Showing posts with label سفینہء محمود. Show all posts
Showing posts with label سفینہء محمود. Show all posts

Sunday, February 2, 2014

درد کی دوا کیا ہے

5 comments
یہ پہلی بار نہیں ہوا کہ کاغذ قلم لے کر بیٹھا تو سوچ کے تمام دروازے ایک ایک کر کے جھٹ پٹ بند ہوتے چلے گئے۔ لیکن مجھے ہمیشہ لڑنے کی عادت نے لکھنے کی ضد پر قائم رکھا۔ علی الصبح سکول جانے والے بچے اور دفتر جانے والے افسر و بابو اپنی مرضی کے مالک نہیں ہوتے جو وقت کی پابندی کو قانون کی پابندی کی طرح توڑنے پر قادر ہوں۔ کہیں نہ کہیں ہم اپنی مجبوری کے ہاتھوں بلیک میل ضرور ہوتے ہیں۔ ایسی مجبوری جو آرزو کے کھیت سے نشونما پا کر پک کر کٹنے سے پہلے آندھیوں کے ہاتھوں دور دور بکھر کر اپنے مالک کا منہ چڑاتی ہیں۔ جو اسے قسمت کا کھیل سمجھ کر ہاتھ ملتا ہے اور پھر ایک نئی ہمت سے ہاتھوں کو نئی فصل سے مصافحہ کرنے کے لئے آگے بڑھتا ہے۔ ہاتھ اُٹھا کر نئی فصل کے لئے پہلی دعا سے ہی کام چلانے پر کمر بستہ نظر آتا ہے۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ : اللہ مددگار ہے اور وہ بہتر مددگار ہے: اسی سے مانگنے اور اسی کے  سامنے جھکنے سے ہی تمام ارادوں کی تکمیل ممکن ہو پائے گی۔اللہ اپنے بندے سے ستر ماؤں سے زیادہ چاہت رکھتا ہے اور بندہ ایک ماں کی خدمت سے بہرہ مند نہیں ہو پاتا۔
اس بار میرا  وطن واپس آنا دو سال بعد ہوا تھا ۔ ایک دو دن بعد مجھے احساس ہوا کہ زیادہ تعداد میں وہ بوڑھے ہو چکے تھے ۔ خوبصورتی اور حسن کے جن کے چرچے تھے وہ ماند پڑ چکے تھے یا وہ جا چکے تھے۔اٹھکھیلیاں کرتے بچے مجھے کہیں نظر نہیں آ رہے تھے۔ آخر تعداد نہ بڑھنے کے کیا محرکات تھے جو مجھ سے چھپائے جا رہے تھے۔ان سب پر ایک اُچٹکتی نگاہ ڈالتا  اور بے پرواہی سے بھول جاتا کہ ہمارا ایک دوسرے سے کوئی رشتہ بھی ہے۔میں شائد اتنے سال ان سے دور رہ کر آئی ڈوناٹ کئیر  کی گردان سنتے سنتے کانوں کی حد تک بہرہ ہو چکا تھا۔ لیکن حقیقت حق تو اپنے سحر سے جدا ہونے نہیں دیتی تھی۔
کرسیاں ایک مخصوص انداز میں روزانہ میرے ارد گرد سجا دی جاتی ۔ایک کرسی پر براجمان ہو جاتا جہاں سے آسمان اور زمین  کا ملن مجھے صاف دکھائی دیتا۔   زندگی کے طویل معمولات میں یہ شامل تھا کہ سورج میرے سر کے بالکل اوپر سے گزر کر سامنے غروب ہوتا تو دن لمبے راتیں چھوٹی اور دھوپ کی شدت ہوتی۔ لیکن جب  سورج میرے سامنے دن بدن  بائیں طرف  جھکتا جھکتا غروب ہوتا تو دن چھوٹے اور راتیں  بڑی ہوتی اور دھوپ سے لذت ملتی۔
اس روز دھوپ شدت کی تھی ایک کے علاوہ تمام کرسیاں خالی تھیں ۔نہ جانے اسے کیا سوجھی میرے ساتھ والی کرسی پر وہ آ بیٹھا۔ وہ کبھی بھی میرے برابر نہیں بیٹھا تھا۔ لیکن آج اسے  کیا ہوا کہ میری بغل والی کرسی پر بیٹھا دائیں پاؤں کو دو تین بار اُٹھا کر نیچے رکھ دیا۔ پھر بڑی بے اعتنائی سے کرسی سے اُتر کر زمین پر جا بیٹھا۔ انہیں میرے سامنے زمین پر بیٹھنے کی عادت تھی۔میری خواہش تھی کہ وہ میرے ساتھ بیٹھیں مگر وہ مجھ سے خوف کھاتے تھے شائد۔ ان کے خوف کو میں نے دور کرنے کی کوشش کم ہی کی تھی۔
میں نے اپنے خاص آدمی کو آواز دی۔
اختر ! دیکھو اسے جو ابھی میرے پاس سے زمین پر جا بیٹھا ہے ۔ کیا تکلیف ہے اسے جو اپنا  پاؤں مجھے دکھا کر چلتا بنا۔وہ میری بات سمجھ چکا تھا کہ معاملہ سنجیدہ ہے تبھی تو میں نے حقیقت جاننے کے لئے اسے بلایا ہے۔ پاؤں کو غور سے دیکھنے  کے بعد  اس نے کہا کہ پاؤں سوجا ہوا ہے ۔ تکلیف سے زمین پر رکھنا مشکل ہو رہا ہے اسے۔میری اُلجھن دور ہو چکی تھی  کہ ان سب میں سے صرف اسے ہی میرے برابر بیٹھنے کی ہمت کس بات نے دی تھی۔ درد اور تکلیف نے اسے مجبور کر دیا کہ وہ ایسا کام کر جائے جو اس سے پہلے کبھی  اس کے بڑوں نے بھی نہ کیا ہو۔
لیکن مجھے خوشی اس بات کی تھی کہ وہ سمجھتا ہے کہ اس جگہ میں ہی اس کا مالک ہوں جو اس کے درد کا مداوا کر سکتا ہوں  تبھی تو اس نے مجھے  اپنا حال بیان کرنے  کے لئے اشارے سے کام لیا۔
میں  نے دوسری بار اختر کو سخت  زبان میں کہا کہ غور سے دیکھ کر بتاؤ اس کے پاؤں میں سوجن کیوں ہے۔کچھ دیر ادھر اُدھر سے دیکھ کر بولا کہ صاحب لگتا ہے کہ اس کے پاؤں میں ایک کالا دھاگہ بری طرح سے لپٹا ہوا ہے۔

میں معاملہ کی اصل تہہ تک پہنچ گیا ۔ دھاگے نے پاؤں کو اس بری طرح سے لپیٹا ہوا تھا کہ 
وہ بے زبان کبوتر مجھے درد کا حال بتانے کرسی پر چڑھ آیا تھا۔میں نے اختر کو ایک سو کبوتروں میں اسے پہچان رکھنے کو کہا کہ جیسے ہی وہ اپنے کمرے میں داخل ہو اسے پکڑ کر میرے پاس لاؤ ۔ یہ دیکھ کر میں حیران رہ گیا وہ  اسی لمحے اُڑ کر کمرے کے اندر جا بیٹھا۔ اختر اسے وہاں سے پکڑ کر میرے پاس لے آیا۔ میں نے پہلے اسے پیار سے تھپتھپایا پھر آہستہ آہستہ پاؤں میں لپٹے کالے دھاگے کو الگ کر دیا اور اس کے پاؤں کو ہولے ہولے مساج کیا ۔جب وہ میرے ہاتھ سے اُڑ کر زمین پر بیٹھا تو پاؤں زمین پر رکھنے میں مشکل کا شکار نہیں تھا۔ انسانوں سے  رغبت اور دلگیری کی عادت نے مجھے ایک پرندے کی نظر میں معتبر کر دیا۔ اس نے مجھے اس قابل جانا کہ میں اس کے درد کی دوا  بن گیا۔

Wednesday, April 25, 2012

روشنیوں کا شہر

0 comments


قمقموں سے بھرا ،چاروں اطراف روشنی پھیلاتا،قربتوں میں جگمگاتایہ شہر میرے پاک پروردگار کا بنایا ایک شاہکار ہے۔ روشنی کے سامنے رہوں تو میرا عکس مجھے روشن کر دے۔پلٹ جاؤں تو ایک جہاں روشن ہو جائے۔وہ ٹمٹماتے تاروں کے نظارے روشن کر دیتی ہے۔گھنٹوں انہیں دیکھنے سے جی نہ بھرے۔آنکھیں چکاچوند روشنیوں کے جلوے سے منور ہو جائیں۔بینائی کا سفر روشنی کی رفتار سے تیز ہے۔جو پلک جھپکنے میں کروڑوں میل کی مسافت طے کر لیتی ہے۔اگر جنت کا منظر آنکھوں میں بسا لے تو تسکین ایسی کہ نشہ ہونے لگتا ہے۔
ایک یہ بدن پل پل اکتاہٹ و بیزاری کی لت کا شکار رہتا ہے۔قدم اُٹھانے کی غلطی کریں تو گنتی پر اتر آتا ہے۔ہزار قدم کے سفر میں پڑاؤ کی تمنا رکھتا ہے۔دوزخ کے تصور سے ہی بدن آگ میں جلنے لگتا ہے۔ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں۔ اس کی جنت تو یہی دنیا ہے، مخملی بستر ، آرام دہ سفر، خوش رنگ لباس اور خوشبو بھری خوش ذائقہ خوراک ۔مٹی میں مل بھی جائے تو ایک آواز سے پھر بننے میں کوئی مشکل نہیں۔
انسان چکا چوند روشنیوں میں جینا چاہتا ہے۔مرکز کے قریب جہاں اسے عکس ویسا ہی نظر آئے جیسا وہ دیکھنا چاہتا ہے۔آئینے میں نفس کی آنکھ سے خوبصورتی کی منظر کشی کرتا ہے۔زمین پر بڑھتے گھٹتے سائے تو اسے نظر میں نہیں جچتے۔ جسے مبہم قرار دے کر کسی توجہ کے قابل نہیں سمجھا جاتا۔مٹی اسی کا نشان بناتی ہے جس پر اسے گرفت کرنی ہوتی ہے۔
جب انسان کے بس میں کچھ نہیں پھر وہ اپنے بس میں کرنا ہی کیوں چاہتا ہے۔ آقا غلام کا دور جا چکا۔اب حاکم محکوم کا دور ہے۔ حاکم مراعات یافتہ ، با اختیار طبقہ بھی کہلاتا ہے اور محکوم ،محروم وبے اختیار بھی سمجھا جا سکتاہے۔ جو بڑا نسان بھلے نہ بن سکے مگر خواب آنکھوں میں سجا کر بیوقوف ضرور بنتا ہے۔ دھوکہ انہیں دیا جاتا ہے جنہوں نے اعتبار کی خلعت پہنی ہو۔جھوٹ تب بولا جاتا ہے جب بے اعتباری کی کسوٹی پر پرکھا جاتا ہے۔
سورج کے مشرق سے طلوع ہونے اور مغرب میں غروب ہونے میں کسی شک کی گنجائش نہیں۔پھر روشنی اور ہوا کوگھروں میں داخل ہونے کے لئے دستک کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ جس پر شک نہیں اس کے راستے مسدود کر دئیے گئے۔ جس پر اعتبار نہیں انہیں گھروں میں بٹھا کر قفل لگا دیئے گئے۔ نقب لگانے کا موقع خود سے فراہم کر دیا اور بدن کی چیخیں سن کر بلبلا اُٹھے۔کیونکہ وعدے ہمیشہ عوامی ہوتے ہیں قومی نہیں۔ جب قفل بندعوام آزاد قوم نہ رہے تو وعدہ کرنے والے قومی نہیں ہوتے۔جو عوام آئینے میں عکس دیکھ کر پھولے نہ سمائے وہ انسانیت کے اس درجے تک جا پہنچتا ہے جہاں جھوٹ بالکل سفید ہو جاتا ہے دن کے اجالے کی طرح۔
کتابیں کھول کر معنی و مفہوم تلاش کرنے سے مخلوق مخلوق سے بیگانی ہوتی ہے۔خالق سے پہچان ایمان کی بدولت ہوتی ہے۔کروڑوں میل کی مسافت طے کرنے والی آنکھیں چند میٹر سے آگے زندگی کا مفہوم جاننا نہیں چاہتیں۔گھر بار ، دولت کے انبار اور کار ہی نعمتوں میں شمار رہ جاتی ہیں۔ستاروں پر کمند ڈالنے کے دعویدار اپنا عکس دیکھنے سے فارغ نہیں ہو پاتے۔آسمان پر جگمگ جگمگ کرتے تارے انسانی آنکھ کی محبت سے محروم رہ گئے۔جن کے لئے یہ منظر سجایا گیا انہوں نے مہمان گھروں میں بٹھا کر قفل چڑھا رکھے ہیں۔ یہ شہر انوار ہے جہاں روشنی کا مکمل اعتبار ہے۔ بندشیں صرف نیند سے ہیں۔ مگر رہنا وہاں پسند کرتے ہیں جہاں بندشیں غفلت سے ہیں۔قفل کھول کر گھر سے باہر کھلے آسمان تلے بیسیوں تارے ٹمٹما کر اپنائیت کا اظہار کرتے ہیں۔ مگر قفل کھولنے والے بیس ملنے بہت مشکل ہیں۔ اگر انسان نقصان اُٹھانے والا نہ ہوتا تو ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر بھی نہ ہوتے۔جنہیں دین مکمل مل گیا دنیا ان کی آج بھی نا مکمل ہے۔جہاں وعدوں کا پاس نہیں سچ کا ساتھ نہیں، وہاں جھوٹے ،وعدہ خلاف بے ایمان بھی ہوں گے اور کرپٹ بھی۔
روشنیوں کے شہر میں واپس لوٹنا ہو گا جہاں دیدہ ور کو پیدا ہونے میں ہزاروں سال کے انتظار کی سولی پر نہ لٹکنا پڑے۔ نظر کے وہ جلوے قفل عقل کو توڑتے ہوئے قلب رب کے ذکر کے ورد میں روشن ہوتے جائیں۔


تحریر : محمودالحق

Friday, March 16, 2012

سیاست میں ریاست ، الیکشن میں سلیکشن

0 comments
ابھی حال ہی میں الیکشن کمیشن نے ایک خاتون پریزائیڈنگ آفیسر کے تھپڑ کی قیمت چکائی ہے ۔ اب ایک نیا ٹیسٹ پھر عدالت کے دروازے پر دستک دینے پہنچ چکا ہے ۔ سرگودھا کے ستر سالہ ٹیچر پر بد ترین تشدد کر کے دونوں ٹانگوں سے معزور کر دیا گیا ہے ۔ جسے اگر میڈیا ہائی لائٹ نہ کرتا تو شائد ایک دو احتجاجی جلسہ کے بعد سیای مفاہمت کی نظر ہو جاتا ۔ مگر آج صورتحال یکسر بدل چکی ہے ۔ طاقت کا استعمال لاٹھی ، گولی کا وہی پرانا رنگ رکھتا ہے ۔ مگر دیکھنے والی آنکھ بدل چکی ہے ۔ کیمرے کی آنکھ سے وہ ان پڑھ لوگ بھی اسے دیکھ لیتے ہیں جو اس سے پہلے اپنی ناخواندگی کی وجہ سے اخبار میں خبر پڑھنے سے محروم رہ جاتے تھے۔

پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کا  انتہائی چالاک سیاست سے واسطہ پڑا ہے ۔ انہیں عام لوگوں کے مسائل سے دور رکھنے کے لئے کبھی پریس کلب پر حملہ کیا جاتا ہے ۔ تو کبھی بیس بائس سال پرانا کھاتہ کھول لیا جاتا ہے ۔ کرپٹ کرپشن کے کھیل میں  دوسروں کو اپنے حمام میں لایا جاتا ہے ۔ مہران بینک سکینڈل ایک تیر سے کئی شکار کرنے کا شاہکار ہے ۔ لینے کے دینے والا معاملہ ہوتا نظر آ رہا ہے ۔ اس کا سب سے زیادہ فائدہ پیپلز پارٹی کو ہو گا ۔ اور دوسرا تحریک انصاف کو ۔ جو اس سکینڈل کے برے اثرات سے محفوظ ہیں ۔ فیصلہ چاہے کچھ بھی ہو ۔ جس کی امید کچھ نہ ہونے کی ہے ۔ کیونکہ عدالتیں ایک کے بعد ایک ریاستی بد اعمالیوں کی دھلائی پر کمر بستہ ہیں ۔ مگر پوری قوم جانتی ہے کہ داغ تو اچھے ہوتے ہیں ۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ایک ہی خاندان کے افراد سیاسی گدی نشینی کے وارث نہ سمجھے جاتے ۔ وحیدہ شاہ مرحوم شوہر کی خالی نشست کے لئے پورے علاقہ کی واحد امید وار قرار پائی تھی ۔ جو وہ اپنی سیاسی  شعور کے فقدان کے سبب ہاتھ دھو بیٹھی۔
اخبارات عوامی مسائل پر جب قلم کشائی کرتے ہیں ۔ حکمران اس کی قبر کشائی پر ہمہ تن مصروف ہو جاتے ہیں ۔ عوام لب کشائی سے بھی محروم رہ جاتے ہیں ۔

سیاسی عزت سے بڑھ کر کچھ نہیں اس لئےمسلم لیگی قیادت نے جوابی حملہ کی پیش بندی کر لی ہے ۔ یونس حبیب کو اپنے کہے کی سزا ہرجانہ کی صورت میں ادا کرنا ہو گی ۔ ایسا مسلم لیگ نون سمجھتی ہے ۔عوام بیچارے سمجھنے سمجھانے سے کوسوں دور ہیں  کیونکہ بجلی کا خسارہ ۵ ہزار میگا واٹ تک برقرار ہے ۔ چھ سے آٹھ گھنٹے لوڈ شیڈنگ سے شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔ مرکز اور صوبے عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے انہیں ان کے اپنے مسائل ہی سے جکڑ دیتے ہیں ۔

اللہ رحم کرے الیکشن کے بخیر و عافیت گزرنے تک قوم نہ جانے کن کن مسائل سے دوچار کی جائی گی ۔ آج کی ساری اقبالی روحیں نا امید نہیں ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ زرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی ۔       

Saturday, February 25, 2012

دنیا کی زندگی اور اس کی زینت

6 comments
ان دیکھے مستقبل کے بارے میں کبھی پختہ اور مکمل یقین رہتا ہے تو کبھی شکوک و شبہات پیدا ہوتے رہتے ہیں ۔ اکثر بچوں کے مستقبل کو ابتدائی ایام زندگانی میں ہی تابناک مستقبل کی صورت میں پروان چڑھایا جاتا ہے ۔ مگر فیصلہ حالات اور قابلیت کی بنا پر اپنے منطقی انجام تک پہنچتا ہے ۔ ذہین بچے 80 % سے اوپر نمبروں یا اے اور اے + کے ساتھ ایکدوسرے سے بڑھ چڑھ کر مقابلے میں جیتنے پر کمر بستہ رہتے ہیں ۔ اوسط طالبعلم سکولوں سے بھاگ کر ورکشاپوں میں کام کرنے والوں سے بدرجہا بہتر شمار میں رہتے ہیں ۔ ذہانت کی درجہ بندی بچوں میں بزرگوں کے اختیار کئےگئے قوم پرستی ، فرقہ پرستی اور ذات پرستی جیسے درجوں کی طرح منقسم رہتی ہے ۔جیسے درجہ چہارم کے ملازمین درجہ اول کے افسران سے مصافحہ سے آگے تعلقات کی استواری سے محروم رہتے ہیں ۔
کب ، کیسے ، کیوں اور کہاں جیسے اکثر سوالوں کے جوابات ساحل سمندر پر رہتی ریت سے لے کر اونچے اونچے پہاڑوں پر جمے پتھروں میں اُلجھ کر رہ جاتے ہیں ۔ پہاڑوں سے اُبلتے چشمے ریت کی محبت سے محروم کیوں رہتے ہیں ۔اور کنکریوں کا ساتھ ہمیشہ کیونکر رہتا ہے ۔
یہاں نظام تعلیم ، مادی وسائل یا معاشرتی مساوات کا پوسٹ مارٹم کرنا مقصود نہیں ۔جو کہنا چاہتا ہوں اسے ایک مختصر کہانی سے سمجھانا بھی چاہوں گا ۔ اگر دل نہ مانے تو اس پر عمل کرنا بالکل ضروری نہیں ۔
فلاسفی کا ایک پروفیسر کلاس روم میں اپنے سامنے مختلف اشیاء رکھے کھڑا تھا ۔جب کلاس شروع ہوئی تو اس نے خاموشی سے ایک خالی بڑے مرتبان کو دو انچ سائز کے پتھروں سے بھر دیا ۔
پھر اس نے طالب علموں سے پوچھا کہ کیا مرتبان بھرا ہوا ہے ۔
وہ یک زبان بولے : ہاں
تب پروفیسر نے کنکریوں سے بھرا ایک بکس پتھر بھرے مرتبان میں ڈال دیا ۔ اور مرتبان کو ہلکا سا شیک کیا ۔کنکریاں پتھروں کے اندر جگہ بناتی ہوئی ٹھہر گئیں ۔
تب اس نے پھر سٹوڈنٹس سے پوچھا کہ کیا مرتبان بھرا ہوا ہے ۔
انہوں نے جواب میں کہا : ہاں
اس کے بعد پروفیسر نے ریت سے بھرا بکس اُٹھایا اور اسے مرتبان میں انڈیل دیا ۔ جس میں پتھر اور کنکریاں پہلے سے موجود تھے ۔ ریت نے مرتبان میں موجود ہر خالی جگہ کو پر کر دیا ۔
تب پروفیسر نے پھر اپنا سوال دھرایا : کیا مرتبان بھرا ہوا ہے ؟
سٹوڈنٹس یک زبان بولے: جی ہاں
پروفیسر نے کہنا شروع کیا کہ میں تمہیں یہ شناخت کرانا چاہتا ہوں کہ یہ مرتبان تمہاری زندگی کی نمائندگی کرتا ہے ۔ اور پتھر تمہاری زندگی کی ضروری چیزیں ہیں جیسے تمہاری فیملی یعنی ماں باپ ، بیوی بچے ، عزیز رشتہ دار اور تمہاری صحت ۔ اگر تم ہر چیز کو کھو بھی دیتے ہو اور یہی باقی رہتے ہیں تو پھر بھی تمہاری زندگی بھرپور رہے گی ۔کنکریاں تمہاری زندگی کے دوسرے معاملات کی نمائندگی کرتی ہیں ۔جیسے ملازمت ، گھر ، سواری وغیرہ اور ریت ان سب کے علاوہ ہر چھوٹی بڑی زینت کی چیز ہے ۔
اگر تم مرتبان میں سب سے پہلے ریت بھر دو تو پتھروں اور کنکریوں کے لئے جگہ نہیں بچے گی ۔ تمہاری زندگیاں بھی اسی طرح ہیں "۔

اگر ہم اپنی زندگی میں تمام وقت اور طاقت غیر ضروری معاملات پر صرف کر دیں گے ۔ تو ہماری زندگی میں ان کے لئے جگہ نہیں بچے گی جو ہمارے لئے اہم ہیں ۔جو ہمیں خوشی دیں ان پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ پہلے ترجیحات کو طے کرنا ہے ۔ جو ہمارے لئے اہم اور ضروری ہیں انہیں زندگی میں پہلے بھرنا ہو گا ۔ حقوق و فرائض کی ادائیگی کے معاملات ، تجارت کے اصول وضوابط طے شدہ ہیں ۔ ان کے لئے بڑے واضح احکامات ہیں ۔لباس کے تراش خراش میں پردہ کا لحاظ رکھنا اشد ضروری ہے ۔ اور دوسرے معاملات میں اعتدال کا راستہ اختیار کرنے کی ترغیب ہے ۔ تحریص کی ممانعت ہے ،علم میں رغبت ہے ، افکار میں جہت ہے ، سوچ میں مفارقت ہے ، عقل میں شراکت ہے ، نظریہ نظر شرارت ہے ، نیکی میں بہشت ہے ، عبادت میں قربت ہے ۔
جو کوئی چاہتا ہے دنیا کی زندگی اور اس کی زینت ، ہم ان کے لئے ان کے عمل اس (دنیا) میں پورے کر دیں گے ۔اور اس میں ان کی کمی نہ کی جائے گی۔  ۱۵   یہی لوگ ہیں جن کے لئے آخرت میں آْگ کے سوا کچھ نہیں ، اور اکارت گیا جو اس (دنیا) میں انہوں نے کیا اور جو وہ کرتے تھے نابود ہوئے ۔
سورۃ ھود ۱۶
جان لو کہ یہ دنیا کی زندگی محض کھیل اور تماشا اور زیبائش اور ایک دوسرے پر آپس میں فخر کرنا اور ایک دوسرے پر مال اور اولاد میں زیادتی چاہنا ہے جیسے بارش کی حالت کہ اس کی سبزی نے کسانوں کو خوش کر دیا پھر وہ خشک ہو جاتی ہے تو تُو اسے زرد شدہ دیکھتا ہے پھر وہ چورا چورا ہو جاتی ہے اور آخرت میں سخت عذاب ہے اور الله کی مغفرت اور اس کی خوشنودی ہے اور دنیاکی زندگی سوائے دھوکے کے اسباب کے اور کیا ہے
سورۃ الحدید۲۰

تحریر : محمودالحق

Friday, February 17, 2012

شاہیں کا جہاں اور

0 comments
حال سے ماضی اچھاہو تو پچھتاوا ، برا ہو تو ایک خواب سے بڑھ کر نہیں ہوتا ۔رہنا تو بحرحال حال میں ہوتا ہے ۔اگر جان پر بن آئے تو جینا محال ہوتا ہے ۔کامیابی قدم چومے تو سر فخر سے بلند رہتا ہے ۔ ناکامی میں پاؤں کے جوتے کی دھول سر کو آتی ہے ۔زندگی محنت کا تقاضا کرتی ہے ۔ خواب کے بغیر تو لگن بھی بنا بال وپر کی ہوتی ہے ۔
اقبال نے اپنے شاہین کو بلندیوں کا تاج پہنایا ۔ جس نے پہاڑوں کی چٹانوں کو اپنا مسکن بنایا ۔ قصر سلطانی کے گنبد تو مٹی پر پڑے پتھروں سے دھول میں اَٹے ہیں ۔شاہین اپنی فطرت ، عادت اور خصلت میں دوسروں سے ممتاز رہتا ہے ۔بھوک سے نڈھال بھی مردار سے زندگی کی بھیک نہیں مانگتا ۔جینا ان کا وقار ، زندگی ان کی شکار ، جھکنے کے نہیں روادار ۔ مگر دوستی میں ہاتھوں سے اُڑ کر شکار پر لپکتے ہیں ۔خوبصورتی میں ان سے بڑھ کر بہت ہیں مگر قیمت میں ان سے بڑھ کر کوئی نہیں ۔کیونکہ ان کا وقار پرواز سے ہے ۔ جینے کے انداز سے ہے ۔ حالانکہ ان کے شکار میں پرندے اور خرگوش ہی رہتے ہیں ۔
انسان کی پہچان کے اسباب میں سر فہرست گمراہی اور راست روی ہے ۔ اللہ جنہیں مومن کہہ کر مخاطب کرتا ہے ۔ وہ قصر سلطانی کے گنبد پر بسیرا نہیں کرتے ۔ جو ایسی خواہش رکھیں وہ شہباز نہیں ۔ اونچی پرواز میں کرگس بھی کم نہیں ہوتا ۔مگر بقول اقبال
پرواز ہے دونوں کی اسی ایک جہان میں
کرگس کا جہاں اور ہے شاہیں کا جہاں اور
جو پرواز کی طاقت رکھتے ہیں پاؤں ان کے زمین کی طاقت بھی رکھتے ہیں ۔انسان ہاتھ اور پاؤں سے زیادہ علم کی طاقت سے سرفراز ہوا ۔ یہی وہ مقام ہے جہاں فرشتے اللہ کے حکم سے سر بسجود ہوئے ۔ اسی علم کی بدولت انسان پہلے خشکی پھر پانی اور آخر کار ہوا میں سواری کرنے کے قابل ہوا ۔اسی طرح نیزوں ، تلواروں سے لڑتا بھڑتا توپوں ٹینکوں سے ایٹمی ہتھیار لے جانے والے میزائلوں تک ایجادات سے سرخرو ہوا ۔علم کی بدولت تسخیر کی خوبیوں سے مالا مال ہوتا گیا اور روح انسانی کو پابند سلاسل کرتا چلا گیا ۔
قید میں ضمیر قفس کے ہے ہجوم تنہائی
پابۂ زنجیر ہے نفسِ طائر رہائی
اونچی اُڑان تو ہے مگر شاہین جیسی نہیں ۔جہان کرگس کا ہو تو اُڑان بھی اسی کی ہو گی ۔
بقول اقبال !
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے
اس میں مٹی کی فطرت ہے تو تحریص بھی مٹی سے ہے ۔ جس کا منبع مادیت ہے ۔
خاکی کے اوڑھنے بچھونے کو زندگی ہے پرائی
خود ہی کھیتی اُگاتا ہے اور ضرورت سے زیادہ اناج پر قبضہ بھی جماتا ہے ۔ مگر مٹی نے اناج کو اُُگانے کا ڈھنگ نہ بدلا ۔ انسان کے کھانے کا ڈھنگ ضرور بدل گیا ۔ بدل تو ہر انداز گیا ۔ میلوں دوری کا فاصلہ محبت بھرے خطوط سے ناپا جاتا تھا ۔ انٹر نیٹ نے قربت کی انتہا کر دی زیادہ تر دور کے رشتوں میں ۔ اپنے خلوص بھرے خطوط سے بھی محروم ہو کر رہ گئے ۔
بھاٹی گیٹ جرمن و لندن کے قریب ہو گیا مگر لوہاری گیٹ سے دور ہو گیا ۔

تحریر ! محمودالحق

Saturday, February 4, 2012

احساس تشکّر ۔۔۔۔ تم کتنے خوش قسمت ہو

10 comments
ہماری آنکھیں روزانہ سینکڑوں مناظر کو ذہن میں نقش کرتی ہیں ۔ان میں سے اکثر وبیشتر بے اثر رہتے ہیں ۔ گہرے نقوش چھوڑنے والے منظر چند لمحوں سے زیادہ اثر پزیر نہیں ہوتے ۔ کیونکہ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ دوسروں میں کیا کمی ہے ۔ہمارے پاس کون کون سی نعمتیں ہیں ، ان کا شمار کم ہی کیا جاتا ہے ۔اس سے پہلے کہ کچھ اور لکھوں ایک ماخوذ کہانی پیش کرنا چاہوں گا ۔
بینائی سے محروم ایک لڑکا بلڈنگ کے باہر سیڑھیوں پر پاوّں میں ہیٹ رکھ کر بیٹھا ایک پلے کارڈ سے آنے جانے والوں سے مدد کا طلبگار تھا ۔جس پر لکھا تھا کہ
میں اندھا ہوں برائے مہربانی میری مدد کریں ۔
اس کے ہیٹ میں صرف چند سکے موجود تھے ۔ ایک شخص اس کے پاس سے گزرا ۔ جیب ٹٹول کر چند سکے نکالے اور ہیٹ میں ڈال دئَے۔ پھر اس نے پلے کارڈ کو اُٹھایا اسے پلٹایا اور چند الفاظ لکھ کر اسے واپس وہیں رکھ دیا تاکہ پاس سے گزرنے والے نئے الفاظ کو دیکھ سکیں ۔کچھ ہی دیر میں ہیٹ سکوں سے بھر گیا ۔اندھے لڑکے کی مدد میں کافی لوگوں نے پیسے دئیے ۔
اسی دوپہر وہ شخص جو پلے کارڈ پر نئے الفاظ لکھ کر گیا تھا وہاں یہ دیکھنے کے لئے آیا ۔ کہ اب حالات کیا ہیں ۔
لڑکے نے اس کے قدموں کی چاپ سے اسے پہچان لیا ۔اور پوچھا : کیا تم نے ہی آج صبح میرے کارڈ میں تبدیلی کی تھی ۔تم نے کیا لکھا تھا ؟
وہ شخص بولا میں نے صرف سچ لکھا تھا ۔میں نے وہ کہا جو تم نے کہا ۔ مگر ایک مختلف انداز میں ۔
میں نے لکھا : آج کا دن بہت خوبصورت ہے ۔ مگر میں اسے دیکھ نہیں سکتا ۔
دونوں تحریروں نے لوگوں کو یہی بتایا کہ لڑکا اندھا ہے ۔
پہلا کارڈ یہ بتا رہا تھا کہ لڑکا اندھا ہے ۔ دوسرے کارڈ نے لوگوں کو  بتایا کہ 
تم کتنے خوش قسمت ہو کہ تم اندھے نہیں ہو۔
--------------
یہ کہانی سبق دیتی ہے کہ ہمارے پاس جو ہے اس کے لئے ہمیشہ شکر گزار ہونا چاہیئے ۔ مثبت  اور مختلف سوچ کو پروان چڑھائیں ۔ اگر ہم اپنی نعمتوں کو شمار کریں  تو دوسروں کی محرومیوں کا احساس جا گزیں ہو گا ۔ جو قربانی اور مدد کے جزبے کو فروغ دے گا ۔ ہماری نعمتیں جسمانی اعضاء کی تندرستی سے لے کر  مال و متاع کی فراخی تک وسیع ہیں ۔ کائنات کی وسعت ہماری عقل و شعور اور اندازے سے بالا تر ہے ۔معاشرہ جب نعمتوں کی شکر گزاری سے محروم ہونا شروع ہو جاتا ہے ۔ تو بے حسی کے دور کا آغاز ہوتا ہے ۔میرا کیا اور تیرا کیوں ، کی تکرار سے اجنبیت کا رحجان پرورش پاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ غیر مسلم حکمرانی میں بھی ہر مذہب کے افراد امن وسکون سے زندہ رہتے ہیں ۔ اور مسلم حکمرانی کے باوجود ایک مذہب کے ماننے والے اپنی حفاظت کا حصار ٹوٹنے نہیں دیتے ۔
دوسروں پر سبقت لے جانے کا جنون خون کی طرح سر پر سوار رہتا ہے ۔کامیابیوں کے جھنڈے میدان میں گاڈ کر لوگوں کے دلوں میں دھاک بٹھانے سے زیادہ نشہ پاتے ہیں ۔
آئیے دیکھتے ہیں آیات قرآنی میں ہمارے لئے کیا احکام ہیں ۔ اور ان پر ہم کہاں تک عمل پیرا ہیں ۔
  ان لوگوں کی مثال جو اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ۔ ایک دانہ کی مانند ہے جس سے سات بالیں اُگیں ہر بال میں سو دانے ہوں اور اللہ جس کے لئے چاہتا ہے بڑھاتا ہے اور اللہ وسعت والا جاننے والا ہے ۔ البقرہ ۲۶۱

 جو لوگ اپنے مال اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں پھر نہیں رکھتے خرچ کرنے کے بعد کوئی احسان ، نہ کوئی تکلیف [ پہنچاتے ہیں] ان کے لئے ان کے رب کے پاس اجر ہے ، نہ کوئی خوف ان پر اور نہ وہ غمگین ہوں گے ۔ البقرہ ۲۶۲
  
اچھی بات کرنا اور درگزر کرنا بہتر ہے اس خیرات سے جس کے بعد ایذاء دینا ہو اور اللہ بے نیاز برد بار ہے ۔ البقرہ ۲۶۳

اے ایمان والوں ، خرچ کرو اس میں سے پاکیزہ چیزیں جو تم کماوّ اور اس میں سے جو ہم نے نکالا تمہارے لئے زمین سے اور اس میں سے گندی چیز خرچ کرنے کا ارادہ نہ کرو جبکہ تم خود اس کو لینے والے نہیں  مگر یہ کہ تم چشم پوشی کر جاوّ اب جان لو کہ اللہ بے نیاز اور خوبیوں والا ہے ۔ البقرہ ۲۶۷

آج کل تو والدین بھی محنت سے پال پوس کر جوان  اولاد  سے شکایات کے انبار رکھتے ہیں ۔ اولاد کے لئے والدین معاشرے میں داخل ہونے کا پہلا دروازہ ہیں ۔ جہاں سے گزر کر پلٹنے کا رواج ختم ہوتا جا رہا ہے ۔ حالانکہ ہماری کمائی پر پہلا حق ان کا ہے ۔جنہیں دروازہ کی پرانی چوکھٹ سمجھ کر اپنے نئے گھروں میں فٹ نہیں کیا جاتا ۔رشتہ دار ، یتیم ، مسکین کا حق تو اس کے بعد رکھا گیا ہے ۔کہنے سننے میں یہ بات عام ہے کہ معاشرہ بے حسی کا شکار ہے ۔
معاشرہ انسانوں سے بنتا ہے اور انسان ہی غرض ، مفاد اور بے حسی کا شکار ہے ۔خیالات کے خزانے پہلے اپنی خواہشوں سے بھرتا ہے ۔ اوردوسرےکو  جزبات کے پیالے میں مکرو فریب بھر بھر دیتا ہے ۔
اور تمہارے پاس جو کوئی نعمت ہے سو اللہ کی طرف سے ہے ،پھر جب تمہیں تکلیف پہنچتی ہے تو اسی کی طرف تم روتے چلاتے ہو ۔ النحل ۵۳
 

تحریر : محمودالحق

Wednesday, February 1, 2012

ٹرپل فلٹر ٹیسٹ

2 comments
قدیم یونان کے عظیم فلاسفر سقراط کے پاس اس کا ایک جاننے والا آیا ۔ اس نے سقراط سے کہا  کیا تم جانتے ہو کہ تمھارے  ایک  سٹوڈنٹ کے بارے میں میں نے کیا سنا ۔
سقراط نے کہا ایک لمحے کے لئے رکو ۔ اس سے پہلے کہ تم مجھے کچھ بتاوّ۔ میں چاہتا ہوں کہ تم ایک ٹیسٹ پاس کرو ۔جس کا نام ٹرپل  فلٹر ٹیسٹ ہے ۔
سقراط نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اس سے پہلے تم مجحے میرے سٹوڈنٹ کے متعلق بتاو۔ جو تم کہنا چاہتے ہو اس کو فلٹر کر لیتے ہیں ۔
پہلا فلٹر سچائی ہے ۔ کیا تمھیں کامل یقین ہے کہ جو تم مجھے بتانا چاہتے ہو  وہ سچ ہے ۔
نہیں : وہ شخص بولا حقیقت میں میں نے صرف سنا ہے ۔ 
ٹھیک : سقراط نے کہا کہ تم حقیقت میں یہ نہیں جانتے کہ وہ بات سچ ہے یا نہیں ۔
سقراط  نے کہا کہ اب ہم دوسرا فلٹر استعمال کرتے ہیں ۔ اچھائی کا فلٹر ۔
جو تم مجھے میرے سٹوڈنٹ کے بارے میں بتانا چاہتے ہو ۔ کیا وہ اچھی بات ہے ۔
نہیں: اس شخص نے جواب دیا ۔
سقراط نے کہا ۔ اس کا مطلب ہے کہ تم مجھے کوئی بری خبر سنانا چاہتے ہو ۔ حالانکہ تم اس کی سچائی کے بارے میں بھی یقین نہیں رکھتے ۔
سقراط نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ تم اب بھی ٹیسٹ پاس کر سکتے ہو ۔کیونکہ ابھی  تیسرا فلٹر باقی ہے ۔ جو تم مجھے بتانا چاہتے ہو کیا وہ میرے لئے فائدہ مند ہے ۔
نہیں : وہ شخص گویا ہوا ۔
سقراط نے کہا کہ کیا تم مجھے وہ بات بتانا چاہتے ہو جو سچ نہیں ، اچھی  بھی نہیں اور میرے لئے فائدہ مند بھی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ ہم اپنی روز مرہ معمولات زندگی میں کتنی ہی باتیں ا دھر سے اُدھر بغیر تحقیق کئے پھیلا دیتے ہیں ۔  مگر کبھی یہ خیال نہیں کرتے کہ جنہیں بتایا جا رہا ہے ان کے لئے اس کی افادیت کیا ہے ۔ کہیں گپ شپ اور وقت گزاری کے لئے سنی سنائی باتوں میں قیمتی وقت ضائع تو نہیں کر رہے ۔جس کا فائدہ نہ تو سننے والے کو ہوتا ہے اور نہ ہی سنانے والے کو ۔
  فتنہ پرور لوگ نفرت کا بیج بونے کے لئے محبت کے رشتوں میں سنی سنائی اور جھوٹی باتوں سے رخنہ ڈالتے ہیں ۔جنہیں سننے والے بغیر کسی حیل و حجت کے قبولیت کی سند عطا کر دیتے ہیں ۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم کانوں تک پہنچنے والی بات کو فلٹر ٹیسٹ سے کشیدہ کر لیں۔ تاکہ بات کی حقیقت سے زیادہ بات پہنچانے کی نیت واضح ہو سکے ۔ جو کہ اتنا مشکل اور دشوار ہر گز نہیں ہے ۔ لیکن سچائی جاننے سے زیادہ فکر اس بات کی ہوتی ہے کہ کس نے کیا کہا ۔چاہے ہمیں اس کا کوئی فائدہ نہ ہو ۔
یہ ایک عمومی رویہ ہے جو ہم اپنی دانست میں بہتری کی نیت سے پروان چڑھاتے ہیں ۔سنانے والے الفاظ کا سہارا لیتے ہیں ، سننے والے کانوں کا۔ مگر تحقیق کے چند بول بولنے سے کمزور پڑ جاتے ہیں ۔
سقراط  جس دور کا فلاسفر تھا وہاں جہالت کی تاریکی زیادہ تھی ۔وہ قرآنی تعلیمات کے روشن باب کا دور نہیں تھا ۔مگر معاشرتی و اخلاقی اقدار پر اس کا تجزیہ عملی فضیلت  سے زیادہ حقیقت اشنائی کا سبق دیتا ہے ۔
آج ہمیں کسی سقراط کے حاصل کئے گئے نتائج سے اپنی زندگی کے معاملات کو ہم آہنگ کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ کیونکہ ہمارے پاس وہ پاک کتاب ہے کہ جس کے ایک ایک حرف سے انسانیت  کی بھلائی ، محبت کی پزیرائی اور حقیقت کی سچائی ٹپکتی ہے ۔جسے پانے کی چاہت ہو اسے ہر آیت میں حکم خداوندی نظر آتا ہے ۔ جن پر عمل پیرا ہونا فرض کی ادائیگی کا فرمان ثبت ہوتا ہے ۔
قرآن پاک کی آیات مخلوق خدا کے لئے ہیں ۔ مگر ان کی تلاش بعض مواقع پر ثابت کرنے کے لئے کی جاتی ہیں ۔ان میں ہر بری 
بات سے منع کیا گیا ہے اور اچھائی کی ترغیب دی گئی ہے ۔

وہ جسے چاہتا ہے حکمت( دانائی )عطا کرتا ہے ۔اور جسے حکمت دی گئی اسے بہت بھلائی ملی  ۔ " سورۃ البقرہ ۲۶۹ 
آج کل مختلف فورمز  پر مذہبی مباحث میں قرآن و سنت پر علمیت کے علم اٹھائے حکمت و دانائی سے محروم تفرقہ بازی  میں پیش پیش نظر آتے ہیں ۔ نئی نسل کو بحث و مباحث  کے ذریعے  قرآنی تعلیمات  کا اصل مفہوم  پہنچانے کے فرض منصبی کے دعوی دار نظر آتے ہیں ۔
 اللہ تبارک تعالی فرماتا ہے
وہی تو ہے جس نے آپ ﷺ پر کتاب نازل کی ۔ اس میں محکم ( پختہ ) آیتیں ہیں ۔ وہ کتاب کی اصل ہیں ۔اور دوسری وہ ہیں جن کے معنی میں اشتباہ  ہے  پس جن لوگوں کے دلوں میں کجی ہے ۔ وہ اشتباہ والی کے پیچھے پڑتے ہیں  ۔ فساد ( گمراہی) کی غرض سے اور اس کا ( غلط ) مطلب ڈھونڈنے کی غرض سے اور اس کا مطلب اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ۔
سورۃ آل عمران ۷


تحریر :محمودالحق

Wednesday, December 28, 2011

پیار سے ڈر لگتا ہے

1 comments
سننے میں اچھا لگتا ہے یا شائد کسی کو برا لگتا ہے ۔ معصومیت بھرا لفظ ہے پھر اس سے کیوں ڈر لگتا ہے ۔ ڈھو نڈنے پیار کو یہاں آ گئے ۔ الفاظ کڑوی گولی کی طرح مفہوم مسیحائی میں سما گئے ۔
بیماری پنپتی جزبات میں گھائل روح تمازت سے ہے ۔ کھلی آنکھوں سے نظر میں سمائے تو بند آنکھوں سے دل میں اتر جائے ۔ پھر ڈرنے کی وجہ سمجھ سے باہر ہے ۔ اگر سمجھنا یہ ہے تو ایک جملے کو اتنی پزیرائی کیوں ۔ تپھڑ سے ڈر نہیں لگتا پیار سے لگتا ہے ۔ تپھڑ سے آنکھوں میں اندھیرا چھا جاتا ہے تو پیار سے عقل پہ پردہ ۔
نفرت آگ کی حدت ہے جو جلا نہ پائے تو پھگلا ضرور دیتی ہے ۔ مگر پیار ڈوری کی مانند دوسِروں کو باہم باندھ دیتا ہے ۔
ایک ایسی روشنی جو آفتاب کی مہتاب پر پڑیں تو چاہے پہلی کا چاند بنا دیں یا چودھویں رات کی چاندنی ۔ مہتاب کرنوں کی محبت سے محروم ایک پل کے لئے بھی نہیں رہتا ۔
مگر دل ایسی زمین ہے جو حالات و موسمی اثرات کے زیر اثر سچی روشنی کی نعمت سے بھی کبھی کبھار محروم رہ جاتا ہے ۔ نفرت ، ہوس و حرص کے بادل تہہ آب سے جزبات کی بلندی کو چھو کر برس جاتے ہیں ۔ آسمان سے برسیں تو گرد و غبار کی کثافت چھٹ جاتی ہیں ۔ آنکھوں سے برس کر دل کے غبار کو نکال باہر کرتی ہیں ۔
ان باتوں سے تو پیار سے ڈر کا تعلق واضح نہیں ہوتا ۔کیا ایسا سوچتے ہیں ہم ۔
زمین کی محبت میں گرفتاری کا خوف کبھی پاس سے بھی نہیں گزرتا ۔ مگر یہی زمین زلزلہ ، سونامی ، ہریکین سے اپنا وجود سمجھائے تو خوف میں جکڑے جاتے ہیں ۔ ہماری سوچ ، ہماری زندگی حالات کے رحم و کرم پر بند بادبان کی کشتی جیسی ہے جو ہوا کے دباؤ کو برداشت کرنے سے قاصر ہے ۔
جو زندگی سے پیار کرتے ہیں وہ فنا ہونے سے ڈرتے ہیں ۔ مگر فنائی صفت پر جان نچھاور کرتے ہیں ۔ دن رات ہوس و حرص کی روشنی سمیٹتے ہیں ۔ جو پیدا اس پانی سے ہوتی ہے جس کی قدر نخلستان میں بھٹکے مسافر سے زیادہ کس کو ہو گی ۔
اللہ تبارک تعالی کی نعمتیں ہزارہا ہیں ۔ انسان گنتا وہی ہے جو مادیت پر ہوں ۔ بدن میں حرارت 98.6 سینٹی گریڈ تک کسی شمار میں نہیں ۔ حلق کے نوالے گنتی میں ہیں مگر سانس کی آمدورفت صرف علامت ہے ۔ تیز رفتاری میں قابل توجہ ہوتی ہے ۔
محبت کی تاریخ کو افکار کے آئنے میں تلاش کریں تو عکس لگن سے ملن ، قربت سے محبت تک بنتا ہے ۔ اگر نظریات سے کھوج کریں تو شکوہ سے شکایت ، حقیقت میں روایت کا عکس بنتا ہے ۔ حال کی جوانی کو ماضی کے بچپن سے کشیدہ نہیں کیا جاتا ۔ محبت کو نفرت سے رنجیدہ نہیں کیا جاتا ۔ خوشی کو غم سے بینا و دیدہ نہیں کیا جاتا ۔ اوصاف کو وصف سے حمیدہ نہیں کیا جاتا ۔ جسے بھول جانے کا خوف ہو وہ عشق نہیں جسے سنبھال نہ سکو وہ بھی عشق نہیں ۔ جو خود میں سمو لے ۔ جو خود کو کھو دے وہ عشق ہے ۔
جو  فریاد سے نہ ہو اعتماد سے ہو ۔ارمان سے نہ ہو ایمان سے ہو ۔ طلب سے نہ ہو قلب سے ہو ۔ چھپ کر نہ ہو مگر چپ سے ہو ۔ انگاروں جیسا نہ ہو مگر ستاروں جیسا ہو ۔
ڈھونڈو ایسی محبت کو جو روٹھتی نہیں ۔ جس کی چاہ سے چاشنی نہیں جو عقیدت کے جنون سے لبریز ہے ۔ جو افتراء سے نہیں اقراء سے ہے ۔ جو زنگار سے نہیں ابرار سے ہے ۔ جو اسرار سے نہیں اقرار سے ہے ۔ جو عبد سے نہیں عابد سے ہے ۔ جو ابد سے نہیں احد سے ہے ۔ واحد کی محبت زاہد کا مقام ہے ۔ بیان میں جو نہ آئے وہی انعام ہے ۔


 تحریر !  محمودالحق

Sunday, October 30, 2011

یہ جینا بھی کیا جینا ہے

1 comments
انسان اپنی سوچ کے دھارے میں بہنے اور بہانے کے عمل سے دوچار رہتا ہے ۔ کبھی خوشی سمیٹتا تو کبھی غموں کے جام چھلکاتا ہے ۔ جینے کے نت نئے انداز لبادے کی طرح اوڑھے جاتے ہیں ۔ مگر جینا کفن کی طرح ایک ہی لبادے کا محتاج رہتا ہے ۔ برداشت دکھ جھیلنے اور درد سہنے میں طاقت کی فراہمی کا بندوبست کرتی ہے ۔
نقصان عدم اعتماد پیدا کرتا اور بھروسہ کو پامال کرتا ہے ۔ فائدہ تکبر کا مادہ پیدا کرتا ہے ۔ مقدر کے سمندر میں سکندر کی ناؤ بہاتا ہے ۔ انسان سوچتا وہی ہے جو پانا چاہتا ہے ۔ ہوتا وہی ہے جو تقدیر میں لکھا ہو ۔
زندگی میں خوشیاں تلاش کی جاتی ہیں ۔ جبکہ خوشی موقع کی تلاش میں رہتی ہے ۔ اور مواقع حسد ، رقابت ، لالچ اور نفرت سے کھوتے چلے جاتے ہیں ۔ مزاج مسلسل بگڑے رہنے سے رویے عدم توازن کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ پھر دوست دوست نہیں رہتے ۔ محبوب بھی محبوب نہیں رہتے ۔ عیوب کی نظر بد کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ جیسے ساحل سمندر پر لہریں پاؤں کے نیچے سے ریت سرکا نے سے توازن بگاڑتی اور پھر ساتھ بہانے کی ضد میں ایک کے بعد ایک لہر دوسرے کی مدد کو پہنچ جاتی ہے ۔جو سنبھلنے اور پاؤں جمانے کی مہلت دینے میں بخل سے کام لیتیں ہیں ۔
محنت سے جوڑی گئی ایک ایک اینٹ جب ایک دوسرے سے کٹ جائے تو صرف ملبہ کے ڈھیر کی صورت میں رہ جاتی ہے ۔ عمارت نقش و نگار سے مزین اور نظر اُٹھا کر دیکھنے میں خوبصورتی کا مجسمہ بنتی ہے ۔نظریں جھکانا احتیاط یا تابعداری میں رہتا ہے ۔ دیکھنے والی آنکھ وجود کا ہی حصہ ہیں مگر نظر میں جزب کی کیفیت روح سے مزین ہے ۔
زمین میں بیج بو کر آبیاری سے ثمر کے حصول تک پروان چڑھانا ایک عمل کا نتیجہ ہے ۔ مگر جس زمین کی تاثیر سے شاخوں میں پھول کھلتے اور رس گھلتے ہیں ۔ وہ جڑوں سے پہنچنے والی طاقت ،مٹی میں عمل تبخیر آبگیری تک آنکھوں سے اوجھل رہتی ہے ۔
جو درخت گرمی میں ٹھنڈک پہنچاتے ، دھوپ سے بچاتے تو سردی میں وہی اپنے سے دور رہنے پر مجبور کرتے ہیں ۔ مگر انھیں کاٹ کر پھینک نہیں دیا جاتا ۔ بلکہ موسم میں تبدیلی کے آثار نمودار ہونے تک انتظار میں رہا جاتا ہے ۔ مگر انسان بھلائی نیکی کرنے والے کی ایک غلطی یا خامی کو حالات کی درستگی تک ٹھیک ہونے کی مہلت دینے کو تیار نہیں ہوتا ۔بلکہ محبت کی ڈوری سے بندھے رشتے ناطے کو نفرت اور غرض کی آری سے کاٹنے کے درپے رہتا ہے ۔ چشمہ سے ابلتا پانی گرمی میں ٹھنڈک کا احساس دلاتا اور موسم سرما میں یخ بستہ سردی کا احساس مٹاتا ہے ۔ مٹی سے بنا انسان مٹی سے اٹ جانے کو گندگی تصور کرتا ہے ۔ لباس اور وضع قطع سے منفرد اور مسحور کر دینے کی بے لگان خواہش سے عزت ومنزلت اور جاہ و مرتبہ کا متمنی رہتا ہے ۔
آزادی سرکش اور بے لگام گھوڑے کی مانند ہے جسے قانون کی کاٹھی سے موافق بنایا جاتا ہے ۔ مگر نفس پھر بھی سرکشی پر مائل رہتا ہے ۔اگر روح کا بار وجود پر بھاری پن کا احساس بڑھا دے تو خلوت کا احساس بوجھ سے آزاد ہو جاتا ہے ۔ترغیب گناہ کی لذت کا احساس ضمیر اور خواہش کے درمیان فاصلے مٹاتا چلا جاتا ہے ۔
خوشی لزت سے آشنا ہوتی ہے اور غم خوف سے ۔
غم کے آنے میں غم ہے تو جانے میں خوشی ۔ خوشی کے آنے میں خوشی ہے تو جانے میں غم ۔
جو اسے رضا جان لے تو رضائے الہی سے قلب اطمینان میں دھڑکتا ہے وگرنہ اچھل اچھل بھڑکتا ہے ۔

Sunday, September 18, 2011

کس کی بنی ہے عالمِ ناپائدار میں

0 comments
جب بخار کی شدت میں دو تین ڈگری کمی آتی تو تیمار داری کے لئے آنے والوں سے ہنسی مذاق میں موڈ خوش گوار کر لیتا ۔ جیسے ہی دوا کے اثرات زائل ہونا شروع ہوتے تو ٹمپریچر 105 سینٹی گریڈ تک پہنچتے پہنچتے مجھے نڈھال کر دیتا ۔ سر ایک طرف ڈھلک جاتا ۔ کھانا پینا تو پہلے ہی دواؤں کی کڑواہٹ کا شکار تھا ۔ کمزوری و نقاہت سے بدن حاجت کے لئے بھی سہارے کا محتاج ہو چکا تھا ۔ نرس گلوکوز کی بوتل میں ہی وقفے وقفے سےگھونٹ گھونٹ ٹیکے ٹکا رہی تھی ۔ خواتین تیمار داری کے ساتھ ساتھ باتیں کم اور کچھ پڑھتے ہوئے ہاتھ کے انگوٹھے سے انگلیوں کو جگا رہی تھی ۔ اور میں جاگتے ہوئے بھی مدہوشی کی کیفیت میں مبتلا تھا ۔
کسی بھی ٹیسٹ میں بیماری کی تشخیص میں مدد نہیں مل رہی تھی ۔ ڈاکٹر ٹامک ٹوئیوں سے کام چلا رہے تھے ۔ ویسے بھی مریض کو اتنی جلدی ٹانک پر ڈالا نہیں جاتا ۔ کمزوری دنوں میں بڑھتی ہے اور طاقت مہینوں میں لوٹتی ہے ۔ بیماری جڑ سے نکالنے میں گولیوں کے ساتھ ساتھ ٹیکوں کی ٹیک دینا ضروری خیال کیا جاتا ہے ۔ ہزاروں کا بل چکانے کے بعد بھی بیماری نے گردن کو اکڑنے کی اجازت نہیں دی ۔ جھکی کمر افسران بالا کے سامنے ماتحت کی عرض مندی کا منظر پیش کر رہی تھی ۔ تکلیف کا خیال آتے ہی آنکھوں کے سامنے تارے ناچنے لگتے ۔ شدید سر درد اور مسلسل قے کی وجہ سے توبہ ! توبہ ! سر دیواروں سے ٹکرانے کو جی چاہتا ۔ نہ دن کو چین اور نہ ہی رات میں سکون ۔ بھلا ہو ڈاکٹر وں کا ٹیکے لگا لگا ایسا نشہ طاری کیا کہ بیماری سے لا علم نشے کی لت کا شکار سمجھتے ہوں گے ۔ کام کے لئے گھر سے نہ نکل سکے مگر صحت و تندرستی چل چلا پر گامزن تھی ۔
جو دو دن شادی میں شرکت کی تھکاوٹ سے پھر بے حال ہو گئی ۔ سر ایک بار پھر درد کے ہتھوڑے سے ہاتھ ہولا رکھنے میں ناکام تھا ۔ ایک مہربان نے پھر سے ایک دوسرے بڑے ڈاکٹر کے در پہ جا پھٹکا ۔ سرنجوں سے خون نکال نکال لیبارٹری اسسٹنٹ نے آنکھوں میں ایسا اندھیرا پھیلایا کہ کئی مریضوں کو بوتل بھر بھر خون کا عطیہ دینے میں کبھی چکر نہیں آیا تھا ۔ رزلٹ پھر وہی ڈھاک کے تین پات ۔ ہمت مرداں مدد خدا ۔ کلینک کے باہر قطار میں انتظار سے بھی کوفت نہیں ہوتی تھی ۔ ڈاکٹر کی صورت دیکھ کر یہ پیغام ملتا کہ پاس کر اور برداشت کر ۔ سو پاس کرنے کا اختیار تو بیماری کے سپرد کر دیا اور برداشت کرنے کا اپنے ذمے لیا ۔ معدہ جن ادویات کو برداشت کر چکا تھا اب ان مہنگی ادویات کی شان باقی نہیں رہی تھی ۔
آخر انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں ۔ تمام لیبارٹری ٹیسٹ میز پر رکھے تھے جس پر لکھی اے بی سی 123 کے ساتھ پڑھ کر بھی اپنی کم علمی پر ندامت ہو رہی تھی ۔ ڈاکٹر نے بھاری فیس کے عوض جو دوا لکھی وہ سرے سے ہی پلے نہ پڑی ۔ بھاری قدموں سے ہلکے کاغذ پر لکھے نسخے کے ساتھ میڈیکل سٹور پر حاضری دی ۔ دوا ہاتھ میں تھما کر جس رقم کا مطالبہ ہوا کلیجہ منہ کو آ گیا ۔ ہزاروں روپے خرچ کرنے کے بعد یہ کیا چند روپوں کی گولیاں ہاتھ لگیں ۔ جسے بچپن میں ماں جی کئی بار کھلا چکی تھیں ۔ اگر وہ اس وقت زندہ ہوتیں تو بخار نناوے پر آؤٹ ہو چکا ہوتا ۔ ایک سو پانچ کی یاد گار انگز کبھی نہ کھیل پاتا ۔ بقول ڈاکٹر صاحب یہ ملیریا کی ایسی قسم ہے جو لاکھوں میں سے کسی ایک مچھر میں موجود ہے جو پاکستان میں نہ ہونے کے برابر ہے اور لاکھوں میں ایک مریض اس کا شکار ہوتا ہے ۔ ساؤتھ افریقہ میں یہ پایا جاتا ہے ۔ آج ہمیں کوئی فخر نہیں کہ ایسی ہی کسی مچھر کی ڈینگی قسم اب ہمارے ہاں بھی پائی جاتی ہے ۔ جس نے شہر شہر سراسیمگی پھیلا رکھی ہے ۔
کیا بات تھی ماؤں کی ، کسی ڈاکٹر سے کم نہ ہوتیں ۔ بغیر ٹیسٹوں کے ہی تشخیص کر لیتیں ۔ اور مسیحائی کرتیں ۔ آج ڈاکٹر تو بہت ہیں مسیحا کوئی نہیں ۔ بیماریاں آنے میں صبر نہیں کرتیں اور دوائیں اثر نہیں کرتیں ۔
جیسے محبتیں بہت ہیں قربانی کہیں نہیں ۔ ایک ہاتھ دو ایک ہاتھ لو کی بجائے دو ہاتھ دو اور دو ہاتھ لو کے فارمولہ پر ایک وقت میں ایک کام سرانجام پا سکتا ہے ۔ بیماری غریب کے در پر دستک ہر بار دیتی ہے ۔ بہتے برستے پانی جب گھروں میں جوہڑوں کی طرح ٹھہر جائیں تو دونوں خالی ہاتھ کم کشکول بن جاتے ہیں ۔ بلکتے سسکتے بچے ماؤں کی گود میں پانی کو جب ترستے تو وہ بھوکی شیرنیوں کی طرح خوراک کی تقسیم کرنے والوں پر جھپٹ پڑتیں ۔ لاٹھیاں جن کا مقدر کسی کا گولیاں بھی نصیب بن جاتی ہیں ۔ جہاں زندہ سنبھالے نہیں جاتے وہیں لاشیں بن اپنوں کی جدائی کو بھی زرہ بے نشان بنا دیتی ہیں ۔ غریب کی دہائی دہائیوں کے اقتدار کی ضمانت بن کر رہ جاتی ہے ۔ غربت کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی بجائے کہیں غریب ہی نہ مٹ جائیں ۔ پھر جمہوریت کے تھیلے سے موٹی بلی کیسے باہر نکالی جا ئے گی ۔ کیونکہ امیروں کو نوٹوں کی ضرورت نہیں ۔ پھر حکمرانی کے لئے لمبی غریبی لائن کے بغیر جعلی ووٹوں کی بھی انٹری ممکن نہیں ۔ نمائندگی کے دعوی کا دم بھرنے والے بھیک منگوں کی بجائے خودداری کے علمبراد بن جائیں تو عوام صدیوں پہلے ٹیپو سلطان کے کہے گئے الفاظ کہ شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے کو پڑھنے سے کڑھنے کی کوفت سے بچ جائیں ۔ شائد وہ سمجھ سکیں کہ ایک حلال لقمہ حرام اور بے ایمانی کے کروڑوں سے بہتر ہے ۔ اپنے بڑھاپے کے سہاروں کو امانت میں خیانت کر کےکردار کی جس عمارت کی بنیاد رکھ رہے ہیں ۔ کتنی آہوں کو دبا کر ،امنگوں کو سلا کر ،ضمیر کی نظروں سے چرا کر تاریخ کے گرد آلود اوراق کی شان بے نیازی تو ہو سکتے ہیں مگر شان امتیاز نہیں ۔ آخری شہنشاہ ہندوستان بہادر شاہ ظفر ایک پیغام چھوڑ گیا ہے انہی سوالیوں کے لئے ۔

لگتا نہیں ہے جی مرا اُجڑے دیار میں
کس کی بنی ہے عالمِ ناپائدار میں

بُلبُل کو باغباں سے نہ صَیَّاد سے گلہ
قسمت میں قید لکّھی تھی فصلِ بہار میں

کہہ دو اِن حسرتوں سے کہیں اور جا بسیں
اتنی جگہ کہاں ہے دلِ داغدار میں

ایک شاخ گل پہ بیٹھ کے بلبل ہے شادمان
کانٹے بچھا دیے ہیں دل لالہ زار میں

عُمْرِ دراز مانگ کے لائے تھے چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں

دِن زندگی کے ختم ہوئے شام ہو گئی
پھیلا کے پاؤں سوئیں گے کُنجِ مزار میں

کتنا ہے بدنصیب ظفر دفن کے لیے
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں

Friday, August 19, 2011

ایک سوال ادھورا جواب

0 comments
پاکستان کے کسی بھی بڑے شہر میں اگر ٹریفک سگنل کے چاروں اطراف کی سرخ لائٹ کو بلنک کر دیا جائے ۔ جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ چاروں اطراف کی ٹریفک دیکھ بھال کر اور پہلے آئیے پہلے جائیے کے کلیہ پر عمل پیرا ہو تو ہمارے ہاں ایسے چوک میں کیا منظر ہو گا ۔ جہاں کوئی پولیس کا سپاہی بھی تعینات نہ ہو ۔ یقینا طوفان بد تمیزی ہو گا ۔ ہر سواری پہلے گزرنے کو اپنا حق اولین سمجھتی ہے ۔ بلکہ یہاں تک بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ سرخ لائٹ پر بھی زیادہ دیر تک رکنا محال ہوتا ہے ۔ بلا وجہ ہارن بجانا مشغلہ ایسا ہے جیسا اسمبلی میں ڈیسک بجانا ۔
ہم اکثر سنتے ہیں کہ ہم بحیثیت قوم ایسی با کمال خوبیوں کے مالک ہیں کہ علامہ اقبال کو بھی یہ کہنا پڑا کہ زرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی ۔ بلا شبہ مٹی تو زرخیز ہے جسے پانے کے لئے سنٹرل ایشیا سے لے کر یورپ تک کے حکمران ایک دوسرے کو دھول چٹواتے رہے ۔ مگر آخر کار مقامی افراد کو اپنی مٹی کی زرخیزی کو سونا بنانے کا حق مل گیا ۔ سونے کی چڑیا سمجھ کر مغربی حکمران کوہ نور تاج میں سجا کر پلٹ جانے میں ہی عافیت پا گئے ۔ منٹو پارک کے اجلاس نے جو بنیاد رکھی ۔ اقبال پارک بن کر اسے دھرنا اور جلوس سے پورا کیا جاتا رہا ۔
انگریز کی لاٹھی اور گولی کا بدلہ اس کے جانے کے بعد توڑ پھوڑ سے لینے کی کوشش آج تک جاری ہے ۔ حکمران بدل گئے مگر لاٹھی اور گولی کی سرکار نہیں بدلی ۔ بدلے بھی کیسے قانون 1861 کو ہی چند تبدیلیوں کے ساتھ جاری و ساری رکھا جاتا رہا ۔ اگر پوچھا جائے کہ جناب کیسے جاری ہے تو خبر کا حوالہ دینے میں کیا حرج ہے آرڈیننس کے تحت صوبے میں کمشنری نظام، سندھ لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 1979ءاور پولیس ایکٹ 1861ءبحال ہوگئے ہیں۔
اگرعلامہ صاحب جانتے کہ بنیادی ڈھانچہ تبدیل کرنے میں چونسٹھ سال بھی کافی نہیں ہوں گے تو زرا نم کی بجائے پوری طرح سیراب کرنے کی بات کرتے ۔ 1930 ، 1933 کی گول میز کانفرنسز کی ناکامی کے بعد دل برداشتہ قائد قوم کو ان مسلمانوں کی دگرگوں حالت زار کا حوالہ دے کر طوفان میں پھنسی کشتی کو نکالنے کے لئے خط نہ لکھتے ۔ کیونکہ مسلم لیگ کا نیا دھڑا سر شفیع کی قیادت میں مسلمانوں کی قیادت کا ترجمان نہیں تھا ۔ مگر کام ہونے کے بعد اب سب ہی ترجمانی کے دعوی دار ہیں ۔
بات تو ہو رہی تھی ٹریفک سگنل پر رکے مسافروں کی ۔ جا پہنچی آزادی کے متوالوں تک ۔ فکر کی کوئی بات نہیں قلمکار کا قلم بھی رکشہ کی طرح اپنے پاؤں پلٹنا جانتا ہے ۔ مارشل لاء کی سرخ بتی پر کئی کئی سال رکا رہتا ہے ۔ جمہوریت کی سبز بتی پر رفتار تیز کر لیتا ہے ۔
قائداعظم نے اتحاد اور نظم و ضبط کا بھی درس دیا تھا ۔ جسے یقین کے ساتھ بھٹو نے ایوب کے خلاف استعمال کیا اور بھٹو کے خلاف خود قومی اتحاد نے ۔ پھر اس کے بعد تو دس سال تک نظم و ضبط کا خوب مظاہرہ ہوا ۔ اور اس کے بعد اب تک صرف برداشت کے مظاہرے ہیں ۔ مظاہرے تو بے شمار ہیں ان کے احوال کے لئے کتاب لکھنا ہو گی ۔ کتاب کے لئے ایک عدد مصنف درکار ہوتا ہے اور چھاپنے کے لئے پبلشر اور ان سب کے لئے رقم کی مدد درکار ہوتی ہے ۔ صرف توڑ پھوڑ کی کہانی پر زر کثیر خرچ کرنا دانائی نہیں ۔ قومی معاملہ پر اس بے اعتناعی کو بزدلی سے محمول نہ کیا جائے ۔ کیونکہ
وہ اور ہوں گے کنارے سے دیکھنے والے
ہماری نہ پوچھ ہم نے تو طوفاں کے ناز اٹھائے ہیں
اس میں کیا شک ہے کہ بعض بے گناہوں نے تو کوڑے بھی کھائے ہیں ۔ اب بے چارے وہ کوڑے کے ڈھیر کے قریب بسیرا رکھتے ہیں ۔ جو اس وقت کچھ کھانے سے محروم رہ گئے تھے اب ان کے کھانے کے دن ہیں ۔
قلم بار بار پتنگ کی طرح ایک ہی طرف کنی کھائے جا رہا ہے ۔ کیا کریں برابر کرنے کے لئے کوئی میرے قائد کا جانشین نہیں ہے ۔ ولی عہد تو بہت ہیں جو تیز ہوتی ہوا میں مزید کنی کھانے کے لئے قوم کی امنگوں کی پتنگ کو مزید ہوا دے رہے ہیں ۔
اتنی لمبی تمہید باندھنے کی ضرورت پیش آنے کی وجہ بھی تو دینی پڑے گی وگرنہ اعتراض باندھنے میں حجت سے کام کیوں نہ لیا جائے گا ۔ کیونکہ نئی بات تو اس میں ایک بھی نہیں ۔ جب قائد ہی بھلا دیا تو صرف تاریخ پڑھا کر کیا سبق یاد کروایا جا سکتا ہے ۔ باد مخالف سے تو عقاب نہیں گھبرایا کرتے مگر الفاظ سیاہی سے ضرور گھبراتے ہیں کیونکہ سیاہی ہر شے کو سیاہی میں ڈبو دیتی ہے ۔ روشنی کے مینار بہت دور دکھائی دیتے ہیں ۔ لیکن جب اندھیرے سے روشنی کے دائرے میں داخل ہو جائیں تو روشنی کے منبع کی طرف دیکھنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی ۔


نوٹ ! ایک بار مغرب کی ایک شاہراہ پر سرخ بتی کو بلنک کرتے ہوئے چاروں اطراف دور دور تک پھیلی لمبی ٹریفک کو انسانی ہجوم سے بہتر انداز میں ایثار و رواداری ، نظم و ضبط کی پابندی میں دیکھا تو حیرانی ہوئی جو گاڑی اپنی حدود سے اگے چوک تک پہنچتی تو تمام گاڑیاں اس کے انتظار میں ایسے مودب کھڑے رہتے جیسے ہماری سڑکوں پر حکمرانوں کے قافلے گزرنے پر قوم کو انتظار کی سولی پر مودب کھڑا کیا جاتا ہے ۔
قومیں صرف کھوکھلے نعروں اور دعوؤں سے عظیم نہیں ہوتی بلکہ اپنے عمل و کردار سے اس مقام تک پہنچتی ہیں ۔

تحریر ! محمودالحق

Saturday, July 30, 2011

لکھنا مجبوری میری، پڑھنا کیوں تیری

0 comments
لکھنا چاہتا ہوں مگر لکھ نہیں‌پا رہا ۔ سمجھنا چاہتا ہوں سمجھ نہیں پا رہا ۔ نیٹ کے دھاگے کمزور ہوتے جارہے ہیں ۔ یا میری نظر کی کمزوری یہاں بھی حائل ہو چکی ہے ۔ چند روز تک نئے چشمے سے الفاظ صاف دیکھائی دینے لگیں گے ۔ مگر قلب کی صفائی دیکھنے میں ابھی مذید انتظار کرنا ہو گا ۔ سالہا سال کے انتظار کے بعد نہ تو محلے کی گلیاں صاف ہوئیں ۔ ندیاں بھل صفائی کی محتاج ہیں تو نالے کوڑا کرکٹ کی صفائی کے ۔
سیاستدان نرما کی وجہ سے اجلے دیکھائی دیتے ہیں ۔ مگر کردار ابھی صاف نہیں ۔ سیاست کے شیر ہیں یا ترکش میں بھرے تیر ۔ بچے کھچے عوام قطعا بھوکے بٹیر نہیں جو لڑ بھڑ کر بھڑاس نکالیں ۔ البتہ ترم کے پتے استعمال کرنے کی پابندی ہر گز نہیں ہے ۔ اب اسے مڈ ۔ ٹرم پڑھنے والے ایک نئی بحث کا آغاز خود سے کر دیں ۔ تو ہنوز دلی دور است نہ سمجھا جائے ۔ کیونکہ جج جہاں پایا جائے ۔ عدالتی کاروائی کا وہیں اختیار رکھتی ہے ۔ کم از کم ہمیں فیصلے کا اختیار نہیں ۔ کسی بھی دھاگے پر موم چپکا کر آگ جلانے کا اختیار ماچس ہاتھ میں لینے سے شروع ہو گا ۔ ہماری تو آواز بھی اچھی نہیں کہ اپنا راگ ہی آلاپ سکیں ۔ آگ تاپنے کا مزہ موسم سرما میں اچھا ہے ۔ ایسے شدید گرم موسم میں گرمی سردی صحت کے لئے سود مند نہیں ۔ سردا اگر بازار سے میسر نہ ہو تو گرما ابھی چند مزید ماہ دستیابی کا ترانہ گنگاتا رہے گا ۔
ماہ رمضان کی آمد آمد ہے پھل گھر گھر جانے کے لئے بیتاب ہیں ۔ تاکہ روزہ داروں کی افطاری میں غریب سے غریب تر کو بھی بھوک کے نڈھال پن سے نجات دلانے میں اپنا حصہ ڈال سکیں ۔ حصہ تو بقدر جثہ ہر صاحب حیثیت کو بھی بیواؤں یتیموں ، مسکینوں ، بیماروں اور لاچاروں کی مدد کرنے میں ڈالنا چاہیئے ۔ تاکہ وہ بھی شدید گرمی میں غربت کا پسینہ بہہ جانے سے نقاہت کا شکار ہونے سے اپنے آپ کو بچا سکیں ۔ اور ان کے بچے امیر کی عیال سے نفرت پال کر جوانی کی دہلیز تک انتقام کے گھوڑے پر سوار سفر طے نہ کریں ۔ بلکہ ہم سفر ہونے کے اعزاز سے نوازے جائیں ۔ ستارہ امتیاز سے نوازے جانے کی آرزو کہیں کہیں مچلتی دکھائی بھی دے تو گھر میں فوٹو فریم میں لٹکانے سے لٹکے منہ اُٹھائے نہیں جا سکتے ۔ سر اُٹھانے میں ایڑی چوٹی کا زور لگانے میں کوتاہی کی سرکوبی خیال کرنی ضروری ہے ۔
تیس دن جسم کی ضرورتوں کو کھجور اور دودھ سے توانا ئی سے بھرپور غزائیت پہنچانے کے ساتھ ساتھ روحانیت بکثرت عمل صالح سے ندامت ناصح پر ہو تو قلب تر و تازہ پھلوں سے بنایا خون سر پھرے شریانوں میں برابر پہنچ کر مقرب تکبر خاص کو اکڑاؤ کی بجائے نرم خوئی پر رواں دواں کر دے ۔ نا کہ جیو اور جینے دو کے جھنڈے تلے سانس لینے میں بھی محتاجی کا علم تھما دے ۔
کج فہمی میں کی گئی بات رات ڈھلنے کے انتظار میں اتفاق کی بجائے نفاق کے سبب اسباب پیدا کرنے کی صلاحیت سحر ہو جاتی ہے ۔ جو بات بے بات اپنا عمل دوا کی بجائے طبیب کی تشخیص کا اعلان ایجاد بن جاتا ہے ۔ علماء کے اجتہاد سے اسے الگ پڑھا جائے ۔ فتاوی ملنے سے کچھ خوش رہتے ہیں تو کچھ صرف پڑھنے سے ۔ اکثریت نہ پڑھنے میں ہی خوش ہے کیونکہ وہ ان پڑھ ہیں ۔ ملک کی تقریبا ستر فیصد شائد اسی کیٹیگری میں آتے ہیں ۔ بوڑھے طوطے تو اب پڑھنے سے رہے ۔ لیکن فال نکالنے کے لئے ان کے تجربات سے فائدہ نہ اُٹھانا کوئی دانشمندی نہیں ۔
اگر زندگی نے وفا کی تو ہر وفاء بے اختیار کو آقا سراپا کی غلامی میں تیغ زن تیار ہوتا پھر سے پائیں گے ۔
لیکن اگر آج سے بے نیام شمشیریں عقائد کے سر قلمی اعتراضات سے اختلافات کی بجائے پیار اور امن کی عبادات سے بھائی چارے کی ترغیبات کو فروغ دینا شروع کریں تو ایک ماہ ہی شائد سال بھر کی شرکتی بزلہ سنجی کا اثر زائل کرنے کا سبب ہو ۔
آؤ ایک سجدہ کریں عالم مدہوشی میں
لوگ کہتے ہیں کہ ساغر کو خدا یاد نہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محمودالحق

Thursday, May 26, 2011

معمار قوم

0 comments
آج کل ایسا ویسا لکھنے کا رواج عام ہے تو سوچا کہ ایک کالم کاغذ کی کشتی بنا کر بارش کے بہتے پانی میں بہا دوں ۔ ارادہ پکا تھا کہ خود فریبی میں مبتلا قوم عمار کو ضرور ایک معمار کی ضرورت پیش آ سکتی ہے تو اپنی خدمات پیش کر کے دیکھوں کیا نتیجہ نکلتا ہے ۔ امتحانات کے نتائج توتینتیس اور پچاس کے درمیان ہی رہے ۔ اگر معماری کا کنٹریکٹ ہاتھ لگ جائے تو چھیاسٹھ تک گنتی پہنچ سکتی ہے ۔ پھر چاہے قانون بدل دوں یا آئین ۔ پوچھے گا کون ۔
معمارقوم بیمار ہوا تو بنیاد پر ہی کام رک گیا ۔ اس کے بعد ایک کے بعد ایک نیا خودساختہ معمار بنیاد میں ڈالے گئے مضبوط کنکریٹ کو بھول بھلیاں سمجھنے کا شکار رہا ۔ باورچی خانہ کی جگہ باتھ روم تو ڈرائینگ روم کی جگہ کچن بناتا چلا گیا ۔ نیا نئے سرے سے معمار کے آئیڈیا کو جانچتا یہ کہہ کر یہ نقشہ اصل معمار کی بنیاد سے میل نہیں رکھتا ۔ پھر سے بنیاد تک بلڈنگ ڈھا دیتا ۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ
مسجد ڈھا دے مندر ڈھادے
ڈھیندا جو کجھ ڈھا دے
اک بندے دا دِل ناں ڈھاویں
رب!دلاں اندر رھیندا
اور یہ سب انہوں نے خوف خدا سے کیا کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اٹھانے گرانے سے رب کی ناراضگی کا انہیں اندیشہ نہیں ۔ دلوں میں اس کی یاد خوشبو کی طرح بس چکی ہے ۔ ایک ہلکا سا ترانہ بجانے اور جھنڈا لہرانے سے وہ مہک اُٹھے گا ۔ زنجیر سے باندھے مست ہاتھی کے جوش سے بڑھ کر جوشیلا پن نعروں کی گونج میں مترنم ہو گا ۔
عمارت کا کیا ہے ۔معماری کا ایک شاہکار ہی تو ہے ۔ بنیاد تو پھر بھی رہ جائے گی ہڑپہ اور مونجو ڈھارو کی طرح جہاں صرف عمارتیں ملیا میٹ ہو چکی ہیں ۔ تاریخ بنیاد سےخود پتہ چلا لے گی کیا کہاں تھا ۔ جب عمارت کا وجود ہی تاریخ کے لئے ضروری نہیں تو پھر اسے مضبوط کرنے کے لئے خون جگر دینے کی ضرورت آج کے معمار نہیں سمجھتے ۔
جیسے خون وہ مچھروں کو دیتے ہیں ۔ بات کاٹنے کی کرتے ہیں ۔ یہی حال معماروں کا ہے لوٹتے مال ہیں الزام ان پر کال کے ہیں ۔
فرق صرف اتنا ہے مچھروں میں ڈینگی وائرس پھیلانے والا کوئی کوئی ہے ۔ معماروں کے ہاتھ سے بچتا کوئی کوئی ہے ۔ جو بچ جائے وہ ڈریکولا نہیں بنتا دوسری طرف معماروں کے کاٹے خود خون چوسنے کی بیماری کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ مریض اپنے اپنے مسیحا ء کی لمبی عمر کی دعا سے دم بھرتے ہیں ۔ جب کہ دوسروں کی تعریف سے سانس ان کے رکتے ہیں ۔
اگر سب ہی خون چوسنے والے بن جائیں تو خون دینے والے کہاں سے لائے جائیں گے ۔ شائد اسی لئے خاندانی منصوبہ بندی پر عملداری سے روکا جاتا رہا ۔ کیونکہ جمہوریت میں انسان تولے نہیں گنے جاتے ہیں ۔ گنتی میں بھاری ہلکے سب چل جائیں گے ۔ حالات تولنے کے ہوئے تو راشن کے بٹوارے کا خطرہ ہے ۔ ایک غلطی کا خمیازہ 71 میں بٹوارہ کی صورت میں بھگت چکے ہیں ۔ اب پھر راشن کی تقسیم کا رولا پڑ چکا ہے ۔ پانی راشن نہ سہی اجناس راشن کا سبب تو ہے ۔ زمین کے مقدر میں اس کا جزب ہونا نہ لکھا ہو ۔ سمندر میں غرق ہونے سے جو پھر بادل بن اُٹھ جائے تو ہونٹوں پہ مسکراہٹ کیوں نہ چپک جائے ۔اگر نہ برسے تو یہ کہنا کہاں جائز قرار پائے گا کہ
میرے گھر کے بادل گرج کر گزر گئے
تیرے گھر کے بادل برس کر بکھر گئے
میری شاخِ شجر کے پتے اتر گئے
تیرے پھول بھی کھل کر نکھر گئے

شکوے تو معماروں سے ہیں ۔ نہ گل سے نہ گلزاروں سے ۔

محمودالحق

Sunday, May 15, 2011

اختلاف رائے اور ہمارے رویے

0 comments
اسلام ایک ضابطہ حیات ہے جو تا قیامت ہماری رہنمائی کی سند رکھتا ہے ۔ جس پر کوئی اختلاف نہیں ہے ۔ اختلاف تو بعد میں حالات و واقعات میں تبدیلی کے عمل سے پیدا ہونے والی صورتحال سے ہم آہنگی اختیار کرنے کی وجہ سے ہے۔ہمارے حالات بدل گئے ۔ غلامی کے دور گزر گئے ۔ غلام ہندوستان میں بھی یہی اختلاف رائے کبھی مسلکی تو کبھی نظریاتی انداز میں بھرپور نظر آتا ہے کہ کون کون پاکستان کے قیام کے حق میں نہیں تھے ۔ ایک نامور کانگرسی مسلما ن ابوالکلام آزاد بھی تو ایک آزاد اسلامی ملک کی مخالفت میں ہمیشہ کمر بستہ رہے ۔دوسری طرف ایک جدید تعلیم سے آراستہ محمد علی جناح نے بغیر کسی مالی فائدہ کے حصول کےاپنی بہن کے ساتھ ساری زندگی اس ملک کی ایک اقلیت کے حقوق کی حفاظت میں صرف کر دی ۔ جب انہیں قائد اعظم کے خطاب سے بھی نوازا گیا ۔ تو کافر اعظم کہنے والے فتوی دینے میں اپنا حق محفوظ رکھتے تھے ۔ علامہ اقبال کے اشعار ڈاکٹر اسرار احمد سے لیکر ڈاکٹر طاہرالقادری تک قران کی تفسیر بیان کرتے ہوئے سمجھانے کے لئے آسانی پیدا کرنے کے لئے بیان کرتے رہے ہیں ۔ شکوہ لکھنے پر ان پر بھی فتوی لگے تھے ۔اور جواب شکوہ لکھنے پر جوش صاحب کا یہ کہنا تھا کہ وہ اپنے مقام سے گر گئے ۔
جو بات قرآن و سنت سے مطابقت نہ رکھتی ہو پر اختلاف کی بجائے جو قرآن و سنت کے منافی ہو اس پر اختلاف تو ایک طرف اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکنا چاہئے ۔
ایوب خان نے اسلام میں طے شدہ عائلی قوانین ہی تبدیل کر دیے ۔ چند سال پہلے پینتیس چالیس سال پرانے یہ ایوب دور کے عائلی قوانین شریعت کورٹ نے منسوخ کر دئے ۔ ماسوائے ایک کے " اگر بیٹا باپ سے پہلے وفات پا جائے تو اس کی اولاد اپنے دادا کی وفات کے بعد جائداد میں وراثت کی حقدار ہو گی "۔کیونکہ وہ حالات کی وجہ سے ایسے اقدام کا متقاضی تھا ۔ حالانکہ دین اسلام میں پوتا دادا کی وراثت کا حق نہیں رکھتا اور واضح ہے۔
اس کے علاوہ بے شمار معاشرتی رسمیں ایسی ہیں جن کا دین اسلام سے دور دور کا بھی واسطہ نہیں ۔ ان پر کوئی قدغن نہیں ۔ بسنت تو ہندوانہ تہوار ہے مگرکراچی سے لیکر پشاور تک گلی محلوں میں انڈین فلمیں اورگانے جائز ہیں ۔ گھر گھر کیبل نیٹ ورک ہر انڈین چینل دو سو روپوں میں دستیاب ہے ۔ دوسروں کے گھروں میں پتھر پھنکنے سے پہلے خود کے گھر کا تو جائزہ لینا ہو گا ۔ ہم کس پتھر کے گھر میں رہتے ہیں ۔
اختلاف رائے رکھنا کوئی بری بات نہیں ۔ مگر بحث برائے بحث اور تنقید برائے تنقید کے لئے میں نہ مانوں کی رٹ کم از کم میرے نزدیک تو کوئی صحت مند دلیل نہیں ہے ۔
ہر شخص کا اپنا نقطہ نظر ہے ۔ جو وہ اپنی پسند سے اختیار کرتا ہے ۔کتنے لوگ ہیں جو ہر دو موقف کو جاننے کے بعد کسی نتیجہ پہنچے ۔ ہمارے ہاں سیاست اور کاروبار کی طرح دینی افہام زیادہ تر موروثی ہوتا ہے ۔ بریلویوں کے گھر بریلوی سپوت اور دیوبندیوں کے گھر دیوبندی سپوت ہی پیدا ہوتے ہیں ۔ جیسے بنگالیوں کے گھر بنگالی پیدا ہوئے تھے ۔ اب پنجابیوں کے گھر پنجابی اور پٹھانوں کے گھر پٹھان ۔ اردو سپیکنگ بھی اس میں شامل ہیں ۔
دعوی تو سبھی یہی کرتے ہیں کہ ہم بگاڑ ٹھیک کر کے سدھار رہے ہیں ۔ معاشرہ اختلاف اور تنقید سے نہیں اخلاق و اخلاص اور برداشت سے تبدیلی کے عمل سے گزرتا ہے ۔ جو آج کل کہیں بھی دیکھنے کو نہیں ملتی ۔ تحسین و پزیرائی جب تک ملتی رہے تو واہ واہ اگر کبھی غلطی سے آئینہ دکھا دیں تو تو کون ۔ جیسے جنہیں بیوی ناپسند ہو تو اس کا بنایا ذائقہ دار کھانا بھی شدید نا پسند ہوتا ہے ۔
سب سے آسان کام تنقید ہی ہے ۔ جس کے لئے نہ تو تعلیم کی ضرورت ہے نہ شعور کی اور عقل تو سرے سے چاہئے ہی نہیں ۔ تنقید کو صرف تنقید ہی کہنا شائد صحیح نہ ہو ۔ کیونکہ یہ بھی دو طرح کے رحجانات رکھتی ہے یعنی مثبت اور منفی ۔ مثبت تنقید کسی میں پائی جانے والی خامی کو دور کرنے کی نیت سے بھی کی جا سکتی ہے ۔ اور اپنے نظریہ کی سچائی کے لئے بھی ۔ مگر اگر تنقید نظریات یا موقف کی ترجمانی کی بجائے ذات کی خامیوں پر آگ برسائے تو نقصان خود کا ہوتا ہے ۔ کیونکہ وہ برداشت کی سرحد پار کروا دیتی ہے ۔ اور عدم برداشت کا مادہ بہنے سے انسان اپنے قد سے بہت چھوٹا ہو جاتا ہے ۔ کئی ضرب المثل ہمیں یاد رہتی ہیں ۔ بڑی ہستیوں کےاقوال سنہری حروف میں لکھتے ہیں ۔ لیکن جب انہیں استعمال کرنے کا وقت خود پہ آتا ہے تو کئی توجیحات نکال لی جاتی ہیں ۔ ہم کبھی غور ہی نہیں کرتے ہم زندہ کیسے رہتے ہیں ۔ ہماری عقل یا ہمارا شعور جنہیں معتبر بنا لیتا ہے ۔ وہ انا اور تکبر بن جاتے ہیں ۔ انہیں پارسائی کے اس مقام تک پہنچا دیتے ہیں ۔ کہ ان پر انگلی اٹھانا معیوب ہی نہیں گناہ کے تصور میں ڈھال دیا جاتا ہے ۔
ایک مثال سے کچھ کہنا چاہوں گا ۔ کائنات کی ہر شے میں ہمارے سمجھنے کے لئے پیغام ضرور ہے ۔ہزاروں لاکھوں شہد کی مکھیاں ایک ایک ملکہ کی زیر کمان پھول پھول سے رس لے کر چھتہ کو بھگوتی رہتی ہیں ۔ ہر موسم میں کھلنے والے پھولوں کی تاثیر بھی شہد میں اتر آتی ہے ۔ جو انسانی صحت کے لئے نہایت کارآمد اور صحت بخش ہے ۔ ہر چھتہ کی ملکہ الگ ضرور ہے مگر کام ایک ہی ہے ۔ پھولوں کی عرق ریزی سے شہد بنانا ۔ وہ قانون قدرت پر عمل پیرا تھیں ۔ ہم نے مصنوعی انداز میں شہد کے حصول کو ممکن بنایا ۔ مکھیاں پال کر شکر کے شیرے سےشہد کا حصول ممکن کر دکھایا ۔ نہ تو مکھیوں کی فطرت بدلی اور نہ ہی کام ۔ مگر انجام ضرور بدل گیا ۔ چاروں موسموں کے پھولوں کے اثرات سے لبریز صحت بخش شہد کی بجائے کماد سے شکر ، شکر سے شہد تک کا مرحلہ ایسے ہی طے ہوا جیسے کماد سے فیکٹری میں چینی تیار کی جاتی ہے ۔ دیکھنے میں تو وہ شہد ہی ہو گا مگر چکھنے میں چینی جیسی مٹھاس ہی رکھتا ہے ۔ مگر اثر شہد جیسا نہیں !!!!!!!!

تحریر : محمودالحق

اختلاف رائے اور ہمارے رویے

0 comments
اسلام ایک ضابطہ حیات ہے جو تا قیامت ہماری رہنمائی کی سند رکھتا ہے ۔ جس پر کوئی اختلاف نہیں ہے ۔ اختلاف تو بعد میں حالات و واقعات میں تبدیلی کے عمل سے پیدا ہونے والی صورتحال سے ہم آہنگی اختیار کرنے کی وجہ سے ہے۔ہمارے حالات بدل گئے ۔ غلامی کے دور گزر گئے ۔ غلام ہندوستان میں بھی یہی اختلاف رائے کبھی مسلکی تو کبھی نظریاتی انداز میں بھرپور نظر آتا ہے کہ کون کون پاکستان کے قیام کے حق میں نہیں تھے ۔ ایک نامور کانگرسی مسلما ن ابوالکلام آزاد بھی تو ایک آزاد اسلامی ملک کی مخالفت میں ہمیشہ کمر بستہ رہے ۔دوسری طرف ایک جدید تعلیم سے آراستہ محمد علی جناح نے بغیر کسی مالی فائدہ کے حصول کےاپنی بہن کے ساتھ ساری زندگی اس ملک کی ایک اقلیت کے حقوق کی حفاظت میں صرف کر دی ۔ جب انہیں قائد اعظم کے خطاب سے بھی نوازا گیا ۔ تو کافر اعظم کہنے والے فتوی دینے میں اپنا حق محفوظ رکھتے تھے ۔ علامہ اقبال کے اشعار ڈاکٹر اسرار احمد سے لیکر ڈاکٹر طاہرالقادری تک قران کی تفسیر بیان کرتے ہوئے سمجھانے کے لئے آسانی پیدا کرنے کے لئے بیان کرتے رہے ہیں ۔ شکوہ لکھنے پر ان پر بھی فتوی لگے تھے ۔اور جواب شکوہ لکھنے پر جوش صاحب کا یہ کہنا تھا کہ وہ اپنے مقام سے گر گئے ۔
جو بات قرآن و سنت سے مطابقت نہ رکھتی ہو پر اختلاف کی بجائے جو قرآن و سنت کے منافی ہو اس پر اختلاف تو ایک طرف اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکنا چاہئے ۔
ایوب خان نے اسلام میں طے شدہ عائلی قوانین ہی تبدیل کر دیے ۔ چند سال پہلے پینتیس چالیس سال پرانے یہ ایوب دور کے عائلی قوانین شریعت کورٹ نے منسوخ کر دئے ۔ ماسوائے ایک کے " اگر بیٹا باپ سے پہلے وفات پا جائے تو اس کی اولاد اپنے دادا کی وفات کے بعد جائداد میں وراثت کی حقدار ہو گی "۔کیونکہ وہ حالات کی وجہ سے ایسے اقدام کا متقاضی تھا ۔ حالانکہ دین اسلام میں پوتا دادا کی وراثت کا حق نہیں رکھتا اور واضح ہے۔
اس کے علاوہ بے شمار معاشرتی رسمیں ایسی ہیں جن کا دین اسلام سے دور دور کا بھی واسطہ نہیں ۔ ان پر کوئی قدغن نہیں ۔ بسنت تو ہندوانہ تہوار ہے مگرکراچی سے لیکر پشاور تک گلی محلوں میں انڈین فلمیں اورگانے جائز ہیں ۔ گھر گھر کیبل نیٹ ورک ہر انڈین چینل دو سو روپوں میں دستیاب ہے ۔ دوسروں کے گھروں میں پتھر پھنکنے سے پہلے خود کے گھر کا تو جائزہ لینا ہو گا ۔ ہم کس پتھر کے گھر میں رہتے ہیں ۔
اختلاف رائے رکھنا کوئی بری بات نہیں ۔ مگر بحث برائے بحث اور تنقید برائے تنقید کے لئے میں نہ مانوں کی رٹ کم از کم میرے نزدیک تو کوئی صحت مند دلیل نہیں ہے ۔
ہر شخص کا اپنا نقطہ نظر ہے ۔ جو وہ اپنی پسند سے اختیار کرتا ہے ۔کتنے لوگ ہیں جو ہر دو موقف کو جاننے کے بعد کسی نتیجہ پہنچے ۔ ہمارے ہاں سیاست اور کاروبار کی طرح دینی افہام زیادہ تر موروثی ہوتا ہے ۔ بریلویوں کے گھر بریلوی سپوت اور دیوبندیوں کے گھر دیوبندی سپوت ہی پیدا ہوتے ہیں ۔ جیسے بنگالیوں کے گھر بنگالی پیدا ہوئے تھے ۔ اب پنجابیوں کے گھر پنجابی اور پٹھانوں کے گھر پٹھان ۔ اردو سپیکنگ بھی اس میں شامل ہیں ۔
دعوی تو سبھی یہی کرتے ہیں کہ ہم بگاڑ ٹھیک کر کے سدھار رہے ہیں ۔ معاشرہ اختلاف اور تنقید سے نہیں اخلاق و اخلاص اور برداشت سے تبدیلی کے عمل سے گزرتا ہے ۔ جو آج کل کہیں بھی دیکھنے کو نہیں ملتی ۔ تحسین و پزیرائی جب تک ملتی رہے تو واہ واہ اگر کبھی غلطی سے آئینہ دکھا دیں تو تو کون ۔ جیسے جنہیں بیوی ناپسند ہو تو اس کا بنایا ذائقہ دار کھانا بھی شدید نا پسند ہوتا ہے ۔
سب سے آسان کام تنقید ہی ہے ۔ جس کے لئے نہ تو تعلیم کی ضرورت ہے نہ شعور کی اور عقل تو سرے سے چاہئے ہی نہیں ۔ تنقید کو صرف تنقید ہی کہنا شائد صحیح نہ ہو ۔ کیونکہ یہ بھی دو طرح کے رحجانات رکھتی ہے یعنی مثبت اور منفی ۔ مثبت تنقید کسی میں پائی جانے والی خامی کو دور کرنے کی نیت سے بھی کی جا سکتی ہے ۔ اور اپنے نظریہ کی سچائی کے لئے بھی ۔ مگر اگر تنقید نظریات یا موقف کی ترجمانی کی بجائے ذات کی خامیوں پر آگ برسائے تو نقصان خود کا ہوتا ہے ۔ کیونکہ وہ برداشت کی سرحد پار کروا دیتی ہے ۔ اور عدم برداشت کا مادہ بہنے سے انسان اپنے قد سے بہت چھوٹا ہو جاتا ہے ۔ کئی ضرب المثل ہمیں یاد رہتی ہیں ۔ بڑی ہستیوں کےاقوال سنہری حروف میں لکھتے ہیں ۔ لیکن جب انہیں استعمال کرنے کا وقت خود پہ آتا ہے تو کئی توجیحات نکال لی جاتی ہیں ۔ ہم کبھی غور ہی نہیں کرتے ہم زندہ کیسے رہتے ہیں ۔ ہماری عقل یا ہمارا شعور جنہیں معتبر بنا لیتا ہے ۔ وہ انا اور تکبر بن جاتے ہیں ۔ انہیں پارسائی کے اس مقام تک پہنچا دیتے ہیں ۔ کہ ان پر انگلی اٹھانا معیوب ہی نہیں گناہ کے تصور میں ڈھال دیا جاتا ہے ۔
ایک مثال سے کچھ کہنا چاہوں گا ۔ کائنات کی ہر شے میں ہمارے سمجھنے کے لئے پیغام ضرور ہے ۔ہزاروں لاکھوں شہد کی مکھیاں ایک ایک ملکہ کی زیر کمان پھول پھول سے رس لے کر چھتہ کو بھگوتی رہتی ہیں ۔ ہر موسم میں کھلنے والے پھولوں کی تاثیر بھی شہد میں اتر آتی ہے ۔ جو انسانی صحت کے لئے نہایت کارآمد اور صحت بخش ہے ۔ ہر چھتہ کی ملکہ الگ ضرور ہے مگر کام ایک ہی ہے ۔ پھولوں کی عرق ریزی سے شہد بنانا ۔ وہ قانون قدرت پر عمل پیرا تھیں ۔ ہم نے مصنوعی انداز میں شہد کے حصول کو ممکن بنایا ۔ مکھیاں پال کر شکر کے شیرے سےشہد کا حصول ممکن کر دکھایا ۔ نہ تو مکھیوں کی فطرت بدلی اور نہ ہی کام ۔ مگر انجام ضرور بدل گیا ۔ چاروں موسموں کے پھولوں کے اثرات سے لبریز صحت بخش شہد کی بجائے کماد سے شکر ، شکر سے شہد تک کا مرحلہ ایسے ہی طے ہوا جیسے کماد سے فیکٹری میں چینی تیار کی جاتی ہے ۔ دیکھنے میں تو وہ شہد ہی ہو گا مگر چکھنے میں چینی جیسی مٹھاس ہی رکھتا ہے ۔ مگر اثر شہد جیسا نہیں !!!!!!!!

تحریر : محمودالحق

Saturday, March 26, 2011

پروانے شمع سے جلتے ہیں

2 comments
تحریر ! محمودالحق
میری تحاریر پر بعض اوقات یہ اعتراض سامنے آتاہے کہ مشکل مفہوم کے ساتھ پیچیدہ طرز تحریر اختیار کرتا ہوں ۔ جسے پڑھنے پر بعض اوقات ایسے جوابات سے بھی نوازا جاتا ہے " پیچ در پیچ اتنی پیچیدہ تحریر واللہ بندہ سمجھنے کے چکر میں پیچاں پیچ ہوجائے " ۔ اگراس کے ساتھ نصیحت بھی ہو تو مشورہ مفت دل بے رحم سے کم نہیں ہوتا ۔ اسی لئے اپنی تمام مصروفیات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک بار پھر لکھنے پر کمر بستہ ہوں ۔ اب اگر شکوہ نہ جائے تو ہمیں ضرور توبہ کرنی چاہئے قاری کو پڑھنے سے اور مجھے ایسی سوچ رکھنے پر ۔
کیونکہ میرے سیاسی عزائم نہ ہونے کے برابر ہیں ۔ نا عاقبت اندیشی سیاست میں کسی کام کی نہیں ۔ سیاستدان ہمارے کسی کام کے نہیں ۔ اب اگر ذوالفقار علی بھٹو بحیثیت سیاستدان یا وزیراعظم مجھے پسند ہے تو اس کی خاص وجہ یہ کہ زندگی میں ایک بار بغیر امتحان دئیے ساتویں سےآٹھویں جماعت میں پہنچ گئے تھے ۔کیونکہ نو ستارے مل کر الیکشن میں اپنے انتخابی نشان ہل جو کہ کسان کی محنت اور قوت کی غمازی ہے کے بل پر بھی ملک میں جمہوریت کی کھڑی فصل کو نہ بچا سکے ۔ اور بھٹو اپنی جان کو ۔
حکمرانی جیل کی سلاخوں کے پیچھے چلی گئی اور اپوزیشن نئی حکومت کے پیچھے کے دروازے پر ۔ دونوں کو آخر کیا ملا ۔ ایک کو موت تو دوسری اپنی موت آپ مر گئی ۔ کیونکہ وہ آج بھی صرف ایک اپوزیشن کا ہی کردار نبھانے میں ماہر سمجھی جاتی ہے ۔جسے عوامی اعتبار حاصل کبھی نہیں ہوا ۔ لیکن امید بھی ختم نہیں ہوئی ۔علامہ اقبال کے اس شعر پر ابھی تک کامل یقین رکھتے ہیں کہ زرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی ۔
مٹی زرخیز ہو بھی تو کیا ۔ہل چلانے والے ہی انجان اور نا تجربہ کار ہوں ۔ بنا محنت کے ہی فصل کاٹنے کے لئے بیتابی مہماناں کو جاناں تصور بنا کر رکھتے ہوں تو ایک کیا صدیاں تو تین بھی نا کافی ہوں گی ۔ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں ہو ۔ تو پھر ہاتھی میرا ساتھی نہیں ہوتا ۔
ان میں سے ہی بعض تو ایسے قد کاٹھ رکھنے والے قائد تھے ۔ کہ دل جلے پھبتی کستے کہ پوری پارٹی ایک ہی تانگہ پر پوری بیٹھ سکتی ہے ۔ اب بھلا تانگہ پر بیٹھ کر ایوان تجارت تک جانے کا راستہ نہیں رہا تو ایوان صدارت تک تو کجا مشکل ہی نہیں نا ممکن ہے ۔ اسلام آباد میں کئی بار اس راستے سے گزر کر قیاس کیا کہ کیسے یہاں تک پہنچنا آسان ہو سکتا ہے ۔ لیکن جہاں سے گزرنا میرا تھا وہاں سے تو روزانہ ہزاروں لوگوں کا گزرنا رہتا ہے ۔پھر ایک خیال دل میں آیا کہ جسے ہم اندر جانے کا راستہ سمجھتے ہیں دراصل وہ باہر آنے کا راستہ ہے ۔ اندر جانے کے لئے کسی دروازے کی نہیں ایک گہری سرنگ کی ضرورت ہوتی ہے ۔ نکلتی کہاں سے ہے کسی کو معلوم نہیں ۔ جاتی کہاں ہے سب ہی جانتے ہیں ۔
حیدرآباد میں کوئلہ کی کانوں میں جو سرنگیں مجھے دکھائی گئی تھیں ۔ وہ تو ایک ہی کنویں سے چاروں اطراف پھیل جاتی تھیں اور کوئلہ نکال نکال کر اس کنویں سے باہر لایا جاتا اور ضرورت مندوں تک پہنچا بھی دیا جاتا ۔ لیکن یہ فارمولہ ہر جگہ اپلائی نہیں ہوتا ۔ضرورت مند تو وہ بھی بہت تھے جن کے گھروں پر سویت یونین نے یلغار کی تھی ۔ اور وہ خیمہ بستیوں میں پناہ لئے بارڈر کے اس طرف خیموں میں کسمپرسی کی زندگی گزار رہے تھے ۔ اور ان کے لئے بھیجا گیا ہالینڈ کا اعلی گھی ان کے ہاتھوں سے صرف پانچ سو میل دور شہروں میں دوکانوں کے باہر ڈھیر کی صورت سستے داموں بیچنے کے لئے موجود تھا ۔ ایسا ولائتی گھی دیہات میں گھروں میں نکالے جانے والے دیسی گھی کو بھی پیچھے چھوڑ گیا ۔ کالج یونیورسٹیز میں مجاہد عام دیکھے جا سکتے تھے ۔ نوجوانوں میں کمانڈو جیکٹ کا شوق دیدنی تھا ۔ بعض نے تحقیق پر پتہ چلایا کہ لنڈے بازار سے دو سو پاکستانی روپے میں امریکن کمانڈو جیکٹ دستیاب ہے ۔ مقصد کتنا بھی عظیم کیوں نہ ہو جب نیت میں کھوٹ ہو وہ مراد بر نہیں آتی ۔
صرف جیکٹ یا یونیفارم پہن لینے سے ہر ڈیوٹی پوری نہیں ہوتی اور نہ کوئی ڈگری ہاتھ لگتی ہے ۔ یہ وہ زمانہ تھا جب نکاح کا کاغذ بیوی کے ساتھ رکھنا ضروری تھا ۔ ڈیوٹی ادا کرنے والے نانی تک یاد کروا دیتے تھے ۔ کیونکہ شوہر و بیوی کو اپنا نکاح سچ ثابت کرنے کے لئے الگ الگ عزیز رشتہ داروں کے نام بتانے پر جان چھوٹنے کا سرٹیفیکیٹ جاری ہوتا ۔
وقت ا ور حالات کبھی یکساں نہیں رہتے ۔ ترجیحات بدلتی رہتی ہیں ۔ منہ سونگھنے سے بھی کئی دفعات نافذالعمل ہوجاتی تھیں ۔بعد کا ایک وقت وہ بھی گزرا جب سونگھنا ایک اچھا فعل نہیں مانا جاتا تھا ۔ کیونکہ یہ آزادی حق کلام سے ہاتھ دھونے کے مترادف سمجھا جاتا تھا ۔ کیونکہ صرف بات کرنے سے ذہنی فتور کےپکڑے جانے کا اندیشہ تھا ۔
لیکن جن کے بات کہنے سے پوری قوم کی نمائندہ اسمبلی گھر وں کو روانہ ہو گئی ۔ انہیں صرف اتنی تنقید کا سامنا رہا کہ جو منہ سے بادام نہیں توڑ سکتے انہوں نے اسی منہ سے اسمبلی توڑ دی ۔ لیکن ذہنی فتور پکڑنے کا کسی کو خیال کبھی نہیں آیا ۔خیال تو ان سیاسی بازیگروں کو بھی نہیں آیا جب مینار پاکستان پر جلسہ غیر منتخب حکمرانوں کا ہو بسیں بھر بھر سرکاری ملازم لائیں جائیں ۔ اور جھنڈے اُٹھائے ان کے پارٹی ورکر اپنے اپنے قائدین کے وزیراعظم ہونے کا خود ہی ڈھنڈورا پیٹتے رہیں ۔ وہ یہ جانتے ہیں کہ جو پٹتے ہیں وہ قائدین کی صفوں میں شامل نہیں ہو سکتے ۔ کیونکہ قائد وہ ہوتا ہے جو پٹوا سکے نہ کہ خود پٹتا پھرے ۔ تاریخ شاہد ہے صرف ہماری کہ جن کے سر پھٹے وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے"روز ہوتا ہے ایک نیا تماشا میری نظروں کے سامنے " دیکھتے رہے ۔
مصر تیونس میں سر تو ضرور پھٹے جانیں بھی گنوائی گئیں مگر آنکھیں پوری کھل چکی ہیں ۔ اب لیبیا اور اس کے بعد شام میں پھٹی پھٹی آنکھوں سے حکمران "روز ہوتا ہے ایک نیا تماشا میری نظروں کے سامنے " دیکھ رہے ہیں ۔ امیدیں تو کچھ مہربانوں کو یہاں بھی ہیں ۔ عوام نے کئی بار نئی امید سے کبھی ایک کبھی دوسرے کو کندھوں پر بھٹا کر سر کا تاج بنایا ۔ مگر وہ تاج ور نہ بن سکے ۔ محتاج ہی رہے امداد کے ، سہارے کے ۔
جو حکمران خود محتاج ہوں ۔عوام سے ووٹوں کی بھیک مانگ کر ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف سے بھیک مانگنے کے اہل ہوئے ہوں ۔ ایسے اخلاقی طور پر مرے ہوئے دوبارہ مرنے کی اہلیت نہیں رکھتے ۔
جن کے پاس انقلاب کے ارادے ہیں ۔ ان کے پاس عوام نہیں ۔ جن کے پاس عوام ہیں انہیں سوچنے کی فرصت نہیں ۔سالہا سال وہ جلا وطنی کے دور میں تنہا سوچ سوچ کر اب کسی نئی سوچ کے متحمل نہیں ہو سکتے ۔
گھر کی مرغی دال برابر کی مثال تو سن رکھی ہے ۔ مگر ملک میں لیڈر بھی مرغ برابر ہی رہتا ہے ۔ جو وقت بے وقت ہڑتال ، ریلی کی بانگ دیتا رہتا ہے ۔
قوم کی ہمدردی کی عرق ریزی وہ کامیابی سے کرتے ہیں جو جلا وطن ہوں چاہے خود ساختہ ہی کیوں نہ ہوں ۔ اس بات پر یقین کرنے کے علاوہ کیا چارہ ہے ۔ اگر نہیں تو خود ہی دیکھ لیں تین بڑی حکمران پارٹیاں تینوں کے رہنما جلا وطن ہیں یا رہ چکے ہیں ۔
لیڈرجلا وطن ہوتے ہیں توحکمران بنتے ہیں ۔
عوام وطن کو جلا بخشتے ہیں ۔تو جلادوں کے ہاتھوں پٹتے ہیں ۔جیسے پروانے شمع سے جلتے ہیں ۔

Saturday, March 19, 2011

تیرا دل تو ہےصنم آشنا

3 comments
کافی دنوں کے بعد آج مزاج کچھ ہشاش بشاش ہے ۔ اب امید پیدا ہو ئی کہ عنقریب خوش باش بھی ہو گا ۔ پر باش تو روز ہی رہتا ہے ۔ا مارت کا ابھی دور شروع نہیں ہوا مگر بیماری ء امراء کا آغاز ہو چکا ہے ۔کیونکہ بہت سی ڈشیں مجھے پسند نہیں اور جو پسند ہیں وہ ڈاکٹر کو پسند نہیں ۔ بچی کھچی اب معدہ پسند نہیں کرتا ۔
ایک زمانہ تھا تندور سے روٹی منگواتے تو پانی بھری دال چنے منہ کا ذائقہ بدلنے کو منہ چڑانے کو آتی ۔ یہ اتنی خوشی بھرپور کھانا تناول فرمانے کی خوشی میں نہیں ہے ۔ بلکہ سکون جان سے آئی ہے ۔ خوش آمدی کلمات کہتے کہتے چہرے پر تو خوشی امڈ آتی ہے مگر دل کی ویرانی ہے کہ بڑھتی جا تی ہے ۔روکنا چاہتے ہیں مگر خود میں جھانکنے سے ایک آواز دستک پہ دستک دیتی ہے کہ
تیرا دل تو ہے صنم آشنا
صنم کا تصور اتنا بڑ اہے کہ بہت چھوٹا ہو جاتا ہوں ۔جو مجھ سے دور تھے میں آج ان کے قریب نہیں ۔
عجب کھیل ہے اس زندگی کے کھیل کا ۔کھیلتے ہیں اور کھلاڑی بھی نہیں ۔جہاں ہار جیت کا ٹاس ہے کھیل کے آغاز کا نہیں ۔بہت سی باتیں ایک ساتھ کرنے سے بوجھل نہ ہو جائیں ۔ جو کہنا چاہتا ہوں درحقیقت انہیں سمجھنا چاہتا ہوں ۔ کہ محبوب کے ہاتھ میں دل دیا تو عاشق کہلائے ۔ دل میں ہی محبوب بسائے تو دیوانہ کیوں کہلائے ۔
عجب زندگی کی رت ہے بے چین دن تو پرسکون رات ہے ۔ جاگنے میں اذیت تو سونے میں عافیت ہے ۔زخم بھی اپنے کانٹے بھی اپنے ۔مرہم بھی اپنا مسیحائی بھی اپنی ۔ غیر صرف وہ جو ہرجائی ہے ۔ کس توسط سے بلاؤں کہ آؤ تمہیں محبوب اپنے سے ملاؤں ۔ چاہت اس کی گمنام ہے ۔زندگی ہی جس کا انعام ہے ۔
ڈھونڈتا انہیں جو اپنی تلاش جستجو میں ۔
عشق کہنے کا ،محبت جوانی کی ، سوز نگر میں تصویر بشر کا حسن جمال ۔
خیال حسن کی پزیرائی ، دلکشی بھی اور رعنائی ، ڈھونڈنا اپنے لئے ،پانا تسکین وفا ، کھونا ملال و آہ ۔
وہ وقت بھی آئے گا جو یہ سمجھائے گا ۔ راستے خود سے ہیں جدا ۔ تلاش اختیار میں نہیں ۔اختیار کی تلاش ہے ۔
زندگی کو نہ یوں پڑھا ہوتا ۔ خواہشوں سے نہ جھگڑا ہوتا ۔آرزو میں لپٹا کفن لمس احساس میں نہ ڈوبا ہوتا ۔ تو ہزاروں خواہشوں پہ نہ اتنا دم نکلا ہوتا ۔

Saturday, March 12, 2011

کالج سے شادی کی " تیاری " تک

0 comments
آج پھر وہ آئینے میں اپنے آپ کو بار بار دیکھ کر خود پہ فریفتہ جا رہا تھا ۔ تو ماں جی کی بلند آواز میں دی جانے والی تنبیہ کہ آج بھی کالج دیر سے پہنچنے کا ارادہ ہے ۔ تو قربان واری جانے کا پروگرام ادھورا رہ گیا ۔ ایک ہاتھ میں کاپی اور ایک کاپی نما کتاب ، دوسرا ہاتھ جیب میں کچھ ٹٹول رہا تھا ۔ پھٹی جیب کا کیا بھروسہ ویگن کے کرایہ کی رقم ہی راہ چلتے کسی بے فکرے کو تھما دیں ۔ تھمانی تو رقم ہمارے ہاتھ ویگن والوں کو چاہئے کہ بکروں کی طرح ٹھونسا جاتا ہے مگر اُف تک نہیں کہتے ۔بس سٹاپ تک تمام دوست اکھٹے رہتے ۔ پھر بکرے الگ الگ بن کر کلاس روم تک پہنچتے ۔ اب تو ٹیچر بھی یہ کہنا چھوڑ گئے کہ کس سے لڑ جھگڑ کر آئے ہو ۔ کیونکہ آدھی قمیض کا پتلون سے باہر رہنا معمول کا پہناوہ بن چکا ہے۔ سلوٹیں تو اب ڈیزائن بن چکی ہیں ۔ کئی گارمنٹس کمپنیوں نے کپڑے ہی ایسے بنا دئے ہیں کہ سو کر ہاتھ منہ دھوئے بغیر بھی باہر جھانک لیں ۔ تو پوچھ لیا جاتا ہے کہ کہاں جانے کےپروگرام میں اتنی تیاری ہے ۔
اتنی تیاری صرف امتحانی ہال تک پہنچے میں کی جاتی ہے ۔ پرچہ ہمیں ہمارے حال تک پہنچاتا ہے ۔ پھر گھر میں سبھی پہلے دن کالج جانے کی تیاری میں کی جانے والی تیاری تک پہنچاتے ہیں ۔کہ اب دیکھ لو دیر تک آئینہ کے سامنے کھڑے ہو کر تیار ہونے کا نتیجہ ۔ نتیجہ والے دن لمبی قطار میں کھڑے خوشیوں کے قہقہوں میں دبی دبی گلے سے نکلتی آواز بیماری کی علامات کی تیاری میں ہوتی ہے ۔ کئی بار ایسی علامات ظاہر ہوئیں مگر بیماری بننے سے پہلے ہی رفو چکر ہو گئیں ۔ اب اگر ہاتھ میں لئے ڈگری کو انتہائی کم نمبروں سے رفو کیا ہو ۔ ملازمت کے لئے جگہ جگہ چکر لگانے سے آخر بھوک میں چکر آ جاتے ہیں ۔ تھک ہار کر گلی کی نکڑ پر شاہیں کا بسیرا رہتا ۔
گلیاں آنے جانے والوں کے لئے راستہ ہوتی ۔ مگر کچھ کے نزدیک وہ صرف چکر لگانے کے کام آتی ہیں ۔ کھلی کھڑکیوں سے کھلی ہوا کے آنے جانے میں کوئی رکاوٹ تو نہیں ۔ یہ دیکھنے بار بار ان گلیوں میں چکر لگاتے ہیں ۔ اپنے گھر میں والدین کھانس کھانس کر بے حال ہو جائیں ۔ حالات خراب ہیں کہ کر کھڑکیاں دروازے بند رکھوائے جاتے ہیں ۔ انہی حالات کی کارستانی کی وجہ سے اکثر کالجز کے باہر لڑکوں کا رش رہتا ہے ۔ اپنے کالج سے بھاگنے کو جی چاہتا اور دوسرے کالج میں جھانکنے کو ۔ آنکھیں عقاب کی طرح چوکس رہتی ۔ مست حال شکار پر جھپٹنے کے لئے ۔
نظر کی کمزوری کے شکار بزرگوں کو نیچی نظروں میں گزرتے نوجوان سعادت مندی کی معراج پر نظر آتے ۔ رضا مندی کے لئے سیل فون پرٹیکسٹ میسجنگ کے لئے نظروں کا نیچا رکھنا ضروری ہوتا ہے ۔ نظریں اُ ٹھا کر چلنا اب صرف محاورہ کی طرح رہ گیا ہے ۔ محاورہ اگر نہیں بھی ہو گا تو بن جائے گا ۔
سیل فون پر نظریں ایسی جمتی ہیں جیسی کسی زمانے میں پرس میں رکھی تصویر پر یار لوگوں کی رہتی تھیں ۔سیل فون میں خامیاں کئی مگر ویسے سہولت تو ہے ۔ کہاں ہو ؟ کیا کر رہےہو ؟ گھر سےنکلے کہ نہیں ؟ کب تک پہنچو گے ؟
شادی بیاہ میں تو اپنے گھر والے ڈھونڈے سے نہیں ملتے تھے ۔ عزیز رشتہ داروں سے پوچھتے کہ خالہ امی تو نہیں دیکھی آپ نے ۔ تتلی ! پری کو دیکھا کیا ۔باجی کو بتاؤ گڑیا کی مہندی لگانے والی آ چکی ہیں ۔ ابا کو ڈھونڈتے پھرتے دیگ پکانے والا سامان مانگ رہا ہے ۔
اب تو اور بھی سہولت ہے ۔گھر والے ڈھونڈنے نہیں پڑتے بلکہ شادی ہال پہنچ کر مہمان فون پر پوچھتے ہیں ۔ کہاں ہو تم دولہے میاں ۔
بیوٹی پارلر سے آدھے گھنٹے میں بس فارغ سمجھو ۔ابھی پہنچے کہ پہنچے چاہے آنے میں گھنٹہ لگے ۔
بھئی اگر تمہارے پہنچے میں دیر ہے تو انتظار کرنے والوں کو تو ایک ایک کھجور ہی تھما دو ۔لیکن رواج کے مطابق نکاح کے بعد ہی ٹوفیاں گولیاں میٹھی سونف اور پرانے خشک چھوہارے حلق سے نیچے اتار پاؤ گے ۔ کھانا کھلنے پر پہلے آئیے پہلے پائیے کا اصول کارفرما ہوتا ہے ۔ چمچ کانٹے سے لیس پلیٹ کھانے کی سستی میں سستانے کی قائل نہیں ہوتی اس لئے ایک بار ہی گولہ بارود" گول بارعب بوٹیوں " سے بھر لیا جائے تو اچھا ہے ۔
کسی نے گھر جہیز سے بھر لیا، جیب نوٹوں سے بھر لی ۔ گھر کے کام کاج میں ایک سپاہی اور بھرتی کر لی ۔
اور تجھے اعتراض صرف مہمانوں کی پلیٹ بھرنے پر واہ تیرے لکھنے پر قربان جائیں !!!!!
میرے لکھنے پر واہ واہ نہ بھی کریں تو کیا ۔ارادہ کر لیں کہ کالج کے لئے آئینہ کے سامنے تیار ہو کر نکلنےسے لے کر بیوٹی پارلر میں تیار ہونے تک کسی ایک اپنی قربانی پر خود ہی قربان ہو جائیں تو واہ واہ ہو جائے ۔

Saturday, March 5, 2011

بوڑھے کی لاٹھی - 4

4 comments
باپ بیٹے کی ایک سچی کہانی
باپ کے بڑھاپے کی جوان بیٹا جب لاٹھی بنا۔

آخری حصہ
نہ جانے اس قلب میں ایسی کیا خوبی ہے۔ کہ وہ کسی کا محتاج نہیں۔ اپنی ہی ریاست کا خود بادشاہ ہے۔ اسے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ دماغ کے خلئے کام کرتے ہیں یا نہیں۔ وہ اس کے حکم کا محتاج نہیں ہے۔صبح شام اپنی ایک ہی رفتار سے اپنے آقا روح کی موجودگی کا بگل بجاتا رہتا ہے۔ اسے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اس ہی کی طرح کے دوسروں کے سینوں میں بگل بجانے والے کس حال میں ہیں۔ اسے صرف اپنے حال ہی کا فکر ہے۔ جو دوسروں کے متعلق جاننے والا تھا ۔وہ خود اپنے آپ سے چھوٹ رہا تھا ۔کمانڈ اور اتھارٹی کا نرالا امتزاج ہے ۔ایک جسم تو دوسرا روح کی کمانڈ کرتا ہے ۔دونوں میں سے جس کی کمانڈ ختم ہو جائے۔ تو مکمل سکوت طاری ہو جاتا ۔لیکن یہاں ایک بات تو طے ہے۔قلب کو دماغ پر فوقیت ہے۔ کیونکہ اباجی کا ایک نظام تو بالکل مفلوج ہو چکا تھا ۔مگر قلب کی کمانڈ اور اتھارٹی مکمل موجود تھی ۔اگر قلب کا کنٹرول ختم ہو جائے تو دماغ اپنی کسی طاقت کے بل بوتے پر بھی نہیں بچ سکتا ۔
اسے اب اندازہ ہو چکا تھا کہ ذہن کے بل بوتے پر زندگی جینے والے دراصل کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ زندہ وہی رہتے ہیں جو اپنے قلب کی کمانڈ اور اتھارٹی کو سمجھ لیتے ہیں اوراب اس کے اندر یقین کامل پیدا ہو چکا تھا کہ یہ جسم و دماغ اسی مٹی سے جو بنے ہیں مٹی کی ہی ترغیب رکھتے ہیں ۔
قلب کی طاقت ہی دراصل روح کی طاقت ہے۔ جس کے سامنے دماغ اپنی پوری طاقت کے ساتھ بھی کمزور ہے ۔
اس لئے وہ اباجی کی بیماری کو دماغ سے نہیں قلب سے قبول کرچکا تھا اور اسی قوت کو بروئے کار لا کر اس منزل کا مسافر بننا چاہتا تھا ۔جہاں سفر کرنے والے بدنی مسافر ایک دو ہی پڑاؤ کے بعد لوٹ جاتے ہیں۔ اپنے ماں باپ کی بیماریوں سے اس کے علم میں صرف میڈیسن کے متعلق ہی اضافہ نہیں ہوا ۔بلکہ جسم اور روح کے باہمی تعلق کی گتھیاں بھی کافی سلجھنے لگیں۔ ہر بار وہ کیوں کے سوال پر اٹک جاتا۔ جب تک اسے وہ جواب ملتا ایک نیا کیوں، پھر اس کے سامنے آکر کھڑا ہو جاتا اور پھر کیوں کیوں کی تکرار نے اسے بہت سے سوالوں کے جوابات سے آگاہ کر دیا ۔جو شائد کتابوں سے حاصل کبھی بھی نہ ہو پاتے۔ اس کے ذہن میں یہ تاثر ابھر جاتا کہ کیسے ممکن ہے کہ اس مختصر زندگی میں قرآن پاک کو سمجھ کراللہ تعالی کو پڑھنے سے ہی پالیا جائے ۔کیونکہ خود اس کی اپنی جوانی کے ایام صرف اللہ تعالی کے ایک حکم پر مبنی آیات پر عمل کرنے سے ہی گزر گئی اور مکمل قرآن پاک سمجھنے اور عمل کرنے میں شائد اسے ایک ہزار برس سے بھی زیادہ کاعرصہ درکار ہو گا ۔لیکن پھر بھی وہ مطمعن نہیں تھا ۔تنہائی میں اباجی کے پاؤں پکڑتا اور معافی مانگتا ۔کہ جو کوتاہی اس سے رہ گئی ہو۔ وہ معاف ہو جائے کیونکہ اللہ تعالی نے جس طرح والدین کی خدمت کا حکم دیا ہے۔ شائد وہ اسے پورا نہیں کر پا رہا ہے۔
اپنے ارد گرد دیکھنے پر اس جیسی زندگی کا حامل کوئی بھی انسان نظر نہیں آ رہا تھا ۔بہکنے کے امکانات زیادہ تھے ۔یہی وجہ تھی کہ اس کی جوانی جدید دنیا سے الگ نہیں ہو پا رہی تھی۔ تین بیٹوں کا وہ باپ بن چکا تھا بڑا بیٹا اب سات برس کا ہو چکا تھا ۔اسے ایک بار ایسا کیلنڈر نظر آیا۔ جس پر سورۃ بنی اسرائیل کی وہی آیات تھیں جو والدین کی خدمت کے متعلق تھیں ۔اسے لا کر اس نے انہیں اباجی کے پلنگ کے اوپر لگا دیا ۔تاکہ وہ کہیں بہک نہ جائے۔ کیونکہ اب وہ اس بیماری کے متعلق جان چکا تھا ۔کہ شائد اسے ان حالات کا سامنا اگلے دس پندرہ سال تک بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ اور اللہ تعالی کی مدد کے بغیر یہ سب ناممکن تھا ۔
ابا جی جیسا انسان زندگی کی جنگ ایسے لڑے گا۔ کبھی اس نے سوچا نہ تھا ایک رخ ایسا بھی اس کے سامنے تھا۔ جو ابا جی کے بارے میں احترام کی ایسی بلند عمارت کھڑی کر گیا ۔کہ اسے سوچنے پر مجبور کر دیا جو لوگ زندگی میں نیکی کم کرتے ہیں۔ دنیا کی محبت میں مرتے ہیں۔ وہ شکوہ کیوں زیادہ کرتے ہیں ۔
ایک بار گھر کی بیل بجی تو ایک بوڑھا شخص پوچھنے لگا وکیل صاحب کا گھر یہی ہے۔
جی ہاں ! یہی ہے فرمائیے آنے والے سے اس نے پوچھا ۔
کیا وہ اب ہیں ؟
وہ چونک گیا کہ کیسا سوال ہے ! اس کے استفسار پر آنے والے نے کہا کہ میرا بیس سال پرانا کیس کی تاریخ نکلی ہے اور یہ میرے وکیل تھے اس وقت ان کی عمر ساٹھ سے اوپر تھی اس لئے مجھے خیال ہوا کہ شائد وہ اس دنیا میں نہ ہوں دیہاتی آدمی بہت سادہ ہوتے ہیں جو بات دل میں ہو کہہ دیتے ہیں۔ شائد اس لئے ہوتا ہے کہ وہ پڑھ لکھ کر زندہ رہنے کا مصنوعی ڈھنگ نہیں اپنا پاتے۔
آپ مجھے ایک دو روز دیں۔ آپ کی فائل ڈھونڈ دیتا ہوں ۔نیا وکیل کر لیں اور ان کے بارے صورتحال سے آگاہ کر دیا۔ اس نے ہمدردی اظہار کیا اور چلا گیا ۔
اس نے اباجی کی تمام پرانی فائلوں میں تلاش کاکام شروع کیا۔ تو فائل مل گئی۔ مگر اس کے ساتھ ہی اسے ایسے لیٹر ملے جو ایوب خاں کے مارشل لاء کے ابتدائی دور کے تھے ۔ عوامی لیگ پارٹی کے سربراہ کے دستخطوں سے جاری پارٹی کے لیٹر پیڈ پر بعض لوگوں کوپارٹی فنڈ سے رقم کے اجرا کا کہا گیا تھا ۔جو اس زمانے کے مطابق ایک بڑی رقم تھی۔
جوں جوں وہ ابا جی کے بارے میں سوچتا اس کے دل میں ان کے بارے میں عزت و احترام کا مجسمہ اور بڑا ہو جاتا ۔
اس کی نظروں کے سامنے وہ منظر گھوم جاتا ۔جس کا ذکر ماں جی اکثر کیا کرتی یہ وہی سال ہے ۔جس کے متعلق ماں جی کہتی کہ سیاست کی وجہ سے وکالت متاثر ہوئی تمھارے اباجی کے معاشی حالات بہت برے ہو گئے۔ گھر کا ایک حصہ کرایہ پر دیا گیا ۔تاکہ کچن چلایا جا سکے ۔مگر یہ پارٹی کے سربراہ کے دستخطوں سے جاری لیٹر کوئی اور کہانی بیان کر رہے تھے۔ کہ ایک ایسا انسان جو پارٹی کا فنانس سیکرٹری ہو سینکڑوں اور ہزاروں روپے اس کے دستخط سے جاری ہوتے ہوں اس کےگھر کا کچن چلانے کے لئے گھر کا ایک حصہ60 روپے ماہانہ کرایہ پر دیا گیا ہو۔ آج امانت میں خیانت نہ کرنے والے لوگ اب کیوں دکھائی نہیں دیتے۔ لوٹ مار، اقربا پروری، رشوت ،سفارش نے پورا معاشرہ ہی کھوکھلا کر کے رکھ دیا ہے۔ اور غلط کو غلط کہنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کیونکہ جب دنوں میں امیر ہونے والے معاشرے میں تقویت پاتے ہیں۔ تو پھر بھیڑیں ہی بھیڑیوں کا روپ دھار لیتی ہیں۔
اس کےابا جی نے کبھی بھی سفارش کی سیڑھی کا سہارا نہیں لیا ۔یہی وجہ تھی کہ بعض بیٹے باپ سے نالاں تھے کہ 1973 کے آئین کے تحت حلف اٹھانے والے صدر( جو ان کا بہت گہرا دوست تھا ۔سیاست کےابتدائی دور میں دونوں ایک ساتھ پارٹی میں تھے۔جب وہ ملک کا صدر بنا ۔اس کے ابا جی سیاست چھوڑ چکے تھے ۔مگر دوستی کا تعلق ابھی تک جاری تھا)سے کوئی ذاتی فائدہ نہ اٹھا سکے ۔ مگر انہوں نے مفاد پرستی کے لئے اصول کی زندگی قربان کرنے کا فیصلہ نہیں کیا ۔وہ ہمیشہ یہی سمجھاتے کہ لوگ ترقی کے لئے ہر حربہ استعمال کرتے ہیں ۔مگر عزت و احترام کھو دیتے ہیں۔ اپنے فائدے کے لئے کسی جائز کا حق مت غصب کرو۔
اپنی ساری زندگی کی کمائی سے صرف ایک پونجی بنائی ۹۹ سالہ لیز کا مکان !فیصلہ تو یہ کرنا ہے ۔کہ کیا وہ انسان ہونے کے ناطے اپنا حق ادا کرتا رہا ہے۔ اگر وہ سچ پہ تھا تو کیا اسے اپنی نیکیوں کا صلہ مل گیا۔ بڑھاپے میں ملی وہ اولاد ۔جس نے انہیں ہاتھوں پہ لیا ۔کیا وہ اس کی صاف ستھری زندگی گزارنے کا انعام تھا ۔
اس بیٹے میں باپ کی محبت بڑھ کر عشق بن چکی تھی۔ چھ سال تک وہ ایک ایسے باپ کے ساتھ رہا۔ جو صرف دیکھنے میں ہڈیوں کا ڈھانچہ اورگوشت پوست کا لوتھڑا تھا ۔جو صرف سانس لینے تک محدود تھی اور چند نوالے کھانے اور چند گھونٹ پانی کے لینے تک۔
اس کے ابا جی ۱۴ سال کی بیماری سے بھرپور زندگی بھی جی گئے اور آخر کار ۹۴ سال کی عمر میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے ۔ اور وہ بالوں میں مکمل پھیلی چمکتی سفیدی کے ساتھ چالیس سال کی حد عبور کر گیا ۔ اور تیرہ سالہ اس کا بڑا بیٹا پہلی بار اپنے سخت مزاج باپ کو ایک بچے کی طرح روتا دیکھ رہا تھا ۔
جس رات وہ ابا جی کو دفنا کر واپس آیا ۔اگلی صبح کئی سالوں کے بعد اجنبی تھی ۔آج سورج کے طلوع کا منظر وہ نہ دیکھ پایا ۔کیونکہ دیر تک وہ سویا رہا ۔اس کے ابا جی نے آخری سانس اس کے سامنے پورے کئے اور جب روح جسم کو چھوڑ کر گئی۔ تو جسم کسی بھی تکلیف کے اس احساس سے خالی تھا ۔کیونکہ جسم تو بہت پہلے مر چکا تھا ۔صرف روح کو اپنا کام کرنا تھا اور اتنی خاموشی سے جدا ہوئی جیسے ہوا کا ایک لطیف جھونکا آکر گزر جاتا ہے۔
وہ اپنے ابا جی کا اتنا عادی ہو چکا تھا ۔کہ جدائی سے آنسو بار بار آنکھوں سے ٹپک جاتے ۔
اس کےجیسے ہی ابا جی دنیا سے گزرے۔ چند روز میں غرض و مفاد کی ایک نئی دنیا جو اس سے پہلےغفلت فرائض میں آنکھیں موندھے سو رہی تھی۔ اب اس کے سامنے اپنے پر کھول کر کھڑی ہو گئی۔ اور اپنے مقابلے میں اڑان کی نوید سنائی۔ مگر وہ تو ایک ایسے پرندے کی زندگی گزارنے کا عادی تھا ۔جس کے پر کٹے ہوں۔ وہ انہیں اڑتا دیکھتا مگر خود پرواز کی خواہش نہیں رکھتا تھا ۔مگر اس نئے چیلنج نےاس کے آنسو خشک کر دئیے ۔اور وہ اپنے آپ کو یہ سوچ کر آمادہ کرنے لگا ۔کہ اسے دنیا کا یہ روپ بھی برداشت کرنا ہو گا ۔
ایک سوال ابھر کر اس کے سامنے آ گیا ۔کہ میں جو شروع کرنے اب جا رہا ہوں اگر زندگی یہ ہے۔ تو جو گزاری ہے وہ کیا تھی۔ ایک خیال کےآتے ہی وہ زیر لب مسکرایا !
ایک نئی ہمت کو اپنے اندر پا کروہ اٹھ کھڑا ہوا اور خود کلامی کے انداز میں بولا !
وہ تو ایک بوڑھے کی لاٹھی تھی ۔


تحریر ! محمودالحق

بوڑھے کی لاٹھی - 3

0 comments
 باپ بیٹے کی ایک سچی کہانی
باپ کے بڑھاپے کی جوان بیٹا جب لاٹھی بنا۔

حصہ سوم
اس کی سوچ میں یہ تبدیلی ۱۷ سال کی عمر آئی جب جمعہ کی نماز میں اس نے یہ حدیث سنی۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ رَغِمَ أَنْفُ ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُ ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُ ‏"‏ ‏.‏ قِيلَ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ مَنْ أَدْرَكَ والديه عِنْدَ الْكِبَرِ أَحَدَهُمَا أَوْ كِلَيْهِمَا ثم لَمْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ ‏"‏ ‏.‏
( صحيح مسلم : 2551 ، البر و الصلة – الأدب المفرد : 646 )

ترجمہ:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا : اس کی ناک خاک آلود ہو ،پھر اس کی ناک خاک آلود ہو : آپ سے سوال کیا گیا یا رسول اللہﷺ وہ کون شخص ہے؟ آپﷺ نے فرمایا : جس نے بڑھاپے میں اپنے والدین کو پایا ، ان میں سے کسی ایک کو یا دونوں کو پا لیا پھر بھی "ان کے ساتھ حسن سلوک کر کے" جنت میں داخل نہیں ہوا۔
شائد اس حدیث کے الفاظ سے وہ اپنے آپ کو کبھی بھی الگ نہیں کرپایا ۔اسے یہی خوف رہا کہیں اس کا ناک خاک آلود نہ ہو جائے۔
قران پاک کے اندر سورۃ بنی اسرائیل میں ان آیات میں والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم جب اس نے پڑھا کہ
"اور تمھارے رب نے حکم فرمایا ہے کہ اس کےسوا کسی کو نہ پوجو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو اگر تیرے سامنے ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کوپہنچ جائیں تو ان سے ہوں نہ کہنا اور انہیں نہ جھڑکنااور ان سے تعظیم کی بات کہنااور ان کے لئے عاجزی کا بازو بچھا نرم دلی سے اور عرض کرکہ اے میرے رب تو ان دونوں پر رحم کرجیسا کہ ان دونوں نے مجھے چھٹپن میں پالا"
تو اب اس کے لئے اللہ تعالی کے حکم سے روگردانی کا سوال پیدا ہونے کا امکان نہیں تھا ۔مقصد اس کے سامنےتھا۔ بوڑھے والدین کو چھوڑنا نہیں۔
کئی سال اپنے ابا جی کو اٹھانے سے وہ خود بھی کمر کی شدید تکلیف کا شکار ہو گیا۔ اور درد دن بدن بڑھتا ہی رہتا۔ خود بھی اسی ڈاکٹر کا مریض بن گیا جو کبھی اس کے ابا جی کا ڈاکٹر تھا ۔عزیز رشتہ دار تو اب آپس میں باتیں کرتے کہ اتنی پر آسائش زندگی اور بے بہا دولت ہونے کے باوجود ملازم کیوں نہیں رکھ لیتا، ان کے لئے۔ خود اٹھاتا، بیٹھاتا، نہلاتا، دھلاتااور نجاست کی صفائی خود ہی کرتا ہے ۔بیمار ہو گیا ہے یہ دولت کس کام کی ہے۔
مگر وہ کیا بتاتا کسی کوکہ انہیں سنبھالنے کا حکم صرف اس کے لئے ہے۔ کیسے سمجھ پائیں گے اللہ تعالی سےاپنی معافی کا راستہ ماں باپ کی خدمت میں نظر آیا اسے۔
اور جس دولت کی وہ بات کرتے ہیں وہ تو آزمائش ہے۔ اللہ تعالی نے اسے اسی خدمت کے صلے میں اسے انعام کیاہے۔ ورنہ وہ اس وقت کو آج تک نہیں بھول پایا ۔جب اس کے ابا جی ولیمے کے دن ایک سوال پر ٹھہر گئے تھے "بیٹا مہمانوں کے لئے کھانا پورا ہو جائے گا"اور یہی سوال ہر دس پندرہ منٹ بعد دہراتے۔
بات ماہ دو ماہ کی ہوتی۔ تو الگ بھی تھی ۔اب تو اس کا پورا وجود اپنے ابا جی کی روح میں ڈھل چکا تھا۔ اسے وہ دن بھی ابھی یاد تھے جب اس بیماری کی اگلی سٹیج میں گھر سے سیر کرنے کے لئے اچانک خاموشی سے نکلتے اور بھول جاتے کہ وہ کون ہیں ،کیا نام ہے ان کا، کہاں رہتے ہیں۔ سڑکوں پر اپنے ہی گھر کے سامنے سے بار بار گزر جاتے اور اپنے گھر کی پہچان بھول جاتے۔ کئی بار تو ایسا ہو چکا تھا !
دنیا میں نیک انسانوں کی کمی نہیں۔ ایک بار تو ایک رکشہ والے کو انہوں نے روکا اور کہا میں اپنا گھر بھول گیا ہوں ۔اس نے ساتھ بٹھایا ۔تو ایک گھنٹہ ان کو لئے پھرتا رہا اور وہ خود ابا جی کو موٹر سائیکل پر گلیوں محلوں میں تلاش کر رہا تھا۔ ابا جی کی اپنے گھر کے سامنے سے گزرتے ہوئے پہچان واپس آ گئی تو رکشے والا اتار کر چلا گیا ماں جی نےکچھ پیسے دینے چاہے۔ تو اس نے لینے سے انکار کر دیا تھا ۔ چار بار ہو چکا تھا دو بار تو وہ خود دوتین گھنٹے گلیوں بازاروں میں گھوم گھوم کر ڈھونڈ لایا تھا اور دو بار جنہوں نے ابا جی کی مدد کی وہ انتہائی غریب لوگ تھے۔ وہ ہمیشہ ابا جی کو لانے والوں کو دعائیں دیتا ۔
دن ہفتوں میں ہفتے مہینوں میں بدلتے جا رہے تھے ۔ اس کی شادی کوچار سال گزر چکے تھے۔ اسی دوران اس کے ہاں دوسرا بیٹا پیدا ہوا ۔گھر میں سبھی خوش تھے ۔
اب تو اس کے ابا جی کا پیشاب پاخانے پر کنٹرول مکمل ختم ہو چکا تھا۔ باتھ روم لے کر جاتے تو کچھ نہ کرتے واپسی پر چلتے جاتے اور جہاں جہاں سے گزرتے کپڑوں سے لے کر فرش تک نجاست بہہ جاتی ۔
بیٹا میں جان بوجھ کرنہیں کرتا ۔مجھے پتہ ہی نہیں چلتا۔اپنی صفائی وہ خود ہی دینے کی کوشش کرتے ۔
مجھے علم ہے ابا جی !
آپ کیوں پریشان ہوتے ہیں۔ میں صفائی کردیتا ہوں۔ وہ فوری ابا جی کو تسلی دیتا ۔
یہ تو اب معمول بن چکا تھا ۔کبھی بستر تو کبھی قالین صحن میں دھو کر رکھا جاتا تھا ۔ماں جی کے ساتھ ان کا وقت گزر جاتا تھا ۔
اس کی ماں کی پتے کی پتھری اپریشن نہ ہونے کی وجہ سے تکلیف بہت بڑھ چکی تھی ۔کئی بار ہاسپٹل میں داخل رہ چکے تھے۔ ڈاکٹر وں کا کہنا تھا کہ اپریشن سے جان کا رسک ہے۔ اب اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا کہ اسے نکلوا دیا جائے۔ ڈیفنس میں ایک ڈاکٹر کا اسے علم ہوا کہ وہ جدیدٹیکنالوجی لیپراسکوپی سرجری کے ذریعے اپریشن کرتا ہے۔ ڈاکٹر سے اس نےبات چیت کی۔ ڈاکٹر نے تسلی دی کہ خطرے والی بات نہیں ہے۔ ہائی بلڈ پریشر، ہیموگلوبن کی کمی اور ہارٹ ان لارج کے باجود اس میں رسک بہت کم ہے۔ کیونکہ اس وقت شہر میں وہ اکیلا ہی اس شعبہ میں تھا ۔سو ایک بڑی رقم کا اس نے تخمینہ بتایا۔ مگر یہاں اسے رقم سے زیادہ اپنی ماں جی کی صحت کی فکر تھی۔ کیونکہ جب سے اس نے اباجی کی زرعی زمین پر خودکاشت کا کام شروع کیا۔ دولت کی ریل پیل تھی ۔
تکلیف اتنی بڑھ چکی تھی۔ کہ اب لمبا انتظار ممکن نہیں تھا۔ ڈاکٹر نے تیاری کے بعد انہیں بلایا۔ اپریشن کیا اور باہر آکر خوش خبری سنائی کہ اپریشن کامیاب رہا اور ساتھ ہی ایک ایسی خبر جو وہ سننے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا ۔کہ پتھری اتنی بڑی ہو چکی تھی، جگر اس سے متاثر ہوا ہے اور اس نے جگر کے متاثرہ حصے کی بھی سرجری کر دی ہے اور اسے بائیوپسی کے لئے بھجوا دیا گیا ۔ دو دن بعد وہ ماں جی کو لے کر گھرچلے گئے چند روز بعد وہ بائیوپسی کی رپورٹ لے کر ڈاکٹرکے پاس گیا ۔تو وہ خبر اس پر بجلی بن کر گری ۔جگر کا کینسر تشخیص ہوا تھا ۔تفصیل بتاتے ہوئے ڈاکٹرنے کہا ایسے مریض چھ ماہ یا آٹھ ماہ سے زیادہ زندگی نہیں پاتے۔
ڈاکٹر کے یہاں سے نکل کر وہ جناح باغ چلا گیا درختوں کی پناہ میں کھلی فضا میں۔
سگریٹ پہ سگریٹ سلگائے جارہا تھا اور صرف ایک خیال اس کے ذہن میں پیوست ہو کر رہ گیا کیا میری ماں اب مہینوں کی مہمان ہے ۔یہ دن دیکھنا باقی تھا ۔کہ اپنی نظروں کے سامنے ہر پل موت کی طرف جاتا دیکھوں اور دوسری طرف ابا جی کی بگڑتی ذہنی اور جسمانی حالت اور اب یہ روح فرسا خبر ۔
دیر تک اپنے آپ سے جنگ کرتا رہا اور خدا سے اپنے لئے ہمت اور حوصلہ کی دعا مانگتا رہا۔ اس نے پھر ایک نئی طاقت کو اپنے اندر محسوس کیا کہ جس میرے مالک نے مجھے ان مشکلات سے لڑنے کی طاقت پہلے دی۔ اب بھی وہی دے گا اور گھر کی طرف روانہ ہوا ۔
کیا رپورٹ آئی ہے ماں کے سامنےبڑی بہن نے سوال کیا !
بالکل ٹھیک ہے۔ وہ جھوٹ بول گیا اور اسی طرح مسکراتے ہوئے ماں جی سے ہنسی مذاق کرنے لگا ۔
زندگی میں پہلی بار وہ اداکاری کرنے کی بھرپور کوشش کر رہا تھا ۔مگر بدلا رویہ اس کی چغلی کر رہا تھا۔ نہ جانے اس کی بڑی بہن نے اس ہنسی کے پیچھےدرد کو کیسے دیکھ لیا اور چند روز کے بعد ہی ایک الگ کمرے میں اسی لے گئی اور پوچھنے لگی سچ بتا رپورٹ میں کیا ہے۔ تیرا چہرہ مجھے کچھ اور کہتا ہے۔ وہ بچوں کی طرح بلک بلک کر رونے لگا۔دونوں بہن بھائی کافی دیر تک روتے رہے ۔انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ ماں جی کو پتہ نہیں چلنا چاہیئے۔ کہیں ان کی ہمت نہ ٹوٹ جائے ۔
ابا جی تو بیماری کے ہاتھوں پہلے ہی ان باتوں سے لاتعلق ہو چکے تھے ۔
اس کی ماں کی دن بدن حالت بگڑتی جارہی تھی۔ اپریشن سے پہلے انہوں نے بیٹے سے کہا تھاکہ اس بار جب فصل آئے گی ۔گھر کے تمام اینٹوں کے بنے ہوئے فرش اکھاڑ کر سیمنٹ کا فرش لگوانا ہےاور سٹور بنانے ہیں۔ صفائی میں بہت مشکل ہوتی ہے اور ایک مجھے اپنے لئے نیا پلنگ بنوانا ہے ۔جس کے پیچھے دراز زیادہ ہوں ۔
جی ماں جی ضرور ! کہہ کر ماں سے وعدہ کیا تھا۔
ڈاکٹر نے زندگی جینے کا وقت مقرر کر رکھا تھا۔ مگراسے ماں سے کئے گئے وعدہ کا پاس تھا ۔فصل کی رقم ملتے ہی اس نے پلنگ کا آرڈر دے دیا ۔جیسا ماں چاہتی تھیں اور گھر کے تمام فرش اکھیڑ دئیے اور مستری سے ایک ماہ میں اسے مکمل کرنے کا کہا ۔ خاندان کے بعض افراد اس بات سے ناراض دکھائی دیئے کہ ایسی بیماری اور گھر میں مرمت کا کام ۔
مگر اسے صرف ایک بات کی خواہش تھی۔ ماں جی نے جو خواہش کی ہے وہ ان کی زندگی میں پوری ہو۔ جسم ان کا سوکھ کر کانٹا بنتا جا رہا تھا۔ کینسر اندر ہی اندر پوری طرح پھیل چکا تھا ۔جب فرش تیار ہو گئے ۔تو اپنی ماں کو اٹھوا کر صحن میں لایا اور اس نے کہا ! ماں جی ! جیسا آپ نے کہا ویسا ہو چکا ہے۔ انہوں نےغور سے صحن کو دیکھا اور بہت دھیمی آواز میں کہنے لگیں میں ٹھیک ہوتی تو اس سے بہتر کام کرواتی لیکن پھر بھی ٹھیک ہے ۔
کینسر نے چھ ماہ میں پورے وجود کو پہلےمکمل زیر کیا۔ پھر اذیت پر اتر آیا۔ درد کی شدت اب بڑھ رہی تھی۔ ڈاکٹر خوش مزاج نہیں تھا بس چیک کرتا اور نسخہ ہاتھ میں دے کر چلتا کر دیتا۔ ماں جی نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا ۔تو نئے ڈاکٹر کا انتخاب کیا گیا۔جو اپنے شعبہ کا ماہر اور نہایت خوش اخلاق خوش گفتار بھی تھا۔ پل پل موت اپنا گھیرا تنگ کر رہی تھی اور ڈاکٹروں کی دی گئی معیاد پوری ہوئی اور آٹھویں ماہ وہ زندگی کی جنگ ہار گئیں۔
انہیں دفنانے کے بعد جب وہ واپس لوٹا۔ تو ابا جی کسی بھی طرح کے رد عمل سے بے نیاز اپنے کمرے میں سستا رہے تھے۔ اور وہ سوچ رہا تھا کہ اب اسے زندگی کی یہ جنگ اکیلے لڑنی ہے۔ ماں کا سہارا ختم ہو چکا تھا۔ ایک دعا دینے والے ہاتھ اب اس کے پیچھے نہیں تھے۔
انسانی دماغ کے خلیات کیسے کام کرتے ہیں۔ میڈیکل میں اسے مختلف نام دئیے گئے ہیں۔ مگر اباجی کے ساتھ جو ہو رہا تھا وہ اسے کیا نام دیتا ۔ کینسر ،دل کی بیماری اور فالج کی معلومات تو اسے کافی تھی مگر اس بیماری کا انجام کیا ہو گا۔ اس بات سے لا علم تھا ۔
روز بروز بڑھتی بیماری اس کے لئے نئی سوچ کے دروازے کھول دیتی۔ ہاتھوں کی انگلیاں مٹھی کی مستقل شکل اختیار کر چکی تھیں۔ جیسے انگلیاں انگوٹھوں کو آزادی نہ دینے کی ضد پر اوپر ایسے جم چکی تھیں ۔کہ ان کا ہلنا بھی ممکن نہ تھا۔ ٹانگیں بھی کچھ ایسا ہی منظر پیش کر رہی تھیں۔
وہ سوچتا کہ کیسے ممکن ہے ۔انسان اچانک ہی کسی بات کو بھول جائے اور پھر یہ بھی بھول جائے کہ ہاتھوں سے گلاس یا چمچ کو کیسے پکڑا جاتا ہے ۔اور انتہا تو یہ کہ دست لگنے کی وجہ سے دو دن پلنگ پر رہنے سے یہ بھول جائے کہ اسے چلنا کیسے ہے۔ اس کے اباجی کے ساتھ یہ سب یکےبعد دیگرے ہو رہا تھا ماں جی کو فوت ہوئے تین سال ہوئے تھے ۔کہ دستوں نے ایسا کمزور کیا پھر انہیں اٹھنے کے لئے کہا تو پوچھنے لگے کیسے چلوں۔ ٹانگیں ان کے دماغ سے آزاد ہو چکی تھی۔ اب وہ کسی حکم کی محتاج نہیں تھیں ۔بلکہ اپنی مرضی کی مالک خود مختار اس جسم کو اپنے اوپر بوجھ محسوس کر رہی تھیں اور پھر اس کی تقلید میں بازو، ہاتھ بھی ساتھ شامل ہو گئے اور خود مختا ری کا باری باری اعلان کرنے لگے۔--------- جاری ہے


تحریر ! محمودالحق