Showing posts with label معاشرہ ،سیاست،سفینہء محمود، سیلاب ، آفت، ،. Show all posts
Showing posts with label معاشرہ ،سیاست،سفینہء محمود، سیلاب ، آفت، ،. Show all posts

Sunday, September 18, 2011

کس کی بنی ہے عالمِ ناپائدار میں

0 comments
جب بخار کی شدت میں دو تین ڈگری کمی آتی تو تیمار داری کے لئے آنے والوں سے ہنسی مذاق میں موڈ خوش گوار کر لیتا ۔ جیسے ہی دوا کے اثرات زائل ہونا شروع ہوتے تو ٹمپریچر 105 سینٹی گریڈ تک پہنچتے پہنچتے مجھے نڈھال کر دیتا ۔ سر ایک طرف ڈھلک جاتا ۔ کھانا پینا تو پہلے ہی دواؤں کی کڑواہٹ کا شکار تھا ۔ کمزوری و نقاہت سے بدن حاجت کے لئے بھی سہارے کا محتاج ہو چکا تھا ۔ نرس گلوکوز کی بوتل میں ہی وقفے وقفے سےگھونٹ گھونٹ ٹیکے ٹکا رہی تھی ۔ خواتین تیمار داری کے ساتھ ساتھ باتیں کم اور کچھ پڑھتے ہوئے ہاتھ کے انگوٹھے سے انگلیوں کو جگا رہی تھی ۔ اور میں جاگتے ہوئے بھی مدہوشی کی کیفیت میں مبتلا تھا ۔
کسی بھی ٹیسٹ میں بیماری کی تشخیص میں مدد نہیں مل رہی تھی ۔ ڈاکٹر ٹامک ٹوئیوں سے کام چلا رہے تھے ۔ ویسے بھی مریض کو اتنی جلدی ٹانک پر ڈالا نہیں جاتا ۔ کمزوری دنوں میں بڑھتی ہے اور طاقت مہینوں میں لوٹتی ہے ۔ بیماری جڑ سے نکالنے میں گولیوں کے ساتھ ساتھ ٹیکوں کی ٹیک دینا ضروری خیال کیا جاتا ہے ۔ ہزاروں کا بل چکانے کے بعد بھی بیماری نے گردن کو اکڑنے کی اجازت نہیں دی ۔ جھکی کمر افسران بالا کے سامنے ماتحت کی عرض مندی کا منظر پیش کر رہی تھی ۔ تکلیف کا خیال آتے ہی آنکھوں کے سامنے تارے ناچنے لگتے ۔ شدید سر درد اور مسلسل قے کی وجہ سے توبہ ! توبہ ! سر دیواروں سے ٹکرانے کو جی چاہتا ۔ نہ دن کو چین اور نہ ہی رات میں سکون ۔ بھلا ہو ڈاکٹر وں کا ٹیکے لگا لگا ایسا نشہ طاری کیا کہ بیماری سے لا علم نشے کی لت کا شکار سمجھتے ہوں گے ۔ کام کے لئے گھر سے نہ نکل سکے مگر صحت و تندرستی چل چلا پر گامزن تھی ۔
جو دو دن شادی میں شرکت کی تھکاوٹ سے پھر بے حال ہو گئی ۔ سر ایک بار پھر درد کے ہتھوڑے سے ہاتھ ہولا رکھنے میں ناکام تھا ۔ ایک مہربان نے پھر سے ایک دوسرے بڑے ڈاکٹر کے در پہ جا پھٹکا ۔ سرنجوں سے خون نکال نکال لیبارٹری اسسٹنٹ نے آنکھوں میں ایسا اندھیرا پھیلایا کہ کئی مریضوں کو بوتل بھر بھر خون کا عطیہ دینے میں کبھی چکر نہیں آیا تھا ۔ رزلٹ پھر وہی ڈھاک کے تین پات ۔ ہمت مرداں مدد خدا ۔ کلینک کے باہر قطار میں انتظار سے بھی کوفت نہیں ہوتی تھی ۔ ڈاکٹر کی صورت دیکھ کر یہ پیغام ملتا کہ پاس کر اور برداشت کر ۔ سو پاس کرنے کا اختیار تو بیماری کے سپرد کر دیا اور برداشت کرنے کا اپنے ذمے لیا ۔ معدہ جن ادویات کو برداشت کر چکا تھا اب ان مہنگی ادویات کی شان باقی نہیں رہی تھی ۔
آخر انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں ۔ تمام لیبارٹری ٹیسٹ میز پر رکھے تھے جس پر لکھی اے بی سی 123 کے ساتھ پڑھ کر بھی اپنی کم علمی پر ندامت ہو رہی تھی ۔ ڈاکٹر نے بھاری فیس کے عوض جو دوا لکھی وہ سرے سے ہی پلے نہ پڑی ۔ بھاری قدموں سے ہلکے کاغذ پر لکھے نسخے کے ساتھ میڈیکل سٹور پر حاضری دی ۔ دوا ہاتھ میں تھما کر جس رقم کا مطالبہ ہوا کلیجہ منہ کو آ گیا ۔ ہزاروں روپے خرچ کرنے کے بعد یہ کیا چند روپوں کی گولیاں ہاتھ لگیں ۔ جسے بچپن میں ماں جی کئی بار کھلا چکی تھیں ۔ اگر وہ اس وقت زندہ ہوتیں تو بخار نناوے پر آؤٹ ہو چکا ہوتا ۔ ایک سو پانچ کی یاد گار انگز کبھی نہ کھیل پاتا ۔ بقول ڈاکٹر صاحب یہ ملیریا کی ایسی قسم ہے جو لاکھوں میں سے کسی ایک مچھر میں موجود ہے جو پاکستان میں نہ ہونے کے برابر ہے اور لاکھوں میں ایک مریض اس کا شکار ہوتا ہے ۔ ساؤتھ افریقہ میں یہ پایا جاتا ہے ۔ آج ہمیں کوئی فخر نہیں کہ ایسی ہی کسی مچھر کی ڈینگی قسم اب ہمارے ہاں بھی پائی جاتی ہے ۔ جس نے شہر شہر سراسیمگی پھیلا رکھی ہے ۔
کیا بات تھی ماؤں کی ، کسی ڈاکٹر سے کم نہ ہوتیں ۔ بغیر ٹیسٹوں کے ہی تشخیص کر لیتیں ۔ اور مسیحائی کرتیں ۔ آج ڈاکٹر تو بہت ہیں مسیحا کوئی نہیں ۔ بیماریاں آنے میں صبر نہیں کرتیں اور دوائیں اثر نہیں کرتیں ۔
جیسے محبتیں بہت ہیں قربانی کہیں نہیں ۔ ایک ہاتھ دو ایک ہاتھ لو کی بجائے دو ہاتھ دو اور دو ہاتھ لو کے فارمولہ پر ایک وقت میں ایک کام سرانجام پا سکتا ہے ۔ بیماری غریب کے در پر دستک ہر بار دیتی ہے ۔ بہتے برستے پانی جب گھروں میں جوہڑوں کی طرح ٹھہر جائیں تو دونوں خالی ہاتھ کم کشکول بن جاتے ہیں ۔ بلکتے سسکتے بچے ماؤں کی گود میں پانی کو جب ترستے تو وہ بھوکی شیرنیوں کی طرح خوراک کی تقسیم کرنے والوں پر جھپٹ پڑتیں ۔ لاٹھیاں جن کا مقدر کسی کا گولیاں بھی نصیب بن جاتی ہیں ۔ جہاں زندہ سنبھالے نہیں جاتے وہیں لاشیں بن اپنوں کی جدائی کو بھی زرہ بے نشان بنا دیتی ہیں ۔ غریب کی دہائی دہائیوں کے اقتدار کی ضمانت بن کر رہ جاتی ہے ۔ غربت کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی بجائے کہیں غریب ہی نہ مٹ جائیں ۔ پھر جمہوریت کے تھیلے سے موٹی بلی کیسے باہر نکالی جا ئے گی ۔ کیونکہ امیروں کو نوٹوں کی ضرورت نہیں ۔ پھر حکمرانی کے لئے لمبی غریبی لائن کے بغیر جعلی ووٹوں کی بھی انٹری ممکن نہیں ۔ نمائندگی کے دعوی کا دم بھرنے والے بھیک منگوں کی بجائے خودداری کے علمبراد بن جائیں تو عوام صدیوں پہلے ٹیپو سلطان کے کہے گئے الفاظ کہ شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے کو پڑھنے سے کڑھنے کی کوفت سے بچ جائیں ۔ شائد وہ سمجھ سکیں کہ ایک حلال لقمہ حرام اور بے ایمانی کے کروڑوں سے بہتر ہے ۔ اپنے بڑھاپے کے سہاروں کو امانت میں خیانت کر کےکردار کی جس عمارت کی بنیاد رکھ رہے ہیں ۔ کتنی آہوں کو دبا کر ،امنگوں کو سلا کر ،ضمیر کی نظروں سے چرا کر تاریخ کے گرد آلود اوراق کی شان بے نیازی تو ہو سکتے ہیں مگر شان امتیاز نہیں ۔ آخری شہنشاہ ہندوستان بہادر شاہ ظفر ایک پیغام چھوڑ گیا ہے انہی سوالیوں کے لئے ۔

لگتا نہیں ہے جی مرا اُجڑے دیار میں
کس کی بنی ہے عالمِ ناپائدار میں

بُلبُل کو باغباں سے نہ صَیَّاد سے گلہ
قسمت میں قید لکّھی تھی فصلِ بہار میں

کہہ دو اِن حسرتوں سے کہیں اور جا بسیں
اتنی جگہ کہاں ہے دلِ داغدار میں

ایک شاخ گل پہ بیٹھ کے بلبل ہے شادمان
کانٹے بچھا دیے ہیں دل لالہ زار میں

عُمْرِ دراز مانگ کے لائے تھے چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں

دِن زندگی کے ختم ہوئے شام ہو گئی
پھیلا کے پاؤں سوئیں گے کُنجِ مزار میں

کتنا ہے بدنصیب ظفر دفن کے لیے
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں

Tuesday, August 10, 2010

ہوا میں تجھے کیسے اچھالوں

6 comments
مری کے پہاڑوں پر گنگناتی فلمی ہیروئین پانچ سات سہیلیوں کے درمیان موج مستی کا گیت آلاپ رہی ہوتی ۔ تو درختوں کی اوٹ سے چند اوباش نکل کر رنگ میں بھنگ ڈالنے پہنچ جاتے ۔آپس کی بات تو تکار سے بڑھتے بڑھتے ہاتھ پکڑنے تک جا پہنچتی تو لڑکیوں کا ہاتھ جوتے کو ہاتھ میں لینے تک جا پہنچتا ۔ اور چھترول شروع ہونے سے کبھی پہلے کبھی بعد میں اوباش گرتے پڑتے بھاگ کھڑے ہوتے ۔
ایسے فلمی مناظر اکیسویں صدی میں ریلیز ہونے والی فلموں میں عکس بند نہیں کئے جاتے ۔کیونکہ اب عشقیہ داستانوں پر مبنی کہانیاں پزیرائی نہیں پاتیں ۔اس تابوت میں آخری کیل اسی کی دہائی میں مولا جٹ فلم میں دارو نے ٹھونک دیا تھا ۔جب ماکھا جٹ ناک پہ جوتے کا نشان لے کر آیا تھا ۔اور نوری نت نے دارو کو ذلت کے نشان کو مٹانے پر شاباشی دی تھی ۔ستر اسی کی دہائی میں ایسے حقیقی واقعات کے بھی چشم دید گواہ ہوں گے ۔جو سرراہ جوتا بازی کی کرشمہ سازی دیکھ چکے ہوں ۔گواہ تو شائد حکمران پارٹی کے قائد کو مخالف اتحاد کی طرف سے جوتے دیکھانے کے بھی ہوں ۔ جنہیں چمڑا مہنگا ہونے سے مراد لے لیا گیا ۔
غرض جوتا سازی کی صنعت ہو یا جوتا بازی ۔اس کے مختلف ادوار ہیں ۔اب اگر پولیس کے زیر استعمال چھتر کی بات کی جائے تو وہ ایسا ہے کہ جسے کبھی پہنا نہیں جا سکتا ۔پھر بھی اسے چھتر کہا جاتا ہے ۔شائد اس کے پڑنے کی آواز جوتے پڑنے سے ملتی جلتی ہے ۔
بیسویں صدی سے اکیسویں صدی میں جو روایات من و عن منتقل ہوئیں ۔ ان میں سر فہرست پولیس کا چھتر ہے ۔ دوسری طرف سیاسی طور پر جوتا بازی کبھی بھی اچھا شغل نہیں رہا ۔مگر گزشتہ چند سالوں میں اس صنعت کو خاصی شہرت و پزیرائی حاصل ہو چکی ہے ۔
اکثر دو مد مقابل ٹیموں کے درمیان ٹاس کے ذریعے سکہ اچھال کر فیصلہ کیا جاتا ہے کہ کون پہلی باری کا حقدار ہے ۔لیکن انفرادی اور اجتماعی طور پر جوتا ایسا تاثر نہیں رکھتا ۔ کیونکہ وہ اچھل کر ہی فیصلہ دے دیتا ہے ۔
ایک بات تو طے ہے کہ روزمرہ استعمال میں رہنے والا مقبولیت کی چوٹیاں سر کرنے کا عزم رکھتا ہے ۔ جوتے کی نوک پہ رکھنے کے محاورے سے جس نے تذلیل کی گہرائیوں کو چھوا۔ اب وہ ہواؤں میں اچھل اچھل کر خوشیوں میں پھولے نہیں سماتا ۔ بحرحال جوتا پڑنے سے اچھلنے کا درد جھیلنا زرا مشکل دیکھائی دیتا ہے ۔
اچھے نتائج کا نکلنا بعید از قیاس نہیں ۔ جوتا بازی سے دیکھنے والے ضرور سبق حاصل کرتے ہیں ۔جیسا کہ ہم نے میٹرک سائنس میں فسٹ ڈویژن میں پاس کیا ۔اتنی تفصیل تو دینا ضروری ہو گیا کہ کہیں ہمیں جوتا بازی کا شکار نہ سمجھ لیا جائے ۔ ایسا تجربہ زندگی میں دیکھنے سے زیادہ نہیں ۔گلے سے نکلنے والی ہائے ہائے سننے سے تو آنکھوں میں اندھیرا چھا جاتا تھا ۔
جب نویں جماعت کے آغاز میں نئے کمانڈر ان چیف انگلش کے ٹیچر نے چارج سنبھالا ۔ تو بچپن سے ہی کمزور یادداشت رکھنے والے اس رنگیلے کھیل کے زیر عتاب آئے ۔دونوں ٹانگوں کے نیچے سے دونوں کان پکڑنا بھاری بھر کم موٹوں کے لئے پہلے ہی کسی سزا سے کم نہیں تھا ۔اوپر سے دفعہ 12 لگنے سے سزا با مشقت بھی ہو جاتی ۔ یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ ٹیچر باٹا کا 12 نمبر پہنتے تھے ۔
اب جب کہ جوتا سازی ایک منعفت بخش کاروبار کے بعد جوتا بازی قبولیت عام کی سند حاصل کرتی تلوار بنتی جارہی ہے ۔ جو تلوار جیسی دھار تو نہیں رکھتی مگر زخم اس سے بھی کہیں گہرا دیتی ہے ۔اور اس پر مرہم رکھنا ابھی وقت نے سیکھا نہیں ہے ۔
اگر ملکی سربراہان اور سیاسی قائدین پر یہ دفعہ عوامی مینڈیٹ سے نافذالعمل ہو گئی ۔ تو امید کی جا سکتی ہے کہ اچھی یادداشت رکھنے والے ضرور امتحانات میں فسٹ کلاس حاصل کریں گے ۔ اور کمزور خلیفے اچھے اداروں کی رکنیت کے اہل نہیں ہوں گے بلکہ قابل ہی نہیں ہوں گے ۔ کیونکہ قابلیت کے لئے جہالت کے اندھیرے دور کرنے ضروری ہیں ۔
یونیورسٹی میں پڑھنے والے نہر کنارے چلتے چلتے محبوبہ کو منا بنا کر ہوا میں اچھالنے کی خواہش کریں اور محبوبہ منا بننے پر اعتراض کی بجائے اچھالے جانے پر خوش ہو ۔ تو منے کو اپنا حق یوں اچھال کر استعمال کرنے والوں پر اعتراض ضرور ہو گا ۔
اب اعتراض ہوتا ہے تو ہوتا رہے ۔خوشیوں کے لمحات بچے ہی کتنے ہیں ۔ جو اعتراضات کی بھینٹ چڑھا دیں ۔ سیلاب کی تباہ کاریوں سے کہاں سب بچے ہیں ۔انھیں بھی تو خوراک اچھال اچھال کر ہی دی جارہی ہے ۔اور وہ منے کی طرح اپنی آغوش میں سما لیتے ہیں ۔ جن کے اپنے جگر گوشے منے خوفناک سیلابی ریلے اپنے ساتھ بہا کر لے گئے ۔اور وہ کچھ نہ کر سکے ۔
ان کے چاروں اطراف اس قدر پانی ہے کہ ان کے بہتے آنسو کسی کو دیکھائی ہی نہیں دیتے ۔

Friday, August 6, 2010

عوامی پریشانی بے حسی حکمرانی

0 comments
چند ماہ پہلے جب میں اپنے مضمون " سپیدئ اَوراق کرن سیاہ میں چھپائی " میں یہ سطور لکھ رہا تھا ۔۔
"کبھی پہاڑوں سے دھول اُڑتی ہے ۔توکبھی سمندر کی لہریں ہوا کے زور پہ ساحل سے آگے بستیوں پر قہر بن جاتی ہیں ۔بادل گرج کر جب برس جائیں ۔تو پانی بہا لے جاتے ہیں ۔اگرسفید روئی کی طرح نرم حد سے گزر جائیں تو راستوں ہی میں جکڑ دیتے ہیں ۔تسکین تکلیف میں بدل جاتی ہے ۔زندگی جو بچ جائے وہ جدا ہونے والوں کی یاد بھی بھلا دیتی ہے۔ایک سے بڑھ کر ایک منظور نظر جب بپھر جائیں تو قیامت سے کم نہیں ہوتے ۔مگر ایسے حسین مناظر کی تصویر کشی کرنے والے خود سے کیوں بہک جاتے ہیں ۔جن کے دم سے رونق افروز ہیں انہیں پر آفت بن کر ٹوٹتے ہیں ۔بے ضرر دکھنے والے خدائی طاقت کا اظہار ایسے کرتے ہیں کہ جینا بھلا دیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "

تو میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا ۔ ہمارے ملک میں ایسا سب ہو گا ۔ پانی ایسے سب کچھ بہا کر لے جائے گا ۔ 
آج بارہ ملین عوام تاریخ کے بد ترین سیلاب کی تباہ کاری سے جس کسمپرسی کا شکار ہیں ۔ مستقبل کی پیش بندی تو کیا ۔ جانوں کے لالے پڑے ہیں انہیں ۔ کب اور کہاں سے اپنی زندگی کا آغاز کریں گے ۔ کوئی نہیں جانتا ۔گاؤں کے گاؤں دریا برد ہو چکے ۔ ساڑھے چھ لاکھ سے زیادہ گھر اپنے مکینوں کو بسانے سے معزوری کا اظہار کر رہے ہیں ۔
آنکھوں میں جو آج کل سیاسی موتیا اترنا شروع ہوا ۔ تو اب نظر صرف دھندلائی نہیں بلکہ آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانا شروع ہو چکا ہے ۔ بینائی کی بحالی کے لئے قطرے گن گن کر آنکھوں میں ڈالے جاتے ہیں ۔پانی جتنا بھی وافر کیوں نہ ہو تولا کبھی نہیں جاتا ۔ آنسوؤں کی برسات کی جھڑی بھی لگ جائے تو خشک ہونے تک انہیں پونچھا جاتا ہے ۔ آنسو گنے نہیں جاتے ۔
کہا جاتا ہے کہ جمہوریت میں انسان تولے نہیں گنے جاتے ہیں ۔ ایک طرف تین نیشنل اسمبلی کے ضمنی انتخابات میں دو بڑی پارٹیوں نے ایک ایک نشست حاصل کی ۔اور ایک پہ نون کی حمایت سے آزاد امیدوار کامیاب ہوئے۔ووٹوں کی گنتی کے باوجود پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما جو غصے میں بھری بیٹھی پریس کانفرنس کر رہی تھیں نے ہارنے والی نشست پر بد ترین دھاندلی کا الزام عائد کیا ۔اور وہاں دوبارہ انتخابات کا مطالبہ بھی کر دیا ۔ ایک نشست کا کھونا کسی آفت سے کیا کم نقصان ہے کیا ؟
دوسری طرف نواز شریف کولندن یاترا سے فوری واپسی کے لئے زرداری کو دیا گیا اپنا مشورہ اپنے پاس رکھنے کو کہا گیا ہے ۔اگر شریف برادران انسانوں کو گننے سے اقتدار میں آئے ہیں۔ تو زرداری صاحب بھی اسی گنتی کے نتیجے میں یہاں تک پہنچے ہیں ۔اب جب دونوں بڑی پارٹیاں انسانوں کو گننے سے اقتدار کے مزے لوٹ رہی ہیں تو انہیں تولنے کے لئے انصاف کا ترازو ہاتھ میں نہیں لینا چاہئے ۔اگرچہ اقتدار میں آنے کے کے لئے انسانوں کو تولنے کی ضرورت باقی نہیں رہی ۔ مگر بولنے سے پہلے تولنا بہت ضروری ہے اور لکھنے سے پہلے اشد ضروری ۔
بقول ان کے قوم کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ؟ ان کے مستقبل کے لیڈرو حاکم کے تعارف کی نقاب کشائی ہو رہی ہے ۔لب کشائی کی اجازت نہیں ۔ اگر کسی نے قائدین کا وزن گھٹانے کی کوشش کی تو کشتوں کے پشتے لگائے جا سکتے ہیں ۔ ہمارے قائدین گنے اور آزمائے ہوئے ہیں ۔ کوئی تلے ہوئے نہیں ہیں ۔ پڑھنے میں غلطی نہ کی جائے تولنے سے تلنے کا لفظ استعمال کیا گیا ہے ۔ پکوڑے تلنے سے نہیں ۔
آپ کو ہر حالت میں پیش کا استعمال کرنا ہو گا ۔ سیلاب کی وجہ سے کھڑے پانی سے جو دست و پیچش کی وبائی امراض پھوٹیں گی ۔اس میں ان قائدین کا کوئی ہاتھ نہیں ہے ۔ پرچیوں کی گنتی سے عوام جو انہیں دیتے ہیں ۔وہ انہی ہاتھوں سے لوٹا بنا کر انہیں لوٹا دیتے ہیں ۔ لاکھوں عوام دست و پیچش کا شکار ہوں گے ۔تو لوٹوں کی تعداد کم پڑنے کا اندیشہ ہے ۔
نورجہاں تو اب اس دنیا میں نہیں رہی ۔ ایسے میں اگر نصیبو لعل مان جائے ۔ تو اس سے پانچ سات ترانے ہی گوالئے جائیں جو خون کو گرما دیں ۔ترانوں میں یہی تو ایک خوبی ہے ۔ کہ وہ خون گرماتے ہیں ۔ شرم نہیں دلاتے ۔ اسی لئے قائدین جوق در جوق اپنے انتخابی جلسوں میں بھرپور بجاتے ہیں ۔
سیلاب میں گھرے اور متاثرہ عوام کو قطعا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ چند روز تک ہوا میں چکر لگاتے جہاز ان پر پرچیاں نچھاور کریں گے ۔ پرچیاں لندن سے تو ضرور آئی ہوں گی مگر وہ خوراک کے کوپن نہیں بلکہ ہمارے موجودہ اور مستقبل کے حکمرانوں کے فوٹو سیشن کی پرچیاں ہوں گی۔ گھبرانے کی ضرورت نہیں ۔ سابقہ صوبہ سرحد کے عوام کو جس طرح پختونخواہ کے نام سے ریلیف دیا گیا ہے ۔جنوبی پنجاب کے عوام کا یہ دیرینہ مطالبہ بھی اگلے سیلاب تک پورا ہو جائے گا ۔ عوام خوش حکمران خوش ۔
یہ سمجھ لینا کافی نہیں ہو گا کہ یہ آفت صرف پاکستان پر آئی ہے ۔پوری امت اسلام اس سے متاثر ہو گی ۔ بیڈ روم کی طرح پر آسائش ہوائی سفر کرنے والے عرب شہزادے جنہوں نے ان ریگستانوں کو شکار کے شوق میں جس طرح اندھا دھند استعمال کیا ۔ انہیں اس کا بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑے گا ۔ محلات کی صورت میں جو وہاں کے غریب عوام کی مدد کی گئی ہے ۔ ضائع ہونے کا خطرہ ہے ۔
قوم تو ویسے ہی جلد بازی کا شکار رہتی ہے ۔اورمسائل کا حل جادو کی چھڑی جیسا چاہتی ہے ۔حالانکہ ایک لیڈر کو پیدا ہونے میں ایک مارشل لاء درکار ہوتا ہے ۔ قوم سکتے میں نہ جائے ۔ اپنی جیب ڈھیلی کرے ۔ زلزلہ کی تباہ کاریوں سے نپٹنے کے لئے ملنے والی امداد کب کی ہضم ہو چکی ۔ اب نیا دور ہے نئے اخراجات کا تخمینہ اکیلے لیڈر کی بجائے پورے خاندان اس قوم کے رحم و کرم پر ہیں ۔ دل کھول کر عطیات دیں اور ماضی کی طرح کہاں خرچ کیا ۔ کے سوال سے اجتناب برتیں ۔شائد یہی وجہ ہے کہ ایک ٹی وی کی سلائیڈ پر غیر سرکاری این جی اوز کو بھرپورعطیات دینے کی اپیل کی جارہی ہے ۔
پختونخواہ کے عوام پریشان نہ ہوں ۔ سرحد کے نام کے ان کے سروں پر منڈالتے برے اثرات ٹل چکے ہیں ۔
آج کل ایک آدھ ہفتہ میں نا انصافی کی دہائی میں از خود نوٹس کی گونج سنائی دے جاتی ہے ۔ جس معاشرے میں معصوم بچوں اور خواتین کے جسموں کے چھیتڑے ہواؤں میں بکھرنے لگیں ۔اور احتجاج کرتی عوام کے بازوؤں پر اور حکمرانوں کی آنکھوں پر سیاہ پٹیاں بندھی ہوں ۔اور اس معاشرے میں پیدا ہونے والے مسائل کا حل لاشوں کے گرنے کی سیاست پر رکھا جائے۔ تو پھر از خود نوٹس کے سوا کیا چارہ رہ جاتا ہے ۔