Showing posts with label عشق، اللہ. Show all posts
Showing posts with label عشق، اللہ. Show all posts

Saturday, November 28, 2020

غبارِ عشق

0 comments
زندگی جینے کے ڈھنگ نرالے ہیں کسی کو کہیں کہ آ لوٹ چلیں تو کہتے کہ بیٹھ جاؤ اتنی بھی کیا جلدی کچھ دیر تو ٹھہرو۔ اگر بیٹھ جائیں تو کہتے کہ جانے کا وقت نہیں ہوا ، وقت بھی کبھی کسی کا ہوا ہے۔ جو پوچھ لے اسے پتہ چل جاتا ہے جو نہ سمجھے تو گزر جاتا ہے۔قلب بس سے باہر ، دل میں ایک پیاس جو بہاؤ کی طالب ہے۔ایک جنگ میں مبتلا ہیں جہاں دشمن کوئی نہیں ۔ بس روح کے لئے بدن تنگ ہوجاتا ہے۔ جیسے بچہ بڑا ہوتا ہے تو پرانے کپڑے اسے تنگ ہوتے جاتے ہیں۔ بڑھتے جسم نئے کپڑے میں سماتے ہیں۔ جسم کپڑوں کی مانند چھوٹا ہو جاتا ہے، روح پھیل جاتی ہے۔ قلب اسمیں ایک ایسے پمپ کا کام کر تاہے جو پریشر بڑھاتا ہے۔خود تو ایڈجسٹ کر تا ہے مگر بدن کو سہولت دینے پر راضی نہیں ہوتا۔ اس جنگ کا انجام کیا ہوتا ہے،نہیں جانتے لیکن اتنا ضرور جانتے ہیں کہ اس میں جسم ہارے گا،روح جیتے گی۔جسم ازل سے ہارتا آرہا ہے ابد تک ہارتا رہے گا۔ بہت سالوں تک جنگ لڑتے ہیں رشتوں کی قلبی یا ازلی۔ بہت انتظار کرتے ہیں کہ سفر لمبا ہے مسافت ہمسفروں کی ہمرکابی میں آسانی سے طے ہو گی لیکن آخر اس مقام تک آ پہنچتے ہیں کہ اکیلے چلنے کا وقت ہونے کا احساس پروان چڑھتا جا تا ہے۔ ذات کی نفی کا عمل شروع ہو چکا ہوتومیَں نظر نہیں آتی، انا شکست خوردہ ہو جاتی ہے۔بدن بنجر ایسا ہوتا ہے کہ سمندر بھی ایک بدن کی تشنگی ختم کرنے کے قابل نہیں رہتا۔ قرآن بلا تا ہے تو اللہ اپنی محبت کو سمو دیتاہے۔ ایک ایک آیت اپنی طرف کھینچتی ہے۔ دنیا مجذوب مانگتی ہے ،اللہ مومن چاہتا ہے جو اس کےکلام کو جزب کر کے پھول کی طرح کھل کر ایک وقت کے لئے ہر سو پھیل جائے۔ زندگی سے محبت میں کمی پر شک میں نہیں پڑنا چاہیئے۔اپنی ذات میں جب نہ ہونے کا احساس بڑھ جائے تو ہونے سے کیا تعلق باقی رہ جاتا ہے۔زندگی پانے اور کھونے کے درمیان معلق رہتی ہے۔ خالی غبارے زمین پر پڑے پڑےبے کار ربڑ کی صورت رہتے ہیں۔اگر ان میں ہوا بھرتے جائیں تو وہ اپنے ہم جولیوں میں ایک معمولی اشارے پر اچھلتے کودتے پائے جاتے ہیں۔خالی اور ہوا بھرے غبارے میں صرف ایک ہی فرق ہے۔ خالی غبارے دھول میں ایسے رہتے ہیں کہ پاؤں سے مسلے جاتے ہیں اور پھونکوں سے اپنی جگہ سے ہلتے بھی نہیں ۔ اس کے مقابلے میں ہوا بھرے غبارے اپنی ہمجولی ہوا کے اشارے پر بھاگتے ناچتے نظر آتے ہیں۔بعض روحوں کے لئے وجود بس ایک غبارے کی مانند ہے، اس میں اتنی توانائی پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ ایک معمولی اشارے پر اپنی منزل کی طرف محو پرواز ہو جاتی ہے۔جب دنیا کی محبت کے غبارے بڑے ہو جاتے ہیں تو روح میں اتنی طاقت نہیں ہوتی کہ وہ اس میں اتنی ہوا بھر سکے کہ وہ وجود ایک ہلکے اشارے یا حرکت سے روحوں کے اس گھیراؤ میں بلند ہونے لگے۔ غباروں سے آزادی کی جنگ میں روح ہوا کی مانند اتنی ہوا اپنے اندر بھر لیتی ہے ایمان کے پریشر سے کہ وہ اپنے اردگرد اپنے سے زیادہ طاقتور اور بڑی قوت کے مقابلے میں پرواز کر جاتی ہے۔ جو بچھڑ جاتے ہیں انہیں رک کر تلاش نہیں کیا جاتا اور نہ ہی انہیں ساتھ چلنے کا کہا جاتا ہے کیونکہ سورج کا کام ہے روشنی دینا ، فیصلہ زمین نے کرنا ہوتا ہے کہ کس کو کتنی روشنی درکار ہے اور کس کو اندھیرا۔انسان کتابوں سے گائیڈ لائن لینے کے پابند ہیں لیکن جنہوں نے جنگ سے زندگی کا آغاز کیا ہو وہ حرب و ضرب کے قائل ہوتے ہیں کتب کے نہیں۔جب جانے کا وقت ہوتا ہے تو نقارے پر بلاوہ نہیں آتا،پیغام رساں نہیں آتے،احساس آتے ہیں خیال آتے ہیں۔درخت جب پھیلنے پر آتا ہے تو اسے گھاس سے اجازت کی ضرورت نہیں ہوتی۔کیونکہ اس نے پھیلنے پر انہیں سایہ دینا ہوتا ہے جو باہر کی دنیا کی تپش برداشت نہیں کر سکتے۔ قریب رہنے والے دور کب ہوتے ہیں، بس اس درخت کے سائے سے زرا پرے ہٹ جاتے ہیں۔ کیونکہ انہیں روشنی اپنے قریب ہی رکھتی ہے ۔ مغز بھری عقل جب اپنی مرضی کر لیتی ہےتو اس کی چلنے کی معیاد پوری ہو جاتی ہے۔اس کے ہتھیار پھینکنے کا وقت ہو چکا ہو توسوچ فیصلہ کرنے کا اختیار کھو دیتی ہے۔ یہ چاہت میں کھونے پانے کی جنگ نہیں۔ جینا ہے تو جی جان سے جینا ہو گا۔پلٹنے، لوٹنے ، سوچنے اور سمجھنے کا پل نہیں جو کسی مشورے کا پابند ہو گا۔ پابندی نہیں رضامندی ہے جو رضا سے ہے ۔ کوئی پیر نہیں جو ہدایت کا مرشد ہو، کوئی مرید نہیں جو آستانہ کا مجاور ہو۔یہ عشق کی جنگ ہے جو قرآن کے لفظوں سے شروع ہوتی ہے اور اس کے مفہوم پر ختم ہوتی ہے۔جو قیام سے شروع ہو کر قیامت پر ختم ہو گی۔اب فیصلے کا اختیار کسی کے پاس نہیں۔ جس کو جانتے ہو وہ تمہیں جانتا ہے۔ جس کو پڑھتے ہو وہ تمہیں پڑھاتا ہے،سمجھنا چاہتے ہو تو سمجھاتا ہے۔ لفظ نہیں تلوار کی دھار ہیں،عرض نہیں حکم ہے۔کچھ دیکھ چکے باقی دیکھ لیا جائے گا۔ وہ دل نہیں جو خواب سجاتے رہے۔ ترازو ہاتھ میں دیا تو وزن پورا کرنے کے لئے۔حروف تول کر ملے تاکہ وہ گندم کے دانوں کی طرح چکی میں برابر پس سکیں۔ چکی کے دو پانسوں میں رکھنے کو نہیں تھا وہ دانے بن کر رہیں۔پسنے کا وقت دور نہیں ۔ دنیا کے لئے فقط لفظ ہیں جو سیاہی بن کر کاغذ پر چپک جاتے ہیں۔ لیکن لفظ بونے ، اُگانے ، کاٹنے اورسنبھالنے تک دانے ہیں لیکن چکی میں گزر کر اپنااصل ظاہر کرتے ہیں۔ دیکھنے والی اور پڑھنے والی آنکھیں الگ الگ ہوتی ہیں۔ پڑھنے والی آنکھیں خود ہی آ جاتی ہیں اور دیکھنے والی آنکھیں ایک طرف سے نظر ہٹنے پر کسی اور طرف متوجہ ہو جاتی ہیں۔بتانے اور سمجھانے کی منزلیں تمام ہو جائیں توجسم کا روح کے سامنےسرنڈر کرنے کا منظر طلوع آفتاب جیسا ہوتاہے ۔ دن کی روشنی پھیلنے کا آغاز ، جس کی شام نہیں ہوتی۔وجود کہنے سننے کی مشقت سے آزاد ہو چکا ہو تونعمتیں لذت پر انحصار نہیں رکھتیں۔ مسافر منزل نہیں دیکھتے اور نہ سفر کی صعوبت، بس ارادہ کرتے ہیں قوت ارادی وہاں تک خود ہی چھوڑ آتے ہیں۔ بہت ایسے جو افسوس میں ہاتھ ملتے رہ گئے۔ کچھ ایسے جو سمجھنے سے قاصر رہے۔کئی ایسے جو راستوں میں انتظار کے دیپ جلائے بیٹھے رہے۔ہارن بجا بجا کر متوجہ کرنے کا سفر نہیں کہ مسافر سر پر بار اٹھائے کھڑے ہوں گے۔ خالی ہاتھ آئے ہیں تو خالی ہاتھ ہی جانا ہے۔ پھرسفر نعمت ہے لذت نہیں۔ کھلے سمندر میں تیراکی سیکھنے کے لئے نہیں اترا جاتا بلکہ تیراک بن کر اترا جاتا ہے۔جس کے لئے جو حکم ہے اسے پورا کرنا ہے۔نہ مرضی ہے اور نہ ہی اختیار کہ انکار ہو۔انکار صرف ان کا جن کی ڈور ڈھیلی ہو۔ جن کی ڈور پہلے سے کھینچی ہوئی ہوان کا بس ان کے بس میں نہیں،ان میں میَں نہیں۔ ضد انا کے دریا کی کشتی ہے، جسے ڈوبنا ہوتاہے۔سہارے چپوؤں کی آس پر نہیں رکھے جا سکتے۔ لہریں بادبانوں کو ہوا ؤں کی سمت سمجھاتی ہیں۔جلد سمجھ جائیں تو جنگ کا فیصلہ فوری ہو جاتا ہے اگر نہ سمجھیں تو لہریں کشتی کو اپنی مرضی نہیں کرنے دیتیں۔ کسی نے عقیدت میں آنا ہوتاہے اور کسی نے چاہت میں، کسی نے پانے کی لگن میں توکسی نے منزل کی تلاش میں، کسی نے حق کو پانے میں توکسی نے راز کو جاننے میں،کسی نے خوشبو پانے میں تو کسی نے مہکانے میں ،کسی نے دل کے اطمینان میں تو کسی نے سوچ کے غبار میں ۔ زندگی بھی امانت ہے ، بنانے میں نبھانے میں سمجھانے میں ، بس ایک خامی بے اختیاری کے ساتھ۔ یہ کوئی بارات نہیں جو دلہن لینے جائے ڈھول کی تھاپ پہ، یہ فوج ہے جو فتح کے لئے نکلتی ہے۔

 تحریر: محمودالحق

Saturday, June 21, 2014

محبت کی متوالی مکھیاں

6 comments
تکمیل ذات و خیال کا ایسا بھنور ہے جس سے نکلنے کے لئے جسم و جاں تنکے کے سہارے کی اُمید بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ پانا اور دینا حرف غلط کی مثل رہ جاتے ہیں۔ دراصل جینا اور مٹنا جسم و جاں کے باہمی تعلق کو سانس کی زندگی تک زندہ رکھتے ہیں۔ مٹے بنا جینا کھل کر سامنے نہیں آتا۔ ذات ایک ایسا بلیک ہول ہے جو قریب آنے والی تحسین و پزیرائی کو جزب کرتا ہے۔خیال مخالف کو آلارم بجا بجا دور بھگاتا ہے۔مکمل حیات جاودانی کے منظر احساس کو چھو جاتے ہیں۔جسے مکمل جانا نہ جا سکے اسے مکمل پایا نہیں جا سکتا۔
بچپن لڑکپن جوانی کے حالات کہانیوں کے کرداروں سے مطابقت پیدا کر لیتے ہیں۔ پھر وہی کردار زندگی میں رنگ بھرنے کے لئے تلاش کے سفر کا آغاز کرتے ہیں۔یہ سفر صرف خوشبو کا سفر ہی رہتا ہے۔جسے محسوس کیا جا سکے لیکن جب پانے کی خواہش میں قریب ہونا چاہیں تو کانٹے دامن سے اُلجھنے تک آ جاتے ہیں۔حسن و خوبصورتی پائیں یا دامن بچائیں۔پھر کانٹوں سے بچنا ہی تلاش سفر کا انجام رہ جاتا ہے۔زندگی اپنے ارد گرد حفاظتی حصار بنائے رکھتی ہے۔جو نہ ہی فاصلے کم ہونے دیتی ہے۔ نہ ہی دور بھٹکنے دیتی ہے۔ لیکن جو کشش سے آزادی چاہتے ہیں وہ بندش خلا میں کھو جاتے ہیں۔ پھر وہ روشن رہیں یا تاریک نظر میں نہیں رہتے۔
انسان تاروں کی طرح چمکنا اور روشن رہنا چاہتا ہے۔ تاکہ دیکھنے والے نظر اُٹھا کر ہی دیکھ پائیں۔جن کا حاصل ، لا حاصل ہےکیونکہ جو کوشش سے بھی نہ پائے جا سکیں ۔ ان کے لئے دعائیں بھی کارآمد نہیں ہوتی۔
ہیرے سونے کو پانے سے آرزؤں کی تشنگی کم ہوتی ہےمگر ان کی تلاش میں تہہ زمین پتھروں کوئلوں تک پہنچنے کی جستجو نہیں کی جاتی۔زندگی بھر کی کوشش میں بھی شائد گلے کا ہار بھی ہاتھ نہ لگ سکے۔صرف وہی پانے کی کوشش کی جاتی ہے جس کا حاصل آسان ہو۔ مشکل ہدف اکثر نشانے سے چوک جاتے ہیں ۔
زندگی کو جاننے کے لئے کہانیوں داستانوں کتابوں سے رہنمائی لی جاتی ہے۔مگر نشانیاں عقل والوں کے لئے ہیں۔کائنات میں پھیلی ہر شے اپنی اپنی جگہ ایک الگ داستان کی غماز ہے۔صرف دیکھنے والی نظر چاہیئے۔کون کس سے کیا پا رہا ہے۔انسان خیر و شر کے امتزاج سے ہی اشرف المخلوقات کے درجہ تک پہنچا ۔چاہے وہ خیر میں بندگی کرے یا شر میں زندگی بسر کرے۔ 
انسان تکمیل کی منازل لینے اور دینے سے طے کرتا ہے۔یہ جاننا ضروری نہیں کہ کوئی کیا دینا چاہتا ہے ۔ یہ ضروری ہے کہ لیا کیا جا رہا ہے۔کیونکہ دو مخالف اجزا ایک ساتھ سامنے آتے ہیں جنہیں کبھی ہاں سے قبول کرتے ہیں تو کبھی نا ں سے دور کرتے ہیں۔ باتیں جب سمجھنے میں مشکل ہو جائیں تو فطرت میں چلے جانا چاہیئے کیونکہ فطرت سے  زیادہ خوبصورت جواب کہیں اور  سےشائد نہ مل پائے۔ 
گلستانوں میں کھلتے پھول  کیڑے مکوڑوں بھنوروں اور شہد کی مکھیوں کے لئے یکساں دعوت قربت کا اہتمام رکھتے ہیں۔چشمہ کے بہتے پانی پینے میں خوش ذائقہ اور میٹھے ہوتے ہیں مگر ان پر سفر نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح سمندر کے پانی سفر کی تھکان نہیں ہونے دیتے پر سکون رکھتے ہیں مگر پیاس بجھانے کی قدرت نہیں رکھتے۔جنہیں جو چاہیئے انہیں اسی کا قصد کرنا ہوتا ہے۔ 
جو مکھی پھول سے رس لیتی ہے وہ اسے چھتوں میں بھر دیتی ہے۔وہ شہد کی مکھی کہلائے یا ہنی بی اپنی افادیت کی وجہ سے پہچان میں رہتی ہے۔ انہی پھولوں سے پانی لینے والے حشرات ایک نظر نہیں بھاتے۔کیونکہ وہ صرف اپنی ذات کے لئے پھولوں میں سے پانی چوسنے آتے ہیں۔پانی پیا اور اپنی راہ لی۔اگر رس لینے والے نہ پہنچ پائیں تو پھول رس کے خشک ہونے پر اپنا وجود تحیل کر دیتے ہیں۔ 
دیکھنا تو یہ ہے کہ پانی لینے والے اور رس حاصل کرنے والے ایک ہی طریقہ کار پر عمل پیرا ہیں۔لیکن ان کی شناخت الگ الگ ہے جسے صرف نظر کی پہچان سے شناخت کیا جا سکتا ہے۔ ایک اپنی تشنگی مٹانے کے لئے پھول کا پانی پانے آتے ہیں۔ اگر ان کی تعداد بڑھتی جائے تو بہت جلد پھول کا رس خشک ہونے لگتا ہے ۔شہد کی مکھی کے پہنچنے سے پہلے وہ پھول رس کو اپنے وجود میں سمیٹ کر دفن ہو جاتا ہے۔
ہماری زندگی پھول کی مانند ہے اللہ کی محبت رس کی صورت میں اور دنیا کی آرزؤئیں پانی کی صورت میں لینے والوں کو دی جاتی ہیں۔اللہ کی محبت رکھنے والے اللہ کی محبت پانے کے لئے پھولوں سے محبت کا وہ رس لے کر چھتوں میں بھر بھر غلاف عشق بنا دیتے ہیں۔ جہاں عشق کے متوالے سینکڑوں ہزاروں کی تعداد میں اکٹھے رہ کر محبت کے رس نچوڑ لیتے ہیں جس میں شفا بھی ہے اور حکمت بھی۔دوسری طرف ایک ایک رہنے والے لاکھوں کروڑوں دنیاوی محبت کے حصول کے لئے پانی پی پی کر پھول کی ذات فنا کر دیتے ہیں۔
جن پھولوں کی قسمت میں غلاف عشق میں محبت کے رس بھرنا لکھا ہو۔محبت کی متوالی مکھیاں ان پھولوں تک رسائی پا لیتی ہیں۔   
     
تحریر:  محمودالحق

Wednesday, June 4, 2014

نشانِ منزل

0 comments
بلندیوں کی جس انتہا پر پرواز کرتےہیں، اسی قدر اعتماد اور اعتبار بھی رکھتے ہیں۔ اُڑنے والا جہاز ہو یا اُڑانے والا پائلٹ۔ مہارت پر آنکھیں بند کر کے اعتبار کی مسافت طے کرتے ہیں۔زندگی زندہ رہنے کی گارنٹی عطا کرتی ہے۔حالانکہ زمین پر چلتے ہوئے انسان بھی بلندیوں سے رینگتے ہوئے کیڑے مکوڑوں کی طرح بھی دکھائی نہیں دیتے۔اتنی بلندی مگر خوف کا عنصر سرے سے غالب نہیں آتا۔اس لئے کہ اگر جہاز کے پرزہ جات کے ناقابل استعمال ہونے کا یقین کر لیں تو خوف کے مارے آنکھیں کھولنا مشکل ہو جائے گا اور اگر پائلٹ کی نا تجربہ کاری کا یقین ہو جائے تو تو موت کو برحق کہنے والے بھی ایسے سفر کو خودکشی سے کم نہیں سمجھ سکتے ۔ 
ہم زندگی کی بدنی مسافرت میں اپنی جان  کا اختیار ان دیکھے انسان کے حوالے کرنے سے ہچکچاتے نہیں ہیں اور لے جانے والے پرزے بھی اپنی گارنٹی خود دیتے ہیں۔لیکن جب تخیل میں سے خواب وخیال حقیقت کا روپ دھارنے پر آتے ہیں تو ،اگر ،مگر، کیوں، کیسے  کی تکرار انہیں خوف میں مبتلا کر دیتی ہے۔ ممکن نا ممکن کی ضرب تقسیم سے فائدے کے نمبر حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔اچھے نمبروں کے لئے انسان بچپن سے امتحانات کے پل صراط سے گزرتا ہے۔اول پوزیشن پانے پر ہار کی مالا استاد کے گلے میں پہنانے میں فخر محسوس کرتا ہے۔ حالانکہ دن رات کی محنت سے حاصل وجود کسرت سے ہوتا ہے۔ لیکن رہنمائی اور پابندیٗ اوقات اسے مقصدکی تکمیل تک پہنچا کر دم لیتی ہے۔
ذات کی پہچان کا سفران تمام مسافتوں سے کہیں زیادہ توانائی کا طالب ہوتا ہے۔اس منزل کے مسافر جب بلندیٗ پرواز میں رہنما کے گلے میں مہارت اور قابلیت کی مالا پہنا دیتے ہیں تو انسانوں کی بھیڑ  سے دور ہوتے ہوئے بھی وہ محسو س انہیں قریب  کرتے ہیں۔
جو پھول خوشبو دیتا ہے وہ رنگ بھی رکھتا ہے۔جو دلکشی میں جازب نظر ہوتے ہیں۔جن کی تعریف نہ کرنا بھی خوشبو سے نا انصافی کے زمرے میں آتی ہے۔ان رنگوں میں بعض رنگ خاص ہوتے ہیں۔خوشبو سے مہکا دیتے ہیں۔ان کا عرق بھی آنکھوں کی بینائی کو شفا بخشتا ہے۔لیکن انہیں پھر بھی مخصوص و محدود نہیں کیا جا سکتا۔خوشبو چھپائی نہیں جا سکتی جب بھی کھولیں گے وہ دوسروں تک پہنچ جائے گی۔اگر دوسروں کو اس سے محروم رکھنا چاہیں گے تو خود بھی اس سے محروم رہیں گے۔
آسمان چمکتے دمکتے ستاروں سے بھرا پڑا ہے۔ جو طواف گردش میں پابندی سے جگہ تبدیل کرتے رہتے ہیں۔مگر ان میں ہی قطب ستارے تبدیلی کے مراحل سے کم گزرتے ہیں۔ایک جگہ قائم رہ کر دوسروں  کو صحیح راستہ کی رہنمائی کرتے ہیں۔جس سے راستہ بھٹکنے والےمنزل تک با آسانی پہنچ جاتے ہیں۔دوسروں کو بھی اسی راستہ کی 
 نشاندہی کرتے ہیں۔
پسند کی شے کو مخصوص کر لینا  انسانی فطرت میں ہے۔ وہ بلا شرکت غیرے اپنا  اختیار رکھنا چاہتا ہے۔جو اسے خود پرستی میں مبتلا کر دیتا ہے۔جو ایک لا علاج مرض کی طرح وجود ہستی کو متواتر کچوکے لگاتا رہتا ہے۔پانے کی چاہت ، قبضہ کی شدت میں تبدیل ہونے میں کچھ وقت لیتی ہے۔پھر میں کی رسیاں پاؤں کی بیڑیاں بن جانے میں دیر نہیں لگاتیں۔
آگے بڑھنے کے لئے ضروری ہے کہ حقیقت کو حق کے ساتھ سمجھا جائے۔پر پرواز کی سکت نہ رکھتے ہوں تو اونچی اُڑان خطرے سے خالی نہیں ہوتی۔انھیں پھڑ پھڑاتے رکھنا ضروری ہے۔تاکہ وقت کی مالش سے  قوت پرواز رفتہ رفتہ بڑھتی رہے۔تقویت پانے کے لئے تنہا پرواز کا شوق مہنگا پڑ جاتا ہے۔بلندی پرواز روکنے کے لئے بلند نگاہ خور ان پر جھپٹنے کے لئے ہر دم تیار رہتے ہیں۔
ایک ہی طرح کی قوت پرواز رکھنے والے اکھٹے رہ کر ہی قطبی ستارہ کے بتائے راستہ پر چلنے سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔وگرنہ سفر کی تھکان قطبی ستارہ کو آنکھوں سے اوجھل کر سکتی ہے۔
پا کر دینے کا نام زندگی ہے۔خود کو نچھاور کر دینا بقاٗ حیات ہے۔
تھکا ماندہ وجود  خودفریبی میں رہے تو حیات باقی بن جاتا ہے۔جو صرف وقت کھونے کا دکھڑا سناتا رہتا ہے۔
منزل پانا اتنا آسان نہیں ہوتا اور نہ ہی کبھی ہو سکتا ہے۔کیونکہ جو دیکھا ہی نہ ہو وہ منزل کیسی۔ وہ صرف مقام کہلاتا ہے۔مقام تک لے کر جانے والے منزل ہوتے ہیں۔جو اپنی جگہ کھڑے رہ کر راستہ کی بھل بھلیوں سےگزر کر مقام تک رسائی کی منزل پاتے ہیں۔
مہمان بن کر جانا ہو یا مہمان کا گھر آنا ہو تو تیاری مکمل کی جاتی ہے۔غسل سے لے کر نئے کپڑے اور خوشبو کو استعمال میں لایا جاتا ہے۔ فنکشن کے تمام تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے۔آغاز سفر سے پہلے ہی مقام تک پہنچنے کے تمام مراحل طے کر لئے جاتے ہیں۔
مگر جب روح کے سفر پر چلنا ہو تو گناہوں کی گھڑیاں سر پر اُٹھا کر طواف کعبہ تک چلا جاتا ہے۔اس مقام پر پہنچ کر توبہ سے دھلے نئے کپڑے زیب تن کئے جاتے ہیں۔پھر ان میں سے چند ان کپڑوں کو داغ دھبوں سے بچا کر رکھتے ہیں اور بعض دوبارہ آنے کا قصد کر کے توبہ سے دھلے کپڑے میلے کر لینے کے بعد پھر ایک نیا عہد کرتے ہیں۔
ایسی چھوٹ انسان تو گھر آئے مہمان کو بار بار نہیں دیتا۔مگر اللہ ہر بار اپنے گھر آنے والے بندے کو توبہ سے دھلے کپڑے بار بار لینے سے منع نہیں فرماتا۔
کیونکہ وہ عظم ہے عظیم تر خالق ہے، مالک ہے ، سننے والا ،جاننے والا،بخشنے والا ہے۔چاہنے والا اور چاہے جانے والا ہے۔ 

تحریر ! محمودالحق 
یکم جون 2014

Sunday, May 11, 2014

غلافِ عشق

5 comments

 عشق و محبت کا موضوع  توبہت پرانا ہے۔معاشرہ ہمیشہ اسے خلافِ عشق گردانتا رہا۔حالانکہ عاشق و محبوب اس سے خ خوشی محسوس کرتے تھے۔ مگر حالات  نے انہیں  غ غم میں مبتلا کیا۔ اسی لئے تو خ لاف کو غ لاف سے مربوط کر دیا۔
یہاں خ غ کا قائدہ قانون بتانا مقصود نہیں ہے۔ جن کی حفاظت کی جانی ہوتی ہے انہیں محفوظ کیا جاتا ہے۔  جو خوشبو پھیلاتے ہیں وہ کچھ چھپاتے نہیں ہیں۔ قوس و قزح کے رنگوں کی طرح کھلے نظر آتے ہیں۔ اپنی ذات کو وقت آنے پر فنا کر دیتے ہیں۔ نئے آنے والوں کو سپیس دیتے ہیں۔
 مگر جو ان کی محبت کو نچوڑ لیتے ہیں۔وہ انہیں غلافوں میں بھر بھر رکھتے ہیں۔ ایسی چاشنی ، لذت اور مٹھاس روئے زمین پر اپنا ثانی نہیں رکھتی۔ صحت بخش ، توانائی  بھی ہوتی ہے بیماریوں سے نجات کا  ذریعہ بھی۔ انگریز انہیں ہنی اور ہم شہد کہتے ہیں۔ ہنی کا لفظ اس لئے استعمال کیا  کیونکہ اس کی افادیت شہد بتانے سے قدرے زیادہ ہے۔حکیم ان سے علاج بھی تجویز کرتے ہیں۔جب اس کا استعمال بڑھا تو یار لوگ ملاوٹ کرنے وہاں بھی پہنچ گئے ۔ شکر کے شربت اور لکڑی کے گھروندوں میں غلافِ عشق بنا ڈالے۔جن کی نہ ہی تاثیر ہے نہ ذائقہ۔فائدہ تو کیا ہونا تھا چاہنے  والوں کا اعتماد ہی اُٹھ گیا۔شکر سے کچھ زیادہ مٹھاس کے علاوہ افادیت ہی کھو بیٹھا۔جب عشق و محبت میں سچائی کی خوشبو ڈھونڈنے والے مصنوعی تاک دان میں عشق کو غلاف میں لپٹا پائیں گےتو ان میں جستجو چاہت قربانی کے  جزبات اہمیت و قدر کے ساتھ ساتھ پاکیزگی اور شفافیت بھی  کھو دیں گے۔
 عشق قربانی مانگتا ہے یہاں تک کہ جان بھی عزیز نہ رہے۔اگر عاشق محبوب کی قربت کے خیال سے نفاست نصف ایمان سے بھی بڑے درجہ پر لے جائے تو اسے عشق کو غلاف میں لپیٹ کر رکھنا ہو گا۔موسمی اثرات ہوائے گرد آلود سے بچانے کے لئے نہیں بلکہ عشق حقیقی کو  مجازی بننے سے ۔ جن کی منزل ایک ہوتی ہے وہ مسافر قربت کی پگڈنڈیوں سے دوسروں کو آگے بڑھنے میں مددگار ہوتے ہیں۔ تحریر ابھی تک واضح خدو خال کے ساتھ دل اور دلدار کے بغیر  غلافِ عشق کے زمرے   میں نہیں  آ ئی۔
عاشق ذہن پر دباؤ کا شکار ہوں گے اور محبوب قلب کی تیز دھڑکن کا۔  
مقدس کتاب کی طرح یہ غلاف بھی مقدس عشق کا ہے۔  ایک سچےواقعہ سے غلافِ عشق کو ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔
3 فروری 2012 بروز جمعۃالمبارک اوکلوہاما کے شہر تلسہ میں ایک بڑی جامع مسجد کی دوسری صف میں کھڑا ایک نمازی جس کے بائیں جانب 60 اور دائیں جانب 45 نمازی نیت باندھے کھڑے تھے۔  مسجد داخل ہونے سے پہلے وہ سگریٹ کے پیکٹ میں  آخری سگریٹ کو  دھوئیں میں ڈھال کر وضو کرتےہوئے  نئے سگریٹ کے پیکٹ کے نہ ہونے کےافسوس میں مبتلا تھا۔ کیونکہ  بینسن اینڈ ہیجز  برانڈ ہر جگہ سے نہیں ملتا   تھا۔ اسی چاہت شوق میں جو وہ پچیس سال سے پالے ہوئے تھا مسجد میں نمازیوں کے ساتھ نیت باندھے کھڑا تھا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب وہ ہمیشہ کی طرح عشق کو غلاف سے نکال لیتا اور امام کے پیچھے اپنی ناقص عقل سے الحمداللہ رب العالمین کو جزب کرنے کی کوشش کرتا۔  لیکن اس دن عشق نے نماز تک پہنچنے والے خیال کو آڑے ہاتھوں لیا۔  ہاسپٹل دفتر تو ایک طرف بسوں اور پارکوں میں جس کے سلگانے کی اجازت نہیں ہے  ۔ چند کلیوں کے بعد رب العالمین کا نام لینے  سے کوئی ملال نہیں جس کی بد بو ابھی تک سانس میں رواں تھی۔ اس خیال کے آتے ہی قلب کے نہاں خانوں میں ایک ہلچل مچ گئی۔ جسم کے روئیں روئیں سے  لہو غلافِ عشق اُتار کر پچیس سال سے دماغ میں بسی چاہت  دھواں کو ایک ایک خلیے سے نکال باہر لائے ۔ اور پورے وجود کو ایسے نہلا دیا جیسے بارش کے بعد چاندنی رات میں زمین کو روشنی سے نہلا دیتی ہے۔جسے نماز سے پہلے وہ فراموش نہیں کر پا رہا تھا۔ اب وہ اسے یاد نہیں کر پا رہا تھا۔ جسے ہاتھ سے  چھونا اور ہونٹوں سے لگانا ایک نشہ میں مبتلا کر دیتا تھا ۔ آج وہ چاہت بے ثباتی اسے ایسے چھوڑ گئی جیسے کسی زندہ وجود سے روح نکل کر واپسی اختیار نہیں کرتی۔عشق میں سچائی ہو دیانت ہو ایمانداری ہو محبوب کی عزت و تکریم  کا خیال ہو۔تو عشق لہو بن کر رگوں میں دوڑتا ہے۔
رگوں میں دوڑنے پھرنے کے ہم نہیں قائل
جو آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو وہ لہو کیا ہے

تحریر : محمودالحق