Showing posts with label آزادی. Show all posts
Showing posts with label آزادی. Show all posts

Thursday, May 3, 2012

طوطی اور سوداگر

0 comments
سندر خانی انگور ذائقہ اور مٹھاس میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ انورٹول آم خوشبو اور ذائقہ میں کسی سے کم نہیں۔اگر آم پھلوں میں بادشاہ کہلاتا ہے تو انگور بھی کسی رانی سے کم نہیں۔
لیکن اعلان وفا سے پہلے دونوں ہی کسی دشمن سے کم نہیں ہوتے۔ایسے دانت کٹھے کرتے ہیں کہ کسی جلاد سے کم نہیں ہوتے۔ اعلان وفا چند دنوں سے زیادہ نہیں ہوتا مگر یہاں تک سفر طے کرنے میں سال بھر میدان جنگ کا منظر پیش کرتے ہیں اور بدلتے موسموں کی تغیرات سے بچتے بچاتے انجام صبر کی مثال بنتے ہیں۔
سال بھر انتظار کے بعد حسن کے چرچے ہفتہ بھر ہی سننے میں رہتے ہیں۔ جن کے مقدر میں مٹھاس نہیں ہوتی ، وہ کٹھے ہی مرتبانوں کی زینت بن جاتے ہیں۔وہاں وہ منصب بادشاہت سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
رانی جب ڈھل جائے تو گلے سڑے ہوئے پانی سے نشہ کی لت کی شکار ہو جاتی ہے۔نرالا دستور ہے زمانہ کاایسی حالت میں رانی کی بیٹی بن کرتمکن چیرہ دست ہو جاتی ہے۔معاملہ کچھ بھی ہو۔ بات سمجھنے کے لئے کہانی ضروری ہوتی ہے۔
اگر بغداد کا سوداگر ہندوستان کی طوطیوں کو ایک قیدی طوطی کا پیغام پہنچاتا ہے تو اسے قید سے رہائی کی ترکیب سوداگر کے زریعے پہنچا دی گئی۔ جسے سوداگر کی قید میں روزانہ مرتی ہوئی طوطی نے خود کو مار کر قید سے رہائی کا پروانہ پا لیا۔ جسے بظاہر طائر کی عقلمندی سے رہائی کی حکایت بنا دیا گیا۔  مولانا رومی نے اپنی مثنوی میں تشبیہات اور استعارات میں ایسی کئی کہانیاں بیان کی ہیں۔
ان کے نزدیک طوطی تو دراصل ایک خوبصورت ، خوش گفتار اور دل کو چھو لینے والے حسن سے آراستہ روح تھی جو نفس کی سلاخوں سے بنے جسم کی قید میں تھی۔ جس نے نفس کی قید سے رہائی کا پروانہ تحسین و رغبت آدمیت کی نفی سے حاصل کیا۔ حسن جب نچھاور ہونے کے لئے حد سے بڑھ جائے تو رغبت انسانیت صیاد بے رحم بن کر دبوچ لیتا ہے۔پھر وہ نفس کی سلاخوں کے پیچھے قیدی بن کر رہ جاتا ہے۔
دوسروں سے آزادی کا نعرہ بلند کرنے سے قیدی سوداگروں سے رہائی نہیں پاتے بلکہ اس زندگی کو فنا کر دیتے ہیں جو صیاد کو دلربائی عطا کرتی ہے۔ خوبصورت اور خوش الہان پرندے قید و بند کی صعوبتوں سے گزرتے ہیں مگر ملکہ ترنم کوئل نہایت خوبصورت ، دلکش اور کانوں میں رس گھولنے والی آواز کے باوجود کھلے درختوں پر آزاد رہتی ہے۔ اس کی آزادی کا راز یہ ہے کہ وہ قید ہونے سے پہلے صیاد کے ہاتھوں میں ہائی بلڈ پریشر سے فنا ہو جاتی ہے۔ اس کا ایسے مر جانا آزاد زندگی کی علامت ہے۔
کھلے روشندان سے کمرے میں قید ہونے والی چڑیا آزادی کے لئے چھتوں ، پنکھوں سے جس طرح ٹکراتی ہے، وہ آزادی کو سمجھنے کے لئے کافی ہے۔ پیدائشی قیدی طوطا پنجرے کا دروازہ کھلا ملنے پر طوطا چشم ہو جاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں پیدائشی آزاد روح انسانی ، نفس بدن کی قید میں بھی خوشی کے ترانے گنگناتی ہے۔ اس کی آزادی اس کے
 تفکر میں ہے، صبر میں ہے ، شکر میں ہے۔
محبت میں ہے، قربت میں ہے، عبادت میں ہے۔
اقرار میں ہے، دلدار میں ہے، ابرار میں ہے۔
آسمان میں ہے، ایمان میں ہے، قرآن میں ہے۔
سبب میں ہے، طلب میں ہے، قلب میں ہے۔
احد میں ہے، حمد میں ہے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں ہے۔
کامیابی قدم چومے تو دولت و شہرت کا پہلا شکار وہ خود ہوتا ہے۔ زر زمین کی فرمائش پر پہلے خود قربان ہوتا ہے۔ پھراپنی روح کو نفس بدن کا قیدی بنا دیتا ہے۔ ظاہری تبدیلیوں سے ارواح انسان کو نفس کی غلامی کا درس دیتا ہے۔ اس کی نشانیوں میں ایک نشانی ضرورتوں کا بڑھ کر آسائش بن جانا ہے۔ معاشرے کے لئے وہ آلائش بن جاتی ہیں۔ پھر ہر ایک کی وہ فرمائش بن جاتی ہے۔
انسان کے لئے پیغام انسانیت ہے، پیغام آدمیت ہے۔آدمی نے مادیت کا پیغام  خود سے پہنچانا شروع کر دیا ہے۔ جس کی اساس مادہ پرستی ہے۔ مادہ پرستی نفس کے درون قید خانہ کی بالکونی ہے۔ جہاں سے روح کی آمدورفت کی راہ میں دعوت گمراہی کا انتظام ہوتا ہے۔
وجود کو آلائشوں سے پاک رکھنے کے لئے آزادی کی جنگ لڑی جاتی ہے جس سے انقلاب برپا ہوتا ہے۔ طوطی کی طرح خود کو فنا کر کے بقاء پائی جاتی ہے اور اس کے لئے نفس کے سوداگر سے آزادی کا مفہوم حاصل کرنا ہوتا ہے۔
قیدیوں کو دیکھ کر خوش نہیں ہوا جاتا بلکہ انہیں قید سے رہائی کا راستہ دکھایا جاتا ہے نا کہ سوداگر کے ہاتھ میں اپنی ہی آزادی سونپ دی جائے۔
ملک آزاد ہوتے ہیں۔ جنگل آباد ہوتے ہیں۔ صرف طوطے قید ہوتے ہیں۔ ہاتھوں کی چوری جنہیں بادشاہ اور رانی سے بڑھ کر مٹھاس کا نشہ دیتی ہے اور دوسروں کو بھی اسی راستے کا مسافر بناتی ہے جس کی منزل قید ہو۔


تحریر : محمودالحق


Sunday, April 15, 2012

ہدایت یا روایت

1 comments
تاریخ کے ٹیچر کے کمرے میں داخل ہوتے ہی مانیٹر کہتاکلاس سٹینڈ۔ تمام طالب علم مؤدب کھڑے ہو جاتے۔ ٹیچر ہاتھ کے اشارے سے انہیں بیٹھنے کے لئے کہتا۔طالب علم روزانہ کی طرح اپنے اپنے بستوں سے کتابیں اور نوٹ بکس نکالتے۔ انہیں ہر روز ایک نئے سبق کو پڑھنے کی عادت سالہاسال سے تھی۔ ہر اگلی جماعت میں ایک کے بعد ایک نئی سبق آموز کہانی ان میں اخلاقی ، مذہبی اور نفسیاتی تربیت کے پہلوؤں کو اجاگر کرتی۔ انہیں ہمیشہ تاریخ کا آئینہ دکھا کر سمجھانے کی کوشش کی جاتی رہی۔کیسےٹیپو سلطان نے اپنے دشمن کو میدان جنگ میں گھوڑا پیش کیا۔ وہ زمانہ ٹیکنالوجی کا نہیں تھا۔قلعوں پر پتھر برساتی منجنیق ہی جدید ترقی کا شاخسانہ تھی۔ ٹی وی ریڈیو درکنار اخبار نام کی بھی کسی شے کا وجود نہیں ہوتا تھا۔ گرمیوں میں جس جنگ کا فیصلہ ہوتا۔ موسم سرما میں دور درازکے علاقے اس سے آگاہ ہوتے۔ اس بات کو یوں بھی سمجھا جا سکتا ہے،کولمبس کے 1492  ء میں امریکہ دریافت کرنے سے پہلے دنیا مکئی یعنی کارن کے نام سے نا آشنا تھی۔ بلکہ آلو ، ٹماٹر جیسی نعمتیں بھی ہنڈیا میں جلنے بھننے سے محروم تھیں۔ اور ریڈ انڈین معمولی گھوڑے جیسی بنیادی سواری سے بھی محروم تھے۔
دنیا میں انسان نے ایک کے بعد ایک نئی شے کو متعارف کرایا۔ اس کا سہرا جستجو سے زیادہ ضرورت کو جاتا ہے۔ اسی لئے تو ضرورت ایجاد کی ماں کہلاتی ہے۔ جدید دنیا کی ترقی کے اہم کرداروں میں ایک لائبریری بھی ہے۔ جہاں جستجو نے تحقیق کا راستہ اپنایا اور انسان کو اس راہ پر ڈال دیا کہ وہ فاصلوں کو علم و رقم کی تلاش میں سر کرنے لگا۔ جس کی موجودہ شکل ہمارے سامنے ہے جہاں حسب ذائقہ پھل و سبزیوں کی تجارت اختیار کی جاتی ہے۔ اگر اس شے کا وجود نہ بھی ہو کیلنڈر ایسا ضرور مل جائے گا جہاں سے اس کی تصویر اور نام سے پہچان رہتی ہے۔
انسانی تاریخ میں ہمیشہ سے انسانوں کے پرندوں کی طرح ایک علاقہ سے دوسرے علاقہ میں نقل مکانی کے شواہد ملتے ہیں۔ مگر پورے قبائل کی نقل مکانی کے شواہد کم ہیں۔ ایسے انسان جو اپنے حال سے مطمئن نہیں یا جنہیں دوسرو ں سے آگے بڑھنے کی لگن ہو، ہمیشہ سے ہی ایسی منزلوں کے مسافر بنتے ہیں۔ وہ اپنے راستے میں آنے والی ہر مشکل گھڑی کو موت کی طرح ٹال دیتے ہیں اورکھلے سمندروں میں کشتیوں سے ساحل کنارے پہنچنے کی آرزو میں چند ایک اپنی جان سے بھی چلے جاتے ہیں۔
 قوموں کے اثاثے ان کی لائبریریاں ہوتی ہیں اور لائبریری کے روح رواں ان کے قائد۔جن کے دم سے وہ آباد ہیں۔ جو مرنے کے بعد بھی اقبالیات اور غالبیات بن کر زندہ رہتے ہیں۔ چاہے مذہب ہو یا ادب ، تاریخ ہو یاسیاست اپنے اپنے پیرو کاروں کے سہارے نسل در نسل عقیدت مندوں میں کسی روحانی مرشد کی طرح فیض پہنچاتے رہتے ہیں۔ یہی وہ طبقہ ہے جو معاشرے میں بنا امارت کے بھی تعظیم وتکریم کے لائق جانا جاتا تھا۔
آج کا دور ایک مختلف دور ہے ہدایت کی بجائے روایت کا راستہ اپنایا جاتا ہے۔ ترقی کرنے کی پاداش میں قوموں کو اجتماعی خود کشی کے لئے مواقع فراہم کئے جاتے ہیں۔ کامیابی کے جس زینے پر خود چڑھتے ہیں دوسروں کو احساس محرومی کی بلند و بالا عمارتوں سے دھکا دیتے ہیں۔ نامعلوم طریقے سے احساس کمتری پروان چڑھتا رہتا ہے۔جو مایوسیوں کے اندھیرے میں انہیں دھکیل دیتا ہے۔جو ان کا مقدر نہیں۔
بچوں کے تعلیمی ریکارڈ آن لائن دوسروں کو دکھائے جاتے ہیں تاکہ وہ بھی ہدایت کی بجائے روایت کی بھینت چڑھ جائیں۔ انسان نے اخلاقی اقدار کو دنیاوی قابلیت کے چوغے پہنا دیئے ہیں۔ نصیحت اور گائیڈ لائن کی آڑ میں دوسروں پر برتری ثابت کرنے سے ضرور احساس برتری کو تقویت پہنچاتے ہوں گے۔ چند کتابوں سے زندگی کے مفہوم اخذ کر لئے گئے۔ پھر علم کی معراج پر تجربات کی مہر ثبت کر دی گئی۔
نناوے فیصدکرپشن اور ہٹ دھرمی جس دور کا خاصہ بن جائے وہاں ایک یا دو فیصد اچھائی کے پنپنے کے لئے وسائل سے زیادہ طاقت کی ضرورت ہوتی ہے۔ جس کے لئے سچائی کی ضرورت ہوتی ہے اور سچائی کے لئے ہمت کی ۔ ہمت کے لئے بھروسہ کی۔ بھروسہ کے لئے عہد کو پورا کرنے کی یقین دہانی اور عہد ایمان کا متقاضی ہے۔
نوجوان جس منزل کی تلاش میں نکلتے ہیں۔ بوڑھے جو بھٹکے ہیں انہیں پھر اسی راستے پر ڈال دیتے ہیں۔ سبق انہیں یہ دیا جاتاہے کہ گھوڑے دشمنوں کو دینے سے قوم ترقی کی راہ پر نہیں چلتی بلکہ مکئی ، آلو اور ٹماٹر کی دریافت نے دنیا کو ایک نئی جہت متعارف کرائی۔ بدلے میں انہیں گھوڑے جیسی سواری کی نعمت عطا ہونا بذات خود ایک بڑی نعمت ہے۔
جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ایک بنچ پر بیٹھے دو طالب علم سالہاسال کے بعد بھی بستے میں سے کتابیں نکال کر قصے کہانیوں سے آگے نتائج حاصل نہیں کر پاتے اور دو متضاد سوچوں کے ترجمان بن کر ایک سکول سے نکل کر دنیا کے دوسرے کونے تک دو مختلف ، متضاد نظریات کے حامل پروردہ رہتے ہیں۔ جنہیں دوسروں کے مسائل میں جھانکنا اس لئے اچھا لگتا ہے تاکہ وہ ان کی کامیابی کو قریب سے دیکھ کر انہیں شاباشی دے سکیں۔
 ۔28 سال پہلے آزادی کی نعمت سے ہمکنار ایک ملک کے دو سو کے قریب باشندے   1975 میں دنیا کے ایک بڑے شہر میں آباد ہوئے۔ ان کے قریب ہی ایک دوسرے ملک جسے آزاد ہوئے چار سال ہوئے تھے چند گھر آباد ہو گئے۔37 سال بعد وہ چند گھر چالیس ہزار کی تعداد تک جا پہنچے اور نظریہ کی بنیاد پر  65 سال قبل آزادی حاصل کرنے والے اب وہاں شائد پچاس بھی نہ رہے ہوں۔ سب اونچی پرواز کے شوق میں پچاس میل کے علاقے میں امارت کی نشانیاں بن گئے۔ قوموں کو پڑھنے کے لئے کسی فارمولہ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ قومیں اپنا آپ دکھاتی ہیں، تاریخ قوموں کو آئینہ دکھاتی ہے۔ایسا کوئی سانچہ نہیں جس میں ڈھل کر قوم بنتی ہو۔

تحریر: محمودالحق

Sunday, August 15, 2010

سیلابی ریلے ۔بہہ گئے ۔زندگی کے میلے

4 comments
بات جتنی مختصر اور جامع ہو گی ۔ اختلاف کی اتنی ہی کم گنجائش رہے گی ۔زیادہ بولنے سے کبھی زبان پھسل جاتی ہے تو مضمون کی طوالت سے بھی ایسا ہونا ممکن ہے کہ جزبات کی رو میں بہتے بہتے اعتراض کی زد میں جا پہنچیں ۔خود کو اجڑ و گنوار کہوں تو بات سمجھ میں نہیں آئے گی ۔ کیونکہ انداز بیان سے تو کوئی اندازہ نہیں لگا پائے گا ۔ کہ تعلیم کا میدان کہاں تک سر چکے ۔جو اس سر درد کے مرض میں مبتلا رہے ہوں تو چوٹی سر کرنا محاورے میں استعمال اچھا لگتا ہے ۔
پہاڑوں سے بہتے بہتے میدانوں تک پھیلتے پانی جب آنکھوں سے آنسو بن برس جائیں ۔ تو خوشیاں دیکھنا تو درکنار سوچنا بھی بیکار ہو جاتا ہے ۔ قافلے بے سروسامانی کے نشان، سر پہ گھٹڑیاں بندھی زندگی بھر کی پونجی کے ساتھ ،سوال کرتی آنکھیں خاموش زبان سے شاعری کے مجموعہ کلام پر بھاری پتھر سے کاری ضرب لگاتی ہیں ۔
دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی امن کی فاختائیں ۔ رحم کی صدائیں ۔درگزر کی ادائیں ۔محبت کے گیت ۔ کھیت کھلیان باغ دلکشا۔نہ دیکھوں پھر کبھی اجڑے دیار ۔ بچھڑے یار ۔ مدد کے طلبگار۔ نہیں ہوش کون ہے کس کا دلدار ۔ بس امید کی ایک آس ہے ۔ چہرے تصویر یاس ہے ۔لٹے پٹے قافلے ہیں ۔ آٹا دال چاول کے مہنگے لوٹتے گھاؤ ہیں ۔پچیس ہزار میں پچاس میل کی مسافت کا بار ہے ۔
ہزار ہزار دیگوں میں بٹتی مرغ بریانی ہے ۔ پھر بھی بھوکے اکثر بےیارومددگار ہیں ۔بے چارے تعلیم میں بھی بہت پیچھے ہیں ۔ علم سے نابلد اجڑ و گنوار ہیں ۔کلاس روم کےنام سے بھی تھےجو نہ آشنا آج سکولوں میں حاضری رجسٹر پر پسماندہ حال ہیں ۔ خواندگی کی شرح شرمندگی کی سطح پر۔ پہلے ہی سکولوں میں پناہ لی ہوتی ۔ توان پڑھ گنوار نہ رہتے۔ ہر الیکشن میں انگوٹھا لگانے سے انگوٹھا چھاپ نہ کہلائے ہوتے ۔
گھروں سے بے گھر مہاجر ہیں توسکولوں میں رہتے پناہی ۔ صفحہ ہستی سے مٹنے والے اپنے گھروں کو جو نہ واپس لوٹ سکیں ۔اسی زمین پر رہیں گے بے گھر ہاری کسان بن کے مہاجر یا پناہی ۔
ہر طرف لاشیں ہیں ۔ نہیں رہتی اب نئی خواہشیں ۔زندگی امن سے جی لیں یہی اب ہیں فرمائشیں ۔کون جینے دے گا ۔ پانی اترنے کی دیر ہے ۔ زندگی صرف انہی کی اندھیر ہے ۔ جنہیں پہلے جینا بیزار تھا اب وہی زندگی کے طلبگار ہیں ۔
ایک معافی پہ پھر وہی بنائیں گے نئی سرکار ۔ جو آج نظر آتے ہیں لاچار ۔ مدد کے لئے آقاؤں کا ہے انہیں انتظار ۔آج سیاست پر بات نہیں کرنا تھی پھر بھی ایک آدھ فقرے کے لئے معذرت ۔ کیونکہ وہی مسیحا ہیں ۔ بااختیار ہیں زور آور ہیں ۔ ان کی مدد کے بغیر تسلی و تسفی نہیں ۔ شکوہ انہی سے سب کرتے ہیں ۔ قوم کو ایک کرنے کا تہیہ اب وہ آپس میں مل بیٹھ کر کرتے ہیں ۔ ووٹوں پر جو تقسیم کرتے تھے ۔
ہر لیڈر کی اپنی قوم ہے پنجابی پختون سندھی بلوچی۔ جو ان میں نہیں وہ متحد ہے ۔14 اگست ان سب کی آزادی کا دن ۔ جب سب اکٹھے جشن مناتے ہیں ۔ صرف عید کے چاند پر اتفاق نہیں کرتے ۔ تین دن تک اپنی ڈیڈھ اینٹ کی مسجد الگ بناتے ہیں ۔
جب الگ الگ ہو چکے تو اب یکجہتی کی ضرورت آن پڑی ۔ اب قطرہ قطرہ دریا بننے میں دیر کر رہا ہے ۔دوسروں پر انحصار کی بجائے خود کے بازو کو ہی طاقت بنایا ہوتا ۔ استعمال کے بعد نہ انہیں بھلایا ہوتا ۔ تو متاثرین کوخالی پلاٹوں سے بھی بے سروسامانی کے کیمپ اٹھائے جانے کو نہ کہا جاتا ۔5 ہزار روپے من تک آٹا نہ بکتا ۔
اگر انہیں سیاست کے میدانوں کے بڑے شکاری نہ لکھوں تو پھر کیا لکھوں ۔ جانتا ہوں کہ سیاسی حالات پر لکھنا بوریت پیدا کرنے کا سبب ہے ۔ اختلافی موضوعات کو جو پزیرائی حاصل ہے وہ کسی دوسرے موضوع کو نہیں ۔ خاص کر لسانی اور مذہبی ۔ یہ کسی مفروضہ کی بنیاد پر نہیں کہہ رہا ۔بہت سی باتیں کچھ کھلی تو کچھ ڈھکی چھپی بیان کر چکا ۔ اب اگر بات یہیں ختم نہ کروں تو پھر اعتراضات کی ایک لمبی لسٹ ہے ۔ تجربات اتنے سنجیدہ ہیں کہ غیر سنجیدگی طاری نہیں ہوتی ۔

Friday, August 13, 2010

بدترین جمہوریت بہترین آمریت سے بہتر

2 comments
بد ترین جمہوریت بہترین آمریت سے بحرحال بہتر ہوتی ہے ۔ روزانہ ہی ٹی وی پر ہمارے سیاستدان یہ راگ آلاپتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں ۔لیکن جمہوریت کی نہ تو صحیح ترجمانی کی جاتی ہے اور نہ ہی اصل شکل دکھائی جاتی ہے ۔
جمہوریت سے مراد گلی محلوں اور گاؤں سے الیکشن جیت کر پارلیمنٹ میں کھلی چھٹی پا کر سیاہ و سفید کے مالک ہو جانا مراد نہیں ۔سیاسی باپ کے بوڑھے ہونے سے پہلے نوجوان بیٹے کو سیاسی گدی نشینی کے لئے تیار کیا جانا بھی نہیں ۔ بد ترین جمہوریت بہترین آمریت سے بہتر اسے کہا گیا ہے کہ جس میں معاشرے کے عام افراد بلا خوف وخطر اپنی آزادی اظہار رائے کا حق رکھتے ہوں اور نمائندگی کے لئے وراثت کی بجائے قابلیت کا معیار اپنایا گیا ہو ۔
جمہوریت سے مراد ہے عوام کو اپنے میں سے نمائندگی کا حق ، آزادی رائے کا حق،کاروبار و جائیداد کے تحفظ کا حق،مذہبی آزادی کا حق،تحریر و تقریر کا حق،معاشی تحفظات کا حق،بنیادی تعلیم اور حفظان صحت کا حق،امارت و غربت سے قطع نظر مساوی بنیادوں پر قانون و انصاف کے حصول کا حق،معاشرتی نا انصافی اور سماجی غنڈہ گردی سے استحصال سے محفوظ رکھنے کا حق، ایک عام آدمی کے وہ تمام حقوق جو حکمرانوں سے لیکر قانون نافذ کرنے والے اداروں تک اور انصاف فراہم کرنے والے اداروں سے لیکر آزادی صحافت میں لپٹی بعض کالی بھیڑوں سے عزت نفس کو محفوظ رکھنے کا حق بھی شامل ہیں ۔
جس جمہوریت کی آساس آئین پر ہو ۔وہی آئین معاشرے کے تمام مکاتب فکر اور افراد کو حقوق فراہم کرتا ہے ۔مگر بد قسمتی تو دیکھئے آئین کی پاسداری سے صرف پارلیمان ہی اپنے لئے حقوق کا مطالبہ رکھتے ہیں ۔
جن حکمرانوں پر عوام کا اعتبار اٹھ چکا ہو اس سے بڑی بد قسمتی کیا ہو گی ۔وزیراعظم سیلاب فنڈ میں شرمناک حد تک عطیات کا اکٹھا ہونا اس بات کی دلالت ہے کہ عوام جمہوری بھائی بندوں کی ایمانداری پر شکوک کا شکار ہے ۔آخر کار جمہوری وزیراعظم کا میڈیا پر عوام سے مخاطب ہو کر یہ یقین دلانا کہ ایک ایک پائی ایمانداری سے سیلاب زدگان تک پہنچائی جائے گی ۔ اور اس کا حساب بھی دیا جائے گا ۔ ویب سائیٹ پہ جا کر چیک کیا جا سکے گا ۔
پاکستانی عوام نے مصیبت کی ہر گھڑی میں جمہوری حکومت ہو یا آمریت دل کھول کر امداد کی ہے ۔مگر آج وہ مایوس ہیں ان کے کردار و گفتار سے ۔جمہوریت کے یہ چمپئن پارٹی ٹکٹوں پر کروڑوں روپے خرچ کر کے یہاں تک پہنچے ہیں ۔ اور جو اسمبلیوں میں نہیں پہنچے وہ بھی اتنے ہی داؤ پر لگا چکے ہیں ۔ اگر وہی لوگ اپنے الیکشن پر پولنگ کے روز دیگوں پر خرچ آنے والی رقم کا آدھا بھی سیلاب فنڈ میں دے دیتے تو حکمرانوں کو سبکی نہ ہوتی ۔
ہمارے ہاں ایک عام رویہ یہ پایا جاتا ہے کہ قومی سطح پر امداد کی بجائے عید قربان پر کھالیں اکٹھا کرنے والوں کی طرح تمام سیاسی جماعتوں کے الگ الگ شامیانے ہر شہر میں عوام سے کھلے دل سے امداد کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔مگر ان تمام سیاسی جماعتوں کے اربوں روپے خرچ کر کے الیکشن لڑنے والوں سے قوم کو کیا توقع رکھنی چاہئے ۔ جو صرف قوم سے لوٹا پیسہ قوم پر لگانے کو جائز سمجھتے ہیں ۔اگر صدر صاحب ہی مانچسٹر میں پچاس لاکھ کا اعلان کرنے کی بجائے اس دورہ پر سرکاری فنڈ سے کروڑوں روپے خرچ کرنے کی بجائے دورہ منسوخ کر دیتے اور یہی رقم سیلاب زدگان کے فنڈ میں دے دیتے تو آج وزیراعظم صاحب کو یہ نہ کہنا پڑتا کہ ایک ایک پائی کا حساب دیا جائے گا ۔
عوام سے صرف قربانی مانگی جاتی ہے ۔سیلاب نے جو تباہی پھیلائی ہے ۔ بچ جانے والوں کے پاس اب صرف کھالوں کے علاوہ کچھ نہیں بچا ۔جو ان کے کسی کام کی نہیں ۔ہماری حکومتوں کو جانوروں کی شکل میں صرف کھالیں چاہئے اور انسانوں کی شکل میں بکرے ۔جو صرف چھری دیکھانے سے میں میں کرنے لگیں ۔
جن معاشروں میں تعلیم کا فقدان ہوتا ہے ۔وہاں چند پڑھے لکھے اندھوں میں کانا راجہ کے مصداق کامیابی کے زینہ پر جلد چڑھ جاتے ہیں ۔مجمع اکٹھا کرنے کے لئے تماشا سے بڑا مداری ہوتا ہے ۔کیونکہ تماشا دیکھا نہیں جاتا دیکھایا جاتا ہے ۔تماشا چاہے ماچس کی ڈبیا کا ہو ۔ مگر زبان سے منظر باندھنے والا اسے بڑھکا دیتا ہے ۔
برکتوں کا مہینہ ماہ رمضان کا آغاز ہو چکا ہے ۔مکمل سادگی اختیار کریں ۔عید کے اہتما م میں ہزاروں روپیہ خرچ کرکے امیروں کی تجوریاں بھرنے کی بجائے مصیبت اور مشکل کی اس گھڑی میں اپنے بھائیوں کی مدد کریں ۔سیاسی اور سیاست کرنے والی مذہبی جماعتوں کو جانچنے کا سب کا اپنا پیمانہ ہے ۔ جن اداروں کا ماضی بے داغ ہے اور خدمت خلق میں جن کا نام کی بجائے کام بڑا ہے ۔ انہی کے سپرد اپنی امدادی امانت کریں ۔ جو پچھلی کارکردگی کے فوٹو سیشن سے بیوقوف بنانے کی کوشش بھی نہیں کرتے ۔
وزیراعظم کا سیلاب میں پھنسے لوگوں کے درمیان جانا اچھا فعل ہے مگر ایک ایک فرد کو کیمرے کی آنکھ کے سامنے تھیلا تھمانا شرمناک فعل ہے ۔ آخر میں تو صرف یہی بات رہ جاتی ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اجڑے باغاں دے گالڑ پٹواری

Friday, July 30, 2010

کیا ہم شرمندہ ہیں

0 comments
ہم شرمندہ بالکل نہیں ہیں کہ قائد نے ہمیں آزاد وطن دیا ۔جہاں ہم آئندہ نئی نسلوں کو بھی ایسی سرزمین کا تحفہ دیں جو انہیں عزت ، احترام اور وقار دے سکیں۔دنیا کے نقشے پہ ابھرنے والا یہ ملک پاکستان کی بنیاد نظریاتی اساس پہ رکھی گئی تھی ۔صرف اتنا نہیں کافی کہ ہم مسلمان ہیں بلکہ مذہبی آزادی کے ساتھ ساتھ ہمیں معاشرتی، معاشی ، تمدنی آزادی بھی درکار تھی ۔جو صرف اسی صورت ممکن تھی ۔کہ ہم بحیثیت مسلمان قوم کے ایک الگ خطے میں اپنی زندگی کا آغاز کریں ۔ اس قوم کوزندہ رہنے کے لئے صرف اناج پیداکرنے کا نہیں کہا گیا ۔ بلکہ تمام خوبیوں کو پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ۔ جو کہ عوام کی بنیادی ضروریات سے ہم آہنگی رکھتی ہوں ۔
وطن کی آزادی سے کیا مراد لی جاتی ہے ۔غاصبانہ قبضے سےچھٹکارا حاصل کرنا ۔ ہندؤانہ ذہنیت کی حکمرانی سے چھٹکارا پانا یا پھر انگریز راج کے جھنڈے کے نیچے سےنکل کر الگ وطن حاصل کرنا ۔ نہ کہ چند اسلامی شعائر اپنا نےکے سوا ہر بری عادت کو اپنانا ضروری سمجھا جائے ۔آزادی سے مراد کیا زمین کے ایک ٹکڑے پہ اس لائن آف کنٹرول کو آزادی کی نعمت سے منسوب کیا جائے ۔ یقینا آزادی سے مراد سرحدوں کے تحفظ تک نہیں لئے جاتے ۔ بنیادی طور پر فکری اساس اور نظریاتی اقدار کے لئے آزادی درکار ہوتی ہے ۔ فوج سرحدوں پر متعین کر دینے سے آزادی کا ایک ہی جز پورا ہوتا ہے ۔ لیکن مکمل مفہوم اس سے مراد نہیں لیا جا سکتا ۔
دشمن کی توجرآت نہیں کہ وہ ہماری سرحدوں کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی دیکھ سکے ۔مگر پورا معاشرہ چادر اور چار دیواری کے تحفظ کے لئے اپنے ہی گھروں میں مقفل ہے ۔ سرحدوں پر توآمدورفت کی نقل و حرکت کو روکنے کے لئے باڑیں لگا دی جاتی ہیں ۔لیکن آج ہمارے اپنے گھر اونچی اونچی دیواروں اور لوہے کے جنگلے میں گھرے نظر آتے ہیں ۔جو ہماری آزادی کا منہ چڑا رہے ہیں ۔ ان تریسٹھ سالوں میں پردے کی ایک باریک تہہ سے ترقی کرتے کرتے ہم بڑے بڑے قلعہ نما لوہا کے دروازوں کے اندر نظر بند ہیں ۔ چند ہزار فوجی سرحدوں کے دروازوں پر اٹھارہ کروڑ عوام کی آزادی کا تحفظ کرنے کے لئے چاک و چوبند کھڑے ہیں ۔اور دوسری طرف آٹھارہ کروڑ عوام اپنے ہی منتخب چند ہزار نمائندوں کے ہاتھوں یرغمال ہیں ۔جو انہیں معاشی معاشرتی تحفظ فراہم کرنے سے قاصر رہے ۔ جان و مال کی حفاظت کی ذمہ داری بھی احسن طریقہ سے نہ نبھا سکے ۔جرائم پیشہ گروہوں کی سرکوبی کی بجائے سرپرستی نے قوم کو تنہائیوں کا شکار کر دیا ۔
اپنے ہی گھر میں داخل ہونے سے پہلے ارد گرد کا بخوبی جائزہ لینا پڑتا ہے ۔ جیسا کسی کے گھر میں نقب لگانے کی تیاری ہو ۔قبضہ گروپ اور لینڈ مافیا کی ٹرم اتنی مقبول ہو چکی ہیں ۔ کہ اس کو اختیار کرنے والے نمائندگی کا استحقاق رکھ لیتے ہیں ۔چوری ڈکیتی میں اضافہ ، عورتوں پہ مظالم اور نا انصافی نے پورے معاشرے کو ایسے گھیرا ہوا ہے کہ وہ جونک کی طرح فکر و روح کو کمزور کر رہی ہے ۔
اسلام کے نام پر وطن حاصل کیا گیا تھا ۔ صرف اتنا باور کرانا کافی نہیں ہو گا ۔ خلفاءراشدین کے بعد دورحکمرانی میں اسلامی ریاستیں مکمل اسلام کا نمونہ پیش نہیں کرتی رہیں ۔ جس معاشرے میں مذہبی فرقہ بندی کے نام پر خون بہایا جاتا رہا ہو ۔وہاں پہلے ضرورت تو ہے اس بات کی کہ اس معاشرے کے افراد میں ہم آہنگی ہو ، یگانگت ہو، بھائی چارہ ہو ، برداشت ہو ۔
اللہ ، محمدﷺ اور قرآن پر کوئی اختلاف نہیں لیکن پھر بھی اعتراضات کی ایک لمبی لسٹ ہے ۔ جو جسے پسند نہیں اس کا اچھا عمل بھی پسند نہیں رہ جاتا ۔ زوال پزیر ممالک یا زوال پزیر معاشرہ کبھی نہیں سنا ۔ صرف قوموں کو زوال آتا ہے ۔ اقوام اس کا شکار ہوتی ہیں ۔ سلطنت عثمانیہ کو زوال آیا تو کئی نئے آزادممالک بن گئے۔وہ ممالک آج بھی دنیا کے نقشہ پر موجود ہیں مگر وہ نظریہ و فکر ختم ہو گیا ۔ نظریہ اور فکر سرحدوں کا محتاج نہیں ہوتا ۔ مگر سرحدیں بندشوں کی پابند ہوتی ہیں ۔ نظریہ اور فکر کو پنپنے کے لئے کسی اختیار و اقتدار کی ضرورت نہیں ہوتی ۔
دنیا میں آنے والے بیشتر انقلابات کسی کو ویلکم اور کسی کو گڈ بائی کہنے کی بنیاد پہ تھے ۔ منجمد سرحدیں ویلکم اور گڈ بائی کے اثرات سے محفوظ ہوتی ہیں ۔ جس معاشرے میں نظریہ، ضرورت کی بنیاد پرعدل وانصاف کے ایوانوں میں گونجنے لگے۔ تو وہاں اس معاشرے کے نہ تو گھر بار محفوظ رہتے ہیں اور نہ ہی مزار و بازار ۔تیس پاروں پر مشتمل محمد ﷺ پرنازل اللہ کی کتاب قرآن پاک ہمیں روحانی و فکری اساس فراہم کرتا ہے ۔
فکری اساس کے ساتھ ساتھ یتیموں اور بیواؤں کی دست گیری کا بھی حکم واضح ہے ۔جو ہمارے ہی معاشرے میں ناگہانی اور اتفاقی اموات کی بجائے حادثاتی اموات یتیموں اور بیواؤں کی تعداد میں اضافہ کا سبب بنتی جا رہی ہیں ۔ جہاں عبادت کے ساتھ ساتھ امانت صداقت دیانت شرافت پہ بھی بہت زور دیا گیا ہے ۔ جس پہ ہم کبھی بھی عمل پیرا نہیں ہوئے ۔ آپﷺکا اسوہ ءحسنہ ہمیں ایک ایسا راستہ دیکھاتا ہے ۔ وہ راستہ جو قرآن کی منزل بتاتا ہے ۔
جہاں ہم رہتے ہیں صرف نا پسندیدہ اشیاء ہی کو حرام جانا جاتا ہے ۔ رنجشیں ، عناد ، بغض ، کینہ ، غیبت اور ایسی بے شمار خرافات ہمارے معاشرے میں اکاس بیل کی طرح پھیل چکی ہیں ۔ کہ ختم ہونے میں زندگی کا ایک حصہ درکار ہے ۔ آزادی کی خوشی ٹی وی پر ترانے چلانے ، موٹر سائیکل بھگانے اور جھنڈیاں لگانے سے نہیں حاصل ہو پاتی ۔آزادی کی خوشی تو تب ہو گی جب گھر کے دروازے چوبیس گھنٹے کھلے رہیں ۔ اور بے فکر ہو کر سو سکیں ۔ دروازوں پر دستک دینے سے صرف کسی مہمان کا ہی خیال ذہن میں ابھرے ۔ کسی چور ڈاکو کا نہیں ۔
رمضان کی آمد آمد ہے اور چودہ اگست بھی ۔ پھل کھجوریں دودھ اور ہر وہ شے جو سحر و افطار میں خوشی کا باعث ہوتی ہیں ۔ اتنی سستی ہوں ۔کہ غریب آدمی ماہ صیام میں عبادت میں صرف رحمتیں سمیٹنے کی فکر میں مبتلا ہو ۔نہ کہ مہنگائی کی پریشانی میں ۔
دوسری طرف رمضان کے مزے گراں فروش لوٹنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے ۔ اور چودہ اگست کا دن ضمیر فروش سرکاری سطح پرمنانے کے بگل بجائیں گے ۔ سبزی پھلوں سے لیکر کپڑے جوتوں تک پورے سال کی کسر ایک ماہ میں منافع سے نکالے جانے کی بھرپور تیاریاں زوروں پر ہوں گی ۔عوام عبادت اور رحمتوں کا ماہ سمیٹنے میں گزاریں گے ۔ اور گراں فروش و ذخیرہ اندوز منافع سمیٹنے میں ۔جشن دوبالا کرنے کے لئے چودہ اگست کو گھروں پر بڑے جھنڈے بھی لگائیں گے اور پورا گھر جھنڈیوں سے سجائیں گے اور ڈیک پر اونچی آواز میں یہ گانا بجائیں گے ۔
یہ وطن ہمارا ہے ۔اسے ہم نے سنوارا ہے
اس کا ہر اک زرہ ہمیں جان سے پیارا ہے
بینک عوام کی جمع شدہ رقوم سے غریبوں ناداروں کی مدد کے واسطے زکواۃ کی کٹوتی کریں گے ۔جسے پہلے کی طرح حکمران اپنی عیاشیوں پر لٹائیں گے ۔ جیسا اس سے پہلے بھی ایسا ہوتا رہا ہے ۔جہاز بھر بھر عمرہ کی ادائیگی سرکاری سطح پر کی جاتی رہی ۔ اور اب پھر وہی وزارتوں کے مزے لوٹ رہے ہیں ۔پہلا لوٹا مال ہضم کر چکے ۔ پہلے گناہ بخشوا چکے ۔ حکومت اور حکمران تو ایک طرف زکواۃ کمیٹیاں جو رقم کا حال کرتی ہیں ۔ وہ بھی ایک الگ داستان ہے ۔کمیٹیاں بننے میں عوام خاص کر دیہی علاقوں میں جوش و خروش قابل دید ہوتا ہے ۔ سیاسی کشیدگی وہاں بھی نظر آتی ہے ۔ کمیٹیاں بنانے کے مراحل سے میں خود گزر چکا ہوں ۔کیسی کیسی سفارشیں اور اثرو رسوخ استعمال کیا جاتا ہے ۔
ایک طرف لاہور کے مضافاتی علاقہ میں زکواۃ کمیٹیوں میں من پسند افراد کے انتخاب میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کا عمل ہو رہا ہو ۔ اور دوسری طرف لاہور شہر میں دن دیہاڑے گھر کے باہر امریکہ پلٹ باپ بیٹی پر پستول تانے دو نوجوان زبردستی چھینا جھپٹی میں مصروف تھے ۔ دلیر لڑکی نےپاسپورٹ سمیت سفری دستاویزات کے ساتھ منی چینجر سے تبدیل کرائی گئی رقم کا بیگ اپنے کندھے سے نہیں اترنے دیا ۔ لوگ گھروں سے باہر نکل کر لڑکی کی بہادری پر عش عش کر رہے تھے ۔ جو سڑک پر گھسٹی رہی مگر بیگ نہ دیا لٹیروں کو ۔ جو آخر کار نامراد بھاگ کھڑے ہوئے ۔مگر جاتے جاتے ہمارے لئے ایک سوال کھڑا کر گئے کہ ایک غیر مسلم ملک میں نوجون لڑکی آدھی رات کو بھی گھر کے راستے میں اندھیری گلیوںمیں غیر محفوظ نہیں ۔ تو اپنے ہی وطن اسلام میں دن دیہاڈے بے شمار لوگوں کے سامنے جس بے دردی سے پستول کی نوک پہ اسے گھسیٹا گیا ہو ۔ اور اس کا مداوا صرف اس بات سے کر نے کی کوشش ہو کہ شکر کریں جان بچ گئی ۔
تو کیا آزادی کا مطلب صرف جان بچنا لیا جائے گا ۔ اگر آج مائیں بچوں کو اللہ کے سپرد کر کے گھروں سے باہر بھیجتی ہیں ۔ تو پھر اس کے کیا مراد لیا جائے گا ۔
عیسائی ریاستیں اپنے ممالک میں مذہبی تہوار کرسمس کے موقع پہ سال کی سب سے بڑی سیل لگاتی ہیں ۔ تاکہ زیادہ سیل ہو ۔ ہوتا بھی یوں ہے کہ عوام ایک دوسرے کے لئے تحائف کی خریداری کرتے ہیں ۔ اچھی اشیاء انہیں سستے داموں میسر آتی ہیں ۔ اور ایک ہم ہیں مذہبی تہواروں پر ہر شے مہنگی کر دی جاتی ہے ۔
گائے، اونٹ ، بکرے کی خرید ہو ۔ قصائی کا ریٹ ہو ۔ یا بچوں کے نئے کپڑوں کی فرمائش ہو ۔
ان ممالک نے صدیاں پہلے جو آزادی حاصل کی تھی ۔وہ آج بھی اسی مزے میں ہیں ۔صدیاں گزرنے کے باوجود ان کے گھر قلعوں کی مانند اونچی اونچی دیواروں کے پیچھے چھپے ہوئے نظر نہیں آتے ۔ بڑے بڑے جنگلے اور لوہے کے دروازےکسی قید خانے کا منظر پیش نہیں کرتے ۔ گھر کی چار دیواری نام کو نہیں ۔ کمزور اور کانچ کی بنی کھڑکیاں انہیں وہ تحفظ احساس دلاتی ہیں ۔ جو ہمیں کنالوں میں پھیلی محل نما گھروں کے چاروں اطراف اونچی اونچی دیواریں ایک عدد چوکیدار کے باوجود عدم تحفظ کا احساس دلاتی ہیں ۔
سرحدوں کی حفاظت ملک کو غلامی سے بچانے کے لئے نہیں ہوتی بلکہ سرحدیں قوم کو غلامی سے بچانے کے لئے مضبوط کی جاتی ہیں ۔ملک کبھی غلام نہیں ہوتا ، قومیں غلامی میں جاتی ہیں ۔وطن کی سالمیت کا نام لے لے کر جس آزادی کھونے کے خطرے کی گھنٹی بجائی جاتی ہے ۔ وہ سرحدوں کی وجہ سے نہیں جائے گی ۔ بلکہ وہ قوم کے باہمی اختلاف ، عناد اور تقسیم پر منتج ہوتی ہے ۔
مجھے تلاش ہے اس کی جس کا ہاتھ اس کے پیچھے ہے ۔ کیا وہ قائد اعظم محمد علی جناح تھا یا علامہ اقبال ، مولانا مودودی تھا یا ڈاکٹر اسرار احمد ،مولانا احتشام الحق تھانوی تھا یا ڈاکٹر طاہرالقادری۔ آخر کو کوئی تو ذمہ دار ہے ۔
ہمارا یہی ماننا ہے ۔کیونکہ ہم سبھی ایک دوسرے پر الزام دھر دیتے ہیں ۔
آئیں سب مل کر ڈھونڈتے ہیں۔جس نے آزادی ملنے کے باوجود آزادی ملنے کی خوشی کو زیادہ عرصہ تک خوشی میں نہیں رہنے دیا ۔