہیں۔
ہمارے بزرگ بات کرنے کا سلیقہ اور بڑے بزگوں کے ساتھ پیش آنے کا طریقہ سکھاتے تھے۔ جسے جدید دنیا کے والدین نے نئے انداز سے بدل دیا ہے۔بچوں کو سبق یاد کروائے جاتے ہیں مگر آداب نہیں سکھلائے جاتے۔ہر شخص اپنے کام سے کام رکھتا ہے۔اپنے ارد گرد نظر نہیں رکھتا۔معاشرے میں اجنبیت کا رحجان فروغ پا رہا ہے۔اگر یقین نہیں آتا تو  میری طرح اپنے گھر ، علاقہ سے    چھ آٹھ سال کے لئے دور رہ کر واپس لوٹیں گے تو احساس ہو گا کہ کہیں نہ کہیں ہم سے کچھ چھوٹ رہا ہے جیسے بلندی سے گرتے ہوئے ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ سے چھوٹنے کے لئے پھسلتا ہے۔
ہم اپنی رائے کو دوسروں پر تھوپنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دوسروں کے نظریات کو غلط ثابت کرنا فرض سمجھتے ہیں۔آخر کہیں تو کچھ ایسا ہو رہا جو تبدیلی کے مراحل خاموشی سے طے کر رہا ہے۔جس گاڑی کی بریک نہ ہو اس کے لئے انتہائی سپیڈ اور موٹر وے جیسی سڑک بھی بلا ضرورت ہے۔جس انسان میں اپنی خواہشوں کو روکنے کی حد نہ ہو اس کے لئے کامیابی شتر بے مہار کی مانند ہے۔ جیسے ڈھلوان کی بلندی سے  قلابازیاں کھا کر نیچے تک پہنچا جائے۔
دوسروں کی خوشیوں میں ماشااللہ کہہ کر شامل ہوا جاسکتا ہے۔انشااللہ کہہ کر خود آگے بڑھا جاسکتا ہے۔جزاک اللہ کہہ کر دوسروں میں ہمت و حوصلہ بڑھایا جاسکتا ہے۔اچھے وقت کا صبر سے انتظار کیا جاسکتا ہے۔سورۃ بقرہ میں ارشاد باری تعالی ہے ۔اے ایمان والو ! تم صبر اور نماز سے مدد مانگو۔بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
کینہ، حسد، لالچ سے بچ گئے تو محبت،قربت،شکر کے پھل سے فیضیاب ہوں گے۔نفرت، حقارت،گھمنڈ،ضد،غرور سے چھٹکارا مل گیا توقرب،اپنائیت،عجز و انکساری سے دامن بھرتے جائیں گے۔
سورج کو مشرق سے طلوع ہوتے روز دیکھتے ہیں۔خود کو مشرق میں غروب ہونے کا منظر آنکھوں میں سجاؤ تو گردش زمین آشکار ہوتی ہے۔جیسےپھل پر چھری چلا کراوپر سے نیچےتہہ تک کاٹتے ہیں ایسے ہی تہہ سے اوپر تک پھل کے مکمل ہونے کو نظروں میں بساؤ توقدرت اپنی طاقت کا لوہا منوانے پر اُتر آئے گی۔
ظاہر کی نفی سے باطن کی آگہی زمین سے تعلق اور قطع تعلق کے درمیانی فاصلوں کو بڑھاتی جائے گی۔قربت کے فاصلے عشق و محبت سے سمٹتے جائیں گے۔
وجود اپنے نہ ہونے اور عدم اپنے ہونے سے قیاس و حقیقت کے رشتے کو بندش و آزادی کے جہان اُلفت میں دیوانگی و جنون سے ایک کو گھٹاتا تو دوسرے کو بڑھاتا جائے گا۔
لیکن یہ تبھی ممکن ہو گا جب  دوسرے سے اختلاف سے پہلے خود کے تضاد کو عمل کی کسوٹی پر پرکھ کر یک اتفاقی  میں پرویا جائے  تو نا اتفاقی کی گانٹھیں خود بخود ڈھیلی ہونا شروع ہو جائیں گی۔
 جو اپنی ذات کو منوا لیتے ہیں وہ اپنی بات بھی منوا لیتے ہیں۔جو اپنی بات منوانے میں عمر گنوادیتے ہیں وہ اپنی ذات بھی گنوا لیتے ہیں۔
جو پانے کے لئے مضطرب رہتے ہیں وہ کھونے پہ بےچین ہو جاتے ہیں۔
 جن کا حاصل ان کا مقصود نہ ہو، ان کا مقصد لا حاصل رہتا ہے۔
جو   برترسے حسد کرتا ہے وہ  کم تر سے تکبر کرتاہے۔
جو خالق سے محبت کرتا ہے وہ مخلوق سے نفرت نہیں  کر تا۔
سچ کو ماننے والا سچ کو جاننے والا ہے۔
جو بدلہ لینے کی طاقت رکھتا ہے وہ معاف کرنے کی ہمت رکھتا ہے۔
جسے اختیار کا یقین ہے اسے بے اختیاری کی پرواہ نہیں۔
جسے ملنے کا یقین نہیں اس میں پانے کی شدتِ خواہش نہیں۔
قرآن سے جس کا لگاؤ نہیں اللہ کی طرف اس کا جھکاؤ نہیں۔

تحریر!   محمودالحق


Sunday, April 28, 2013

خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا

0 comments
قانون ساز ادارے عوام کی بہتری اور بھلائی کے لئے قانون سازی کے بل پیش کرتے ہیں۔جنہیں باری باری دونوں ایوانوں میں پیش کیا جاتا ہے ۔ جہاں بحث و تمحیص کے بعد دو تہائی اکثریت سے منظوری کی آزمائش سے گزرنا ہوتاہے۔ اخبارات الگ سے ان  کے قابل عمل ہونے یا نہ ہونے پر مناظرے کراتے ہیں۔جہاں علم و دانش رکھنے والے اپنی اپنی عقل کے مطابق اس کے حق یا مخالفت میں رائے زنی کرتے ہیں۔۱۹۷۳ کے آئین پاکستان میں کی گئی  ترامیم کا عوام کو کیا فائدہ پہنچا ۔ یہ عوام کی بگڑتی معاشی و اقتصادی اور معاشرتی و سماجی  صورتحال سے عیاں ہے۔قانون ساز ادارے حکومتی اختیارات میں کبھی اضافہ تو کبھی کمی  سے بغلیں بجاتے رہے۔مگر عوام بچوں کی طرح منہ میں خالی چوسنی لئے دودھ بھرے فیڈر کے انتظار میں کبھی ایک کا منہ دیکھتے تو کبھی دوسرے کا۔آخر میں لالی پوپ ہی سے گزارا کرنے کی عادت نے انہیں صبر و شکر کی بجائے برداشت کرنے کا خوگر بنا دیا۔جس کی زندہ جاوید اور تازہ مثال ماضی قریب کی پارلیمنٹ کے اجلت میں پاس کئے گئے قوانین کی مثال ہیں۔جس میں سرفہرست  سپیکر صاحبہ کا اپنے لئے حاصل کی گئی تاحیات مراعات ہیں جو عوام کے خون پسینہ سے کمائی گئی کمائی سے ہمیشہ ادا کی جاتی رہیں گی۔۷۷ کروڑ کے قرضہ  کی معافی تو کسی کھاتے میں ہی نہیں۔اپنے ہاتھوں سے اپنی دولت لٹانے والی ایسی زندہ دل قوم شائد کسی اور ملک کے نصیب میں نہیں۔ جس نے لوٹنے والوں کو بار بار دعوت یلغار دی ہو۔
کابل کے حکمران ظہیرالدین بابر نے ۱۵۲۶ میں جب ابراہیم لودھی کو شکست دی تو ہندوستان کے خزانے سے کابل کے ہر فرد کو ایک ایک اشرفی  بانٹی گئی تھی۔ مگر آج کا حکمران کتنا خودغرض ہے کہ وہ لوٹے گئے مال سے ایک روپیہ بانٹنا بھی گناہ سمجھتا ہےیا وہ پاکستان کے عوام کو کابل کے عوام سے زیادہ خوددار جانتا ہے کہ وہ ورلڈ بینک سے خیرات تو لے لیں گے مگرلوٹے ہوئے مال کو اپنے لئے حرام سمجھتے ہیں۔اسی لئے وہ لوٹا ہوا ایک ایک روپیہ بحفاظت اپنے کاروبار اور وارثوں میں بانٹ دیتے ہیں۔جن پر قوم بری نظر اُٹھا کر نہیں دیکھتی۔
سیاسی ہمدردوں کی دل آزاری میرا مقصود نہیں بلکہ الیکشن کی آمد آمد ہے تو ایک مضمون جو میری نظر سے گزرا  اس کے چند اقتباس سب کے ساتھ شئیر کرنا چاہتا ہوں۔ 
یہ  ۸ نومبر ۱۸۶۴ کے امریکی انتخابات میں ابرہام لنکن کی کامیابی کا  احوال ہے ۔ جب سیاسی پنڈتوں نے لنکن کی شکست پر مہر ثبت کر دی تھی۔ انتخابات میں حیران کن کامیابی کے بعد صدر لنکن نے ایوان نمائندگان سے 13ویں ترمیم منظور کرانا اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا۔امریکہ کی تاریخ کا سنگین ترین بحران مسئلہ غلامی کے باعث پیدا ہوا تھا۔ اب وہ اپنے تمام تر سیاسی تدبر اور تجربے سے یہ مسئلہ ہمیشہ کے لیے ختم کرنا چاہتے تھے۔ تاہم ایوان نمائندگان میں ترمیم منظور کرانا بڑا مشکل تھا کیونکہ حکومت کو دو تہائی اکثریت حاصل نہ تھی۔ صدر لنکن نے بڑی عرق ریزی سے اپنی حکمت عملی تیار کی کیونکہ وہ غلامی کے بل کو پالیمنٹ سے منظور کروا کر ملک کو  ریاستوں کی باہمی جنگ اور سول وار کا خاتمہ کر کے ملک ٹوٹنے سے بچا سکتے تھے۔ انہیں قدرت نے موقع فراہم کیا اور اس نے جیت کر امریکہ کی تاریخ کا  تیرویں ترمیم کا بل پاس کروا لیا جس میں غلامی کو ہمیشہ کے لئے دفن کر دیا گیا۔
ملک بچانے کے لئے اور خانہ جنگی کے خاتمہ کے لئے لنکن کے لئے تیرویں ترمیم کا بل پاس کرانا نہایت ضروری تھاجس کے لئے پہلے اسے مطلوبہ تعداد میں ریاستیں چاہیئے تھیں۔ ریاست نیودا کی یونین میں شمولیت سے آئینی طور پر ریاستوں کی وہ تعداد پوری ہوجاتی جو ترمیم کی منظوری کے لیے درکار تھی۔ جس کے تین ارکان سے اس نے رابطہ کیا ۔دو نے انٹرول ریونیو کلکٹر بننے کی خواہش ظاہر کی۔ تیسرا نیویارک کسٹم ہاؤس میں تقرری چاہتا تھا۔ لنکن نے تینوں کی مانگیں پوری کرکے ان کی حمایت حاصل کرلی۔ جنوری ۱۸۶۵ میں انہیں مزید چودہ ووٹوں کی ضرورت تھی۔چنانچہ لنکن نے غلامی ختم کرنے کی خاطر اپنے ایک مخالف ریاست میسوری کے رکن کے سامنے جھکنے کا فیصلہ کرلیا جو سو غلاموں کا مالک تھا۔ اور غلامی کا مخالف تھا۔ لنکن اس سے ملے اور  بتایا کہ اگر تیرہویں ترمیم منظور نہ ہوئی، تو امریکہ ٹوٹ جائے گا۔ اس نے جذبہ حب الوطنی کے باعث ترمیم کی حمایت کر دی۔ انھیں ترغیب دینے کی خاطر میسوری سے وفاقی جج کی نشست خالی رکھی گئی جو ترمیم کو ووٹ دیتے،انہی کی پسند کا (موزوں) جج تعینات کیا جاتا۔ 13ویں ترمیم منظور کرانے کے لیے صدر لنکن نے سیاسی عنایات و نوازشات کا سلسلہ جاری رکھا ۔ مخالف جماعت ڈیمو کریٹک رکن، موسز اوڈیل نے ترمیم کے حق میں ووٹ ڈالنے کا اعلان کیا،تو لنکن نے اسے ریاست الینائے میں نیول ایجنٹ (سرکاری افسر) بنا دیا۔ ریاست کنکٹکی کا رکن، جارج یمین غلامی کا زبردست حامی تھا۔  لیکن وہ جب 13ویں ترمیم کا حمایتی بنا، اسے ڈنمارک میں امریکی سفیر بنا دیا گیا۔ یوں لنکن نے اپنی بہترین صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر تیرویں ترمیم کا بل دو تہائی اکثریت سے دو ووٹ زیادہ  حاصل کر کے منظور کروا لیا جو امریکہ کی تاریخ کا ایک بڑا کارنامہ تھا ۔ جس نے ابرہام لنکن  کو  ہیرو بنا دیا۔  اگلے دو ماہ میں امریکی خانہ جنگی  کا خاتمہ ہوا۔
 تفصیل دینے کا مقصد یہ تھا کہ لنکن نے بھی مطلوبہ ووٹ حاصل کرنے کے لئے نوازشات کا راستہ اختیار کیا۔ مگر ان نواشات کا براہ راست تعلق مفاد عامہ اور ملکی دفاع تھا۔ ذاتی عناد ، مخالفت ، خودغرضی ، اقربا پروری کا شائبہ نہیں پایا جاتا وہاں۔ خلوص نیت سے کئے گئے تمام اقدامات عوامی تحسین و پزیرائی سے ہمکنار ہوتے ہیں۔
تقریبا ڈیڑھ سو سال پہلے انہوں نے ملک بچانے کا ایک بہترین راستہ چنا۔ جس کی بدولت وہ آج بھی یونائیٹڈ ہیں۔ہمارا ملک روزانہ ایسی دھمکیوں سے گزرتا ہے کہ اب گئے کہ گئے۔مگر آزمائے ہوئے تمام  لیڈر ،حکمران تو کئی بار بنے مگر رہنما نہ بن سکے۔ جو ملک و قوم کو اس دلدل سے نکال سکتے۔ ملک ٹوٹنے کی تلوار آئے روز اخبارات کی شہ سرخیوں پر لٹکی رہتی ہے۔
اتنا لکھنے کا صرف ایک ہی مقصد ہے کہ  تمام پارٹیاں اسمبلی میں بیٹھ کر ہر ایرے غیرے قانون کو بلا چوں چراں جو پاس کرتی ہیں جن کا براہ راست تعلق عوام کی بھلائی سے نہیں ہوتا انہیں ایک نہ ایک دن تو سوجھ بوجھ رکھنے والے محب وطن اکثریتی عوام کے ووٹوں سے  واسطہ پڑے گا جو انہیں  چھٹی کا دودھ یاد دلا دیں گے اور انہیں یہ سبق کبھی نہیں بھولنے دیں گے کہ پارلیمنٹ کا کام عوام اور ملک کی بھلائی کے لئے قانون سازی کرنا ہے نہ کہ سپیکریا ارکان کی گھریلو ملازمین کی تنخواہوں اور گھریلو عیاشیوں کے لئے ہزاروں لٹر پٹرول کی فراہمی  کا بندوبست کرنا۔جہاں کبھی صدر بے اختیار کیا جاتا ہے تو کبھی وزیراعظم۔ اختیارات کبھی ایک محل میں ہوتے ہیں تو کبھی دوسرے محل میں۔جہاں بلدیاتی نظام کبھی ہوتا ہے تو کبھی نہیں ہوتا۔۶۲، ۶۳ پہلے آئین میں تھی اب اخباروں میں ہے۔پہلے کام چھ دن تھا بجلی سارا دن ، اب کام پانچ دن ہے تو بجلی آدھا دن سے بھی کم۔حالانکہ  دو اڈھائی دن سے زیادہ کام کی گنجائش نکلتی نہیں۔ ڈاکٹر اصلی ہیں تو دوائیاں جعلی۔اسمبلی اصلی تھی تو ممبر جعلی ڈگری والے۔کوئلوں میں دلالی ہے تو جہازوں آبدوزوں میں کمیشن۔ بھوکےغریب کے لئے لفظ رشوت  سےذلت ، امیر کے لئے تحفہ تحائف سے عزت۔
پاکستان کی سیاست میں جھوٹ چلتا ہے مگر ملک میں رہنما جھوٹا نہیں چل سکتا۔ کیونکہ ملک جھوٹے  وعدوں کی بیساکھی پر  زیادہ دیرنہیں کھڑا ہو سکتا۔
قیام پاکستان سے قبل قائداعظم کی تقریر پر ایک بوڑھا تالیاں بجا رہا تھا ، قریب کھڑے شخص نے اس سے پوچھا بابا جی آپ کو قائداعظم کی انگریزی تقریر کی سمجھ آتی ہے؟بوڑھے نے کہا نہیں! مجھے انگریزی نہیں آتی مگرمجھےیقین ہےکہ یہ شخص سچ بول رہا ہے۔ایسے ہوتے ہیں سچے لیڈر۔
سب سے پہلے ملک کے رہنماؤں کو یہ ثابت کرنا ہو گا کہ وہ سچ بولتے ہیں۔ اگر نہیں تو پھر ان کے وعدے  پر صرف اتنا ہی کہوں گا۔
خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا

Friday, April 26, 2013

فلم کا ٹریلر 11 مئی کو چلے گا

11 comments
گیارہ مئی کے انتظار میں عوام سانسیں روکے بیٹھی ہے۔ حساب کتاب لگائے جارہے ہیں پہلے شخصیت پھر پارٹی کو تولا جا رہا ہے ۔ کون ہو گا وہ خوش قسمت جس کے سر پر جیت کا ہما بیٹھے گا۔ جو اکیلا وزیراعظم ہو گا پارٹی اس کی وزیر مشیر ، خاندان کے لوگ بھی بہتی گنگا میں کشتی ڈالے ساتھ ہوں گے۔ مال مفت دل بے رحم کا نعرہٗ مستانہ ہو گا۔ الیکشن کسی سیاسی جماعت کے لئے امتحان سے کم نہیں ہوتے۔ مگر کیا کہیئے اس امتحان کے ۔نہ قلم نہ کاغذ ۔ کاروائی صرف وائٹ پیپر۔
اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا
لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں 
سکول میں ایک کلاس میں فیل اور کم از کم نمبر لے کر پاس ہونے والے  اگلی جماعت میں ڈاکٹر انجینیئر یا سی ایس پی  افسر بننے کا خواب نہیں دیکھتے۔ مگر سیاست نام ہی خواب دیکھنے کا ہے۔ ایسی پارٹیاں  جن کے کامیاب امیدوار ہر الیکشن میں چنگ چی میں پورے سما جائیں۔ 18 کروڑ عوام کو جہالت کے اندھیروں سے نکالنے کا عزم رکھتے ہیں۔ ان کےبلند و بانگ دعوے کم از کم میرے جیسے تاریخ کے ایک کمزور طالبعلم کی سوچ سے بہت اونچے رہتے ہیں۔
کیا ایسا ممکن نہیں کہ قوم کا ایک فرد ہونے کے ناطے وطن کے لئے درد دل رکھ کر فیصلہ کریں کہ 65 سال میں جو کھویا اسے آئندہ پانچ سال میں حاصل کر لیں۔ مگر کیسے یہاں جیتنے کے لئے سر دھڑ  کی بازی ہے۔  ایک باری لینے پر بضد ہے تو دوسرا بار بار باری لینے کی دھمکی دیتا ہے۔ عوام 8 گھنٹے پنکھے کی ہوا لیتے ہیں سولہ گھنٹے کوسنے دیتے ہیں۔ جن کے گھروں میں جنریٹرز کھٹ کھٹ چلتے ہیں وہ ابھی کسی نتیجہ پر نہیں پہنچے کہ ملک کے عوام کا کوئی جائز مسئلہ بھی ہے یا اس قوم کو خوامخواہ رونے پیٹنے کی وہی پرانی عادت  جو پچھلے 65 سال سے ساتھ چپکی ہوئی ہے۔
الیکشن کے نتائج کئی لوگوں کے لئے اتنے اہم نہیں ہوں گے کیونکہ ان کےگھروں میں کوئی بھی بھوکا نہیں سوتا۔ کوئی بے روز گار نہیں ہے۔ تعلیمی ادارے کی کوئی شکائت نہیں البتہ ذہانت کو الزام دیا جا سکتا ہے۔ لوڈ شیڈنگ میں اضافہ نا گزیر ہو گیا تو ٹھنڈے ملک  جانے میں کوئی امر مانع نہیں۔ مگر کیا کریں وطن کی گرم ہواؤں نے ہمیں کبھی جلایا نہیں۔ درجن بھر گلاس پانی جسم کے اندر اور بالٹی بھر پانی جسم کو باہر سے تمام بیماریوں سے پاک کرتا رہا۔ ٹھنڈے مشروبات الگ سے توانائی بحال رکھتے رہے۔
سیاست کی گرمی مئی کے مہینہ میں جوبن پر ہو گی۔ تجزیوں تبصروں سے شدت میں اضافہ تو ہو سکتا ہے مگر تسلی و تشفی اور راحت نہیں۔ قوم کو فیصلہ کرنا باقی ہے۔ انہوں نے ملک کا وزیراعظم منتخب کرنا ہے یا ملک کے مسائل کا حل تلاش کرنا ہے یا پھر وہی روائتی مخاصمت ، مخالفت جس کا پاکستان اور اس کے چاہنے والوں کو کبھی بھی فائدہ نہیں ہوا۔
اگر سابقہ حکومت ناکام ریاست کا وجود چھوڑ جائے تو اسے ٹھیک اور بحال کرنے کے لئے اگر امریکہ کے گورے ، سیاہ فام مسلمان کے سیاہ فام بیٹے کو اپنا صدر دوسری بار بھی چن سکتے ہیں تو پھر پاکستان میں بلند مرتبی کا ٹھیکیداری نظام کیوں۔ جہاں سیاسی وراثتی سپوت اور سپوتری بندر بانٹ کے لئے تماشا کرتے ہیں۔
 ہمیں دوسروں کے نظریات یا پارٹی وابستگی جاننے کی بجائے نوشتہ دیوار پڑھنا چاہیئے کیونکہ  ہر پانچ سال بعد لاکھوں نوجوان بے روزگاری اور غربت کا ایندھن بنیں گے۔ جو جھوٹے وعدوں اور دلاسوں سے بہلائے نہیں جا سکیں گے۔ ایک شہر کی فوٹو دکھا دکھا کر ان پر احسان عظیم جتایا نہیں جا سکتا ۔ شخصیت پرست جماعتیں اور نظریات ہمیشہ غالب نہیں رہتیں۔ اکیسویں صدی کا نوجوان کئی صدیوں پہلے نازل فرمان پر تو آنکھیں بند کر کے چل سکتا ہے مگر 65 سال میں ہر پل بدلتی شخصیتوں پر اعتبار کرنا اس کے لئےمشکل ہوتا جا رہا ہے اور وہ بالآخرتعداد میں اتنے ہو جائیں گے کہ تبدیلی کے لئے کسی بھی سچے ایماندار انسان کو اپنا مرکز بنا لیں گے۔ آج کم تر برا جیتے گا تو اس وقت کم تر اچھا ہارے گا۔ فلم شائد دیر میں چلے مگر قوم اس فلم کا ٹریلر 11 مئی کو دیکھ لے گی۔

Wednesday, March 27, 2013

ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار

0 comments
بڑے بڑے دعوے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں جبتک کہ اس میں اللہ تبارک تعالی کی رضا شامل نہ ہو۔ تاریخ شاہد ہے کہ مٹھی بھر لوگوں کی جماعت ایک کثیر فوج کے مد مقابل کھڑی ہو گئی۔اس امید کے ساتھ کہ انہیں کامیابی نصیب ہواگر ان کا اللہ چاہے تو۔ تو اللہ تبارک تعالی نے ان کے بھروسہ اور اعتماد کو پزیرائی بخشی اور وہ کامیابی سے سرخرو ہوئے۔ کہانیاں کامیابیوں کی زبان زدعام رہتی ہیں۔ قیاس وہم و افسوس کا شکار ہوتے ہیں۔
باطن کو ظاہر سے کمزور سمجھنے والے باطن کی طاقت سے آگاہ نہیں ہوتے۔ ظاہر نمود و نمائش سے مزین ہوتا ہےاورباطن مخفی قوتوں سے آراستہ۔ آنکھوں کو وہی دکھایا جاتا ہے جو وہ دیکھناچاہتی ہیں۔ کانوں کو وہی سنایا جاتا ہے جو وہ سننا چاہتی ہیں۔ بہلانے پھسلانے کے نت نئے انداز ترنم آبشار کی لگن دھن رکھتے ہیں۔ جمہوریت میں انسانوں کو گنا جاتا ہے تولا نہیں۔ مگر جو قوم تبدیلی کے لئے اُٹھتی ہے وہ گنی نہیں جاتی بلکہ جزبہ و جنوں سے جانی جاتی ہے۔ جہازوں ، گاڑیوں، مکانوں کو گنا جاتا ہے پھر ان میں انسانوں کو گنا جاتا ہے۔
سورج کے گرد طواف کرتی زمین فاصلوں کے ماپنے سے حقیقت شناسی کا سبق دھراتی ہے۔ جس کی حدوں سے باہر نکل کر ہر شے بے وزن ہو جاتی ہے۔ ہوا میں اُڑتے پرندے رائٹ برادرز کو زمین سے اُٹھنے میں تحریک کا سبب ہیں تو نیوٹن کو سیب زمین پر گرنے سے۔ بادل اپنے وقت پر گرج چمک کر برس جاتے ہیں۔ نفع و نقصان کا تخمینہ لگانا انسان کے جمع وتفریق کے فارمولہ کےتحت ہوتا ہے۔ زیر زمین رہنے والے کیڑے مکوڑے جڑی بوٹیوں کی افزائش سے تقویت پاتے ہیں اور ان سے پرندے زندگی۔ ہریالی سے چوپائے صحت و تندرستی پاتے ہیں تو درندے ان کے خون سے۔ انسانوں میں بے حسی ، بے مروتی، خیر وشر کی تمیز کا نہ ہونا، سچ  و جھوٹ میں فرق نہ کرنا، حرام و حلال میں تمیز نہ کرنا، تحریص و ترغیب کی تحریک کا موجب ہو جاتے ہیں۔ پھر ایک گناہ زندگی بھر کے پچھتاوے سے بھی دھونے میں ناکام رہتا ہے۔
لینے اور دینے والے عہد وپیماں کی بجائے ضابطہ اخلاق کے بندھن میں بندھے ہوتے ہیں۔ قربانی دینے والے ، ایثار کرنے والے ہمیشہ دوسروں کی نظر میں سر بلند نہیں ہوتے۔ جب تک کہ اللہ تبارک تعالی کی رحمتیں ان پر نفع کی صورت میں آشکار نہ ہوں جو دن کی روشنی کی طرح عیاں ہوتے ہیں۔ حادثہ کا شکار ہونے والے جہاز یا گاڑی میں منزل تک پہنچنے کا ارادہ کرنے والےکسی مجبوری سے سفر نہ کرنے والے حادثہ کی روح فرسا خبر کو  بد قسمتی  اور خوش قسمتی سے تعبیر کرتے ہیں۔ تیز ہواوں کے نتیجے میں گرنے والے پتے بد قسمت نہیں ہوتے اور نہ ہی درختوں پر رہنے والے خوش قسمت ۔ یہ ایک خود کار سسٹم کے تابع ہیں۔ پانی روشنی اور ہوا لے کر پروان چڑھنے والےپتے ٹہنیوں اور تنوں کی عمر نہیں پاتے۔ بار بار جنم لیتے ہیں بار بار ختم ہوتے ہیں۔ جس دن مٹی جڑ سے رشتہ توڑ لیتی ہے پھر جنم جنم کے سلسلے رک جاتے ہیں۔ جب تک زمین ہے جنم ہوتےرہیں گے۔ جب کائنات نے زمین کو چھوڑ دیا نئے جنم کا سلسلہ ختم ہو جائے گا۔
روشی پانی ہوا سے زندگی پانے والا ایک پتہ روشنی پانی ہوا سے زندہ رہنے والے ایک انسان سے کیونکر عظیم ہو سکتا ہے۔ جبکہ دونوں جنم لینے اور ختم ہونے کی فطرت پر ہیں۔عظیم وہ ہے جوعظمت پر کامل یقین رکھتا ہے۔ وہ عظمت جو اسے وسیلہ سے ملی۔ جس میں مرتبہ حسن اخلاق کو حاصل تھا۔ احترام صداقت اور ایمانداری سے تھا۔ قدرومنزلت نام و نسب کی بجائےشرافت ودیانتداری سے تھی۔ بشر تو سبھی تھے مگر عظمت کے مینار کوئی کوئی تھے۔
پیدائش و اموات کے درمیان افزائش کے مراحل تعلیم و تربیت کے پھلوں سے ذائقہ و خوشبو سے مزین ہوتے ہیں۔ تہذہبی اور ترتیبی معاشروں میں حسن اخلاق اور اخلاص کی کیاریاں پھولوں کوسینچتی ہیں۔ جن معاشروں میں یہ اقدار نہیں ہوتیں وہ جنگل کی مانند بے رنگ و بے ترتیب ہوتے ہیں۔ جو کٹنے سے پہلے گنے جاتے ہیں پھر کٹ کر تولے جاتے ہیں۔ کیاریوں میں اُگے پھول کثیر تعدادی سے آنکھوں کو ٹھنڈک نہیں پہنچاتے بلکہ خوبصورت رنگوں کے امتزاج کثیر سے روح کو تسکین دیتے ہیں۔
 
تحریر : محمودالحق    

Sunday, April 22, 2012

ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں

0 comments



گندم کی کھڑی پکی فصل کے قریب چنگاریوں کو ہوا نہیں دی جاتی۔محنت کی محبت کا جنازہ سیاہ خاک سے اُٹھایا نہیں جاتا۔بچپن کا بھولپن جوانی کی دلنشینی سے تھپتھپایا نہیں جاتا۔بڑھاپا جوانی کے در پہ دستک سے رکوایا نہیں جاتا۔کہیں تو کچھ ایسا ہے جو مزے سے نیند نہیں دیتا۔چین سے جاگنے نہیں دیتا۔ادھوری خواہشوں سے جینا لولی لنگڑی زندگی جینے سے پھر بھی بڑھ کر رہتا ہے۔مگر شخصیت کا ادھورا پن کبھی پہلی سے چودھویں کے چاند تو کبھی پندرھویں سے تیسویں کے چاند جیسا ہوتا رہتا ہے۔جس کا مقصد صرف دن گننے رہ جاتے ہیں۔
خیالوں میں پھول کھلانا نہایت آسان ہے مگر خوشبو صرف سونگھنے سے موجودگی کا احساس دلاتی ہے۔جو کلی سے مرجھانے تک وجودِ ناتواں سے عشق بہاراں کا جشن مناتی ہے اوربدنصیب کانٹے شاخوں میں رہیں تو رقابت سے ہاتھوں کو تختہ مشق بناتے ہیں۔ ٹوٹے پڑے زمین پر دھول سے اَٹے پاؤں پر بھی حملہ آور رہتے ہیں۔ریزہ ریزہ ہونے تک تکبر کے نشہ سے مستی میں رہتے ہیں۔رقابت میں جل جاتے ہیں مگر محبت میں جینا نہیں سیکھ پاتے۔
عورت زندگی میں چھت کی طلبگار رہتی ہے۔مرد گھروندوں میں اپنے گھرانہ کے لئے تین مرلہ سے تین کنال کے گھر کی جستجو میں پیٹ پر پتھر باندھنے پر بھی آمادہ دکھائی دیتا ہے۔کھلی زمین میں ایک جگہ کو مقامِ محمود کا نام دئیے ایک عرصہ بیت گیا۔ان دیواروں کو ترستے ترستے ایک عمر بیت گئی۔جن پر لکیریں کھینچ کر چڑیا ، طوطا جیسے نقش و نگار بنا پاتے بچے۔جن کا بچپن دیواروں کی محبت کے بغیر جوانی کی دہلیز تک جا پہنچا۔جہاں دروازوںسے گزرنے تو کھڑکیوں سے جھانکنے کی عادت تک زندگی محدود ہو جاتی ہے۔
پانے کا نشہ شیر کے اپنے شکار کی گردن میں دانت گاڈ کر خون بہانے جیسا ہے اور کھونے کا کھسیانی بلی کے کھمبا نوچنے جیسا۔کاش اور اگر جیسے الفاظ اپنی اہمیت کا احساس نقصان و ناکامی میں زیادہ دلاتے ہیں۔بنا چھت کے گھر بادوبارں کے طوفان سے بچائے نہیں جا تے اور دخول و خروج کے راستے اگر کھلے بھی ہوں تو تحفظ کا احساس مٹنے نہیں دیتے۔
آسمان سے کبھی کچھ گرتا نہیں ، زمین سے کچھ اُٹھتا نہیں۔ٹانگوں پہ کھڑی پاؤں پر چلتی وجود ہستی ء انسان زمین پر نخلستانی زرے سے زیادہ نہیںاور زمین اس کائنات میں ایک زرے سے زیادہ نہیں۔سائنس نے کائنات کے دوسرے حصے تک فاصلے کا وقت اندازے سے متعین کر دیا۔صرف پانچ بلین سال اور وہ بھی نوری۔ اب دیر کس بات کی چاند و مریخ کے پروگرام ہی موخر کر دئیے۔ جب اونچی دیوار کے ساتھ انگور کے گچھے لٹکے ہوں تو وہ ہمیشہ کھٹے ہوتے ہیں۔
راز جاننے کی جستجو اندھیرے میں کالے دھاگے کی نسبت سفید تک پہنچنے جیسی آسان ہوتی ہے۔جیسے کبھی کبھار نقصان اُٹھا کر بھی سکون کی نعمت سے انسان مالامال رہتا ہے۔ویسے اکثر توقع سے کم نفع ملنے پر پریشانی کی صلیب پر لٹکنا پسند کرتا ہے۔یہاں تک پہنچنے کے لئے ''کہ سکون کے لمحات پہاڑوں کی طرح کوفت وبے چینی کی زمین میں کیل کی طرح گڑ جائیں''فاصلے ایسے طے کئے جاتے ہیں جیسے آنکھوں کی روشنی لاکھوں نوری سالوں کے فاصلے پر تیرتے جہانوں کو ایک نظر سے شکار کر لیتی ہے۔
قرآن کے الفاظ کئی بلین سال کا فاصلہ ایک پل میں محبوب خدا تک پہنچنے میں طے کر لیتے ہیں۔اس کلام کا ایک ایک لفظ عبادت ہے۔کائنات کے کروڑوں سالوں پر پھیلے فا صلے وجودِانسانی کو آرائش و زیبائش سے بدگمان کر دیتے ہیں۔نماز فرض عبادت ہے،اگر یہ سوچ کر پڑھی جائے اللہ سبحان تعالی کو بندے کی زبان سے اپنا ذکر محبوب ہے تو یہ عشق کے نشہ میں ڈھل جاتی ہے۔اس کا ذکر ہر پریشانی سے مستقبل کے ان دیکھے خوف سے، عدم تحفظ کے احساس سے، زندگی کی محرومیوں کی ندامت سے، رشتوں کی جھوٹی انا کی رقابت سے، خودنمائی کے احساس کی حرص سے نجات دلا کر سچائی کی روشنیوں سے راہ دکھاتا ہے۔صبر کا دامن اتنا پھیل جاتا ہے کہ دعاؤں کی جھولیاں کم پڑ جاتی ہیں۔
ایک غیر مسلم اس حقیقت سے آشنائی پاگیا۔سچائی کی تلاش میں صراط مستقیم پر چلنے کی رضامندی سے ہی سکون کے گہرے سمندر سے خوشیوں کی موتی بھری سیپیاں سمیٹنے لگا۔مگر پیدائش کے فوری بعد جس کے کان میں اللہ اکبر اللہ اکبر کا پیغام پہنچا وہ کان آج بھی حقیقت پسندانہ سچائی کی تلاش میں بھٹک رہا ہے۔علم کے قلم سے سچائی کی کتاب پر سنہری حروف میں لکھنا مقدر سمجھتا ہے۔سچ کو عقل کے پیمانہ سے ماپنا چاہتا ہے۔تصدیق کے لئے تحقیق کا سہارا چاہتا ہے۔ہبل سے اُتاری گئی تصویریںخوش رنگ امتزاج سے آگے بحث کے قابل نہیں رہتیں۔وہ اپنی تعریف کے لئے لفظوں کے سہارے کی پابند نہیں۔مگر قرآن نے کسے مخاطب کیا اسے جاننا ضروری سمجھا جاتا ہے۔
اس پیراگراف تک پڑھ کر جو پہنچے ہیں،ان میں ایک الفاظ کے بہاؤ میں بہتے چلے آئے ہیں۔جن کے لئے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ اس تحریر سے حاصل کیا مقصود ہے۔زندگی پہلے ہی مکمل اور خوبصورت ہے۔اب مزید سوچ کے بار سے ضرب افکار کی کیا ضرورت ہے۔
دوسرے وہ ہیں جنہیں مسائل اور پریشانیوں نے ستا رکھا ہے۔ہر طرف اُڑانیں بھرتے بھاری بھر کم مقابل حریف چتکرنے کے درپے ہیں۔بار بار میدان میںاُترنے کا چیلنج دیتے ہیں ۔ ایسے بہت سے چیلنجز گزر چکے۔کئی ایک اب بھی سامنے کھڑے ہیں۔مگر چیلنج کرنے والے سکونِ قلب کی نعمت کے نخلستان میں بکھرے ایک زرے سے زیادہ نہیں۔ وجود میںسکون کے احساس کا ایک سمندر صبر کی لہروں سے بے یقینی اور بد دلی کے ساحلوں سے ٹکراتا رہتا ہے۔
ضرورت سے زیادہ دنیا کی آرائش و زیبائش لالچ و حسد کی حدیں پھلانگ لے تو ایک وقت کے بعد ندامت ملامت نہ بھی بنے تو کم از کم صداقت نہیں رہتی۔جو سچائی سے منہ چھپاتے ہیںوہ کلامِ پاک تک پہنچنے کا راستہ قلب سے نہیں طے کر پاتے بلکہ رگوں میں دوڑتے لہو سے لیفٹ رائٹ حصوں پر مشتمل دماغ کے خلیات سے جانچنے پرکھنے کے کیمیکل اثرات کے زیراثر اپنا فیصلہ سناتے ہیں۔شاگرد جب خود استاد کے منصب تک پہنچ جاتے ہیں۔تو وہ اپنے پسندیدہ اساتذہ کے خود پر آزمائے فارمولوں کے ساتھ ساتھ تربیت میں کمی رہ جانے کیوجہ بننے والے نئے فارمولے بھی آزماتے ہیں۔پھر یہ سلسلہ نئی نئی جہتیں متعارف کرواتا ہے۔سیکھنے اور سکھانے کا عمل ایک کے بعد ایک چھ سات دہائیوں میں ختم ہوتا رہتا ہے۔مگر کسی بڑی نئی تبدیلی کا مظہر پانچ دہائیوں میں ایک بار ہی ہو پاتا ہے۔زیادہ تر پیروی ہوتی ہے۔رہنمائی کا علم صدی میں ایک دو کے ہاتھ ہی لگتا ہے۔جو شاگردی میں جنونی ہوتے ہیں وہ استادی میں انوکھے ہوتے ہیں۔بقول غالب!
مشکلیں اتنی مجھ پر پڑیں کہ آساں ہو گئیں
مگر اقبال  کا کہنا ہے کہ
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

تحریر : محمودالحق

Monday, April 16, 2012

محبت

2 comments
زندگی انسان کو ہمیشہ سے ہی پیاری رہی ہے۔موت کے سائے گر پھیل جائیں تو ویرانی ڈیرے ڈال لیتی ہیں۔ہونٹوں پہ مسکراہٹ ،آنکھوں میں تیرتے قطرہ نم سے خشک زمین پر بارش کی پہلی پھوار کی طرح بھینی بھینی خوشبو کے اُٹھنے تک محدود ہوتی ہے۔
جان جتنی پیاری ہوتی ہے غم جان اس سے بڑھ جاتی ہے۔دعاؤں کے لئے ہاتھ پھیلائے جاتے ہیں تو بد دعاؤں کے لئے جھولیاں۔توبہ کا دروازہ گناہوں کی آمدورفت کے لئے کھلا رکھا جاتا ہے۔گھر کے مکین مالک ہوتے ہے ،گلیاںمسافروں کی راہگزر بنی رہتی ہیں۔ مکین شک و شبہ میں  رہتے ہیں۔مسافر پلکوں پہ بٹھائے جاتے ہیں۔مکینوں سے محبت کا دعوی ،مسافروں سے پینگیں بڑھائی جاتی ہیں۔
جو قسمت میں آنی جانی ہو اسے انتظار کے مہمان خانے میں ٹھہرایا نہیں جاتا۔ایک در کا سوالی ضرورت مند ہوتا ہے۔در در کا سوالی در بدر رہتا ہے۔چلمن کے پیچھے سے دست سوال کا جواب دیا جاتا ہے۔ آنگن سے جھانکا نہیں جاتا۔
کھلے عام جو محبت کا دم بھرتے ہیں۔کہانی وہ ہی زبان زد عام رہتی ہے۔مرنے جینے کے وعدوں سے ہاتھوں پہ رنگ حنا پھیلاتے ہیں۔اللہ رسولۖ  کے ناموں کے سائبان تلے خواہشوں کے پھولوں سے سجی ردا بچھاتے ہیں۔ایک کے بعد ایک عاشق نامراد بھنوروں کی طرح گلستانوں میں منڈلاتے ہیں۔جہاں بنے سنورے پھول کانٹوں کے حفاظتی حصار سے آنکھ بچا کر مہمانداری کے انتظام و انصرام میں دل و جان سے ارمان ہتھیلی پر رکھے پھرتے ہیں۔ مجازی محبت کا نشہ شراب کی طرح سر چڑھ کر چکرا دیتا ہے۔ کھولتے ہوئے پانی کی مانند صرف بھاپ بن بن اُڑتا ہے، جو آخری قطرہ تک بھی پانی ہی رہتا ہے۔
جو محبت اختیار کی جائے وہ اس محبت سے بازی نہیں جیت سکتی جو تلاش کی جائے۔ جو محبت حق جتانے سے جیت سے ہمکنار ہو وہ دیرپا نہیں ہوتی اور جو حق پانے سے مالک کی ملکیت میں سونپ دے، موت کی پناہ میں وہ زندگی زندہ رہتی ہے۔
جو محبت بھوک مٹا دے وہ بدن سے توانائی تو ذہن سے سچائی مٹا دیتی ہے۔آنکھیں چمک تو زبان الفاظ کی کمی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ قلب دھڑک دھڑک مہمانوں کی آمد کا نقارہ ذہن  پر ہتھوڑے کی طرح برس کر بجاتا ہے۔
جو آنی جانی شے کی محبت میں بلا خوف و خطر قلم تحریر سے قلب حال بیان کرتے ہیں۔ انہیں حقیقی حق محبت کے جلوؤں کی تاب کہاں رہے گی۔چوری کھانے والے طوطے باغوں میں چوری کھانے والوں سے باعزت نہیں کہلا سکتے کیونکہ یہ طوطا کہانی نہیں کہ یہ فیصلہ صادر کر دیا جائے کہ کون کیا ہے۔
سچی محبت ایک نظر میں فریفتہ کر دیتی ہے۔آدم کو فرشتوں کے سجدے سے معتبر کر دیتے ہیں۔حکم عدولی فرشتے سے شیطان کے مقام پر لا کھڑا کر دیتی ہے۔فضیلت محبت میں جھکنے سے ہے۔ بھلا آدم کو سجدے سے کیا۔ سجدہ کا حکم ماننے کے مقام اور نہ ماننے کے انجام سے خبردار کرنا بھی مقصود تھا۔ جسے بنی نوع آدم نے صرف فضیلت کے درجہ سے مقام محبت کو مقام اعلی ٹھہرا دیا۔
پھل ہوں یا پھول ، ذائقہ ہو یا خوشبو ، رنگ ہوں یا خوبصورتی انتخاب ہمیشہ خوب سے خوب تر ہی کیا جاتا ہے۔ گھر کی سجاوٹ ہو یا کپڑوں کی بناوٹ ہر کمی اور ہر خامی پر نظر رکھی جاتی ہے۔پھر دور کرنے میں بہتر سے بہتر صلاحیت بروئے کار لائی جاتی ہے۔زندگی اچھے برے ، نئے پرانے کی تقسیم در تقسیم سے بہترین کے انتخاب نظر پر رکتی ہے۔پسند قربانی کے جذبہ سے سرشار ہوتی ہے۔نا پسندیدگی معیار میں پستی سے اوپر نہیں اُٹھتی۔
محبت کے جذبات سچائی کے علمبردار ہوتے ہیں۔سچائی حقیقت سے ہے، حقیقت حق سے ہے،حق محبوب سے ہے،محبوب محبت سے ہے،محبت سچائی سے ہے،سچائی سچ سے ہے ، سچ کلام سے ہے،کلام امین سے ہے،امین صادق سے ہے،صادق طلوع سے ہے،طلوع آفتاب سے ہے،آفتاب روشنی سے ہے،روشنی کرن سے ہے، کر ن نور سے ہے،نور جلوہ سے ہے، جلوہ طور سے ہے،طور ظہور سے ہے،ظہور قرآن سے ہے، قرآن محمدۖ سے ہے اور محمدۖ  اللہ سے ہے۔ 

تحریر : محمودالحق

Sunday, April 15, 2012

ہدایت یا روایت

1 comments
تاریخ کے ٹیچر کے کمرے میں داخل ہوتے ہی مانیٹر کہتاکلاس سٹینڈ۔ تمام طالب علم مؤدب کھڑے ہو جاتے۔ ٹیچر ہاتھ کے اشارے سے انہیں بیٹھنے کے لئے کہتا۔طالب علم روزانہ کی طرح اپنے اپنے بستوں سے کتابیں اور نوٹ بکس نکالتے۔ انہیں ہر روز ایک نئے سبق کو پڑھنے کی عادت سالہاسال سے تھی۔ ہر اگلی جماعت میں ایک کے بعد ایک نئی سبق آموز کہانی ان میں اخلاقی ، مذہبی اور نفسیاتی تربیت کے پہلوؤں کو اجاگر کرتی۔ انہیں ہمیشہ تاریخ کا آئینہ دکھا کر سمجھانے کی کوشش کی جاتی رہی۔کیسےٹیپو سلطان نے اپنے دشمن کو میدان جنگ میں گھوڑا پیش کیا۔ وہ زمانہ ٹیکنالوجی کا نہیں تھا۔قلعوں پر پتھر برساتی منجنیق ہی جدید ترقی کا شاخسانہ تھی۔ ٹی وی ریڈیو درکنار اخبار نام کی بھی کسی شے کا وجود نہیں ہوتا تھا۔ گرمیوں میں جس جنگ کا فیصلہ ہوتا۔ موسم سرما میں دور درازکے علاقے اس سے آگاہ ہوتے۔ اس بات کو یوں بھی سمجھا جا سکتا ہے،کولمبس کے 1492  ء میں امریکہ دریافت کرنے سے پہلے دنیا مکئی یعنی کارن کے نام سے نا آشنا تھی۔ بلکہ آلو ، ٹماٹر جیسی نعمتیں بھی ہنڈیا میں جلنے بھننے سے محروم تھیں۔ اور ریڈ انڈین معمولی گھوڑے جیسی بنیادی سواری سے بھی محروم تھے۔
دنیا میں انسان نے ایک کے بعد ایک نئی شے کو متعارف کرایا۔ اس کا سہرا جستجو سے زیادہ ضرورت کو جاتا ہے۔ اسی لئے تو ضرورت ایجاد کی ماں کہلاتی ہے۔ جدید دنیا کی ترقی کے اہم کرداروں میں ایک لائبریری بھی ہے۔ جہاں جستجو نے تحقیق کا راستہ اپنایا اور انسان کو اس راہ پر ڈال دیا کہ وہ فاصلوں کو علم و رقم کی تلاش میں سر کرنے لگا۔ جس کی موجودہ شکل ہمارے سامنے ہے جہاں حسب ذائقہ پھل و سبزیوں کی تجارت اختیار کی جاتی ہے۔ اگر اس شے کا وجود نہ بھی ہو کیلنڈر ایسا ضرور مل جائے گا جہاں سے اس کی تصویر اور نام سے پہچان رہتی ہے۔
انسانی تاریخ میں ہمیشہ سے انسانوں کے پرندوں کی طرح ایک علاقہ سے دوسرے علاقہ میں نقل مکانی کے شواہد ملتے ہیں۔ مگر پورے قبائل کی نقل مکانی کے شواہد کم ہیں۔ ایسے انسان جو اپنے حال سے مطمئن نہیں یا جنہیں دوسرو ں سے آگے بڑھنے کی لگن ہو، ہمیشہ سے ہی ایسی منزلوں کے مسافر بنتے ہیں۔ وہ اپنے راستے میں آنے والی ہر مشکل گھڑی کو موت کی طرح ٹال دیتے ہیں اورکھلے سمندروں میں کشتیوں سے ساحل کنارے پہنچنے کی آرزو میں چند ایک اپنی جان سے بھی چلے جاتے ہیں۔
 قوموں کے اثاثے ان کی لائبریریاں ہوتی ہیں اور لائبریری کے روح رواں ان کے قائد۔جن کے دم سے وہ آباد ہیں۔ جو مرنے کے بعد بھی اقبالیات اور غالبیات بن کر زندہ رہتے ہیں۔ چاہے مذہب ہو یا ادب ، تاریخ ہو یاسیاست اپنے اپنے پیرو کاروں کے سہارے نسل در نسل عقیدت مندوں میں کسی روحانی مرشد کی طرح فیض پہنچاتے رہتے ہیں۔ یہی وہ طبقہ ہے جو معاشرے میں بنا امارت کے بھی تعظیم وتکریم کے لائق جانا جاتا تھا۔
آج کا دور ایک مختلف دور ہے ہدایت کی بجائے روایت کا راستہ اپنایا جاتا ہے۔ ترقی کرنے کی پاداش میں قوموں کو اجتماعی خود کشی کے لئے مواقع فراہم کئے جاتے ہیں۔ کامیابی کے جس زینے پر خود چڑھتے ہیں دوسروں کو احساس محرومی کی بلند و بالا عمارتوں سے دھکا دیتے ہیں۔ نامعلوم طریقے سے احساس کمتری پروان چڑھتا رہتا ہے۔جو مایوسیوں کے اندھیرے میں انہیں دھکیل دیتا ہے۔جو ان کا مقدر نہیں۔
بچوں کے تعلیمی ریکارڈ آن لائن دوسروں کو دکھائے جاتے ہیں تاکہ وہ بھی ہدایت کی بجائے روایت کی بھینت چڑھ جائیں۔ انسان نے اخلاقی اقدار کو دنیاوی قابلیت کے چوغے پہنا دیئے ہیں۔ نصیحت اور گائیڈ لائن کی آڑ میں دوسروں پر برتری ثابت کرنے سے ضرور احساس برتری کو تقویت پہنچاتے ہوں گے۔ چند کتابوں سے زندگی کے مفہوم اخذ کر لئے گئے۔ پھر علم کی معراج پر تجربات کی مہر ثبت کر دی گئی۔
نناوے فیصدکرپشن اور ہٹ دھرمی جس دور کا خاصہ بن جائے وہاں ایک یا دو فیصد اچھائی کے پنپنے کے لئے وسائل سے زیادہ طاقت کی ضرورت ہوتی ہے۔ جس کے لئے سچائی کی ضرورت ہوتی ہے اور سچائی کے لئے ہمت کی ۔ ہمت کے لئے بھروسہ کی۔ بھروسہ کے لئے عہد کو پورا کرنے کی یقین دہانی اور عہد ایمان کا متقاضی ہے۔
نوجوان جس منزل کی تلاش میں نکلتے ہیں۔ بوڑھے جو بھٹکے ہیں انہیں پھر اسی راستے پر ڈال دیتے ہیں۔ سبق انہیں یہ دیا جاتاہے کہ گھوڑے دشمنوں کو دینے سے قوم ترقی کی راہ پر نہیں چلتی بلکہ مکئی ، آلو اور ٹماٹر کی دریافت نے دنیا کو ایک نئی جہت متعارف کرائی۔ بدلے میں انہیں گھوڑے جیسی سواری کی نعمت عطا ہونا بذات خود ایک بڑی نعمت ہے۔
جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ایک بنچ پر بیٹھے دو طالب علم سالہاسال کے بعد بھی بستے میں سے کتابیں نکال کر قصے کہانیوں سے آگے نتائج حاصل نہیں کر پاتے اور دو متضاد سوچوں کے ترجمان بن کر ایک سکول سے نکل کر دنیا کے دوسرے کونے تک دو مختلف ، متضاد نظریات کے حامل پروردہ رہتے ہیں۔ جنہیں دوسروں کے مسائل میں جھانکنا اس لئے اچھا لگتا ہے تاکہ وہ ان کی کامیابی کو قریب سے دیکھ کر انہیں شاباشی دے سکیں۔
 ۔28 سال پہلے آزادی کی نعمت سے ہمکنار ایک ملک کے دو سو کے قریب باشندے   1975 میں دنیا کے ایک بڑے شہر میں آباد ہوئے۔ ان کے قریب ہی ایک دوسرے ملک جسے آزاد ہوئے چار سال ہوئے تھے چند گھر آباد ہو گئے۔37 سال بعد وہ چند گھر چالیس ہزار کی تعداد تک جا پہنچے اور نظریہ کی بنیاد پر  65 سال قبل آزادی حاصل کرنے والے اب وہاں شائد پچاس بھی نہ رہے ہوں۔ سب اونچی پرواز کے شوق میں پچاس میل کے علاقے میں امارت کی نشانیاں بن گئے۔ قوموں کو پڑھنے کے لئے کسی فارمولہ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ قومیں اپنا آپ دکھاتی ہیں، تاریخ قوموں کو آئینہ دکھاتی ہے۔ایسا کوئی سانچہ نہیں جس میں ڈھل کر قوم بنتی ہو۔

تحریر: محمودالحق

Sunday, April 8, 2012

سچ کی تلاش

1 comments
وہ سچ کی تلاش میں تھا۔ اس نے آنکھ ایسے ماحول میں کھولی جس کی تمنا دوسرے کئی برس سپنوں کی طرح کھلی آنکھوں میں بساتے ہیں۔مگرجن میں مایوسی لوڈ شیڈنگ کے اندھیروں سے بھی زیادہ تاریک ہوتی ہے۔معاشرہ سے کٹ کر ضرورت صرف معاش رہ جاتی ہے ۔ پھر انسان بھی انس آن نہیں رہتا ۔ رشتوں کے ٹوٹنے کی آواز سوکھی لکڑی کے تنے سے الگ ہونے جیسی ہوتی ہے مگر سنائی نہیں دیتی ۔ اپنے پن سے جدا ہونے کا درد محسوسات سے خالی کبھی نہیں ہوتا ۔
اس کا یہی درد پیشانی پہ پڑی سلوٹوں سے عیاں تھا ۔ہر سوال کے آخر میں کیوں اور پھر ایک نئے سوال کی ابتدا ء ، یوں نہ تو وہ سوال سے اپنے آپ کو روک پایا اور نہ ہی جواب سے تسلی ۔" کیوں "نے اس میں گھبراہٹ کا سایہ پھیلا رکھا تھا ۔ سایہ اتنا گہرا ہو گیا کہ مایوسی کے اندھیرے میں اسے روشنی کی تلاش نے بے چین کر دیا۔ باپ سے سوال کرتا تو وہ دوسری بیوی اور اس کے پہلے بچوں کے معاملات میں الجھنے کی وجہ سے اسے پہلی غلطی کی سزا نظر آتا ۔
اس کی پہلی بیوی دوسرے شوہر کے ساتھ رہنے کے لئے اس کے بچوں کو بھی ساتھ لے گئی اور دوسری بیوی اپنی پہلی اولاد کے ساتھ ساتھ اس کی بچی پر بھی اپنا حق جتاتی ۔ ہمسائے اس سے نالاں ، دوست اس سے کنارہ کرتے ،مذہب میں اسے پناہ نہ ملتی ۔وہ الجھتا چلا گیا ۔نشہ کی بجائے اس نے دوا کا سہارا لیا ۔ جس سے خیالات کچھ دیر سستا لیتے مگر آنکھ کھولتے ہی اسے بے رحم سوالوں کے تھپیڑے آ لیتے۔وہ سوالوں کی گٹھڑی کندھوں سے اوپر دماغ میں سجائے سوالی بنا پھرتا ۔
آخر اسے کس کی تلاش تھی۔ کہیں رشتوں سے فرار کا راستہ ڈھونڈنے کے لئے سہارے کی تلاش میں تو نہیں مارا مارا پھر تا رہا ۔
ملاقات دو سری بار سوال پہلے والا ۔
اسے ایسی کتاب کی تلاش کیوں جس کے ایک ایک لفظ پہ سچائی لکھی ہو۔ بندے پہ جس کا اثر تو ہو مگر دسترس و اختیار سے اوپر ہو۔
جن کی نظریں اپنے چاروں اطراف برپا ہنگامہ خیزی سے دوچار ہوں۔ دماغ کے تندور میں خیال کے پیڑے سے اختلاف کی روٹی پکانے کا عمل جاری و ساری ہو۔ وہاں قلب میں میوے انتظار میں ہی سوکھ جاتے ہیں ۔
جو زندگی آنکھوں اور کانوں سے بسر کرتے ہیں زندہ قلب سے نہیں رہتے ۔ جو لفظ پڑھنے یا سننے سے ذہن میں سما جائیں مگرقلب میں نہ اتر پائیں تو برین واش تو ہو جاتا ہے مگر قلب صفائی سے محروم رہ جاتا ہے ۔
دروازے پہ دستک گھر کے مکین سے تعلق کی غماز ہوتی ہے۔ مکین سے محبت ہو تو دستک ملائمت احساس سے بھری ہو گی۔ دوسری صورت میں ہاتھ کی ضرب آنے والے کے ارادے کا ڈھنڈورا پیٹے گی۔
اللہ سبحان تعالی کے فرمان تک پہنچنے کے لئے ذہن کے دریچے بند کر کے قلب کی سیڑھی سے سچائی کی رسی تک رسائی ممکن بنائی جا سکتی ہے۔ اگر جینے میں کیوں ، کیا ، کیسے کےحروف اضافی کی تکرار ہو تو سوالوں کی بھرمار کے وزن سے پیشانی پہ سلوٹیں بڑھتی ہی رہتی ہیں ۔
چاندپر پڑتی سورج کی شعائیں اسے گھٹا بڑھا کر تاریخوں میں بدل دیتی ہیں۔ یہی شعائیں زمین پر دن رات کی تمیز کرتی ہیں۔ اس سے آگے کا علم نہیں ۔ کہیں مفروضے تو کہیں کہانیاں ہیں ۔
زمین میں ننھے بیج کے دبانے سے خوشبو اور مہک میں لپٹنے تک پھل اور پھول ایک وقت کی حقیقت کے عکاس ہیں ۔ پل بھر کے چکھنے کی داستان نہیں۔جو ابر کے کرم کے محتاج ہیں۔ جو اتاریں نہ جا سکیں تو خود ہی اتر کر زمین سے لپٹ کر فنا ہو کر پھر نئی زندگی بن جاتے ہیں ۔
رب العالمین کا تصور کرنے کے لئے بند کمرے سے نکل کر کھلے آسمان کے نیچے آنا ہو گا۔ نعمتوں کا تصور باغوں و بہاروں سے جدا ہو کر رنگ نہیں دکھا پائے گا۔ مہتاب کو اپنا کہہ دینے سے کسی کی ناراضگی کا اندیشہ نہیں رہتا۔کیونکہ زمین کے عشق میں وہ خود دیوانہ وار جھومتا ہے۔
ہوائیں زندگی کی محبت میں بسترسے لپٹی سانس تک آمدورفت جاری رکھتی ہے جو زرد پتوں کو گرا دیتی ہیں اور آندھی بن جائیں تو اُڑا دیتی ہیں ۔خیالات کی زمین پر جب شک کی پنیری لگائی جائے گی۔ تو اختلاف کی فصل کو کاٹنا بہ امر مجبوری بن جائے گا۔دوسروں کا احتساب کرنے سے پہلے اپنا محاسبہ ضروری ہے۔ ترازو میں تولنے والا ایک طرف ہمیشہ اپنے پاس باٹ رکھتا ہے۔ جس کے وزن کا پورا ہونا تول کی گارنٹی ہے۔
نئے ماڈل کی کار ، پوش علاقے میں مہنگے بنگلے خواہشات کے غلاموں کی امارت کی منڈیوں میں نیلام ہونے کی نشانیاں ہیں۔ جسے پانے کے لئے آزادی کے پروانے اپنی جانوں پر کھیل جاتے ہیں ۔
باتیں تو پرانی تھیں اسے نہ جانے کیوں نئی محسوس ہوئیں۔ شائد اسے دنیا میں جینے کے لئے جینے کا ڈھنگ ہی بتایا جاتا رہا۔ مگر سچ تو قلب میں ایسے اترے جیسے پھل میں رس اترتا ہے۔کلام کا اثر قلب کے پاک ہونے سے بڑھ جاتا ہے۔ علم تو معلم کا محتاج ہو سکتا ہے۔ عقیدتِ عشق،محبوب کے وصل سے وابستہ نہیں۔ خوشنودی کے لئے رضا بھی درکار ہوتی ہے۔
زیادہ سوالات کبھی گتھیاں سلجھانے کی بجائے خود ہی اُلجھ جاتے ہیں۔ جس سے طالب متعلم ہو جاتے ہیں اور فیصلے کرتے چلے جاتے ہیں۔ جو علم کی معراج تو بن جاتے ہیں مگرعمل کی میراث نہیں۔ برسہا برس کی دھول چند لمحوں میں قلب سے دھل جائے تو شکریہ کا ہار الفاظ کے گلے میں نہیں ڈالا جائے گا ۔بلکہ اس قلب کو پہنایا جائے گا جو سچائی کی تلاش میں در بدر بھٹک رہا تھا ۔ لفظوں کو موتیوں کی مالا بنا کر جس نے پرو لیا ۔

تحریر : محمودالحق

Saturday, February 25, 2012

دنیا کی زندگی اور اس کی زینت

6 comments
ان دیکھے مستقبل کے بارے میں کبھی پختہ اور مکمل یقین رہتا ہے تو کبھی شکوک و شبہات پیدا ہوتے رہتے ہیں ۔ اکثر بچوں کے مستقبل کو ابتدائی ایام زندگانی میں ہی تابناک مستقبل کی صورت میں پروان چڑھایا جاتا ہے ۔ مگر فیصلہ حالات اور قابلیت کی بنا پر اپنے منطقی انجام تک پہنچتا ہے ۔ ذہین بچے 80 % سے اوپر نمبروں یا اے اور اے + کے ساتھ ایکدوسرے سے بڑھ چڑھ کر مقابلے میں جیتنے پر کمر بستہ رہتے ہیں ۔ اوسط طالبعلم سکولوں سے بھاگ کر ورکشاپوں میں کام کرنے والوں سے بدرجہا بہتر شمار میں رہتے ہیں ۔ ذہانت کی درجہ بندی بچوں میں بزرگوں کے اختیار کئےگئے قوم پرستی ، فرقہ پرستی اور ذات پرستی جیسے درجوں کی طرح منقسم رہتی ہے ۔جیسے درجہ چہارم کے ملازمین درجہ اول کے افسران سے مصافحہ سے آگے تعلقات کی استواری سے محروم رہتے ہیں ۔
کب ، کیسے ، کیوں اور کہاں جیسے اکثر سوالوں کے جوابات ساحل سمندر پر رہتی ریت سے لے کر اونچے اونچے پہاڑوں پر جمے پتھروں میں اُلجھ کر رہ جاتے ہیں ۔ پہاڑوں سے اُبلتے چشمے ریت کی محبت سے محروم کیوں رہتے ہیں ۔اور کنکریوں کا ساتھ ہمیشہ کیونکر رہتا ہے ۔
یہاں نظام تعلیم ، مادی وسائل یا معاشرتی مساوات کا پوسٹ مارٹم کرنا مقصود نہیں ۔جو کہنا چاہتا ہوں اسے ایک مختصر کہانی سے سمجھانا بھی چاہوں گا ۔ اگر دل نہ مانے تو اس پر عمل کرنا بالکل ضروری نہیں ۔
فلاسفی کا ایک پروفیسر کلاس روم میں اپنے سامنے مختلف اشیاء رکھے کھڑا تھا ۔جب کلاس شروع ہوئی تو اس نے خاموشی سے ایک خالی بڑے مرتبان کو دو انچ سائز کے پتھروں سے بھر دیا ۔
پھر اس نے طالب علموں سے پوچھا کہ کیا مرتبان بھرا ہوا ہے ۔
وہ یک زبان بولے : ہاں
تب پروفیسر نے کنکریوں سے بھرا ایک بکس پتھر بھرے مرتبان میں ڈال دیا ۔ اور مرتبان کو ہلکا سا شیک کیا ۔کنکریاں پتھروں کے اندر جگہ بناتی ہوئی ٹھہر گئیں ۔
تب اس نے پھر سٹوڈنٹس سے پوچھا کہ کیا مرتبان بھرا ہوا ہے ۔
انہوں نے جواب میں کہا : ہاں
اس کے بعد پروفیسر نے ریت سے بھرا بکس اُٹھایا اور اسے مرتبان میں انڈیل دیا ۔ جس میں پتھر اور کنکریاں پہلے سے موجود تھے ۔ ریت نے مرتبان میں موجود ہر خالی جگہ کو پر کر دیا ۔
تب پروفیسر نے پھر اپنا سوال دھرایا : کیا مرتبان بھرا ہوا ہے ؟
سٹوڈنٹس یک زبان بولے: جی ہاں
پروفیسر نے کہنا شروع کیا کہ میں تمہیں یہ شناخت کرانا چاہتا ہوں کہ یہ مرتبان تمہاری زندگی کی نمائندگی کرتا ہے ۔ اور پتھر تمہاری زندگی کی ضروری چیزیں ہیں جیسے تمہاری فیملی یعنی ماں باپ ، بیوی بچے ، عزیز رشتہ دار اور تمہاری صحت ۔ اگر تم ہر چیز کو کھو بھی دیتے ہو اور یہی باقی رہتے ہیں تو پھر بھی تمہاری زندگی بھرپور رہے گی ۔کنکریاں تمہاری زندگی کے دوسرے معاملات کی نمائندگی کرتی ہیں ۔جیسے ملازمت ، گھر ، سواری وغیرہ اور ریت ان سب کے علاوہ ہر چھوٹی بڑی زینت کی چیز ہے ۔
اگر تم مرتبان میں سب سے پہلے ریت بھر دو تو پتھروں اور کنکریوں کے لئے جگہ نہیں بچے گی ۔ تمہاری زندگیاں بھی اسی طرح ہیں "۔

اگر ہم اپنی زندگی میں تمام وقت اور طاقت غیر ضروری معاملات پر صرف کر دیں گے ۔ تو ہماری زندگی میں ان کے لئے جگہ نہیں بچے گی جو ہمارے لئے اہم ہیں ۔جو ہمیں خوشی دیں ان پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ پہلے ترجیحات کو طے کرنا ہے ۔ جو ہمارے لئے اہم اور ضروری ہیں انہیں زندگی میں پہلے بھرنا ہو گا ۔ حقوق و فرائض کی ادائیگی کے معاملات ، تجارت کے اصول وضوابط طے شدہ ہیں ۔ ان کے لئے بڑے واضح احکامات ہیں ۔لباس کے تراش خراش میں پردہ کا لحاظ رکھنا اشد ضروری ہے ۔ اور دوسرے معاملات میں اعتدال کا راستہ اختیار کرنے کی ترغیب ہے ۔ تحریص کی ممانعت ہے ،علم میں رغبت ہے ، افکار میں جہت ہے ، سوچ میں مفارقت ہے ، عقل میں شراکت ہے ، نظریہ نظر شرارت ہے ، نیکی میں بہشت ہے ، عبادت میں قربت ہے ۔
جو کوئی چاہتا ہے دنیا کی زندگی اور اس کی زینت ، ہم ان کے لئے ان کے عمل اس (دنیا) میں پورے کر دیں گے ۔اور اس میں ان کی کمی نہ کی جائے گی۔  ۱۵   یہی لوگ ہیں جن کے لئے آخرت میں آْگ کے سوا کچھ نہیں ، اور اکارت گیا جو اس (دنیا) میں انہوں نے کیا اور جو وہ کرتے تھے نابود ہوئے ۔
سورۃ ھود ۱۶
جان لو کہ یہ دنیا کی زندگی محض کھیل اور تماشا اور زیبائش اور ایک دوسرے پر آپس میں فخر کرنا اور ایک دوسرے پر مال اور اولاد میں زیادتی چاہنا ہے جیسے بارش کی حالت کہ اس کی سبزی نے کسانوں کو خوش کر دیا پھر وہ خشک ہو جاتی ہے تو تُو اسے زرد شدہ دیکھتا ہے پھر وہ چورا چورا ہو جاتی ہے اور آخرت میں سخت عذاب ہے اور الله کی مغفرت اور اس کی خوشنودی ہے اور دنیاکی زندگی سوائے دھوکے کے اسباب کے اور کیا ہے
سورۃ الحدید۲۰

تحریر : محمودالحق

Friday, February 17, 2012

شاہیں کا جہاں اور

0 comments
حال سے ماضی اچھاہو تو پچھتاوا ، برا ہو تو ایک خواب سے بڑھ کر نہیں ہوتا ۔رہنا تو بحرحال حال میں ہوتا ہے ۔اگر جان پر بن آئے تو جینا محال ہوتا ہے ۔کامیابی قدم چومے تو سر فخر سے بلند رہتا ہے ۔ ناکامی میں پاؤں کے جوتے کی دھول سر کو آتی ہے ۔زندگی محنت کا تقاضا کرتی ہے ۔ خواب کے بغیر تو لگن بھی بنا بال وپر کی ہوتی ہے ۔
اقبال نے اپنے شاہین کو بلندیوں کا تاج پہنایا ۔ جس نے پہاڑوں کی چٹانوں کو اپنا مسکن بنایا ۔ قصر سلطانی کے گنبد تو مٹی پر پڑے پتھروں سے دھول میں اَٹے ہیں ۔شاہین اپنی فطرت ، عادت اور خصلت میں دوسروں سے ممتاز رہتا ہے ۔بھوک سے نڈھال بھی مردار سے زندگی کی بھیک نہیں مانگتا ۔جینا ان کا وقار ، زندگی ان کی شکار ، جھکنے کے نہیں روادار ۔ مگر دوستی میں ہاتھوں سے اُڑ کر شکار پر لپکتے ہیں ۔خوبصورتی میں ان سے بڑھ کر بہت ہیں مگر قیمت میں ان سے بڑھ کر کوئی نہیں ۔کیونکہ ان کا وقار پرواز سے ہے ۔ جینے کے انداز سے ہے ۔ حالانکہ ان کے شکار میں پرندے اور خرگوش ہی رہتے ہیں ۔
انسان کی پہچان کے اسباب میں سر فہرست گمراہی اور راست روی ہے ۔ اللہ جنہیں مومن کہہ کر مخاطب کرتا ہے ۔ وہ قصر سلطانی کے گنبد پر بسیرا نہیں کرتے ۔ جو ایسی خواہش رکھیں وہ شہباز نہیں ۔ اونچی پرواز میں کرگس بھی کم نہیں ہوتا ۔مگر بقول اقبال
پرواز ہے دونوں کی اسی ایک جہان میں
کرگس کا جہاں اور ہے شاہیں کا جہاں اور
جو پرواز کی طاقت رکھتے ہیں پاؤں ان کے زمین کی طاقت بھی رکھتے ہیں ۔انسان ہاتھ اور پاؤں سے زیادہ علم کی طاقت سے سرفراز ہوا ۔ یہی وہ مقام ہے جہاں فرشتے اللہ کے حکم سے سر بسجود ہوئے ۔ اسی علم کی بدولت انسان پہلے خشکی پھر پانی اور آخر کار ہوا میں سواری کرنے کے قابل ہوا ۔اسی طرح نیزوں ، تلواروں سے لڑتا بھڑتا توپوں ٹینکوں سے ایٹمی ہتھیار لے جانے والے میزائلوں تک ایجادات سے سرخرو ہوا ۔علم کی بدولت تسخیر کی خوبیوں سے مالا مال ہوتا گیا اور روح انسانی کو پابند سلاسل کرتا چلا گیا ۔
قید میں ضمیر قفس کے ہے ہجوم تنہائی
پابۂ زنجیر ہے نفسِ طائر رہائی
اونچی اُڑان تو ہے مگر شاہین جیسی نہیں ۔جہان کرگس کا ہو تو اُڑان بھی اسی کی ہو گی ۔
بقول اقبال !
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے
اس میں مٹی کی فطرت ہے تو تحریص بھی مٹی سے ہے ۔ جس کا منبع مادیت ہے ۔
خاکی کے اوڑھنے بچھونے کو زندگی ہے پرائی
خود ہی کھیتی اُگاتا ہے اور ضرورت سے زیادہ اناج پر قبضہ بھی جماتا ہے ۔ مگر مٹی نے اناج کو اُُگانے کا ڈھنگ نہ بدلا ۔ انسان کے کھانے کا ڈھنگ ضرور بدل گیا ۔ بدل تو ہر انداز گیا ۔ میلوں دوری کا فاصلہ محبت بھرے خطوط سے ناپا جاتا تھا ۔ انٹر نیٹ نے قربت کی انتہا کر دی زیادہ تر دور کے رشتوں میں ۔ اپنے خلوص بھرے خطوط سے بھی محروم ہو کر رہ گئے ۔
بھاٹی گیٹ جرمن و لندن کے قریب ہو گیا مگر لوہاری گیٹ سے دور ہو گیا ۔

تحریر ! محمودالحق

Wednesday, December 28, 2011

پیار سے ڈر لگتا ہے

1 comments
سننے میں اچھا لگتا ہے یا شائد کسی کو برا لگتا ہے ۔ معصومیت بھرا لفظ ہے پھر اس سے کیوں ڈر لگتا ہے ۔ ڈھو نڈنے پیار کو یہاں آ گئے ۔ الفاظ کڑوی گولی کی طرح مفہوم مسیحائی میں سما گئے ۔
بیماری پنپتی جزبات میں گھائل روح تمازت سے ہے ۔ کھلی آنکھوں سے نظر میں سمائے تو بند آنکھوں سے دل میں اتر جائے ۔ پھر ڈرنے کی وجہ سمجھ سے باہر ہے ۔ اگر سمجھنا یہ ہے تو ایک جملے کو اتنی پزیرائی کیوں ۔ تپھڑ سے ڈر نہیں لگتا پیار سے لگتا ہے ۔ تپھڑ سے آنکھوں میں اندھیرا چھا جاتا ہے تو پیار سے عقل پہ پردہ ۔
نفرت آگ کی حدت ہے جو جلا نہ پائے تو پھگلا ضرور دیتی ہے ۔ مگر پیار ڈوری کی مانند دوسِروں کو باہم باندھ دیتا ہے ۔
ایک ایسی روشنی جو آفتاب کی مہتاب پر پڑیں تو چاہے پہلی کا چاند بنا دیں یا چودھویں رات کی چاندنی ۔ مہتاب کرنوں کی محبت سے محروم ایک پل کے لئے بھی نہیں رہتا ۔
مگر دل ایسی زمین ہے جو حالات و موسمی اثرات کے زیر اثر سچی روشنی کی نعمت سے بھی کبھی کبھار محروم رہ جاتا ہے ۔ نفرت ، ہوس و حرص کے بادل تہہ آب سے جزبات کی بلندی کو چھو کر برس جاتے ہیں ۔ آسمان سے برسیں تو گرد و غبار کی کثافت چھٹ جاتی ہیں ۔ آنکھوں سے برس کر دل کے غبار کو نکال باہر کرتی ہیں ۔
ان باتوں سے تو پیار سے ڈر کا تعلق واضح نہیں ہوتا ۔کیا ایسا سوچتے ہیں ہم ۔
زمین کی محبت میں گرفتاری کا خوف کبھی پاس سے بھی نہیں گزرتا ۔ مگر یہی زمین زلزلہ ، سونامی ، ہریکین سے اپنا وجود سمجھائے تو خوف میں جکڑے جاتے ہیں ۔ ہماری سوچ ، ہماری زندگی حالات کے رحم و کرم پر بند بادبان کی کشتی جیسی ہے جو ہوا کے دباؤ کو برداشت کرنے سے قاصر ہے ۔
جو زندگی سے پیار کرتے ہیں وہ فنا ہونے سے ڈرتے ہیں ۔ مگر فنائی صفت پر جان نچھاور کرتے ہیں ۔ دن رات ہوس و حرص کی روشنی سمیٹتے ہیں ۔ جو پیدا اس پانی سے ہوتی ہے جس کی قدر نخلستان میں بھٹکے مسافر سے زیادہ کس کو ہو گی ۔
اللہ تبارک تعالی کی نعمتیں ہزارہا ہیں ۔ انسان گنتا وہی ہے جو مادیت پر ہوں ۔ بدن میں حرارت 98.6 سینٹی گریڈ تک کسی شمار میں نہیں ۔ حلق کے نوالے گنتی میں ہیں مگر سانس کی آمدورفت صرف علامت ہے ۔ تیز رفتاری میں قابل توجہ ہوتی ہے ۔
محبت کی تاریخ کو افکار کے آئنے میں تلاش کریں تو عکس لگن سے ملن ، قربت سے محبت تک بنتا ہے ۔ اگر نظریات سے کھوج کریں تو شکوہ سے شکایت ، حقیقت میں روایت کا عکس بنتا ہے ۔ حال کی جوانی کو ماضی کے بچپن سے کشیدہ نہیں کیا جاتا ۔ محبت کو نفرت سے رنجیدہ نہیں کیا جاتا ۔ خوشی کو غم سے بینا و دیدہ نہیں کیا جاتا ۔ اوصاف کو وصف سے حمیدہ نہیں کیا جاتا ۔ جسے بھول جانے کا خوف ہو وہ عشق نہیں جسے سنبھال نہ سکو وہ بھی عشق نہیں ۔ جو خود میں سمو لے ۔ جو خود کو کھو دے وہ عشق ہے ۔
جو  فریاد سے نہ ہو اعتماد سے ہو ۔ارمان سے نہ ہو ایمان سے ہو ۔ طلب سے نہ ہو قلب سے ہو ۔ چھپ کر نہ ہو مگر چپ سے ہو ۔ انگاروں جیسا نہ ہو مگر ستاروں جیسا ہو ۔
ڈھونڈو ایسی محبت کو جو روٹھتی نہیں ۔ جس کی چاہ سے چاشنی نہیں جو عقیدت کے جنون سے لبریز ہے ۔ جو افتراء سے نہیں اقراء سے ہے ۔ جو زنگار سے نہیں ابرار سے ہے ۔ جو اسرار سے نہیں اقرار سے ہے ۔ جو عبد سے نہیں عابد سے ہے ۔ جو ابد سے نہیں احد سے ہے ۔ واحد کی محبت زاہد کا مقام ہے ۔ بیان میں جو نہ آئے وہی انعام ہے ۔


 تحریر !  محمودالحق

Friday, August 19, 2011

ایک سوال ادھورا جواب

0 comments
پاکستان کے کسی بھی بڑے شہر میں اگر ٹریفک سگنل کے چاروں اطراف کی سرخ لائٹ کو بلنک کر دیا جائے ۔ جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ چاروں اطراف کی ٹریفک دیکھ بھال کر اور پہلے آئیے پہلے جائیے کے کلیہ پر عمل پیرا ہو تو ہمارے ہاں ایسے چوک میں کیا منظر ہو گا ۔ جہاں کوئی پولیس کا سپاہی بھی تعینات نہ ہو ۔ یقینا طوفان بد تمیزی ہو گا ۔ ہر سواری پہلے گزرنے کو اپنا حق اولین سمجھتی ہے ۔ بلکہ یہاں تک بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ سرخ لائٹ پر بھی زیادہ دیر تک رکنا محال ہوتا ہے ۔ بلا وجہ ہارن بجانا مشغلہ ایسا ہے جیسا اسمبلی میں ڈیسک بجانا ۔
ہم اکثر سنتے ہیں کہ ہم بحیثیت قوم ایسی با کمال خوبیوں کے مالک ہیں کہ علامہ اقبال کو بھی یہ کہنا پڑا کہ زرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی ۔ بلا شبہ مٹی تو زرخیز ہے جسے پانے کے لئے سنٹرل ایشیا سے لے کر یورپ تک کے حکمران ایک دوسرے کو دھول چٹواتے رہے ۔ مگر آخر کار مقامی افراد کو اپنی مٹی کی زرخیزی کو سونا بنانے کا حق مل گیا ۔ سونے کی چڑیا سمجھ کر مغربی حکمران کوہ نور تاج میں سجا کر پلٹ جانے میں ہی عافیت پا گئے ۔ منٹو پارک کے اجلاس نے جو بنیاد رکھی ۔ اقبال پارک بن کر اسے دھرنا اور جلوس سے پورا کیا جاتا رہا ۔
انگریز کی لاٹھی اور گولی کا بدلہ اس کے جانے کے بعد توڑ پھوڑ سے لینے کی کوشش آج تک جاری ہے ۔ حکمران بدل گئے مگر لاٹھی اور گولی کی سرکار نہیں بدلی ۔ بدلے بھی کیسے قانون 1861 کو ہی چند تبدیلیوں کے ساتھ جاری و ساری رکھا جاتا رہا ۔ اگر پوچھا جائے کہ جناب کیسے جاری ہے تو خبر کا حوالہ دینے میں کیا حرج ہے آرڈیننس کے تحت صوبے میں کمشنری نظام، سندھ لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 1979ءاور پولیس ایکٹ 1861ءبحال ہوگئے ہیں۔
اگرعلامہ صاحب جانتے کہ بنیادی ڈھانچہ تبدیل کرنے میں چونسٹھ سال بھی کافی نہیں ہوں گے تو زرا نم کی بجائے پوری طرح سیراب کرنے کی بات کرتے ۔ 1930 ، 1933 کی گول میز کانفرنسز کی ناکامی کے بعد دل برداشتہ قائد قوم کو ان مسلمانوں کی دگرگوں حالت زار کا حوالہ دے کر طوفان میں پھنسی کشتی کو نکالنے کے لئے خط نہ لکھتے ۔ کیونکہ مسلم لیگ کا نیا دھڑا سر شفیع کی قیادت میں مسلمانوں کی قیادت کا ترجمان نہیں تھا ۔ مگر کام ہونے کے بعد اب سب ہی ترجمانی کے دعوی دار ہیں ۔
بات تو ہو رہی تھی ٹریفک سگنل پر رکے مسافروں کی ۔ جا پہنچی آزادی کے متوالوں تک ۔ فکر کی کوئی بات نہیں قلمکار کا قلم بھی رکشہ کی طرح اپنے پاؤں پلٹنا جانتا ہے ۔ مارشل لاء کی سرخ بتی پر کئی کئی سال رکا رہتا ہے ۔ جمہوریت کی سبز بتی پر رفتار تیز کر لیتا ہے ۔
قائداعظم نے اتحاد اور نظم و ضبط کا بھی درس دیا تھا ۔ جسے یقین کے ساتھ بھٹو نے ایوب کے خلاف استعمال کیا اور بھٹو کے خلاف خود قومی اتحاد نے ۔ پھر اس کے بعد تو دس سال تک نظم و ضبط کا خوب مظاہرہ ہوا ۔ اور اس کے بعد اب تک صرف برداشت کے مظاہرے ہیں ۔ مظاہرے تو بے شمار ہیں ان کے احوال کے لئے کتاب لکھنا ہو گی ۔ کتاب کے لئے ایک عدد مصنف درکار ہوتا ہے اور چھاپنے کے لئے پبلشر اور ان سب کے لئے رقم کی مدد درکار ہوتی ہے ۔ صرف توڑ پھوڑ کی کہانی پر زر کثیر خرچ کرنا دانائی نہیں ۔ قومی معاملہ پر اس بے اعتناعی کو بزدلی سے محمول نہ کیا جائے ۔ کیونکہ
وہ اور ہوں گے کنارے سے دیکھنے والے
ہماری نہ پوچھ ہم نے تو طوفاں کے ناز اٹھائے ہیں
اس میں کیا شک ہے کہ بعض بے گناہوں نے تو کوڑے بھی کھائے ہیں ۔ اب بے چارے وہ کوڑے کے ڈھیر کے قریب بسیرا رکھتے ہیں ۔ جو اس وقت کچھ کھانے سے محروم رہ گئے تھے اب ان کے کھانے کے دن ہیں ۔
قلم بار بار پتنگ کی طرح ایک ہی طرف کنی کھائے جا رہا ہے ۔ کیا کریں برابر کرنے کے لئے کوئی میرے قائد کا جانشین نہیں ہے ۔ ولی عہد تو بہت ہیں جو تیز ہوتی ہوا میں مزید کنی کھانے کے لئے قوم کی امنگوں کی پتنگ کو مزید ہوا دے رہے ہیں ۔
اتنی لمبی تمہید باندھنے کی ضرورت پیش آنے کی وجہ بھی تو دینی پڑے گی وگرنہ اعتراض باندھنے میں حجت سے کام کیوں نہ لیا جائے گا ۔ کیونکہ نئی بات تو اس میں ایک بھی نہیں ۔ جب قائد ہی بھلا دیا تو صرف تاریخ پڑھا کر کیا سبق یاد کروایا جا سکتا ہے ۔ باد مخالف سے تو عقاب نہیں گھبرایا کرتے مگر الفاظ سیاہی سے ضرور گھبراتے ہیں کیونکہ سیاہی ہر شے کو سیاہی میں ڈبو دیتی ہے ۔ روشنی کے مینار بہت دور دکھائی دیتے ہیں ۔ لیکن جب اندھیرے سے روشنی کے دائرے میں داخل ہو جائیں تو روشنی کے منبع کی طرف دیکھنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی ۔


نوٹ ! ایک بار مغرب کی ایک شاہراہ پر سرخ بتی کو بلنک کرتے ہوئے چاروں اطراف دور دور تک پھیلی لمبی ٹریفک کو انسانی ہجوم سے بہتر انداز میں ایثار و رواداری ، نظم و ضبط کی پابندی میں دیکھا تو حیرانی ہوئی جو گاڑی اپنی حدود سے اگے چوک تک پہنچتی تو تمام گاڑیاں اس کے انتظار میں ایسے مودب کھڑے رہتے جیسے ہماری سڑکوں پر حکمرانوں کے قافلے گزرنے پر قوم کو انتظار کی سولی پر مودب کھڑا کیا جاتا ہے ۔
قومیں صرف کھوکھلے نعروں اور دعوؤں سے عظیم نہیں ہوتی بلکہ اپنے عمل و کردار سے اس مقام تک پہنچتی ہیں ۔

تحریر ! محمودالحق

Sunday, August 14, 2011

جشن آزادی مبارک تمہیں ۔۔۔ دیا سے دیا جلاؤ

1 comments
پاکستان کی آزادی کو آج چونسٹھ سال ہو چکے ۔ ایک قوم نے ایک وطن کی بنیاد رکھی ۔ ایک رہنما نے رہنمائی کی شمع جلائی ۔ قوم کے ہاتھوں میں ایک امید کا دیا تھما دیا ۔ جو دئیے سے دیا جلانے کی کوشش کے انتظار میں خود دیا ٹمٹماتا رہا ۔ بجھانے کی نیت رکھنے والے منہ کی کھاتے رہے ۔ آس ٹوٹی نہ امید ۔ جشن آزادی کی نعمت سے جگمگاتے منور ہو گئے ۔ حقیقی خوشی سے محروم طبقہ عارضی پن سے نعمتوں کا شکر بجا لانے میں کسر نفسی کا شکار رہا ۔ قوم چھتوں پر جھنڈیاں پھیلائے جشن کو آزادی کے ترانوں سے گنگناتی رہی ۔
بہت کچھ کھونے کے بعد بہت کچھ پایا تھا ۔ جو اسلام کا گہوارہ بننے میں بیتاب تھا ۔ اصول سیاست میں رہنما تو اصول معاش میں مساوات کے ترازو کے ہر پلڑے میں انصاف برابر یقین محکم تھا ۔
لیکن آج صبح عجب تھی ایس ایم ایس جو ملا شکایت سے بھرا شکوؤں سے تلا بے بسی سے تلملاتا پیغام آزادی کے رنگ سے ہرا تھا ۔ یہ جھنڈا سفید و سبز رنگ سے لہراتا خون آشوب شام کا سویرا تھا ۔ جو نئے چاند کو پہلو میں دبائے چمکتے ستارے سے روشنی پھیلانے کو بیتابی کا مظہر ہے ۔
اٹھاون کا مارشل لاء، پینسٹھ کی جنگ ۔ 71 کی آدھے وجود سے جدائی کے بعد پے در پے صدمات کا بوجھ کندھوں پر ایسے اٹھاتا چلا گیا جیسے باپ کے کندھوں پر نادان معصوم بچپن سوار ہو کر گہرے پانی سے گزر جاتا ہے ۔
آج ان کندھوں کو توانا اور طاقتور بازوؤں کے سہارے کی ضرورت ہے ۔ تو بازو بغلگیر ہونے سے گھبراہٹ کا شکار ہیں کہیں تنگدستی نے تو کہیں تنگیء داماں نے ہاتھ روک رکھا ہے ۔ خون بہانے سے نئی زندگی کو جلا نہیں ملتی ۔ اور جلانے سے جفا نہیں ملتی ۔ وفا کی سیڑھی محبت کی منزل تک پہنچاتی ہے ۔ اور محبت آسمان پر پھیلے قوس و قزح کے رنگوں تک ۔محبت تو وسیلہ ہے وفا کو منزل تک پہنچانے کی ۔
وطن ہر وقت دینے کا متمنی رہتا ہے ۔ قوم لینے میں بیتاب ۔ لیکن آج وقت نے آنکھوں سے پٹی کھول رکھی ہے ۔ لینے والے آج دینے میں تاءمل کیوں کریں ۔رگوں میں دوڑتے سرخ گرم لہو میں جو جوش زیادہ دیتے ہیں ۔ ان نوجوانوں کے عزم و حوصلہ کو ایک دھاگہ میں پرونے کی ضرورت آن پڑی ہے ۔ جہاں دانہ دانہ سے چپکا دانائی کی لڑی سے جڑا ہے ۔ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت نہیں جوش کی گانٹھوں کو وفا کے دھاگوں کی مزید ضرورت ہے ۔
جو کامیاب دکھائی دیتے ہیں وہ دراصل ناکام ہیں ۔ ہوس حرص کی محبت وفا کی چاشنی سے لبریز نہیں ۔
گاڑیوں کی رفتار ہارن کی آواز سونے کی جھنکار زندگی کے ساز نہیں ۔ سازندے ہاتھوں کے جادو سے آنکھوں کو چندھیا نے میں شعبدہ باز تو ہوں گے مگر پاکباز نہیں ۔
کیوں نہ آج یہ عہد کریں محلہ محلہ گلی گلی دھواں پھیلاتی موٹر سائیکل سے موٹر اتار کر دودھ دہی ، برگر ، پیپسی لانے میں دو پیڈل کا سہارا لیں ۔ جو بچت بھی ہے ۔ صحت بھی رکھے اچھی فارغ وقت کا بہترین مصرف بھی ۔ ٹریفک کے شور سے پاک ، انتظار کی کوفت سے دور فاصلوں کے قریب ہونے میں مددگار بھی ہوتی ہے ۔ دئیے سے دیا جلاؤ ۔ دوسروں کے محل دیکھ کر اپنی جھونپڑی مت گراؤ ۔ منزل تک پہنچنے کے لئے رفتار بڑھانے کی بجائے قدم بڑھاؤ ۔ جو قدم سے قدم ملائے گا ۔ ایک مقصد کو پہلےاپنا نصب العین بناؤ ۔ ایک کے بعد ایک رسم ضیاع کو تختہ مشق بناؤ ۔ رئیسی کی طفلانہ حرکت بچگانہ پر صرف مسکراؤ ۔
نہ گھیراؤ نہ ہی کچھ جلاؤ ۔ صرف دیا سے دیا جلاؤ

محمودالحق

Saturday, July 30, 2011

لکھنا مجبوری میری، پڑھنا کیوں تیری

0 comments
لکھنا چاہتا ہوں مگر لکھ نہیں‌پا رہا ۔ سمجھنا چاہتا ہوں سمجھ نہیں پا رہا ۔ نیٹ کے دھاگے کمزور ہوتے جارہے ہیں ۔ یا میری نظر کی کمزوری یہاں بھی حائل ہو چکی ہے ۔ چند روز تک نئے چشمے سے الفاظ صاف دیکھائی دینے لگیں گے ۔ مگر قلب کی صفائی دیکھنے میں ابھی مذید انتظار کرنا ہو گا ۔ سالہا سال کے انتظار کے بعد نہ تو محلے کی گلیاں صاف ہوئیں ۔ ندیاں بھل صفائی کی محتاج ہیں تو نالے کوڑا کرکٹ کی صفائی کے ۔
سیاستدان نرما کی وجہ سے اجلے دیکھائی دیتے ہیں ۔ مگر کردار ابھی صاف نہیں ۔ سیاست کے شیر ہیں یا ترکش میں بھرے تیر ۔ بچے کھچے عوام قطعا بھوکے بٹیر نہیں جو لڑ بھڑ کر بھڑاس نکالیں ۔ البتہ ترم کے پتے استعمال کرنے کی پابندی ہر گز نہیں ہے ۔ اب اسے مڈ ۔ ٹرم پڑھنے والے ایک نئی بحث کا آغاز خود سے کر دیں ۔ تو ہنوز دلی دور است نہ سمجھا جائے ۔ کیونکہ جج جہاں پایا جائے ۔ عدالتی کاروائی کا وہیں اختیار رکھتی ہے ۔ کم از کم ہمیں فیصلے کا اختیار نہیں ۔ کسی بھی دھاگے پر موم چپکا کر آگ جلانے کا اختیار ماچس ہاتھ میں لینے سے شروع ہو گا ۔ ہماری تو آواز بھی اچھی نہیں کہ اپنا راگ ہی آلاپ سکیں ۔ آگ تاپنے کا مزہ موسم سرما میں اچھا ہے ۔ ایسے شدید گرم موسم میں گرمی سردی صحت کے لئے سود مند نہیں ۔ سردا اگر بازار سے میسر نہ ہو تو گرما ابھی چند مزید ماہ دستیابی کا ترانہ گنگاتا رہے گا ۔
ماہ رمضان کی آمد آمد ہے پھل گھر گھر جانے کے لئے بیتاب ہیں ۔ تاکہ روزہ داروں کی افطاری میں غریب سے غریب تر کو بھی بھوک کے نڈھال پن سے نجات دلانے میں اپنا حصہ ڈال سکیں ۔ حصہ تو بقدر جثہ ہر صاحب حیثیت کو بھی بیواؤں یتیموں ، مسکینوں ، بیماروں اور لاچاروں کی مدد کرنے میں ڈالنا چاہیئے ۔ تاکہ وہ بھی شدید گرمی میں غربت کا پسینہ بہہ جانے سے نقاہت کا شکار ہونے سے اپنے آپ کو بچا سکیں ۔ اور ان کے بچے امیر کی عیال سے نفرت پال کر جوانی کی دہلیز تک انتقام کے گھوڑے پر سوار سفر طے نہ کریں ۔ بلکہ ہم سفر ہونے کے اعزاز سے نوازے جائیں ۔ ستارہ امتیاز سے نوازے جانے کی آرزو کہیں کہیں مچلتی دکھائی بھی دے تو گھر میں فوٹو فریم میں لٹکانے سے لٹکے منہ اُٹھائے نہیں جا سکتے ۔ سر اُٹھانے میں ایڑی چوٹی کا زور لگانے میں کوتاہی کی سرکوبی خیال کرنی ضروری ہے ۔
تیس دن جسم کی ضرورتوں کو کھجور اور دودھ سے توانا ئی سے بھرپور غزائیت پہنچانے کے ساتھ ساتھ روحانیت بکثرت عمل صالح سے ندامت ناصح پر ہو تو قلب تر و تازہ پھلوں سے بنایا خون سر پھرے شریانوں میں برابر پہنچ کر مقرب تکبر خاص کو اکڑاؤ کی بجائے نرم خوئی پر رواں دواں کر دے ۔ نا کہ جیو اور جینے دو کے جھنڈے تلے سانس لینے میں بھی محتاجی کا علم تھما دے ۔
کج فہمی میں کی گئی بات رات ڈھلنے کے انتظار میں اتفاق کی بجائے نفاق کے سبب اسباب پیدا کرنے کی صلاحیت سحر ہو جاتی ہے ۔ جو بات بے بات اپنا عمل دوا کی بجائے طبیب کی تشخیص کا اعلان ایجاد بن جاتا ہے ۔ علماء کے اجتہاد سے اسے الگ پڑھا جائے ۔ فتاوی ملنے سے کچھ خوش رہتے ہیں تو کچھ صرف پڑھنے سے ۔ اکثریت نہ پڑھنے میں ہی خوش ہے کیونکہ وہ ان پڑھ ہیں ۔ ملک کی تقریبا ستر فیصد شائد اسی کیٹیگری میں آتے ہیں ۔ بوڑھے طوطے تو اب پڑھنے سے رہے ۔ لیکن فال نکالنے کے لئے ان کے تجربات سے فائدہ نہ اُٹھانا کوئی دانشمندی نہیں ۔
اگر زندگی نے وفا کی تو ہر وفاء بے اختیار کو آقا سراپا کی غلامی میں تیغ زن تیار ہوتا پھر سے پائیں گے ۔
لیکن اگر آج سے بے نیام شمشیریں عقائد کے سر قلمی اعتراضات سے اختلافات کی بجائے پیار اور امن کی عبادات سے بھائی چارے کی ترغیبات کو فروغ دینا شروع کریں تو ایک ماہ ہی شائد سال بھر کی شرکتی بزلہ سنجی کا اثر زائل کرنے کا سبب ہو ۔
آؤ ایک سجدہ کریں عالم مدہوشی میں
لوگ کہتے ہیں کہ ساغر کو خدا یاد نہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محمودالحق

Tuesday, July 26, 2011

رشتے دل کے جو جان پر بن آئے

0 comments
بات نہایت مختصر بیان کرنے کی جسارت کروں تو سمجھنے سمجھانے میں پل صدیوں میں ڈھل جائیں ۔ سحر آفتاب غروب کے منظر کو مہتاب کر دے ۔ بات آفتاب کی نہیں جو شمش کہلائے تو شمشیر سے گہرا اثر اپنی حدت سے چھوڑ جائے ۔ یہاں ذکر ہے رشتوں کا جو کبھی بندھتے ہیں تو کبھی چھوٹتے ۔ گردش ایام کے پابند رہتے ہیں ۔ گردش کائنات سے سروکار نہیں رکھتے ۔ کیونکہ وہاں سرکار کسی کی نہیں ۔ موج مستی صرف اتنی کہ پاؤں زمین پر تھرک سکیں ۔ جو آنکھ سے اوجھل ہے چاہے پہاڑ کے پار ہو یا پہلے آسمان سے آگے ۔ خواہشوں کی بیڑیاں پہنے طوق غلامی سے جھکتا چلا جائے ۔ پھر بھی رہتا شکوہ اپنے پن سے جو بیگانگی میں اغیار کی پرستش میں مسیحائی کا طالب ہو ۔

Sunday, July 24, 2011

دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو مَیں

0 comments
محبت ، خلوص ،رواداری سے اپنا بنانے کے لئے جو بھی عمل کیا جائے وہ انجام خیر سے بے خبر ہوتا ہے ۔ انسان دو آنکھوں سے زمانے بھر کو دیکھتا ہے ۔ کبھی دکھ سکھ میں آنسو تو کبھی غصہ میں آگ کی لالی سے پانی بہتا ہے ۔ لیکن اس سب کے باوجود ایک دو بار ہی آنکھیں دو آنکھوں سے چار ہوتیں ہیں ۔ جو سیدھا نشانہ دل پہ لیتی ہیں ۔ پھر عقل سے نظر کی تمام طنابیں چھوٹ کر دل کی دھڑکن سے جڑ جاتیں ہیں ۔ تمام رشتے ایک نظر کے سامنے ہیچ لگتے ہیں ۔ سوچ عقل کی سٹاک مارکیٹ دلاں دے سودے میں مندے کا شکار ہو جاتی ہے ۔
آسمان پہ چپکے سفید روئی کے گالوں کی طرح برسنا قسمت میں نہیں ، صرف ٹہلنا رہ جاتا ہے ۔ جو نہ تو دھوپ سے بچاتے ہیں اور نہ ہی پیاسی زمین کی پیاس بجھاتے ہیں ۔
آسمان سے باتیں کرتے جنگلی درختوں کی طرح اکڑے ثمرات سے بے فیض ہوتے ہیں ۔ اظہار محبت کے لئے تین لفظوں سے لے کر ایجاب و قبول کے درمیان اٹک جاتے ہیں ۔ زندگی کا یہ مختصر ترین عرصہ صدیوں سے چلتی معاشرتی قدروں کے سامنے بغاوت کا علم بلند کر دیتا ہے ۔ عزت کا جنازہ نکل جانے کا غم نہیں ۔ پانے کی خواہش اتنی شدت اختیار کر لیتی ہے ۔ کہ جیت کے نشہ سے بڑھ کر نشہ کی علت میں مبتلا کر دیتی ہے ۔ بچپن ، لڑکپن کی یادیں احسان فراموشی کی شال اوڑھ لیتی ہیں ۔ میں کی عینک میں منزل مراد وحید ہو جاتی ہے ۔ کھلونوں کے بازار میں کھڑے بچے کی مانند جو صرف اپنی پسند پہ فریفتہ رہ جاتا ہے ۔ اوراگلی بار پھر کسی اور پسند پر ۔ ایک زمانہ کی پسند ایک زمانہ تک رہتی ہے ۔
حسرت کا یہ کوہ پیمائی سلسلہ خواہشوں کے انبار میں قوت خرید کی بنا پر ایک وقت میں ایک خواہش کی تکمیل کی تدپیر نہیں رکھتا ۔

Friday, July 22, 2011

بھولنے والے بھول جائیں

0 comments
اصلاح احوال کریں تو کیسے کریں اتنے ٹی وی چینل خبریں تو ایک جیسی ہیں ۔ مگر انداز بیان الگ الگ ۔ اخبارات شہر شہر نگری نگری کی کہانیاں سمیٹے ہوئے ظلم و نا انصافی کی دہائی دیتے ہوئے مظلوم کے حق میں انصاف کا جھنڈا لہراتے ہوئے عوامی خدمت سر انجام دے رہے ہیں ۔ عوامی نمائندے بھی کسی سے پیچھے نہیں حق رائے دہی کا احترام کرتے ہوئے حق سے محرومی پر سیخ پا نظر ضرور آتے ہیں ۔ عوام کی تکلیف کا احساس حکمران اور ان کے مشیران کو آنسو بہانے پر مجبور کر دیتا ہے ۔
بعض الفاظ اپنا تاریخی پس منظر چھوڑ جاتے ہیں ۔ جیسے سیاسی اداکار کا جملہ فنکاروں کو یہ سوچنے پر مجبور کر گیا ۔ کہ ان کا مستقبل کیا ہو گا ۔ ایک وقت تھا ٹی وی پر ان کے جلوے تھے ۔ تھیٹر ریڈیو سے سفر طے کرتے کرتے ٹی وی تک پہنچنا محال تھا ۔ اور فلمی سفر کی ٹکٹ ملنا تودیوانہ کا خواب تھا ۔
جیسا کہ اب محلے کی ویلفیر سوسائٹی سے کونسلر تک کا سفر طے طے کرتے کرتے اسمبلی تک پہنچنا محال ہے وزارت کا قلمدان سنبھالنا تو دیوانے کا خواب ہے ۔ جوں جوں معاشرہ اخلاقی اقدار کی کاٹ کا شکار ہے ۔ توں توں حکمرانی بندر بانٹ کے فارمولہ پر اتفاق رکھتی ہے ۔ مگر بیوقوفی میں تماشا نہیں بنتی ۔ پکڑے جانے کا ڈر ہو تو بندر کی طرح مٹھی بند نہیں رکھتی کھلے ہاتھ دکھا دیتی ہے ۔ سمجھ دار کے لئے اشارہ ہی کافی ہے ہاتھا پائی سے گریبان پھٹتے تو گالی سے روح تلملا جا تی ہے ۔ مگر کانوں میں جوں رینگنے کا دور گزر چکا ۔ جوں سے سر میں کھجلی کی بجائے ہاتھ کی میل دولت آنے کی امید سے کھجلی پیدا ہوتی ہے ۔ جو شریفوں کے لئے خجل خواری تو ہوس کے پجاریوں کے لئے سرمایہ کاری ہوتی ہے ۔ جس کے اثرات تابکاری جیسے نہیں ہوتے ۔ عوام ایسے معاملات کی جانکاری مانگتے مانگتے تانگے کی سواری کرنے کے قابل رہ جاتے ہیں ۔ رمضان کی آمد آمد ہے غریب گھرانے کئی سو روپے میں افطاری تک اپنے سحر کے اختتام کا سفر طے کریںگے ۔
ڈکشنری میں ہر لفظ کا مطلب نکالا جا سکتا ہے مگر حل نہیں ۔مشنری اور کمشنری کے الفاظ ہم آواز تو ہیں مگر ہم معنی نہیں ۔ متحدہ ہندوستان میں مشنریوں کا جادو سر چڑھ کر بولتا رہا ۔ مگر آج بھی گورا راج کی نشانی کمشنری کا جادو سر سے اتاریں تو پھر چڑھ دوڑنے کے لئے بیتاب رہتا ہے ۔ بچپن میں دوست جادوگروں کی کہانیاں پڑھ کر ایسے شہزادوں کا روپ دھارنے کی کوشش میں رہتے جو خوبصورت شہزادی کو ظالم جادو گر کی قید سے رہائی دلا کر سہرے کی لڑیاں سجانے کے لئے آنکھوں میں طلسماتی خواب بسا لیتے ۔
آج کا جدید دور شہزادیوں کی محبت کا روادار نہیں ۔ موبائل فون اور انٹر نیٹ سے قارون کے خزانے کی جستجو ہے ۔ لاکھوں کروڑوں کے سودے ادھر سے ادھر ہو جاتے ہیں ۔ کمیشن لینے والا اب کمیشن ایجنٹ نہیں کہلاتا ۔ رقم کی منتقلی ارجنٹ مانگتا ہے ۔ ایک زمانہ تھا مانگنے والے کو منگتا بھی کہا جاتا تھا ۔ اب مانگنا شرمساری کا باعث نہیں ۔ جب ملک قرض مانگ کر شرمندہ نہیں ہوتے تو ایسے میں فرد واحد کیوں فخر سے محروم رہے ۔
طعنے کوسنے دینے سے مسائل سے نجات ممکن دکھائی نہیں دیتی ۔ اور اکثر لکھنے والے یہ سمجھ لیتے ہیں کہ وہ جو سوچتے ہیں وہی لکھتے ہیں ۔ حقیقت کا ادراک رکھنے والوں کے لئے کھلی نشانیاں ہیں ۔ حالانکہ نشانی سب کی اپنی اپنی ہے جیسا کہ ۔۔۔۔۔ چلیں چھوڑیں سب ہی جانتے ہیں کہ آج باہمی اختلاف کس بات پر ہے ۔
اصل مسئلہ شائد عدم برداشت کا ہے ۔ میں میرا ، تو تیرا نے رشتوں اور باہمی احترام کی ڈوریاں ڈھیلی کر دی ہیں ۔ ابھی ٹوٹی نہیں ہیں ۔ ڈھیلی پھر بھی کسی جا سکتی ہیں مگر ٹوٹی جڑ نہیں سکتیں ۔ بہت کم لوگ ہوں گے جو خود میں نیوٹرل یعنی غیر جانبداری کا طوق گلے میں پہنے ہوں ۔ اکثریت جو پڑھ لیں یا جو سن لیں اسی پر یقین کی بنیاد کھڑی کر لیتے ہیں ۔ پھر کوئی نظریہ کوئی فلسفہ زبر سے زیر نہیں کر سکتا ۔ اگر کوئی ایسا نہیں ہے تو اپنے مکمل کوائف اور تفصیلات تیار رکھے ۔ کیونکہ ڈگریوں کی طرح انہیں بھی ردی کی ٹوکری انعام میں ملنے کی توقع ہے ۔
ہر انسان کو اپنا کام کرتے جانا چاہیئے ۔ پڑھنے والے پڑھتے جائیں ۔ لکھنے والے لکھتے جائیں ۔ سمجھنے والے سمجھ جائیں ۔ بھولنے والے بھول جائیں ۔ لینے والے لے جائیں کیونکہ مال واسباب تو یہ ہے نہیں لٹنے کا خوف نہیں کھونے کا ڈر نہیں ۔

تحریر ! محمودالحق