Showing posts with label روشن عطار. Show all posts
Showing posts with label روشن عطار. Show all posts

Monday, June 15, 2020

اب اگر راستہ چھوٹ جائے تو شکوہ کیا

0 comments
اب اگر راستہ چھوٹ جائے تو شکوہ کیا
دنیا سے گر رشتہ ٹوٹ جائے تو شکوہ کیا

آستین میں چھپے ہاتھ کی آگہی بھی بیزاری ہے
دوچار قدم چل کے لوٹ جائے تو شکوہ کیا

جالے بنتی مکڑی کا ہے فریبِ مکاں
قلبِ نور سے نظر عقل مٹ جائے تو شکوہ کیا

شمع خود بھی ہے بجھتی پروانہ بھی جلاتی
مہک گل سے خود لپٹ جائے تو شکوہ کیا

دامنِ آرزو میں رہتی ہوا تو گرد و غبار ہے
حسرتوں سے غمِ بادل چھٹ جائے تو شکوہ کیا

بے بس دست و پا بے راہ مشکل التجا
احسان سے گر مقامِ اَنا مٹ جائے تو شکوہ کیا

تلاش میں ہے جن کی رزقِ اجرِ حنا
جسم روح سے الگ الگ بٹ جائے تو شکوہ کیا

ولی صوفی قلندر کیا نہیں ہیں انساں
متاعِ دنیا راستے سے خود ہٹ جائے تو شکوہ کیا

راستے جدا جدا پہنچے منزل ایک مقام
راستہ ہی میں سارا سفر کٹ جائے تو شکوہ کیا

آسان جن کو نظر آئیں منزلیں دشوار گزار
قدم پڑتے ہی گر نہ پلٹ جائے تو شکوہ کیا

بیتابیء قلب میں سماتی جسم و جان جائے
تہہء عملِ جہاں سے جو سلوٹ جائے تو شکوہ کیا

اب بھی ہے کوئی شکوہ ذاتِ منان سے
غفلت شب میں نیند سے کروٹ جائے تو شکوہ کیا

کلمہء تشکر میں گر ہو مقامِ اولیٰ محمود
پہاڑ کیا چاہے زمین پھٹ جائے تو شکوہ کیا

محمودالحق

Monday, January 2, 2012

شبِ سیاہ پر پڑتی کرنوں سے

0 comments

شبِ سیاہ پر پڑتی کرنوں سے بنتے جاتے سائے ہیں
محبوب پر حقِ احسان کہ ہم تو اسکے ہمسائے ہیں

تمازتِ آفتاب بھی رکھتا باری رحمت کا اجمال ہے
ایک شاخِ پتے میں جذب اس کی قوتِ عطائے ہیں

مدفن خزینوں سے مہرباں حسنِ زن و زمین آراستہ
محبت میں ہیں سب مہمان نہیں کوئی بن بلائے ہیں

گرتے پانیوں سے پھیلتی روشنیوں تک کے فاصلے
شمعِ جہاں کے سب پروانے کچھ اپنے کچھ پرائے ہیں

بہت مشکل میں ہے انسان عالمِ جاودانی کے محور میں
بندھے ہوئے یہ سب جہاں روشنیوں کے سدھائے ہیں

کھینچی کاغذ کی لکیروں پر زائچہ بازیچہ، اطفال ہے
قوس و قزح کے رنگوں میں ذرّے سے ذرّے جمائے ہیں

خشکی ہوا پانی پر ہماری اختراعِ ایجاد ہیں
چلنے کے واسطے ایندھن بھی تو اسی کے بنائے ہیں



روشن عطار / محمودالحق

Monday, September 6, 2010

اشعار تصویری

4 comments

Thursday, September 2, 2010

ردائے رضا میں رہتی عطائے رُبا القرآن

0 comments

ردائے رضا میں رہتی عطائے رُبا القرآن
اتباع محمد ؑ سے پھیلتی نورِ کشف الفیضان

جھکتی شاخِ شجر میں ہو پیوست ثمر
سجدہ نہیں سجدہ جب عمل نہ ہو عکسِ مسلمان

ٹھہری موجوں سے ہی نسبت رکھتے ہیں ابَر
ساحلوں کے دل دھل جائیں جب اُٹھتے ہیں طوفان




روشن عطار / محمودالحق

Friday, August 6, 2010

اے خدا تیری رحمتوں کے بندے طلبگار ہیں

2 comments

اے خدا تیری رحمتوں کے بندے طلبگار ہیں
شرمندہ ہیں اس لیے کہ ہم خطاکار ہیں

تجھے بھول جانے کے ہم جرم وار ہیں
دنیا کی محبت کے ہم سزا وار ہیں

خطاؤں کے لیے چاہتے تجھے مددگار ہیں
تجھے بھولنے کے بعد ہم تو غم خوار ہیں

دنیا کی چاہتیں اب ہمیں بیزار ہیں
شاہِ زمانہ کو ترستے ہم غمِ روزگار ہیں

تیرا در چھوٹنے سے ہم آہ و فگار ہیں
تیری نعمتوں کی ہو بارش ہم اشکبار ہیں

نہیں بھولیں گے ہم شجرِ آب دار ہیں
واسطہ تجھے محمدۖ کا ہم امت جہاندار ہیں

سورج یہ چاند ستارے تیرے راز دار ہیں
رہیں خش و خاک میں تو ہم بیکار ہیں

تیری چاہتوں سے نہیں ہم انکار ہیں
اپنی خزاںء زندگی کو امیدِ جشن بہار ہیں

اتنا دکھ جب ہوتے ہم بیروزگار ہیں
خوشی میں نہیں سوچتے کہ ہم پر انوار ہیں

عقلیں اَٹی ہماری گرد و غبار ہیں
قلب کھلے تو بھرے نورِ مینار ہیں

نہیں کٹتا نفس صرف روزہ دار ہیں
گر ہو مومن تو صوم کی تلوار ہیں

سُستیء ایمان ڈھونڈتے ایک رات کا دربار ہیں
ارادوں پہ اپنے ہم بے اختیار ہیں

شکوے تجھ سے ہمیں بار بار ہیں
جڑے جانے کو کھڑے قطار در قطار ہیں

عنایات کو بانٹنے کے نہیں روا دار ہیں
دکھوں میں ڈھونڈتے ہم غم گسار ہیں

ہم خطا کاروں کے آپ پروردگار ہیں
دعاؤں میں تیری رحمتیں درکار ہیں

.٭.


روشن عطار / محمودالحق

Wednesday, June 9, 2010

زندگی ایک افسانہ

0 comments


زندگی ایک افسانہ حقیقت کھوج میں نہ جا
شاید پلٹ نہ سکے تو موج میں نہ جا
آخری تیر کو کمان میں نہ رکھ
گر چوک جائے تو مخروج میں نہ جا

گرتا جہاں سے بھی ہو بعث ملال ہے
جھکے پھل میں رہ شاخ عروج میں نہ جا

اشراف انسانیت کی تغیر فطرت میں رہ
خندہ جبینوں میں رہ فوج مفلوج میں نہ جا






روشن عطار / محمودالحق

Wednesday, February 24, 2010

مُحَمَّدۖ کی نگری میں

0 comments
مُحَمَّدۖ کی نگری میں فقیر صدا دیتا پھرے
ا ُٹھو مدینہ والو دیکھو امبر افشانی کرے

عبادت میں ہو حرا تو حفاظت کرے ثور
پہاڑوں سے میدانوں تک مقام ہرے بھرے

جو نازاں تھے اپنے علم و قلم کے تکبر سے
بلند کر دئیے آویزاں کوثر نے رتبے تیرےۖ


دعوت میں پیش امام شہر نبیۖ کو لاکھوں سلام
سچے عاشق رسولۖ مسلمانان پاک و ہند ہمارے

قریہ قریہ بستی بستی ہے جشن ولادت نبیۖ
مہکتے گلستانوں میں چند پتیاں پھول میرے

دعا کرو اے عاشق عبادت گزارو
رفاقت نبی سے متصل ہو مقام صفہ تمھارے

اس جہاں میں جینا تو جسم جان سے ہے
عالم ارواح میں مقام میرا نہ دور ٹھہرے

محبت مُحَمَّدۖ کی شان کیسے کروں بیان
خون جگرسے نہیں روح ایمان سے پروتا ہوں تارے

قلب ِ روشنی سے ہے میری قلم سیاہی
کاتب روح تعریف و تحسین نبیۖ ہمارے

اللہ کی شان محبوب خدا ہو میری روح جان
دیکھو آتش عشق میں کٹتے قلب کے نظارے

نور سے نور ہوا ہم کلام معراج مقام
محبوب سے ُاٹھا دئیے حجاب کے پردے سارے



روشن عطار / محمودالحق

Friday, January 29, 2010

کس بات کی ہے تسکین طمع زندگی

0 comments
کس بات کی ہے تسکین طمع زندگی
ہررات تو بجھتی ہےشمع زندگی

بڑھتی متاع دنیا کس کام کی
ہر پل گھٹتی ہے اجمع زندگی



روشن عطار / محمودالحق

Sunday, December 20, 2009

قید میں ضمیر قفس

0 comments
قید میں ضمیر قفس کے ہے ہجوم تنہائی
پابۂ زنجیر ہے نفس طائر رہائی

موج عمل کو چاہئیے طلاطم ہوش بندگی
غموں کی عادت ہے خوشی میں آنکھ بھر آئی

بہا بہا کر آنسو قطرہ موتی تلاش کروں
خاکی کے اوڑھنے بچھونے کو زندگی ہے پرائی


روشن عطار / محمودالحق

شمع قطرہ قطرہ

0 comments
شمع قطرہ قطرہ پگھل کرنجات کون ومکاں ہوگئی
چشم تر قطرہ قطرہ برس کر حمیت جہاں ہو گئی

پروانہ جل کر عشق میں خاک جہاں سے گیا
عشق منزلت عرش سےتعظیم محبوباں ہو گئی

چمن بھی ہے دلگداز انتظار بہار
ارادے ضعیف ناتواں تومشکلیں محفل جواں ہوگئی


روشن عطار / محمودالحق

بندہ غرض

0 comments
بندہ غرض کو پل قناعت سے گزرنا آسان نہیں
غم روزگار و خشوع افکار کوئی بڑا امتحان نہیں
مادیت کا اژدہا جسے نگل لے کامل انسان نہیں
معبود سے عبد کی محبت کا کوئی بیان نہیں


روشن عطار / محمودالحق