Showing posts with label سفینہء محمود،. Show all posts
Showing posts with label سفینہء محمود،. Show all posts

Saturday, February 8, 2014

میرا گھر میری جنت

3 comments

باتیں بنانے کے لئے قصے کہانیوں کی ضرورت پیش آتی ہے۔گفتگو کے لئے موضوعات کی۔بحث کے لئے ہٹ دھرمی کی۔جہاں علم صرف اتنا ہی کافی ہوتا ہے جس کے بارے میں بابا بلہے شاہ نے کہا علموں بس کری او یار۔سخت گرمی میں کالی گھٹائیں برس کر لُو بھری ہواؤں کو ٹھنڈی نہ بنائیں تو سورج اور زمین کے درمیان پھر بادلوں کی کالی چادر کا کیا  کام۔زمین اور آسمان کے درمیان علم کی چادر پھیلےتو ایمان کی ٹھنڈک سے کہلائے مسلمان۔رزق رازق کا اختیار ہےخواہش طلب کی مددگار ہے۔صبر قناعت سے شکر عاجزی سےہم رکاب ہے۔چیونٹی کا تو نظام ہی اس کا جہان ہے۔
جو پوشیدہ ہے وہ مکمل بھی ہے چاہے ایٹم کا زرہ ہو یا گردش کائنات۔جو ظاہر روٹھ جائے تو منانے کی  کوشش ہوتی بار بار ہے۔جیت جائے تو شفاء ہار جائے تو قضاء ۔حاصل بے نتیجہ تو ہو سکتاہے مگر مقصد نہیں۔ کوشش رائیگاں  نہیں جاتی وقت گزر جاتا ہے۔محبت کم نہیں ہوتی نظر محبوب سے لا تعلقی اختیار کر لیتی ہے۔چہرے کے تاثرات خوشی اور غم کے علاوہ حیرانگی کے تاثر سے بھرپور ہوتے ہیں۔زبان میٹھے اور نمکین کے علاوہ کھٹے اور کڑوے ذائقے  کے سگنل  دماغ کے خلیوں تک پیغام رسانی کا  کام سرانجام دیتی ہے۔کان  جنہیں سننا پسند کرتے ہیں وہ دماغ کے نہاں خانوں میں آمدورفت کا سلسلہ جاری رکھتی ہیں۔
ہم  میں سے کتنے ہوں گے جو اس حقیقت حال سے واقف ہیں کہ ہر ایکشن کا ری ایکشن ہوتا ہے۔نیکی کا خیال  کریں تو  وسوسہ عود کر آتا ہے۔سچی بات کہنے کا ارادہ ہو تو وہم ڈر کی صورت اندیشوں سے خوفزدہ کرتا ہے۔ماضی بیشتر اوقات افسوس میں مبتلا رکھتا ہے، مستقبل خوف سے نجات پانے نہیں دیتا۔ حال وہم و وسوسہ سے محتاط رہنے کی تلقین میں گزرتا رہتا ہے۔
ایک دروازہ ،ایک کھڑکی اور ایک روشندان کےذکر سے ایک کمرہ کا تصور نظرمیں گھوم جاتا ہے۔ چار دیواری  میں گھرے صحن سے وہی کمرہ گھر  یا مکان میں تبدیل ہو جاتا ہے۔باسیوں کے قہقہوں کی جھنکار سے مکین محبت  کے نام لیوا  ہو جاتے ہیں۔  وہاں سے گزرتے کانوں میں رس گھلتا ہے۔کہیں شور وغوغا اُٹھنے سے نفرت کے نشان چھوڑجاتے ہیں۔ جہاں سے گزرتے کان پک جاتے ہیں۔ ہر عمل کا ردِ عمل  ضرور ہوتا ہے کہیں زبان سے کہیں بیان سے کہیں خاموشی سے کہیں فراموشی سے کہیں محبت سے کہیں نفرت سےکہیں اقراری سے کہیں بیزاری سے۔ دھوپ ہوتی ہے تو چھاؤں نہیں رہتی، چھاؤں آتی ہے تو دھوپ نہیں رہتی۔شب کی چاندنی ہو یا  دن کی روشنی  ایک وقت میں صرف ایک ہی رہے گا۔
نیکی کرنا  دین و دنیا میں سرخرو کرتا ہے۔برائی میں بڑائی نہیں۔سچ دنیا میں اکڑ کر رہتا ہے۔جھوٹ کے پاؤں نہیں آج یہاں تو کل وہاں۔ کبھی ایک در پہ تو کبھی در بدر ۔فیصلہ کا وقت آنے سے پہلےخود میں فیصلہ ضروری ہے کہ اس پار یا  ہمیں رہنا اُس پار ہے۔ایک رکھنا ایک چھوڑ دینا ہے۔جس سے دنیا ملے اسے رکھنا مقام قضاء تک رہے۔ جو دنیا سے د ور جاکر ملے اسے اپنانا مقام زمان تک رہے۔گھر میں کیا کیا ڈالیں گھر سے کیا کیا نکالیں۔جو بیکار ہیں رکھنا جو شرمسار کرے ہو سکے تو اسے چلتا کرو۔زندگی کو اپنے صرف یکتا کرو۔مکان ایک ہے تو مکین بھی ایک کرو۔ کام گر نیک ہے تو انجام بھی نیک کرو۔حاصل اگرلطیف ہے تو  کوشش  سے قریب کرو۔ کل تک جو بولا سچ میں جب اسے تولو ،ہو سکے تو آج اس سے جان چھڑا لو ۔کیونکہ گھر تو جنت ہے باغ و بہار میں رہنا وہاں ایک نعمت ہے۔حقیقت سے چشم پوشی  میں بدن سزاوار ہےتودھوکہ کی آگاہی میں باطن دلدار ہے۔ ہر صبح نئے دن کا آغاز  سچے کلام سے کریں۔ سچی بات سننے میں ہو یا نہ ہو مگر کہنے میں ضرور ہو۔خواہشوں  آرزؤں کی آلائشوں سے پاک گھر میں رہنا مکین کا حق ہے۔کیا ہم اُس کا حق اسے ادا کر رہے ہیں۔اگر نہیں تو مکاں کی ضرورتیں محدود کر کے مکیں کو لا محدود وسعتوں سے روشناس کر سکتے ہیں۔

تحریر: محمودالحق

Thursday, May 3, 2012

طوطی اور سوداگر

0 comments
سندر خانی انگور ذائقہ اور مٹھاس میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ انورٹول آم خوشبو اور ذائقہ میں کسی سے کم نہیں۔اگر آم پھلوں میں بادشاہ کہلاتا ہے تو انگور بھی کسی رانی سے کم نہیں۔
لیکن اعلان وفا سے پہلے دونوں ہی کسی دشمن سے کم نہیں ہوتے۔ایسے دانت کٹھے کرتے ہیں کہ کسی جلاد سے کم نہیں ہوتے۔ اعلان وفا چند دنوں سے زیادہ نہیں ہوتا مگر یہاں تک سفر طے کرنے میں سال بھر میدان جنگ کا منظر پیش کرتے ہیں اور بدلتے موسموں کی تغیرات سے بچتے بچاتے انجام صبر کی مثال بنتے ہیں۔
سال بھر انتظار کے بعد حسن کے چرچے ہفتہ بھر ہی سننے میں رہتے ہیں۔ جن کے مقدر میں مٹھاس نہیں ہوتی ، وہ کٹھے ہی مرتبانوں کی زینت بن جاتے ہیں۔وہاں وہ منصب بادشاہت سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
رانی جب ڈھل جائے تو گلے سڑے ہوئے پانی سے نشہ کی لت کی شکار ہو جاتی ہے۔نرالا دستور ہے زمانہ کاایسی حالت میں رانی کی بیٹی بن کرتمکن چیرہ دست ہو جاتی ہے۔معاملہ کچھ بھی ہو۔ بات سمجھنے کے لئے کہانی ضروری ہوتی ہے۔
اگر بغداد کا سوداگر ہندوستان کی طوطیوں کو ایک قیدی طوطی کا پیغام پہنچاتا ہے تو اسے قید سے رہائی کی ترکیب سوداگر کے زریعے پہنچا دی گئی۔ جسے سوداگر کی قید میں روزانہ مرتی ہوئی طوطی نے خود کو مار کر قید سے رہائی کا پروانہ پا لیا۔ جسے بظاہر طائر کی عقلمندی سے رہائی کی حکایت بنا دیا گیا۔  مولانا رومی نے اپنی مثنوی میں تشبیہات اور استعارات میں ایسی کئی کہانیاں بیان کی ہیں۔
ان کے نزدیک طوطی تو دراصل ایک خوبصورت ، خوش گفتار اور دل کو چھو لینے والے حسن سے آراستہ روح تھی جو نفس کی سلاخوں سے بنے جسم کی قید میں تھی۔ جس نے نفس کی قید سے رہائی کا پروانہ تحسین و رغبت آدمیت کی نفی سے حاصل کیا۔ حسن جب نچھاور ہونے کے لئے حد سے بڑھ جائے تو رغبت انسانیت صیاد بے رحم بن کر دبوچ لیتا ہے۔پھر وہ نفس کی سلاخوں کے پیچھے قیدی بن کر رہ جاتا ہے۔
دوسروں سے آزادی کا نعرہ بلند کرنے سے قیدی سوداگروں سے رہائی نہیں پاتے بلکہ اس زندگی کو فنا کر دیتے ہیں جو صیاد کو دلربائی عطا کرتی ہے۔ خوبصورت اور خوش الہان پرندے قید و بند کی صعوبتوں سے گزرتے ہیں مگر ملکہ ترنم کوئل نہایت خوبصورت ، دلکش اور کانوں میں رس گھولنے والی آواز کے باوجود کھلے درختوں پر آزاد رہتی ہے۔ اس کی آزادی کا راز یہ ہے کہ وہ قید ہونے سے پہلے صیاد کے ہاتھوں میں ہائی بلڈ پریشر سے فنا ہو جاتی ہے۔ اس کا ایسے مر جانا آزاد زندگی کی علامت ہے۔
کھلے روشندان سے کمرے میں قید ہونے والی چڑیا آزادی کے لئے چھتوں ، پنکھوں سے جس طرح ٹکراتی ہے، وہ آزادی کو سمجھنے کے لئے کافی ہے۔ پیدائشی قیدی طوطا پنجرے کا دروازہ کھلا ملنے پر طوطا چشم ہو جاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں پیدائشی آزاد روح انسانی ، نفس بدن کی قید میں بھی خوشی کے ترانے گنگناتی ہے۔ اس کی آزادی اس کے
 تفکر میں ہے، صبر میں ہے ، شکر میں ہے۔
محبت میں ہے، قربت میں ہے، عبادت میں ہے۔
اقرار میں ہے، دلدار میں ہے، ابرار میں ہے۔
آسمان میں ہے، ایمان میں ہے، قرآن میں ہے۔
سبب میں ہے، طلب میں ہے، قلب میں ہے۔
احد میں ہے، حمد میں ہے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں ہے۔
کامیابی قدم چومے تو دولت و شہرت کا پہلا شکار وہ خود ہوتا ہے۔ زر زمین کی فرمائش پر پہلے خود قربان ہوتا ہے۔ پھراپنی روح کو نفس بدن کا قیدی بنا دیتا ہے۔ ظاہری تبدیلیوں سے ارواح انسان کو نفس کی غلامی کا درس دیتا ہے۔ اس کی نشانیوں میں ایک نشانی ضرورتوں کا بڑھ کر آسائش بن جانا ہے۔ معاشرے کے لئے وہ آلائش بن جاتی ہیں۔ پھر ہر ایک کی وہ فرمائش بن جاتی ہے۔
انسان کے لئے پیغام انسانیت ہے، پیغام آدمیت ہے۔آدمی نے مادیت کا پیغام  خود سے پہنچانا شروع کر دیا ہے۔ جس کی اساس مادہ پرستی ہے۔ مادہ پرستی نفس کے درون قید خانہ کی بالکونی ہے۔ جہاں سے روح کی آمدورفت کی راہ میں دعوت گمراہی کا انتظام ہوتا ہے۔
وجود کو آلائشوں سے پاک رکھنے کے لئے آزادی کی جنگ لڑی جاتی ہے جس سے انقلاب برپا ہوتا ہے۔ طوطی کی طرح خود کو فنا کر کے بقاء پائی جاتی ہے اور اس کے لئے نفس کے سوداگر سے آزادی کا مفہوم حاصل کرنا ہوتا ہے۔
قیدیوں کو دیکھ کر خوش نہیں ہوا جاتا بلکہ انہیں قید سے رہائی کا راستہ دکھایا جاتا ہے نا کہ سوداگر کے ہاتھ میں اپنی ہی آزادی سونپ دی جائے۔
ملک آزاد ہوتے ہیں۔ جنگل آباد ہوتے ہیں۔ صرف طوطے قید ہوتے ہیں۔ ہاتھوں کی چوری جنہیں بادشاہ اور رانی سے بڑھ کر مٹھاس کا نشہ دیتی ہے اور دوسروں کو بھی اسی راستے کا مسافر بناتی ہے جس کی منزل قید ہو۔


تحریر : محمودالحق


Wednesday, April 25, 2012

روشنیوں کا شہر

0 comments


قمقموں سے بھرا ،چاروں اطراف روشنی پھیلاتا،قربتوں میں جگمگاتایہ شہر میرے پاک پروردگار کا بنایا ایک شاہکار ہے۔ روشنی کے سامنے رہوں تو میرا عکس مجھے روشن کر دے۔پلٹ جاؤں تو ایک جہاں روشن ہو جائے۔وہ ٹمٹماتے تاروں کے نظارے روشن کر دیتی ہے۔گھنٹوں انہیں دیکھنے سے جی نہ بھرے۔آنکھیں چکاچوند روشنیوں کے جلوے سے منور ہو جائیں۔بینائی کا سفر روشنی کی رفتار سے تیز ہے۔جو پلک جھپکنے میں کروڑوں میل کی مسافت طے کر لیتی ہے۔اگر جنت کا منظر آنکھوں میں بسا لے تو تسکین ایسی کہ نشہ ہونے لگتا ہے۔
ایک یہ بدن پل پل اکتاہٹ و بیزاری کی لت کا شکار رہتا ہے۔قدم اُٹھانے کی غلطی کریں تو گنتی پر اتر آتا ہے۔ہزار قدم کے سفر میں پڑاؤ کی تمنا رکھتا ہے۔دوزخ کے تصور سے ہی بدن آگ میں جلنے لگتا ہے۔ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں۔ اس کی جنت تو یہی دنیا ہے، مخملی بستر ، آرام دہ سفر، خوش رنگ لباس اور خوشبو بھری خوش ذائقہ خوراک ۔مٹی میں مل بھی جائے تو ایک آواز سے پھر بننے میں کوئی مشکل نہیں۔
انسان چکا چوند روشنیوں میں جینا چاہتا ہے۔مرکز کے قریب جہاں اسے عکس ویسا ہی نظر آئے جیسا وہ دیکھنا چاہتا ہے۔آئینے میں نفس کی آنکھ سے خوبصورتی کی منظر کشی کرتا ہے۔زمین پر بڑھتے گھٹتے سائے تو اسے نظر میں نہیں جچتے۔ جسے مبہم قرار دے کر کسی توجہ کے قابل نہیں سمجھا جاتا۔مٹی اسی کا نشان بناتی ہے جس پر اسے گرفت کرنی ہوتی ہے۔
جب انسان کے بس میں کچھ نہیں پھر وہ اپنے بس میں کرنا ہی کیوں چاہتا ہے۔ آقا غلام کا دور جا چکا۔اب حاکم محکوم کا دور ہے۔ حاکم مراعات یافتہ ، با اختیار طبقہ بھی کہلاتا ہے اور محکوم ،محروم وبے اختیار بھی سمجھا جا سکتاہے۔ جو بڑا نسان بھلے نہ بن سکے مگر خواب آنکھوں میں سجا کر بیوقوف ضرور بنتا ہے۔ دھوکہ انہیں دیا جاتا ہے جنہوں نے اعتبار کی خلعت پہنی ہو۔جھوٹ تب بولا جاتا ہے جب بے اعتباری کی کسوٹی پر پرکھا جاتا ہے۔
سورج کے مشرق سے طلوع ہونے اور مغرب میں غروب ہونے میں کسی شک کی گنجائش نہیں۔پھر روشنی اور ہوا کوگھروں میں داخل ہونے کے لئے دستک کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ جس پر شک نہیں اس کے راستے مسدود کر دئیے گئے۔ جس پر اعتبار نہیں انہیں گھروں میں بٹھا کر قفل لگا دیئے گئے۔ نقب لگانے کا موقع خود سے فراہم کر دیا اور بدن کی چیخیں سن کر بلبلا اُٹھے۔کیونکہ وعدے ہمیشہ عوامی ہوتے ہیں قومی نہیں۔ جب قفل بندعوام آزاد قوم نہ رہے تو وعدہ کرنے والے قومی نہیں ہوتے۔جو عوام آئینے میں عکس دیکھ کر پھولے نہ سمائے وہ انسانیت کے اس درجے تک جا پہنچتا ہے جہاں جھوٹ بالکل سفید ہو جاتا ہے دن کے اجالے کی طرح۔
کتابیں کھول کر معنی و مفہوم تلاش کرنے سے مخلوق مخلوق سے بیگانی ہوتی ہے۔خالق سے پہچان ایمان کی بدولت ہوتی ہے۔کروڑوں میل کی مسافت طے کرنے والی آنکھیں چند میٹر سے آگے زندگی کا مفہوم جاننا نہیں چاہتیں۔گھر بار ، دولت کے انبار اور کار ہی نعمتوں میں شمار رہ جاتی ہیں۔ستاروں پر کمند ڈالنے کے دعویدار اپنا عکس دیکھنے سے فارغ نہیں ہو پاتے۔آسمان پر جگمگ جگمگ کرتے تارے انسانی آنکھ کی محبت سے محروم رہ گئے۔جن کے لئے یہ منظر سجایا گیا انہوں نے مہمان گھروں میں بٹھا کر قفل چڑھا رکھے ہیں۔ یہ شہر انوار ہے جہاں روشنی کا مکمل اعتبار ہے۔ بندشیں صرف نیند سے ہیں۔ مگر رہنا وہاں پسند کرتے ہیں جہاں بندشیں غفلت سے ہیں۔قفل کھول کر گھر سے باہر کھلے آسمان تلے بیسیوں تارے ٹمٹما کر اپنائیت کا اظہار کرتے ہیں۔ مگر قفل کھولنے والے بیس ملنے بہت مشکل ہیں۔ اگر انسان نقصان اُٹھانے والا نہ ہوتا تو ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر بھی نہ ہوتے۔جنہیں دین مکمل مل گیا دنیا ان کی آج بھی نا مکمل ہے۔جہاں وعدوں کا پاس نہیں سچ کا ساتھ نہیں، وہاں جھوٹے ،وعدہ خلاف بے ایمان بھی ہوں گے اور کرپٹ بھی۔
روشنیوں کے شہر میں واپس لوٹنا ہو گا جہاں دیدہ ور کو پیدا ہونے میں ہزاروں سال کے انتظار کی سولی پر نہ لٹکنا پڑے۔ نظر کے وہ جلوے قفل عقل کو توڑتے ہوئے قلب رب کے ذکر کے ورد میں روشن ہوتے جائیں۔


تحریر : محمودالحق

Sunday, April 22, 2012

ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں

0 comments



گندم کی کھڑی پکی فصل کے قریب چنگاریوں کو ہوا نہیں دی جاتی۔محنت کی محبت کا جنازہ سیاہ خاک سے اُٹھایا نہیں جاتا۔بچپن کا بھولپن جوانی کی دلنشینی سے تھپتھپایا نہیں جاتا۔بڑھاپا جوانی کے در پہ دستک سے رکوایا نہیں جاتا۔کہیں تو کچھ ایسا ہے جو مزے سے نیند نہیں دیتا۔چین سے جاگنے نہیں دیتا۔ادھوری خواہشوں سے جینا لولی لنگڑی زندگی جینے سے پھر بھی بڑھ کر رہتا ہے۔مگر شخصیت کا ادھورا پن کبھی پہلی سے چودھویں کے چاند تو کبھی پندرھویں سے تیسویں کے چاند جیسا ہوتا رہتا ہے۔جس کا مقصد صرف دن گننے رہ جاتے ہیں۔
خیالوں میں پھول کھلانا نہایت آسان ہے مگر خوشبو صرف سونگھنے سے موجودگی کا احساس دلاتی ہے۔جو کلی سے مرجھانے تک وجودِ ناتواں سے عشق بہاراں کا جشن مناتی ہے اوربدنصیب کانٹے شاخوں میں رہیں تو رقابت سے ہاتھوں کو تختہ مشق بناتے ہیں۔ ٹوٹے پڑے زمین پر دھول سے اَٹے پاؤں پر بھی حملہ آور رہتے ہیں۔ریزہ ریزہ ہونے تک تکبر کے نشہ سے مستی میں رہتے ہیں۔رقابت میں جل جاتے ہیں مگر محبت میں جینا نہیں سیکھ پاتے۔
عورت زندگی میں چھت کی طلبگار رہتی ہے۔مرد گھروندوں میں اپنے گھرانہ کے لئے تین مرلہ سے تین کنال کے گھر کی جستجو میں پیٹ پر پتھر باندھنے پر بھی آمادہ دکھائی دیتا ہے۔کھلی زمین میں ایک جگہ کو مقامِ محمود کا نام دئیے ایک عرصہ بیت گیا۔ان دیواروں کو ترستے ترستے ایک عمر بیت گئی۔جن پر لکیریں کھینچ کر چڑیا ، طوطا جیسے نقش و نگار بنا پاتے بچے۔جن کا بچپن دیواروں کی محبت کے بغیر جوانی کی دہلیز تک جا پہنچا۔جہاں دروازوںسے گزرنے تو کھڑکیوں سے جھانکنے کی عادت تک زندگی محدود ہو جاتی ہے۔
پانے کا نشہ شیر کے اپنے شکار کی گردن میں دانت گاڈ کر خون بہانے جیسا ہے اور کھونے کا کھسیانی بلی کے کھمبا نوچنے جیسا۔کاش اور اگر جیسے الفاظ اپنی اہمیت کا احساس نقصان و ناکامی میں زیادہ دلاتے ہیں۔بنا چھت کے گھر بادوبارں کے طوفان سے بچائے نہیں جا تے اور دخول و خروج کے راستے اگر کھلے بھی ہوں تو تحفظ کا احساس مٹنے نہیں دیتے۔
آسمان سے کبھی کچھ گرتا نہیں ، زمین سے کچھ اُٹھتا نہیں۔ٹانگوں پہ کھڑی پاؤں پر چلتی وجود ہستی ء انسان زمین پر نخلستانی زرے سے زیادہ نہیںاور زمین اس کائنات میں ایک زرے سے زیادہ نہیں۔سائنس نے کائنات کے دوسرے حصے تک فاصلے کا وقت اندازے سے متعین کر دیا۔صرف پانچ بلین سال اور وہ بھی نوری۔ اب دیر کس بات کی چاند و مریخ کے پروگرام ہی موخر کر دئیے۔ جب اونچی دیوار کے ساتھ انگور کے گچھے لٹکے ہوں تو وہ ہمیشہ کھٹے ہوتے ہیں۔
راز جاننے کی جستجو اندھیرے میں کالے دھاگے کی نسبت سفید تک پہنچنے جیسی آسان ہوتی ہے۔جیسے کبھی کبھار نقصان اُٹھا کر بھی سکون کی نعمت سے انسان مالامال رہتا ہے۔ویسے اکثر توقع سے کم نفع ملنے پر پریشانی کی صلیب پر لٹکنا پسند کرتا ہے۔یہاں تک پہنچنے کے لئے ''کہ سکون کے لمحات پہاڑوں کی طرح کوفت وبے چینی کی زمین میں کیل کی طرح گڑ جائیں''فاصلے ایسے طے کئے جاتے ہیں جیسے آنکھوں کی روشنی لاکھوں نوری سالوں کے فاصلے پر تیرتے جہانوں کو ایک نظر سے شکار کر لیتی ہے۔
قرآن کے الفاظ کئی بلین سال کا فاصلہ ایک پل میں محبوب خدا تک پہنچنے میں طے کر لیتے ہیں۔اس کلام کا ایک ایک لفظ عبادت ہے۔کائنات کے کروڑوں سالوں پر پھیلے فا صلے وجودِانسانی کو آرائش و زیبائش سے بدگمان کر دیتے ہیں۔نماز فرض عبادت ہے،اگر یہ سوچ کر پڑھی جائے اللہ سبحان تعالی کو بندے کی زبان سے اپنا ذکر محبوب ہے تو یہ عشق کے نشہ میں ڈھل جاتی ہے۔اس کا ذکر ہر پریشانی سے مستقبل کے ان دیکھے خوف سے، عدم تحفظ کے احساس سے، زندگی کی محرومیوں کی ندامت سے، رشتوں کی جھوٹی انا کی رقابت سے، خودنمائی کے احساس کی حرص سے نجات دلا کر سچائی کی روشنیوں سے راہ دکھاتا ہے۔صبر کا دامن اتنا پھیل جاتا ہے کہ دعاؤں کی جھولیاں کم پڑ جاتی ہیں۔
ایک غیر مسلم اس حقیقت سے آشنائی پاگیا۔سچائی کی تلاش میں صراط مستقیم پر چلنے کی رضامندی سے ہی سکون کے گہرے سمندر سے خوشیوں کی موتی بھری سیپیاں سمیٹنے لگا۔مگر پیدائش کے فوری بعد جس کے کان میں اللہ اکبر اللہ اکبر کا پیغام پہنچا وہ کان آج بھی حقیقت پسندانہ سچائی کی تلاش میں بھٹک رہا ہے۔علم کے قلم سے سچائی کی کتاب پر سنہری حروف میں لکھنا مقدر سمجھتا ہے۔سچ کو عقل کے پیمانہ سے ماپنا چاہتا ہے۔تصدیق کے لئے تحقیق کا سہارا چاہتا ہے۔ہبل سے اُتاری گئی تصویریںخوش رنگ امتزاج سے آگے بحث کے قابل نہیں رہتیں۔وہ اپنی تعریف کے لئے لفظوں کے سہارے کی پابند نہیں۔مگر قرآن نے کسے مخاطب کیا اسے جاننا ضروری سمجھا جاتا ہے۔
اس پیراگراف تک پڑھ کر جو پہنچے ہیں،ان میں ایک الفاظ کے بہاؤ میں بہتے چلے آئے ہیں۔جن کے لئے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ اس تحریر سے حاصل کیا مقصود ہے۔زندگی پہلے ہی مکمل اور خوبصورت ہے۔اب مزید سوچ کے بار سے ضرب افکار کی کیا ضرورت ہے۔
دوسرے وہ ہیں جنہیں مسائل اور پریشانیوں نے ستا رکھا ہے۔ہر طرف اُڑانیں بھرتے بھاری بھر کم مقابل حریف چتکرنے کے درپے ہیں۔بار بار میدان میںاُترنے کا چیلنج دیتے ہیں ۔ ایسے بہت سے چیلنجز گزر چکے۔کئی ایک اب بھی سامنے کھڑے ہیں۔مگر چیلنج کرنے والے سکونِ قلب کی نعمت کے نخلستان میں بکھرے ایک زرے سے زیادہ نہیں۔ وجود میںسکون کے احساس کا ایک سمندر صبر کی لہروں سے بے یقینی اور بد دلی کے ساحلوں سے ٹکراتا رہتا ہے۔
ضرورت سے زیادہ دنیا کی آرائش و زیبائش لالچ و حسد کی حدیں پھلانگ لے تو ایک وقت کے بعد ندامت ملامت نہ بھی بنے تو کم از کم صداقت نہیں رہتی۔جو سچائی سے منہ چھپاتے ہیںوہ کلامِ پاک تک پہنچنے کا راستہ قلب سے نہیں طے کر پاتے بلکہ رگوں میں دوڑتے لہو سے لیفٹ رائٹ حصوں پر مشتمل دماغ کے خلیات سے جانچنے پرکھنے کے کیمیکل اثرات کے زیراثر اپنا فیصلہ سناتے ہیں۔شاگرد جب خود استاد کے منصب تک پہنچ جاتے ہیں۔تو وہ اپنے پسندیدہ اساتذہ کے خود پر آزمائے فارمولوں کے ساتھ ساتھ تربیت میں کمی رہ جانے کیوجہ بننے والے نئے فارمولے بھی آزماتے ہیں۔پھر یہ سلسلہ نئی نئی جہتیں متعارف کرواتا ہے۔سیکھنے اور سکھانے کا عمل ایک کے بعد ایک چھ سات دہائیوں میں ختم ہوتا رہتا ہے۔مگر کسی بڑی نئی تبدیلی کا مظہر پانچ دہائیوں میں ایک بار ہی ہو پاتا ہے۔زیادہ تر پیروی ہوتی ہے۔رہنمائی کا علم صدی میں ایک دو کے ہاتھ ہی لگتا ہے۔جو شاگردی میں جنونی ہوتے ہیں وہ استادی میں انوکھے ہوتے ہیں۔بقول غالب!
مشکلیں اتنی مجھ پر پڑیں کہ آساں ہو گئیں
مگر اقبال  کا کہنا ہے کہ
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

تحریر : محمودالحق

Monday, April 16, 2012

محبت

2 comments
زندگی انسان کو ہمیشہ سے ہی پیاری رہی ہے۔موت کے سائے گر پھیل جائیں تو ویرانی ڈیرے ڈال لیتی ہیں۔ہونٹوں پہ مسکراہٹ ،آنکھوں میں تیرتے قطرہ نم سے خشک زمین پر بارش کی پہلی پھوار کی طرح بھینی بھینی خوشبو کے اُٹھنے تک محدود ہوتی ہے۔
جان جتنی پیاری ہوتی ہے غم جان اس سے بڑھ جاتی ہے۔دعاؤں کے لئے ہاتھ پھیلائے جاتے ہیں تو بد دعاؤں کے لئے جھولیاں۔توبہ کا دروازہ گناہوں کی آمدورفت کے لئے کھلا رکھا جاتا ہے۔گھر کے مکین مالک ہوتے ہے ،گلیاںمسافروں کی راہگزر بنی رہتی ہیں۔ مکین شک و شبہ میں  رہتے ہیں۔مسافر پلکوں پہ بٹھائے جاتے ہیں۔مکینوں سے محبت کا دعوی ،مسافروں سے پینگیں بڑھائی جاتی ہیں۔
جو قسمت میں آنی جانی ہو اسے انتظار کے مہمان خانے میں ٹھہرایا نہیں جاتا۔ایک در کا سوالی ضرورت مند ہوتا ہے۔در در کا سوالی در بدر رہتا ہے۔چلمن کے پیچھے سے دست سوال کا جواب دیا جاتا ہے۔ آنگن سے جھانکا نہیں جاتا۔
کھلے عام جو محبت کا دم بھرتے ہیں۔کہانی وہ ہی زبان زد عام رہتی ہے۔مرنے جینے کے وعدوں سے ہاتھوں پہ رنگ حنا پھیلاتے ہیں۔اللہ رسولۖ  کے ناموں کے سائبان تلے خواہشوں کے پھولوں سے سجی ردا بچھاتے ہیں۔ایک کے بعد ایک عاشق نامراد بھنوروں کی طرح گلستانوں میں منڈلاتے ہیں۔جہاں بنے سنورے پھول کانٹوں کے حفاظتی حصار سے آنکھ بچا کر مہمانداری کے انتظام و انصرام میں دل و جان سے ارمان ہتھیلی پر رکھے پھرتے ہیں۔ مجازی محبت کا نشہ شراب کی طرح سر چڑھ کر چکرا دیتا ہے۔ کھولتے ہوئے پانی کی مانند صرف بھاپ بن بن اُڑتا ہے، جو آخری قطرہ تک بھی پانی ہی رہتا ہے۔
جو محبت اختیار کی جائے وہ اس محبت سے بازی نہیں جیت سکتی جو تلاش کی جائے۔ جو محبت حق جتانے سے جیت سے ہمکنار ہو وہ دیرپا نہیں ہوتی اور جو حق پانے سے مالک کی ملکیت میں سونپ دے، موت کی پناہ میں وہ زندگی زندہ رہتی ہے۔
جو محبت بھوک مٹا دے وہ بدن سے توانائی تو ذہن سے سچائی مٹا دیتی ہے۔آنکھیں چمک تو زبان الفاظ کی کمی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ قلب دھڑک دھڑک مہمانوں کی آمد کا نقارہ ذہن  پر ہتھوڑے کی طرح برس کر بجاتا ہے۔
جو آنی جانی شے کی محبت میں بلا خوف و خطر قلم تحریر سے قلب حال بیان کرتے ہیں۔ انہیں حقیقی حق محبت کے جلوؤں کی تاب کہاں رہے گی۔چوری کھانے والے طوطے باغوں میں چوری کھانے والوں سے باعزت نہیں کہلا سکتے کیونکہ یہ طوطا کہانی نہیں کہ یہ فیصلہ صادر کر دیا جائے کہ کون کیا ہے۔
سچی محبت ایک نظر میں فریفتہ کر دیتی ہے۔آدم کو فرشتوں کے سجدے سے معتبر کر دیتے ہیں۔حکم عدولی فرشتے سے شیطان کے مقام پر لا کھڑا کر دیتی ہے۔فضیلت محبت میں جھکنے سے ہے۔ بھلا آدم کو سجدے سے کیا۔ سجدہ کا حکم ماننے کے مقام اور نہ ماننے کے انجام سے خبردار کرنا بھی مقصود تھا۔ جسے بنی نوع آدم نے صرف فضیلت کے درجہ سے مقام محبت کو مقام اعلی ٹھہرا دیا۔
پھل ہوں یا پھول ، ذائقہ ہو یا خوشبو ، رنگ ہوں یا خوبصورتی انتخاب ہمیشہ خوب سے خوب تر ہی کیا جاتا ہے۔ گھر کی سجاوٹ ہو یا کپڑوں کی بناوٹ ہر کمی اور ہر خامی پر نظر رکھی جاتی ہے۔پھر دور کرنے میں بہتر سے بہتر صلاحیت بروئے کار لائی جاتی ہے۔زندگی اچھے برے ، نئے پرانے کی تقسیم در تقسیم سے بہترین کے انتخاب نظر پر رکتی ہے۔پسند قربانی کے جذبہ سے سرشار ہوتی ہے۔نا پسندیدگی معیار میں پستی سے اوپر نہیں اُٹھتی۔
محبت کے جذبات سچائی کے علمبردار ہوتے ہیں۔سچائی حقیقت سے ہے، حقیقت حق سے ہے،حق محبوب سے ہے،محبوب محبت سے ہے،محبت سچائی سے ہے،سچائی سچ سے ہے ، سچ کلام سے ہے،کلام امین سے ہے،امین صادق سے ہے،صادق طلوع سے ہے،طلوع آفتاب سے ہے،آفتاب روشنی سے ہے،روشنی کرن سے ہے، کر ن نور سے ہے،نور جلوہ سے ہے، جلوہ طور سے ہے،طور ظہور سے ہے،ظہور قرآن سے ہے، قرآن محمدۖ سے ہے اور محمدۖ  اللہ سے ہے۔ 

تحریر : محمودالحق

Sunday, April 15, 2012

ہدایت یا روایت

1 comments
تاریخ کے ٹیچر کے کمرے میں داخل ہوتے ہی مانیٹر کہتاکلاس سٹینڈ۔ تمام طالب علم مؤدب کھڑے ہو جاتے۔ ٹیچر ہاتھ کے اشارے سے انہیں بیٹھنے کے لئے کہتا۔طالب علم روزانہ کی طرح اپنے اپنے بستوں سے کتابیں اور نوٹ بکس نکالتے۔ انہیں ہر روز ایک نئے سبق کو پڑھنے کی عادت سالہاسال سے تھی۔ ہر اگلی جماعت میں ایک کے بعد ایک نئی سبق آموز کہانی ان میں اخلاقی ، مذہبی اور نفسیاتی تربیت کے پہلوؤں کو اجاگر کرتی۔ انہیں ہمیشہ تاریخ کا آئینہ دکھا کر سمجھانے کی کوشش کی جاتی رہی۔کیسےٹیپو سلطان نے اپنے دشمن کو میدان جنگ میں گھوڑا پیش کیا۔ وہ زمانہ ٹیکنالوجی کا نہیں تھا۔قلعوں پر پتھر برساتی منجنیق ہی جدید ترقی کا شاخسانہ تھی۔ ٹی وی ریڈیو درکنار اخبار نام کی بھی کسی شے کا وجود نہیں ہوتا تھا۔ گرمیوں میں جس جنگ کا فیصلہ ہوتا۔ موسم سرما میں دور درازکے علاقے اس سے آگاہ ہوتے۔ اس بات کو یوں بھی سمجھا جا سکتا ہے،کولمبس کے 1492  ء میں امریکہ دریافت کرنے سے پہلے دنیا مکئی یعنی کارن کے نام سے نا آشنا تھی۔ بلکہ آلو ، ٹماٹر جیسی نعمتیں بھی ہنڈیا میں جلنے بھننے سے محروم تھیں۔ اور ریڈ انڈین معمولی گھوڑے جیسی بنیادی سواری سے بھی محروم تھے۔
دنیا میں انسان نے ایک کے بعد ایک نئی شے کو متعارف کرایا۔ اس کا سہرا جستجو سے زیادہ ضرورت کو جاتا ہے۔ اسی لئے تو ضرورت ایجاد کی ماں کہلاتی ہے۔ جدید دنیا کی ترقی کے اہم کرداروں میں ایک لائبریری بھی ہے۔ جہاں جستجو نے تحقیق کا راستہ اپنایا اور انسان کو اس راہ پر ڈال دیا کہ وہ فاصلوں کو علم و رقم کی تلاش میں سر کرنے لگا۔ جس کی موجودہ شکل ہمارے سامنے ہے جہاں حسب ذائقہ پھل و سبزیوں کی تجارت اختیار کی جاتی ہے۔ اگر اس شے کا وجود نہ بھی ہو کیلنڈر ایسا ضرور مل جائے گا جہاں سے اس کی تصویر اور نام سے پہچان رہتی ہے۔
انسانی تاریخ میں ہمیشہ سے انسانوں کے پرندوں کی طرح ایک علاقہ سے دوسرے علاقہ میں نقل مکانی کے شواہد ملتے ہیں۔ مگر پورے قبائل کی نقل مکانی کے شواہد کم ہیں۔ ایسے انسان جو اپنے حال سے مطمئن نہیں یا جنہیں دوسرو ں سے آگے بڑھنے کی لگن ہو، ہمیشہ سے ہی ایسی منزلوں کے مسافر بنتے ہیں۔ وہ اپنے راستے میں آنے والی ہر مشکل گھڑی کو موت کی طرح ٹال دیتے ہیں اورکھلے سمندروں میں کشتیوں سے ساحل کنارے پہنچنے کی آرزو میں چند ایک اپنی جان سے بھی چلے جاتے ہیں۔
 قوموں کے اثاثے ان کی لائبریریاں ہوتی ہیں اور لائبریری کے روح رواں ان کے قائد۔جن کے دم سے وہ آباد ہیں۔ جو مرنے کے بعد بھی اقبالیات اور غالبیات بن کر زندہ رہتے ہیں۔ چاہے مذہب ہو یا ادب ، تاریخ ہو یاسیاست اپنے اپنے پیرو کاروں کے سہارے نسل در نسل عقیدت مندوں میں کسی روحانی مرشد کی طرح فیض پہنچاتے رہتے ہیں۔ یہی وہ طبقہ ہے جو معاشرے میں بنا امارت کے بھی تعظیم وتکریم کے لائق جانا جاتا تھا۔
آج کا دور ایک مختلف دور ہے ہدایت کی بجائے روایت کا راستہ اپنایا جاتا ہے۔ ترقی کرنے کی پاداش میں قوموں کو اجتماعی خود کشی کے لئے مواقع فراہم کئے جاتے ہیں۔ کامیابی کے جس زینے پر خود چڑھتے ہیں دوسروں کو احساس محرومی کی بلند و بالا عمارتوں سے دھکا دیتے ہیں۔ نامعلوم طریقے سے احساس کمتری پروان چڑھتا رہتا ہے۔جو مایوسیوں کے اندھیرے میں انہیں دھکیل دیتا ہے۔جو ان کا مقدر نہیں۔
بچوں کے تعلیمی ریکارڈ آن لائن دوسروں کو دکھائے جاتے ہیں تاکہ وہ بھی ہدایت کی بجائے روایت کی بھینت چڑھ جائیں۔ انسان نے اخلاقی اقدار کو دنیاوی قابلیت کے چوغے پہنا دیئے ہیں۔ نصیحت اور گائیڈ لائن کی آڑ میں دوسروں پر برتری ثابت کرنے سے ضرور احساس برتری کو تقویت پہنچاتے ہوں گے۔ چند کتابوں سے زندگی کے مفہوم اخذ کر لئے گئے۔ پھر علم کی معراج پر تجربات کی مہر ثبت کر دی گئی۔
نناوے فیصدکرپشن اور ہٹ دھرمی جس دور کا خاصہ بن جائے وہاں ایک یا دو فیصد اچھائی کے پنپنے کے لئے وسائل سے زیادہ طاقت کی ضرورت ہوتی ہے۔ جس کے لئے سچائی کی ضرورت ہوتی ہے اور سچائی کے لئے ہمت کی ۔ ہمت کے لئے بھروسہ کی۔ بھروسہ کے لئے عہد کو پورا کرنے کی یقین دہانی اور عہد ایمان کا متقاضی ہے۔
نوجوان جس منزل کی تلاش میں نکلتے ہیں۔ بوڑھے جو بھٹکے ہیں انہیں پھر اسی راستے پر ڈال دیتے ہیں۔ سبق انہیں یہ دیا جاتاہے کہ گھوڑے دشمنوں کو دینے سے قوم ترقی کی راہ پر نہیں چلتی بلکہ مکئی ، آلو اور ٹماٹر کی دریافت نے دنیا کو ایک نئی جہت متعارف کرائی۔ بدلے میں انہیں گھوڑے جیسی سواری کی نعمت عطا ہونا بذات خود ایک بڑی نعمت ہے۔
جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ایک بنچ پر بیٹھے دو طالب علم سالہاسال کے بعد بھی بستے میں سے کتابیں نکال کر قصے کہانیوں سے آگے نتائج حاصل نہیں کر پاتے اور دو متضاد سوچوں کے ترجمان بن کر ایک سکول سے نکل کر دنیا کے دوسرے کونے تک دو مختلف ، متضاد نظریات کے حامل پروردہ رہتے ہیں۔ جنہیں دوسروں کے مسائل میں جھانکنا اس لئے اچھا لگتا ہے تاکہ وہ ان کی کامیابی کو قریب سے دیکھ کر انہیں شاباشی دے سکیں۔
 ۔28 سال پہلے آزادی کی نعمت سے ہمکنار ایک ملک کے دو سو کے قریب باشندے   1975 میں دنیا کے ایک بڑے شہر میں آباد ہوئے۔ ان کے قریب ہی ایک دوسرے ملک جسے آزاد ہوئے چار سال ہوئے تھے چند گھر آباد ہو گئے۔37 سال بعد وہ چند گھر چالیس ہزار کی تعداد تک جا پہنچے اور نظریہ کی بنیاد پر  65 سال قبل آزادی حاصل کرنے والے اب وہاں شائد پچاس بھی نہ رہے ہوں۔ سب اونچی پرواز کے شوق میں پچاس میل کے علاقے میں امارت کی نشانیاں بن گئے۔ قوموں کو پڑھنے کے لئے کسی فارمولہ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ قومیں اپنا آپ دکھاتی ہیں، تاریخ قوموں کو آئینہ دکھاتی ہے۔ایسا کوئی سانچہ نہیں جس میں ڈھل کر قوم بنتی ہو۔

تحریر: محمودالحق

ماں تجھے سلام

2 comments
ماں  ایک رشتہ ، ایک جذبہ ، قربانی کی مثال ، محبتوں کا گہوارہ ، خوشیوں کا پہناوہ ، غموں   کے بادل سے اوپر  صبر کے پہاڑ کی چوٹی ۔
 گود اپنی میں سر  سہلاتی ،پیار سے تھپتھپاتی ، آنکھوں سے جھولا جھولاتی ۔ راتوں  میں تیری دھڑکنوں کا  پہرہ  ،  انگلی ہی تیری   میرا سہارا ،  قدموں کا  راستہ ،سانسوں سے جڑا میرا کنارہ ۔
تیرا ہی وجود تھا تجھ میں سمایا رہا ۔ اپنےقلب محبت کو مجھ سے زیادہ تم نے بھی نہ سنا ہو گا۔ میرے قلب نے پہلی دھڑکن تیرے قلب سے  سیکھی۔وجود سے سینچ کر اپنی محبت کا پہلا گھونٹ تم نے مجھے پلایا۔ لفظ زمانے نے مجھے سکھائے۔
 تیری عظمت کو سلام کروں بھی تو کیا پیش کروں۔ خون جگر بھی دے دوں  تو کیا وہ بھی تو تیرا ہے۔ میری پہلی دھڑکن بھی تو تیری ہی دھڑکن سے جڑی ہے۔ سانسوں کا طوفان تیرے سینے سے لپٹ کر  تھما تھا۔ تیری روح سے جدا ہوا  بھی تو تیرے وجود سے  نہ جدا ہو پایا۔ جدائی تیری فانی وجود مجھے دے گیا ۔ قلب تیرے سے نکلی جو دعائیں سر میرا سجدہ ہی میں جھکاگیا ۔
لحد میں ہاتھوں سے میں نے تمھیں اتارا  ۔ تیرے رخ ماہ کو جو میں نے قبلہ رخ چاہا ۔  تجھے تو چاہت تھی اپنے خدا کی ۔ ایسی خوشی تو تیرے چہرے پہ مجھے دیکھنے سے بھی نہ کبھی آئی ۔
 پھولوں کی طرح  کھلتی چہرے پہ مسکراہٹ۔ تیری بیماریوں کی کہانی دفن ہو گئی ۔
تیری عشق اللہ و رسول کی جوانی ابھر آئی ۔ جنہیں تو رات کے پہروں میں ذکر یاد کے دئیے جلاتی ۔
 دنیا سے لاتعلقی اور بےزاری کا تیرا اظہار مجھے تیری  قربتوں میں جدائی کا غم دے گیا  مگر تیری چاہتوں کے میں قربان کہ اصل راستہ میں پا گیا ۔ تم نے  مجھے ایسا سکھا دیا   ، دنیا اپنی کو سلا دیا ۔
 محبتیں حسرتوں سے لپٹ جائیں ۔ تو زمین سے جڑیں اکھڑ جائیں ۔ کونپلیں شاخوں میں ہی سمٹ سمٹ کر سکڑ جائیں ۔
 شاخ شجر کی محبت اپنی کونپل سے تب تک
 جڑ سے جو آب امر پہنچے اسے جب تک
محبتوں کے یہ بہاؤ  شجر شجر ، شاخ شاخ ،کونپل کونپل ،گلوں کے مہکانے تک , پھلوں کے پکانے تک , دھوپ سے بچانے تک ۔
 کٹ کٹ کر جو شجر خواہشوں کے ایندھن بن گئے  ۔ آب امر کو ترستے جل جل کر خاکستر  کرب و اذیت سے دوچار رہ گئے۔
تجھے میرا سلام جو محبت کا یہ رنگ مجھے سکھا گئی ۔ ماں سے بھی بڑھ کر اللہ کی محبت کا نشہ مجھے لگا گئی۔

تحریر : محمودالحق

Sunday, April 8, 2012

سچ کی تلاش

1 comments
وہ سچ کی تلاش میں تھا۔ اس نے آنکھ ایسے ماحول میں کھولی جس کی تمنا دوسرے کئی برس سپنوں کی طرح کھلی آنکھوں میں بساتے ہیں۔مگرجن میں مایوسی لوڈ شیڈنگ کے اندھیروں سے بھی زیادہ تاریک ہوتی ہے۔معاشرہ سے کٹ کر ضرورت صرف معاش رہ جاتی ہے ۔ پھر انسان بھی انس آن نہیں رہتا ۔ رشتوں کے ٹوٹنے کی آواز سوکھی لکڑی کے تنے سے الگ ہونے جیسی ہوتی ہے مگر سنائی نہیں دیتی ۔ اپنے پن سے جدا ہونے کا درد محسوسات سے خالی کبھی نہیں ہوتا ۔
اس کا یہی درد پیشانی پہ پڑی سلوٹوں سے عیاں تھا ۔ہر سوال کے آخر میں کیوں اور پھر ایک نئے سوال کی ابتدا ء ، یوں نہ تو وہ سوال سے اپنے آپ کو روک پایا اور نہ ہی جواب سے تسلی ۔" کیوں "نے اس میں گھبراہٹ کا سایہ پھیلا رکھا تھا ۔ سایہ اتنا گہرا ہو گیا کہ مایوسی کے اندھیرے میں اسے روشنی کی تلاش نے بے چین کر دیا۔ باپ سے سوال کرتا تو وہ دوسری بیوی اور اس کے پہلے بچوں کے معاملات میں الجھنے کی وجہ سے اسے پہلی غلطی کی سزا نظر آتا ۔
اس کی پہلی بیوی دوسرے شوہر کے ساتھ رہنے کے لئے اس کے بچوں کو بھی ساتھ لے گئی اور دوسری بیوی اپنی پہلی اولاد کے ساتھ ساتھ اس کی بچی پر بھی اپنا حق جتاتی ۔ ہمسائے اس سے نالاں ، دوست اس سے کنارہ کرتے ،مذہب میں اسے پناہ نہ ملتی ۔وہ الجھتا چلا گیا ۔نشہ کی بجائے اس نے دوا کا سہارا لیا ۔ جس سے خیالات کچھ دیر سستا لیتے مگر آنکھ کھولتے ہی اسے بے رحم سوالوں کے تھپیڑے آ لیتے۔وہ سوالوں کی گٹھڑی کندھوں سے اوپر دماغ میں سجائے سوالی بنا پھرتا ۔
آخر اسے کس کی تلاش تھی۔ کہیں رشتوں سے فرار کا راستہ ڈھونڈنے کے لئے سہارے کی تلاش میں تو نہیں مارا مارا پھر تا رہا ۔
ملاقات دو سری بار سوال پہلے والا ۔
اسے ایسی کتاب کی تلاش کیوں جس کے ایک ایک لفظ پہ سچائی لکھی ہو۔ بندے پہ جس کا اثر تو ہو مگر دسترس و اختیار سے اوپر ہو۔
جن کی نظریں اپنے چاروں اطراف برپا ہنگامہ خیزی سے دوچار ہوں۔ دماغ کے تندور میں خیال کے پیڑے سے اختلاف کی روٹی پکانے کا عمل جاری و ساری ہو۔ وہاں قلب میں میوے انتظار میں ہی سوکھ جاتے ہیں ۔
جو زندگی آنکھوں اور کانوں سے بسر کرتے ہیں زندہ قلب سے نہیں رہتے ۔ جو لفظ پڑھنے یا سننے سے ذہن میں سما جائیں مگرقلب میں نہ اتر پائیں تو برین واش تو ہو جاتا ہے مگر قلب صفائی سے محروم رہ جاتا ہے ۔
دروازے پہ دستک گھر کے مکین سے تعلق کی غماز ہوتی ہے۔ مکین سے محبت ہو تو دستک ملائمت احساس سے بھری ہو گی۔ دوسری صورت میں ہاتھ کی ضرب آنے والے کے ارادے کا ڈھنڈورا پیٹے گی۔
اللہ سبحان تعالی کے فرمان تک پہنچنے کے لئے ذہن کے دریچے بند کر کے قلب کی سیڑھی سے سچائی کی رسی تک رسائی ممکن بنائی جا سکتی ہے۔ اگر جینے میں کیوں ، کیا ، کیسے کےحروف اضافی کی تکرار ہو تو سوالوں کی بھرمار کے وزن سے پیشانی پہ سلوٹیں بڑھتی ہی رہتی ہیں ۔
چاندپر پڑتی سورج کی شعائیں اسے گھٹا بڑھا کر تاریخوں میں بدل دیتی ہیں۔ یہی شعائیں زمین پر دن رات کی تمیز کرتی ہیں۔ اس سے آگے کا علم نہیں ۔ کہیں مفروضے تو کہیں کہانیاں ہیں ۔
زمین میں ننھے بیج کے دبانے سے خوشبو اور مہک میں لپٹنے تک پھل اور پھول ایک وقت کی حقیقت کے عکاس ہیں ۔ پل بھر کے چکھنے کی داستان نہیں۔جو ابر کے کرم کے محتاج ہیں۔ جو اتاریں نہ جا سکیں تو خود ہی اتر کر زمین سے لپٹ کر فنا ہو کر پھر نئی زندگی بن جاتے ہیں ۔
رب العالمین کا تصور کرنے کے لئے بند کمرے سے نکل کر کھلے آسمان کے نیچے آنا ہو گا۔ نعمتوں کا تصور باغوں و بہاروں سے جدا ہو کر رنگ نہیں دکھا پائے گا۔ مہتاب کو اپنا کہہ دینے سے کسی کی ناراضگی کا اندیشہ نہیں رہتا۔کیونکہ زمین کے عشق میں وہ خود دیوانہ وار جھومتا ہے۔
ہوائیں زندگی کی محبت میں بسترسے لپٹی سانس تک آمدورفت جاری رکھتی ہے جو زرد پتوں کو گرا دیتی ہیں اور آندھی بن جائیں تو اُڑا دیتی ہیں ۔خیالات کی زمین پر جب شک کی پنیری لگائی جائے گی۔ تو اختلاف کی فصل کو کاٹنا بہ امر مجبوری بن جائے گا۔دوسروں کا احتساب کرنے سے پہلے اپنا محاسبہ ضروری ہے۔ ترازو میں تولنے والا ایک طرف ہمیشہ اپنے پاس باٹ رکھتا ہے۔ جس کے وزن کا پورا ہونا تول کی گارنٹی ہے۔
نئے ماڈل کی کار ، پوش علاقے میں مہنگے بنگلے خواہشات کے غلاموں کی امارت کی منڈیوں میں نیلام ہونے کی نشانیاں ہیں۔ جسے پانے کے لئے آزادی کے پروانے اپنی جانوں پر کھیل جاتے ہیں ۔
باتیں تو پرانی تھیں اسے نہ جانے کیوں نئی محسوس ہوئیں۔ شائد اسے دنیا میں جینے کے لئے جینے کا ڈھنگ ہی بتایا جاتا رہا۔ مگر سچ تو قلب میں ایسے اترے جیسے پھل میں رس اترتا ہے۔کلام کا اثر قلب کے پاک ہونے سے بڑھ جاتا ہے۔ علم تو معلم کا محتاج ہو سکتا ہے۔ عقیدتِ عشق،محبوب کے وصل سے وابستہ نہیں۔ خوشنودی کے لئے رضا بھی درکار ہوتی ہے۔
زیادہ سوالات کبھی گتھیاں سلجھانے کی بجائے خود ہی اُلجھ جاتے ہیں۔ جس سے طالب متعلم ہو جاتے ہیں اور فیصلے کرتے چلے جاتے ہیں۔ جو علم کی معراج تو بن جاتے ہیں مگرعمل کی میراث نہیں۔ برسہا برس کی دھول چند لمحوں میں قلب سے دھل جائے تو شکریہ کا ہار الفاظ کے گلے میں نہیں ڈالا جائے گا ۔بلکہ اس قلب کو پہنایا جائے گا جو سچائی کی تلاش میں در بدر بھٹک رہا تھا ۔ لفظوں کو موتیوں کی مالا بنا کر جس نے پرو لیا ۔

تحریر : محمودالحق

Friday, March 16, 2012

سیاست میں ریاست ، الیکشن میں سلیکشن

0 comments
ابھی حال ہی میں الیکشن کمیشن نے ایک خاتون پریزائیڈنگ آفیسر کے تھپڑ کی قیمت چکائی ہے ۔ اب ایک نیا ٹیسٹ پھر عدالت کے دروازے پر دستک دینے پہنچ چکا ہے ۔ سرگودھا کے ستر سالہ ٹیچر پر بد ترین تشدد کر کے دونوں ٹانگوں سے معزور کر دیا گیا ہے ۔ جسے اگر میڈیا ہائی لائٹ نہ کرتا تو شائد ایک دو احتجاجی جلسہ کے بعد سیای مفاہمت کی نظر ہو جاتا ۔ مگر آج صورتحال یکسر بدل چکی ہے ۔ طاقت کا استعمال لاٹھی ، گولی کا وہی پرانا رنگ رکھتا ہے ۔ مگر دیکھنے والی آنکھ بدل چکی ہے ۔ کیمرے کی آنکھ سے وہ ان پڑھ لوگ بھی اسے دیکھ لیتے ہیں جو اس سے پہلے اپنی ناخواندگی کی وجہ سے اخبار میں خبر پڑھنے سے محروم رہ جاتے تھے۔

پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کا  انتہائی چالاک سیاست سے واسطہ پڑا ہے ۔ انہیں عام لوگوں کے مسائل سے دور رکھنے کے لئے کبھی پریس کلب پر حملہ کیا جاتا ہے ۔ تو کبھی بیس بائس سال پرانا کھاتہ کھول لیا جاتا ہے ۔ کرپٹ کرپشن کے کھیل میں  دوسروں کو اپنے حمام میں لایا جاتا ہے ۔ مہران بینک سکینڈل ایک تیر سے کئی شکار کرنے کا شاہکار ہے ۔ لینے کے دینے والا معاملہ ہوتا نظر آ رہا ہے ۔ اس کا سب سے زیادہ فائدہ پیپلز پارٹی کو ہو گا ۔ اور دوسرا تحریک انصاف کو ۔ جو اس سکینڈل کے برے اثرات سے محفوظ ہیں ۔ فیصلہ چاہے کچھ بھی ہو ۔ جس کی امید کچھ نہ ہونے کی ہے ۔ کیونکہ عدالتیں ایک کے بعد ایک ریاستی بد اعمالیوں کی دھلائی پر کمر بستہ ہیں ۔ مگر پوری قوم جانتی ہے کہ داغ تو اچھے ہوتے ہیں ۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ایک ہی خاندان کے افراد سیاسی گدی نشینی کے وارث نہ سمجھے جاتے ۔ وحیدہ شاہ مرحوم شوہر کی خالی نشست کے لئے پورے علاقہ کی واحد امید وار قرار پائی تھی ۔ جو وہ اپنی سیاسی  شعور کے فقدان کے سبب ہاتھ دھو بیٹھی۔
اخبارات عوامی مسائل پر جب قلم کشائی کرتے ہیں ۔ حکمران اس کی قبر کشائی پر ہمہ تن مصروف ہو جاتے ہیں ۔ عوام لب کشائی سے بھی محروم رہ جاتے ہیں ۔

سیاسی عزت سے بڑھ کر کچھ نہیں اس لئےمسلم لیگی قیادت نے جوابی حملہ کی پیش بندی کر لی ہے ۔ یونس حبیب کو اپنے کہے کی سزا ہرجانہ کی صورت میں ادا کرنا ہو گی ۔ ایسا مسلم لیگ نون سمجھتی ہے ۔عوام بیچارے سمجھنے سمجھانے سے کوسوں دور ہیں  کیونکہ بجلی کا خسارہ ۵ ہزار میگا واٹ تک برقرار ہے ۔ چھ سے آٹھ گھنٹے لوڈ شیڈنگ سے شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔ مرکز اور صوبے عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے انہیں ان کے اپنے مسائل ہی سے جکڑ دیتے ہیں ۔

اللہ رحم کرے الیکشن کے بخیر و عافیت گزرنے تک قوم نہ جانے کن کن مسائل سے دوچار کی جائی گی ۔ آج کی ساری اقبالی روحیں نا امید نہیں ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ زرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی ۔       

Saturday, February 25, 2012

دنیا کی زندگی اور اس کی زینت

6 comments
ان دیکھے مستقبل کے بارے میں کبھی پختہ اور مکمل یقین رہتا ہے تو کبھی شکوک و شبہات پیدا ہوتے رہتے ہیں ۔ اکثر بچوں کے مستقبل کو ابتدائی ایام زندگانی میں ہی تابناک مستقبل کی صورت میں پروان چڑھایا جاتا ہے ۔ مگر فیصلہ حالات اور قابلیت کی بنا پر اپنے منطقی انجام تک پہنچتا ہے ۔ ذہین بچے 80 % سے اوپر نمبروں یا اے اور اے + کے ساتھ ایکدوسرے سے بڑھ چڑھ کر مقابلے میں جیتنے پر کمر بستہ رہتے ہیں ۔ اوسط طالبعلم سکولوں سے بھاگ کر ورکشاپوں میں کام کرنے والوں سے بدرجہا بہتر شمار میں رہتے ہیں ۔ ذہانت کی درجہ بندی بچوں میں بزرگوں کے اختیار کئےگئے قوم پرستی ، فرقہ پرستی اور ذات پرستی جیسے درجوں کی طرح منقسم رہتی ہے ۔جیسے درجہ چہارم کے ملازمین درجہ اول کے افسران سے مصافحہ سے آگے تعلقات کی استواری سے محروم رہتے ہیں ۔
کب ، کیسے ، کیوں اور کہاں جیسے اکثر سوالوں کے جوابات ساحل سمندر پر رہتی ریت سے لے کر اونچے اونچے پہاڑوں پر جمے پتھروں میں اُلجھ کر رہ جاتے ہیں ۔ پہاڑوں سے اُبلتے چشمے ریت کی محبت سے محروم کیوں رہتے ہیں ۔اور کنکریوں کا ساتھ ہمیشہ کیونکر رہتا ہے ۔
یہاں نظام تعلیم ، مادی وسائل یا معاشرتی مساوات کا پوسٹ مارٹم کرنا مقصود نہیں ۔جو کہنا چاہتا ہوں اسے ایک مختصر کہانی سے سمجھانا بھی چاہوں گا ۔ اگر دل نہ مانے تو اس پر عمل کرنا بالکل ضروری نہیں ۔
فلاسفی کا ایک پروفیسر کلاس روم میں اپنے سامنے مختلف اشیاء رکھے کھڑا تھا ۔جب کلاس شروع ہوئی تو اس نے خاموشی سے ایک خالی بڑے مرتبان کو دو انچ سائز کے پتھروں سے بھر دیا ۔
پھر اس نے طالب علموں سے پوچھا کہ کیا مرتبان بھرا ہوا ہے ۔
وہ یک زبان بولے : ہاں
تب پروفیسر نے کنکریوں سے بھرا ایک بکس پتھر بھرے مرتبان میں ڈال دیا ۔ اور مرتبان کو ہلکا سا شیک کیا ۔کنکریاں پتھروں کے اندر جگہ بناتی ہوئی ٹھہر گئیں ۔
تب اس نے پھر سٹوڈنٹس سے پوچھا کہ کیا مرتبان بھرا ہوا ہے ۔
انہوں نے جواب میں کہا : ہاں
اس کے بعد پروفیسر نے ریت سے بھرا بکس اُٹھایا اور اسے مرتبان میں انڈیل دیا ۔ جس میں پتھر اور کنکریاں پہلے سے موجود تھے ۔ ریت نے مرتبان میں موجود ہر خالی جگہ کو پر کر دیا ۔
تب پروفیسر نے پھر اپنا سوال دھرایا : کیا مرتبان بھرا ہوا ہے ؟
سٹوڈنٹس یک زبان بولے: جی ہاں
پروفیسر نے کہنا شروع کیا کہ میں تمہیں یہ شناخت کرانا چاہتا ہوں کہ یہ مرتبان تمہاری زندگی کی نمائندگی کرتا ہے ۔ اور پتھر تمہاری زندگی کی ضروری چیزیں ہیں جیسے تمہاری فیملی یعنی ماں باپ ، بیوی بچے ، عزیز رشتہ دار اور تمہاری صحت ۔ اگر تم ہر چیز کو کھو بھی دیتے ہو اور یہی باقی رہتے ہیں تو پھر بھی تمہاری زندگی بھرپور رہے گی ۔کنکریاں تمہاری زندگی کے دوسرے معاملات کی نمائندگی کرتی ہیں ۔جیسے ملازمت ، گھر ، سواری وغیرہ اور ریت ان سب کے علاوہ ہر چھوٹی بڑی زینت کی چیز ہے ۔
اگر تم مرتبان میں سب سے پہلے ریت بھر دو تو پتھروں اور کنکریوں کے لئے جگہ نہیں بچے گی ۔ تمہاری زندگیاں بھی اسی طرح ہیں "۔

اگر ہم اپنی زندگی میں تمام وقت اور طاقت غیر ضروری معاملات پر صرف کر دیں گے ۔ تو ہماری زندگی میں ان کے لئے جگہ نہیں بچے گی جو ہمارے لئے اہم ہیں ۔جو ہمیں خوشی دیں ان پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ پہلے ترجیحات کو طے کرنا ہے ۔ جو ہمارے لئے اہم اور ضروری ہیں انہیں زندگی میں پہلے بھرنا ہو گا ۔ حقوق و فرائض کی ادائیگی کے معاملات ، تجارت کے اصول وضوابط طے شدہ ہیں ۔ ان کے لئے بڑے واضح احکامات ہیں ۔لباس کے تراش خراش میں پردہ کا لحاظ رکھنا اشد ضروری ہے ۔ اور دوسرے معاملات میں اعتدال کا راستہ اختیار کرنے کی ترغیب ہے ۔ تحریص کی ممانعت ہے ،علم میں رغبت ہے ، افکار میں جہت ہے ، سوچ میں مفارقت ہے ، عقل میں شراکت ہے ، نظریہ نظر شرارت ہے ، نیکی میں بہشت ہے ، عبادت میں قربت ہے ۔
جو کوئی چاہتا ہے دنیا کی زندگی اور اس کی زینت ، ہم ان کے لئے ان کے عمل اس (دنیا) میں پورے کر دیں گے ۔اور اس میں ان کی کمی نہ کی جائے گی۔  ۱۵   یہی لوگ ہیں جن کے لئے آخرت میں آْگ کے سوا کچھ نہیں ، اور اکارت گیا جو اس (دنیا) میں انہوں نے کیا اور جو وہ کرتے تھے نابود ہوئے ۔
سورۃ ھود ۱۶
جان لو کہ یہ دنیا کی زندگی محض کھیل اور تماشا اور زیبائش اور ایک دوسرے پر آپس میں فخر کرنا اور ایک دوسرے پر مال اور اولاد میں زیادتی چاہنا ہے جیسے بارش کی حالت کہ اس کی سبزی نے کسانوں کو خوش کر دیا پھر وہ خشک ہو جاتی ہے تو تُو اسے زرد شدہ دیکھتا ہے پھر وہ چورا چورا ہو جاتی ہے اور آخرت میں سخت عذاب ہے اور الله کی مغفرت اور اس کی خوشنودی ہے اور دنیاکی زندگی سوائے دھوکے کے اسباب کے اور کیا ہے
سورۃ الحدید۲۰

تحریر : محمودالحق

Friday, February 17, 2012

شاہیں کا جہاں اور

0 comments
حال سے ماضی اچھاہو تو پچھتاوا ، برا ہو تو ایک خواب سے بڑھ کر نہیں ہوتا ۔رہنا تو بحرحال حال میں ہوتا ہے ۔اگر جان پر بن آئے تو جینا محال ہوتا ہے ۔کامیابی قدم چومے تو سر فخر سے بلند رہتا ہے ۔ ناکامی میں پاؤں کے جوتے کی دھول سر کو آتی ہے ۔زندگی محنت کا تقاضا کرتی ہے ۔ خواب کے بغیر تو لگن بھی بنا بال وپر کی ہوتی ہے ۔
اقبال نے اپنے شاہین کو بلندیوں کا تاج پہنایا ۔ جس نے پہاڑوں کی چٹانوں کو اپنا مسکن بنایا ۔ قصر سلطانی کے گنبد تو مٹی پر پڑے پتھروں سے دھول میں اَٹے ہیں ۔شاہین اپنی فطرت ، عادت اور خصلت میں دوسروں سے ممتاز رہتا ہے ۔بھوک سے نڈھال بھی مردار سے زندگی کی بھیک نہیں مانگتا ۔جینا ان کا وقار ، زندگی ان کی شکار ، جھکنے کے نہیں روادار ۔ مگر دوستی میں ہاتھوں سے اُڑ کر شکار پر لپکتے ہیں ۔خوبصورتی میں ان سے بڑھ کر بہت ہیں مگر قیمت میں ان سے بڑھ کر کوئی نہیں ۔کیونکہ ان کا وقار پرواز سے ہے ۔ جینے کے انداز سے ہے ۔ حالانکہ ان کے شکار میں پرندے اور خرگوش ہی رہتے ہیں ۔
انسان کی پہچان کے اسباب میں سر فہرست گمراہی اور راست روی ہے ۔ اللہ جنہیں مومن کہہ کر مخاطب کرتا ہے ۔ وہ قصر سلطانی کے گنبد پر بسیرا نہیں کرتے ۔ جو ایسی خواہش رکھیں وہ شہباز نہیں ۔ اونچی پرواز میں کرگس بھی کم نہیں ہوتا ۔مگر بقول اقبال
پرواز ہے دونوں کی اسی ایک جہان میں
کرگس کا جہاں اور ہے شاہیں کا جہاں اور
جو پرواز کی طاقت رکھتے ہیں پاؤں ان کے زمین کی طاقت بھی رکھتے ہیں ۔انسان ہاتھ اور پاؤں سے زیادہ علم کی طاقت سے سرفراز ہوا ۔ یہی وہ مقام ہے جہاں فرشتے اللہ کے حکم سے سر بسجود ہوئے ۔ اسی علم کی بدولت انسان پہلے خشکی پھر پانی اور آخر کار ہوا میں سواری کرنے کے قابل ہوا ۔اسی طرح نیزوں ، تلواروں سے لڑتا بھڑتا توپوں ٹینکوں سے ایٹمی ہتھیار لے جانے والے میزائلوں تک ایجادات سے سرخرو ہوا ۔علم کی بدولت تسخیر کی خوبیوں سے مالا مال ہوتا گیا اور روح انسانی کو پابند سلاسل کرتا چلا گیا ۔
قید میں ضمیر قفس کے ہے ہجوم تنہائی
پابۂ زنجیر ہے نفسِ طائر رہائی
اونچی اُڑان تو ہے مگر شاہین جیسی نہیں ۔جہان کرگس کا ہو تو اُڑان بھی اسی کی ہو گی ۔
بقول اقبال !
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے
اس میں مٹی کی فطرت ہے تو تحریص بھی مٹی سے ہے ۔ جس کا منبع مادیت ہے ۔
خاکی کے اوڑھنے بچھونے کو زندگی ہے پرائی
خود ہی کھیتی اُگاتا ہے اور ضرورت سے زیادہ اناج پر قبضہ بھی جماتا ہے ۔ مگر مٹی نے اناج کو اُُگانے کا ڈھنگ نہ بدلا ۔ انسان کے کھانے کا ڈھنگ ضرور بدل گیا ۔ بدل تو ہر انداز گیا ۔ میلوں دوری کا فاصلہ محبت بھرے خطوط سے ناپا جاتا تھا ۔ انٹر نیٹ نے قربت کی انتہا کر دی زیادہ تر دور کے رشتوں میں ۔ اپنے خلوص بھرے خطوط سے بھی محروم ہو کر رہ گئے ۔
بھاٹی گیٹ جرمن و لندن کے قریب ہو گیا مگر لوہاری گیٹ سے دور ہو گیا ۔

تحریر ! محمودالحق

Sunday, October 30, 2011

یہ جینا بھی کیا جینا ہے

1 comments
انسان اپنی سوچ کے دھارے میں بہنے اور بہانے کے عمل سے دوچار رہتا ہے ۔ کبھی خوشی سمیٹتا تو کبھی غموں کے جام چھلکاتا ہے ۔ جینے کے نت نئے انداز لبادے کی طرح اوڑھے جاتے ہیں ۔ مگر جینا کفن کی طرح ایک ہی لبادے کا محتاج رہتا ہے ۔ برداشت دکھ جھیلنے اور درد سہنے میں طاقت کی فراہمی کا بندوبست کرتی ہے ۔
نقصان عدم اعتماد پیدا کرتا اور بھروسہ کو پامال کرتا ہے ۔ فائدہ تکبر کا مادہ پیدا کرتا ہے ۔ مقدر کے سمندر میں سکندر کی ناؤ بہاتا ہے ۔ انسان سوچتا وہی ہے جو پانا چاہتا ہے ۔ ہوتا وہی ہے جو تقدیر میں لکھا ہو ۔
زندگی میں خوشیاں تلاش کی جاتی ہیں ۔ جبکہ خوشی موقع کی تلاش میں رہتی ہے ۔ اور مواقع حسد ، رقابت ، لالچ اور نفرت سے کھوتے چلے جاتے ہیں ۔ مزاج مسلسل بگڑے رہنے سے رویے عدم توازن کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ پھر دوست دوست نہیں رہتے ۔ محبوب بھی محبوب نہیں رہتے ۔ عیوب کی نظر بد کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ جیسے ساحل سمندر پر لہریں پاؤں کے نیچے سے ریت سرکا نے سے توازن بگاڑتی اور پھر ساتھ بہانے کی ضد میں ایک کے بعد ایک لہر دوسرے کی مدد کو پہنچ جاتی ہے ۔جو سنبھلنے اور پاؤں جمانے کی مہلت دینے میں بخل سے کام لیتیں ہیں ۔
محنت سے جوڑی گئی ایک ایک اینٹ جب ایک دوسرے سے کٹ جائے تو صرف ملبہ کے ڈھیر کی صورت میں رہ جاتی ہے ۔ عمارت نقش و نگار سے مزین اور نظر اُٹھا کر دیکھنے میں خوبصورتی کا مجسمہ بنتی ہے ۔نظریں جھکانا احتیاط یا تابعداری میں رہتا ہے ۔ دیکھنے والی آنکھ وجود کا ہی حصہ ہیں مگر نظر میں جزب کی کیفیت روح سے مزین ہے ۔
زمین میں بیج بو کر آبیاری سے ثمر کے حصول تک پروان چڑھانا ایک عمل کا نتیجہ ہے ۔ مگر جس زمین کی تاثیر سے شاخوں میں پھول کھلتے اور رس گھلتے ہیں ۔ وہ جڑوں سے پہنچنے والی طاقت ،مٹی میں عمل تبخیر آبگیری تک آنکھوں سے اوجھل رہتی ہے ۔
جو درخت گرمی میں ٹھنڈک پہنچاتے ، دھوپ سے بچاتے تو سردی میں وہی اپنے سے دور رہنے پر مجبور کرتے ہیں ۔ مگر انھیں کاٹ کر پھینک نہیں دیا جاتا ۔ بلکہ موسم میں تبدیلی کے آثار نمودار ہونے تک انتظار میں رہا جاتا ہے ۔ مگر انسان بھلائی نیکی کرنے والے کی ایک غلطی یا خامی کو حالات کی درستگی تک ٹھیک ہونے کی مہلت دینے کو تیار نہیں ہوتا ۔بلکہ محبت کی ڈوری سے بندھے رشتے ناطے کو نفرت اور غرض کی آری سے کاٹنے کے درپے رہتا ہے ۔ چشمہ سے ابلتا پانی گرمی میں ٹھنڈک کا احساس دلاتا اور موسم سرما میں یخ بستہ سردی کا احساس مٹاتا ہے ۔ مٹی سے بنا انسان مٹی سے اٹ جانے کو گندگی تصور کرتا ہے ۔ لباس اور وضع قطع سے منفرد اور مسحور کر دینے کی بے لگان خواہش سے عزت ومنزلت اور جاہ و مرتبہ کا متمنی رہتا ہے ۔
آزادی سرکش اور بے لگام گھوڑے کی مانند ہے جسے قانون کی کاٹھی سے موافق بنایا جاتا ہے ۔ مگر نفس پھر بھی سرکشی پر مائل رہتا ہے ۔اگر روح کا بار وجود پر بھاری پن کا احساس بڑھا دے تو خلوت کا احساس بوجھ سے آزاد ہو جاتا ہے ۔ترغیب گناہ کی لذت کا احساس ضمیر اور خواہش کے درمیان فاصلے مٹاتا چلا جاتا ہے ۔
خوشی لزت سے آشنا ہوتی ہے اور غم خوف سے ۔
غم کے آنے میں غم ہے تو جانے میں خوشی ۔ خوشی کے آنے میں خوشی ہے تو جانے میں غم ۔
جو اسے رضا جان لے تو رضائے الہی سے قلب اطمینان میں دھڑکتا ہے وگرنہ اچھل اچھل بھڑکتا ہے ۔

Friday, August 19, 2011

ایک سوال ادھورا جواب

0 comments
پاکستان کے کسی بھی بڑے شہر میں اگر ٹریفک سگنل کے چاروں اطراف کی سرخ لائٹ کو بلنک کر دیا جائے ۔ جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ چاروں اطراف کی ٹریفک دیکھ بھال کر اور پہلے آئیے پہلے جائیے کے کلیہ پر عمل پیرا ہو تو ہمارے ہاں ایسے چوک میں کیا منظر ہو گا ۔ جہاں کوئی پولیس کا سپاہی بھی تعینات نہ ہو ۔ یقینا طوفان بد تمیزی ہو گا ۔ ہر سواری پہلے گزرنے کو اپنا حق اولین سمجھتی ہے ۔ بلکہ یہاں تک بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ سرخ لائٹ پر بھی زیادہ دیر تک رکنا محال ہوتا ہے ۔ بلا وجہ ہارن بجانا مشغلہ ایسا ہے جیسا اسمبلی میں ڈیسک بجانا ۔
ہم اکثر سنتے ہیں کہ ہم بحیثیت قوم ایسی با کمال خوبیوں کے مالک ہیں کہ علامہ اقبال کو بھی یہ کہنا پڑا کہ زرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی ۔ بلا شبہ مٹی تو زرخیز ہے جسے پانے کے لئے سنٹرل ایشیا سے لے کر یورپ تک کے حکمران ایک دوسرے کو دھول چٹواتے رہے ۔ مگر آخر کار مقامی افراد کو اپنی مٹی کی زرخیزی کو سونا بنانے کا حق مل گیا ۔ سونے کی چڑیا سمجھ کر مغربی حکمران کوہ نور تاج میں سجا کر پلٹ جانے میں ہی عافیت پا گئے ۔ منٹو پارک کے اجلاس نے جو بنیاد رکھی ۔ اقبال پارک بن کر اسے دھرنا اور جلوس سے پورا کیا جاتا رہا ۔
انگریز کی لاٹھی اور گولی کا بدلہ اس کے جانے کے بعد توڑ پھوڑ سے لینے کی کوشش آج تک جاری ہے ۔ حکمران بدل گئے مگر لاٹھی اور گولی کی سرکار نہیں بدلی ۔ بدلے بھی کیسے قانون 1861 کو ہی چند تبدیلیوں کے ساتھ جاری و ساری رکھا جاتا رہا ۔ اگر پوچھا جائے کہ جناب کیسے جاری ہے تو خبر کا حوالہ دینے میں کیا حرج ہے آرڈیننس کے تحت صوبے میں کمشنری نظام، سندھ لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 1979ءاور پولیس ایکٹ 1861ءبحال ہوگئے ہیں۔
اگرعلامہ صاحب جانتے کہ بنیادی ڈھانچہ تبدیل کرنے میں چونسٹھ سال بھی کافی نہیں ہوں گے تو زرا نم کی بجائے پوری طرح سیراب کرنے کی بات کرتے ۔ 1930 ، 1933 کی گول میز کانفرنسز کی ناکامی کے بعد دل برداشتہ قائد قوم کو ان مسلمانوں کی دگرگوں حالت زار کا حوالہ دے کر طوفان میں پھنسی کشتی کو نکالنے کے لئے خط نہ لکھتے ۔ کیونکہ مسلم لیگ کا نیا دھڑا سر شفیع کی قیادت میں مسلمانوں کی قیادت کا ترجمان نہیں تھا ۔ مگر کام ہونے کے بعد اب سب ہی ترجمانی کے دعوی دار ہیں ۔
بات تو ہو رہی تھی ٹریفک سگنل پر رکے مسافروں کی ۔ جا پہنچی آزادی کے متوالوں تک ۔ فکر کی کوئی بات نہیں قلمکار کا قلم بھی رکشہ کی طرح اپنے پاؤں پلٹنا جانتا ہے ۔ مارشل لاء کی سرخ بتی پر کئی کئی سال رکا رہتا ہے ۔ جمہوریت کی سبز بتی پر رفتار تیز کر لیتا ہے ۔
قائداعظم نے اتحاد اور نظم و ضبط کا بھی درس دیا تھا ۔ جسے یقین کے ساتھ بھٹو نے ایوب کے خلاف استعمال کیا اور بھٹو کے خلاف خود قومی اتحاد نے ۔ پھر اس کے بعد تو دس سال تک نظم و ضبط کا خوب مظاہرہ ہوا ۔ اور اس کے بعد اب تک صرف برداشت کے مظاہرے ہیں ۔ مظاہرے تو بے شمار ہیں ان کے احوال کے لئے کتاب لکھنا ہو گی ۔ کتاب کے لئے ایک عدد مصنف درکار ہوتا ہے اور چھاپنے کے لئے پبلشر اور ان سب کے لئے رقم کی مدد درکار ہوتی ہے ۔ صرف توڑ پھوڑ کی کہانی پر زر کثیر خرچ کرنا دانائی نہیں ۔ قومی معاملہ پر اس بے اعتناعی کو بزدلی سے محمول نہ کیا جائے ۔ کیونکہ
وہ اور ہوں گے کنارے سے دیکھنے والے
ہماری نہ پوچھ ہم نے تو طوفاں کے ناز اٹھائے ہیں
اس میں کیا شک ہے کہ بعض بے گناہوں نے تو کوڑے بھی کھائے ہیں ۔ اب بے چارے وہ کوڑے کے ڈھیر کے قریب بسیرا رکھتے ہیں ۔ جو اس وقت کچھ کھانے سے محروم رہ گئے تھے اب ان کے کھانے کے دن ہیں ۔
قلم بار بار پتنگ کی طرح ایک ہی طرف کنی کھائے جا رہا ہے ۔ کیا کریں برابر کرنے کے لئے کوئی میرے قائد کا جانشین نہیں ہے ۔ ولی عہد تو بہت ہیں جو تیز ہوتی ہوا میں مزید کنی کھانے کے لئے قوم کی امنگوں کی پتنگ کو مزید ہوا دے رہے ہیں ۔
اتنی لمبی تمہید باندھنے کی ضرورت پیش آنے کی وجہ بھی تو دینی پڑے گی وگرنہ اعتراض باندھنے میں حجت سے کام کیوں نہ لیا جائے گا ۔ کیونکہ نئی بات تو اس میں ایک بھی نہیں ۔ جب قائد ہی بھلا دیا تو صرف تاریخ پڑھا کر کیا سبق یاد کروایا جا سکتا ہے ۔ باد مخالف سے تو عقاب نہیں گھبرایا کرتے مگر الفاظ سیاہی سے ضرور گھبراتے ہیں کیونکہ سیاہی ہر شے کو سیاہی میں ڈبو دیتی ہے ۔ روشنی کے مینار بہت دور دکھائی دیتے ہیں ۔ لیکن جب اندھیرے سے روشنی کے دائرے میں داخل ہو جائیں تو روشنی کے منبع کی طرف دیکھنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی ۔


نوٹ ! ایک بار مغرب کی ایک شاہراہ پر سرخ بتی کو بلنک کرتے ہوئے چاروں اطراف دور دور تک پھیلی لمبی ٹریفک کو انسانی ہجوم سے بہتر انداز میں ایثار و رواداری ، نظم و ضبط کی پابندی میں دیکھا تو حیرانی ہوئی جو گاڑی اپنی حدود سے اگے چوک تک پہنچتی تو تمام گاڑیاں اس کے انتظار میں ایسے مودب کھڑے رہتے جیسے ہماری سڑکوں پر حکمرانوں کے قافلے گزرنے پر قوم کو انتظار کی سولی پر مودب کھڑا کیا جاتا ہے ۔
قومیں صرف کھوکھلے نعروں اور دعوؤں سے عظیم نہیں ہوتی بلکہ اپنے عمل و کردار سے اس مقام تک پہنچتی ہیں ۔

تحریر ! محمودالحق

Sunday, August 14, 2011

جشن آزادی مبارک تمہیں ۔۔۔ دیا سے دیا جلاؤ

1 comments
پاکستان کی آزادی کو آج چونسٹھ سال ہو چکے ۔ ایک قوم نے ایک وطن کی بنیاد رکھی ۔ ایک رہنما نے رہنمائی کی شمع جلائی ۔ قوم کے ہاتھوں میں ایک امید کا دیا تھما دیا ۔ جو دئیے سے دیا جلانے کی کوشش کے انتظار میں خود دیا ٹمٹماتا رہا ۔ بجھانے کی نیت رکھنے والے منہ کی کھاتے رہے ۔ آس ٹوٹی نہ امید ۔ جشن آزادی کی نعمت سے جگمگاتے منور ہو گئے ۔ حقیقی خوشی سے محروم طبقہ عارضی پن سے نعمتوں کا شکر بجا لانے میں کسر نفسی کا شکار رہا ۔ قوم چھتوں پر جھنڈیاں پھیلائے جشن کو آزادی کے ترانوں سے گنگناتی رہی ۔
بہت کچھ کھونے کے بعد بہت کچھ پایا تھا ۔ جو اسلام کا گہوارہ بننے میں بیتاب تھا ۔ اصول سیاست میں رہنما تو اصول معاش میں مساوات کے ترازو کے ہر پلڑے میں انصاف برابر یقین محکم تھا ۔
لیکن آج صبح عجب تھی ایس ایم ایس جو ملا شکایت سے بھرا شکوؤں سے تلا بے بسی سے تلملاتا پیغام آزادی کے رنگ سے ہرا تھا ۔ یہ جھنڈا سفید و سبز رنگ سے لہراتا خون آشوب شام کا سویرا تھا ۔ جو نئے چاند کو پہلو میں دبائے چمکتے ستارے سے روشنی پھیلانے کو بیتابی کا مظہر ہے ۔
اٹھاون کا مارشل لاء، پینسٹھ کی جنگ ۔ 71 کی آدھے وجود سے جدائی کے بعد پے در پے صدمات کا بوجھ کندھوں پر ایسے اٹھاتا چلا گیا جیسے باپ کے کندھوں پر نادان معصوم بچپن سوار ہو کر گہرے پانی سے گزر جاتا ہے ۔
آج ان کندھوں کو توانا اور طاقتور بازوؤں کے سہارے کی ضرورت ہے ۔ تو بازو بغلگیر ہونے سے گھبراہٹ کا شکار ہیں کہیں تنگدستی نے تو کہیں تنگیء داماں نے ہاتھ روک رکھا ہے ۔ خون بہانے سے نئی زندگی کو جلا نہیں ملتی ۔ اور جلانے سے جفا نہیں ملتی ۔ وفا کی سیڑھی محبت کی منزل تک پہنچاتی ہے ۔ اور محبت آسمان پر پھیلے قوس و قزح کے رنگوں تک ۔محبت تو وسیلہ ہے وفا کو منزل تک پہنچانے کی ۔
وطن ہر وقت دینے کا متمنی رہتا ہے ۔ قوم لینے میں بیتاب ۔ لیکن آج وقت نے آنکھوں سے پٹی کھول رکھی ہے ۔ لینے والے آج دینے میں تاءمل کیوں کریں ۔رگوں میں دوڑتے سرخ گرم لہو میں جو جوش زیادہ دیتے ہیں ۔ ان نوجوانوں کے عزم و حوصلہ کو ایک دھاگہ میں پرونے کی ضرورت آن پڑی ہے ۔ جہاں دانہ دانہ سے چپکا دانائی کی لڑی سے جڑا ہے ۔ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت نہیں جوش کی گانٹھوں کو وفا کے دھاگوں کی مزید ضرورت ہے ۔
جو کامیاب دکھائی دیتے ہیں وہ دراصل ناکام ہیں ۔ ہوس حرص کی محبت وفا کی چاشنی سے لبریز نہیں ۔
گاڑیوں کی رفتار ہارن کی آواز سونے کی جھنکار زندگی کے ساز نہیں ۔ سازندے ہاتھوں کے جادو سے آنکھوں کو چندھیا نے میں شعبدہ باز تو ہوں گے مگر پاکباز نہیں ۔
کیوں نہ آج یہ عہد کریں محلہ محلہ گلی گلی دھواں پھیلاتی موٹر سائیکل سے موٹر اتار کر دودھ دہی ، برگر ، پیپسی لانے میں دو پیڈل کا سہارا لیں ۔ جو بچت بھی ہے ۔ صحت بھی رکھے اچھی فارغ وقت کا بہترین مصرف بھی ۔ ٹریفک کے شور سے پاک ، انتظار کی کوفت سے دور فاصلوں کے قریب ہونے میں مددگار بھی ہوتی ہے ۔ دئیے سے دیا جلاؤ ۔ دوسروں کے محل دیکھ کر اپنی جھونپڑی مت گراؤ ۔ منزل تک پہنچنے کے لئے رفتار بڑھانے کی بجائے قدم بڑھاؤ ۔ جو قدم سے قدم ملائے گا ۔ ایک مقصد کو پہلےاپنا نصب العین بناؤ ۔ ایک کے بعد ایک رسم ضیاع کو تختہ مشق بناؤ ۔ رئیسی کی طفلانہ حرکت بچگانہ پر صرف مسکراؤ ۔
نہ گھیراؤ نہ ہی کچھ جلاؤ ۔ صرف دیا سے دیا جلاؤ

محمودالحق

Saturday, July 30, 2011

لکھنا مجبوری میری، پڑھنا کیوں تیری

0 comments
لکھنا چاہتا ہوں مگر لکھ نہیں‌پا رہا ۔ سمجھنا چاہتا ہوں سمجھ نہیں پا رہا ۔ نیٹ کے دھاگے کمزور ہوتے جارہے ہیں ۔ یا میری نظر کی کمزوری یہاں بھی حائل ہو چکی ہے ۔ چند روز تک نئے چشمے سے الفاظ صاف دیکھائی دینے لگیں گے ۔ مگر قلب کی صفائی دیکھنے میں ابھی مذید انتظار کرنا ہو گا ۔ سالہا سال کے انتظار کے بعد نہ تو محلے کی گلیاں صاف ہوئیں ۔ ندیاں بھل صفائی کی محتاج ہیں تو نالے کوڑا کرکٹ کی صفائی کے ۔
سیاستدان نرما کی وجہ سے اجلے دیکھائی دیتے ہیں ۔ مگر کردار ابھی صاف نہیں ۔ سیاست کے شیر ہیں یا ترکش میں بھرے تیر ۔ بچے کھچے عوام قطعا بھوکے بٹیر نہیں جو لڑ بھڑ کر بھڑاس نکالیں ۔ البتہ ترم کے پتے استعمال کرنے کی پابندی ہر گز نہیں ہے ۔ اب اسے مڈ ۔ ٹرم پڑھنے والے ایک نئی بحث کا آغاز خود سے کر دیں ۔ تو ہنوز دلی دور است نہ سمجھا جائے ۔ کیونکہ جج جہاں پایا جائے ۔ عدالتی کاروائی کا وہیں اختیار رکھتی ہے ۔ کم از کم ہمیں فیصلے کا اختیار نہیں ۔ کسی بھی دھاگے پر موم چپکا کر آگ جلانے کا اختیار ماچس ہاتھ میں لینے سے شروع ہو گا ۔ ہماری تو آواز بھی اچھی نہیں کہ اپنا راگ ہی آلاپ سکیں ۔ آگ تاپنے کا مزہ موسم سرما میں اچھا ہے ۔ ایسے شدید گرم موسم میں گرمی سردی صحت کے لئے سود مند نہیں ۔ سردا اگر بازار سے میسر نہ ہو تو گرما ابھی چند مزید ماہ دستیابی کا ترانہ گنگاتا رہے گا ۔
ماہ رمضان کی آمد آمد ہے پھل گھر گھر جانے کے لئے بیتاب ہیں ۔ تاکہ روزہ داروں کی افطاری میں غریب سے غریب تر کو بھی بھوک کے نڈھال پن سے نجات دلانے میں اپنا حصہ ڈال سکیں ۔ حصہ تو بقدر جثہ ہر صاحب حیثیت کو بھی بیواؤں یتیموں ، مسکینوں ، بیماروں اور لاچاروں کی مدد کرنے میں ڈالنا چاہیئے ۔ تاکہ وہ بھی شدید گرمی میں غربت کا پسینہ بہہ جانے سے نقاہت کا شکار ہونے سے اپنے آپ کو بچا سکیں ۔ اور ان کے بچے امیر کی عیال سے نفرت پال کر جوانی کی دہلیز تک انتقام کے گھوڑے پر سوار سفر طے نہ کریں ۔ بلکہ ہم سفر ہونے کے اعزاز سے نوازے جائیں ۔ ستارہ امتیاز سے نوازے جانے کی آرزو کہیں کہیں مچلتی دکھائی بھی دے تو گھر میں فوٹو فریم میں لٹکانے سے لٹکے منہ اُٹھائے نہیں جا سکتے ۔ سر اُٹھانے میں ایڑی چوٹی کا زور لگانے میں کوتاہی کی سرکوبی خیال کرنی ضروری ہے ۔
تیس دن جسم کی ضرورتوں کو کھجور اور دودھ سے توانا ئی سے بھرپور غزائیت پہنچانے کے ساتھ ساتھ روحانیت بکثرت عمل صالح سے ندامت ناصح پر ہو تو قلب تر و تازہ پھلوں سے بنایا خون سر پھرے شریانوں میں برابر پہنچ کر مقرب تکبر خاص کو اکڑاؤ کی بجائے نرم خوئی پر رواں دواں کر دے ۔ نا کہ جیو اور جینے دو کے جھنڈے تلے سانس لینے میں بھی محتاجی کا علم تھما دے ۔
کج فہمی میں کی گئی بات رات ڈھلنے کے انتظار میں اتفاق کی بجائے نفاق کے سبب اسباب پیدا کرنے کی صلاحیت سحر ہو جاتی ہے ۔ جو بات بے بات اپنا عمل دوا کی بجائے طبیب کی تشخیص کا اعلان ایجاد بن جاتا ہے ۔ علماء کے اجتہاد سے اسے الگ پڑھا جائے ۔ فتاوی ملنے سے کچھ خوش رہتے ہیں تو کچھ صرف پڑھنے سے ۔ اکثریت نہ پڑھنے میں ہی خوش ہے کیونکہ وہ ان پڑھ ہیں ۔ ملک کی تقریبا ستر فیصد شائد اسی کیٹیگری میں آتے ہیں ۔ بوڑھے طوطے تو اب پڑھنے سے رہے ۔ لیکن فال نکالنے کے لئے ان کے تجربات سے فائدہ نہ اُٹھانا کوئی دانشمندی نہیں ۔
اگر زندگی نے وفا کی تو ہر وفاء بے اختیار کو آقا سراپا کی غلامی میں تیغ زن تیار ہوتا پھر سے پائیں گے ۔
لیکن اگر آج سے بے نیام شمشیریں عقائد کے سر قلمی اعتراضات سے اختلافات کی بجائے پیار اور امن کی عبادات سے بھائی چارے کی ترغیبات کو فروغ دینا شروع کریں تو ایک ماہ ہی شائد سال بھر کی شرکتی بزلہ سنجی کا اثر زائل کرنے کا سبب ہو ۔
آؤ ایک سجدہ کریں عالم مدہوشی میں
لوگ کہتے ہیں کہ ساغر کو خدا یاد نہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محمودالحق

Tuesday, July 26, 2011

رشتے دل کے جو جان پر بن آئے

0 comments
بات نہایت مختصر بیان کرنے کی جسارت کروں تو سمجھنے سمجھانے میں پل صدیوں میں ڈھل جائیں ۔ سحر آفتاب غروب کے منظر کو مہتاب کر دے ۔ بات آفتاب کی نہیں جو شمش کہلائے تو شمشیر سے گہرا اثر اپنی حدت سے چھوڑ جائے ۔ یہاں ذکر ہے رشتوں کا جو کبھی بندھتے ہیں تو کبھی چھوٹتے ۔ گردش ایام کے پابند رہتے ہیں ۔ گردش کائنات سے سروکار نہیں رکھتے ۔ کیونکہ وہاں سرکار کسی کی نہیں ۔ موج مستی صرف اتنی کہ پاؤں زمین پر تھرک سکیں ۔ جو آنکھ سے اوجھل ہے چاہے پہاڑ کے پار ہو یا پہلے آسمان سے آگے ۔ خواہشوں کی بیڑیاں پہنے طوق غلامی سے جھکتا چلا جائے ۔ پھر بھی رہتا شکوہ اپنے پن سے جو بیگانگی میں اغیار کی پرستش میں مسیحائی کا طالب ہو ۔

Sunday, July 24, 2011

دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو مَیں

0 comments
محبت ، خلوص ،رواداری سے اپنا بنانے کے لئے جو بھی عمل کیا جائے وہ انجام خیر سے بے خبر ہوتا ہے ۔ انسان دو آنکھوں سے زمانے بھر کو دیکھتا ہے ۔ کبھی دکھ سکھ میں آنسو تو کبھی غصہ میں آگ کی لالی سے پانی بہتا ہے ۔ لیکن اس سب کے باوجود ایک دو بار ہی آنکھیں دو آنکھوں سے چار ہوتیں ہیں ۔ جو سیدھا نشانہ دل پہ لیتی ہیں ۔ پھر عقل سے نظر کی تمام طنابیں چھوٹ کر دل کی دھڑکن سے جڑ جاتیں ہیں ۔ تمام رشتے ایک نظر کے سامنے ہیچ لگتے ہیں ۔ سوچ عقل کی سٹاک مارکیٹ دلاں دے سودے میں مندے کا شکار ہو جاتی ہے ۔
آسمان پہ چپکے سفید روئی کے گالوں کی طرح برسنا قسمت میں نہیں ، صرف ٹہلنا رہ جاتا ہے ۔ جو نہ تو دھوپ سے بچاتے ہیں اور نہ ہی پیاسی زمین کی پیاس بجھاتے ہیں ۔
آسمان سے باتیں کرتے جنگلی درختوں کی طرح اکڑے ثمرات سے بے فیض ہوتے ہیں ۔ اظہار محبت کے لئے تین لفظوں سے لے کر ایجاب و قبول کے درمیان اٹک جاتے ہیں ۔ زندگی کا یہ مختصر ترین عرصہ صدیوں سے چلتی معاشرتی قدروں کے سامنے بغاوت کا علم بلند کر دیتا ہے ۔ عزت کا جنازہ نکل جانے کا غم نہیں ۔ پانے کی خواہش اتنی شدت اختیار کر لیتی ہے ۔ کہ جیت کے نشہ سے بڑھ کر نشہ کی علت میں مبتلا کر دیتی ہے ۔ بچپن ، لڑکپن کی یادیں احسان فراموشی کی شال اوڑھ لیتی ہیں ۔ میں کی عینک میں منزل مراد وحید ہو جاتی ہے ۔ کھلونوں کے بازار میں کھڑے بچے کی مانند جو صرف اپنی پسند پہ فریفتہ رہ جاتا ہے ۔ اوراگلی بار پھر کسی اور پسند پر ۔ ایک زمانہ کی پسند ایک زمانہ تک رہتی ہے ۔
حسرت کا یہ کوہ پیمائی سلسلہ خواہشوں کے انبار میں قوت خرید کی بنا پر ایک وقت میں ایک خواہش کی تکمیل کی تدپیر نہیں رکھتا ۔

Friday, July 22, 2011

بھولنے والے بھول جائیں

0 comments
اصلاح احوال کریں تو کیسے کریں اتنے ٹی وی چینل خبریں تو ایک جیسی ہیں ۔ مگر انداز بیان الگ الگ ۔ اخبارات شہر شہر نگری نگری کی کہانیاں سمیٹے ہوئے ظلم و نا انصافی کی دہائی دیتے ہوئے مظلوم کے حق میں انصاف کا جھنڈا لہراتے ہوئے عوامی خدمت سر انجام دے رہے ہیں ۔ عوامی نمائندے بھی کسی سے پیچھے نہیں حق رائے دہی کا احترام کرتے ہوئے حق سے محرومی پر سیخ پا نظر ضرور آتے ہیں ۔ عوام کی تکلیف کا احساس حکمران اور ان کے مشیران کو آنسو بہانے پر مجبور کر دیتا ہے ۔
بعض الفاظ اپنا تاریخی پس منظر چھوڑ جاتے ہیں ۔ جیسے سیاسی اداکار کا جملہ فنکاروں کو یہ سوچنے پر مجبور کر گیا ۔ کہ ان کا مستقبل کیا ہو گا ۔ ایک وقت تھا ٹی وی پر ان کے جلوے تھے ۔ تھیٹر ریڈیو سے سفر طے کرتے کرتے ٹی وی تک پہنچنا محال تھا ۔ اور فلمی سفر کی ٹکٹ ملنا تودیوانہ کا خواب تھا ۔
جیسا کہ اب محلے کی ویلفیر سوسائٹی سے کونسلر تک کا سفر طے طے کرتے کرتے اسمبلی تک پہنچنا محال ہے وزارت کا قلمدان سنبھالنا تو دیوانے کا خواب ہے ۔ جوں جوں معاشرہ اخلاقی اقدار کی کاٹ کا شکار ہے ۔ توں توں حکمرانی بندر بانٹ کے فارمولہ پر اتفاق رکھتی ہے ۔ مگر بیوقوفی میں تماشا نہیں بنتی ۔ پکڑے جانے کا ڈر ہو تو بندر کی طرح مٹھی بند نہیں رکھتی کھلے ہاتھ دکھا دیتی ہے ۔ سمجھ دار کے لئے اشارہ ہی کافی ہے ہاتھا پائی سے گریبان پھٹتے تو گالی سے روح تلملا جا تی ہے ۔ مگر کانوں میں جوں رینگنے کا دور گزر چکا ۔ جوں سے سر میں کھجلی کی بجائے ہاتھ کی میل دولت آنے کی امید سے کھجلی پیدا ہوتی ہے ۔ جو شریفوں کے لئے خجل خواری تو ہوس کے پجاریوں کے لئے سرمایہ کاری ہوتی ہے ۔ جس کے اثرات تابکاری جیسے نہیں ہوتے ۔ عوام ایسے معاملات کی جانکاری مانگتے مانگتے تانگے کی سواری کرنے کے قابل رہ جاتے ہیں ۔ رمضان کی آمد آمد ہے غریب گھرانے کئی سو روپے میں افطاری تک اپنے سحر کے اختتام کا سفر طے کریںگے ۔
ڈکشنری میں ہر لفظ کا مطلب نکالا جا سکتا ہے مگر حل نہیں ۔مشنری اور کمشنری کے الفاظ ہم آواز تو ہیں مگر ہم معنی نہیں ۔ متحدہ ہندوستان میں مشنریوں کا جادو سر چڑھ کر بولتا رہا ۔ مگر آج بھی گورا راج کی نشانی کمشنری کا جادو سر سے اتاریں تو پھر چڑھ دوڑنے کے لئے بیتاب رہتا ہے ۔ بچپن میں دوست جادوگروں کی کہانیاں پڑھ کر ایسے شہزادوں کا روپ دھارنے کی کوشش میں رہتے جو خوبصورت شہزادی کو ظالم جادو گر کی قید سے رہائی دلا کر سہرے کی لڑیاں سجانے کے لئے آنکھوں میں طلسماتی خواب بسا لیتے ۔
آج کا جدید دور شہزادیوں کی محبت کا روادار نہیں ۔ موبائل فون اور انٹر نیٹ سے قارون کے خزانے کی جستجو ہے ۔ لاکھوں کروڑوں کے سودے ادھر سے ادھر ہو جاتے ہیں ۔ کمیشن لینے والا اب کمیشن ایجنٹ نہیں کہلاتا ۔ رقم کی منتقلی ارجنٹ مانگتا ہے ۔ ایک زمانہ تھا مانگنے والے کو منگتا بھی کہا جاتا تھا ۔ اب مانگنا شرمساری کا باعث نہیں ۔ جب ملک قرض مانگ کر شرمندہ نہیں ہوتے تو ایسے میں فرد واحد کیوں فخر سے محروم رہے ۔
طعنے کوسنے دینے سے مسائل سے نجات ممکن دکھائی نہیں دیتی ۔ اور اکثر لکھنے والے یہ سمجھ لیتے ہیں کہ وہ جو سوچتے ہیں وہی لکھتے ہیں ۔ حقیقت کا ادراک رکھنے والوں کے لئے کھلی نشانیاں ہیں ۔ حالانکہ نشانی سب کی اپنی اپنی ہے جیسا کہ ۔۔۔۔۔ چلیں چھوڑیں سب ہی جانتے ہیں کہ آج باہمی اختلاف کس بات پر ہے ۔
اصل مسئلہ شائد عدم برداشت کا ہے ۔ میں میرا ، تو تیرا نے رشتوں اور باہمی احترام کی ڈوریاں ڈھیلی کر دی ہیں ۔ ابھی ٹوٹی نہیں ہیں ۔ ڈھیلی پھر بھی کسی جا سکتی ہیں مگر ٹوٹی جڑ نہیں سکتیں ۔ بہت کم لوگ ہوں گے جو خود میں نیوٹرل یعنی غیر جانبداری کا طوق گلے میں پہنے ہوں ۔ اکثریت جو پڑھ لیں یا جو سن لیں اسی پر یقین کی بنیاد کھڑی کر لیتے ہیں ۔ پھر کوئی نظریہ کوئی فلسفہ زبر سے زیر نہیں کر سکتا ۔ اگر کوئی ایسا نہیں ہے تو اپنے مکمل کوائف اور تفصیلات تیار رکھے ۔ کیونکہ ڈگریوں کی طرح انہیں بھی ردی کی ٹوکری انعام میں ملنے کی توقع ہے ۔
ہر انسان کو اپنا کام کرتے جانا چاہیئے ۔ پڑھنے والے پڑھتے جائیں ۔ لکھنے والے لکھتے جائیں ۔ سمجھنے والے سمجھ جائیں ۔ بھولنے والے بھول جائیں ۔ لینے والے لے جائیں کیونکہ مال واسباب تو یہ ہے نہیں لٹنے کا خوف نہیں کھونے کا ڈر نہیں ۔

تحریر ! محمودالحق

Friday, July 30, 2010

کیا ہم شرمندہ ہیں

0 comments
ہم شرمندہ بالکل نہیں ہیں کہ قائد نے ہمیں آزاد وطن دیا ۔جہاں ہم آئندہ نئی نسلوں کو بھی ایسی سرزمین کا تحفہ دیں جو انہیں عزت ، احترام اور وقار دے سکیں۔دنیا کے نقشے پہ ابھرنے والا یہ ملک پاکستان کی بنیاد نظریاتی اساس پہ رکھی گئی تھی ۔صرف اتنا نہیں کافی کہ ہم مسلمان ہیں بلکہ مذہبی آزادی کے ساتھ ساتھ ہمیں معاشرتی، معاشی ، تمدنی آزادی بھی درکار تھی ۔جو صرف اسی صورت ممکن تھی ۔کہ ہم بحیثیت مسلمان قوم کے ایک الگ خطے میں اپنی زندگی کا آغاز کریں ۔ اس قوم کوزندہ رہنے کے لئے صرف اناج پیداکرنے کا نہیں کہا گیا ۔ بلکہ تمام خوبیوں کو پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ۔ جو کہ عوام کی بنیادی ضروریات سے ہم آہنگی رکھتی ہوں ۔
وطن کی آزادی سے کیا مراد لی جاتی ہے ۔غاصبانہ قبضے سےچھٹکارا حاصل کرنا ۔ ہندؤانہ ذہنیت کی حکمرانی سے چھٹکارا پانا یا پھر انگریز راج کے جھنڈے کے نیچے سےنکل کر الگ وطن حاصل کرنا ۔ نہ کہ چند اسلامی شعائر اپنا نےکے سوا ہر بری عادت کو اپنانا ضروری سمجھا جائے ۔آزادی سے مراد کیا زمین کے ایک ٹکڑے پہ اس لائن آف کنٹرول کو آزادی کی نعمت سے منسوب کیا جائے ۔ یقینا آزادی سے مراد سرحدوں کے تحفظ تک نہیں لئے جاتے ۔ بنیادی طور پر فکری اساس اور نظریاتی اقدار کے لئے آزادی درکار ہوتی ہے ۔ فوج سرحدوں پر متعین کر دینے سے آزادی کا ایک ہی جز پورا ہوتا ہے ۔ لیکن مکمل مفہوم اس سے مراد نہیں لیا جا سکتا ۔
دشمن کی توجرآت نہیں کہ وہ ہماری سرحدوں کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی دیکھ سکے ۔مگر پورا معاشرہ چادر اور چار دیواری کے تحفظ کے لئے اپنے ہی گھروں میں مقفل ہے ۔ سرحدوں پر توآمدورفت کی نقل و حرکت کو روکنے کے لئے باڑیں لگا دی جاتی ہیں ۔لیکن آج ہمارے اپنے گھر اونچی اونچی دیواروں اور لوہے کے جنگلے میں گھرے نظر آتے ہیں ۔جو ہماری آزادی کا منہ چڑا رہے ہیں ۔ ان تریسٹھ سالوں میں پردے کی ایک باریک تہہ سے ترقی کرتے کرتے ہم بڑے بڑے قلعہ نما لوہا کے دروازوں کے اندر نظر بند ہیں ۔ چند ہزار فوجی سرحدوں کے دروازوں پر اٹھارہ کروڑ عوام کی آزادی کا تحفظ کرنے کے لئے چاک و چوبند کھڑے ہیں ۔اور دوسری طرف آٹھارہ کروڑ عوام اپنے ہی منتخب چند ہزار نمائندوں کے ہاتھوں یرغمال ہیں ۔جو انہیں معاشی معاشرتی تحفظ فراہم کرنے سے قاصر رہے ۔ جان و مال کی حفاظت کی ذمہ داری بھی احسن طریقہ سے نہ نبھا سکے ۔جرائم پیشہ گروہوں کی سرکوبی کی بجائے سرپرستی نے قوم کو تنہائیوں کا شکار کر دیا ۔
اپنے ہی گھر میں داخل ہونے سے پہلے ارد گرد کا بخوبی جائزہ لینا پڑتا ہے ۔ جیسا کسی کے گھر میں نقب لگانے کی تیاری ہو ۔قبضہ گروپ اور لینڈ مافیا کی ٹرم اتنی مقبول ہو چکی ہیں ۔ کہ اس کو اختیار کرنے والے نمائندگی کا استحقاق رکھ لیتے ہیں ۔چوری ڈکیتی میں اضافہ ، عورتوں پہ مظالم اور نا انصافی نے پورے معاشرے کو ایسے گھیرا ہوا ہے کہ وہ جونک کی طرح فکر و روح کو کمزور کر رہی ہے ۔
اسلام کے نام پر وطن حاصل کیا گیا تھا ۔ صرف اتنا باور کرانا کافی نہیں ہو گا ۔ خلفاءراشدین کے بعد دورحکمرانی میں اسلامی ریاستیں مکمل اسلام کا نمونہ پیش نہیں کرتی رہیں ۔ جس معاشرے میں مذہبی فرقہ بندی کے نام پر خون بہایا جاتا رہا ہو ۔وہاں پہلے ضرورت تو ہے اس بات کی کہ اس معاشرے کے افراد میں ہم آہنگی ہو ، یگانگت ہو، بھائی چارہ ہو ، برداشت ہو ۔
اللہ ، محمدﷺ اور قرآن پر کوئی اختلاف نہیں لیکن پھر بھی اعتراضات کی ایک لمبی لسٹ ہے ۔ جو جسے پسند نہیں اس کا اچھا عمل بھی پسند نہیں رہ جاتا ۔ زوال پزیر ممالک یا زوال پزیر معاشرہ کبھی نہیں سنا ۔ صرف قوموں کو زوال آتا ہے ۔ اقوام اس کا شکار ہوتی ہیں ۔ سلطنت عثمانیہ کو زوال آیا تو کئی نئے آزادممالک بن گئے۔وہ ممالک آج بھی دنیا کے نقشہ پر موجود ہیں مگر وہ نظریہ و فکر ختم ہو گیا ۔ نظریہ اور فکر سرحدوں کا محتاج نہیں ہوتا ۔ مگر سرحدیں بندشوں کی پابند ہوتی ہیں ۔ نظریہ اور فکر کو پنپنے کے لئے کسی اختیار و اقتدار کی ضرورت نہیں ہوتی ۔
دنیا میں آنے والے بیشتر انقلابات کسی کو ویلکم اور کسی کو گڈ بائی کہنے کی بنیاد پہ تھے ۔ منجمد سرحدیں ویلکم اور گڈ بائی کے اثرات سے محفوظ ہوتی ہیں ۔ جس معاشرے میں نظریہ، ضرورت کی بنیاد پرعدل وانصاف کے ایوانوں میں گونجنے لگے۔ تو وہاں اس معاشرے کے نہ تو گھر بار محفوظ رہتے ہیں اور نہ ہی مزار و بازار ۔تیس پاروں پر مشتمل محمد ﷺ پرنازل اللہ کی کتاب قرآن پاک ہمیں روحانی و فکری اساس فراہم کرتا ہے ۔
فکری اساس کے ساتھ ساتھ یتیموں اور بیواؤں کی دست گیری کا بھی حکم واضح ہے ۔جو ہمارے ہی معاشرے میں ناگہانی اور اتفاقی اموات کی بجائے حادثاتی اموات یتیموں اور بیواؤں کی تعداد میں اضافہ کا سبب بنتی جا رہی ہیں ۔ جہاں عبادت کے ساتھ ساتھ امانت صداقت دیانت شرافت پہ بھی بہت زور دیا گیا ہے ۔ جس پہ ہم کبھی بھی عمل پیرا نہیں ہوئے ۔ آپﷺکا اسوہ ءحسنہ ہمیں ایک ایسا راستہ دیکھاتا ہے ۔ وہ راستہ جو قرآن کی منزل بتاتا ہے ۔
جہاں ہم رہتے ہیں صرف نا پسندیدہ اشیاء ہی کو حرام جانا جاتا ہے ۔ رنجشیں ، عناد ، بغض ، کینہ ، غیبت اور ایسی بے شمار خرافات ہمارے معاشرے میں اکاس بیل کی طرح پھیل چکی ہیں ۔ کہ ختم ہونے میں زندگی کا ایک حصہ درکار ہے ۔ آزادی کی خوشی ٹی وی پر ترانے چلانے ، موٹر سائیکل بھگانے اور جھنڈیاں لگانے سے نہیں حاصل ہو پاتی ۔آزادی کی خوشی تو تب ہو گی جب گھر کے دروازے چوبیس گھنٹے کھلے رہیں ۔ اور بے فکر ہو کر سو سکیں ۔ دروازوں پر دستک دینے سے صرف کسی مہمان کا ہی خیال ذہن میں ابھرے ۔ کسی چور ڈاکو کا نہیں ۔
رمضان کی آمد آمد ہے اور چودہ اگست بھی ۔ پھل کھجوریں دودھ اور ہر وہ شے جو سحر و افطار میں خوشی کا باعث ہوتی ہیں ۔ اتنی سستی ہوں ۔کہ غریب آدمی ماہ صیام میں عبادت میں صرف رحمتیں سمیٹنے کی فکر میں مبتلا ہو ۔نہ کہ مہنگائی کی پریشانی میں ۔
دوسری طرف رمضان کے مزے گراں فروش لوٹنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے ۔ اور چودہ اگست کا دن ضمیر فروش سرکاری سطح پرمنانے کے بگل بجائیں گے ۔ سبزی پھلوں سے لیکر کپڑے جوتوں تک پورے سال کی کسر ایک ماہ میں منافع سے نکالے جانے کی بھرپور تیاریاں زوروں پر ہوں گی ۔عوام عبادت اور رحمتوں کا ماہ سمیٹنے میں گزاریں گے ۔ اور گراں فروش و ذخیرہ اندوز منافع سمیٹنے میں ۔جشن دوبالا کرنے کے لئے چودہ اگست کو گھروں پر بڑے جھنڈے بھی لگائیں گے اور پورا گھر جھنڈیوں سے سجائیں گے اور ڈیک پر اونچی آواز میں یہ گانا بجائیں گے ۔
یہ وطن ہمارا ہے ۔اسے ہم نے سنوارا ہے
اس کا ہر اک زرہ ہمیں جان سے پیارا ہے
بینک عوام کی جمع شدہ رقوم سے غریبوں ناداروں کی مدد کے واسطے زکواۃ کی کٹوتی کریں گے ۔جسے پہلے کی طرح حکمران اپنی عیاشیوں پر لٹائیں گے ۔ جیسا اس سے پہلے بھی ایسا ہوتا رہا ہے ۔جہاز بھر بھر عمرہ کی ادائیگی سرکاری سطح پر کی جاتی رہی ۔ اور اب پھر وہی وزارتوں کے مزے لوٹ رہے ہیں ۔پہلا لوٹا مال ہضم کر چکے ۔ پہلے گناہ بخشوا چکے ۔ حکومت اور حکمران تو ایک طرف زکواۃ کمیٹیاں جو رقم کا حال کرتی ہیں ۔ وہ بھی ایک الگ داستان ہے ۔کمیٹیاں بننے میں عوام خاص کر دیہی علاقوں میں جوش و خروش قابل دید ہوتا ہے ۔ سیاسی کشیدگی وہاں بھی نظر آتی ہے ۔ کمیٹیاں بنانے کے مراحل سے میں خود گزر چکا ہوں ۔کیسی کیسی سفارشیں اور اثرو رسوخ استعمال کیا جاتا ہے ۔
ایک طرف لاہور کے مضافاتی علاقہ میں زکواۃ کمیٹیوں میں من پسند افراد کے انتخاب میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کا عمل ہو رہا ہو ۔ اور دوسری طرف لاہور شہر میں دن دیہاڑے گھر کے باہر امریکہ پلٹ باپ بیٹی پر پستول تانے دو نوجوان زبردستی چھینا جھپٹی میں مصروف تھے ۔ دلیر لڑکی نےپاسپورٹ سمیت سفری دستاویزات کے ساتھ منی چینجر سے تبدیل کرائی گئی رقم کا بیگ اپنے کندھے سے نہیں اترنے دیا ۔ لوگ گھروں سے باہر نکل کر لڑکی کی بہادری پر عش عش کر رہے تھے ۔ جو سڑک پر گھسٹی رہی مگر بیگ نہ دیا لٹیروں کو ۔ جو آخر کار نامراد بھاگ کھڑے ہوئے ۔مگر جاتے جاتے ہمارے لئے ایک سوال کھڑا کر گئے کہ ایک غیر مسلم ملک میں نوجون لڑکی آدھی رات کو بھی گھر کے راستے میں اندھیری گلیوںمیں غیر محفوظ نہیں ۔ تو اپنے ہی وطن اسلام میں دن دیہاڈے بے شمار لوگوں کے سامنے جس بے دردی سے پستول کی نوک پہ اسے گھسیٹا گیا ہو ۔ اور اس کا مداوا صرف اس بات سے کر نے کی کوشش ہو کہ شکر کریں جان بچ گئی ۔
تو کیا آزادی کا مطلب صرف جان بچنا لیا جائے گا ۔ اگر آج مائیں بچوں کو اللہ کے سپرد کر کے گھروں سے باہر بھیجتی ہیں ۔ تو پھر اس کے کیا مراد لیا جائے گا ۔
عیسائی ریاستیں اپنے ممالک میں مذہبی تہوار کرسمس کے موقع پہ سال کی سب سے بڑی سیل لگاتی ہیں ۔ تاکہ زیادہ سیل ہو ۔ ہوتا بھی یوں ہے کہ عوام ایک دوسرے کے لئے تحائف کی خریداری کرتے ہیں ۔ اچھی اشیاء انہیں سستے داموں میسر آتی ہیں ۔ اور ایک ہم ہیں مذہبی تہواروں پر ہر شے مہنگی کر دی جاتی ہے ۔
گائے، اونٹ ، بکرے کی خرید ہو ۔ قصائی کا ریٹ ہو ۔ یا بچوں کے نئے کپڑوں کی فرمائش ہو ۔
ان ممالک نے صدیاں پہلے جو آزادی حاصل کی تھی ۔وہ آج بھی اسی مزے میں ہیں ۔صدیاں گزرنے کے باوجود ان کے گھر قلعوں کی مانند اونچی اونچی دیواروں کے پیچھے چھپے ہوئے نظر نہیں آتے ۔ بڑے بڑے جنگلے اور لوہے کے دروازےکسی قید خانے کا منظر پیش نہیں کرتے ۔ گھر کی چار دیواری نام کو نہیں ۔ کمزور اور کانچ کی بنی کھڑکیاں انہیں وہ تحفظ احساس دلاتی ہیں ۔ جو ہمیں کنالوں میں پھیلی محل نما گھروں کے چاروں اطراف اونچی اونچی دیواریں ایک عدد چوکیدار کے باوجود عدم تحفظ کا احساس دلاتی ہیں ۔
سرحدوں کی حفاظت ملک کو غلامی سے بچانے کے لئے نہیں ہوتی بلکہ سرحدیں قوم کو غلامی سے بچانے کے لئے مضبوط کی جاتی ہیں ۔ملک کبھی غلام نہیں ہوتا ، قومیں غلامی میں جاتی ہیں ۔وطن کی سالمیت کا نام لے لے کر جس آزادی کھونے کے خطرے کی گھنٹی بجائی جاتی ہے ۔ وہ سرحدوں کی وجہ سے نہیں جائے گی ۔ بلکہ وہ قوم کے باہمی اختلاف ، عناد اور تقسیم پر منتج ہوتی ہے ۔
مجھے تلاش ہے اس کی جس کا ہاتھ اس کے پیچھے ہے ۔ کیا وہ قائد اعظم محمد علی جناح تھا یا علامہ اقبال ، مولانا مودودی تھا یا ڈاکٹر اسرار احمد ،مولانا احتشام الحق تھانوی تھا یا ڈاکٹر طاہرالقادری۔ آخر کو کوئی تو ذمہ دار ہے ۔
ہمارا یہی ماننا ہے ۔کیونکہ ہم سبھی ایک دوسرے پر الزام دھر دیتے ہیں ۔
آئیں سب مل کر ڈھونڈتے ہیں۔جس نے آزادی ملنے کے باوجود آزادی ملنے کی خوشی کو زیادہ عرصہ تک خوشی میں نہیں رہنے دیا ۔

Thursday, July 29, 2010

مست مستی مستان

4 comments
راز پانے سے تو زندگی ضیا ہو گئی
آنکھیں رہیں کھلی تو موت فناہوگئی
سوچتاہوں کہ آج وہ لکھ ہی دوں جو کبھی کہہ نہیں پایا ۔میں اندھیروں سے محبت کرتا رہا اور روشنیاں مجھےجلاتی رہیں ۔صبر سے تھی جن کی گزر بسر محال۔میرے ہاتھوں ہی کو چوم کر زہر لگا دیا ۔ نوالہ میرے ہاتھ سے چھوٹ گیا۔
کراہنا مجھے درد سے تھا ۔ مسکرانا مجھے ان کو آہ ہو گیا ۔دل سے جو پڑھ لے زندگی کی کتاب کو۔ٹپکتا آنسو ایک بھی موتیوں کا خزانہ ہو گیا ۔جگر گر نہ تھاما ہوتا قلب آب پہ بھی دھڑکتا ہوتا۔ کسی ایک انسان کی یہ نہیں کہانی ۔ ہابیل قابیل سے ہے چلی یہ نفرت زمانی ۔پرندے سے ہے تعبیر داستان اُڑانِ پری ۔خواہشوں کے پنکھ پہ ہے یہ معلق ہواؤں میں ۔ داستان مجاہد میں ہے ٹوٹتی تلواریں روز۔ نظر کے سامنے ہوتا کنارہ۔ ڈوبتی کشتی سے پاؤں پھر بھی اترتا نہیں ۔جھاڑیوں سے پانی کے ریلے گزرنے سے رکتے نہیں ۔سخت زمین سے ہے جو سینچتے ۔ پانی کے کٹاؤ سے وہی ہیں بچتے ۔
اگر مشکل ہو تو اگے لطیفہ میں ہی کچھ بیان کروں ۔
خواب میں جو دیکھیں خوبرو حسینہ شانوں پہ اپنے زلفیں پھیلائےگنگنائے ۔ پیار کی باتیں ہوں عشق کی پینگیں بڑھائے ۔صبح اُٹھنا ہو محال۔ بیگم ہو وہی مگر ہاتھ میں نہ آج اس کے وہ مزا آئے ۔بات بات پہ جو بگڑے ۔
بار بار آئینہ سے وہ پوچھے ۔ پھر زیر لب مسکرائی ۔ سمجھ تو گئی وہ کہ اصل ماجرا ہے کیا ۔ سالوں کی خدمت کا صلہ ایک رات کی مستی میں چکا دیا ۔
خوبرو حسینہ ایک رات آئی اس کے خواب میں بھی ۔نہ زلف دراز، نہ چہرہ کھلتا گلاب ۔بولی تیرا آئینہ دیکھاتا تجھے تیرا عکس ۔ شوہر ہو تجھے کسی دیوتا کی پرستش ۔ یہ دیوتا تو رکھتا ہے ہر پجارن پہ نظر ۔مالا پہنانے سے تو ہے اسے یہ فتور چڑھا ۔چاہتا ہے یہ ہر دم پوجا کرتی داسی تو ناچتی ہوئی پجارن ۔
آنکھ کھلی تو بیگم نے پالیا وہ راز۔ آئے روز رکھتا ہے یہ کیوں چہرے پہ ملال ۔ ایک سال سے جو رکھا سنبھال۔ دن ایک میں کر دیا اس نے رخسار لال۔
پھر نہ آئی خواب میں اس کے وہی خوبرو دوشیزہ ۔جب جب بڑھتی گئی لالی تب تب جیب ہوتی گئی خالی ۔ بیگم کا تو ہے اب خوش حال ۔لیکن خواب میں ہی ہوتا ہے شوہر اب خوش بہت ۔ جب کہتے ہیں اسے اپنے ہاتھ سے ہی کمیٹی اپنی کی تو پرچی نکال ۔