Showing posts with label سیلاب، تباہی. Show all posts
Showing posts with label سیلاب، تباہی. Show all posts

Sunday, August 15, 2010

سیلابی ریلے ۔بہہ گئے ۔زندگی کے میلے

4 comments
بات جتنی مختصر اور جامع ہو گی ۔ اختلاف کی اتنی ہی کم گنجائش رہے گی ۔زیادہ بولنے سے کبھی زبان پھسل جاتی ہے تو مضمون کی طوالت سے بھی ایسا ہونا ممکن ہے کہ جزبات کی رو میں بہتے بہتے اعتراض کی زد میں جا پہنچیں ۔خود کو اجڑ و گنوار کہوں تو بات سمجھ میں نہیں آئے گی ۔ کیونکہ انداز بیان سے تو کوئی اندازہ نہیں لگا پائے گا ۔ کہ تعلیم کا میدان کہاں تک سر چکے ۔جو اس سر درد کے مرض میں مبتلا رہے ہوں تو چوٹی سر کرنا محاورے میں استعمال اچھا لگتا ہے ۔
پہاڑوں سے بہتے بہتے میدانوں تک پھیلتے پانی جب آنکھوں سے آنسو بن برس جائیں ۔ تو خوشیاں دیکھنا تو درکنار سوچنا بھی بیکار ہو جاتا ہے ۔ قافلے بے سروسامانی کے نشان، سر پہ گھٹڑیاں بندھی زندگی بھر کی پونجی کے ساتھ ،سوال کرتی آنکھیں خاموش زبان سے شاعری کے مجموعہ کلام پر بھاری پتھر سے کاری ضرب لگاتی ہیں ۔
دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی امن کی فاختائیں ۔ رحم کی صدائیں ۔درگزر کی ادائیں ۔محبت کے گیت ۔ کھیت کھلیان باغ دلکشا۔نہ دیکھوں پھر کبھی اجڑے دیار ۔ بچھڑے یار ۔ مدد کے طلبگار۔ نہیں ہوش کون ہے کس کا دلدار ۔ بس امید کی ایک آس ہے ۔ چہرے تصویر یاس ہے ۔لٹے پٹے قافلے ہیں ۔ آٹا دال چاول کے مہنگے لوٹتے گھاؤ ہیں ۔پچیس ہزار میں پچاس میل کی مسافت کا بار ہے ۔
ہزار ہزار دیگوں میں بٹتی مرغ بریانی ہے ۔ پھر بھی بھوکے اکثر بےیارومددگار ہیں ۔بے چارے تعلیم میں بھی بہت پیچھے ہیں ۔ علم سے نابلد اجڑ و گنوار ہیں ۔کلاس روم کےنام سے بھی تھےجو نہ آشنا آج سکولوں میں حاضری رجسٹر پر پسماندہ حال ہیں ۔ خواندگی کی شرح شرمندگی کی سطح پر۔ پہلے ہی سکولوں میں پناہ لی ہوتی ۔ توان پڑھ گنوار نہ رہتے۔ ہر الیکشن میں انگوٹھا لگانے سے انگوٹھا چھاپ نہ کہلائے ہوتے ۔
گھروں سے بے گھر مہاجر ہیں توسکولوں میں رہتے پناہی ۔ صفحہ ہستی سے مٹنے والے اپنے گھروں کو جو نہ واپس لوٹ سکیں ۔اسی زمین پر رہیں گے بے گھر ہاری کسان بن کے مہاجر یا پناہی ۔
ہر طرف لاشیں ہیں ۔ نہیں رہتی اب نئی خواہشیں ۔زندگی امن سے جی لیں یہی اب ہیں فرمائشیں ۔کون جینے دے گا ۔ پانی اترنے کی دیر ہے ۔ زندگی صرف انہی کی اندھیر ہے ۔ جنہیں پہلے جینا بیزار تھا اب وہی زندگی کے طلبگار ہیں ۔
ایک معافی پہ پھر وہی بنائیں گے نئی سرکار ۔ جو آج نظر آتے ہیں لاچار ۔ مدد کے لئے آقاؤں کا ہے انہیں انتظار ۔آج سیاست پر بات نہیں کرنا تھی پھر بھی ایک آدھ فقرے کے لئے معذرت ۔ کیونکہ وہی مسیحا ہیں ۔ بااختیار ہیں زور آور ہیں ۔ ان کی مدد کے بغیر تسلی و تسفی نہیں ۔ شکوہ انہی سے سب کرتے ہیں ۔ قوم کو ایک کرنے کا تہیہ اب وہ آپس میں مل بیٹھ کر کرتے ہیں ۔ ووٹوں پر جو تقسیم کرتے تھے ۔
ہر لیڈر کی اپنی قوم ہے پنجابی پختون سندھی بلوچی۔ جو ان میں نہیں وہ متحد ہے ۔14 اگست ان سب کی آزادی کا دن ۔ جب سب اکٹھے جشن مناتے ہیں ۔ صرف عید کے چاند پر اتفاق نہیں کرتے ۔ تین دن تک اپنی ڈیڈھ اینٹ کی مسجد الگ بناتے ہیں ۔
جب الگ الگ ہو چکے تو اب یکجہتی کی ضرورت آن پڑی ۔ اب قطرہ قطرہ دریا بننے میں دیر کر رہا ہے ۔دوسروں پر انحصار کی بجائے خود کے بازو کو ہی طاقت بنایا ہوتا ۔ استعمال کے بعد نہ انہیں بھلایا ہوتا ۔ تو متاثرین کوخالی پلاٹوں سے بھی بے سروسامانی کے کیمپ اٹھائے جانے کو نہ کہا جاتا ۔5 ہزار روپے من تک آٹا نہ بکتا ۔
اگر انہیں سیاست کے میدانوں کے بڑے شکاری نہ لکھوں تو پھر کیا لکھوں ۔ جانتا ہوں کہ سیاسی حالات پر لکھنا بوریت پیدا کرنے کا سبب ہے ۔ اختلافی موضوعات کو جو پزیرائی حاصل ہے وہ کسی دوسرے موضوع کو نہیں ۔ خاص کر لسانی اور مذہبی ۔ یہ کسی مفروضہ کی بنیاد پر نہیں کہہ رہا ۔بہت سی باتیں کچھ کھلی تو کچھ ڈھکی چھپی بیان کر چکا ۔ اب اگر بات یہیں ختم نہ کروں تو پھر اعتراضات کی ایک لمبی لسٹ ہے ۔ تجربات اتنے سنجیدہ ہیں کہ غیر سنجیدگی طاری نہیں ہوتی ۔

Friday, August 13, 2010

بدترین جمہوریت بہترین آمریت سے بہتر

2 comments
بد ترین جمہوریت بہترین آمریت سے بحرحال بہتر ہوتی ہے ۔ روزانہ ہی ٹی وی پر ہمارے سیاستدان یہ راگ آلاپتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں ۔لیکن جمہوریت کی نہ تو صحیح ترجمانی کی جاتی ہے اور نہ ہی اصل شکل دکھائی جاتی ہے ۔
جمہوریت سے مراد گلی محلوں اور گاؤں سے الیکشن جیت کر پارلیمنٹ میں کھلی چھٹی پا کر سیاہ و سفید کے مالک ہو جانا مراد نہیں ۔سیاسی باپ کے بوڑھے ہونے سے پہلے نوجوان بیٹے کو سیاسی گدی نشینی کے لئے تیار کیا جانا بھی نہیں ۔ بد ترین جمہوریت بہترین آمریت سے بہتر اسے کہا گیا ہے کہ جس میں معاشرے کے عام افراد بلا خوف وخطر اپنی آزادی اظہار رائے کا حق رکھتے ہوں اور نمائندگی کے لئے وراثت کی بجائے قابلیت کا معیار اپنایا گیا ہو ۔
جمہوریت سے مراد ہے عوام کو اپنے میں سے نمائندگی کا حق ، آزادی رائے کا حق،کاروبار و جائیداد کے تحفظ کا حق،مذہبی آزادی کا حق،تحریر و تقریر کا حق،معاشی تحفظات کا حق،بنیادی تعلیم اور حفظان صحت کا حق،امارت و غربت سے قطع نظر مساوی بنیادوں پر قانون و انصاف کے حصول کا حق،معاشرتی نا انصافی اور سماجی غنڈہ گردی سے استحصال سے محفوظ رکھنے کا حق، ایک عام آدمی کے وہ تمام حقوق جو حکمرانوں سے لیکر قانون نافذ کرنے والے اداروں تک اور انصاف فراہم کرنے والے اداروں سے لیکر آزادی صحافت میں لپٹی بعض کالی بھیڑوں سے عزت نفس کو محفوظ رکھنے کا حق بھی شامل ہیں ۔
جس جمہوریت کی آساس آئین پر ہو ۔وہی آئین معاشرے کے تمام مکاتب فکر اور افراد کو حقوق فراہم کرتا ہے ۔مگر بد قسمتی تو دیکھئے آئین کی پاسداری سے صرف پارلیمان ہی اپنے لئے حقوق کا مطالبہ رکھتے ہیں ۔
جن حکمرانوں پر عوام کا اعتبار اٹھ چکا ہو اس سے بڑی بد قسمتی کیا ہو گی ۔وزیراعظم سیلاب فنڈ میں شرمناک حد تک عطیات کا اکٹھا ہونا اس بات کی دلالت ہے کہ عوام جمہوری بھائی بندوں کی ایمانداری پر شکوک کا شکار ہے ۔آخر کار جمہوری وزیراعظم کا میڈیا پر عوام سے مخاطب ہو کر یہ یقین دلانا کہ ایک ایک پائی ایمانداری سے سیلاب زدگان تک پہنچائی جائے گی ۔ اور اس کا حساب بھی دیا جائے گا ۔ ویب سائیٹ پہ جا کر چیک کیا جا سکے گا ۔
پاکستانی عوام نے مصیبت کی ہر گھڑی میں جمہوری حکومت ہو یا آمریت دل کھول کر امداد کی ہے ۔مگر آج وہ مایوس ہیں ان کے کردار و گفتار سے ۔جمہوریت کے یہ چمپئن پارٹی ٹکٹوں پر کروڑوں روپے خرچ کر کے یہاں تک پہنچے ہیں ۔ اور جو اسمبلیوں میں نہیں پہنچے وہ بھی اتنے ہی داؤ پر لگا چکے ہیں ۔ اگر وہی لوگ اپنے الیکشن پر پولنگ کے روز دیگوں پر خرچ آنے والی رقم کا آدھا بھی سیلاب فنڈ میں دے دیتے تو حکمرانوں کو سبکی نہ ہوتی ۔
ہمارے ہاں ایک عام رویہ یہ پایا جاتا ہے کہ قومی سطح پر امداد کی بجائے عید قربان پر کھالیں اکٹھا کرنے والوں کی طرح تمام سیاسی جماعتوں کے الگ الگ شامیانے ہر شہر میں عوام سے کھلے دل سے امداد کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔مگر ان تمام سیاسی جماعتوں کے اربوں روپے خرچ کر کے الیکشن لڑنے والوں سے قوم کو کیا توقع رکھنی چاہئے ۔ جو صرف قوم سے لوٹا پیسہ قوم پر لگانے کو جائز سمجھتے ہیں ۔اگر صدر صاحب ہی مانچسٹر میں پچاس لاکھ کا اعلان کرنے کی بجائے اس دورہ پر سرکاری فنڈ سے کروڑوں روپے خرچ کرنے کی بجائے دورہ منسوخ کر دیتے اور یہی رقم سیلاب زدگان کے فنڈ میں دے دیتے تو آج وزیراعظم صاحب کو یہ نہ کہنا پڑتا کہ ایک ایک پائی کا حساب دیا جائے گا ۔
عوام سے صرف قربانی مانگی جاتی ہے ۔سیلاب نے جو تباہی پھیلائی ہے ۔ بچ جانے والوں کے پاس اب صرف کھالوں کے علاوہ کچھ نہیں بچا ۔جو ان کے کسی کام کی نہیں ۔ہماری حکومتوں کو جانوروں کی شکل میں صرف کھالیں چاہئے اور انسانوں کی شکل میں بکرے ۔جو صرف چھری دیکھانے سے میں میں کرنے لگیں ۔
جن معاشروں میں تعلیم کا فقدان ہوتا ہے ۔وہاں چند پڑھے لکھے اندھوں میں کانا راجہ کے مصداق کامیابی کے زینہ پر جلد چڑھ جاتے ہیں ۔مجمع اکٹھا کرنے کے لئے تماشا سے بڑا مداری ہوتا ہے ۔کیونکہ تماشا دیکھا نہیں جاتا دیکھایا جاتا ہے ۔تماشا چاہے ماچس کی ڈبیا کا ہو ۔ مگر زبان سے منظر باندھنے والا اسے بڑھکا دیتا ہے ۔
برکتوں کا مہینہ ماہ رمضان کا آغاز ہو چکا ہے ۔مکمل سادگی اختیار کریں ۔عید کے اہتما م میں ہزاروں روپیہ خرچ کرکے امیروں کی تجوریاں بھرنے کی بجائے مصیبت اور مشکل کی اس گھڑی میں اپنے بھائیوں کی مدد کریں ۔سیاسی اور سیاست کرنے والی مذہبی جماعتوں کو جانچنے کا سب کا اپنا پیمانہ ہے ۔ جن اداروں کا ماضی بے داغ ہے اور خدمت خلق میں جن کا نام کی بجائے کام بڑا ہے ۔ انہی کے سپرد اپنی امدادی امانت کریں ۔ جو پچھلی کارکردگی کے فوٹو سیشن سے بیوقوف بنانے کی کوشش بھی نہیں کرتے ۔
وزیراعظم کا سیلاب میں پھنسے لوگوں کے درمیان جانا اچھا فعل ہے مگر ایک ایک فرد کو کیمرے کی آنکھ کے سامنے تھیلا تھمانا شرمناک فعل ہے ۔ آخر میں تو صرف یہی بات رہ جاتی ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اجڑے باغاں دے گالڑ پٹواری

Saturday, July 31, 2010

کھلا آسمان تنگ زمین کو ہے یوں کہتا

3 comments
آج خبریں سنتے ہوئے سیلاب کی تباہ کاریوں سے تباہ حال لوگوں کی حالت زار پہ افسوس سے دل بیٹھا جا رہا تھا ۔ غیر سرکاری اطلاع کے مطابق ایک ہزار سے زائد افراد اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔ بچ جانے والے لٹے پٹے قافلوں کی صورت سیلاب کے ریلوں سے گزر گزر کر محفوظ مقامات کی طرف رواں دواں ہیں ۔ گھروں کو تالے لگا کر خدا کے سپرد کر کے گھروں سے ایک روز بھی باہر رہنے والے اب نہ جانے کب گھروں کو واپس لوٹتے ہیں ۔ ہزاروں خاندان بے سروسامانی کی حالت میں کھلے آسمان تلے اس آفت کے ٹلنے کے انتظار میں شب و روز کیسے گزاریں گے ۔ بھوک سے نڈھال بچے ، دودھ کے لئے بلکتے ننھے معصوم اور اپنے عزیز و اقارب اور گھروں کی سائبانی سے محروم جوان اور بوڑھے یاس اور مایوسی کی تصویر بنے آنکھوں میں مستقبل کے حسین خوابوں کی بجائے مدد کے لئے ایک امید کا چراغ روشن رکھے ہوئے ہیں ۔جس میں قوم اپنے اجڑے بہنوں اور بھائیوں کے لئے پہلے کی طرح بھرپور مددو تعاون کی مثال قائم کرنے کی ایک نئی تاریخ رقم کرنے جا رہی ہے ۔ ایک کے بعد ایک ناگہانی آفت کی وجہ سے قوم پے در پے صدمات سے دوچار ہے۔ پختونخواہ صوبہ بری طرح سیلاب کی تباہ کاری کا شکار ہے ۔ سب سے زیادہ جانی و مالی نقصان انہیں کے حصے میں آیا ہے ۔ پنجاب اور بلوچستان میں بھی درجنوں افراد اپنی جان سے گزر گئے ۔ دیہاتوں کے دیہات پانی کے ریلوں سے پناہ کی تلاش میں گھر سے بے گھر ہیں ۔سندھ کی طرف بڑھنے والا پانی سیلاب کی تباہی کا منظر پہلے سے دکھا رہا ہے ۔ اللہ تبارک تعالی اس قوم پر رحم فرمائے ۔ آمین۔
آزمائش کے ایک ایسے دور کا نقطہ آغاز ہے جس کے انجام بخیر کا کسی کو علم نہیں ۔ ائیر بلیو کے جہاز کا مارگلہ کی پہاڑیوں سے ٹکرا نے کی گتھیاں بھی سلجھ نہیں پائی تھی ۔ جہاز کے پائلٹ نے نو فلائی زون میں کیوں اڑان بھری ۔ طرح طرح کی قیاس ارائیاں جنم لے رہی ہیں ۔ تبصروں اور تجزیوں نے ایک نئے موضوع پر اظہار رائے کا دروازہ کھولا ہوا تھا ۔ سیلاب کی تباہ کاری سے اس پر پانی پھر گیا ۔ابھی تو وہ چہرے جو اس حادثے میں جاں بحق ہوئے نہیں بھول پائے تھے کہ اس نئی آفت کی وجہ سےجاں بحق اور مصائب کے شکار عوام کے حالات کا سن سن کر تکلیف میں اضافہ ہو رہا ہے ۔
ابھی یہ منظر میری آنکھوں سے نہیں ہٹے تھے کہ صدر صاحب کے دورہ برطانیہ کی خبر نے بجلی گرنے کا کام کیا ۔جس میں لندن سے برمنگھم پارٹی اجلاس میں جانے کے لئے پانچ ہزار پاؤنڈ کے فضائی اخراجات کا تخمینہ کے علاوہ سینکڑوں کارکنوں کو اجلاس میں لانے کے لئے پندرہ سو پاؤنڈ روزانہ کے کرایہ پر بسیں ہائیر کی گئی ہیں ۔ ہزاروں پاؤنڈ روزانہ ہوٹل کے کرائے اور ایک لمبی اور بڑی گاڑیوں کا کارواں اس کے علاوہ اخراجات کے متقاضی ہیں ۔پارٹی اجلاسوں کا اہتمام اور انتظام سرکاری خرچ پہ ہونا ۔ بے حسی کی اس سے بڑی مثال قائم کرنے میں شائد صرف ہمارے حکمرانوں کا ہی شیوہ ہے ۔ یقینا کوئی دوسری قوم ہمارا مقابلہ نہیں کر سکتی ۔ہماری بد قسمتی ہے کہ نظام شاہی دور کی یاد تازہ کرنے کی تاریخ کے اہم عوامی کردار ہوں گے ۔
بھاری بھر کم ایمان افروز حکمران غاصبانہ قبضہ کی ظلم و ستم کی روایت کو بے حسی سے کمتر ثابت کرنے میں کامیاب ضرور ہوں گے ۔ ابھی تک تو زلزلہ زدگان ملنے والی پوری امداد کے انتظار کی کوفت سے ناامید ہو چکے ہیں ۔اربوں کھربوں بھی چند ہزار خاندنوں کی کفالت کی امید بر نہیں لاتا ۔
لکھنے کو تو بہت کچھ ہے مگر اثر پزیری کے اثرات سے بالکل خالی رہے گی ۔جو خزاں رسیدہ پتوں کی طرح روزانہ اپناہی منہ چڑاتا ہے ۔ ان حالات میں تفریح طبع کا سامان روز کیسے پیدا کروں ۔
دردستک سے اقتباس:۔
کھلا آسمان تنگ زمین کو ہے یوں کہتا
کہ تیرا سبب تجھی کو ہے میں لوٹاتا
غصہ تیرا طوفان تو نفرت تیری آندھی
میرا ہے جو اپنا مجھ ہی پر اس کو آزماتا
تجھ پر کروں رحم تو اپنے پہ ظلم
غبار آنسوؤں کو تو ہمیشہ میرے ترستا