Showing posts with label اردو،. Show all posts
Showing posts with label اردو،. Show all posts

Monday, April 14, 2014

ہاف فرائی فل بوائل

5 comments

صبح سب سے پہلے بیٹی نے آ کر ہیپی برتھ ڈے ابو جی کہا تو آنکھیں  چمک اُٹھیں پھر باری باری بیٹوں نے بھی یہی کلمات دھرائے تو شکریہ کہہ کر محبت کا احسان چکا دینے کی ادنی کوشش کی ۔ جیسے کسی افسر کو ترقی کے ساتھ ساتھ علاقہ غیر میں تعیناتی کے احکامات بھی ساتھ موصول ہوئے ہوں۔اب ظاہر ہے پچیس تیس کی سالگرہ پر ایسی صورتحال پیدا نہیں ہوتی۔ عمر جان کر کیا کریں گے۔ اگر درخت سے آم توڑ کر کھانے کی نہیں ہے تو آم کھا کر گھٹلیاں گننے کی بھی نہیں۔ اس کا مطلب تو یہی لیا جائے گا ۔ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔ اکبر اعظم کے دور اقتدار سے زیادہ نہیں تو سلطان سلیمان کے عہد حکومت سے کسی طور کم بھی نہیں۔ کچن مصالحہ کی ناک کے نتھنوں سے کھوپڑی کے نیچے تک تیز خوشبو کو چھینکنے سے آرام کا طالب تھا۔ ہوائے راہدار نے مشکل کو کافی حد تک سنبھالے رکھا۔جی ایگزاسٹ کو یہ کریڈٹ دینے کی پابندی سے مستثنی نہیں ہوں۔ یہ سب سالگرہ کی خوشی میں ہانڈی میں بھگایا چولہے پر چڑہایا اگ پہ تپایا نہیں جا رہا تھا بلکہ بچوں کے تایا کی برسی کے اہتمام میں بنایا جا رہا تھا۔ یہ سب ایسے ہی ان کے ابو جی کے بچپن سے ہی چلا آرہا تھا۔ میں نے کیا پڑھا اتنا پڑھنے کے بعد بھی نہ پڑھائی کا پتہ چلے نہ ہی ڈگری کا۔ تو پھر پڑھنے کا کیا فائدہ۔ شکر ہے یہ وہ زمانہ نہیں جب دشمن شہر کی فصیلوں تک آ پہنچا تھا اور اہل دانش کوا کو حلال و حرام قرار دینے کے لئے پورا زور لگا رہے تھے۔ آج ایسی صورتحال نہیں روزی روٹی کے لئے کی جانے والی کوششیں  بھی حلال حرام سے مستثنی ہیں۔ کیوں نہ ہوں دس سے بیس کرنے والے اور ایک انگوٹھی سونے کی دو بنانے والے شہروں بستیوں میں کرامات سے نسل انسان کو بیوقوف سمجھنے پر حق بجانب ہیں۔ سچی بات تو یہ ہے کہ کیمیا گری کے کئی نسخہ ہائے جات کو آشکار کرنے کا ارادہ تھا مگر سوچ پر پہرے بٹھا دئیے کہ اگر یہ بتا دیا کہ زندگی ایک ہفتہ میں فقیری سے امیری میں کیسے بدل سکتی ہے تو ایک سے دو بنانے والے بنا محنت کے منزل پانےکی جستجو  کرنے والے اور تقدیر سے زیادہ طاقت سے حاصل کرنے کی خواہش کرنے والے تمنا کے روشن آلاؤ کے گرد حصار بنانے سے دریغ نہیں کریں گے۔
ڈاکٹری انجئیرنگ کی تعلیم حاصل کرنے سے قاصر رہے۔ لکھنے پڑھنے کا شوق پیدا نہ ہونے سے پڑھے لکھوں میں شمار بھی نہ ہوے۔ جسے جاننے کا جنون رہا اسے جاننے ہی کی کوشش میں رہے۔ جاننا اتنا کافی بھی نہیں مگر تھوڑا بہت جان ہی گئے۔ وقت سے پہلے وقت کا ادراک۔
گھر میں سب ہی چیونٹیوں کی مٹر گشت سے نالاں نظر آتے ہیں۔ بیچاریاں انتہائی خاموشی سے کونے کھدروں سے روزی روٹی کی تلاش میں سرگرداں نظر آتی ہیں۔پھر بھی ان کے قتل عام کا حکم صادر کرنےکا اعلان ہوتا رہتا ہے۔ سینکروں کی تعداد میں دھواں اُڑاتی ہارن بجاتی شہر شہر گاؤں گاؤں دھول چٹاتی موٹر کاریں گھروں میں نہلا دھلا کر سجائی جاتی ہیں۔ گدھا / بیل گاڑی سے بہت تیز رفتار ہونے کی وجہ سے سینکڑوں منٹ روزانہ ہزاروں منٹ مہینہ اور لاکھوں منٹ سالانہ بچاتی ہیں۔ لیکن پھر بھی ابن بطوطہ ارسطو افلاطون بنانے سے بھی نہیں بنتے۔ تراشے ہوئے لکڑی کے قلم کی تحاریر کمپیوٹر کمپوزنگ سے کئی گنا سست رفتاری کا شکار تھیں مگر شاہکار بھی تھیں۔ آج جتنے پلاسٹک کے بال پین ہیں کتابیں تعداد میں کسی طور ان سے کم نہیں۔ ایک اخبار روزانہ کی بنیاد پر جمع ہوتے ہوتے کئی سال بعد کئی من ردی کی صورت صرف بکتا ہے۔ جو کسی طور علمی کتاب گھر نہیں کہلا سکتیں۔
علم ایسی کونپل ہے جو  پیوند کاری سے نو خیز پودوں میں اپنی صورت پروان چڑھتا ہے۔ تعلیم دی جاتی ہے علم حاصل کیا جاتا ہے۔ علم چرایا نہیں جاتا تو بیچا بھی نہیں جا سکتا۔جو بیچی جاتی ہے وہ تعلیم ہے۔مول تول کرنے والا سودا گر ہوا کرتا
ہے۔جو علم صرف پڑھنے سے مل جائے اسے سمجھنے کے لئے صرف پڑھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
تحریر ! محمودالحق

Sunday, February 20, 2011

کچھ کھٹی کچھ میٹھی باتیں

7 comments
بتیس فلموں کے گانے لکھنے والے مشہور نعت خواں اور نعت گو شاعر مظفر وارثی اب ہم میں نہیں رہے ۔میں انہیں ایک نعت گو شاعر کی حیثیت سے ہی جانتا تھا ۔ مگر ٹی وی پر ان کی فلمی شاعری کے نمونہ کلام سننے پر احساس ہوا کہ اچھا ہے کہ انہوں نے آج کے دور میں فلمی گانے نہیں لکھے ۔
ورنہ آج ڈنڈا ، پنڈا ، آم ، منجی اور گڈی جیسے الفاظ استعمال میں زو معنی ہو جاتے یا پھر سارا شہر ہی بلو کی طرح کسی نیلی کے گھر کی طرف لائن میں کھڑے ہونے والوں کو کوستا ۔ جیسے ہندوستانی فلمیں سننے میں تو اعتراضات کی زد میں کم ہیں مگر دیکھنے میں اپنے بس سے باہر ہیں ۔ دوسری طرف ہماری فلمیں اور سٹیج ڈرامے دیکھنے میں اعتراضات کی زد میں کم ہیں ۔ مگر سننے میں اپنے بس سے باہر ہیں ۔ایسی ایسی شاعری کا نمونہ کلام اور مکالمہ بازی پیش کی جاتی ہے کہ کہنے کو دل چاہتا ہے کہ علموں بس کریں او یار !
گڈی وگوں آج مینوں سجنا اُڑائی جا کی بجائے فٹ بال وگوں مینوں سجنا میدان وچ پھجائی جا ہوتا مزا دوبالا ہونے کا چانس تھا ۔کیونکہ گڑی سے ہمارا پرانہ رشتہ ہے ۔ گڈی یعنی پتنگ اُڑانے کا شوق بچپن سے تھا ۔ سب سے پہلے خوبصورت رنگوں کا انتخاب ہوتا ۔پھر اس کی بناوٹ اور آخر میں کاریگر کے ہاتھ کی صفائی کے بعد صرف ہماری کاریگری کی محتاج رہ جاتی وہ گڈی ۔جس کے کندھوں اور کمر پر ڈور باندھنا یعنی تلاویں ڈالنا کسی فن سے کم نہیں ہوتا ۔
اچھا پتنگ باز ہوا کی رفتار کے مطابق گڑی کے اگے پیچھے گانٹھیں انتہائی مہارت سے لگاتا ۔ تیز ہوا میں اگلی گانٹھیں زیادہ باندھی جاتیں تاکہ ہوا کے زیادہ زور سے گڈی ٹوٹ یا پھٹ نہ جائے ۔اگلی اور پچھلی گانٹھوں میں کمی بیشی کا دارومدار ہوا کی رفتار سے بہت گہرا ہوتا ہے ۔
زندگی بھر یہ سنتے آئے ہیں کہ شوہر بیوی گاڑی کے دو پہیوں جیسے ہوتے ہیں ۔جن کا برابر میں رہنا ضروری ہوتا ہے ۔مگر مجھے یہ دونوں گڈی میں لگائی گئی گانٹھیں محسوس ہوتی ہیں ۔جہاں حالات کے مطابق کبھی گانٹھیں آگے زیادہ تو کبھی پیچھے زیادہ لگائی جاتی ہیں ۔ تاکہ زمانے کی رفتار اور حالات کی تیزی میں تبدیلی کے عمل سے اپنا توازن برقرار رکھ سکیں ۔
ہماری معاشرتی زندگیاں کچھ ایسے ہی ہوا کی مانند کبھی اونچی اڑان میں تو کبھی زمین پر چپکی رہتی ہیں ۔جہاں بوقت ضروت شوہر بیوی ایک دوسرے سے رویوں میں گانٹھیں لگانے سے ایڈجسٹ کرتے ہیں ۔ تاکہ مشکل حالات میں اپنا توازن برقرار رکھ سکیں ۔اونچی اُڑان میں پھٹ جانے اور زمین پر گرنے سے تو بہتر ہے کہ رویوں کی گانٹھیں لگنے سے کچھ دیر ہوا کے سنبھلنے کے انتظار میں نیچی اڑان ہی برقرار رکھ سکیں ۔کیونکہ ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی ضد خوشیوں سے دور لے جاتی ہے ۔
رہتے ہم اکیسویں صدی میں ہیں ۔ اصول معاشرت کی علمبرداری انیسویں صدی کے طبقاتی نظام پر کھڑی ہے ۔جہاں عمر کی قید ، گھر کی آرائش ، حسن کی زیبائش اور دولت کی نمائش خواہشوں کی فرمائش پر رہتی ہے ۔
پھولوں کے کھلنے اور مہکنے کا ایک مخصوص موسم اور وقت ہوتا ہے ۔ پھلوں کے لگنے اور پکنے کے بھی موسم طے شدہ ہیں ۔وہ بھی آب و ہوا سے جدا نہیں ہیں ۔مٹی سے مانوسیت درجہ اول پر ہے ۔ صرف ایک بارش کا نہ برسنا ہی ان کے ساتھ ساتھ پرند چرند کو بھی سوچوں میں متغرق کر دیتا ہے ۔جو آج بھی صدیوں پہلے گزرے انسانوں کی طرح صرف پانی اور موسم کی تبدیلی سے ہجرت کرتے ہیں ۔
بات کہاں سے شروع کی اور کہاں جا پہنچی ۔ پڑھنے والے کہیں یہ نہ سمجھیں کہ باتوں کا کھٹا کھاتا ہوں ۔یہاں کھٹے سے مراد ترش نہیں بلکہ منافع ہے ۔اور منافع خوری ہمیں آتی نہیں ۔اس میں تو کوئی شک نہیں کہ آج کے دور میں لفظوں کی تجارت اپنے عروج پر ہے ۔اگر تجارت لکھنا اچھا نہ ہو ۔ تو پھر خود ہی انصاف کریں کہ ڈھیروں کے حساب سے اخبارات اور ٹی وی چینل کیا ہیں ۔
چارلی چپلن کی گونگی فلموں کا دور تو رہا نہیں ۔جب کم کم سننا بہرہ پن کی شکائت نہیں رکھتا تھا ۔اب تو اونچی آواز میں ڈیک پر گانے اور ٹی وی پر شادیانے نماز کی خشوع و خضوع میں بھی رکاوٹ نہیں رہے ۔دیکھنے میں آتا ہے کہ اگر خاوند حاجی ہو تو بیوی ضرور نمازی ہوتی ہے ۔لیکن اگر بیوی یہ دعوی جگہ جگہ کرتی پھرے کہ دیکھو شوہر نامدار کیسا نمازی بنایا تو خشوع و خضوع کی گارنٹی خود اس کے پاس نہیں ۔
ایسے شوہر رات دیر سے تھیٹر یا فلم دیکھ کو گھر لوٹنے پرنا گہانی آفت سے بچنے کے لئے کسی صوفی بزرگ کے مزار کی حاضری اور خصوصی دعا کا بہانہ تراش لیتے ہیں ۔ ان کی روحیں تو شائد پہلے ہی بعض وراثتی گدی نشینوں کے اعمال صالح کی بدولت ہدف تنقید رہنے پر پریشان رہتی ہیں ۔
ایسے چراغ جلیں گے تو روشنی ہو گی ۔تعلیم کی نئی روشنی نہ ہونے سے علم پہلے ہی ضعیف الاعتقادی کی بیساکھی پر کھڑا ہے ۔اور کوئی ہٹ دھرمی کے ستون پر ۔
مصر اور تیونس کی طرح سنا ہے کہ اب ہمارا ملک بھی انقلاب کے دھانے پر کھڑا ہے ۔ لیکن تاریخ تو بتاتی ہے کہ ملک کئی بار معاشی اور سیاسی انقلابات سے بحسن رضا گزر چکا ہے ۔اگر یقین نہیں تو معاشی انقلاب کی بدولت معرض وجود میں آئی سٹیل مل اب وبال جان ہے ۔ جان تو پی آئی اے کی بھی خطرے میں ہے ۔
جان کنی کا عالم ہو یا نہ ہو مگر گورکن تیار ہیں ۔
ان کی حالت زار تو "میں تو کمبل کو چھوڑتا ہوں مگر کمبل مجھے نہیں چھوڑتا "جیسی ہے ۔

Monday, August 30, 2010

علم باز گشت

0 comments
حسب معمول بارش کے قطروں کا درختوں پر گرنے کا نظارہ کرنے کے لئے بالکونی میں براجمان ہوں ۔بارش سے بچنے کے لئے چھوٹی چڑیا اپنی ہمجولیوں کے ساتھ میرے پاس ہی کسی محفوظ پناہ گاہ میں چیں چیں جیسی کسی اجنبی زبان میں مصروف گفتگو ہیں ۔جو غور کرنے کے بعد بھی سمجھ سے بالا تر ہے ۔اور نہ ہی ان کی حرکات و سکنات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ کس موضوع پر سیر حاصل گفتگو کر رہی ہیں ۔بارش کے رکتے ہی وہ دو دو تین تین کی ٹولیوں میں کبھی یہاں تو کبھی وہاں روٹی روزی کی تلاش میں سرگرداں ہو ں گی ۔اگر روزی روٹی کے لالے نہ ہوں تو ہر طرف خاموشی خوف کا سبب بن جاتی ہے ۔
ہمیں کئی طرح سے انسانی تہذیبی معاشرے سے بولنے کے لئے خیالات کی پیوند کاری ملتی ہے ۔ بغور مطالعہ کے بعد چند مفید مشاہدات سے استفادہ پانے کی خواہش جنم لیتی ہے ۔مشاہدات تو اتنے زیادہ ہیں کہ خواہشات پوری کرنے کی دھن میں لگ جائیں تو کم از کم ایک صدی بھی کافی نہیں ہو گی ۔یہاں میں نے عمر کی بجائے صدی سے کام لیا ہے ۔طویل زندگی پانے کی امید اتنی گھمبیرتا میں ممکن نظر نہیں آتی۔البتہ صدی کے نہ گزرنے میں کسی شک و شبہ کی فی الحال گنجائش نظر نہیں آتی ۔
ابتدائی زندگی کے ایام میں ہم نے وہی بولا ہوگا جو پیدائش کے بعد سکھانا شروع کیا گیا ۔یعنی جب سننا ہی علم کی تحصیل کا مقام تھا ۔پھر تو پڑھائی کا پہاڑ ہے یا پہاڑے ۔شائد اسی وجہ سے بچے سکول میں پڑھائی کرنے جانے سے پہلے وقت کو بہتر جانتے ہیں ۔جب وقت نہیں ٹھہرتا تو حصول علم کا تسلسل کیسے تھم سکتا ہے ۔قید میں بوڑھے طوطے سیکھنے کے عمل سے دور ہو جاتے ہیں ۔حافظہ کی کمزوری حافظ حلوہ سے پوری کرنے کی کوشش بھی رائیگاں جاتی ہے۔البتہ بادام کے بارے میں مختلف آراء ہیں ۔
لکھنا حروف تہجی کا محتاج تو ہو سکتا ہے ۔مگر بولنا کسی کلیہ کے قید و بند میں نہیں ۔ تعلیم و تدریس سے پہلے یقینا انسانی معاشرہ ہاتھوں ، آنکھوں اور منہ کی بناوٹ سے ہی بولنے اور سمجھنے کے قاعدہ و قانون کی پابندی میں رہا ہو گا ۔اس میں کیا شک ہو سکتا ہے کہ پہلے انسان نے بولنا سیکھا پھر لکھنا پڑھنا ۔ اور مشاہدات سے علم ترقی کی منازل طے کرتا چلا گیا ۔ اگر انسانی معاشرے میں حصول علم کا شوق پروان چڑھتا چلا گیا ۔تو حدودو قیود کی قد غن بھی لگائی جانے لگیں ۔ ایک لکھنا وہ ہے جس کی بنیاد پر آج انسانی معاشرہ سائنسی ترقی کی معراج پر ہے ۔آغاز جس کا کئی صدیاں پہلے ہوا ۔ اور زیادہ تر علم کی پیاس بجھانے کے لئے تھا ۔
جیسے رائٹ برادرز نے اپنے پیش روؤں کی طرح جو شوق پالا ۔ پیسہ خرچ کر کے پورا کیا ۔ آج جہاز سازی کی صنعت میں اس خاندان کی آجارہ داری نہیں ہے ۔انسان نے جتنی بھی ایجادات کیں ان میں شائد ہی کوئی ایک فی سبیل اللہ ہو ۔گاؤں کے سیدھے سادھے بے روزگار نوجوان بھی چوبرجی لاہور میں کھڑے بے کار پی آئی اے کے جہاز پر دبئی چلو کا خرچہ ادا کر کے سوار کرا دئے گئے تھے ۔
اب دوسری طرز کے لکھنے کو لے لیں ۔ لائبریری سے علم بجھے تو بجھا لیں ۔ خریدنے نکل کھڑے ہوں تو گھر کا چولہا بجھا لیں ۔تمام کتابوں تک رسائی ممکن نہیں رہی ۔ایک پبلشر سے سے پوچھا اتنی قیمت کیوں ۔ جواب میں مہنگائی کا وہی رونا تھا ۔ کاغذ مہنگا تو پرنٹنگ کی سیاہی بھی نہیں سستی ۔ پھر سستا کیاہے ۔ دو روپے کی روٹی ۔ یہ جملہ روزمرہ زندگی میں چست کیا جاتا ہے۔ کم از کم مہنگائی کے اس دور میں گرانی کا سبب بے علمی کا کوئی عمل تو نہیں ہو سکتا ۔
یہی ایک وہ نقطہ ہے جس کی تلاش ہو سکتی ہے کہ لکھنا ہی سب سے مشکل ہے ۔جو میں لکھتا ہوں وہ کسی کھاتے میں نہیں ہے ۔بات لکھاریوں کی کر رہا ہوں ۔جنہوں نے اتنا لکھا کہ اب ان پر لکھنے کی باری ہے ۔اب اگر سوچیں کہ واقعی کاغذ اور سیاہی کی بڑھتی قیمتوں نے ایسا کیا ہے ۔ تو میرا یہ مطلب نہیں ہے ۔ کیونکہ چھپوانے کے لئے بھاری رقم کا تقاضا تو الگ ہے ۔مگر لکھنے کے لئے سوچ کی جن اتھاہ گہرائیوں میں اترنا پڑتا ہے ۔ حقیقت میں ایک مشکل کام ہے ۔ اپنی ذات کو زرہ بے نشان بنا دیتا ہے ۔ سلام ہے ان ادیبوں شاعروں اور نثر نگاروں کو جنہوں نے جہاز اُڑانے والے رائٹ برادرز کی طرح تخلیق ادب کی تراکیب نکالیں ۔اور آنے والی نئی نسلیں ان سے مستفید ہوئیں ۔ان کی اکثر نایاب کتابیں کتب فروشوں کے ٹھیلوں پر سستے داموں آج بھی علم کی تشنگی رکھنے والوں کی پیاس بجھاتی ہیں ۔اور خوبصورت سرورق میں لپٹی امپورٹڈ کاغذ سے بنی صرف ہاتھ میں پکڑنے سے اپنے مالی وزن کا اظہار کر دیتی ہیں ۔

Wednesday, July 28, 2010

حد ہو گئی

9 comments
بلا سوچے سمجھے لکھنا فنکاری تو ہے مگر فن تحریر نہیں کہلا سکتا ۔ آج وہی کرنے جا رہا ہوں یعنی فنکاری ۔ ہر حد کو پھلانگنے کی آرزو ہے ۔آم اور امرودتوڑنے کے لئے تو دیواریں پھلانگتے رہے بچپن میں ۔ آج وہ کرنے جا رہے ہیں جسے دیکھ کر اہل علم کہیں گے کہ" حد ہو گئی یار "اگر بلاگ بنا ہی لیا ہے تو پیچھے بچا کیا ہے ۔
کیا اب شاعروں اور ادیبوں میں شامل ہونا چاہتے ہیں ۔ جو بے چارے حد سے گزرے ہوئے تھے ۔ اہل دانش اگر یہ کہیں وہ حد سے گرے ہوئے تھے ۔ تو پھرکھری کھری سننے سے کیسے بچیں گے ۔سنائیں کیوں نہ ساغر صدیقی مرحوم کو بھرے ہوئے سگریٹ پلا کر شاعری پر ہاتھ صاف کرنے والے مشاعروں میں واہ واہ کے ترانوں سے دم مست قلندر کرتے رہے ۔ تاڑنے والے قیامت کی نظر رکھتے ہیں ۔ شعر کو تول کر وزن بتا دیتے تھے ۔کہ کس کے ترازو سے نکلا ہے ۔
کہیں یہ تو نہیں سمجھا جا رہا ۔ کسی مشاعرے میں نہ بلانے کے غصے میں غبار نکال رہے ہیں ۔ایسا سوچئے گا بھی نہیں کیوں کہ میں ہفتہ میں ساتوں دن شیو بناتا ہوں ۔ اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ میں بہت خوش رہتا ہوں۔ لیکن یہ ضروری تو نہیں کہ غمگین رہنے والے ہمیشہ برا لکھتے ہیں اور خوش رہنے والے اچھا ۔
اچھا اور برا تو مقدر سے بھی ہوسکتا ہے ۔ اگر گالی دینے سے تھپڑ کھائیں تو کوئی مضائقہ نہیں۔ لیکن اگر منہ میں بڑبڑاناہی دوسرے کو ناگوار گزرے۔ تو حد سے گزرنے میں کیا حرج ہے ۔ کوئی شاعر تو اس حد تک جا سکتا ہے کہ " کتنے شیریں ہیں تیرے لب – گالیاں کھا کر بھی بے مزہ نہ ہوئے"۔
مگرہمیں کہاں تک جانا ہو گا ۔ایسا کام ہی نہ کرو کہ چھیڑنے میں مزہ رہے ۔ ابھی چند روز پہلے ہی کسی مہربان نے ایسا چھیڑا کہ اپنی صفائی دیتے دیتے منہ خشک اور کڑوا ایسا ہوا ۔ کہ کھانے میں سالن کی بجائے کھیر بھر بھر کر چپاتی کے نوالے بناتا رہا۔ مگر کیا کہنے چھیڑنے والے کے جو دوسروں کو دیکھ دیکھ کر ایک آنکھ بار بار بند کرتے ہوئے مشکڑیاں مار رہے تھے ۔اور اپنا لہو تھا کہ ابل ابل جا رہا تھا ۔چار گلاس پانی پینے سے لہو ٹھنڈا کیا ۔
بات انہوں نے اس جملے سے ختم کی کہ سناؤ آج کل کیا لکھا جارہا ہے ۔جھنجھلا کر جواب دیا کہ اب ایس لکھوں گا ۔قاری پڑھ پڑھ کر بھر بھر دل کا بوجھ ہلکا کرے ۔اور ایسے لوگوں کو ڈھونڈتا رہے پوری اکیسویں صدی ۔
جی ہاں مجھے کوئی جلدی نہیں ہے بدلہ لینے کی ۔حالات کے رحم و کرم پہ چھوڑ رکھا ہے ۔خود ہی انصاف کرے گا ۔ کیونکہ اب انصاف عدالتوں میں بھی نہیں تو پنچائت بلا کر بھی نا انصافی کا رونا رہے گا ۔
لیکن اگر یہ سمجھا جائے کہ میں نے چھوڑ دیا ۔ تو بلاگ کی دنیا چھوٹ سکتی ہے مگر " ہت تیری کی " کی نہیں ۔یہ تو اکثر پوچھتے ہیں کہ لکھنے کا خیال کیسے آیا ۔بلاگستان کا ممبر ہونے کا یہ اعزاز تو ملا کہ جناب بچپن سے شوق رکھتے ہیں اور جو بچپن سے جانتے ہیں ۔ ان کے لئے اتنا کہنا کافی ہوتا ہے کہ بچپن سے پک رہا تھا ۔ اب جا کر کہیں دم دینے کے قابل ہوا ہے ۔بھلا یہ بھی کوئی بریانی کی دیگ ہے جو اب دم پخت ہوئی ہے ۔
دیرآید درست آید کو سچ ثابت کرنے کے لئے حد پھلانگنے کی کوششٰں میں ہیں ۔اپنا ڈومین پانے کی دوڑ میں اب ہم بھی شامل ہو گئے ۔ورڈ پریس پہ بلاگ سپاٹ کا سارا مواد منتقل ہو چکا ، تھیم سلیکٹ ہو گیا ۔
بلا عنوان سے ہی سائیٹ بنانے کا عنوان مل گیا ۔لیکن ابھی خوشی کی خبر سے کافی دور ہیں ۔نام تو پہلےہی سوچ رکھا ہے ۔بدنام بعد میں ہو گا ۔
کھانے کی ہوش نہیں رہی ۔ کمپیوٹر پر بیٹھے بیٹھے پرانے درد نکل نکل کر چئیر سے چپک جاتے ہیں ۔ایک کے بعد ایک مسئلہ مشکڑیاں مار رہا ہے ۔ بلاگ تین چار بار حادثے کا شکار ہونے سے بچا ہے ۔ اب لہو کے ابال کو آٹھ دس گلاس پانی سے ٹھنڈک پہنچائیں گے ۔
کہتے ہیں کہ کچھ پانے کے واسطے کچھ کھونا بھی ہوتا ہے ۔اپنا ڈومین پانے کے لئے بلاگ کے اثاثہ جات سے ہاتھ دھونا گھاٹے کا سودا رہے گا ۔ کیونکہ قاری کو پرانی تحریریں ایک ایک کر کے پھر سے پڑھنی پڑیں گی ۔
بلاگستان میں ایک ٹرم بہت مقبول ہے کہ ٹریفک بڑھانے کے نسخہ جات کا استعمال کیسے کیا جائے ۔
حالانکہ حکومت عرصہ دراز سے ٹریفک کا دباؤ کم کرنے کے لئے کبھی کم بچے خوشحال گھرانہ اور کبھی بچے دو ہی اچھے کو زندگی کی بیمہ پالیسی کے اشتہار سے ترغیب دلانے کی ہمیشہ کوشش کرتی رہی ہے ۔
مگر دعا ہے کہ پاکستان کی آبادی بڑھنے سے رک جائے مگر بلاگستان کی ٹریفک بڑھتی جائے ۔